Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ سے کمپیوٹر چوری، مقدمہ درج

    سپریم کورٹ سے کمپیوٹر چوری، مقدمہ درج

    سپریم کورٹ میں بھی چور گھس گئے، دو کمپیوٹر چوری، مقدمہ درج کر لیا گیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم کے حوالہ سے صورتحال اچھی نہیں ہے، چوریوں، ڈکیتیوں کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تا ہم اب ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے کہ سپریم کورٹ سے دو کمپیوٹر چوری ہو گئے ہیں، کمپیوٹر چوری ہونے پر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے، سپریم کورٹ حکام کی جانب سے تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کروایا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر آئی ٹی سپریم کورٹ کی درخواست پر تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،درج متن کے مطابق سپریم کورٹ میں موجود کمپیوٹرز کو تیسرے فلور کے کمرے میں شفٹ کیا گیا تھا، سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر نیٹ ورک نے بتایا کہ 2 نئے کمپیوٹر موجود نہیں ہیں،نئے کمپیوٹرز میں سی پی یو اور ایل سی ڈی شامل تھی، سی سی ٹی وی میں 2 ملازمین فیصل اور زاہد مشکوک نقل و حرکت کرتے دیکھے گئے،چوری شدہ دونوں کمپیوٹرز کی مالیت 6 لاکھ روپے ہے،پولیس نے انداراج مقدمہ کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا

    دوسری جانب سپریم کورٹ سے کمپیوٹر چوری ہونے پر سپریم کورٹ کی سیکورٹی کے حوالہ سے بھی سوالات اٹھنے لگ گئے ہیں، ریڈ زون میں بھر پور سیکورٹی میں چوری کیسے ہو گئی؟

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

  • مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ انتخابات کیس کا فیصلہ 12 دن میں دیا اور اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوا جس کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کی،جسٹس منصور علی شاہ بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے ریفرنس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ شریعت اپیلٹ بینچ کے ارکان جسٹس قبلہ ایاز اور جسٹس خالد مسعود نے بھی فل کورٹ ریفرنس میں شرکت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کو نئے عدالتی سال کی مبارک ہو، 9 دن بعد مجھے بطور چیف جسٹس ایک سال ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ نئے عدالتی سال کے موقع پر نظر ڈالی جاتی ہے کہ ادارے کی کارروائی کیسی رہی، میرا سب سے پہلا کام فل کورٹ اجلاس بلانا تھا جو 4 سال سے نہیں ہوا تھا، لائیو ٹرانسمیشن کا مقصد عوام تک براہِ راست اپنی کارکردگی دکھانا تھا، پہلے عوام کو وہی معلوم ہوتا تھا جو ٹی وی چینلز دکھاتے تھے یا یوٹیوبر بتاتے تھے، عوامی اہمیت کے حامل مقدمات کو براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، ہر جج کا کوئی نہ کوئی رجحان ہوتا ہے، اتنا تعین ہو ہی جاتا ہے کہ فلاں جج کے پاس کیس لگا تو پراسیکیوشن کا وزن کیا ہو گا، یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے، لوگوں نے 30، 40 سال میں بہت کچھ سیکھا ہوتا ہے، کسی نہ کسی طرف اتنے تجربے میں رجحان بن جاتا ہے، اب یہ کسی کی قسمت ہے کہ کس کا کیس کہاں لگ گیا۔

    میرے دور میں تاریخ میں پہلی بار کسی جج کو مِس کنڈکٹ پر برطرف کیا گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میرے دور میں تاریخ میں پہلی بار کسی جج کو مِس کنڈکٹ پر برطرف کیا گیا،ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کو سنا گیا اور اپنی رائے دی کہ ان کے خلاف دیا گیا فیصلہ غلط تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کو غلط طریقے سے نکالا گیا ان کی برطرفی کو بھی کالعدم قرار دیا،پہلے بینچ دیکھ کر ہی بتا دیا جاتا تھا کہ کیس کا فیصلہ کیا ہو گا،اب توخود مجھے بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میرے دائیں بائیں جانب کون سے ججز کیس سنیں گے، ہم نے نظر انداز کیا تو گالی کلچر شروع کردئیں ، گالی گلوچ دیکر آپ اچھے نہیں لگیں گے بچپن مین کوئی برا کہتا تو والدہ سےشکایت کرتے تو والدہ کہتیں جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے ، اسی پر عمل پیرا ہوں ،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحبان کو  مرسڈیزبینزجیسی گاڑیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ عوام کےپیسےہیں ہمیں بھی دیکھناچاہیےعوام کے پیسے کیسے بچا سکتے ہیں،مرسڈیز بینز واپس کی ،لاہوروالی لینڈکروزربھی واپس بھیج دی،میں نےدونوں گاڑیاں حکومت کو واپس کردیں ،گاڑیوں کے پیسے عوام پرلگنے چاہئیں ،جب چیف جسٹس بنا تو چیف جسٹس پاکستان کی رہائش گاہ پر چار پانچ مور پنجروں میں رکھے گئے تھے ۔ انہیں رہا کروایا ،ری ہیبلیٹیشن کے بعد کلر کہار بھجوا دیا،

    مجھے ہنسی آتی ہیں ،پرانے صحافی کہتے ہیں چیف جسٹس نےمقدمہ نہیں لگایا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ مجھے ہنسی آتی ہیں ،پرانے صحافی کہتے ہیں چیف جسٹس نےمقدمہ نہیں لگایا۔ آُپ تبصرے کریں پر حقیقت کی بنیاد پر مفروضوں کی بنیاد پر نہیں ، آپکی بھی کچھ ذمہ داری ہے،مقدمے چیف جسٹس نہیں لگایا بلکہ کمیٹی لگاتی ہے،چیف جسٹس مقدمہ نہیں لگا سکتا، شفافیت کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ویب سائٹ پر دینا شروع کر دیا ہے، کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس موجود ہیں، تبصرے حقیقت کی بنیاد پر کریں مفروضوں پر نہیں، آپکی ذمہ داری ہے سچ بولئے، بحیثیت جج نہیں کہہ رہا کہ سوچیں کیا آپ کی والدہ اور والد اس کے برعکس کچھ کہیں تو کر دیئے،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال کی تقریب ماضی سے سبق سیکھنے کا بھی ایک موقع ہوتا ہے، گزشتہ سال بھی کہا تھا جوڈیشل سسٹم میں اہم ترین وہ عام سائلین ہیں جو انصاف کے لیے رجوع کرتے ہیں، سائلین کی امیدیں ٹوٹنے کی ذمے داری نظام انصاف سے منسلک ہم تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے،مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سے زیادہ سائلین کو کوئی اور چیز ناامید نہیں کرتی، فوجداری مقدمات میں لوگوں کی آزادی اور زندگیاں داؤ پر لگی ہوتی ہیں،کئی مرتبہ ملزمان اور مجرمان کے مقدمات کی باری آنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، بے گناہ کا دہائیوں تک جیل میں رہ کر رہا ہونا کسی سانحے سے کم نہیں ہوتا۔

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل فاروق ایچ نائیک نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے اسکوپ اور استعمال کے اثرات پر کافی سوالات اٹھے، سیاسی مقدمات میں توہین عدالت کا اختیار استعمال ہونے پر بحث نے طول پکڑا،بحث شروع ہوئی کہ جوڈیشل اتھارٹی اور اظہار رائے کی آزادی کے درمیان توازن قائم ہونا چاہیے، نئے عدالتی سال پر عدلیہ کے اندرونی چیلنجز کو بھی دیکھنا ہو گا، نظام انصاف کی طاقت کا انحصار ججوں کے معیار پر ہے، قابل ترین ججز کو عدلیہ میں لانے کا پراسیس اپنانا ہو گا، میرٹ کی بنیاد پر ججوں کی بھرتی کیلئے سخت طریقہ کار اپنانا ہو گا، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان عدالتی اختیار نہیں رکھتا، پارلیمانی کمیٹی کا جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کے برعکس کوئی فیصلہ عدلیہ میں مداخلت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    نیب ترامیم،سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لیں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف فیصلہ متفقہ ہے،سپریم کورٹ پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپرکا کردارادا نہیں کرسکتی،چیف جسٹس اورججز پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپر نہیں ہوسکتے،تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا،

    پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں نیب ترامیم منظور کی گئی تھیں، نیب قوانین کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 14، 15، 21، 23، 25 اور 26 میں ترامیم کی گئی تھیں،نیب ترامیم کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 ستمبر 2023ء کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ نے 15ستمبر 2023ء کو عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کالعدم قرار دیں،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کیس میں دائر اپیلوں پر ذاتی حیثیت میں دلائل دینے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے 10 مئی 2024ء کو انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا،لارجر بینچ نے بانیٔ پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کی اجازت دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 6 جون 2024ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    نیب ترامیم کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا، نیب ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ قرار دیا گیا تھا، نیب ترامیم کے تحت نیب 50 کروڑ سے کم مالیت کے معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکتا، ترمیم کے تحت نیب دھوکا دہی کے مقدمے کی تحقیقات تب ہی کر سکتا ہے جب متاثرین 100 سے زیادہ ہوں،نیب ترامیم کے تحت ملزم کا زیادہ سے زیادہ 14 دن کا ریمانڈ لے سکتا ہے جسے بعد میں 30 دن تک بڑھا گیا، ترامیم کے تحت نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکتا تھا،ترامیم کے تحت ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو نیب کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا تھا، افراد یا لین دین سے متعلق زیرِ التواء تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو منتقل ہوئیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،سپریم کورٹ
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا،تحریری فیصلہ 16 صفحات پر جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی تحریری فیصلہ میں شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے فیصلہ سے اتفاق کرتا ہوں،حکومتی اپیلیں پریکٹس پروسیجر قانون کےتحت قابل سماعت نہیں،حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں،متاثرہ فریقین کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی جاتیں ہیں،نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قراردیا جاتاہے،ججز اور آرمی فورسز کے ارکان کو نیب قانون سے استثنی حاصل نہیں،اضافی نوٹ کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،جسٹس اطہر من اللہ

    فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے تحریری کیا ہے،فیصلہ میں کہا گیا کہ نیب قانون سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار میں آنے کے 34 دن بعد بنایا،پرویز مشرف نے آئینی جمہوری آرڈر کو باہر پھینکا اور اپنے لئے قانون سازی کی،پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز کو ہٹایا جنہوں نے غیر آئینی اقدام کی توسیع نہیں کی، آئین میں عدلیہ اور مقننہ کا کردار واضح ہے، عدلیہ اور مقننہ کو ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت پر نہایت احتیاط کرنی چاہیے،آئین میں دئیے گئے فرائض کی انجام دہی کے دوران بہتر ہے کہ ادارے عوام کی خدمت کریں، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ ججز پارلیمنٹ کے گیٹ کیپرز نہیں،مشرف دور میں بنائے گئے قانون کے دیباچہ میں لکھا گیا کہ نیب قانون کا مقصد کرپشن کا سدباب ہے جن سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں نے پرویز مشرف کو جوائن کیا انہیں بری کردیا گیا،نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں ،بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے تھے،وفاقی حکومت نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے،رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکی جائے،بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست

    اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکی جائے،بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست

    بھارت اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بند کرے، بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،

    بھارتی سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت مختلف کمپنیوں کے ذریعے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی کر رہی ہے،اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکی جائے، غزہ میں جنگ کے لئے اسرائیل کو اسلحہ دینے والی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کئے جائیں،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں بھارتی وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہےکہ بھارت نے مختلف بین الاقوامی معاہدے کئے ہوئے ہیں جو ہندوستان کو جنگی جرائم کے قصوروار ممالک کو فوجی اسلحہ فراہم نہ کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں ،بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست وکیل پرشانت بھوشن سمیت 11 افراد نے دائر کی، جس میں کہا گیاکہ وزارت دفاع کے تحت عوامی سیکٹر کے اداروں سمیت دیگر کئی کمپنیاں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہی ہیں، یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھارت کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے،درخواست میں بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا

    بھارتی سپریم کورٹ میں اس درخواست پر کب سماعت ہو گی، اس کے بارے ابھی تک کچھ معلوم نہیں، تاہم بھارتی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس درخواست کو منطور کیا جانا چاہئے

    بھارت میں بے روزگاری، گھروں میں فاقے، شہری اسرائیل نوکری کیلیے مجبور

    212 بھارتی شہری اسرائیل سے دہلی پہنچ گئے

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    واضح رہے کہ بھارت بھی فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے،بھارت سے اسرائیل جانے والے بحری جہاز جس پر 27 ٹن مہلک ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد تھا کو اسپین نے اپنی بندرگارہ پر لنگر انداز ہونے سے انکار کیا، وہ جہاز چنئی سے بحیرہ احمر کے چھوٹے راستے کے بجائے لمبا راستہ اٰختیار کرکے اسرائیل کے اشدود ساحل پہنچا تھا،

    ایک سال میں 16 خواتین قتل،کاروکاری کے پانچ،گمشدگی کے سات کیس رپورٹ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نعیم بخاری میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نعیم بخاری میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کیس،مونال ریسٹورنٹ سمیت دیگر کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ،تمام فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کے آغاز پر ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ نے تو تمام فریقین کی رضامندی سے فیصلہ دیا، رضامندی سے ہی 3 ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کا کہا گیا، پھر نظرثانی کس بات کی،وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں کہا کہ ” رضامندی سے ریسٹورنٹ ختم کرنے کا نہیں کہا، مجبوری میں بات کی تھی، ہمارے سامنے 2 آپشن تھے کہ یا تو خود سے ریسٹورنٹ ختم کریں ورنہ گرا دیئے جائیں گے، میرے مؤکل ڈاکٹر محمد امجد 66 فیصد شیئر ہولڈر ہیں جن کو سنا ہی نہیں گیا، سپریم کورٹ نے جب فیصلہ دیا تو اس وقت میرے مؤکل ملک سے باہر تھے، لامونتانا کےمختلف شیئر ہولڈرز ہیں، ہمیں مؤثر حق سماعت نہیں دیا گیا، ماضی میں ایف آئی اے ریسٹورنٹ مالکان کے خلاف تحقیقات کرچکی، تحقیقات میں نکلا کہ مالکان نے کوئی جرم نہیں کیا”۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر بخاری آر یو سیریس، ایف آئی اے کا اس سے کیا کام، کئی بار لوگ اپنے خلاف خود بھی کیس کروا لیتے ہیں، لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر ایف آئی اے سے تحقیقات کروا لیں کہ کوئی جرم نہیں ہوا، آپ ریاست سے جو سروسز لیتے رہے میں اس سے متاثر ہوں، ایف آئی اے کا اس سارے معاملے پر کیا اختیار ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نعیم بخاری میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل نعیم بخاری نے کہا میرے ملک میں ایسا کئی بار ہوا کہ جن کا اختیار نہیں تھا، وہ بہت کچھ کرتے رہے، 1954 میں کیا ہوتا رہا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہماری پیدائش سے پہلے کے معاملات پر ہم پر اُنگلی نہ اٹھائیں،نعیم بخاری نےکہا کہ آپ سمجھتے ہیں آواز اُونچی کر کے مجھے ڈرائیں گے، میں ڈرنے والا نہیں،آپ نے خود بھٹو کیس میں سب لکھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ صرف اپنے کیس تک محدود رہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بخاری صاحب ہم نے چلیں اپنی غلطیاں مان لیں ناں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، نیشنل پارک میں جانوروں کے حقوق ہیں، ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود تھا پھر بھی آپ کمرشل سرگرمیاں کرتے رہے، آپ قوانین کی خلاف ورزی میں ریسٹورنٹ چلاتے رہے،نعیم بخاری نے کہا کہ لائسنس موجود تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا پڑھیں ذرا وہ 11 ہزار روپے سالانہ فیس والا لائسنس تھا، نعیم بخاری نے کہا کہ یہ تو 1999ء کی فیس تھی،

    سماعت کے اختتام پر نعیم بخاری نے اونچی آواز پر بات کرنے پر چیف جسٹس سے معذرت کر لی،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے تعجب ہوا تھا کہ یہ آپ ایسا کر رہے ہیں؟ مجھے تعجب ہوا تھا کہ آپ کیسے غصہ کر رہے ہیں، بطور جج ہماری تکلیف دہ ڈیوٹی ہے چبھتے سوالات پوچھنا ہوتے ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں غصہ نہ کروں،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

    سپریم کورٹ کے حکم پر”مونال” انتظامیہ نے ہوٹل بند کرنے کی تاریخ کا کیا اعلان

  • سپریم کورٹ،دو بیٹوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے خلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ،دو بیٹوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے خلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ نے 75 سالہ مرحوم شخص کے دو بیٹوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے خلاف اپیل خارج کر دی

    جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 75 سال کے بوڑھے شخص کے مرنے کے بعد زمین تنازع پر مقدمہ بازی کی گئی، ایک 75 سال کا بوڑھا شخص دو بیٹوں کے بجائے زمین کسی اور کو تحفے میں کیوں دے گا؟ خدا کا خوف کریں، ہمیں پتہ ہے مقدمہ بازی کیسے ہوتی ہے، ایسے بے بنیاد اور من گھڑت مقدمہ بازی کے باعث عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے، بے بنیاد مقدمہ بازی سے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ 2006ء میں جائیداد کے تنازع پر دعویٰ دائر کیا گیا تھا،آج سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا اور اپیل خارج کر دی

    واش روم میں خفیہ کیمرہ لگا کر طالبات کی 300 سے زائد فحش ویڈیو بنانیوالا گرفتار

    بھارت میں خواتین اب سڑکوں پر بھی غیر محفوظ،ہراسانی کا واقعہ

    بھارت کے ایک اور ہسپتال میں 15 سالہ لڑکی کاریپ

    دوست نے دوست کی 4 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    بھارت،قبرستان بھی محفوظ نہ رہے،قبرستان میں 9 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی

    بھارت میں 70 سالہ خاتون سے 35 سالہ ملزم کی زیادتی

    کمسن طالبہ سے زیادتی کا ملزم پولیس حراست سے فرار ہو کر تالاب میں کود گیا

  • نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان نے نااہلی کے معاملے پر اپیل کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست بیرسٹر علی ظفر نے دائر کی،عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے تحائف ڈیکلیئر نہ کرنے کے غلط الزام پر بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کا ریفرنس بھیجا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر عمران خان کو میانوالی سے ڈی سیٹ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمران خان کو انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کا لارجربینچ الیکشن کمیشن کے خلاف اپیل پر سماعت کر رہا تھا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل واپس لینے کی استدعا منظور کرنے سے انکار کردیا، اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ لارجربینچ کارروائی آگے نہیں بڑھا پا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں اپیل پر جلد سماعت کی عمران خان کی یہ دوسری درخواست ہے، ایک درخواست پہلے بھی علی ظفر نے دائر کی تھی،

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • سپریم کورٹ کا سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اہم فیصلہ

    سپریم کورٹ کا سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اہم فیصلہ

    سپریم کورٹ کا سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سزائے موت کے مجرمان کیساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے،ڈیتھ سیل کے قیدیوں کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا،سزائے موت کے مجرمان کی پرائیویسی کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا،سزائے موت کے تمام مجرمان ایک ہی واش روم استعمال کرتے ہیں،سزائے موت کے مجرم کا سیل 9×12 کا رکھا جاتا ہے،سزائے موت کے مجرم کو دن میں صرف ایک گھنٹہ باہر نکلنے کی اجازت ہوتی ہے،ڈیتھ سیل کے حالات دیگر قیدیوں کی نسبت بدترین ہیں،ڈیتھ سیل میں مجرم کو تنہا اور کڑی نگرانی میں رکھا جاتا ہے،سزائے موت کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم کیساتھ غیر انسانی سلوک کیا جائے،اقوام متحدہ نے قیدیوں کے حقوق سے متعلق نیلسن مینڈیلا رولز بنا رکھے ہیں پاکستان بھی اقدام متحدہ کا رکن ہے،پاکستان کے جیل قوانین فرسودہ ہوچکے جن پر حکومت نے بھی توجہ نہیں دی،حکومت کو سزائے موت کے قیدیوں سے متعلق فوری اقدامات کرنے چاہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کے مجرم غلام شبیر کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی،سپریم کورٹ نے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ،9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ غلام شبیر 34 سال سے قید میں ہے،مجرم عمر قید سے زیادہ سزا کاٹ چکا ہےمتعدد عدالتی فیصلوں میں سزائے موت کو عمر قید میں بدلا گیا، فیصلے کی کاپی سیکرٹری داخلہ،صوبائی چیف سیکرٹریز سمیت تمام سرکاری لا افسران کو ارسال کر دی گئی

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • مبارک ثانی کیس،وفاق کی درخواست منظور،فیصلے کے پیرا گراف حذف

    مبارک ثانی کیس،وفاق کی درخواست منظور،فیصلے کے پیرا گراف حذف

    مبارک ثانی کیس،پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    سُپریم کورٹ نے وفاق کی نظرثانی درخواست منظور کرلی،فیصلے کے پیرا گراف 42 ،7 سمیت 49 سی کو حذف کردیا،6 اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف حذف کر دیئے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی غلطی سے بالاتر نہیں ہیں، ہم سے غلطی ہو تو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اصلاح ہونی چاہئے، سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلے میں درستگی کیلئے رجوع کیا گیا،عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کا بھی جائزہ لیا، سپریم کورٹ نے علماء کرام کی تجاویز منظور کرلی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مبارک ثانی نظرثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا،نظرثانی فیصلے کے حذف کردہ پیراگرافس میں قادیانیوں کی ممنوعہ کتاب، قادیانیوں کی تبلیغ سے متعلق زکر کیا گیا تھا،مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں رائے دی تھی کہ سپریم کورٹ صرف خود کو ضمانت تک محدود رکھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ ہیں،پنجاب حکومت نے نظرثانی فیصلے میں درستگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے 24 جولائی کے فیصلے میں ترمیم کی استدعا کر رکھی ہے

    سماعت کے آغاز پر ریاض حنیف راہی روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن مجبور ہوں ،میں ہر نماز میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، انسان اپنے قول فعل سے پہچانا جاتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علما کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا،سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات کی گئیں تھی، کیونکہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ‏کبھی کوئی غلطی ہو تو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ، جنہوں نے نظرثانی درخواست دائرکی انکا شکریہ ادا کیا ،اگرہم سے کوئی غلطی ہوجائے تواس کی اصلاح بھی ہونی چاہے ، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے،50 ویں سالگرہ پر میں خود پارلیمنٹ میں گیا،میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ‏کون کون صاحب علم عدالت میں موجود ہیں مولانا فضل الرحمن عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں،دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی یہاں پر آئے غلطیوں کی نشاندہی کریں،ہم تمام لوگوں کو موقع دینگے بات کرنے کا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں مختصر سی بات کرونگا،متنازع فیصلہ کسی صورت قبول نہیں،فیصلہ آئین اور اسلام کی روح کے منافی ہے،ختم نبوت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ عدالتی فیصلوں سے ابہام پیدا ہوا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فیصلوں کہہ رہے کیا اور بھی کوئی فیصلے ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جیسے آپ نے کہا غلطیاں ہوجاتی ہیں اس لیے میری فیصلوں کی بات کو بھی نظرانداز کیا جائے،72 سال کا ہوگیا ہوں پہلی بار کسی عدالت میں پیش ہورہا ہوں،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے آئے ہیں،میرے والد مفتی محمود نے قادیانیوں کے سربراہ سے مباحثہ کیا تھا،مرزا غلام احمد کے مطابق جو ان پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے،مرزا غلام احمد نے کہا تھا صحابہ کرام بھی ان پر ایمان نہ لاتے تو نعوذبااللہ کافر ہوتے،قادیانی ایک فتنہ ہے جس کا حل نکالنا چاہیے،قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں باقی سب کو کافر کہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز آئی تھیں انکو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، مولانا تقی عثمانی کے اعتراضات سے اتفاق کرتا ہوں،جس شخص کو ضمانت دی گئی اس کو انڈر ٹرائل رکھا جائے،
    حکومت کو نظرثانی دائر کرتے ہوئے علما کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت کی درخواست میں آپکا بھی ذکر ہے،آپ پورے کیس میں عدالت موجود رہیے گا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جی میں انشاءاللہ موجود رہوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ماضی میں لوگ قاضی یا جج بننا ہی نہیں چاہتے تھے کیونکہ یہ مشکل ہے،مجھے بھی قاضی بننے کا کوئی شوق نہیں تھا،آپ نے نظرثانی کی درخواست دی ہم نے فوری لگا دی کوئی بات نہیں چھپائی،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اللہ نے عدالت سے بچائے رکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اتنے برے نہیں ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قادیانی مرتد ہیں تو ہم نے انہیں غیر مسلم کا نام کیوں دیا یہ سوال بھی ہے،ہم پاکستان میں غیر مسلموں کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے،

    میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، غلطی ہوئی ہےتو ہم مانیں گے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں بطور چیف جسٹس بلوچستان سے اپنے فیصلوں میں قرآنی آیات کا ذکر کرتا ہوں، اِس کی وجہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں،عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہے ہمیں نشاندہی کریں،اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو ہم سوال کریں گے، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اسلئے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں،میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، غلطی ہوئی ہےتو ہم مانیں گے،

    سپریم کورٹ نے مولانا فضل الرحمان ،مفتی شیر محمد اور کمرہ عدالت میں موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کرلیا ،ڈاکٹرابو الخیر، محمد زبیر ،جماعت اسلامی کے فرید پراچہ بھی عدالت کی معاونت کریں گے،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 6 فروری کے فیصلے اور نظرثانی پر بھی تبصرہ بھیجا، مجھے نہیں معلوم آپ تک میری رائے پہنچی یا نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم وہ منگوالیں گے لیکن زبانی طور پر بھی آپ کو سننا چاہتے ہیں ،میں قرآن مجید ،احادیث اور فقہ کا حوالہ دیتا ہوں مگر شاید میری کم علمی ہے نظر ثانی فیصلے میں بتائیں کون سے پیراگراف غلط ہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ نظرثانی فیصلہ میں شروع کے پیراگراف درست ہیں اور یہ طے شدہ ہیں ،آپ نے فیصلہ میں لکھا کہ احمدی نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم دے رہا تھا،تاثر مل رہا ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم دے سکتے ہیں ،آپ نے صفحہ نمبر 42 پر قادیانی کیلئے تبلیغ کا لفظ استعمال کیا،298 سی ضابطہ فوجداری کے تحت وہ تبلیغ نہیں کرسکتے

    مفتی تقی عثمانی نے ویڈیو لنک پر دلائل دیئے،اور کہ ہم نےجورائےدی شاید نظراندازکیاگیا،فیصلے میں کچھ قرآنی آیات کاحوالہ دیاگیا،اچھی بات ہے چیف جسٹس فیصلوں میں آیات کاحوالہ دیتےہیں،اگرایسی آیات لکھ دی جائیں جن کامعاملے سے تعلق ہی نہ تومسائل پیدا ہوتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ تقی عثمانی صاحب میں معذرت چاہتا ہوں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں جنہیں نوٹس کیا تھا ان کی جانب سے ہمیں بہت سارے دستاویزات ملے،اگر ان سب کا بغور جائزہ لیتے تو شاید فیصلے کی پوری کتابیں جاتی، ان تمام دستاویزات کو دیکھ نہیں سکا وہ میری کوتاہی ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکشن 298 سی پڑھ کر سنایا،سیکشن کے مطابق غیر مسلم کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے تبلغ کی اجازت نہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ قادیانی اقلیت میں ہیں لیکن خود کو غیر مسلم نہیں تسلیم کرتے،علامہ تقی عثمانی نے 29 مئی کے فیصلے سے دو پیراگراف حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے استاد ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہمارے شریعت اپلیٹ بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آپ کو چاہئے تھا تمام نکات کو زیر بحث لاتے، کبھی کبھار بڑے فیصلے بھی لکھنا پڑتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کرتے ہوئے ہم سے بھی بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں، جو کام نہیں کرتا، وہ غلطی بھی نہیں کرتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل لطیف کھوسہ اور سربراہ سنی اتحاد حامد رضا کو عدالت میں بات کرنے سے روک دیا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وکیل کونہیں سنیں گے یہ واضح کررہے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کے نکتہ اعتراض پرہی سارا معاملہ شروع ہوا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ دیگرعلماء سے بڑے ہیں؟ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ درس نظامی کا فاضل ہوں کسی سے بڑے ہونے یابرابری کا دعویٰ نہیں کرتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور عدالتی کارروائی چلنے دیں،صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ عدالت کا پورا فیصلہ ہی غلط ہے،ہم چاہتے ہیں پوراعدالتی فیصلہ ہی واپس لیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل لطیف کھوسہ اور سربراہ سنی اتحاد حامد رضا کو عدالت میں بات کرنے سے روک دیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سربراہ سنی اتحاد کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ دیگر علما کرام سے بڑے ہیں ،عدالت میں مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی ویڈیو لنک کے ذریعے موجود ہیں

    مفتی حنیف قریشی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ بیٹھ جائیں ،مفتی حنیف قریشی نے کہا مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے آپ کے فیصلے سے، چیف جسٹس بولے آپ تشریف رکھیں مفتی حنیف قریشی چیف جسٹس کے کہنے پر نہیں بیٹھے، جسٹس نعیم نے کہا آپ کون ہیں بیٹھ جائیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان کو بلایا کہ انہیں سمجھائیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ آپ کی عدالت ہے آپ کو حکم چلتا ہے میں کیا کر سکتا ہوں۔

    میرے والد نے ایک پین تک نہ لیا،جائیداد لٹا دی، میں نے بھی کچھ نہیں لیا، پھر بھی الزامات، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے والد پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے، انہوں نے پاکستان سے کبھی ایک پین بھی نہیں لیا، میرے والد نے کہا اس کے باوجود میں نے اپنی ساری جائیداد لٹا دی، میں نے بھی یہاں سے کبھی کچھ نہیں لیا، لیکن ہم پر بنا کسی وجہ کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ بڑی با اختیار ہے،پارلیمنٹ تو سُپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی ختم کر سکتی ہے،
    جس دن مجھے لگے میں دباؤ میں آکر فیصلے کررہا ہوں اُس دن گھر چلا جاؤں گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مولانا فضل الرحمن کو Good To See You کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مولانا صاحب آپکے آنے کا شکریہ،عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں، علماء اکرام نے آرا دی ہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ تحفظات ہیں سب آپ کے سامنے ہیں، مولانا فضل الرحمن ایک دفعہ پھر سیٹ پر کھڑےہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں ،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیس کو صرف مبارک ثانی کی ضمانت تک محدود کریں اور مزید فیصلہ واپس لیں،

    مفتی شیر محمد خان کے دلائل شروع ہو گئے، مفتی شیر محمد نے کہا کہ میں سرزمین مقدس پر خصوصی دعا کر کے واپس آیا ہوں کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے۔مسلمہ کذاب کو حضرت ابوبکر صدیق نے مکمل روک دیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے فیصلے میں لکھا ہے کہ قانون کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا، 295c بھی قانون کے تابع ہے،مفتی شیر محمد نے کہا کہ پیراگراف 27,28,29,33,39پر بھی غور کرنا ہوگا، قادیانیوں کو باقی اقلیتوں سے الگ کردیا جائے گا تو ان پیراگراف پر بھی غور کرنا ہوگا،قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ نجی مقامات پر قادیانی اپنی تعلیمات کا پرچار کریں گے، قانون کے تابع کرنے سے انہیں نجی مقامات پر بھی اجازت ختم ہوگی، عدالت واضح کرے کہ قانون کے مطابق قادیانی نجی مقامات پر بھی تبلیغ نہیں کرسکتے،پیراگراف 7اور42 کو مکمل حذف کرنا ہوگا، قرآن میں تحریف کرنا بھی توہین ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شکوہ مجھے بھی ہے، ہم کتنے تحمل سے سب کو سن رہے ہیں مگر نوجوان وکلا کو دیکھیں، ریاض حنیف راہی اور ملک تیمور پھر نشستوں سے کھڑے ہوگئے ،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ ہمیں اخلاقیات کا اچھے سے علم ہے

    صاحبزادہ ابو الخیر زبیر نے کہا کہ ہم حیدر آباد سے آئے ہیں آپ نے عدالت آنے والے تمام تمام راستے بند کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ الزام مجھ پر مت لگائیں اس سے میرا تعلق نہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مناسب یہی ہے کہ عدالت مبارک ثانی کیس میں دونوں فیصلے کالعدم قرار دے، نہیں چاہتے کہ عدالت کے فیصلے میں ابہام کا کوئی فائدہ اٹھائے، سب ہی علماء اس تجویز سے متفق ہوں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سپریم کورٹ کے فیصلے کو UNDO کر سکتا ہے، پارلیمان اپنا کام کرے سپریم کورٹ کو اپنا کام کرنے دیں،

    مبارک ثانی کیس ،جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سپریم کورٹ پہنچ گئے ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ متنازعہ فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ۔فیصلہ آئین اور اسلام کی روح کے منافی ہے ۔ختم نبوت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔قوم تحفظ ختم نبوت کے متفق ،متحد اور ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہے ۔

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے؟چیف جسٹس برہم

    چائے ضروری ہے یا پاکستان؟ چائے پینا کم ہو جائیں تو ملک کا کتنا فائدہ ہوگا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے سر کی قیمت لگانیوالا ایک اور ملزم گرفتار

    کسی کو مارنے کے فتوے دینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔وزیر قانون

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی ،پیر ظہیر الحسن شاہ پر مقدمہ درج

    چیف جسٹس کیخلاف شرانگیز گفتگو ،قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا: وزیر دفاع