Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • بہتر ہے آپ کا موکل پھر جیل میں ہی رہے ،عدالت کا وکیل سے مکالمہ

    بہتر ہے آپ کا موکل پھر جیل میں ہی رہے ،عدالت کا وکیل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ میں صنم عمرانی قتل کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے مرکزی ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ صنم کے قتل کا ٹرائل 6 ماہ میں مکمل کیا جائے،اگر چھ ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہوتا تو پھر ضمانت کی ازسر نو دخواست دائر کی جائے،وکیل نے کہا کہ ساڑھے تین سال سے میرا موکل جیل میں ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر آپ کی جانب سے کی گئی،8 ماہ تک کیس تو آپ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے منتقل کرانے میں لگا،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے ضمانت مسترد کرنے کی اہم وجوہات بیان کی ہیں، فیصلے میں لکھا ہے کہ صنم عمرانی کی جان کو شفقت سے خطرہ ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نایاب عمرانی کے خاندان کے کتنے افراد قتل ہوئے؟ وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ نایاب کے خاندان کے 3افراد قتل کیے گئے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملزم کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ کے کتنے قتل ہوئے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہمارا کوئی بھی قتل نہیں ہوا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو واقعی نایاب کو قتل کرنے کا خطرہ ہے،بہتر ہے آپ کا موکل پھر جیل میں ہی رہے ،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

    شہر قائد میں سی ٹی ڈی کی کاروائی، دو دہشت گرد گرفتار

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

  • حکومت کے پاس قانون کی خلاف ورزی پر کاروائی کا اختیار ہے،چیف جسٹس

    حکومت کے پاس قانون کی خلاف ورزی پر کاروائی کا اختیار ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی دراخواست پرسماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پولیس اور حساس اداوں کی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے ،عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ عمران خان کی ڈی چوک کال توہین عدالت ہے، 26 مئی کو صبح جناح ایونیو پر 6 بجے ریلی ختم کی گئی، عمران خان مختص جگہ سے گزر کر بلیو ایریا آئے اور ریلی ختم کی، مختص مقام ایچ نائن سے 4 کلومیٹر آگے آکرعمران خان نے ریلی ختم کی پولیس آئی ایس آئی اور آئی بی رپورٹس پر ہی سب اداروں کا انحصار ہے،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقین دہانی عمران خان کی جانب سے وکلا نے دی تھی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ بابر اعوان، فیصل چوہدری نے عمران خان کی طرف سے یقین دہانی کروائی تھی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سڑکیں بلاک ہوں گی نہ مختص مقام سے آگے جائیں گے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بیان سے لگتا ہے انہیں عدالتی حکم سے آگاہ کیا گیا عمران خان نے کہا سپریم کورٹ نے رکاوٹیں ہٹانے کا کہا ہے عمران خان کو کیا بتایا گیا اصل سوال یہ ہے عمران خان آکر عدالت کو واضح کر دیں کس نے کیا کہا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹس جاری کر کے عمران خان سمیت یقین دہانی کرانے والوں سے پوچھ لیتے ہیں ایسا کیوں کیا سول کنٹمٹ میں متعلقہ شخص کو شاید عدالت بلانا لازمی نہیں ہوتا، جب جوابات آجائیں گے تب تحریری طور پر عدالت کے پاس ریکارڈ ہوگا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ توہین عدالت کے قانون میں کیا ایسی کوئی شق ہے کہ پہلے جواب مانگیں پھر نوٹس جاری کیا جائے،توہین عدالت کے قانون میں یا نوٹس ہوتا ہے یا پھر کیس خارج ہوتا ہے،

    توہین عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے عمران خان سے تحریری جواب طلب کر لیا عدالت نے وکیل بابر اعوان اور فیصل چوہدری سے بھی تحریری جواب طلب کر لی، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں ،عدالت نےعمران خان کو پولیس، آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے وفاقی حکومت کی عمران خان کیخلاف عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی،

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سول نوعیت کی توہین عدالت سوموٹو یا متاثرہ فریق کی درخواست پر ہی ممکن ہے، 26 مئی کے فیصلے میں لکھا ہے درخواست غیرموثر ہوچکی ہے، حکومتی درخواست میں جس رول کا حوالہ دیا گیا وہ نظرثانی سے متعلق ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان نے دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے 26 مئی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کو اختلافی نوٹ نہیں پڑھا؟ حکومت کے پاس قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، عدالت صرف چاہتی تھی کوئی ظالمانہ اقدام نہ کیا جائے،قانون کے مطابق احتجاج سب کا حق ہے، حفاظتی اقدامات کرنا حکومت کا کام ہے وہ کرے،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • ریکوڈک کیس ،حکومت پاکستان 9 بلین ڈالرز کہاں سے ادا کرے گی؟ سپریم کورٹ

    ریکوڈک کیس ،حکومت پاکستان 9 بلین ڈالرز کہاں سے ادا کرے گی؟ سپریم کورٹ

    ریکوڈک کیس ،حکومت پاکستان 9 بلین ڈالرز کہاں سے ادا کرے گی؟ سپریم کورٹ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں ریکوڈک کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکوڈک کیس میں اب تک کے معاہدوں اور معاملات کی تفصیلات پیش کروں گا،حکومت بلوچستان نے 1993 میں چاغی ہل جوائنٹ وینچر معاہدہ کیا،2000 میں ٹیتھیان کاپر کمپنی نے 240 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، سونے کی کان کنی کے معاہدے کیخلاف 2006 میں بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواست آئی جو خارج ہوئی،سپریم کورٹ نے 2013 میں چاغی ہل جوائنٹ وینچر کو غیر قانونی قرار دیا، ٹیتھیان کاپر کمپنی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عالمی عدالتوں سے رجوع کیا،عالمی عدالتوں نے پاکستان پر جرمانہ عائد کیا جو 9 بلین ڈالرز سے زیادہ کا ہے،ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کو 25 فیصد، بیرک گولڈ کمپنی کو 50 فیصد شئیر ملے گا،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کو ریکوڈک معاہدے سے کیا شئیر ملے گا؟ بیرک گولڈ کمپنی کو 50 فیصد شئیر کیوں مل رہا ہے؟ ریکوڈک اصل میں ملکیت کس کی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو 25 فیصد شئیر مل رہا ہے جبکہ ان کی ادائیگی وفاقی حکومت کر رہی ہے،ریکوڈک معاہدے سے 104 بلین ڈالرز کا منافع آئے گا،وفاق اور حکومت بلوچستان کو ریکوڈک معاہدے سے 62 فیصد منافع ملے گا،ٹیتھیان کاپر کمپنی کو اتنی بڑی سرمایہ کاری کیلئے ٹھوس یقین دہانی چاہیے،اگر عدالت اجازت نہیں دیتی تو پاکستان کو 9 بلین ڈالرز ادا کرنا ہوں گے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان 9 بلین ڈالرز کہاں سے ادا کرے گی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے ہی پاکستان پی آئی اے کیس میں روزویلٹ ہوٹل بچا رہا ہے،اگر 9 بلین ڈالرز کی ادائیگی کرنا پڑی تو پاکستان میں کوئی بیرون ملک سے سرمایہ کاری نہیں ہو سکے گی،

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

    پاکستان کو 5.84 ارب ڈالرز کاجرمانہ،عالمی ادارے کا اعلامیہ،باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق ہوگئی

    افتخار چوہدری پاکستان کو لے ڈوبے،پاکستان کو 4.7 ارب ڈالرز کا جرمانہ کروا دیا

  • پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون 1947 سے ہے،سپریم کورٹ

    پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون 1947 سے ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ جنسی حراسگی سمیت ہمارے کئی قوانین میں خامیاں موجود ہیں، کیا عدالت بین الاقوامی کنونشنز کے مطابق قانون سازی کی ہدایت کر سکتی ہے؟ اگر عدالت ہدایات دے بھی تو پارلیمان کس حد تک انکی پابند ہوگی؟ وکیل عمران خان خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ عدالت کئی مقدمات میں پارلیمان کو ہدایات جاری کر چکی ہے، عدالت نے کئی قوانین کی تشریح بین الاقوامی کنونشنز کے تناظر میں کی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کنونشن میں نجی افراد کی کرپشن کا بھی تذکرہ ہے،نجی شخصیات میں کنسلٹنٹ، سپلائر اور ٹھیکیدار بھی ہوسکتے ہیں، نجی افراد اور کمپنیاں حکومت کو غلط رپورٹس بھی دے سکتی ہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پنجاب بنک کیس میں بھی نجی افراد پر 9 ارب کی کرپشن کا الزام تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی دوسرے ملک نے عالمی کنونشن کے مطابق کرپشن قانون بنایا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے کرپشن قانون کا جائزہ نہیں لیا،عالمی کنونشن میں درج جرائم پاکستانی قانون میں شامل تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے کرپشن کیخلاف عالمی کنونشن 2003 میں جاری کیا، مثبت چیز یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن کیخلاف قانون 1947 سے ہے، کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی گئی

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • عمران خان توہین عدالت کیس، قانون کے مطابق اپنا کام کریں، سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    عمران خان توہین عدالت کیس، قانون کے مطابق اپنا کام کریں، سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا
    سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائرتوہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے، جسٹس یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ میں شامل تھے

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ دھرنے کے دوران شہریوں کے حقوق متاثر ہوئے کارروائی میں بیان حلفی دیا گیا تھا کہ شہریوں کو پریشانی نہیں ہوگی،عدالت کا حکم ایک مخصوص جگہ تک تھا لیکن دھرنا ڈی چوک تک لایا گیا، جب مخصوص جگہ پر نہ گئے اور ڈی چوک کی طرف آئے تو مالی نقصان ہوا،عدالت ان کو سزا دے جنہوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،اٹارنی جنرل نے عدالت کا 25 مئی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ عبوری آرڈرز کس لیے دیں؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان تعلیمی اداروں میں طلبا اور عوام کو اکسا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عدالت ہیں،آپ کے مطابق عدالتی احکامات کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جاچکی ہے،آپ ایگزیکٹو اتھارٹی ہیں، اس وقت عدالتی احکامات پر انحصارکررہے تھے،موجودہ صورتحال میں آپ کو لبرٹی ہے کہ آپ روکنے کے لیے اقدامات کریں 25مئی واقعے میں 13 افراد زخمی ہوئے،پبلک پراپرٹی کو نقصان ہوا،کیس داخل نہ ہوا، دوسرے دن عمران خان صبح سویرے واپس چلے گئے،ہم اس معاملے میں رپور ٹس کا جائزہ لیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ اپنے آپ کو قانون کے مطابق کام کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں آزادکشمیر اور خیبرپختونخوا کی پولیس بھی داخل ہوئی تھی عدالت نے اٹارنی جنرل کو پولیس اور انتظامیہ کی جمع کردہ رپورٹس فراہم کردیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ خفیہ رپورٹس ہیں ان کا جائزہ لیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق 300کے قریب افراد ریڈ زون کی طرف داخل ہوئے تھے،بظاہرلگتا ہے کہ وہ مقامی لوگ تھے، اگراحتجاج کرنے والے ہوتے تو زیادہ ہوتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب صورتحال سامنے آئی تو ہم نے چھٹی والے دن عدالت لگائی،آپ کو اس صورتحال میں مضبوط دلائل دینے ہونگے،یہ صورتحال ایسی ہے جس میں سب کو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے ،جمہوریت لیڈر شپ کوالٹی پیدا کرتی ہے،ہم نے ہمیشہ قانون کی بات کی ہے، ہم پولیٹکل ایکٹرز نہیں اور نہ ہی سیاسی اقدامات لے سکتے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    نیب قانون میں ترامیم کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی ،پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی فائدہ ثابت کیے بغیر کسی فیصلے جو غلط نہیں کہا جا سکتا، بظاہر افسران کو عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ،وکیل نے کہا کہ ایسے فیصلہ سازوں سے ہی ماضی میں 8 ارب روپے سے زائد ریکوری ہوئی،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کیلئے پیسے پکڑنے والوں سے ریکوری ہوئی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے، وکیل نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر کارروائی نہ ہونا غلط ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر نیب ہاتھ نہیں ڈال سکتا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئی ترامیم کے بعد نیب قانون سے بچ نکلنے پر دوسرے میں پھنس جائے گا، آپ کے دلائل سے ایسا لگتا ہے احتساب صرف نیب کر سکتا ہے، احتساب کیلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم کسی دوسرے قانون میں نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم میں نجی افراد کو جرائم سے نکال دیا گیا ہے،آمدن سے زاہد اثاثہ جات پر اس وقت کارروائی ہوگی جب کرپشن ثابت ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے کہ ترامیم سے کئی جرائم کو ڈی کریمینلائز کردیا گیا ہے؟ ریمانڈ کتنا ہو ضمانت کیسے ہوگی ان ترامیم پر آپکا اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اچھی ترامیم ہیں ان پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت نیب قانون سے جرائم نکالے گئے،کیا ان جرائم کیخلاف دوسرے قوانین موجود ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم سے کونسے جرائم نکال دئیے گئے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کردیا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں آمدن سے زاہد اثاثہ جات کاجرم آج بھی موجود ہے، کیا عدالت اب قانون کے ڈیزائن کا جائزہ بھی لے گی؟ عدالت پارلیمنٹ کیساتھ چالاکی کو کیسے منسوب کر سکتی ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں درست ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائے جاتے، اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں، آمدن سے زاہد اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آکر کہیں کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے،جرم ثابت کرنے کا بوجھ کس پر اور کتنا ہوگا، یہ بحث عدالت نہیں پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے،

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • پرویز الہیٰ کا وفاقی حکومت کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    پرویز الہیٰ کا وفاقی حکومت کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    پرویز الہیٰ کا وفاقی حکومت کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان
    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے شاہکام چوک فلائی اوور منصوبے کا افتتاح کردیا

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ شاہکام چوک فلائی اوور سے شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی اور وقت کی بچت ہوگی شاہکام چوک فلائی اوور منصوبے پر 3 ارب 91 کروڑ روپے لاگت آئی ہے 3 رویہ 2 طرفہ فلائی اوور 606 میٹر طویل ہے۔ روزانہ ایک لاکھ 20 ہزار گاڑیوں کو آمد و رفت کیلئے سگنل فری کوریڈور کی سہولت میسر ہوگی۔ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 4 ارب 23 کروڑ روپے لگایا گیا۔ منصوبے میں 31 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بچت کی گئی ہے۔ علاقے ریسکیو1122 کا سنٹر اور پٹرولنگ پوسٹ بنائی جائے گی۔ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیوریج سسٹم کا پابند بنایا جائے گا۔
    خلاف وزری پر قانونی کارروائی ہو گی۔ وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے اس ضمن میں کمشنر لاہورڈویژن کو ہدایات جاری کر دیں وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی کو شاہکام چوک فلائی اوور منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،سینئر صوبائی وزیر میاں محمد اسلم اقبال، اراکین اسمبلی ملک کرامت علی کھوکھر، سرفراز حسین کھوکھر، ملک ظہیر عباس کھوکھر، سابق پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی جی ایم سکندر، کمشنر لاہور ڈویژن، سیکرٹری اطلاعات، ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے شاہکام چوک فلائی اوورمنصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف جب سے وزیراعظم بنے ہیں، وہ ہماری حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ ضمنی الیکشن کا رزلٹ سب کے سامنے ہے۔ ضمنی انتخابات کے رزلٹ سے شہباز شریف اوروفاقی حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں۔ (ن) لیگ اورپی ڈی ایم کو سمجھ نہیں آرہی کہ انہوں نے کرنا کیا ہے اورانشا ء اللہ انہیں سمجھ آئے گی بھی نہیں۔ ن لیگ خود بھی قبضہ گروپ ہے اور بندے بھی قبضہ گروپ کے رکھے ہوئے ہیں۔ (ن) لیگ گندم پر بھی سیاست کررہی ہے۔ سیاست اپنی جگہ لیکن شہباز شریف کی عوام سے دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ وفاقی حکومت نے پنجاب کے سوا تمام صوبوں کو گندم دی وفاق نے سندھ کو گندم دی، ہم نے اجازت مانگی لیکن پھر بھی پنجاب کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی وفاقی حکومت نہ خود گندم پنجاب کو دے رہی ہے اورنہ ہی ہمیں امپورٹ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ ن لیگ والے پنجاب سے کھلی دشمنی کررہے ہیں اوران حالات میں یہ کس منہ سے پنجاب کے عوام سے ووٹ مانگتے ہیں؟ ہم وفاقی حکومت کے رویے کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف نے دیگر فلاحی منصوبوں سمیت المبارک سینٹر کو بھی بند کر دیا۔ المبارک سینٹر میں فائیو سٹار ہوٹل اور چھت پر فٹ بال گراؤنڈ جتنا بڑا فوڈ کورٹ بنایا جائے گا۔ المبارک سینٹر کو ٹنل کے ذریعے قذافی سٹیڈیم سے منسلک کرکے ٹریفک مسائل کا خاتمہ کریں گے۔ المبارک سینٹر کے ساتھ 7 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کی سہولت بھی ہوگی۔ شاہکام چوک سے ملحقہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں امن و امان یقینی بنانے کیلئے پٹرولنگ پوسٹ اور ریسکیو 1122 سینٹر بنائیں گے۔چ پٹرولنگ پوسٹ اورریسکیو1122 سینٹر بنانے کے پیسے ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان سے لیں گے۔ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سیوریج نہیں ڈالتیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز اشتہار دینے سے قبل اپنی سکیموں میں سیوریج،سڑکیں اوردیگر ضروری سہولتیں کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو نوٹسز بھیجے جائیں گے کہ و ہ تعمیرات سے قبل سیوریج اوردیگر سہولتیں فراہم کریں۔ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو اس ضمن میں ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں۔چ تعمیر ات سے پہلے ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سیوریج اور سڑکیں ضروری ہیں۔ ابھی ہم سوسائٹیز مالکان کو وقت دے رہے ہیں، اس کے بعد کارروائی کریں گے۔ جو سوسائٹیزعمل نہیں کریں گی ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
    سوسائٹیز والے جن سے پیسے کما رہے ہیں،انہیں سہولتیں بھی دیں۔عام آدمی کی سہولت کیلئے اراضی ٹرانسفر فیس میں سو فیصد کمی کر دی ہے۔ٹرانسفر فیس میں کمی سے پراپرٹی کے کاروبار میں بہتری آرہی ہے عمران خان کے ویژن کے مطابق روڈا اور سی بی ڈی کے پراجیکٹس پر کام شروع ہے۔بے ہنگم ٹریفک اور بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے لاہور کا ماسٹر پلان منظورکر لیا ہے۔چلاہور میں گرین اور تعمیرات کیلئے براؤن ایریا کو مخصوص کردیا ہے۔شاہکام چوک فلائی اوورمنصوبے میں 31کروڑ روپے کی بچت کی گئی،جس پر میں ڈی جی ایل ڈی اے اوران کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔لاہورشہر کے اندر انڈر گراؤنڈسفر کی سہولت کاپراجیکٹ لیکر آئیں گے۔ یہ پراجیکٹ لاہورکے شہریوں کیلئے بہت بڑا تحفہ ہوگا۔میرے گزشتہ دور میں انڈرگراؤنڈ پراجیکٹ پر کام شروع ہوالیکن شہبازشریف نے اسے بھی روک دیا۔

    تقریب سے سینئر صوبائی وزیر میاں محمد اسلم اقبال نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ن لیگ نے میوہسپتال میں سرجیکل ٹاور، جناح ہسپتال میں برن یونٹ، وزیر آباد میں دل کے ہسپتال جیسے عظیم فلاحی منصوبوں کو روک کر عوام سے دشمنی کی۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کے سابق دور میں لاہور میں پلان کیے گئے ریل کے زیر زمین منصوبے کو تر ک کرکے میٹرو بس اور اورنج لائن جیسے مہنگے منصوبے اور کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کرکے شہر کاحلیہ بگاڑ دیا گیا۔دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت نے ہیلتھ کارڈ جیسے انقلابی پروگرام شروع کیے ہیں اور اس منصوبے سے پنجاب کے 12کروڑ عوام کو علاج کی جدید سہولت مفت دی ہے۔

    سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہکام فلائی اوور حکومت کا شاندار منصوبہ ہے جس سے لاہور کی 20کالونیوں کے رہائشیوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق پنجاب میں عام آدمی کی فلاح کے منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ زرداریوں اور شریفوں نے ملک کا ستیاناس کیا۔ان کی کرپشن کی کہانیاں دنیا بھر میں مشہور ہوچکی ہیں۔عمران خان کا بیانیہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ مرکز میں قابض چوروں اور لٹیروں سے پاکستان واپس لیکر انہیں دیں گے جن کا حق ہے اور جنہوں نے ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے قربانیاں دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ تین چار ماہ سے انصاف کا قتل عام ہورہا ہے۔ غریب اور امیر کے لئے انصاف کے پیمانے الگ الگ ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جدوجہد دو نہیں ایک پاکستان کے لئے ہے

  • کے ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیرقانونی خریدو فروخت.سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    کے ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیرقانونی خریدو فروخت.سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    کے ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیرقانونی خریدو فروخت.سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ، کے ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی خریدوفروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سابق ضلعی ناظم مصطفیٰ کمال و دیگر ملزمان کی ضمانت کیخلاف نیب اپیل جزوی طور پر منظور کر لی گئی،سپریم کورٹ نے کے ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی خریدو فروخت کا معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ میں ضمانت قبل از وقت درخواست پر فیصلے تک ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے ڈی اے نے ہاکرز کو 198 پلاٹ دئیے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہاکرز کو الاٹ کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہیں ہو سکتے تھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پلاٹ کو 198 پلاٹس میں تقسیم کرکے اسمال ٹریڈرز کو کاروبار کی سہولت دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پراپرٹی کسی کو فروخت نہیں ہو سکتی تھی،

    نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں نیب نے کہا کہ ملزم سرکاری پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہیں، ملزموں نے قومی خزانے کو ڈھائی ارب سے زائد کا نقصان پہنچایا، مصطفیٰ کمال ودیگرپرساحل سمندر پر 5500مربع گززمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کاالزام ہے ،مصطفیٰ کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کرنےکی غیرقانونی اجازت دی

    شادی ہال کھولے، نائٹ کلب بھی کھول لیں، سپریم کورٹ سول ایوی ایشن پر برہم،بڑا حکم دے دیا

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    حکومت نے پائلٹس لائسنس معاملے کو متنازعہ بنا کر پی آئی اے کو "کریش” کردیا۔ شیری رحمان

    سول ایوی ایشن انتہائی بد حال محکمہ،جعلی ڈگری پر لوگ نوکری بھی پوری کر گئے، چیف جسٹس برہم

    سول ایوی ایشن میں جنسی ہراساں کیس،کاروائی کی بجائے ترقی دے دی گئی

    سول ایوی ایشن کی کارکردگی صفر.کیا شادیاں کروانا شروع کر دیں؟ چیف جسٹس پھٹ پڑے

  • آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،تحریری فیصلہ جاری

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا فیصلہ جاری کر دیا

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ منحرف رکن کا پارٹی ہدایات کیخلاف ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا،آئین میں پارٹی ہدایات کیلئے پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے، پارٹی ہیڈ کا نہیں، ووٹ ڈالتے وقت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہو گا، پارٹی ہدایت کیخلاف ووٹ ڈالنا پارلیمانی جمہوری نظام کیلئے تباہ کن ہے،ارکان کا منحرف ہونا سیاسی جماعتوں کی سالمیت اور ہم آہنگی پر حملہ ہے، منحرف رکن کی نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کرے، جسٹس مظہر عالم اور جسٹس مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا

    فیصلے میں کہا گیا کہ ارکان اسمبلی کے اظہارِ رائے کے حق کو وکلا محاذ کیس میں بھی تحفظ دیا گیا ہے،ارکان اسمبلی ووٹ کے معاملے پر پارٹی کے اندر بحث، اتفاق یا عدم اتفاق کر سکتے ہیں، ووٹ ڈالتے وقت آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگ اتمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں دیے گئے حقوق برابر ہیں،تمام سیاسی جماعتیں آئین کی نظر میں برابر ہیں،چھوٹی جماعتوں کو بھی کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنایا تھا،،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہوسکتا ،فیصلہ 2-3 کی نسبت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منخرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے،ریفرنس کا چوتھا سوال بغیر جواب کے واپس کرتے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی،چیف جسٹس

    عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی،چیف جسٹس

    عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سیلاب متاثرین کو سہولیات دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات مانگ لیں،عدالت نے پی ڈی ایم اے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے بھی جواب طلب کر لیا سندھ حکومت نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب انتظامی اختیارات کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے، سندھ ہائیکورٹ نے عوامی مفاد میں احکامات جاری کیے تھے، ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے شہری کمیٹیاں تشکیل دی گئیں،

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی، سندھ حکومت نے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ عوام کیلئے کام ہو رہا ہے،وکیل نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جواب کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ سکھر اور دادو بینچ نے سیلاب متاثرین کی مدد بحالی کے کام کی نگرانی کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جسے سندھ حکومت نے عبوری حکم پر سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ والدین بے دھیانی میں 5 سالہ بچے کوغلط سکول میں اتار کر روانہ ہو گئے
    آرمی چیف کی امریکی سیکریٹری دفاع،مشیر برائے قومی سلامتی اور ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ سے ملاقات
    مریم نواز آج لندن روانہ
    بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی،قائم مقام وائس چانسلرکو عدالت نے دوبارہ ہٹا دیا
    امریکا کا یوکرین کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا نیا پیکج مہیا کرنے کا اعلان
    آرمی چیف کی امریکی سیکریٹری دفاع،مشیر برائے قومی سلامتی اور ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ سے ملاقات
    ڈوبنے والے مزدور کو بچانے کی کوشش ،باپ، دو بیٹوں سمیت چار افراد جاں بحق