Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • کوئی رکن غیر حاضر ہو تو  جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ،وزرات قانون

    کوئی رکن غیر حاضر ہو تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ،وزرات قانون

    26ویں آئینی ترمیم سے متعلق وزارت قانون کی وضاحت سامنے آئی ہے

    وزارت قانون کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن 13اراکین پر مشتمل ہوگا،کمیشن کے پہلے اجلاس میں آئینی بینچوں کی تشکیل کیلئے ججز کو نامزدکیا جائے گا،آئینی بینچوں کا سربراہ نامزد ججز میں سے سینئر ترین جج ہوگا،آئینی بینچوں کاسینئر ترین جج کمیشن کارکن ہوگا،کمیشن کاکوئی فیصلہ اس بنیاد پر باطل نہیں ہوگا کہ کوئی آسامی خالی یا رکن غیر حاضر ہو،وزارت قانون کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹس میں آئینی بینچوں کی تشکیل آرٹیکل 202 اے کے تحت کمیشن کی جانب سے کی جائے گی،تاہم ایسی تشکیل اس وقت تک مؤثر ہو گی جب پارلیمنٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ کی نسبت اور صوبائی اسمبلیاں اپنی متعلقہ ہائیکورٹس کی نسبت قرارداد کل رکنیت کی اکثریت سے منظور کرے،لہذا ہائیکورٹس میں آئینی بینچوں کی تشکیل سے پہلے،متعلہ ہائیکورٹس کے پاس ویسے ہی مقدمات کی سماعت کا دائرہ اختیار ہےجیسا کی مذکورہ ترمیم سے پہلے تھا،

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ ،خیبرپختونخوامیں شیشم کے درخت کاٹنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اخبار میں تھا نئی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق کوئی شق شامل کی گئی ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا ہر شہری صحت مندانہ ماحول کا حقدار ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ کی شق شامل کرنا قابل تعریف ہے،پاکستان کے آئین میں بھی ماحولیات کے تحفظ کا ذکر اب موجود ہے، سائنسی طور پر بھی ثابت ہے قوموں کی اچھی صحت اچھے ماحول پر منحصر ہے، اسلام نے بھی صاف ستھرے ماحول کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ماحولیاتی آلودگی کے سبب کئی شہروں میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اور لا افسر کیوں نہیں آتا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے جواب دیا کہ اب آگے باقی لا افسران بھی آیا کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ آپکے اس جملے میں کہیں کوئی مطلب تو نہیں چھپا ہوا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معزز جیسے الفاظ آئینی اداروں کیلئے استعمال نہ کیا کریں، آئینی اداروں کیلئے وہی الفاظ استعمال ہونے چاہیئں جو آئین میں لکھے ہوئے ہیں،بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، ایسا نہیں ہے ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا،عدالت نے خیبرپختوامیں جنگلات کے تحفظ سے متعلق کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری،پارلیمنٹیرین پر دباؤ کا معاملہ،سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست افرسیاب خٹک نے دائر کر دی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، 26ویں آئینی ترمیم میں ارکان اسمبلی نے ووٹ رضا کارانہ طور پر ڈالا یا دباؤ کے تحت انکوائری کی جائے،سپریم کورٹ معاملے کے خود انکوائری کرے یا جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے ارکان پر دباؤ کے معاملے کی انکوائری کروائے، 26ویں آئینی ترمیم درست طریقے سے منظور نہیں کی گئی،ارکان اسمبلی کے انتخابی تنازعات الیکشن ٹریبونل میں زیر التوا ہیں،26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دے کر خارج کیا جائے، عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادہ ڈھانچہ ہے،ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ ، چیف جسٹس کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی، اور آئینی بینچوں کا قیام عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر آئینی بینچز سماعت نہیں کر سکتے، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں ن لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک اور خط لکھ کر ایک بار پھر مخصوص بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کی ہے

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو نیا خط 23 اکتوبر کو لکھا، خط چیف جسٹس کو بطور سربراہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی لکھا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھے گئے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مخصوص بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا پہلے بھی لکھا تھا ترمیمی آرڈیننس پر فل کورٹ بیٹھنے تک خصوصی بینچز کا حصہ نہیں بنوں گا،جسٹس منصورعلی شاہ کے خط میں سر تھامس مورے کا قول بھی لکھا گیا ہے، سر تھامس مورکہتےہیں جب سیاستدان اپنے عوامی فرائض کی خاطر اپنے ذاتی ضمیر کو ترک کر دیتے ہیں تو وہ اپنے ملک کی تباہی کی جانب مختصر راستے پر رہنمائی کرتے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ ہم اقتدار میں رہتے ہوئے اکثر بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کے لوگ ہمارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں، تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، آئینی بنچز کو مقدمات کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے

    عدالت نے اسلام آباد میں شُفہ سے متعلق مقدمہ آئینی بنچ کو بھجوا دیا ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تو آئینی شقوں کی تشریح کرنا ہوگی،یہ مقدمہ تو اب آئینی بنچ کو منتقل ہونا چاہیے، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہونا یہی چاہیے، نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،آفس کو ہدایت کی ہے جن مقدمات میں کوئی قانون چیلنج ہوا ہے انکی الگ کیٹیگری بنائی جائے، جن مقدمات میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہوئی وہ ساتھ ساتھ منتقل کرتے رہیں گے،

    نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ کے مختلف بنچز نے گزشتہ روز بھی مقدمات آئینی بنچ کو منتقل کیے تھے

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری کر دی گئی ہے، دیکھتے ہیں اب سینئر ججز کام کرتے ہیں یا مستعفی ہوں گے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس پاکستان تقرری کر دی گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے.اب سوال یہ ہے کہ وہ سینئر ججز جن کو بائی پاس کیا گیا، کیا وہ استعفیٰ دیں گے،جیسا کہ مسلح افواج میں روایت ہے ،یا وہ سینئر ججز سپریم کورٹ میں اب کسی جونیئر کے ماتحت کام کرتے رہیں گے،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے لیے روز آنا اور کسی جونیئر سے آرڈر وصول کرنا بہت مشکل ہے۔ میں صرف متجسس ہوں کہ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تقرر کر دیا گیا ہے، وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،

    پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے ناموں پر بطور چیف جسٹس غورکیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر ،دونوں ججز جسٹس یحییٰ آفریدی سے سینئر ہیں تا ہم پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر بطور چیف جسٹس اتفاق کیا.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ملاقات

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

  • نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا

    بائیس صفحات پر مشتمل اضافہ نوٹ جاری کر دیا گیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ فیصلے سے متفق ہوں لیکن وجوہات کی توثیق پر خود کو قائل نہیں کر سکا، اکثریتی فیصلے میں اصل مدعے پر خاطر خواہ جواز فراہم نہیں کیا گیا، فیصلے میں سابق ججز کے حوالے سے غیر مناسب ریمارکس دیے گئے، عدالتی وقار کا تقاضا ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جائے،تنقید کا محور فیصلے کے قانونی اصول ہوں نا کہ فیصلہ لکھنے والوں کی تضحیک کی جائے، تہذیب و عدالتی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کی اپنی الگ وجوہات تحریر کر رہا ہوں،

    واضح رہے کہ 6 ستمبر کو نیب ترامیم بارےسپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا تھا سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لی تھیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری کو پاکستان کی مختلف بار کونسلز نے خوش آئند قرار دے دیا

    سندھ، لاہور، خیبر پختونخوا، بہاولپور اور اسلام آباد بار کونسلز نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان نامزدگی کا خیر مقدم کیا،بار کونسلز نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس نامزد ہونے پر مبارکباد دی اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا،لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی خوش آئند ہے،انکی نامزدگی سے انصاف کی فراہمی کی توقع ہے،اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتی ہے،ملکی مفاد کے لئے جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی اہم قدم ہے،لائق تحسین ہے.

    خیبر پختونخوا بار کے وائس چیئرمین صادق علی اور دیگر کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری احسن قدم ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک طویل عرصے کے لئے خیبر پختونخوا کے کسی جج کو چیف جسٹس تقرر کیا گیا،خیبر پختونخوا بار انصاف کی فراہمی، قانون کی بالا دستی کے لئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی.

    واضح رہے کہ وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی ہے،صدر مملکت نے تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔

  • سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ، برطرف ملازمین کی بحالی درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج دی گئیں

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پر سکون زندگی ہر شہری کا آئینی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں آئینی سوال ہے،26 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا آئینی کیسز آئینی بنچز سنیں گے، اعلیٰ بنچز بنیں گے وہی تعین کریں گے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ کیس اہم آئینی بنچ ہی سنے گا، 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں آئینی سوال کے کیسز آئینی بنچز سنیں گے،درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج رہے ہیں،

    وزارت پٹرولیم نیچرل ریسورس کے سات ملازمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: مخصوص نشستوں کے کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اقلیتی فیصلے میں اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصلے میں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض ہے، توقع ہے کہ اکثریتی ججز اپنی غلطیوں پرغور کرکے انہیں درست کریں گے پاکستان کا آئین تحریری ہے اور آسان زبان میں ہے، امید کرتا ہوں اکثریتی ججز اپنی غلطیوں کی تصیح کریں گے، بردار ججز یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا نظام آئین کے تحت چلے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اکثریتی مختصر فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوسکی،میرے ساتھی ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے اس کے خلاف ووٹ دیا ، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی فیصلہ دینے والے اپنی غلطیوں کا تدا ر ک کریں گے، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی ججز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کے مطابق پاکستان کو چلائیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس منیب اختر میری رائے کے خلاف گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکثریتی ججز کی رائے پر بھی سوالات اٹھائے، چیف جسٹس نے لکھا کہ آٹھ اکثریتی ججز کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، آٹھ اکثریتی ججز نے مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلیں نمٹائی نہیں، جب اپیلیں نمٹائی نہیں گئیں تو کیس زیرِ التوا سمجھا جائے گا، آٹھ ججز نے اپیلیں زیرالتوا رکھ کر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کونئی درخواستیں دائرکرنے کا کہا، حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس لیے اکثریتی فیصلے پرعملدرآمد نہ کرنے سے توہین عدالت نہیں لگے گی۔

    چیف جسٹس نے لکھا کہ اکثریتی ججز نے وضاحت کی درخواستوں کی گنجائش باقی رکھی، کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا اس پر عمل درآمد ضروری نہیں، آٹھ ججز نے چیف جسٹس سمیت دیگر بنچ کے ممبران کو آگاہ کیے بغیر وضاحت جاری کی، چیف جسٹس پاکستان کی اجا زت کےبغیر وضاحت ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی،نہیں معلوم پی ٹی آئی اورالیکشن کمیشن کی وضاحتی درخواستوں پر سماعت کہاں ہوئی، اکثریتی ججزمیں سے متعدد دستیاب نہیں تھے تو چیمبر میں سماعت کیسے ہوئی، ججز کی عدم دستیابی کے باوجود وضاحتی فیصلہ جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا13 رکنی فل کورٹ بینچ کے 5-8 کی اکثریت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتی نشستوں کی حقدار ہے، انتخابی نشان نہ ملنے سے کسی سیاسی جماعت کا انتخابات میں حصہ لینے کا حق ختم نہیں ہوتا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی 15 دن میں مخصوص نشستوں کیلئے اپنی فہرست جمع کرائے، 80 میں سے 39 ایم این ایز پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کر چکے ہیں، باقی 41 ارکان 15 دن میں پارٹی وابستگی کا حلف نامہ دیں،سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ن لیگ اور ارکان اسمبلی نے نظرثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، بعدازاں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے 2 بار اپنے فیصلے کی وضاحت جاری کی۔