Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، آئینی بنچز کو مقدمات کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے

    عدالت نے اسلام آباد میں شُفہ سے متعلق مقدمہ آئینی بنچ کو بھجوا دیا ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تو آئینی شقوں کی تشریح کرنا ہوگی،یہ مقدمہ تو اب آئینی بنچ کو منتقل ہونا چاہیے، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہونا یہی چاہیے، نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،آفس کو ہدایت کی ہے جن مقدمات میں کوئی قانون چیلنج ہوا ہے انکی الگ کیٹیگری بنائی جائے، جن مقدمات میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہوئی وہ ساتھ ساتھ منتقل کرتے رہیں گے،

    نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ کے مختلف بنچز نے گزشتہ روز بھی مقدمات آئینی بنچ کو منتقل کیے تھے

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری کر دی گئی ہے، دیکھتے ہیں اب سینئر ججز کام کرتے ہیں یا مستعفی ہوں گے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس پاکستان تقرری کر دی گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے.اب سوال یہ ہے کہ وہ سینئر ججز جن کو بائی پاس کیا گیا، کیا وہ استعفیٰ دیں گے،جیسا کہ مسلح افواج میں روایت ہے ،یا وہ سینئر ججز سپریم کورٹ میں اب کسی جونیئر کے ماتحت کام کرتے رہیں گے،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے لیے روز آنا اور کسی جونیئر سے آرڈر وصول کرنا بہت مشکل ہے۔ میں صرف متجسس ہوں کہ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تقرر کر دیا گیا ہے، وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،

    پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے ناموں پر بطور چیف جسٹس غورکیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر ،دونوں ججز جسٹس یحییٰ آفریدی سے سینئر ہیں تا ہم پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر بطور چیف جسٹس اتفاق کیا.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ملاقات

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

  • نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا

    بائیس صفحات پر مشتمل اضافہ نوٹ جاری کر دیا گیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ فیصلے سے متفق ہوں لیکن وجوہات کی توثیق پر خود کو قائل نہیں کر سکا، اکثریتی فیصلے میں اصل مدعے پر خاطر خواہ جواز فراہم نہیں کیا گیا، فیصلے میں سابق ججز کے حوالے سے غیر مناسب ریمارکس دیے گئے، عدالتی وقار کا تقاضا ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جائے،تنقید کا محور فیصلے کے قانونی اصول ہوں نا کہ فیصلہ لکھنے والوں کی تضحیک کی جائے، تہذیب و عدالتی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کی اپنی الگ وجوہات تحریر کر رہا ہوں،

    واضح رہے کہ 6 ستمبر کو نیب ترامیم بارےسپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا تھا سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لی تھیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری کو پاکستان کی مختلف بار کونسلز نے خوش آئند قرار دے دیا

    سندھ، لاہور، خیبر پختونخوا، بہاولپور اور اسلام آباد بار کونسلز نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان نامزدگی کا خیر مقدم کیا،بار کونسلز نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس نامزد ہونے پر مبارکباد دی اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا،لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی خوش آئند ہے،انکی نامزدگی سے انصاف کی فراہمی کی توقع ہے،اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتی ہے،ملکی مفاد کے لئے جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی اہم قدم ہے،لائق تحسین ہے.

    خیبر پختونخوا بار کے وائس چیئرمین صادق علی اور دیگر کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری احسن قدم ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک طویل عرصے کے لئے خیبر پختونخوا کے کسی جج کو چیف جسٹس تقرر کیا گیا،خیبر پختونخوا بار انصاف کی فراہمی، قانون کی بالا دستی کے لئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی.

    واضح رہے کہ وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی ہے،صدر مملکت نے تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔

  • سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ، برطرف ملازمین کی بحالی درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج دی گئیں

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پر سکون زندگی ہر شہری کا آئینی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں آئینی سوال ہے،26 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا آئینی کیسز آئینی بنچز سنیں گے، اعلیٰ بنچز بنیں گے وہی تعین کریں گے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ کیس اہم آئینی بنچ ہی سنے گا، 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں آئینی سوال کے کیسز آئینی بنچز سنیں گے،درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج رہے ہیں،

    وزارت پٹرولیم نیچرل ریسورس کے سات ملازمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: مخصوص نشستوں کے کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اقلیتی فیصلے میں اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصلے میں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض ہے، توقع ہے کہ اکثریتی ججز اپنی غلطیوں پرغور کرکے انہیں درست کریں گے پاکستان کا آئین تحریری ہے اور آسان زبان میں ہے، امید کرتا ہوں اکثریتی ججز اپنی غلطیوں کی تصیح کریں گے، بردار ججز یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا نظام آئین کے تحت چلے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اکثریتی مختصر فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوسکی،میرے ساتھی ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے اس کے خلاف ووٹ دیا ، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی فیصلہ دینے والے اپنی غلطیوں کا تدا ر ک کریں گے، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی ججز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کے مطابق پاکستان کو چلائیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس منیب اختر میری رائے کے خلاف گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکثریتی ججز کی رائے پر بھی سوالات اٹھائے، چیف جسٹس نے لکھا کہ آٹھ اکثریتی ججز کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، آٹھ اکثریتی ججز نے مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلیں نمٹائی نہیں، جب اپیلیں نمٹائی نہیں گئیں تو کیس زیرِ التوا سمجھا جائے گا، آٹھ ججز نے اپیلیں زیرالتوا رکھ کر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کونئی درخواستیں دائرکرنے کا کہا، حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس لیے اکثریتی فیصلے پرعملدرآمد نہ کرنے سے توہین عدالت نہیں لگے گی۔

    چیف جسٹس نے لکھا کہ اکثریتی ججز نے وضاحت کی درخواستوں کی گنجائش باقی رکھی، کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا اس پر عمل درآمد ضروری نہیں، آٹھ ججز نے چیف جسٹس سمیت دیگر بنچ کے ممبران کو آگاہ کیے بغیر وضاحت جاری کی، چیف جسٹس پاکستان کی اجا زت کےبغیر وضاحت ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی،نہیں معلوم پی ٹی آئی اورالیکشن کمیشن کی وضاحتی درخواستوں پر سماعت کہاں ہوئی، اکثریتی ججزمیں سے متعدد دستیاب نہیں تھے تو چیمبر میں سماعت کیسے ہوئی، ججز کی عدم دستیابی کے باوجود وضاحتی فیصلہ جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا13 رکنی فل کورٹ بینچ کے 5-8 کی اکثریت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتی نشستوں کی حقدار ہے، انتخابی نشان نہ ملنے سے کسی سیاسی جماعت کا انتخابات میں حصہ لینے کا حق ختم نہیں ہوتا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی 15 دن میں مخصوص نشستوں کیلئے اپنی فہرست جمع کرائے، 80 میں سے 39 ایم این ایز پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کر چکے ہیں، باقی 41 ارکان 15 دن میں پارٹی وابستگی کا حلف نامہ دیں،سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ن لیگ اور ارکان اسمبلی نے نظرثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، بعدازاں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے 2 بار اپنے فیصلے کی وضاحت جاری کی۔

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ آج چیمبر ورک پر چلے گئے جہاں وہ چیمبرک ورک کے دوران فیصلے لکھیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے جمعہ کو ریٹائر ہونے والے آج سے چیمبر ورک پر چلے گئے ہیں اور اب وہ فیصلے تحریر کریں گے۔ذرائع کے مطابق اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا بینچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں منتقل کردیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے 25 اکتوبر جمعہ کے روز ریٹائر ہو جانا ہے اور نئے چیف جسٹس پاکستان کے تقرر کے لیے تین سینئر ججز کے ناموں پر پارلیمانی کمیٹی آج غور کرے گی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں۔

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

  • 26 ویں آئینی ترمیم نافذ، نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی

    26 ویں آئینی ترمیم نافذ، نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی

    اسلام آباد: 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی جس کے بعد آج صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد قومی اسمبلی سے منظور ترامیم منظوری کے بعد باقاعدہ آئین کا حصہ بن گئی ہیں تاہم اب 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کیلئے نام بھیجنے کیلئے 35 گھنٹے کا وقت باقی ہے،سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس 22 اکتوبر رات 12 بجے تک تین نام آئینی کمیٹی کو بھیجیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان آئین کے آرٹیکل 175 اےکی ذیلی شق 3 کے تحت 3 سینئر ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کوبھجوائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین ججز میں سے ایک جج کا تقرر کرے گی۔

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر جسٹس منصور اور جسٹس عائشہ کے ریمارکس

    ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے کیلئے جن تین سینئر ترین ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا، اُن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مُنیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو ممکنہ طور پر پاکستان کا آئندہ چیف جسٹس مقرر کیا جا سکتا ہے،-

    26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی عمل کا جائزہ لے رہے …

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی درخواست خارج

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی درخواست خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی کی اپیل خارج کرتے ہوئے 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست پر سماعت شروع ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔ پی ٹی آئی نے نظر ثانی درخواست میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔

    تحریک انصاف کے وکیل حامدخان روسٹرم پرآئے کہا کہ لارجز بنچ تشکیل دینے کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جائے، یہ معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے اور نیا بنچ تشکیل دیا جائے،موجودہ تین رکنی بنچ کیس نہیں سن سکتا، سنی اتحاد کونسل کیس میں 13 رکنی بنچ فیصلہ دے چکا ہے۔

    بشریٰ بی بی کی بیٹیاں والدہ سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچ گئیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ یہ نظرثانی کا معاملہ ہےہم نے قانون کودیکھنا ہے، نظرثانی درخواست میں عدالتی فیصلوں قانونی حثیت پر سوالات اٹھانے ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے اس پوائنٹ کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا؟

    حامد خان نے کہا کہ عدالت سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن کیس کے فیصلے کا پیراگراف دیکھ لیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ فیصلہ ہم کیوں دیکھیں،یہ اور معاملہ ہے وہ الگ معاملہ ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ حامد خان نے کہا کہ میں اب وہ کہہ دیتا ہوں جو کہنا نہیں چاہتاتھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹی وی پر بات کرنے کی بجاے منہ پر بات کرنے والےکو میں پسند کرتا ہوں، حامد خان نے کہا کہ میں ایسے شخص کے سامنے دلائل نہیں دے سکتا جو ہمارے خلاف بہت متعصب ہو، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں اپ کو مجبور نہیں کر سکتا، وکیل حامد خان نے کہاکہ مجھے دلائل نہیں دینے-

    عمران خان کے ذاتی معالج سے معائنے کیلئے درخواست دائر

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ جب نیازی صاحب وزیراعظم تھے توانٹرا پارٹی انتخابات کا نوٹس ہوا، تب بھی نہیں کروایاگیا، ایسا تونہیں کہ آپ لوگ انٹرپارٹی انتخابات کے لئے دلچسپی نہیں رکھتے؟

    سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت نے فریقین کے وکلا کو ایک اور موقع دیا لیکن کیس پر دلائل نہیں دیے گئے، ہمارے 13 جنوری کے فیصلے میں کوئی غلطی ثابت نہیں کی جا سکی لہٰذا نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہیں۔

    دوران سماعت، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئینی ترمیم ہو چکی ہے اس لیے سپریم کورٹ اب یہ کیس نہ سنے، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ میں نے ترمیم ابھی نہیں دیکھی اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔

    ڈی آئی جی سکھراور ایس ایس پی گھوٹکی کو عہدوں سےہٹادیا گیا

  • 26ویں آئینی ترمیم:چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    26ویں آئینی ترمیم:چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    اسلام آ باد: سینیٹ اور قومی اسمبلی نے26ویں آئینی تر میم کے بل کی منظوری سے پارلیمانی تاریخ کاا یک نیا باب رقم ہوا ہے تاہم 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت اب چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 26ویں آئینی ترامیم کی تمام 27 شقیں منظور کرلی گئی ہیں، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہی ، مسودہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے، صدر آصف زرداری کے مسودہ پر دستخط کے ساتھ ہی چھبیسویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز کا انتخاب

    سینئر ترین جج چیف جسٹس کے لیے آٹو میٹک چوائس نہیں ہوگا اس کے برعکس چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب 3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا نئی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کے نام کا فیصلہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی 2 تہائی اکثریت سے کرے گی،کمیٹی وزیراعظم کو چیف جسٹس کا نام بھیجے گی جس کے بعد وزیراعظم اب صدر مملکت کو منظوری کے لیے نام بھیجیں گے 26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 3 سینئر ججز میں سے کسی جج کے انکارکی صورت میں اگلے سینئرترین جج کا نام زیرغورلایا جائے گا جب کہ چیف جسٹس پاکستان کی عہدے کی مدت 3 سال یا ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 65 سال ہوگی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    یہ تر میم پارلیمنٹ کی بطور ادارہ کا میابی ہےججز کی تقرری میں اب پارلیمنٹ کااختیار پوسٹ آفس کا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہو گا،جو 12 رکنی جوڈیشل کمیشن سپر یم کورٹ کے ججز کی تقرری کرے گا اس کمیشن کے سر براہ چیف جسٹس آف پا کستان ہوں گے ان کے علا وہ پریزائیڈنگ جج اور تین سینئر موسٹ جج اس کے ممبر ہوں گے دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینیٹ اس کے رکن ہوں گے۔

    وفاقی وزیر قانون و انصاف، اٹا ر نی جنرل آف پا کستان اور پا کستان بار کونسل کے نامز وکیل بھی اس کے ممبرہوں گے، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے جو چار ارکان نامزد کئے جائیں گے ان میں سے دو کا تعلق حکومتی بینچوں اور دو کا اپو زیشن سے ہوگا لہٰذا یہ تاثر دینا کہ اس ترمیم کا مقصد حکومت کا اثر بڑھانا ہے درست نہیں ہے۔

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    آئینی ترمیم کے مطابق وزیراعظم یا کابینہ کی جانب سے صدرکو بھجوائی گئی ایڈوائس پرکوئی عدالت،ٹریبونل یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھاسکتی،جبکہ سپریم کورٹ کے ججز کے تقررکے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی، 8 ارکان قومی اسمبلی 4 سینیٹ سے ہوں گے اور آرٹیکل184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طورپرکوئی ہدایت یا ڈکلیئریشن نہیں دے سکتی، جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔