Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل پر سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی

    فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل پر سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل پر سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مضبوط اوربا اختیاربنانا چاہتے ہیں نہیں چاہتے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہر کوئی رٹ میں اڑاتا رہے،انتخابی معاملات میں الیکشن کمیشن ماہرہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے،الیکشن کمیشن کو حقائق کے تعین کیلئے مقدمہ ہائیکورٹ نے ہی بھیجا تھا،

    وکیل فیصل واوڈا نے عدالت میں کہا کہ کیا ہائیکورٹ کے کہنے سے الیکشن کمیشن عدالت بن جائے گا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر فیصلہ ہی نہیں دیا، الیکشن کمیشن نے حقائق کا تعین بھی درست انداز میں نہیں کیا، امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں پر جرح کا موقع ہی نہیں دیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واووڈا نے شہریت چھوڑنے کیلئے رجوع کاغذات جمع کرانے کے بعد کیا تھا، وکیل نے کہا کہ بطور سینیٹر فیصل واوڈا پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کیا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو دوہری شہریت کی بنیاد پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

    الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • عالمی معیار اور مقامی قانون کے تناظر میں نیب ترامیم کا جائزہ لینگے،چیف جسٹس

    عالمی معیار اور مقامی قانون کے تناظر میں نیب ترامیم کا جائزہ لینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی

    وکیل نے کہا کہ کابینہ اور ورکنگ ڈویلپمنٹ پارٹیز کے فیصلے بھی نیب دائرہ اختیار سے نکال دیئے گئے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹیوں اور کابینہ میں فیصلے مشترکہ ہوتے ہیں، مشترکہ فیصلوں پر کیا پوری کابینہ اور کمیٹی کو ملزم بنایا جائے گا؟ پوری کابینہ یا کمیٹی ملزم بنے گی تو فیصلے کون کرے گا؟ہر کام پارلیمان کرنے لگی تو فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہوجائے گا، ایل این جی معاہدے کے حقائق دیکھے بغیر کیس بنایا گیا تھا، ایل این جی سطح کے معاہدے حکومتی لیول پر ہوتے ہیں،کئی بیوروکریٹ ریفرنس میں بری ہوئے لیکن انہوں نے جیلیں کاٹیں، بعض اوقات حالات بیوروکریسی کے کنٹرول میں نہیں ہوتے، وکیل نے کہا کہ حالیہ نیب ترامیم انسداد کرپشن کے عالمی کنوینشن کے بھی خلاف ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے پوری دنیا میں جرم تصور ہوتے ہیں، عالمی معیار اور مقامی قانون کے تناظر میں نیب ترامیم کا جائزہ لینگے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب سے بچ نکلنے والے کسی اور قانون کی زد میں آسکتے ہیں؟ وکیل نے کہاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کیلئے کوئی اور قانون موجود نہیں ہے،نیب ترامیم کے بعد50 کروڑروپے سے زائد کی کرپشن ثابت کرنا بھی ناممکن بنا دیا گیا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب ترامیم سے سسٹمیٹک کرپشن کو فروغ ملے گا،ترمیم سے اجازت دی گئی کہ وہ مالی فائدے لیں جو نیب قانون کے زمرے میں نہ آئیں،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے بعد مالی فائدہ ثابت ہونے پر ہی کارروائی ہوسکے گی،اختیارات کے ناجائز استعمال کیلئے عوامی عہدیدار کا براہ راست فائدہ لینا ثابت کرنا ہوگا،عوامی عہدیدار کے فرنٹ مین اور بچوں کے مالی فائدے پر بھی کیس نہیں بنے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب ترمیم شدہ قانون موجودہ حالت میں 1999 میں آتا تو چیلنج ہوتا؟ وکیل نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد میں نقائص سامنے آنے پر ہی اسے چیلنج کیا جاتا ہے،مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے نیب ترامیم کی گئی ہیں،حکومت کے آنے کا پہلا ٹارگٹ ہی اپنے نیب کیسز ختم کرنا تھا، کیا نیب تحقیقات پر خرچ اربوں روپے ضائع ہونے د یئے جائیں؟

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ کا دو ماہ کیلئے مجرم کو علاج کیلئے رہا کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کا دو ماہ کیلئے مجرم کو علاج کیلئے رہا کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے دو ماہ کیلئے مجرم جاوید اقبال کو علاج کیلئے رہا کرنے کا حکم دیدیا

    عدالت نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق مجرم کو برین ٹیومر ہے،دو ماہ بعد میڈیکل رپورٹس کا دوبارہ جائزہ لینگے ،عدالت نے جاوید اقبال کو سزا معطلی کے دوران علاج کا تمام ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے سزا معطلی کی مخالفت کی گئی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت میڈیکل بورڈ تشکیل دے اسکی رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے، عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کے سرکاری اسپتال کی رپورٹ ہے کیسے مسترد کر دیں؟ مجرم جاوید اقبال کو احتساب عدالت نے 10 سال قید اور 10 کروڑروپے جرمانہ کیا تھا

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

  • نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا، سپریم کورٹ

    نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف مشکل بنا دی گئی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے، جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسز کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے، اگر کسی سے کوئی جرم ہوا ہے تو قانون میں شفاف ٹرائل کا طریقہ کارہے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو پورا کیس مکمل ہو جائے اور بعد میں پتہ چلے بنیادی حقوق کا تو سوال ہی نہیں تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا، سوال یہ ہے کہ عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، عدالت نے کہا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو،شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پبلک منی کا معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے،

    عدالت نے نیب سے 1999 سے لیکر جون 2022 تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ،ابتک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں، ریکارڈ طلب کر لیا گیا،اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے، تفصیلات طلب کر لی گئیں نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں تفصیلات طلب کر لی گئیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے ہمارے قوانین میں نقائص کی نشاندہی کی،قوانین میں بہتری کیلئے وہ معیار اپنانا ہوگا جو دنیا بھر میں اپنایا گیا ہے، کیا نیب ترامیم سے جان بوجھ کر قانون میں نقائص پیدا کیے گئے؟ کیا نیب ترامیم مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی ہیں؟ اربوں روپے کرپشن کے 280 کیسز پہلے ہی واپس ہوچکے ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے خواجہ حارث سے سوال کیا،کیا آپ پارلیمان سے بدنیتی منصوب کر رہے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1996 میں ایک کیس میں زندہ درخت کی مثال دی، زندہ درخت گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا،پاکستان میں مختلف مافیاز ہیں، یہ مافیاز پرتشدد ہیں بھی اور نہیں بھی ہیں،میں کسی مافیا کا نام نہیں لینا چاہتا،دنیا میں جائیداد اور دولت پر ٹیکس لیا جاتا ہے، یہ سب وہ نکات ہیں جو سیاسی نوعیت کے ہیں اور پارلیمان نے طے کرنے ہیں، احتساب تندرست معاشرے اور تندرست ریاست کیلئے اہم ہے،کرپشن دنیا میں ہر جگہ موجود ہے،نیب ترامیم میں کچھ نقائص بھی موجود ہیں، نقص یہ بھی ہے کہ کچھ سرکاری ملازمین جیلیں کاٹ کر بری ہو چکے ہیں،کچھ کاروباری شخصیات بھی نیب سے مایوس ہوئیں،نیب ترامیم میں کچھ چیزیں بھی ہیں جن سے فائدہ ہوا ہم نے توازن قائم کرنا ہے، کچھ ایسی ترامیم بھی ہیں جو سنگین نوعیت کی بھی ہیں،نیب قانون میں حالیہ تبدیلی کے سبب ملزمان کو فائدہ بھی پہنچا، پلی بارگین اور پانچ سو ملین روپے کی حد مقرر کرنے سے ملزمان کو فائدہ ہوا،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • کیا ہرمقدمے میں سپریم کورٹ آنا لازمی ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    کیا ہرمقدمے میں سپریم کورٹ آنا لازمی ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے ٹیکس سے متعلق تنازعہ میں ایف بی آر کی اپیل مسترد کر دی

    سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیل کو فضول مقدمہ بازی کا شاہکار قرار دیدیا سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو فضول مقدمہ بازی سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی ،دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فضول مقدمے سے وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں،سپریم کورٹ نے آرڈر چیئرمین ایف بی آر اور ممبر لیگل کو بھیجنے کی ہدایت کر دی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین فورمز نے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا اس کے باوجود ایف بی آر سپریم کورٹ میں آیا،دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہر مقدمے میں سپریم کورٹ آنا لازمی ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے اپیل خارج کر دی

    دوسری جانب سپریم کورٹ ،ڈيرہ اسماعيل خان کی رہائشی خاتون کو 46 سال بعد وراثتی حق مل گيا سپريم کورٹ نے ڈيرہ اسماعيل خان کی رہائشی خاتون کا والد کی جائیداد ميں حصہ تسليم کر ليا سپريم کورٹ نے ہائی کورٹ فيصلے کے خلاف بھائيوں کی اپيل خارج کر دی، وکیل درخؤاست گزار نے عدالت میں کہا کہ بہنوں نے اپنا حصہ بھائی کو تحفے میں دے دیا تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تحفہ دیا گیا اس وقت بہنیں کم سن تھیں،کم عمر بہن کیسے بھائیوں کو جائیداد تحفے میں دے سکتی ہے؟ریکارڈ کے مطابق بہن کی جانب سے وکیل نے بیان دیا،کم سن لڑکی کی جانب سے کوئی وکیل کیسے بیان دے سکتا ہے؟ بھائیوں نے کبھی بہن کو جائیداد گفٹ دی ہے ہر بار بہن ہی کیوں دے؟گفٹ میں کہیں آفر قبوليت کا ذکر نہيں تو اس کی قانونی حيثيت نہيں رہتی،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بہن نابالغ تھی تو بھائیوں نے کیسے بہن سے ساری جائیداد لے لی،نابالغ بہن کوئی بھی کنٹریکٹ نہیں کر سکتی،

    وکیل خریدار نے کہا کہ اراضی خریدنے سے پہلے تسلی کی گئی کہ اس میں بہنوں کا حصہ شامل نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خریدار نے تسلی کیسے کی؟ کوئی دستاویز دکھائیں، کیس ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا کہ خریدار نے ٹھوس تسلی کی ہو،سپريم کورٹ نے ہائی کورٹ فيصلے کے خلاف بھائيوں کی اپيل خارج کر دی
    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

  • اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اصل کیس باقی ہے، دیکھنا ہوگا کیا نیب قانون میں تبدیلی بنیادی حقوق سے متصادم ہے یا نہیں؟یہ بھی دیکھنا ہے نیب قانون سے درخواست گزار کے حقوق کیسے متاثر ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی دلیل ہے کہ نیب قانون سے کسی ملزم کا جرم قبول کرنا اب کوئی جرم ہی نہیں رہا،وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ اب درخواستیں دیے بغیر مقدمات واپس بھیجے جا رہے ہیں، پہلے سے پلی بارگین یا رضاکارانہ رقوم کی ادائیگی بھی واپس ہو جائے گی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں نیب قانون کی تبدیلی سے پہلے کیا پلی بارگین کی رقم اقساط میں ادا ہو رہی تھی، اب دیکھنا چاہتے ہیں کیا پلی بارگین یا رضاکارانہ رقوم کی واپسی پر اقساط ملتی رہیں یا ادائیگی نہیں ہوئی، وکیل نے کہا کہ اس کا جواب نیب کے پاس ہوگا،نیب کی 2019 میں پلی بارگین کی رقم اور ریکوری میں 6 ارب کا فرق ہے، سال 2020 میں 17.2 ارب کی پلی بارگین معاہدے ہوئے، 8.2 ارب ریکوری ہوسکے،ترمیم کے بعد تمام بقایا رقم نیب ریکور نہیں کر سکے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ترمیم سے پہلے نیب کو رقم ریکور ہو رہی تھی؟ کیا 2018 کے بقایاجات 2021 تک کلیئر ہوچکے تھے؟ ترامیم سے پہلے بھی لگتا ہے نیب ریکوری نہیں کر رہا تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کو طے شدہ شیڈیول کے تحت اقساط مل رہی تھیں،نیب حکام اس حوالے سے بہتر تفصیلات دے سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے جو ریکوری ہوگئی وہ رہے گی مزید نہیں ہوسکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین بقایا جات نہ دینے والوں کا ترمیم کے بعد ٹرائل ہوگا، ٹرائل میں ملزمان کو سزا بھی ہوسکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقدمہ 50 کروڑ سے کم کا ہوا تو ازخود خارج ہوجائے گا،احتساب عدالت نیب کا دائرہ اختیار ختم کردے تو پیسہ سرکار کے پاس کیسے رہے گا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ میں واپس جانے سے جرم کیسے ختم ہوگا؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم میں نیب کا اختیار 1985 سے ہی ختم کر دیا گیا ہے، نیب کا اختیار ختم ہوگیا تو ریکور شدہ رقم کیسے برقرار رہے گی،جرم کی نوعیت کوئی بھی ہو، ٹرائل کورٹس 50 کروڑ سے کم کا ہر کیس واپس بھیج رہی ہیں، دائرہ اختیار ماضی سے ختم ہونے پر پلی بارگین کا حکم بھی منسوخ ہوجائے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کا سیکشن 25 پلی بارگین کی قسط کی عدم ادائیگی سے متعلق ہے،وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ نئی ترامیم میں ملزم پلی بارگین کی رقم واپسی کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے، ایک شخص پلی بارگین کی قسطیں کیوں ادا کرے گا جب اسے معلوم ہے کہ وہ نئے قانون سے مستفید ہو سکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک آپ کیس کے بنیادی نکتے پر آئے ہی نہیں ہیں، ابھی آپ نے بتانا ہے کہ نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون کے سیکشن 9 اے فائیو میں ترمیم کے بعد ملزم سے نہیں پوچھا جا سکے کہ اثاثے کہاں سے بنائے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب کسی کو غیر قانونی ذرائع سے بنائے گئے اثاثے نیب کو ثابت کرنا ہوں گے؟ نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کر دی گئی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کی خالی نشستوں پرججز کی تقرری کے لیےجسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی :جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے لکھے گئے خط میں جوڈیشل کمیشن کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ مزید افواہوں اور قیاس آرائیوں سے بچنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا جائے 9 ماہ گزر جانے کے باوجود پانچ خالی نشستیں پُر نہیں کی جاسکیں رولز کے مطابق جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد30 دن کے اندر نیا جج لگانا لازمی ہے ۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ہماری رائے میں نئے ججز کیلئے ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کے ناموں پر غور کیا جائے ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ہر ہائیکورٹ کے دو سینیئر ججز کے ناموں پر غور کیا جائے۔

    جج صاحبان نے خط میں مزید کہا ہے کہ سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی اٹھائیس ستمبر کو اجلاس بلانے کیلئے خط لکھ چکے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ نہیں ہے بلکہ ایک آزاد آئینی باڈی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار سمیت جوڈیشل کمیشن اراکین نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔ ججز تقرری میں سنیارٹی، میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے لیکن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا۔

    چیف سیکرٹری پنجاب نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی

    انہوں نے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ کہہ کر جونیئر جج لگائے کہ سینئر ججز خود نہیں آنا چاہتے مگر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے ثاقب نثار کی باتوں کی تردید کی تھی۔ سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا-

    انہوں نے کہا تھا کہ جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کے لیے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی۔ جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے اور ججز تقرری کے لیے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ کا غلط فیصلے کا اعتراف ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی واپس نہیں لاسکتا۔ اعلی ٰعدلیہ پر عوام کا اعتماد لازمی ہے اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے قابل اور دیانتدار ججز تعینات ہونے چاہئیں۔ امید ہے چیف جسٹس ججز تقرری سے متعلق تحفظات دور کریں گے۔ خط کی کاپی جوڈیشل کمیشن اراکین اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی ارسال کی گئی تھی-

    حکومت معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے پرعزم ہے:وزیر خزانہ

  • ترمیم سے لگتا  49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    نیب نے 21 سال کے دوران ہونے والی پلی بارگین کی تفصیلات جمع کرا دیں ،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت دباو کا الزام لگنے پر پلی بارگین منسوخ ہوجائے گی،منسوخ ہونے پر پلی بارگین کے تحت جمع رقم واپس کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پلی بارگین منسوخ ہونے سے سزا کیساتھ جرم بھی ختم ہوجائے گا؟ وکیل نے کہا کہ ترمیم کی تحت جرم اور سزا دونوں ہی ختم ہوجائیں گے، عدالت نے کہا کہ پلی بارگین اعتراف جرم ہوتا ہے جس کی سزا میں عدالت پیسے واپس کرنے کی منظوری دیتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا قانون سازی سے کیسے ختم ہوسکتی؟ صدر بھی رحم کی اپیل میں سزا معاف کر سکتے ہیں جرم ختم نہیں ہوتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین جرم کی بنیاد ہے وہ ختم ہو جائے تو جرم کیسے برقرار رہے گا؟ قاتل کا جرم ختم ہو سکتا ہے تو بدعنوانی کے ملزم کا کیوں نہیں، عدالت نے کہا کہ کرپشن 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو پلی بارگین کیساتھ مقدمہ بھی ختم ہو جائے گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے، وکیل نے کہا کہ کابینہ اور دیگر فورمز کیساتھ وزرا اور معاونین خصوصی کو بھی استثنیٰ دیدیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھانے والا عام آدمی بھی نیب ریڈار پر آسکتا ہے؟ معاشرہ ایسا ہے کہ کاروباری افراد کو کئی جگہ رشوت دینا پڑتی ہے، کیا کاروباری افراد کو بزنس کرنے پر بھی سزا ملے گی؟ وکیل نے کہا کہ عوامی عہدیدار کی منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کرنے والا نیب ریڈار پر آئے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب قوانین میں ترامیم عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نہیں کی گئیں؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کرکے نیب قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں،

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین کے ترامیم میں 500 ملین کا بینچ مارک بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے مقدمات عدالتوں سے واپس آئے ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں جواب دیا کہ عدالتوں سے 219 مقدمات واپس آچکے ہیں، اب تک تعداد 280 ہوگئی، اعداد و شمار مقدمے کے آغاز میں لیے گئے تھے، تمام مقدمات نیب کو واپس آرہے ہیں جنہیں کمیٹی دیکھے گی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں بھی ایسا ہی تھا نام اور رقم نہیں بتائی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ایمنسٹی اسکیم بھی فراڈ ہے ؟ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے پیسے کو وائٹ کرنا تو بڑے عرصے سے چل رہا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ رہا ہے مگر کرپشن کی رقم کا ایشو مختلف ہوتا ہے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے رقم ڈکلئیر کرنے والوں کو کچھ نہ کہنا نہ پوچھنے کا لکھا گیا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس میں بھی رکشے والے اور ایسے لوگوں کے کھاتوں سے اربوں نکلے تھے، نئے قانون کے مطابق احتساب عدالت اور نیب نے ہاتھ کھڑے کر دے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ترامیم کو گزشتہ حکومت نے شروع کیا تھا باتوں سے باتیں نکل رہی ہیں، دو ماہ میں ان ترامیم کی ڈرافٹنگ کا کریڈٹ وزیر قانون کو جاتا ہے،وکیل نے کہا کہ کچھ کریڈٹ سابقہ حکومت کو بھی جاتا ہے جو خود اس عمل میں شامل رہی اور پھر چیلنج کر دیا،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • شریف برادران شوگر ملز منتقلی کیس کی سماعت ملتوی

    شریف برادران شوگر ملز منتقلی کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں شریف برادران شوگر ملز منتقلی کیس کی سماعت ہوئی

    اتفاق شوگر مل کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے تحریری التواء مانگ لیا .وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ بیمار ہوں پیش نہیں ہو سکتا، سماعت ملتوی کی جائے،عدالت نے شریف خاندان کے وکیل کی التواء کی درخواست منظور کرلی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ طویل عرصہ سے زیر التواء ہے، مقدمہ کو التواء میں نہیں رکھا جا سکتا، اگر آئندہ سماعت پر وکیل دستیاب نہ ہو تو اتفاق شوگر مل متبادل وکیل کا بندوبست کرے،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنماوں کی تقاریر پر پابندی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار قوسین فیصل نے پابندی کیلئے دائر درخواست واپس لے لی ،سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • ریکوڈک منصوبے میں کرپشن،سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا

    ریکوڈک منصوبے میں کرپشن،سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ میں ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کیس کی سماعت ہوئی

    ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے ملزمان کی ضمانتوں کا بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا گیا، سپریم کورٹ نے نیب کو ملزمان کو 60 دن تک گرفتار کرنے سے روک دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے ملزمان 60 دن میں احتساب عدالت سے رجوع کریں،ہائیکورٹ نے فیصلے میں 2 ملزمان کو ضمانت بعد ازگرفتاری جبکہ 8 ملزمان کو ضمانت قبل از گرفتاری دی،ہائیکورٹ کے فیصلے میں ضمانت دینے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کے قوانین اب بدل چکے ہیں، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ حقائق کے درست جائزے کے بغیر ضمانت قبل از گرفتاری نہیں ہو سکتی، ملزمان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں، مناسب فورم پر فیصلے کیلئے بھیج رہے ہیں، نیب قوانین میں ترامیم کے بعد ضمانتوں کا اختیار اب احتساب عدالت کے پاس ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،بلوچستان ہائیکورٹ نے نیب کے دائر کردہ کرپشن ریفرنس میں ریکوڈک منصوبے کے ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ضمانت دی تھی نیب نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

    پاکستان کو 5.84 ارب ڈالرز کاجرمانہ،عالمی ادارے کا اعلامیہ،باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق ہوگئی

    افتخار چوہدری پاکستان کو لے ڈوبے،پاکستان کو 4.7 ارب ڈالرز کا جرمانہ کروا دیا

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی