Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ سپریم کورٹ

    انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلئے سینیٹر کامران مرتضی ٰکی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا ہے؟ انتظامیہ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے،سپریم کورٹ نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں انتظامیہ سے پوچھ کر بتانے کا حکم دے دیا، درخواست گزار سینیٹر کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہا کہ دو ہفتے سے عمران خان کا لانگ مارچ شروع ہے،فواد چودھری کے مطابق جمعہ یا ہفتے کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا،لانگ مارچ سے معاملات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں، مارچ پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن عام آدمی کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ یہ ایگزیکٹیو کا معاملہ ہے ان سے ہی رجوع کریں، غیر معمولی حالات میں ہی عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے،جب انتظامیہ صورتحال کنٹرول کرسکتی ہے تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟ درخواست گزار سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بات اب بہت آگے جا چکی ہے، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں فائرنگ سے ایک شخص کی جان گئی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تو کافی دنوں سے چل رہا ہے، کیا آپ نے انتظامیہ سے رجوع کیا ہے؟لانگ مارچ کے معاملے میں جلدی کیا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کیا ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں ماضی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے، لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے، اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کیلئے عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، آپ نے اپنی درخواست میں ایک آڈیو کا ذکر کیا ہے، جس میں ہتھیار لانے کا ذکر ہے،آڈیو سچ ہے یا غلط لیکن اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے، کیا 25 مئی کے لانگ مارچ میں لوگوں کے پاس اسلحہ تھا؟احتجاج کا حق لامحدود نہیں آئینی حدود سے مشروط ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں لانگ مارچ ابھی پنجاب کی حدود میں ہے،کیا آپ نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے؟اگر صوبے اور وفاق کا رابطہ منقطع ہو جائے تو کیا عدالت مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے سینیٹر کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک سینیٹر ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، درخواست گزار نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں عدالت آیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسے مان لیں کہ آپ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے ہیں،درخواست گزار نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر لانگ مارچ کے معاملے میں عدالت کی مداخلت قبل از وقت ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ لارجر بینچ میں زیر التوا ہے، فریقین نے یقین دہانی کی خلاف ورزی پر جواب دینا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ الگ سے لانگ مارچ کے معاملے میں مداخلت کرے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کا معاملہ تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے 25 مئی کے جلسے کیلئے ایچ نائن گراونڈ کی درخواست دی گئی تھی، انتظامیہ نے ایچ نائن گراونڈ دینے سے انکار کیا تو سپریم کورٹ نے مداخلت کی، ایچ نائن کا گراونڈ مختص ہونے کے باوجود ہجوم ڈی چوک چلا آیا،کیا آپ اس بات سے خائف ہیں کہ 25 مئی والا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے؟

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلئے سینیٹر کامران مرتضٰی کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ حالات خراب ہوتے ہیں تو عدالت سے دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں لانگ مارچ سے متعلق کیس زیر التوا ہے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے موقف کے بعدحکم جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایگزیکٹیو کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں،کیا عدلیہ کی مداخلت سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کمزور نہیں ہو گی؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو متحرک کریں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، آئے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں،کیا کبھی باقی احتجاج کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟ ایک مخصوص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ لانگ مارچ کی وجہ سے ایک پورا صوبہ مفلوج رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق تو ایگزیکٹیو کے اختیارات تو 27 کلومیٹر تک محدود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مفروضے کی بنیاد پر ہمارے پاس آئے ہیں، کیا انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو روات میں جلسے کا کہا تھا،انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے بیان حلفی مانگا جو اب تک پر نہیں ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہ معاملہ چل رہا ہے، آدھا گھنٹہ دیں تو انتظامیہ سے معلومات لے لیتا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ماضی کی آئینی خلاف ورزیوں کا حوالہ بھی موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے خلاف ورزیوں پر دوسرے فریق کا اپنا موقف ہو، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر عدالت کے لیے معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، عدالتی حکم عملدرآمد کے لیے ہوتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو موجودہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عدالتی مداخلت چاہتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ صورتحال ایگزیکٹیو کے بس سے باہر ہو چکی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق نے 5 نومبر کو بھی پنجاب کو آرٹیکل 149 کے تحت خط لکھا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا وفاق کو نہیں معلوم کہ اپنی ذمہ داری کیسے پوری کرنی ہے؟ سپریم کورٹ انتظامی معاملات میں کیا کر سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست طاقت ور بااختیار ہے، سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں، سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کی ہیڈلائن باجوڑ اور لکی مروت میں حملے کی تھی جس سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، ملک میں ہنگامہ نہیں امن و امان چاہتے ہیں،ایسا حکم دینا نہیں چاہتے جو قبل از وقت ہو اور اس پر پھر عمل درآمد نا ہو،آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کا صوبوں کو خط بہت سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے،

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب

    نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے جمعہ تک نیب ریفرنسز میں ہونے والے سزاوں کا ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ عوامی عہدے دار عوامی اعتماد کا حامل اور جوابدہ ہوتا ہے، توہین عدالت کا قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قانون سازوں کی نااہلیت پر اڑایا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف بنایا گیا قانون پارلیمنٹیرینز کی نااہلیت پر اڑایا جاسکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نااہلیت پر نہیں توہین عدالت قانون جانبدار ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ کی قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے قانون کالعدم ہوا؟ عدالت نے بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی مسترد کی کبھی نہیں کہا کہ پارلیمان کی قابلیت نہیں،عدالت نے کبھی پارلیمان کی اہلیت یا قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہیں لکھا نہیں بلکہ سمجھ کی بات ہے،جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بنیادی انسانی حقوق کا تعلق عوامی اعتماد سے جوڑا گیا،نیب کیس مختلف ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اب بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دینا ہے یا نہیں عدالت دیکھے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا،جواب میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت توہین عدالت کیس کی کارروائی ختم کرے، رپورٹس سے ثابت نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی،یہ بات بھی ثابت نہیں ہوتی کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بنتی ہے،قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی رپورٹس زیادہ تر مفروضوں پر مبنی ہیں، یہ رپورٹس توہین عدالت کی کارروائی کو برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم نہیں کرتیں، عمران خان کی جانب سے 16 صفحات پر مشتمل جواب میں اخبارکے تراشے بھی شامل کئے گئے ہیں،جواب میں مزید کہا گیا کہ اسد عمر نے رابطہ پر زبانی ہدایات دی، اسد عمر کی زبانی ہدایات پر سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی، جانتے ہوئے عدالت کے حکم عدولی نہیں کی، یقین دہانی کراتا ہوں مجھے 25مئی کی شام عدالتی حکم سے آگاہ نہیں کیا گیا،احتجاج کے دوران جیمرز کی وجہ سے فون پر رابطہ نا ممکن تھا،ویڈیو پیغام سیاسی معلومات پرجاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کرانے کا بھی کہا عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ نے بابراعوان کی مجھ سے ملاقات میں کوئی سہولت نہیں دی

    عمران خان نے جواب میں سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کو ڈی چوک جانے کی کال حکومتی رویے کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے تھی میری یا تحریک انصاف کی جانب سے کسی وکیل کو سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس میں شامل ہونے کو نہیں کہا گیا مجھے اب بتایا گیا ہے کہ اسدعمر نے جی نائن گرؤانڈ کے حوالے سے ہدایات دیں عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرانے کے ساتھ توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا بھی کر دی

    رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی توہین عدالت کی کاروائی سے اپنا نام نکالنے کی استدعا کردی ڈاکٹر بابر اعوان نے توہین عدالت کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، جس میں کہا گیا کہ 25 مئی کو ایڈووکیٹ فیصل فرید نے مجھے عدالتی نوٹس کا بتایا بطور وکیل 40 سال عدلیہ کی معاونت میں گزارے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

     

  • توہین الیکشن کمشنر کیس،عمران خان سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    توہین الیکشن کمشنر کیس،عمران خان سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

    سپریم کورٹ نے توہین الیکشن کمیشن اور توہین الیکشن کمشنر کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماﺅں کو نوٹسز جاری کر دیئے

    توہین الیکشن کمیشن اور توہین الیکشن کمشنر کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر عمران خان ،فوادچودھری اور اسدعمر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    عدالت نے الیکشن کمیشن کی حکم امتناع کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مختلف ہائی کورٹس میں زیرالتوا کیسز کو کسی ایک ہائیکورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی الیکشن کمیشن کاموقف ہے کہ بلدیاتی اور عام انتخابات کی تیاری کریں یا کیسز لڑیں عدالت نے کیس کی سماعت 15 دن کیلئے ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن کو عمران خان کا جواب مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف دو، دو اور اسد عمر کے خلاف ایک کیس ہے۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے جواب میں کہا تھا کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جواب میں کہا گیا تھا نوٹس نا قابل سماعت اور آئین سے متصادم ہے۔  تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

  • نیب ترامیم سے ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی: سپریم کورٹ

    نیب ترامیم سے ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی: سپریم کورٹ

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا ہے کہ نیب ترامیم سے ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا کہ کرپشن ثابت نہیں ہو سکتی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے نیب ترامیم کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام نیب کیسز احتساب عدالتوں کو بھیجے تو کئی افراد تمام الزامات سے بری ہوئے، کرپٹ افراد کے بری ہونے سے عوام کے بنیادی حقوق براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اسی پر چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ لگتا ہے آپ ہر ویک اینڈ کے بعد کیس میں ایک نیا نکتہ نکال لیتے ہیں۔

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے براہِ راست بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کیسے ہو رہی ہے؟ کیا بجٹ پیش ہونے پر ہر دوسرا شخص عدالت آ سکتا ہے کہ یہ غلط بنایا گیا؟ ایف بی آر کسی کو ٹیکس چھوٹ دے تو کیا یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آئے گا؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کا ایک بینچ مارک ہے جس سے نیچے لاقانونیت ہوتی ہے، اس بات پر ہم سب آمادہ ہیں کہ احتساب کا قانون ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا انسداد کرپشن کنونشن بہت واضح ہے، کیا ہم اقوام متحدہ کنونشنز کو اپنے قوانین میں منتقل کر سکتے ہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا معذور افراد پر کنونشن آئین پاکستان کا حصہ نہیں ہے، کیا عدالت پارلیمنٹ کو عالمی کنونشنز پر قانون سازی کا حکم دینا شروع کر دے؟ اس طرح تو عالمی کنونشن ہی آئین پاکستان کہلانے لگیں گے، عدالت ایگزیکٹیو کے بنائے قوانین میں تب مداخلت کر سکتی ہے جب وہ آئین سے متصادم ہوں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عوامی پیسے پر کرپشن ہونے سے عوام کے ہی حقوق متاثر ہوں گے، وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ ایف آئی اے کے کئی کیسز بغیر کسی قانونی طریقہ کار نیب کو منتقل ہو گئے۔ قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہی ہونا ہوتا ہے، دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو کرپشن کا حامی ہو، مجھے پرانے نیب قانون میں ترامیم کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ملی، قانون کا معیار مقرر کرنا عدالت کا کام ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک اضافی بھینس رکھنے پر بھی احتساب ہوتا تھا، جس ملک میں کرپشن ہوگی اس کا بیڑہ غرق ہوگا، کرپشن کو اتنا دردناک جرم بنانا چاہیے کوئی اسے کرنے کی ہمت نہ کرے، ہو سکتا ہے یہی ثابت ہو نیب ترامیم بدنیتی اور مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عدالت قانونی معیار مقرر کرتی ہے، قانونی معیار عدالت نہیں آئین طے کرتا ہے، اگر کرپشن پر قوانین موجود ہی نہ ہوں تو عدالت کہہ سکتی ہے کہ بنائیں، آخر میں قانون پارلیمنٹ نے ہی بنانا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نیب ترامیم کالعدم ہونے سے پرانا قانون ازخود نافذ ہو جائے؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ موجودہ نیب ترامیم سے کرپٹ ملزمان بری ہو کر مزے سے گھروں میں بیٹھے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہاں تو لوگ آئین کو سبوتاژ کر کے بھی گھروں میں بیٹھے ہیں، کیا نیب ترامیم سے کوئی ثابت شدہ کرپٹ مجرم بری ہوا ہے؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب ترامیم سے اب پیسے معاف کر کے کرپشن چارجز ختم کیے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ جب ٹرائل کے بعد ثابت ہوا ہی نہیں کہ ایک شخص کرپٹ ہے یا نہیں توبنیادی حقوق کیسے متاثر ہوگئے؟ جسٹس اعجازالاحسن نیب ترامیم کے بعد ٹرائل اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ کرپشن ثابت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے عمران خان کے وکیل کو 17 نومبر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

  • سود کے خاتمے کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست دائر

    سود کے خاتمے کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعلان کے مطابق سود کے خاتمے کے فیصلے کے لئے سپریم کورٹ میں دائراپیل واپس لے لی گئی ہے،

    وفاقی حکومت نے سود کے خاتمے کے شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی جسے آج واپس لے لیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے خلاف اپیل زیر التواء ہے اپیل واپس لینے کی متفرق درخواست منظور کی جائے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جب سود کے خاتمے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لینے کا اعلان کیا تھا تو پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے وزیر خزانہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا تھا، حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی نے اسے ریاست مدینہ کی جانب حقیقی قدم قرار دیا اور گزشتہ روز یوم تشکر بھی منایا،

    علمائے کرام اور مذہبی سکالرز نے سود کے خاتمے کے بارے میں وفاقی شریعت کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کے متعلق اپیل واپس لینے کے حکومتی فیصلے کو سراہا ہے۔ اس فیصلے پر ملک بھر میں یوم ِ تشکر مناتے ہوئے انہوں نے اِس عظیم مقصد کے لئے حکومت کو ہر ممکن حمایت کی یقین دہانی کرائی علمائے کرام نے ملک کے مالیاتی اداروں سے سودی نظام کے خاتمے کے لئے اِس دلیرانہ اقدام پر حکومت خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا

    واضح رہے کہ رواں برس 28 اپریل کو وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف کیس کا 19 سال بعد فیصلہ سنا یا تھا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی بینکنگ کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں ،معاشی نظام سےسود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کے منافع کی تمام اقسام سود کے زمرے میں آتی ہیں، انٹرسٹ ایکٹ 1839 مکمل طورپرشریعت کیخلاف ہے سود کیلئےسہولت کاری کرنیوالے تمام قوانین اورشقیں غیرشرعی قرار دے دی گئیں اسلامی بینکاری نظام رسک سے پاک اوراستحصال کیخلاف ہے، ملک سے ربا کا خاتمہ ہرصورت کرنا ہو گا، ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے، بینکوں کاقرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے، بینکوں کا ہرقسم کا انٹرسٹ رباہی کہلاتا ہے، قرض کسی بھی مدمیں لیا گیا ہواس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا ،وفاقی شرعی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ تمام بینکوں کی جانب سےاصل رقم سے زائدرقم لینا سود کے زمرے میں آتا ہے، حکومت کوہدایت دی جاتی ہے کہ انٹرسٹ کا لفظ ختم کرے، ربا مکمل طورپرہرصورت میں غلط ہے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

     ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    سود کا خاتمہ حکم الہٰی کے ساتھ آئین پاکستان کا اہم تقاضا بھی، ڈاکٹر قبلہ ایاز

  • سپریم کورٹ،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل خارج

    سپریم کورٹ،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل خارج

    چیئرمین پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کے لائسنس معطلی اور بند کرنے کے اختیار کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل خارج کردی

    وکیل پیمرا احمد پرویز نے کہا کہ پیمرا اتھارٹی کے اختیارات کو علیحدہ پڑھنا ہوگا، وکیل پی بی اے فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا نے اس وقت ایک ماہ میں 4 دفعہ چینلز کو بند کیا، 10دن کیلئے چینل کو بند کردیا جائے تو چینل ہی ختم ہو جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز بنانا لازم ہیں اب رولز کس کو اختیار دیتے ہیں وہ الگ بات ہے،

    اپریل 2020 میں چیئرمین پیمرا کے چینل بند کرنے کے اختیار کو پی بی اے نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کو چینل معطل یا بند کرنے کے اختیار کے قواعد بنانے کا حکم دیا تھا جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    تحریک انصاف کا احتجاج، راستے بند، شہریوں کی زندگی اجیرن

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

  • سوئس اکاونٹس کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا،وکیل کے دلائل

    سوئس اکاونٹس کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا،وکیل کے دلائل

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل نے اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور افریقی یونین کے انسداد کرپشن کنونشن کے حوالے عدالت میں دیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق کرپشن کے حوالے سے کچھ بینچ مارک ہیں جنہیں برقرار رکھنا ہے ،ابھی یو اے ای بھی منی لانڈرنگ کے کمزور قوانین کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہے، آپ کیس میں بنیادی حقوق پر بات کریں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں فئیر ٹرائل اور اور برابری کا حق بھی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسے کے غلط استعمال سے بھی عوام کا اعتماد خراب ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی باتیں پارلیمنٹ کیلئے اچھی تقریر ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تو کوئی سننے کو تیار نہیں انہیں جو کرنا ہے وہ کرنا ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سننے کیلئے پارلیمنٹ میں ہونا بھی چاہیے، اگر آپ انتخابات جیتتے ہیں تو اپنی ترامیم لائیں،خواجہ حارث نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک کرپشن قوانین اور سزاوں کو سخت کرنے کا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کا خیال ہے جو چھوٹ گئے ان کو پکڑنا مشکل ہوگا، خواجہ حارث نے کہا کہ سوئس اکاونٹس کیس میں کیس ختم ہوتے ہی سارا ریکارڈ غائب کردیا گیا، نیب ریفرنسز میں بھی اصلی دستاویزات نہ ہونے سے ملزمان بری ہوئے،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کیخلاف ایک اور درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کیخلاف ایک اور درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کیخلاف ایک اور درخواست دائرکر دی گئی

    سینیٹر کامران مرتضی ٰنے آئینی درخواست دائر کردی درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، عمران خان اور تحریک انصاف کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاق اور صوبوں کو حکم دیا جائے کہ لانگ مارچ کے دوران عوام کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں وفاق اور صوبے کو حکم دیا جائے کہ لانگ مارچ والوں کا جلسہ اسلام آباد کی آبادی سے باہر ہو،تحریک انصاف کو احتجاج سے متعلق قوانین اور پیرامیٹرز پر عمل کا حکم دیا جائے، تحریک انصاف نے 25 مئی کو سپریم کورٹ کو کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی،

    تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، لانگ مارچ کل جمعرات کو وزیرآباد سے شروع ہو گا جبکہ عمران خان لانگ مارچ کے پنڈی پہنچنے پر شریک ہوں گے، لانگ مارچ کی قیادت شاہ محمود قریشی کریں گے، لانگ مارچ کی قیادت خیبر پختونخواہ سے پرویز خٹک، فیصل آباد سے اسد عمر کریں گے،وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے لانگ مارچ کے لئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو وزیرآباد سے راولپنڈی تک ہر شہر میں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اورلانگ مارچ کے روٹ میں آنیوالی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر آباد سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کے روٹ پر 15ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ پولیس کنٹرول روم24گھنٹے فعال انداز میں فرائض سرانجام دے اور لانگ مارچ کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جائے اورلانگ مارچ کے گرد 2 درجاتی سکیورٹی حصار بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اورلانگ مارچ کے شرکاء کی فول پروف سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔کنٹینر پربلٹ پروف روسٹرم اوربلٹ پروف شیشے کا استعمال یقینی بنایا جائے اورنیا بلٹ پروف کنٹینرتیار کیا جائے، اس ضمن میں پنجاب حکومت ہر ممکن معاونت کرے گی

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    تحریک انصاف کا احتجاج، راستے بند، شہریوں کی زندگی اجیرن

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

  • تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    منحرف ارکان نے اپیلوں پردلائل کیلئے وکیل تبدیل کر لیا ،منحرف ارکان نے ایڈووکیٹ عمر اسلم کو وکیل کر لیا ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد نئے ارکان منتخب ہو چکے ہیں، ایڈوکیٹ عمر اسلم نے کہا کہ مجھے رات وکیل مقرر کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو تیاری کیلئے وقت دے دیتے ہیں،اس معاملہ میں بڑا دلچسپ سوال کا جائزہ لینا ہے،نئے منتخب ہونے والے ارکان کو بھی پارٹی بنائیں،

    عدالت نے منحرف رکن محسن عطا خان کھوسہ کو اپیل واپس لینے کی اجازت دے دی عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو  تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا