Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل خارج

    سپریم کورٹ،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل خارج

    چیئرمین پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کے لائسنس معطلی اور بند کرنے کے اختیار کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل خارج کردی

    وکیل پیمرا احمد پرویز نے کہا کہ پیمرا اتھارٹی کے اختیارات کو علیحدہ پڑھنا ہوگا، وکیل پی بی اے فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا نے اس وقت ایک ماہ میں 4 دفعہ چینلز کو بند کیا، 10دن کیلئے چینل کو بند کردیا جائے تو چینل ہی ختم ہو جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز بنانا لازم ہیں اب رولز کس کو اختیار دیتے ہیں وہ الگ بات ہے،

    اپریل 2020 میں چیئرمین پیمرا کے چینل بند کرنے کے اختیار کو پی بی اے نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کو چینل معطل یا بند کرنے کے اختیار کے قواعد بنانے کا حکم دیا تھا جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    تحریک انصاف کا احتجاج، راستے بند، شہریوں کی زندگی اجیرن

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

  • سوئس اکاونٹس کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا،وکیل کے دلائل

    سوئس اکاونٹس کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا،وکیل کے دلائل

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل نے اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور افریقی یونین کے انسداد کرپشن کنونشن کے حوالے عدالت میں دیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق کرپشن کے حوالے سے کچھ بینچ مارک ہیں جنہیں برقرار رکھنا ہے ،ابھی یو اے ای بھی منی لانڈرنگ کے کمزور قوانین کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہے، آپ کیس میں بنیادی حقوق پر بات کریں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں فئیر ٹرائل اور اور برابری کا حق بھی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسے کے غلط استعمال سے بھی عوام کا اعتماد خراب ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی باتیں پارلیمنٹ کیلئے اچھی تقریر ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تو کوئی سننے کو تیار نہیں انہیں جو کرنا ہے وہ کرنا ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سننے کیلئے پارلیمنٹ میں ہونا بھی چاہیے، اگر آپ انتخابات جیتتے ہیں تو اپنی ترامیم لائیں،خواجہ حارث نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک کرپشن قوانین اور سزاوں کو سخت کرنے کا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کا خیال ہے جو چھوٹ گئے ان کو پکڑنا مشکل ہوگا، خواجہ حارث نے کہا کہ سوئس اکاونٹس کیس میں کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا، نیب ریفرنسز میں بھی اصلی دستاویزات نہ ہونے سے ملزمان بری ہوئے،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کیخلاف ایک اور درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کیخلاف ایک اور درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کیخلاف ایک اور درخواست دائرکر دی گئی

    سینیٹر کامران مرتضی ٰنے آئینی درخواست دائر کردی درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، عمران خان اور تحریک انصاف کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاق اور صوبوں کو حکم دیا جائے کہ لانگ مارچ کے دوران عوام کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں وفاق اور صوبے کو حکم دیا جائے کہ لانگ مارچ والوں کا جلسہ اسلام آباد کی آبادی سے باہر ہو،تحریک انصاف کو احتجاج سے متعلق قوانین اور پیرامیٹرز پر عمل کا حکم دیا جائے، تحریک انصاف نے 25 مئی کو سپریم کورٹ کو کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی،

    تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، لانگ مارچ کل جمعرات کو وزیرآباد سے شروع ہو گا جبکہ عمران خان لانگ مارچ کے پنڈی پہنچنے پر شریک ہوں گے، لانگ مارچ کی قیادت شاہ محمود قریشی کریں گے، لانگ مارچ کی قیادت خیبر پختونخواہ سے پرویز خٹک، فیصل آباد سے اسد عمر کریں گے،وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے لانگ مارچ کے لئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو وزیرآباد سے راولپنڈی تک ہر شہر میں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اورلانگ مارچ کے روٹ میں آنیوالی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر آباد سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کے روٹ پر 15ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ پولیس کنٹرول روم24گھنٹے فعال انداز میں فرائض سرانجام دے اور لانگ مارچ کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جائے اورلانگ مارچ کے گرد 2 درجاتی سکیورٹی حصار بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اورلانگ مارچ کے شرکاء کی فول پروف سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔کنٹینر پربلٹ پروف روسٹرم اوربلٹ پروف شیشے کا استعمال یقینی بنایا جائے اورنیا بلٹ پروف کنٹینرتیار کیا جائے، اس ضمن میں پنجاب حکومت ہر ممکن معاونت کرے گی

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    تحریک انصاف کا احتجاج، راستے بند، شہریوں کی زندگی اجیرن

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

  • تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    منحرف ارکان نے اپیلوں پردلائل کیلئے وکیل تبدیل کر لیا ،منحرف ارکان نے ایڈووکیٹ عمر اسلم کو وکیل کر لیا ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد نئے ارکان منتخب ہو چکے ہیں، ایڈوکیٹ عمر اسلم نے کہا کہ مجھے رات وکیل مقرر کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو تیاری کیلئے وقت دے دیتے ہیں،اس معاملہ میں بڑا دلچسپ سوال کا جائزہ لینا ہے،نئے منتخب ہونے والے ارکان کو بھی پارٹی بنائیں،

    عدالت نے منحرف رکن محسن عطا خان کھوسہ کو اپیل واپس لینے کی اجازت دے دی عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو  تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • سپریم کورٹ ،چیف جسٹس کی عدالت میں ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل کا چرچا

    سپریم کورٹ ،چیف جسٹس کی عدالت میں ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل کا چرچا

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی عدالت میں ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل کا چرچا سامنے آیا ،سپریم کورٹ میں ججز اور وکلا کی دلچسپ گفتگو دیکھنے میں آئی،سیمی فائنل کی وجہ سے نیب ترامیم کیس کل تک ملتوی کرنے پر وکلا معترض ہو گئے ،وکیل مخدوم علی نے کہا کہ کل ایک بجے پاکستان کا سیمی فائنل ہے اس وقت کیس کی سماعت نہ رکھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس بارے میں معلوم ہی نہیں تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نا سیمی فائنل کی وجہ سے کل کیس کی سماعت نہ رکھیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کیس پہلے ہی التوا کا شکار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر برا نا منائیں تو ہم میچ دیکھتے رہیں گے آپ دلائل دیتے رہنا،خواجہ حارث صاحب کل کا دن چھوڑ دیں آپ بھی کرکٹ کے شیدائی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کے باہر میچ کے لیے سکرین لگوا دیتے ہیں، دعا ہے کل سیمی فائنل میں پاکستان جیت جائے، کل کیس جلدی ختم کر لیں گے تا کہ تب تک میچ اچھے حالات میں چل رہا ہو،

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

     عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

  • بھارت: سپریم کورٹ نے زیادتی کے قتل کے تین سزا یافتہ ملزمان کو رہا کر دیا

    بھارت: سپریم کورٹ نے زیادتی کے قتل کے تین سزا یافتہ ملزمان کو رہا کر دیا

    نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے 19 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والے 3 جنسی درندوں کو رہا کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 2012 میں ہریانہ کے ریواڑی ضلع کے ایک کھیت سے 19 سالہ لڑکی کی لاش ملی تھی جسے اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر کار کے اوزاروں سے مار مار کر قتل کیا گیا اور لاش تیزاب سے جلا دی گئی تھی۔

    سلمان خان نے جنسی ہراسگی کے الزامات کا سامنا کرنےوالےساجد خان کومنافق شخص قرار دیا

    دہلی پولیس نے 2014 میں تین ملزمان روی کمار، راہول اور ونود کو گرفتار کیا ہائی کورٹ نے سزائے موت سناتے ہوئے کہا کہ ملزمان "شکاری ” ہیں جو سڑکوں پر شکار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔

    تینوں ملزمان معزز اور امیر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تینوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا جسے بنیاد بنا کر سزا میں تخفیف کے لیے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا۔

    بھارت کے سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر نے کوہلی کی فیلڈنگ کو100 فیصد فیک قرار دے دیا

    سپریم کورٹ میں دہلی پولیس نے سزائے موت کو کم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گھناؤنا جرم ہے جو صرف ایک لڑکی کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے میں فساد کے برابر ہے اس لیے عدالت مجرموں کو کسی قسم کی رعایت نہ دے۔

    تاہم بھارتی چیف جسٹس، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کردیا اور ہائیکورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے تینوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے-

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متاثرہ لڑکی کے والدین نے کہا کہ 12 سال سے انصاف کے لیے عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہم ٹوٹ گئے ہیں لیکن اپنی قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔

    8 سالہ بچے کے کاٹنے سے زہریلا کوبرا سانپ ہلاک ہو گیا

  • سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں قیام کے دعوے کو مسترد کردیا

    سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں قیام کے دعوے کو مسترد کردیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں قیام کے دعوے کو مسترد کردیا،اطلاعات ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا ہےکہ سینیٹر اعظم سواتی کبھی جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں نہیں ٹھہرے۔تحریک انصاف کےرہنما سنیٹراعظم سواتی کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئےترجمان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل لاجز رجسٹرار سپریم کورٹ کے زیر کنٹرول ہیں۔

     

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپیشل برانچ کے مطابق اعظم سواتی نے جوڈیشل اکیڈمی میں قیام کیا تھا، جوڈیشل اکیڈمی کوئٹہ سپریم کورٹ کے زیرانتظام نہیں ہے۔

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق جوڈیشل لاجز صرف سپریم کورٹ کے موجودہ اور سابق ججز کے استعمال کیلئے ہے۔

     

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اعظم سواتی نے نیوز کانفرنس میں الزام عائد کہ نامعلوم نمبر سے کسی نے میری بیٹی کو میری اور اہلیہ کی ذاتی ویڈیوز بھیجی تھیں، بیٹی نے سسکیوں میں بتایا کہ ڈیڈی یہ ویڈیو آپ اور ماما کی ہے۔

    بعد ازاں ایف آئی اے نے ویڈیو کا عالمی معیار کے مطابق تفصیلی تجزبہ کرنے کے بعد اسے جعلی قرار دے دیا تھا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی ویڈیو جعلی ہے، ان سے منسوب فحش ویڈیو اور آڈیو کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔

  • عمران خان کیخلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کیخلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ 7 نومبر کو سماعت کرے گا اور کیس کی سماعت پیر کو دن 11:30 بجے ہو گی۔

    عمران خان کے وکیل نے آج توہین عدالت کیس میں التوا کی درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیاتھا کہ عمران خان افسوسناک واقعے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہیں، جواب جمع کرانا ممکن نہیں لہٰذا مقدمےکو فی الحال سماعت کیلئے مقرر نہ کیا جائے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نےگزشتہ سماعت پر عمران خان کو 5 نومبر تک جواب جمع کرانے کی مہلت دی تھی۔

    دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان فوج پر کسی دشمن کی طرح حملہ آور ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے الزامات پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کردیا۔ کہا کہ ہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئے، دور دور تک سازش کا ثبوت آجائے تو ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دوں گا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں، عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مارچ میں ہونے والے واقعے کی ہم سب نے مذمت کی، اس واقعے کے بعد میں نے اپنی پریس کانفرنس بھی ملتوی کردی، میں نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو ہر ممکن مدد دینے کی ہدایت کی۔

  • توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے عمران خان سے ہفتے تک جواب مانگ لیا

    توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے عمران خان سے ہفتے تک جواب مانگ لیا

    توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے عمران خان سے ہفتے تک جواب مانگ لیا
    سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ ایڈووکیٹ بابر اعوان اور فیصل چودھری کیس میں فریق نہیں تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی کو نوٹس نہیں کیا صرف الزامات پر جواب مانگا ہے،پہلے حکومتی وکیل کو سن لیتے ہیں پھر آپکو سنیں گے،عمران خان نے تفصیلی جواب کیلئے وقت مانگا ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے اور کہا گیا کہ عمران خان نے کسی بھی یقین دہانی سے لاعلمی ظاہر کی ہے، عمران خان نے جواب میں عدالتی حکم سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔فیصل فرید چوہدری کے مطابق ہدایت اسد عمر سے لی تھیں۔ فیصل چوہدری کے مطابق ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہو سکتا تھا۔بابر اعوان کے مطابق عمران خان کا نام کسی وکیل نے نہیں لیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 25 مئی کو پہلے اور دوسرے عدالتی احکامات میں کتنی دیر کا فرق ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلا حکم دن گیارہ بجے دیا گیا دوسرا شام 6 بجے،دونوں احکامات کے درمیان کا وقت ہدایت لینے کیلئے ہی تھا-چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو نہیں بتایا گیا تھا کہ ہدایت کس سے لی گئی ہے، اگر کسی سے بات نہیں ہوئی تھی تو عدالت کو کیوں نہیں بتایا گیا اس بات کی وضاحت تو دینی ہی پڑے گی عدالت نے بابر اعوان اور فیصل چوہدری پر اعتماد کیا تھا دونوں وکلاء نے کبھی نہیں کہا انہیں ہدایات نہیں ملی عمران خان کو عدالتی حکم کا کیسے علم ہوا، یقین دہانی پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کی جانب سے کرائی گی تھی۔ پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کا آغاز عمران خان سے ہوتا ہے۔عمران خان نے تفصیلی جواب کا وقت مانگا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2014 میں بھی این او سی کی خلاف ورزی کی تھی۔ سپریم کورٹ میں عمران خان پر شرمناک کہنے پر توہین عدالت کا کیس چلا۔ دو مرتبہ عمران خان الیکشن کمیشن سے بھی معافی مانگ چکے ہیں۔عدالت کئی مرتبہ تحمل کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس ماضی کے مقدمات سے مختلف ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جلسے کے لیے مختص جگہ سے گزر کر عمران خان جناح ایونیو آئے بلیو ایریا میں عمران خان نے تقریر صبح 7:30 پر کی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن واقعات کا ذکر آپ نے کیا وہ عمران خان کے آنے سے پہلے کے ہیں۔

    وکیل احسن بھون نے کہا کہ فیصل چودھری نے عدالتی ہدایت پر بابر اعوان سے رابطہ کیا تھا،وکلا نے کہا تھا اٹک عمران خان کے پاس جانا ممکن نہیں،عدالت نے حکومت کو وکلاکی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ وکلا کا رابطہ نہیں ہوا تو یقین دہانی کس طرف سے کرائی؟ وکیل احسن بھون نے کہا کہ حکومت نے ملاقات کی سہولت ہی نہیں دی ہدایت کیسے لیتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا وکلا کی کسی سینئر لیڈر سے بات نہیں ہوئی تھی؟ کیا ٹیلی فونک رابطہ بھی نہیں کیا گیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل فیصل چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں آپکو کوئی نوٹس نہیں ہے،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹس سے زیادہ اپنے کیرئیر کی فکر ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر رابطے کے وقت ریلی میں نہیں تھے؟ تصاویر کے مطابق تو اسد عمر ریلی میں تھے، جیمرز تھے تو اسد عمر سے رابطہ کیسے ہوا؟ اسد عمر کا عہدہ کیا ہے؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اسد عمر پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں،عدالتی حکم شام 6 بجے آیا تھا اسد عمر نے بتایا کہ انتظامیہ کو ایچ نائن گراونڈ کی درخواست دی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو خدشہ تھا امن و امان کی صورتحال پیدا ہو گی، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ پچس مئی کو ریڈزون کا آغاز ڈی چوک سے ہوتا تھا،پچس مئی کی شام حالات بہت کشیدہ تھے،عدالت نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے بھی منع کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے استفسار کیا کہ میڈیا کمرہ عدالت میں موجود تھا، عدالتی حکم میڈیا پر نشر کیا گیا تھا عدالت نے25 مئی کو توازن پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، اسد عمر سے دوسری بار بھی رابطہ ہو سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا،26مئی کے حکم میں عدالت نے کہا کہ اعتمادکو ٹھیس پہنچائی گئی ،ہفتے کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرینگے، وکیل نے کہا کہ وکلا کے پاس ہیلی کاپٹر ہوتا تو عمران خان کے پاس چلے جاتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے تو درخواست ہی ایچ نائن گراؤنڈ کی دی تھی،گاڑی یا جہاز نہ ہونا صرف بہانے ہیں،عدالت کو یقین دہانی کروا کر بہانے نہیں کیے جاتے سپریم کورٹ کا وکیل ہونا ایک اعزاز ہے،اسد عمر سے دوسری مرتبہ رابطہ کیسے نہیں ہوسکتا تھا؟ ایچ نائن سےآگے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، دو وکلا کے ذریعے عدالت کو گمراہ کیا گیا،اپنا قلم آئین کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہتے،دس ہزار بندے بلاکر 2لاکھ لوگوں کی زندگی اجیرن نہیں بنائی جاسکتی،جمہوریت کو ماننے والے اسطرح احتجاج نہیں کرتے،

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا،عدالت نے پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کو تحفظ دیا تھا،عدالتی حکم پر حکومت نے رکاوٹیں ہٹا دی تھیں ،

    سپریم کورٹ نے عمران خان سے 5 نومبر تک تفصیلی جواب طلب کر لیا سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شواہد اور حقائق کی روشنی میں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے،عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا کو آئندہ ہفتے تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان توہین عدالت کیس میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سارا مواد ہمارے سامنے ہے لیکن نوٹس سے قبل جواب مانگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرینگے،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس جمعیت علماء اسلام نے لانگ مارچ کیخلاف درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی جمعیت علماء اسلام کی درخواست میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہونے کے باعث درخواست پر لارجر بنچ تشکیل دیا جائے،اہم نوعیت کا معاملہ ہے اس لیے درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کی جائے، لانگ مارچ سے تصادم کا خدشہ ہے،
    تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ٹیکس ریٹرن کانگریس کمیٹی کو دینے سے متعلق عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک میرٹ پر حکم کے لیے درکار معلومات نہ ہوں،فیصلہ معطل رہے گا۔

    کینیڈا نے ایران پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں نئی پابندیاں عائد کردیں

    چیف جسٹس جان رابرٹس نے عارضی طور پر ہاؤس کمیٹی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں کو حاصل کرنے سے روک دیا، ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا جس سے امریکی سپریم کورٹ کو سابق صدر کی طویل تاخیر کی درخواست پر غور کرنے کے لیے مزید وقت ملے گا-

    عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کمیٹی 10 نومبر تک اپنے دلائل دے،اس کے فوری بعد فیصلہ سنائے۔گزشتہ ہفتے فیڈرل اپیل کورٹ نے انٹرنل ریوینیو سروس کو دستاویزات کمیٹی کو دینے کی اجازت دی تھی۔

    حکم سے 8 نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلےدستاویزات جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی تھی تاہم اپیل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں ایمرجنسی اپیل دائر کی تھی۔

    ہاؤس ویز اینڈ مینز کمیٹی کو جمعرات کو جلد ہی چھ سال کے ٹیکس گوشواروں کو حاصل کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا جب ایک وفاقی اپیل عدالت نے ٹرمپ کی داخلی آمدنی کی سروس سے منتقلی کو روکنے کی تازہ ترین بولی کو مسترد کردیا۔ اپنے دو جملوں کے حکم میں، رابرٹس نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ 10 نومبر تک ٹرمپ کی درخواست کا جواب دے-

    آئی سی سی نے افغانستان میں تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی

    ٹرمپ نے پیر کو ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ ریکارڈ کو تبدیل کرنے سے روک دے جب کہ جج اس بات پر غور کریں گے کہ آیا ان کی اپیل پر غور کیا جائے۔ اگلے ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات اور اس امکان کے پیش نظر کہ ریپبلکن ایوان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، کمیٹی ریکارڈز حاصل کرنے کے لیے گھڑی بھر دوڑ رہی ہے۔

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کمیٹی کے پاس ایک جائز قانون سازی کا فقدان ہے اور یہ کوشش دستاویزات کو "نمائش کی خاطر” منظر عام پر لانے کا بہانہ ہے انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ "اختیارات کی علیحدگی کے بارے میں اہم سوالات پیش کرتا ہے جو ہر آنے والے صدر کو متاثر کرے گا۔

    کمیٹی نے کہا ہے کہ اسے ٹیکس قوانین کے ساتھ صدارتی تعمیل، عوامی احتساب اور صدور کے لیے لازمی آئی آر ایس آڈٹ پالیسی جیسے مسائل پر مستقبل کی قانون سازی پر غور کرنے کے لیے واپسی کی ضرورت ہے۔

    کمیٹی کے ترجمان ڈیلن پیچی نے ایک ای میل بیان میں کہا، طریقے اور ذرائع کمیٹی برقرار رکھتی ہے کہ قانون ہماری طرف ہے، اور درخواست کے مطابق بروقت جواب داخل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین، میساچوسٹس کے ڈیموکریٹک نمائندے رچرڈ نیل، "سپریم کورٹ کے فوری غور کے منتظر ہیں۔

    ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی معروف صحافی اور ٹی وی میزبان لتھوانیا فرار ہو گئی