Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے 10 سال میں تبدیل کئے گئے افسران کی فہرست مانگ لی

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے 10 سال میں تبدیل کئے گئے افسران کی فہرست مانگ لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس میں سیاسی اثرورسوخ پر ٹرانسفر اورپوسٹنگ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،خیبرپختونخوا پولیس کی رپورٹ پیش نہ ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا عدالت نے پنجاب سندھ اور بلوچستان پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت سے پہلے پولیس افسران کا تبادلہ کرنا ہو تو وجوہات تحریر کی جائیں کسی بھی افسر کو سینئر پولیس افسر کی مشاورت کے بغیر نہ ہٹایا جائے سندھ بلوچستان میں بھی کیوں نہ گڈ گورننس کا یہی فارمولا اپنایا جائے

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے 10 سال میں تبدیل کئے گئے افسران کی فہرست مانگ لی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت خود قانون پر عمل کرے گی یا عدالت حکم دے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومت سے ہدایات لے کر آگاہ کریں پولیس افسران کے تبادلے ایم پی ایز کے کہنے پر نہیں ہونے چاہئیں قانون کے مطابق 3 سال سے پہلے سی پی او یا ڈی پی او کو ہٹایا نہیں جا سکتا ڈی پی او اور سی پی او تعینات کرنا آئی جی کااختیار ہے ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسارکیا کہ کیا پولیس افسران کی تمام تعیناتیاں آئی جی پولیس کرتے ہیں؟ قانون کے مطابق افسران کو قبل از وقت ہٹانے پر پابندی نہیں لیکن طریقہ کار پر عمل کیا جائے تاثر ہے پولیس کو حکومتیں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں تحقیقاتی افسران کا الگ کیڈر ہونا چاہئے تا کہ وہ مکمل آزاد ہوں پولیس میں تفتیشی مہارت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ناقص شواہد پیش کئے جاتے ہیں جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچتا ہے سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہی عمران خان پر حملے کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا تھا خیبرپختونخوا میں بھی قتل وغارت میں اضافہ ہو رہا ہے خیبرپختونخوا حکومت نے نوٹس کے باوجود پولیس تبادلوں کی رپورٹ جمع نہیں کرائی عوام کے متاثر ہونے کی وجہ سے پولیس ٹرانسفر پوسٹنگ کا نوٹس لیا ہے عدالت نے کیس کی مزید سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    احتساب سب کا ہو گا،وقت دیتے ہیں، ذمہ داران کا تعین کر کے عدالت کو بتائیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اہم پوسٹوں پر سیاسی مداخلت ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ،محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت سے تبادلے،آٹھ سالوں کا ریکارڈ طلب

  • پی ٹی آئی والے تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور اسمبلی بھی نہیں جاتے،سپریم کورٹ

    پی ٹی آئی والے تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور اسمبلی بھی نہیں جاتے،سپریم کورٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ قومی اسمبلی کے رکن ہیں یا نہیں؟ وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان اسمبلی سے استعفے دے چکے ہیں، کچھ نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوئے اور پی ٹی آئی کامیاب ہوئی، سیاسی حکمت عملی کے تحت اسپیکر استعفے منظور نہیں کر رہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی حلقے کو غیر نمائندہ اور اسمبلی کو خالی نہیں چھوڑاجا سکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ارکان کو ا سپیکر کے سامنے پیش ہونے کا کہا تھا، وکیل نے کہا کہ جن کے استعفے منظور ہوئے وہ کونسا اسپیکر کے سامنے پیش ہوئے تھے، اسپیکر ایک دن سو کر اٹھے اور چند استعفے منظور کر لیے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور اسمبلی بھی نہیں جاتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ایک ساتھ تمام استعفے کیوں منظور نہیں کرتے؟ جس رکن کو مسئلہ ہوگا اسپیکر کے فیصلے پر اعتراض کر دے گا، اگر سپیکر کو 4 دن میں استعفے منظور کرنے کا حکم دیں تو کیا پی ٹی آئی تیار ہے؟ وکیل نے کہا کہ عدالت ایسا حکم جاری کرتی ہے تو اس کیلئے مکمل تیار ہیں،پی ٹی آئی تو انتخابات کرانے کا ہی مطالبہ کر رہی ہے،حکومت کرپشن اور عوامی اعتماد توڑنے کے نتیجے میں آئی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا حق ہے کہ وہ اسمبلی سے استعفے دے یا نہ دے،وکیل نے کہا کہ موجودہ اسمبلی عوامی اعتماد توڑ کر بنی ہے اور نامکمل ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا جانبدار نکتہ نظر ہے کہ اسمبلی نامکمل ہے، زبانی باتیں نہ کریں، اسمبلی نہیں پسند تو سیٹیں بھی چھوڑیں،وکیل نے کہا کہ میں تو روزانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہا ہوں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام سیاسی بحث ہے جس کو سیاسی مقام پر ہونا چاہیے،جب عوامی مفاد کی بات ہو تو پی ٹی آئی کا اسمبلی میں نہ ہونے کا سوال غیر موثر ہو جاتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کا سوال سیاسی نہیں آئینی ہے، استعفے منظور نہیں ہو رہے تو پی ٹی آئی عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرتی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں پی ٹی آئی سے متعلق کئی درخواستیں زیر التوا ہیں، وکیل نے کہا کہ میرا مطالبہ عوام میں جانےاور عام انتخابات کا ہے اس سے زیادہ اور کیا کروں؟ سیاسی سوالات کا قانونی جواب نہیں دیا جا سکتا،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملے پر عدالت کو تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اسلام کا بنیادی اصول ہے، غلط کام کو غلط اس وقت ہی کہا جا سکتا ہے جب وہاں موجود ہوا جائے، اسمبلی جانا یا نا جانا پی ٹی آئی کا سیاسی فیصلہ ہے، اداروں کو فعال کرنا ہوگا، پارلیمان ایک بنیادی ادارہ ہے،بڑی سیاسی جماعت اسمبلی سے باہر ہو تو وہ فعال کیسے ہوگی یہ بھی سوال ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں عوام اعتماد کرکے بھیجتے ہیں، اسمبلی اسی صورت چھوڑی جا سکتی ہے جب رکن جسمانی طور پر جانے کے قابل نہ رہے،ارکان اسمبلی کو اپنی آواز ایوان میں اٹھانی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا سینیٹ میں نیب ترامیم پر بحث ہوئی تھی؟ وکیل نے کہا کہ سینیٹ سے بھی ترامیم بغیر بحث منظور کرائی گئیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں قانون پر بحث ہی نہ ہو تو استعفے کے علاوہ کیا حل ہے؟ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہو گئے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • بتایا جائے نیشنل پارک کی زمین پرکرشنگ  پلانٹس کیسے لگے؟ سپریم کورٹ

    بتایا جائے نیشنل پارک کی زمین پرکرشنگ پلانٹس کیسے لگے؟ سپریم کورٹ

    بتایا جائے نیشنل پارک کی زمین پرکرشنگ پلانٹس کیسے لگے؟ سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ، کوئٹہ میں کرشنگ پلانٹس کیخلاف کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر متعلقہ افسران کو طلب کر لیا ،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کان کنی اور کرشنگ کے متعلقہ افسران کو عدالت بھیجیں،عدالت نے ڈی جی وائلڈ لائف اور ڈائریکٹر ماحولیات بلوچستان کی سرزنش کی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ جنگلات کی زمین کرشنگ کیلئے کیسے دے دی گئی وائلڈ لائف حکام کیسے کہہ رہے ہیں کہ سب ٹھیک چل رہا ہے؟بتایا جائے نیشنل پارک کی زمین پر کرشنگ پلانٹس کیسے لگے؟ ڈائریکٹر وائلڈ لائف بلوچستان نے عدالت میں کہا کہ کرشنگ کی جگہ نیشنل پارک بنانے کی سمری زیر التوا ہے،ڈی جی ماحولیات نے عدالت میں کہا کہ کوئٹہ کے قریب 21 کرشنگ پلانٹس تھے جنکو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    وکیل کرشنگ پلانٹس مالکان نے عدالت میں کہا کہ بند کیے گئے کرشنگ پلانٹس دوبارہ لگانے کیلئے این او سی نہیں دیا گیا، نیشنل پارک میں صرف 4کرشنگ پلانٹس تھے ،سب کو بند کر دیا گیا،عدالت نے حکم دیا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کو کہہ دیتے ہیں کہ متعلقہ افسران کے ذریعے معاملہ حل کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ماحولیاتی تحفظ بھی قائم رہے اور کرشنگ پلانٹس بھی چلیں،سپریم کورٹ نے 2018 میں شہری علاقوں میں کرشنگ پلانٹس بند کرنے کا حکم دیا تھا

  • پی ٹی آئی سپریم کورٹ میں ختم ہونے والے کیسز کو چیلنج کرے گی،حماد اظہر

    پی ٹی آئی سپریم کورٹ میں ختم ہونے والے کیسز کو چیلنج کرے گی،حماد اظہر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے حکومتی رہنماؤں پر ختم ہونے والے کیسز کو سپریم کورٹ میں لے جانے کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ اپنے خلاف کیسز کے خاتمے تک حکمران الیکشن نہیں کرا رہے ،ملک سے فرار لوگ واپس آرہے ہیں جب سے حکومت آئی ہے ان کا ایک ہی مقصد ہے کیسز ختم کیے جائیں ،16ارب روپے ان کے اکاؤنٹس سے نکلا، سلیمان شہباز اوردیگر نے اپنے اثاثے اپنی آمدن سے زیادہ بنائے، نواز شریف نے قانون بنایا تھا کہ جو باہر سے پیسے آئیں گے ان کا پوچھا نہیں جائے گا، سارے ملک کو لوٹ کر کھا گئے ، یہ باتیں کرتے ہیں حساب ہوگا کبھی معاف نہیں کیا جائے گا،

    رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کا نام لیں تو ان کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں ،آج تک جواب نہیں آیا کہ مقصود چپڑاسی کے اکاونٹ میں پیسے کہاں سے آئے؟ ان کے کیسز کے گوا ہان کی امو ات ہو جاتی ہیں سپریم کورٹ میں ختم ہونے والے کیسز کو چیلنج کریں گے کرپٹ لوگوں کو بچانے کیلئے قوانین میں تر میم کی جاتی ہے،اگر یہ اتنے ہی صادق وامین ہیں تو آئیں الیکشن لڑیں ،انہوں نے 13سوارب کے کیسز معاف کروا دیئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ میں ختم ہونے والے کیسز کو چیلنج کرے گی ہم حکومت میں آ کر ان کے این آر او ٹو کو اڑا کر رکھ دیں گے،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ لوٹی ہوئی دولت انہیں سکھ کیساتھ نہیں کھانے دیں گے،یہ لوگ عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں ،یہ لوگ عوام میں نکلیں گے تو پتہ چلے گا کہ کتنا اسپیس دیتے ہیں،ہم انہیں ایسے ہی نہیں چھوڑیں گے،ایون فیلڈ اپارٹمنٹ فروخت کرکے جہاں بھی جائیں قوم چھپنے نہیں دے گی،

  • خصوصی سیکرٹریز کی تعیناتیوں کیلئے جواز کا جائزہ لینگے،سپریم کورٹ

    خصوصی سیکرٹریز کی تعیناتیوں کیلئے جواز کا جائزہ لینگے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ، وفاق اور صوبوں میں خصوصی سیکریٹریز کی تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں سے اسپیشل سیکریٹریز کی تقرریوں پر تحریری جواب طلب کرلیا

    ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے کہا کہ جواب جمع کرا دیا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی وفاق اور صوبے بھی جواب جمع کرا دیں،اسپیشل سیکریٹری اور افسران اسپیشل ڈیوٹی کے الفاظ سے چڑ ہے،خصوصی سیکریٹری کی تقرری گورننس کی بہتری کیلئے کی جاتی ہے،اس کے باوجود اچھی گورننس تو نظر نہیں آتی خصوصی سیکریٹریز کی تعیناتیوں کیلئے جواز کا جائزہ لینگے،افسران اسپیشل ڈیوٹی کوئی کام نہیں کرتا،کسی کیس میں افسران کو او ایس ڈی تعینات کرنے کے معاملہ کو بھی دیکھیں گے سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت 3 ہفتے تک ملتوی کردی

    دوسری جانب سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ میں کیس کی جلد سماعت کی درخواست دے دی ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ جنوری سے شروع ہونے والے ہفتے میں کیس کی سماعت کی جائے، سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف کیس کی آخری سماعت جون میں ہوئی تھی.

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

  • نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ ایگزیکٹو اپنا کام نہ کرے تو لوگ عدالتوں کے پاس ہی آتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم اس اسمبلی نے کی جو مکمل ہی نہیں،اس پر قانون نہیں ملا کہ نامکمل اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے یا نہیں سیاسی حکمت عملی کے باعث آدھی سے زیادہ اسمبلی نے بائیکاٹ کر رکھا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے فائدہ صرف ترمیم کرنے والوں کو ہی ہوا،چند افراد کی دی گئی لائن پر پوری سیاسی پارٹی چل رہی ہوتی ہے،لائن کو فالو کریں تو اس کا فائدہ صرف چند افراد کی ذات کو پہنچتا ہے نیب ترمیم کی ہدایت کرنے والوں کو اصل میں فائدہ پہنچا، کیا ایسی صورتحال میں عدلیہ ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھے؟نیب ترامیم کو بغیر بحث جلد بازی میں منظور کیا گیا،ترامیم کی نیت ہی ٹھیک نہ ہو تو آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی، مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے سسٹم میں موجود خامیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی،پارلیمان کا کام ہے سسٹم میں بہتری کیلئے قانون بنائے اور عمل بھی کرائے،ہر صوبے میں پانچ ماہ بعد آئی جی اور تین ماہ بعد ایس ایچ او بدل جاتا ہے،ایگزیکٹو فیصلے کرتے وقت قانون پر عمل نہیں کیا جاتا، ماضی میں ریکوڈک اور اسٹیل مل کے فیصلے عدالت نے اچھی نیت سے کیے،حکومت سسٹم کی کمزوری کے باعث منصوبوں میں کرپشن پکڑ نہیں سکی، نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں،کرپشن پر کسی صورت معافی نہیں ہونی چاہیے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن غلط ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ہونی نہیں چاہیے،سوال یہ ہے کہ کرپشن کا سدباب کس نے اور کیسے کرنا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا ایگزیکٹو کا کام ہے، اگر وہ نہیں کر سکی تو عدالت مداخلت کرتی ہے، عدالت نے ہمیشہ عوامی عہدوں پر کرپشن کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سے معاملات میں بہتری بھی آئی ہے،خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور سچ سامنے لاتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پاکستانی میڈیا ورلڈ رینکنگ میں 180 میں سے 157 نمبر پر ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان اسی نمبر پر ہے جو نیب ترامیم سے پہلے تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد اب جو رینکنگ جاری ہوگی اس میں پاکستان یقینا 100 نمبر نیچے جا چکا ہوگا ،جب سسٹم تباہ ہو رہا ہو تو عدلیہ مداخلت کرتی ہے،عدالت کس اختیار کے تحت نیب ترامیم کو مفادات کے ٹکراو پر کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی قانون سازی کیلئے ریگولیٹری کیپچرکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھر ہم حالیہ نیب ترامیم کو پارلیمنٹری کیپچر کہیں گے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹری کیپچر کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    پارلیمان کو چھوڑکرسڑکوں پرفیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے دو سوالات پر وضاحت مانگ لی ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کر رکن پارلیمنٹ منتخب کیاآپ نے دلائل میں کہا کہ رکن پارلیمنٹ عوامی اعتماد کا امانت دار ہے، منتخب رکن پارلیمان سے باہر نکل کر کہے کہ فیصلہ سڑکوں پر کروں گا تو کیا یہ جمہوریت ہے؟ اراکین پارلیمنٹ کا پارلیمان کو چھوڑ کر سڑکوں پر فیصلے کرنے سے جمہوری نظام کیسے چلے گا؟اگر ارکان پارلیمنٹ عوام کا اعتماد جیت کر آئے ہیں تو پارلیمان میں بیٹھیں

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف ایکسٹینشن کیس میں قانونی خلا کو پر کیا تھا،اسفند یار ولی کیس میں بھی سپریم کورٹ نے ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،عدالت نے کہا کہ اسفند یار ولی کیس میں عدالت نے انسانی حقوق سے منافی ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کیس میں تو آپ کہہ رہے ہیں کہ جو مسنگ ہے اس کو شامل کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے جو شقیں نکالی گئیں ان سے قانون ہی غیر موثر ہو گیا،نیب ترامیم کے خلاف مقدمے میں نیب قانون اصل حالت میں بحال کرنے کا کہا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ نیب کی جن شقوں میں ترمیم ہوئی وہ بنیادی حقوق کے خلاف نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں بہت سے سقم بھی تھے نیب قانون میں کسی شخص کو محض الزام پر 90 روز کے لیے گرفتار کر لیا جاتا تھا، نیب ترامیم ملکی قانون میں پیش رفت ہیں، نیب قانون پر ترمیم سے پہلے بہت تنقید بھی ہوتی رہی ہے، وکیل نے کہا کہ نیب سمیت کسی بھی فوجداری مقدمے میں تحقیقات کے دوران گرفتاری کا حامی نہیں ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نیت جاننے کے لیے نیب ترامیم پر جو بحث ہوئی وہ دیکھنا ہو گی،وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی ہی نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ حکومتی وکیل کا موقف ہے کہ نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہوئیں،وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں کوئی ترامیم عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر نہیں ہوئیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم کے خلاف پبلک بھی کچھ کہہ رہی ہے؟پھر عدالت خود سے تعین کرے کہ نیب ترامیم سے عوام متاثر ہو رہی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درشن مسیح کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا تھا،کیا نیب ترامیم کیس میں پبلک نے عدالت سے رجوع کیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ درشن مسیح کیس میں این جی اوز نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خواہش ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی این جی اوز بن جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر التوا ہے بتائیں کہ نیب ترامیم کے خلاف کیس واپس ہائیکورٹ کیوں نہیں بھجوایا جا سکتا؟ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کل تک ملتوی کر دی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے ریکوڈک سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ریفرنس میں دو سوالات پوچھے گئے،معدنی وسائل کی ترقی کےلیے سندھ اور خیبر پختونخوا حکومت قانون بنا چکی ہے، قانون میں تبدیلی سندھ اور خیبرپختونخوا کا حق ہے،آئین خلاف قانون قومی اثاثوں کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا،صوبے معدنیات سے متعلق قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں،

    سپریم کورٹ نے نئے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ بین الاقوامی ماہرین نے عدالت کی معاونت کی،نئے ریکوڈک معاہدے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں،بلوچستان اسمبلی کو بھی معاہدے سے متعلق بریفنگ دی گئی ریکوڈک معاہدہ ماحولیاتی حوالے سے بھی درست ہے،بیرک کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ تنخواہوں کے قانون پر مکمل عمل ہوگا، کمپنی نے یقین دلایا کہ مزدوروں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا، ریکوڈک منصوبے سے سوشل منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے گی،وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اسکل ڈویلپمنٹ کےلیے منصوبے شروع کیے جائیں گے، ریکوڈک معاہدے کے مطابق زیادہ تر لیبر پاکستان کی ہوگی،ریکوڈک معاہدہ فرد واحد کیلئے نہیں پاکستان کیلئے ہے،پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کےلیے قانون بنائےجائیں، ریکوڈک معاہدہ سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کےخلاف نہیں،تمام ججز کا متفقہ فیصلہ ہے،جسٹس یحیی ٰآفریدی نے ریفرنس کے پہلے سوال کا جواب نہیں دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں رائے دی ہے کہ معاہدےسے پہلے بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا،

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ معاہدے میں کوئی غیر قانونی شق نہیں، بیرک گولڈ نے سماجی ذمہ داری نبھانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے،فارن انویسٹمنٹ بل خصوصی طور پر بیرک گولڈ کیلئے نہیں ہے فارن انویسٹمنٹ بل ہر اس کمپنی کیلئے ہے جو 500ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرے گی،

    سابق وفاقی وزیر، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے پر منظوری کی مہر لگا دی ہے، مارچ 2022 میں پیٹرولیم ڈویژن کے تحت آنے والی کمپنیوں نے تصفیہ کے لیے کام کیا، پیٹرولیم ڈویژن کے تحت کمپنیوں نے فنانسنگ کا بندوبست کرنے اور پروجیکٹ میں حصہ دار بننے میں اہم کردار ادا کیا،

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

    پاکستان کو 5.84 ارب ڈالرز کاجرمانہ،عالمی ادارے کا اعلامیہ،باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق ہوگئی

    افتخار چوہدری پاکستان کو لے ڈوبے،پاکستان کو 4.7 ارب ڈالرز کا جرمانہ کروا دیا

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    ریکوڈک منصوبے کے مال کی بقیہ 15فیصد ادائیگی منزل پر پہنچ کر مارکیٹ ریٹ کےمطابق ہوگی

  • ترامیم کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے نیب سے جواب مانگ لیا

    ترامیم کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے نیب سے جواب مانگ لیا

    سپریم کورٹ، نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ترامیم کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے نیب سے واضح جواب مانگ لیا ،نیب سے واضح تحریری جواب وفاق کے وکیل مخدوم علی خان کی استدعا پر مانگا گیا ،زیرالتوا تحقیقات میں مقدمات کتنے مالیت کے ہیں؟ عدالت نے نیب سے تفصیلات مانگ لیں

    وکیل عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں بھی قانون سازی کی ہدایات دے چکی ہے آرمی چیف تعیناتی کیس میں بھی پارلیمان کو قانون سازی کیلئے وقت دیا گیا،بعض فیصلوں میں عدالت نے مجوزہ قوانین کا مسودہ بھی پارلیمان کو دیا، نیب ترامیم سے وہ کیسز بھی دوبارہ کھلیں گے جن میں عدالتیں فیصلے کر چکی ہیں، این آر او کیس میں بھی صرف وہ مقدمات دوبارہ کھلے تھے جو آرڈیننس کے ذریعے بند ہوئے ،جن ملزمان کو عدالتیں سزائیں دے چکی ہیں انکے کیسز ترامیم کے بعد کیسے ختم ہوسکتے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ دلائل مکمل کرنے کیلئے مزید 2 دن درکار ہیں، سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل کوپیر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان آئندہ سال جنوری سے دلائل کا آغاز کریں گے عدالت نے کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی کردی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی رہنما مراد سعید اور ڈی جی ایف آئی اے کمرہ عدالت میں موجود تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ نے رپورٹ جمع کرائی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی درخواست نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک صفحے پر مشتمل وزارت داخلہ کا جواب عدالت میں جمع کرا دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی میں 5ممبران ہیں اور ان کیساتھ سپورٹنگ ٹیم ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ سپورٹنگ ٹیم کو متعلقہ فنڈز بھی فراہم کئے جائیں، اس ٹیم کے ساتھ ہر قسم کی معاونت کی جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس کیس میں ہم انٹر پول سے بھی رابطہ کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی ایشوز نہیں آئیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹیم ارشد شریف کی والدہ سمیت تمام متعلقہ افراد جو اندرون اور بیرون ملک ہیں ،کے بیان ریکارڈ کریگی۔تفتیش ہر رخ سے کی جائے گی۔ اس کیس میں اہم پہلو کینین پولیس کا ہے ،ان کی وزارت خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کرینگے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ سہولت کار کا کردار ادا کرینگے،اس کیس کے لئے ہم موجود ہیں۔اگر کینیا جانے کے لئے فنڈز جاری نہ ہوئے تو ہم حکومت سے بات کرینگے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو کینیا کے تین افراد کے ابتدائی رپورٹ میں نام آئے ہیں ان کو سمن کیا گیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان تینوں کے نام رپورٹ میں ہیں،جو ٹیم کینیا گئی تھی ان کے بیان ریکارڈ کئے تھے۔ اس میں کینیا کے اندر جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کرینگے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اس سپیشل جے آئی ٹی کی میٹنگ کب ہوگی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کی میٹنگ جلد ہوگی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں ،ہم یہ طے کرینگے کہ ہر پندرہ دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے۔ رپورٹ چیف جسٹس کے چیمبر میں جمع ہوگی،جواب میں بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈپلومیٹک میدان میں اس کیس پر کام کریگی۔ اس کیس میں قانونی پہلو اور میوچوئل لیگل اسسٹنس بھی لی جائے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسپیشل جے آئی ٹی پیش رفت کرکے بیان ریکارڈ کریگی، ثبوت اکٹھا کریگی۔ سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں،اس دوران جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی پریشانی ہو تو وہ براہ راست تحریری طور پرآگاہ کریگی ،ہم امید کرتے ہیں کہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹس وقت پرجمع کرائیگی اور آئندہ سماعت سے پہلے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائیگی۔

    ارشد شریف قتل کیس، اسپیشل جے آئی ٹی آئی قائم کردی گئی وفاقی حکومت نے نئی اسپیشل جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ میں پیش کردیا نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں اسلام آباد پولیس اور آئی ایس آئی کے نمائندہ شامل ہیں،نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں آئی بی اور ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہے

    ارشد شریف قتل کیس، اسلام آباد پولیس نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہےکہ ارشد شریف کی والدہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے گزشتہ روز رابطہ کیا گیا،ارشد شریف کی والدہ نے طبعیت ناسازی کےسبب بیان ریکارڈ نہیں کرایا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ کو عدالت میں زحمت پر ہم معذرت کرتے ہیں

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس کیس سیکریٹری خارجہ نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے