Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آئینی ترامیم  میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کرنے کے لئے تیار کی گئی مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا،

    آئینی ترمیمی بل میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں،عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم سے متعلق بل حکمران اتحاد کی بھرپور کوششوں کے باوجود اتوار کو بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اس ضمن میں حکومت بل پاس کروانے کے لئے اپنے نمبر پورے کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے

    مجوزہ آئینی ترامیم میں 54 تجاویز شامل ہیں، آئین کی63،51،175،187، اور دیگر میں ترامیم کی جائیں گی، آئین کے آرٹیکل63 میں ترمیم کی جائیں گی، منحرف اراکین کے ووٹ سے متعلق آرٹیکل 63 میں ترمیم بھی شامل ہے، آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائےگی،آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے، چیف جسٹس کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جائےگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں بھیجا جاسکےگا، چیف جسٹس پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز کے پینل سے ہوگا، حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس لگائےگی، آئینی عدالت کے باقی 4 ججز بھی حکومت تعینات کرےگی،آئینی عدالت کے فیصلے پراپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی، آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے،آئینی عدالت میں آرٹیکل 184،185،186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوگی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائےگا۔

    آئین کا آرٹیکل 181 ججزکی عارضی تقرری سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 184 از خود نوٹس اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے مشاورتی اختیار سماعت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 رکن پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 اے ڈی فیکشن کلاز ہے اورپارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی تشکیل اور ججز تقرریوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 اے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل187 مکمل انصاف سے متعلق ہے۔

    آئینی ترمیمی بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جا رہی ہے،چونکہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طریقے سے اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے مقاصد کے لیے مزید ترمیم کرنا مناسب ہے۔ یہ ایکٹ آئین (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 کہلائے گا۔یہ ایکٹ فوراً نافذ ہو جائے گا۔آئین کے نئے آرٹیکل 9A کا اندراج۔- آئین میں، آرٹیکل 9 کے بعد، مندرجہ ذیل نئی دفعہ 9A کو داخل کیا جائے گا، یعنی:-"9A. صاف ستھرا اور صحت مند ماحول، ہر شخص کو صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کا حق حاصل ہوگا۔آرٹیکل 17 میں ترمیم، لفظ سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت سے تبدیل کردیا جائے۔حکومت پاکستان کے خلاف کام کرنے والی جماعت کا معاملہ سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے گی۔تیسری ترمیم آرٹیکل 48: وزیراعظم، کابینہ کی صدر کو ایڈوئز کسی عدالت اور ٹربیونل میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔وضاحت: آرٹیکل 48 میں سے ایڈوائز میں سے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کو نکال دیا گیا ہے۔
    آرٹیکل 63 اے میں تین ترامیم تجویز، ووٹ شمار ہوگا، ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں جائے گا،آرٹیکل 68: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے خلاف پارلیمان میں بات نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 78: آئینی عدالت میں جمع ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو جائے گی۔ آرٹیکل 81: تین ترامیم شامل، لفظ وفاقی آئینی عدالت شامل کیا جائے۔ آرٹیکل 100: اٹارنی جنرل پاکستان وہ شخص تعینات ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔آرٹیکل 111: ایڈوائزرز صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔ آرٹیکل 114: صوبائی اسمبلی میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بات نہیں ہو سکے گی۔ آرٹیکل 165اے: انکم ٹیکس شق میں وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ ہوگا۔ آرٹیکل 175 اے: آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی اور ہائی کورٹ کے ججز کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے، جوڈیشل کمیشن میں تبدیلی، وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ چیئرپرسن ہو گا۔جوڈیشل کمیشن میں چیئرمین کے علاوہ 12 ارکان ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت کے دو ججز، چیف جسٹس سپریم کورٹ، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ وزیر قانون، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہو گا۔ قومی اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن کے دو، سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی کی سفارش اسپیکر کی نامزد کردہ 8 رکنی قومی اسمبلی کی کمیٹی کرے گی۔پہلی بار آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی صدر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مشاورت سے کریں گے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی،چیف جسٹس سپریم کورٹ کا نام کمیٹی تین سینئر ترین ججز میں سے کرے گی۔ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی کا کمیشن سالانہ جائزہ لے گا۔ اگر کسی جج کر کارکردگی تسلی بخش نہیں تو وقت دیا جائے گا ورنہ کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ بھیجے گی۔آرٹیکل 175 بی میں ترمیم: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی تعیناتی اور دائرہ کار،آرٹیکل 176 میں ترمیم: چیف جسٹس پاکستان کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کہا جائے گا۔ آرٹیکل 176اے کی شمولیت: دوہری شہریت کا مالک وفاقی آئینی عدالت کا جج نہیں ہو سکتا۔ آرٹیکل 177: سپریم کورٹ ججز کی اہلیت سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 177 اے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے حلف سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 178اے: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی۔آرٹیکل 179: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہو گی۔ 179 اے، 179 بی: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ کا جج صدر مملکت عارضی طور پر تعینات کریں گے۔آرٹیکل 182اے کی شمولیت: وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں ہو گی۔ آرٹیکل 184: دو یا اس سے زیادہ حکومتوں کے درمیان تنازعہ وفاقی آئینی عدالت دیکھے گی۔

    مفاد عامہ کے معاملات پر تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ مفاد عامہ کے تمام مقدمات سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو جائیں گے۔ 184 اے کی شمولیت: ہائی کورٹس کے آئینی معاملات پر فیصلے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج ہو سکیں گے۔آرٹیکل 185: ہائیکورٹس کی اپیلیں سپریم کورٹ سنے گی، آئینی سوالات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ آرٹیکل 186: صدرارتی ریفرنس پر سماعت آئینی عدالت کرے گی۔ آرٹیکل 186 اے: سپریم کورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی مقدمہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائیکورٹ کو بھجوا سکے گی۔ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے معاملے کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا خود کو منتقل کر سکتی ہے۔رٹیکل 187 میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کسی بھی متعلقہ شخص کو طلب کر سکتی ہے۔آرٹیکل 188: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار رکھیں گی۔آرٹیکل 189: وفاقی آئینی عدالت کا کسی بھی قانونی اصول حکم نامہ سپریم کورٹ سمیت ساری عدالتوں پر بائنڈنگ ہو گا۔سپریم کورٹ کا قانونی اصول پر کوئی بھِی فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہو گا۔ آرٹیکل 190: تمام جوڈیشل اتھارٹیز وفاقی آئینی عدالت کی مدد کی پابند ہوں گی۔ آرِٹیکل 191: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت اپنے قواعد و ضوابط بنائیں گے۔ آرٹیکل 192: ہائی کورٹس کے ججز کی تعداد کا تعین ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہو گا۔ آرٹیکل 193: ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، دوہری شہریت رکھنے والا ہائی کورٹ کا جج نہیں ہو سکتا۔ ہائیکورٹ جج کے لیے ہائیکورٹ وکالت کا کم از کم 15 سال کا تجربہ، 15 سال جوڈیشل آفس کا تجربہ ضروری قرار دیا گیا،آرٹیکل 199: ہائی کورٹ از خود آرڈر جاری نہیں کر سکے گی۔قومی سلامتی سے متعلقہ کسی شخص پر ہائی کورٹ حکم جاری نہیں کر سکے گی۔آرٹیکل 200: صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کر سکیں گے۔ آرٹیکل 202: ہائیکورٹ قواعد و ضوابط ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنائے جا سکیں گے۔ آرٹیکل 204: توہین عدالت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی، آرٹیکل 205: وفاقی آئینی عدالت کی تنخواہیں مقرر کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 206: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے استعفے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 207: جج آفس آف پرافٹ نہیں لے سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 208: وفاقی آئینی عدالت کے افسران کی تعیناتیوں سے متعلق الفاظ کی شمولیت ہے،آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں تبدیلیاں، سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آئینی عدالت کا سینئر ترین جج، ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ آرٹیکل 210: کسی شخص کو طلب کرنے کا کونسل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کا اختیار ہو گا۔ آرٹیکل 215: چیف الیکشن کمشنریا الیکشن کمیشن کا کوئی ممبر نئی تعیناتیوں تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ آرٹیکل 215 میں ون اے کا اضافہ: چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی اور سینیٹ کی اکثریتی قرار داد سے دوبارہ نئی ٹرم کے لیے تعینات ہو جائیں گے۔ آرٹیکل 239: آئینی ترمیم کے خلاف کسی عدالت کا کوئی حکم نامہ موثر نہیں ہو گا۔

    آرٹیکل 243: مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتیوں، دوبارہ تعیناتیوں، ایکسٹیشن، مدت ملازمت پاک فوج کے قوانین کے مطابق ہوں گے اور انہیں دو تہائی اکثریت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 248: صدر، گورنرز کو آئین و قانون کے تحت قائم عدالتوں سے آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔رٹیکل 255: حلف سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 259: صدارتی ایوارڈز میں سائنس و ٹیکنالوجی، ادویات، آرٹس اور پبلک سروس کا اضافہ، آرٹیکل 260: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ،: شیڈول تین میں اضافہ: حلف نامے میں وفاقی آئینی عدالت کا حلف شامل ہے،شیڈول چار میں تبدیلی: کنٹونمنٹ ایریاز میں الفاظ لوکل ٹیکس، سیس، فیس، ٹول اور دیگر چارجز کو شامل کیا گیا ہے۔شیڈول پانچ میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ شامل ہے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/further-to-amend-the-Constitution-of-the-Islamic-Republic-of-Pakistan.pdf” title=”further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan”]

    ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لئے کمیشن ہو گا جس کے چیئرپرسن وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہوں گے،دو سینئر جج وفاقی آئینی عدالت کے کمیشن کے رکن ہوں گے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینئر جج، وفاقی وزیر قانون،اٹارنی جنرل بھی رکن ہوں گے،ایک سینئر ایڈووکیٹ یا ایک وکیل جس کی سپریم کورٹ میں کم از کم بیس سال کی پریکٹس ہووہ بھی رکن ہو گا ،سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دودو اراکین بھی کمیشن کے رکن ہوں گے. ایک رکن حکومت اور ایک اپوززیشن کی طرف سے ہو گا، نامزدگی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کریں گے،

    "(2B) سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شق (2) میں کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے اور اس عدالت کے پانچ اگلے سینئر ترین جج اس کے ممبر ہوں گے۔ شق (2) کے پیراگراف (iv)، (v) (vi) اور (vii) میں کمیشن کے دیگر ارکان ہوں گے۔(xiii) شق (2B) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا داخل کیا گیا، درج ذیل نئی شق (2C)،داخل کیا جائے گا:”(2C) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر، قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارش پر، وفاقی آئینی عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس کا مقصد، نامزد شخص کا نام وزیراعظم کو بھیجا جائے گا، وزیراعظم تقرری کے لیے اسے صدر کے پاس بھیجیں گے،بشرطیکہ وفاق کے پہلے چیف جسٹس آئینی عدالت کا تقرر صدر اعظم کے مشورے پر کرے گا۔

    "(2D) قومی اسمبلی کی کمیٹی، اس کے بعد اس آرٹیکل میں کمیٹی کہلائے گی، قومی اسمبلی کے سپیکر کے نامزد کردہ آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی۔(2E) ہر پارلیمانی پارٹی کو، جہاں تک ممکن ہو، کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہوگی۔(2F) کمیٹی، اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے، متعلقہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سات دنوں کے اندر نامزدگی بھیجے گی جیسا کہ اس آرٹیکل کی شق (2C) اور (3) میں فراہم کیا گیا ہے۔(2G) کمیشن یا کمیٹی کی طرف سے لیا گیا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ صرف اس میں خالی جگہ ہونے یا اس کے کسی اجلاس سے کسی رکن کی غیر موجودگی کی بنیاد پر غلط یا سوالیہ نشان نہیں ہوگا۔(2H) کمیٹی کے اجلاس ان کیمرہ منعقد کیے جائیں گے اور اس کی کارروائی کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔(21) آرٹیکل 68 کی دفعات کارروائی پر لاگو نہیں ہوں گی۔(2J) کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منظم کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔ "(3) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر، کمیٹی کی سفارش پر، تین سینئر ترین افراد میں سے کیا جائے گا۔

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    صدر مملکت کسی بھی جج کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے:
    (7) وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا سوائے اس آرٹیکل کے فراہم کردہ۔(8) کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جس کا مشاہدہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کریں گے۔کونسل کی طرف سے بنائے گئے قواعد کے تابع، کونسل کا ایک سیکرٹریٹ ہوگا جس کی سربراہی ایک سیکرٹری کرے گا اور اس میں ایسے دیگر افسران اور عملہ شامل ہوگا، جیسا کہ ضروری ہو۔”

    آئین کے آرٹیکل 210 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے جہاں کہیں بھی واقع ہو، الفاظ "وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ” کے متبادل ہوں گے۔ اور(ii)شق (2) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے "وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ” کی جگہ دی جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 215 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں(ا)موجودہ پہلی شرط کے بعد، مندرجہ ذیل نئی شرط ڈالی جائے گی:”مزید یہ کہ کمشنر اور ایک رکن اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود، جب تک اس کا جانشین دفتر میں داخل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:”؛ اورموجودہ دوسری شرط میں، لفظ "مزید” کے لیے لفظ "بھی” بدل دیا جائے گا۔شق (1) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا ترمیم کی گئی، درج ذیل نئی شق (1A) داخل کی جائے گی:”(1A) وہ شخص جو کمشنر کے عہدے پر فائز ہو یا،ایک رکن، ہر ایوان میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے،ایک اور مدت کے لیے اسی دفتر میں دوبارہ تعینات کیا گیا۔”آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 239، شق (5) کے لیے، درج ذیل کو تبدیل کیا جائے گا،

    سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے باوجود،یا ہائی کورٹ، آئین کی کوئی شق یا اس میں کوئی ترمیم کسی بھی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت یا ہائی کورٹ میں کسی بھی بنیاد پر سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس کوئی بھی فیصلہ، حکم یا اعلان کوئی قانونی اثر اور باطل نہیں ہوگا۔”

    آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل 243 میں، شق (4) کے بعد، درج ذیل نئی شق (5) ڈالی جائے گی، شق (4) میں مذکور سروسز چیفس کی تقرری، دوبارہ تقرری، توسیع، سروس کی حدود، ریٹائرمنٹ یا برطرفی مسلح افواج سے متعلق قوانین کی دفعات کے مطابق ہوگی،آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ دینے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ بل کے تحت سروسز چیف کی تقرری اور ایکسٹینشن کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہو گی۔ اس سے آرمی ایکٹ کو مزید مستحکم اور محفوظ بنایا جائے گا۔

    آئین کے آرٹیکل 255 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 255، شق (2) میں، الفاظ "وہ شخص” کے لیے، دوسری بار آنے والے الفاظ”ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، صوبے کے معاملے میں اور چیف جسٹس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت، دیگر تمام معاملات میں” کو تبدیل کیا جائے گا۔ہائی کورٹس کے سوموٹو اختیار کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ہائی کورٹس کے اختیارات میں کمی آئے گی۔ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے نظام کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے تاکہ عدالتی نظام میں مزید نظم و ضبط اور شفافیت لائی جا سکے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/the-President-may-remove-the-Judge-from-office.pdf” title=”the President may remove the Judge from office”]

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آٹھ اکثریتی ججزکی وضاحت جاری

    مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آٹھ اکثریتی ججزکی وضاحت جاری

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر تحریری وضاحت جاری کی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، الیکشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ قرار دیدیا۔

    مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے 8 ججز نے وضاحت جاری کردی ہے،سپریم کورٹ میں مخصوص کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر 8 رکنی بینچ نے وضاحت جاری کردی ،اکثریتی فیصلہ دینے والے ججوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد کے راستہ میں رکاوٹ ہے،درخواست درست نہیں،الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا،الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا،تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروانے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججوں نے ابہام کو ختم کرنے کیلئے تحریری آرڈر جاری کردیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا کہ انتخابی نشان سے محرومی کسی سیاسی جماعت کے حقوق ختم نہیں کرتی، پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی اور ہے، انتخابات میں نشستیں بھی حاصل کیں،الیکشن کمیشن کا وضاحت مانگنا دراصل عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنا ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کر دی اور کہا کہ واضح کیا جا چکا ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن آزاد امیدواروں نے بیان حلفی جمع کروایا ان کی پارٹی نمائندگی اسی تاریخ سے طے ہوجائے گی اور کے بعد آنے والے کسی ایکٹ کا اطلاق ان ممبران پر نہیں ہوگا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • سپریم کورٹ،خاتون ٹیچر کیخلاف درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    سپریم کورٹ،خاتون ٹیچر کیخلاف درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    سپریم کورٹ ، خاتون ٹیچر کی ترقی کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دائر درخواست ایک لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ خارج کردی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خاتون ٹیچر گلناز بی بی کی ترقی کےخلاف دائر درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ خاتون ٹیچر چھٹی کی منظوری کےبغیر کوریا روانہ ہوئیں اور انہوں نے کیمسٹری کے مضمون میں کوریا سے پی ایچ ڈی کی، چیف جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ کو پڑھے لکھے لوگ نہیں چاہئیں، ایسے لوگوں کی تو آپ کو قدر کرنی چاہیے،جسٹس عرفان سعادت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مکالمہ کیا کہ کچھ تو خدا کا خوف کریں، درخواست پرنسپل دبا لے اور سزا بیچاری ٹیچر کو کیوں دی جائے اعلیٰ تعلیم کا حصول ہر ایک کا حق ہے۔

    عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی ٹیچر کی ترقی کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار صوبائی حکومت پرایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا،واضح رہے کے پی حکومت نےخاتون ٹیچر کی ترقی کے فیصلے کے حوالے سے ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،

    کیا ہر صوبہ اب اپنی اپنی خارجہ پالیسی بنائے گا؟ عرفان صدیقی

    ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    گنڈاپور کی افغان سفارتکار سے ملاقات آئندہ ماہ کوئی ایڈونچر کرنے کی پلاننگ ہے،عظمیٰ بخاری

    دہشتگردی کے خلاف پولیس اور پاک فوج کا تعاون جاری رہے گا،آئی جی خیبر پختونخوا

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • جسٹس منیب اختر کا چیف جسٹس  کی صدارت جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس سے واک آؤٹ

    جسٹس منیب اختر کا چیف جسٹس کی صدارت جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس سے واک آؤٹ

    اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے رولز بنانے کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا،

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی، جس پر جوڈیشل کمیشن نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آوٹ کرگئے ہیں، جوڈیشل کمیشن مجوزہ رولز 2024 سے متعلق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس جاری ہے،اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس امین الدین اجلاس میں شریک ہیں، ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز بھی اجلاس میں شریک ہیں،جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک ،اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہیں،چاروں صوبائی وزرا قانون سمیت ہائیکورٹس کے سینئر ججز بھی شریک ہیں،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز تقرری کے لیے رولز کا جائزہ لیا جارہا ہے، ہائیکورٹس میں خالی آسامیوں پر تقرریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

    دوران اجلاس جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کی تجویز دی، جس پر کمیشن نے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آؤٹ کردیا، جسٹس منصور علی شاہ نے اجلاس میں مجوزہ سفارشات کا مسودہ پڑھا۔ جسٹس منیب اختر کی رائے ہے کہ آئینی ترمیم کا معاملہ حتمی ہونے تک اجلاس موخر کیا جائے،مئی میں بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آئینی ترمیم کی وجہ سے ہی موخر کیا گیا تھا،

    جوڈیشل کمیشن کے دیگر ممبران نے اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاس جاری ہے، جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں

    واضح رہے کہ 28 اگست کو ہائیکورٹس میں نئے ججز کی تقرری کیلئے رولز کا جائزہ لینے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ہائیکورٹس میں ججز تقرری کیلئے نام بھی طلب کرتے ہوئے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کو خط بھی لکھے تھے،خط میں کہا گیا ہے کہ جس ہائیکورٹ میں 5 سے زیادہ نشستیں خالی ہیں فوری نام تجویز کیے جائیں، ڈھائی سال بعد سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد مکمل ہوئی شریعت اپیلٹ بنچ بھی 29 جولائی سے فعال ہے۔

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    دوسری جانب حکومت نےکل ہفتے کے روز آئینی قانونی عدالتی اصلاحات پیکج پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا منصوبہ بنا لیا ہے، اس ضمن میں سینیٹ اورقومی اسمبلی کااجلاس کل بلانے کافیصلہ کیا گیا ہے،قومی اسمبلی اجلاس کل دن گیارہ بجے اور سینیٹ اجلاس کل شام چار بجے بلایاگیاہے،کل بلائے گئے اجلاس میں اہم قانون سازی متوقع ہے، قومی اسمبلی اورسینٹ سیکریٹریٹ کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں.

  • میڈیا چینلز نے سینیٹر فیصل ووڈا اورمصطفی کمال کی پریس کانفرنسز نشر کرنے پرغیر مشروط معافی مانگ لی

    میڈیا چینلز نے سینیٹر فیصل ووڈا اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال کی پریس کانفرنسز نشر کرنے پرغیر مشروط معافی مانگ لی-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 4 رکنی بینچ نے فیصل ووڈا اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنسز نشر کرنے سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت کی،دوران سماعت مختلف چینلز نے فیصل ووڈا اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنسز نشر کرنے پرغیر مشروط معافی مانگ لی، جس پر سپریم کورٹ ٹی وی جینلز مالکان کی غیر مشروط معافی منظور کرلی۔

    عدالت کی جانب سے میڈیا چینلز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی گئی جبکہ ٹی وی چینلز نے معافی نامہ نشر کرنے کی یقین دہانی کروا دی،پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی نے یقین دہانی کرائی کہ ٹی وی چینلز خود احتسابی کا عمل بھی بہتر بنائیں گے، ڈیلے مکینزم بھی یقینی بنایا جائے گا، پریس کانفرنس میں کی گئی توہین آمیز باتیں بھی دوبارہ نشر نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ غیرمشروط معافی صرف توہین کی شدت کو کم کرتی ہے، 1996 کا خالد مسعود کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، عدالت طے کرچکی توہین عدالت کیس میں نیت نہیں دیکھی جاتی، ڈان اخبار کا اپنا ایک محتسب ہے باقی اداروں میں بھی خود احتسابی ہونی چاہیئے۔

    چئیرمین پی بی اے شکیل مسعود بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہم خود احتسابی کے عمل کو بہتر بنائیں گےجسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور وی لاگرز کس کے کنٹرول میں ہیں، ان کا بھی احتساب کریں، جس پر وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ وہ پی بی اے کے ماتحت نہیں ہیں۔

    16 مئی کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ ایک غریب اور مڈل کلاس آدمی بغیر پیسا خرچ کیے انصاف کی امید نہیں رکھ سکتا، ایک جج دہری شہریت پر عوامی نمائندے کو گھر بھیج سکتا ہے تو خود اس کے لیے یہ پابندی کیوں نہیں؟اسلام آباد میں دیگر رہنماؤں کے ہمرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کیا دہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا، تمام اداروں میں دہری شہریت کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں، ملک میں جاری خلفشار کی وجہ سے ریاست میں کشمکش ہے، اس طرح کی سیاسی صورتحال سے ایک سیاسی کارکنان خاموش نہیں رہ سکتا ہے، عدلیہ نے نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج کر ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔

    15 مئی کو سابق وفاقی وزیر فیصل واڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پاکستان میں کوئی پگڑی اچھالے گا تو ہم ان کی پگڑیوں کی فٹبال بنائیں گےمیں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا، 15 روز ہوگئےجواب نہیں آیا، 19 اے کے تحت مجھے جواب دیا جائے، بابر ستار کہتے ہیں کہ جج بننے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ بھیجی، ہم نے کہا کہ اس کے حوالے سے ریکارڈ روم کے اندر کوئی چیز ہوگی تحریری طور پر لیکن اس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آرڈر دیا کہ ہر پاکستانی بات کسی سے بھی پوچھ سکتا ہے تو پاکستانی تو دور کی بات ایک سینیٹر کو جواب نہیں مل رہا تو اب ابہام بڑھ رہا ہے، شک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ اس کے پیچھے منطق کیا ہے؟

  • وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ڈیمز فنڈ کی رقم مانگ لی

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ڈیمز فنڈ کی رقم مانگ لی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ڈیمز فنڈ میں جمع ہونے والی رقم مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز سےمتعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ کر رہا ہے،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ ہم نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے، ڈیمز فنڈز کے پیسے وفاق اور واپڈا کو دیے جائیں، سپریم کورٹ کی نگرانی میں اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا ڈیمز فنڈز میں کتنے پیسے ہیں، جس پر وکیل واپڈا سعد رسول نے بتایا کہ تقریباً 20 ارب روپے ڈیمز فنڈز میں موجود ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا یہ کیس شروع کیسے ہوا؟ جس پر وکیل سعد رسول نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے واپڈا کے زیر سماعت مقدمات کے دوران 2018 میں ازخود نوٹس لیا تھا، سپریم کورٹ کے ڈیمز فنڈز عمل درآمد بینچ نے 17 سماعتیں کیں چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا واپڈا کے اور بھی کئی منصوبے ہوں گے، کیا سپریم کورٹ واپڈا کے ہر منصوبے کی نگرانی کرتی ہے؟

    واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز کی تعمیر کے معاملے پر پرائیویٹ فریقین کے درمیان بھی تنازعات تھے، سپریم کورٹ نے پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتوں کی بجائے اپنے پاس سماعت کے لیے مقرر کیے، ہماری استدعا ہے پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتی فورمز پر ہی چلائے جانے چاہیں۔

    عدالت نے کیس کا متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

  • جعلی اکاؤنٹس کیس:ڈاکٹر ڈنشا کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

    جعلی اکاؤنٹس کیس:ڈاکٹر ڈنشا کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں ڈاکٹر ڈنشا کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں ڈاکٹرڈنشا کی درخواست کی سماعت کی عدالت نے ڈاکٹر ڈنشا کی پاسپورٹ واپس کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ڈاکٹرڈنشا بیٹی کی شادی کے لیے برطانیہ جا سکتے ہیں۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر ڈنشا 2 ماہ بعد واپس آکر پاسپورٹ ٹرائل کورٹ کو جمع کروانے کے پابند ہوں گے نیب پراسیکیوٹرنے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ڈنشا کے ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت پر اعتراض نہیں،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

    لاہور میں آسٹریلیا کیلئے بک کروائے گئے کھیسوں سےآئس برآمد

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا کو ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت پر اعتراض نہیں، عدالت ماضی میں بھی ملزمان کو ایک مرتبہ جانے کی اجازت دے چکی ہے۔

    جسٹس شہزاد ملک نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ ڈاکٹر ڈنشا وطن واپس آئیں گے؟ جس پر ملزم کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا مچلکے جمع کرانے پر آمادہ ہیں، سپریم کورٹ نے 2021 میں ضمانت دی تھی آج تک اس کا غلط استعمال نہیں کیا۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ ضمانت کے فیصلے میں پاسپورٹ سرنڈر کرنے کا حکم دیا گیا تھا، عدالت 3 سال بعد اپنے فیصلے پر کیسے نظرثانی کر سکتی ہے؟۔فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ نظرثانی کا نہیں ایک مرتبہ جانے کی استدعا کررہے تاکہ بیٹی کی شادی میں شریک ہوسکیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ترامیم بحال ہونے کے بعد ممکن ہے یہ کیس کسی اور فورم کو منتقل ہوجائے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ 4 سال سے ٹرائل کیوں نہیں شروع ہوا؟ نیب اتنا عرصہ کیا کرتا رہا ہے؟۔

    سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ڈنشا کی بیرون ملک جانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ ملزم 2 ماہ میں وطن واپس آکر پاسپورٹ ٹرائل کورٹ کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا عید میلاد النبیؐ پر فول پروف سیکیورٹی کا حکم

    وفاقی حکومت نے پنشن رولز میں ترامیم کر دیں

  • ارشد شریف قتل کیس،سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

    ارشد شریف قتل کیس،سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

    ارشد شریف کیس، سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو ارشد شریف کیس کا فیصلہ دینے سے روکا جائے،ن لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے،مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں،سپریم کورٹ میں شہری شاکر علی نے درخواست دائر کی ،درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے واقعاتی شواہد کے تناظر میں پولیس کو ن لیگی رہنماؤں نواز شریف، حسین نواز، مریم نواز، شہباز شریف، مریم اورنگزیب، سلمان شہباز، اسحاق ڈار، حمزہ شہباز، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، ناصر بٹ، وقار احمد، خرم احمد، تسنیم حیدر شاہ اور حسن نواز کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی جائے، ملزمان کے نام ای سی ایل اور بیرون ملک ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ انکوائری میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ملزمان کو عہدوں سے ہٹایا جائے، ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کینیا سے منگوائی جائے اور کنٹریکٹر وقار احمد کا ریکارڈ کنیا میں امریکی سفارتخانے اور آئی ایس آئی حکام سے طلب کیا جائے، ارشد شریف کا قتل ایک قومی سانحہ ہے اور ہر شہری اس میں درخواست گزار بن سکتا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ اسے سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ میں شہری شاکر علی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، اعانت جرم کی دفعات نہیں لگائی گئیں، سابق اور موجودہ چیف جسٹس کو اس معاملے سے آگاہ کیا لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی، سپریم کورٹ ازخود نوٹس کے بعد رمنا پولیس اسٹیشن میں قتل کی ایف آئی آر خرم احمد اور وقار احمد کے خلاف درج کی گئی جس میں اعانت جرم کی دفعات شامل نہیں کی گئیں،ارشد شریف،، شریف خاندان کی کرپشن اور جرائم کے بارے میں کام کر رہے تھے اور ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں 16 ایف آئی آرز درج کروائی گئیں،جے آئی ٹی رپورٹس کی روشنی میں شریف خاندان کی کینیا میں 2 شوگر ملیں ہیں جہاں ارشد شریف کو جانے پر مجبور کیا گیا اور پھر وہاں بہیمانہ طریقے سے اس کا قتل کیا گیا،پمز اسپتال کی رپورٹس کے مطابق ارشد شریف کو قتل سے پہلے شدید ٹارچر کیا گیا، تسنیم حیدر شاہ کے مطابق عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ اور ارشد شریف کے قتل کی منصوبہ بندی حسن نواز نے کی، درخواست گزار نے استدعا کی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس مقدمے کا فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • سپریم کورٹ،مونال ریسٹورنٹ، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،مونال ریسٹورنٹ، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستوں کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا گیا

    نیشنل پارک ایریا میں قائم مونال ریسٹورنٹ، لاء مونٹانا، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے،عدالت نے نظرثانی درخواستیں خارج کردیں،سپریم کورٹ نے نیشنل پارک ایریا میں قائم ریسٹورنٹس کے حق میں دی گئی آبرزویشنز واپس لے لیں ،سپریم کورٹ نے مونال اور دیگر ریسٹورنٹس کو کسی اور مقام پر لیز کے وقت ترجیح دینے کی آبرزیشن واپس لے لی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ ،لا مونتانہ اور دیگر ریسٹورنٹس نے رضاکارانہ طور پر تین ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی،عدالت میں یقین دہانی کے باوجود نظرثانی دائر کرنا عدالت کیساتھ مذاق ہے،رضاکارانہ تین ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کی یقین دہانی کے بعد نظرثانی دائر کرنا توہین آمیز ہے،سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو کہا ان ریسٹورنٹس کو دیگر علاقوں میں ترجیح بنیادوں لیز دی جائے،عدالت نے قرار دیا کسی اور مقام پر ریسٹورنٹس کی لیز میں نیشنل پارک ایریا کے ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے، سپریم کورٹ لیز کے عمل میں ترجیح دینے کے اپنے فیصلے کو حذف کرتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایکسٹینشن لینے سے انکار

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایکسٹینشن لینے سے انکار

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رانا ثناءاللہ کی بات کی تردید کر دی چیف جسٹس نے ایکسٹینشن لینے سے صاف سے انکار کردیا اور کہا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں،ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں اعظم نزیر تارڑ اورجسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے،اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے،،بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں قبول نہیں کروں گا،مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں،

    صحافی نےسوال کیا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر کیوں نہیں ہو رہا ؟ جس کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے،جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بینچ نہیں بن پا رہا تھا،

    مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس نے قانون سازی کے ذریعے ایکسٹینشن کی حامی بھرلی ،رانا ثناء اللہ

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان