Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں،سپریم کورٹ

    وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں۔

    سپریم کورٹ میں او جی ڈیل سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے سابق وزیر کی نظر ثانی درخواست پر وکلاء کو تیاری کرنے کی ہدایت کی،سپریم کورٹ نے کہا کہ تقرری کیلئے اشتہار دیا جاتا ہے، بادشاہ تو نہیں کہ بس آرڈر کر دیا اس موقع پر نیب کے وکیل نے کہا کہ وزیر کے پرنسپل اسٹاف آفیسر نے لکھا کہ نوکریوں کیلئے پارلیمنٹ کا دباؤ ہے۔

    عدالت نے کہا کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں گنجائش سے زیادہ بھرتیاں ہیں، پی آئی اے کا انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ساتھ موازنہ کریں ناں، نیب کے وکیل نے کہا کہ پی آئی اے میں زیادہ بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ جس وقت بھرتیاں کی گئیں اس وقت احتساب کمیشن کا قانون نہیں تھا، متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں،سزا کا ایک داغ تو ہے، کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کی۔

  • نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کیلئے ملازمت کا کیس، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کیلئے ملازمت کا کیس، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔

    منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے،دی اکانومسٹ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے، متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔

    ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی نے پاکستان کے دورے کا دلچسپ تجربہ شیئر کردیا

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا  عدالتی اصلاحات کا اعلان

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا عدالتی اصلاحات کا اعلان

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ سال 2026 میں عوام کو بہتر اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے بامقصد اصلاحات پر عمل کرے گی –

    نئے سال کے موقعے پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں چیف جسٹس نے عوام، عدلیہ کے اراکین اور قانونی برادری کو نئے سال کی مبارکباد دی، کہا کہ آئندہ سال عدلیہ ایسی اصلاحات پر کام کرے گی جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ انصاف کی خدمت میں استعمال کیا جائے گا-

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ ان کوششوں کی بنیاد ایسے نتائج پر ہوگی جو عوام کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، جن میں بروقت فیصلے، قابلِ فہم عدالتی طریقۂ کار اور ایک ایسا عدالتی نظام شامل ہے جو عوام دوست اور انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہو عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے، اور یہ انصاف بلا تاخیر، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہونا چاہیے۔

    سال 2026 ے آغاز کے ساتھ ہی یو اے ای میں کئی پالیسیوں میں تبدیلی

    ان کے مطابق یہ ذمہ داری اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب عام شہری امید، اعتماد اور کمزوری کے احساس کے ساتھ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں،چیف جسٹس نے زور دیا کہ نیا سال عدلیہ کے لیے غور و فکر، اصلاح اور انصاف کے ایسے نظام سے وابستگی کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے جس کے مرکز میں شہری ہو،انصاف صرف اصولی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر قابلِ رسائی ہونا چاہیے، طریقۂ کار میں باوقار اور نتائج کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی منصفانہ ہونا چاہیے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی نظام خواتین، بچوں، محروم طبقات اور دور دراز و پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی ضروریات کے لیے حساس اور جواب دہ ہونا چاہیےچیف جسٹس نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دیانت داری کے ذریعے عدلیہ عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے گی اور آئین میں درج اقدار کی پاسداری جاری رکھے گی۔

    ہونڈا سوک کے نئے ماڈلز کی تعارفی قیمتوں کا اعلان ہو گیا

    انہوں نے ہر شہری کی منصفانہ، آزاد اور ہمدردانہ خدمت کے لیے عدلیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیا سال قانون کی حکمرانی پر اعتماد اور ایسا عدالتی نظام لے کر آئے گا جو حقیقی معنوں میں ہر فرد تک پہنچ سکے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات اور اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحٰق خان نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں،درخواستوں میں ججوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انتظامی اختیارات کو ہائی کورٹ کے ججوں کے عدالتی اختیارات کو کمزور کرنے یا ان پر غالب آنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،چیف جسٹس ہائی کورٹ اس وقت جب کسی بینچ کو مقدمہ دیا جا چکا ہو، نئے بینچ تشکیل دینے یا مقدمات منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

    درخواستوں میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اپنی مرضی سے دستیاب ججوں کو فہرست سے خارج نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس اختیار کو ججوں کو عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے،بینچوں کی تشکیل، مقدمات کی منتقلی اور فہرست جاری کرنا صرف ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی منظوری سے بنائے گئے قواعد کے مطابق کیا جا سکتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 202 اور 192(1) کے تحت اختیار کیے گئے ہیں۔

    گوجرانوالہ: اساتذہ میں ٹیبلٹس، طلبہ میں تعلیمی سامان تقسیم

    درخواست گزاروں نے مزیدکہا کہ بینچوں کی تشکیل، روسٹر ہائی کورٹ رولز اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ سازی صرف چیف جسٹس کے اختیار میں نہیں ہو سکتی اور ماسٹر آف دی روسٹر کے اصول کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ختم کر دیا گیا ہے، 3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں اور ان کے اقدامات قانونی بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔

    عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان نوٹی فکیشنز اور کمیٹیوں کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے،غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی انتظامی کمیٹی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری اور ہائی کورٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا آئین کے آرٹیکل 192(1) اور 202 کی خلاف ورزی ہے، اور ستمبر میں اس کی توثیق بھی غیر قانونی اور بے اثر ہےسپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دے کہ وہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پر مؤثر نگرانی اور نگران عمل کرے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 203 میں درج ہے، تاکہ ہر ہائی کورٹ اپنے ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور کنٹرول کر سکے۔

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ ہائی کورٹ اپنے لیے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کوئی رٹ جاری نہیں کر سکتی، آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ نہ تو کسی سنگل بینچ کے عبوری فیصلوں پر اپیل کے لیے اختیار رکھتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سنگل بینچ کے کارروائیوں پر ایسا کنٹرول اختیار کر سکتا ہے جیسے وہ کوئی زیریں عدالت یا ٹریبونل ہو،عبوری حکم سے مراد ایک جاری مقدمے میں دیا گیا عارضی فیصلہ ہے۔

    درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کوصرف آرٹیکل 209 کے تحت عدالتی کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور کسی جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رٹِ قو وارانٹو دائر کرنا درست نہیں ہےآرٹیکل 209 آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی صلاحیت اور رویے کی تحقیقات کرنے کا اختیار دیتا ہے،درخواست گزاروں نےسپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اس کیس کے حالات کے مطابق کوئی اور ریلیف بھی دے جو مناسب سمجھا جائے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

  • سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور ججز کے سیکیورٹی پروٹوکولز میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور ججز کے سیکیورٹی پروٹوکولز میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    سپریم کورٹ نے چیف جسٹس، حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز کے سیکیورٹی پروٹوکولز میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔

    عدالت عظمیٰ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کو فراہم کی جانے والی سرکاری گاڑیوں کی تعداد آٹھ سے کم کرکے دو کر دی گئی ہے، جبکہ اضافی سیکیورٹی اہلکاروں کو معمول کی پولیسنگ ڈیوٹی پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ حاضر سروس ججز کی سیکیورٹی کو قواعد و ضوابط کے مطابق ریگولیٹ کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی اہلکاروں کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ریٹائرڈ ججز کے حوالے سے وضاحت کی گئی کہ انہیں صدارتی حکم نامے اور قوانین کے تحت تاحیات سیکیورٹی حاصل ہے، بالخصوص ان ججز کو جنہوں نے حساس ذمہ داریاں سرانجام دی ہیں یا جنہیں سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وزارت داخلہ اور تمام صوبائی ادارے نئے سیکیورٹی پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو انصاف کی فراہمی کے سفر میں کئی چیلنجز درپیش ہیں، اور اس فیصلے کا مقصد سیکیورٹی وسائل کا بہتر اور شفاف استعمال ہے تاکہ اضافی نفری کو عوامی خدمت اور امن و امان قائم رکھنے میں بروئے کار لایا جا سکے۔

    کے ایم سی نے کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے ٹیکس میں اضافہ کر دیا

    ایشیا کپ 2025: پاک بھارت میچ سے قبل دبئی پولیس کی سخت سکیورٹی ہدایات

  • سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق مراسلے پر وضاحت جاری

    سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق مراسلے پر وضاحت جاری

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق جاری مراسلے پر وضاحتی بیان دیاہے-

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان سمیت تمام ججز کی سیکیورٹی کو ریگولیٹ کیا گیا ہے، جبکہ چیف جسٹس کے پروٹوکول میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد 8 سے کم کرکے 2 کر دی گئی ہے،دیگر ججوں کے لیے حفاظتی نظام کو بھی مناسب انداز میں منظم کیا گیا ہے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی بھی مروجہ قوانین، سیکیورٹی پروٹوکولز اور ان کے استحقاق کے مطابق ریگولیٹ کی گئی ہے۔

    ترجمان نے واضح کیاکہ صدارتی حکم کے مطابق ریٹائرڈ ججز کو تاحیات سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں حساس ڈیوٹی انجام دے چکے ہوتے ہیں اور انہیں مسلسل سیکیورٹی خدشات لاحق رہتے ہیں انہی خدشات کے پیش نظر سرکلر جاری کیا گیا تاکہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو عملی شکل دی جا سکے، یہ سیکیورٹی کسی غیر معمولی فائدے، اضافی رعایت یا مراعات کا حصہ نہیں ہے، سرکلر اس لیے جاری کیا گیا تاکہ ضرورت سے زیادہ فورس تعینات نہ ہو اور سپریم کورٹ، وزارت داخلہ اور صوبائی حکام کے درمیان بہتر ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔

    سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا فیصلہ جاری

    نیٹوممالک روس سے تیل خریدنا بند کر دیں، امریکی صدر

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

  • جج سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے قتل کا ملزم سپریم کورٹ سے بری

    جج سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے قتل کا ملزم سپریم کورٹ سے بری

    سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کے بیٹے کے قتل کے ملزمان کی بریت کا فیصلہ جاری کردیا-

    عدالت نے سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم سکندر لاشاری اور شریک ملزم عرفان عرف فہیم کو بری کردیا سپریم کورٹ نے اس حوالے سے مختصر فیصلہ جاری کیا ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی،سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا۔

    مختصر فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ تحریر کیا ہے جس میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔ عدالت نے ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن پر ملزمان کر بری کرنے کا فیصلہ دیا۔

    واضح رہے کہ ملزم سکندر لاشاری کو سزائے موت اور ملزم عرفان عرف فہیم کو ٹرائل کورٹ نے 25 سال کی سزا سنائی تھی سندھ ہائیکورٹ کے جج خالد شاہانی کے بیٹے حنین طارق کو 2014 میں قتل کیا گیا تھا۔

  • بیوی کا حق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں، سپریم کورٹ

    بیوی کا حق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں، سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا ہےکہ بیوی کاحق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سےمشروط نہیں اور نہ ہی یہ شوہر کی صوابدید ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے بیوی کے نان نفقہ سے متعلق کیس کا 15 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے لاہورہائیکورٹ کےفیصلے میں استعمال زبان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بیوی کا حق نان نفقہ نکاح کے لیے ہاں کے ساتھ کامل ہو جاتا ہے، رخصتی کا انتظار اس حق کو تقویت دیتا ہے، ازدواجی تعلقات سے مشروط کرنا اس حق کو متاثر اور شوہروں کو مالی ذمہ داری سے بچنے کا موقع دیتا ہےذ،ؤ23عدالتوں نے ہمیشہ قرار دیا کہ بیوی کا نان نفقہ کے حق نکاح کے فوری بعد شروع ہو جاتا ہے، شوہر کو نان نفقہ سے اسی صورت مبرا قرار ہوسکتا ہے کہ ثابت کرے کہ بیوی کو بلاجواز دور رکھا گیا۔

    ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے پاکستان کو نگرانی کی فہرست سے نکال دیا

    تحریری حکمنامے میں ڈویژن بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں استعمال زبان پر بھی تشویش کا اظہار کیا، ایسی زبان استعمال کریں جو خواتین کی برابر قانونی حیثیت کی توثیق پر مبنی ہو، فیصلے دقیانوسی سوچ سے گریز اور رواداری کے فروغ پر مبنی ہونے چاہئیں۔

    سیالکوٹ:15 ستمبر سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی.ڈپٹی کمشنر

  • موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور اہداف طے کرے،چیف جسٹس پاکستان

    موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور اہداف طے کرے،چیف جسٹس پاکستان

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں سالانہ چھٹیوں کے بعد نئے عدالتی سال کے موقع پر جوڈیشل کانفرنس منعقد ہوئی۔

    کانفرنس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران نے شرکت کی،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا تھا جبکہ 2004 سے اسے باقاعدگی سے منایا جا رہا ہےیہ موقع ہے کہ عدلیہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لے اور آنے والے سال کے اہداف طے کرے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی اور 5 نکات پر مبنی اصلاحاتی عمل شروع کیا گیا، سپریم کورٹ میں ڈیجیٹل فائلنگ اور ای سروسز کا آغاز ہو چکا ہے نظامِ انصاف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہونا چاہیے لیکن ہم فی الحال اس کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں، ہزار فائلیں ڈیجیٹلی اسکین کی جائیں گی اور یہ پراجیکٹ 6 ماہ میں مکمل ہوگا مقدمات کی فہرست بندی (فکسنگ) مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کی جائے گی اور ڈیجیٹل اسکین پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد عدالت میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال شروع ہوگا،شفافیت کے لیے اندرونی آڈٹ کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔

  • سپریم کورٹ میں کل سے نئے عدالتی سال کا آغاز

    سپریم کورٹ میں کل سے نئے عدالتی سال کا آغاز

    سپریم کورٹ میں سالانہ عدالتی چھٹیاں ختم ہوگئی ہیں جس کے بعد کل سے نئے عدالتی سال کا آغاز ہو گا۔

    8 ستمبر کو صبح ساڑھے 9 بجے نئے عدالتی سال کے حوالے سے جوڈیشل کانفرنس منعقد کی جائے گی جس سے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی خطاب کریں گے،اس کے بعد ساڑھے 10 بجے چیف جسٹس فیسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کریں گے جبکہ ساڑھے 11 بجے سے دوپہر ایک بجے تک سپر ٹیکس سے متعلق مقدمے کی سماعت ہو گی،یہ سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ کرے گا۔

    آئینی بینچ کے سامنے سپر ٹیکس سے متعلق 1250 درخواستیں مقرر ہیں،اسی دن ایک بجے انتظامی نوعیت کا فل کورٹ اجلاس بھی ہو گا جس کی صدارت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کریں گے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ رولز 2025 کے حوالے سے سپریم کورٹ بار کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

    صدر نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 کی منظوری دیدی

    جاپانی وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا اعلان

    پاک فضائیہ مکمل یکسوئی سے اپنے مشن کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہے،سربراہ پاک فضائیہ