Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں قومی اداروں کی توہین روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ میرا کیس فریڈم آف سپیچ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ہے،سپریم کورٹ نے براڈ کاسٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا،استدعا ہے سوشل میڈیا کو براڈ کاسٹ میڈیا کی طرز پر ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا میڈیا کو ریگولیٹ کرنا عدالت کا کام ہے،کیا عدالت اب بنیادی حقوق کا کٹ ڈاون کرے گی اداروں کی توہین ہوتی کیا ہے؟برطانوی عدالت کا فیصلہ ہے کہ حکومت کی توہین نہیں ہوتی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمنٹ سے کہیں ہم قانون سازی کا نہیں کہیں گے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کو کٹ کرنے کا عدالت کہے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست پابندی لگانا نہیں چاہتی تو سپریم کورٹ کیوں آرڈر دے؟ آپ سپریم کورٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ حکومت کو قانون بنانے کا کہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،عدالت نے وکیل کو مزید تیاری کیلئے وقت دیدیا عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

     سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم پراپرٹی سے مقدمہ میں ڈپٹی اٹارنی کی کیطرف سے معاونت نہ کرنے پر جاری کیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی، بتائیں اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں اور انکا استعفیٰ منظور بھی ہو چکا ہے، نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اوگرا نے گیس چوہتر فیصد تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی
    عمران خان پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی ترجمانی کر رہے. شیری رحمان
    ڈاکوؤں نے جہیز کا سامان لوٹ کر گھر کے واحد کفیل کوبھی قتل کردیا
    پی ڈی ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی ٹرائیکا نے ہماری تہذیب، سماج، سیاست اور معیشت سمیت سب کچھ تباہ کردیانسراج الحق

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی اٹارنی جنرل سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک بغیر اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے، آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام نہیں معلوم۔ عدالت نے آئندہ سماعت 17 جنوری کو سیکریٹری قانون کو اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔

  • نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہی ہوتا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو منظور کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت موجود ممبران کی عددی تعداد ہونی چاہئے، نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ممبران کی درست تعداد بتا دوں گا، آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی ممبران نے منظور نہیں کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نا ہوں، وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ ممبران پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی و بہتری کے لیے کریں گے، کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی ممبران پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی عدالت ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کر سکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں، ججز ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ججز آئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں،ممبران پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے،امریکی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے، کسی برے یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • چیف جسٹس عمرعطابندیال کا ریلوے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

     چیف جسٹس عمرعطابندیال کا ریلوے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے گالف کلب کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون 9.8 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور ایکنک اس کی منظوری دے چکا ہے۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر قرض لے کر منصوبے لگانے کی بات ہر کوئی کرتا ہے۔ ملک میں اربوں ڈالر کا انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس پر کیا ڈلیوری ہے؟۔ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے دوران سندھ میں ریل کا سفر کیا ہے۔ سندھ میں ریلوے لائنوں کے اطراف آج بھی سیلابی پانی کھڑا ہے۔ بارشیں گرمیوں میں ہوئی تھیں، پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا۔ ریلوے افسران نے بتایا کہ بلوچستان میں صورتحال سندھ سے بھی ابتر ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی سڑکوں پر ضمیمہ چھاپا تھا۔عالمی ضمیمے کا عنوان تھا ’’وہ سڑکیں جو کہیں نہیں جاتیں‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو یہ پرتعیش آسائشیں نہیں، پرفارمنس اور استعداد کار چاہیے۔ اربوں ڈالروں کے منصوبے لگانے سے عدالت امپریس نہیں ہوگی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں ایک تفصیلی فیصلہ دیا ہے، جس میں ریلوے اراضی لیز اور فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالتی فیصلے کی وجہ سے گالف کلب کی لیز کا عمل رُک گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے کو زمینوں کی فروخت اور لیز کا لائسنس نہیں دے سکتے۔ ریلوے پورا بزنس پلان بنا کر دے تب ہی جائزہ لیں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے دوران سماعت کہا کہ کوئٹہ میں ریلوے کے رہائشی کوارٹر فروخت ہوچکے ہیں۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ جو زمین استعمال نہیں ہو رہی اسے کمرشل کرنا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے وفاقی حکومت سے بطور کمرشل ادارہ کام کرنے کی اجازت کیوں نہیں لیتا؟۔ ریلوے اس وقت مالی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ریلوے میں ملازمین ضرورت سے زیادہ ہیں۔ پنشنز کا بھی بوجھ ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریلوے نے کئی قیمتی اراضیاں 500 روپے سالانہ پر 100 سال کے لیے لیز کر رکھی ہیں۔ اولڈ اسلام آباد ائرپورٹ کے قریب ریلوے زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بن گئی تھی۔ ریلوے کو زمین کمرشل نہیں، آپریشنل مقاصد کے لیے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکرٹری ریلوے بتائیں کس زمین پر کیا کرنا چاہتے ہیں، پھر لیز سے متعلق سوچیں گے۔ریلوے لائنز کے گرد تجاوزات بڑھ رہی ہیں۔ ریلوے ٹریک پر رکشہ چڑھنے سے بھی حادثہ پیش آیا تھا۔ اگر ادارے اپنی زمینوں کا تحفظ نہیں کریں گے تو تجاوزات ہی ہوں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ ریلوے سالانہ کتنا منافع کما رہا ہے؟۔ جس پر سیکرٹری ریلوے مظفر رانجھا نے بتایا کہ پچھلے سال ریلوے کا سالانہ منافع کا ٹارگٹ 58 ارب روپے تھا۔ ریلویز نے 2022ء میں 62 ارب روپے کمائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریل گاڑی کے انجن سے ایک موٹر خراب ہو جائے تو دوسری ریل گاڑی کا نکال کر لگا لیتے ہیں۔ کیا ریلوے کا نظام ایسے چلا رہے ہیں؟۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا پاکستان ریلوے پل صراط پر چل رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ سیلاب کے دوران پاکستان ریلوے کو628 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریلویز نے سیلاب کے بعد خود ریلوے بحال کیں، حکومت سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ اہمیت ملی، ریلوے کو پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکومت پنشنز کی مد میں ریلوے کو 40 ارب روپے دیتی ہے۔ حکومت پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو بھی اربوں روپے دے رہی ہے۔ کیا سب کچھ بیچ کر ملک چلانا ہے؟۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت میں اربوں روپوں کے منصوبے کی بات نہیں کرنے دی جائے گی۔ کوئٹہ سے ریل کا راستہ منقطع ہے۔ چینی بھائیوں ہی سے پوچھ لیں کہ سیلاب کا کھڑا پانی کیسے نکالنا ہے۔ ریلوے کے نظام میں بہتری عام آدمی کی بڑی خدمت ہو گی۔ یہی ریلوے نظام پڑوسی ملک میں چل رہا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں ریل گاڑی جس بھی رفتار سے چلے منزل پر پہنچا ہی دیتی ہے۔ ریلوے پاکستان کی لائف لائن ہے۔ ریلوے نظام کی بحالی کا پلان جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے 2 ہفتے میں ریلوے کو منافع بخش بنانے سے متعلق جامع پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 23 جنوری سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کردی۔

  • پی آئی اے نے پانچ سالہ فنانشل پلان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    پی آئی اے نے پانچ سالہ فنانشل پلان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    پی آئی اے پائلٹس اور دیگر عملے کی کمی سے متعلق 5 سالہ فنانشل پلان پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی

    پی آئی اے نے آئی اے ٹی اے کی سفارشات پر مبنی پانچ سالہ فنانشل پلان بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا .رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 سے 22 تک پی آئی اے میں مختلف وجوہات کی بنا پر 5793 ملازمین نکال دیئے گئے،پی آئی اے کوآپریشن و سروسز، آئی ٹی اور فنانس شعبے میں ماہر افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے پی آئی اے نے حال ہی میں ترکش ایئرلائن کے ساتھ کوڈ شیئر کا معاہدہ کیا ہے، کوڈ شیئر معاہدے سے روا ں سال پی آئی اے کو 205 ارب کا ریونیو ملنے کا امکان ہے، 2018میں سپریم کورٹ کی نئی بھرتیوں پر پابندی سے ملازمین کی اوسط عمر 45.2 سال ہو گئی ملازمین کی اوسط عمر بڑھنے سے آپریشنل کارکردگی میں کمی ہوئی ہے، پی آئی اے کو ٹیکنالوجیکل اور کارپوریٹ علم رکھنے والے ملازمین کی ضرورت ہے،2026تک پی آئی اے کی سالانہ آمدن 1.6862 ارب ڈالر کی جائے گی،آئندہ پانچ سال میں پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد بڑھا کر 49 کی جائے گی،حکومتی مدد کے بغیر پی آئی اے نے 2022 میں چار اے320 جہاز خریدے، برطانیہ اور یورپ کی ہفتہ وار پروازوں کا فیصلہ 7 مارچ کو ہونے والے آڈٹ کے بعد ہوگا2026تک ملکی سطح پر پی آئی اے کے مسافروں کی تعداد 46 لاکھ تک بڑھائی جائے گی، 2026تک سعودی عرب، یو اے ای، گلف، امریکا، برطانیہ، وسطی ایشیا ممالک تک توسیع دی جائے گی،2026تک انٹرنیشنل مسافروں کی تعداد ایک کروڑ 92 لاکھ تک بڑھائی جائے گی،

    .رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر ٹریفک بڑھنے سے فلائٹ آپریشن کیلئے نئے پائلٹس اور کیبن کریو کی ضرورت ہو گی، عدالت عظمیٰ سے 250 نئے ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی انٹرنیشنل ایوی ایشن رولز کے مطابق پی آئی اے کو 486 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی ضرورت ہے، پی آئی اے کے پاس 364 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز موجود ہیں، عالمی معیار کے مطابق پی آئی اے کو سو سے زائد پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی قلت کا سامنا ہے،پائلٹس کی کمی کی وجہ سے ریگولیٹرز کو ڈیوٹی کے اوقات کار میں اضافے کی درخواست کی گئی،جہازوں اور پائلٹس میں عدم تناسب کی وجہ سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہو رہے ہیں،پائلٹس کی کمی کی وجہ سے صرف دسمبر میں 29 فلائٹس منسوخ کرنا پڑیں،فلائٹس منسوخ کرنے سے شدید مالی نقصان ہو رہا ہے،عالمی سطح پر بھاری تنخواہوں کی وجہ سے پی آئی اے کو مسابقت کا سامنا ہے،پی آئی اے میں 12 پائلٹس کی جلد ریٹائرمنٹ اور این او سی کی درخواستیں زیر التوا ہیں،رواں سال 13 پائلٹس کی ریٹائرمنٹ سے قلت مزید بڑھ جائے گی،بھرتیوں پر پابندی ہٹنے کے باوجود پائلٹس کی ٹریننگ پر سال تک کا عرصہ لگے گا، رواں سال پی آئی اے کو کم از کم 80 نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے،سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی کے بعد 109 پائلٹس پی آئی اے چھوڑ چکے ہیں،پی آئی اے میں رواں سال کم از کم 110 کیبن کریو کی ضرورت ہے، پی آئی اے میں رواں سال فنانس اور آئی ٹی شعبے میں 45 ملازمین کی ارجنٹ ضرورت ہے پی آئی اے کو رواں سال منیجمنٹ لیول پر 15 پروفیشنل کی بھرتیوں کی ضرورت ہے،250ملا زمین بھرتی کرنے سے پی آئی اے پر 9 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے کا مالی بوجھ پڑے گا،

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

  • ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس ،سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    2 صفحات پر مشتمل حکمنامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے ، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ سے آگاہ کیا،رپورٹ کے مطابق اب تک 41 گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے، قتل کی تحقیقات پاکستان،یو اے ای اور کینیا میں کی جارہی ہیں، کینیا اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کیلئے حکومت نے خط لکھ دیا ہے امید ہے اسپیشل جے آئی ٹی تیاری کیساتھ یو اے ای اور کینیا جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اگلی رپورٹ جمع کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، کیس کی مزید سماعت فروری کے پہلے ہفتے میں ہوگی،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ، ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا تاثر تھا کہ بیرون ملک افراد سے رابطہ کیا ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایسے لوگ جو ملک سے باہر تھے ان سے رابطہ کیا، کچھ لوگوں کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے تین سٹیجز ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کچھ لوگوں کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،’

    دوران سماعت ارشد شریف کی اہلیہ روسٹرم پر آ گئیں ،اور عدالت میں کہا کہ اس جے آئی ٹی میں اے ڈی خواجہ جیسے افسران کو شامل کریں، جے آئی ٹی میں شامل افسران سب ارڈینیٹ ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی ریٹائرڈ افسر کو شامل نہیں کرینگے، ان کو کام کرنے دیں، لوگوں کو ٹرسٹ کرنا چاہیئے، ہماری نظر ان پر ہے،آپ یہاں آیا کریں، دیکھیں کہ کاروائی کیسے چلتی ہے، ارشد شریف کی اہلیہ نے استدعا کی کہ اس کیس میں اے ٹی اے شامل کی جائے ، جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے کہا کہ اگرتفتیش کے دوران اے ٹے اے شامل ہوسکتا ہے تو وہ ہوجائیگا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسے لوگ جو ملک سے باہر تھے ان سے رابطہ کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو یہاں ڈسکس نہیں کرسکتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کینین اتھارٹی متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے کینیا کے جن لوگوں سے تحقیقات کرنی ہیں ان کے نام دیے ہیں جے آئی ٹی کو وزارت خارجہ کی مکمل مدد حاصل ہے،عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کے لئے بیرون ملک جانے کے لئے فنڈز جاری کئے گئے ہیں، بتایا گیا کہ فارن آفس پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے،ہم نے نوٹ کیا کہ جو تفتیش میں پیش رفت ہوئی اس میں 41 گواہوں کے بیان قلمبند کئے گئے، جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے 3 فیز ہیں، ایک پاکستان، دوسرا دبئی اور تیسرا کینیا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فیز ون کی تحقیقات تقریبا مکمل ہوچکی ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کی ٹائم لائن نہیں دی جاسکتی، جے آئی ٹی پہلے دبئی، پھر کینیا تحقیقات کریگی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ارشد شریف کے کچھ ڈیجٹل آلات ہیں جو ابھی تک نہیں ملے،کیا جے آئی ٹی کو یہ پتہ چلا کہ وہ آلات کدھر ہیں،پتہ چلائیں وہ ڈیجٹل آلات کینین پولیس، انٹیلیجنس یا ان دو بھائیوں کے پاس ہیں، یہ جے آئی ٹی کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو تحقیقات میں شامل کرنے کیلئے وزارت خارجہ سے ڈسکس کریں، کیا کینین اتھارٹی متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے،

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • بیٹے کی حوالگی کا کیس،عدالت کا بچے کو پنجاب ہاوس رکھنے کا حکم

    بیٹے کی حوالگی کا کیس،عدالت کا بچے کو پنجاب ہاوس رکھنے کا حکم

    سپریم کورٹ میں کرغزستان کی خاتون کے بیٹے کی حوالگی کا کیس کی سماعت ہوئی

    بچے کے والد ڈاکٹر زیب عدالت میں پیش ہوئے، ڈاکٹر زیب نے عدالت میں کہا کہ میرا بیٹا بیمار رہتا ہے صحیح دیکھ بھال نہیں کی جارہی، سپریم کورٹ نے والد کی بیٹے کے ساتھ رہنے کی استدعا مسترد کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ بچوں کے ماہرین نفسیات کے معائنے کے بعد بچے کی رپورٹ پیش کی جائے،عدالت نے بچے کو ماں کے ساتھ پنجاب ہاوس رکھنے کا حکم دیا، عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب ہاوس میں والد کو روزانہ دو گھنٹے ملاقات کی اجازت ہوگی،

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ڈاکٹرز کی رپورٹ نہیں آجاتی تب تک حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کونسلر جنرل کرغزستان سے استفسار کیا کہ بچہ پنجاب ہاوس رکھنے پر آپکو اعتراض تو نہیں،کونسلر جنرل کرغزستان نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق جہاں بچے کو رکھا جائے ہمیں اعتراض نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت 10 جنوری تک ملتوی کردی

    صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کا کیس،سپریم کورٹ وزارت خارجہ پر برہم

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے آسان ٹپس بتا دیں،

    صوفیہ مرزا کے چاہنے والوں نے توحد ہی کردی،

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں لڑکیوں کا بھی حق ہے کہ انہیں لڑکوں کے برابر حقوق ملیں-

    ے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا 

  • جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں کار حادثہ کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے میں جج مختلف نوعیت کی درخواستوں پر ایک جامع فیصلہ دے سکتا ہے؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ جج صاحب نے حکم جاری کیا ہے تو ایک جامع فیصلہ دیا جاسکتا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ آپ کی قابلیت کا معیار ہے؟آپ کو قانون کا پتہ ہی نہیں کہ اس کیس میں ایک فیصلہ ہوسکتا تھا یا نہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ آپ میری تضحیک کررہے ہیں، میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ہوں کسی کی وکالت نہیں عدالت کی معاونت کررہا ہوں آپ میری تضحیک نہیں کرسکتے،جس جج نے فیصلہ دیا اس کی کیا قابلیت ہے؟ جس جج نے فیصلہ دیا کیا آپ اس کے خلاف فیصلہ دیں گے؟

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں،سپریم کورٹ نے کار حادثے کا مقدمہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا دیا.ٹرائل کورٹ نے کار حادثے کے ملزم عمیر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اسلام آبادہائیکورٹ نے بھی کار حادثہ کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا دیا تھا جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی

  • جہاں لفظ ڈی جی آ جائے اس سے تو بس اللہ بچائے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    جہاں لفظ ڈی جی آ جائے اس سے تو بس اللہ بچائے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں نان کسٹم پیڈ گاڑی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے کل ڈی جی کسٹم انٹیلیجنس کو طلب کرلیا ،دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر تیاری کے افسران عدالت کیوں آتے ہیں ؟ گاڑی کسٹم کے پاس ہے یا ریلیز ہوگئی کسی کو پتہ ہی نہیں، اسلام آباد میں کسٹم کا سب سے بڑا افسر کون ہوتا ہے،وکیل کسٹم نے عدالت میں کہا کہ ڈی جی کسٹم بڑا عہدہ ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں لفظ ڈی جی آ جائے اس سے تو بس اللہ بچائے، یہ نان کسٹم گاڑیاں ملک میں آتی کیسے ہیں، کیا کوئی گاڑیوں کو جیب میں رکھ کر لے آتا ہے، وکیل کسٹم نے کہا کہ عدالت جو حکم کرے گی اس پر عمل کریں گے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرکے احسان نہیں کریں گے، آئینی طور پر سب سپریم کورٹ کے حکم کے پابند ہیں، میں شکر گزار ہوں گا اگر آپ یا اپکے افسران سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کریں گے،

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم