Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر  نے  چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

    سینئر ججز کی جانب سے خط میں مطالبہ کیا گیا کہ 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو رواں ہفتے لازمی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، رجسٹرار سپریم کورٹ کمیٹی کے 31 اکتوبر کے فیصلے کو ویب سائٹ پر جاری کرے۔

    واضح رہے کہ 2 سینئر ترین ججوں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 31 اکتوبر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت کام کرنے والی کمیٹی کا فوری اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا تاہم اس کے باوجود چیف جسٹس نے اجلاس نہیں بلایا، جس پر دو ارکان جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے جسٹس منیب اختر کے چیمبر میں اجلاس کیا۔

    کمیٹی کے دونوں ارکان نے اکثریت سے فیصلہ کیا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں 4 نومبر کو فل کورٹ میں سماعت کیلئے لگائی جائیں، تاہم آئینی درخواستوں کو لگانے کیلئے کوئی کاز لسٹ جاری نہیں کی گئی تاہم جسٹس منصورشاہ اور جسٹس منیب دونوں نے گذشتہ روز چیف جسٹس آفریدی کو ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے فیصلے کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی پٹیشن کو طے نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا تھا، آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آٖف پاکستان، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل کمیٹی کیس مقرر کرے گی، اس سے قبل چیف جسٹس اور 2 سینئر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتا تھاسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمیٹی میں سینئر جج جسٹس منیب اختر کو ہٹا کر جسٹس امین الدین خان کو شامل کر لیا تھا۔

    بعد ازاں، 23 ستمبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد نئی تشکیل کردہ ججز کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو خط لکھ دیا تھاجسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ آرڈیننس کے اجرا کے چند گھنٹوں میں وجوہات بتائے بغیر نئی کمیٹی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوسرے اور تیسرے نمبر کے سینئر ترین جج کو کمیٹی کے لیے کیوں نہیں چنا؟۔

  • جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا

    جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کا اہم اجلاس آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگااجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین شرکت کریں گے۔

    اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین بھی اجلاس میں شریک ہوں گے،اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ (ن) کے شیخ آفتاب احمد، پی ٹی آئی کے عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے جبکہ اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شریک ہوں گی۔

    ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بات ہوگی جبکہ سپریم کورٹ میں آئینی بینچوں کی تشکیل کے لیے ججز کی نامزدگی پر بھی غور کیا جائے گا۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق جسٹس امین الدین خان کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا جائے گاسپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کو دینے کی تجویز دی جائے گی.

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے تقرر کے موقع پر پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ کے جن 2 سینئر ترین ججوں کے نام مسترد کر کے تیسرے سینئر جج کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کیا۔ان دونوں سینئر ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے ناموں پر حکومت آئینی بینچ کی سربراہی کے لئے بھی غور نہیں کرے گی،حکومت چوتھے سینئر جج جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنانے کی سفارش کرے گی.

    چیف جسٹس یحیی آفریدی اجلاس کے دوران اپنی رائے دیں گے۔جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ مقرر کئے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے پانچویں سینئر جج جسٹس جمال مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیاجائے گا.

    ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کمیشن مکمل ہونے کے بعدآج ہی تین سے چھ ماہ کی مدت کیلئے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں نو سے گیارہ رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیئے جائیں گے، آئینی بنچ سپریم کورٹ میں اس وقت موجود تمام اپیلیں اور نظر ثانی درخواستیں سنے گا،تین سے چھ ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے چیئرمین سینیٹ اور پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد جے سی پی کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کے نام بھجوائے گئے تھے جس کے بعد چیف جسٹس نے آج اجلاس طلب کیا تھا۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے جبکہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا، کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

    آئینی بینچز کی تشکیل کے بعد آئینی بینچ کا سب سے سینئر جج جوڈیشل کمیشن کا رکن بن جائے گا، اگر آئینی بینچ کا سینئر ترین جج پہلے سے کمیشن کا ممبر ہوا تو اس کے بعد کا سینئر جج رکن بن جائے گا، یوں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں جوڈیشل کمیشن 13 ارکان پر مشتمل ہو جائے گا۔

  • قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی اور عدالتی نظام میں بہتری: حکومت کے اصلاحاتی فیصلے قابلِ تحسین

    حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سروسز چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ایک دانشمندانہ قدم ہے جو قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ کسی بھی سروسز چیف کو اپنی پالیسیوں کے موثر نفاذ اور پچھلی حکمت عملیوں کے نتائج کو جانچنے کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ 3 سال کی مختصر مدت میں اہم پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھانا مشکل ہے۔ خاص طور پر خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ سروسز چیف کی مدت طویل ہو، تاکہ ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

    اسی طرح، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا اقدام بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں کیسز کی بھرمار ہے، اور ججز کی کم تعداد کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ ججز کی تعداد میں اضافہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا، اور عام شہریوں کے لیے فوری انصاف کا حصول ممکن بنائے گا۔

    یہ دونوں اقدامات نہ صرف ملکی استحکام بلکہ عوامی فلاح اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان کی سیکیورٹی اور عدالتی نظام میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، اور ملکی ترقی کی راہ ہموار ہوگی

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم

    پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم

    پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم ہو گئی

    سپریم کورٹ نے پٹاخوں پر پابندی کی خلاف ورزی پر نئی دہلی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کر لیا ،فصلوں کو آگ لگانے پر پنجاب اور ہریانہ حکومت سے بھی جواب طلب کر لیا گیا، بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ پٹاخوں سے آلودگی پر قابو نہیں پایا جاتا ،افراتفری کی صورتحال پیدا ہوتی ہے،مستقبل میں ناکامی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، نئی دہلی حکومت پٹاخوں پر مستقل پابندی لگانے پر غور کرے،دیوالی کے اگلے روز نئی دہلی میں آلودگی میں اضافہ ہوا

    سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی،دوران سماعت حکومت کی جانب سے جمع شدہ رپورٹ پر عدالت نے کہا کہ اس بار آلودگی بڑھ گئی ہے،ہم دہلی حکومت کو آلودگی سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدام کے بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں،بھارتی سریم کورٹ نے کہا کہ دہلی پولیس کمشنر کو پٹاخوں پر پابندی کے حوالہ سے اقدام پر حلف نامہ دینا ہو گا، کہ اگلے سال ایسا نہیں ہو گا، پنجاب و ہریانہ ریاستوں کے ذریعہ پرالی جلانے سے متعلق پچھلے 10 دنوں کی تفصیلات کے بارے میں بھی حلف نامہ داخل کروانا ہو گا

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

  • سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ نے سوئی نادرن کے زائد بلنگ کیس کو نمٹا دیا ہے

    سوئی نادرن گیس کے زائد بلنگ سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ اس کیس کی نظرثانی تو ابھی زیرِ التوا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب یہ کیس آئینی بینچ میں جائے گا، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ” سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں، کچھ مقدمات ہمارے پاس بھی رہنے دیں”،اس کیس میں کوئی آئینی یا قانونی سوال موجود نہیں ہے، زیرِ التوا نظرثانی کیس میں درخواست گزار سوال اٹھا سکتے ہیں۔

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا

    چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 5 نومبرکو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 5 نومبر کو دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کریں گے، 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا،اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بات ہوگی، سپریم کورٹ میں آئینی بینچوں کے لیے ججوں کی نامزدگی پر بھی غور کیا جائےگا۔

    اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین شرکت کریں گے، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین، پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، ن لیگ کے شیخ آفتاب احمد، تحریک انصاف کے عمرایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے، اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شرکت کریں گی۔

    پنجاب پولیس میں اربوں روپے کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

    بم کی دھمکیوں کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز سے ملی بارودی گولی

  • بشریٰ بی بی کی ضمانت ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    بشریٰ بی بی کی ضمانت ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ریفرنس 2 میں ضمانت بعد از گرفتاری سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی ہے

    ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ضمانت منظوری کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے، سپریم کورٹ میں ایف آئی اے کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی ضمانت منظوری کا فیصلہ غیر قانونی اور ریکارڈ کے بر خلاف ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ نے ضمانت بعد از گرفتاری کے اصولوں اور گائیڈ لائنز کو مدِنظر نہیں رکھا، بشریٰ بی بی نے اپنے خاوند کے ساتھ مل کر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، انہوں نے اپنے خاوند کے ساتھ مل کر ریاستی تحفے بلغاری جیولری سیٹ کا غلط استعمال کیا، بشریٰ بی بی کے خاوند کے اختیارات کے غلط استعمال سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کے خلاف استغاثہ کے شواہد کو نظر انداز کیا، عدالت نے ریکارڈ پر موجود قابلِ جرم شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے ضمانت فراہم کی.

    بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی،نیب پراسیکیوٹر کا وارنٹ جاری کرنے کی استدعا

    مؤکلوں کا رخ زمان پارک کی طرف،بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

    وکیلوں پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے،عمران خان پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کی سب”چالیں”عمران خان کو بتا دیں

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف شیر افضل مروت عمران خان کے سامنے بول پڑے

    عمران خان نے کہا کہ وہ ہر گز ڈیل نہیں کرینگے،علیمہ خان

  • چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ واپس بلا لیا ہے

    ان ریسرچرز میں سینئر سول جج ظفر اقبال، سول جج حسن ریاض، اور سول جج وقاص علی مظہر شامل ہیں۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کی ڈیپوٹیشن کے اختتام پر انہیں لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔ان ریسرچرز میں سے ایک ریسرچر جسٹس منصور علی شاہ کی ٹیم کا حصہ تھے۔اب دوبارہ انہیں سپریم کورٹ میں واپس بلایا گیا ہے،

    چند روز قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نئے سیکریٹری اور ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد یاسین گریڈ 21 میں چیف جسٹس کے سیکریٹری تعینات ہوئے ہیں، جبکہ سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد عارف گریڈ 20 میں چیف جسٹس کے ایگزیکٹو آفیسر بنے ہیں۔

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

  • سپیکر نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی

    سپیکر نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا

    سپیکر نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی،جوڈیشل کمیشن کےلیے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور مسلم لیگ ن کے شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا ہے ،سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کےلیے سینیٹر فاروق نائیک اور سینیٹر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں ،سپیکر قومی اسمبلی نے خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا ہے ،ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی۔26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں پانچ اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے۔پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے ۔تمام نامزدگیاں سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں ۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے ۔

    واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارت قانون و انصاف نے وضاحت کی تھی کہ آرٹیکل 175 اے شق 2 کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان 13 ممبران پر مشتمل ہوگا۔ جوڈیشل کمیشن اپنے پہلے اجلاس میں آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بینچز تشکیل دے گا، جس میں نامزد ججز میں سے سب سے سینئر جج آئینی بینچز کا سربراہ ہوگا۔وزارت قانون و انصاف کے مطابق، آرٹیکل 175 اے شق 2 اور آرٹیکل 175 اے شق 3D کے تحت کمیشن کا کوئی فیصلہ کسی رکن کی عدم حاضری یا خالی اسامی پر باطل نہیں ہوگا، جو کہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔اس نامزدگی کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عمل جلد مکمل ہوگا، جو پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ ججز کی تعداد 25 کرنے کی دی منظوری

    سینیٹ قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ ججز کی تعداد 25 کرنے کی دی منظوری

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دے دی،

    سینیٹر حامد خان و سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ججز کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کی،سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کی جائے گی، 8 نئے جج آئیں گے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے منظوری دے دی۔ تحریک انصاف اور جے یو آئی نے مخالفت کی،کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اب جج بہترین کام کررہے تعداد بڑھانے کا مقصد اپنی مرضی کے جج لانا ہے ،چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ 25 ججز میں ایک چیف جسٹس اور 24 ججز شامل ہوں گے،چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف اجلاس میں اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 25 کرنے کی منظوری دی، پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان نے کہا کہ ہمیں اس طرح قانون سازی پر اختلاف ہے، ججز تعیناتی کا ایسا طریقہ کار عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے،26ویں ترمیم سے ہم نے عدلیہ کو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے، جب کسی ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ججز کی تعداد بڑھائی جاتی ہے کیوں کہ مرضی کے فیصلے نہیں آرہے ہوتے، آپ بتائیں آپ کی حکومت کیا کرنا چاہ رہی ہے،سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ ججز کی کم از کم تعداد 21 لازمی کرنی چاہیے،چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اخبار بتا سکتا ہے کہ مقدمات کی تعداد 60 ہزار ہیں تو آپ کیوں نہیں بتا سکتے، آپ کو انفارمیشن کےلیے کتنا وقت چاہیے،سیکریٹری قانون نے کہا کہ ہمیں کم سے کم بھی تین ہفتے کا وقت دے دیں

    قبل ازیں سینیٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 پیش کیا گیا،ایکٹ میں ترمیم کیلئے ایک شق کے تحت کمیٹی میں چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ ایک سینئر ترین جج اور ایک چیف جسٹس کا نامزد کردہ جج شامل ہوگا۔آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت معاملے پر سماعت سے قبل مفادِ عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی،معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیاگیا،

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب