Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،دو بیٹوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے خلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ،دو بیٹوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے خلاف اپیل خارج

    سپریم کورٹ نے 75 سالہ مرحوم شخص کے دو بیٹوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے خلاف اپیل خارج کر دی

    جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 75 سال کے بوڑھے شخص کے مرنے کے بعد زمین تنازع پر مقدمہ بازی کی گئی، ایک 75 سال کا بوڑھا شخص دو بیٹوں کے بجائے زمین کسی اور کو تحفے میں کیوں دے گا؟ خدا کا خوف کریں، ہمیں پتہ ہے مقدمہ بازی کیسے ہوتی ہے، ایسے بے بنیاد اور من گھڑت مقدمہ بازی کے باعث عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے، بے بنیاد مقدمہ بازی سے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ 2006ء میں جائیداد کے تنازع پر دعویٰ دائر کیا گیا تھا،آج سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا اور اپیل خارج کر دی

    واش روم میں خفیہ کیمرہ لگا کر طالبات کی 300 سے زائد فحش ویڈیو بنانیوالا گرفتار

    بھارت میں خواتین اب سڑکوں پر بھی غیر محفوظ،ہراسانی کا واقعہ

    بھارت کے ایک اور ہسپتال میں 15 سالہ لڑکی کاریپ

    دوست نے دوست کی 4 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    بھارت،قبرستان بھی محفوظ نہ رہے،قبرستان میں 9 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی

    بھارت میں 70 سالہ خاتون سے 35 سالہ ملزم کی زیادتی

    کمسن طالبہ سے زیادتی کا ملزم پولیس حراست سے فرار ہو کر تالاب میں کود گیا

  • نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان نے نااہلی کے معاملے پر اپیل کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست بیرسٹر علی ظفر نے دائر کی،عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے تحائف ڈیکلیئر نہ کرنے کے غلط الزام پر بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کا ریفرنس بھیجا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر عمران خان کو میانوالی سے ڈی سیٹ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمران خان کو انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کا لارجربینچ الیکشن کمیشن کے خلاف اپیل پر سماعت کر رہا تھا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل واپس لینے کی استدعا منظور کرنے سے انکار کردیا، اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ لارجربینچ کارروائی آگے نہیں بڑھا پا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں اپیل پر جلد سماعت کی عمران خان کی یہ دوسری درخواست ہے، ایک درخواست پہلے بھی علی ظفر نے دائر کی تھی،

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • سپریم کورٹ کا سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اہم فیصلہ

    سپریم کورٹ کا سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اہم فیصلہ

    سپریم کورٹ کا سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سزائے موت کے مجرمان کیساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے،ڈیتھ سیل کے قیدیوں کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا،سزائے موت کے مجرمان کی پرائیویسی کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا،سزائے موت کے تمام مجرمان ایک ہی واش روم استعمال کرتے ہیں،سزائے موت کے مجرم کا سیل 9×12 کا رکھا جاتا ہے،سزائے موت کے مجرم کو دن میں صرف ایک گھنٹہ باہر نکلنے کی اجازت ہوتی ہے،ڈیتھ سیل کے حالات دیگر قیدیوں کی نسبت بدترین ہیں،ڈیتھ سیل میں مجرم کو تنہا اور کڑی نگرانی میں رکھا جاتا ہے،سزائے موت کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم کیساتھ غیر انسانی سلوک کیا جائے،اقوام متحدہ نے قیدیوں کے حقوق سے متعلق نیلسن مینڈیلا رولز بنا رکھے ہیں پاکستان بھی اقدام متحدہ کا رکن ہے،پاکستان کے جیل قوانین فرسودہ ہوچکے جن پر حکومت نے بھی توجہ نہیں دی،حکومت کو سزائے موت کے قیدیوں سے متعلق فوری اقدامات کرنے چاہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کے مجرم غلام شبیر کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی،سپریم کورٹ نے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ،9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ غلام شبیر 34 سال سے قید میں ہے،مجرم عمر قید سے زیادہ سزا کاٹ چکا ہےمتعدد عدالتی فیصلوں میں سزائے موت کو عمر قید میں بدلا گیا، فیصلے کی کاپی سیکرٹری داخلہ،صوبائی چیف سیکرٹریز سمیت تمام سرکاری لا افسران کو ارسال کر دی گئی

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • مبارک ثانی کیس،وفاق کی درخواست منظور،فیصلے کے پیرا گراف حذف

    مبارک ثانی کیس،وفاق کی درخواست منظور،فیصلے کے پیرا گراف حذف

    مبارک ثانی کیس،پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    سُپریم کورٹ نے وفاق کی نظرثانی درخواست منظور کرلی،فیصلے کے پیرا گراف 42 ،7 سمیت 49 سی کو حذف کردیا،6 اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف حذف کر دیئے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی غلطی سے بالاتر نہیں ہیں، ہم سے غلطی ہو تو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اصلاح ہونی چاہئے، سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلے میں درستگی کیلئے رجوع کیا گیا،عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کا بھی جائزہ لیا، سپریم کورٹ نے علماء کرام کی تجاویز منظور کرلی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مبارک ثانی نظرثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا،نظرثانی فیصلے کے حذف کردہ پیراگرافس میں قادیانیوں کی ممنوعہ کتاب، قادیانیوں کی تبلیغ سے متعلق زکر کیا گیا تھا،مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں رائے دی تھی کہ سپریم کورٹ صرف خود کو ضمانت تک محدود رکھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ ہیں،پنجاب حکومت نے نظرثانی فیصلے میں درستگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے 24 جولائی کے فیصلے میں ترمیم کی استدعا کر رکھی ہے

    سماعت کے آغاز پر ریاض حنیف راہی روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن مجبور ہوں ،میں ہر نماز میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، انسان اپنے قول فعل سے پہچانا جاتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علما کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا،سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات کی گئیں تھی، کیونکہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ‏کبھی کوئی غلطی ہو تو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ، جنہوں نے نظرثانی درخواست دائرکی انکا شکریہ ادا کیا ،اگرہم سے کوئی غلطی ہوجائے تواس کی اصلاح بھی ہونی چاہے ، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے،50 ویں سالگرہ پر میں خود پارلیمنٹ میں گیا،میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ‏کون کون صاحب علم عدالت میں موجود ہیں مولانا فضل الرحمن عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں،دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی یہاں پر آئے غلطیوں کی نشاندہی کریں،ہم تمام لوگوں کو موقع دینگے بات کرنے کا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں مختصر سی بات کرونگا،متنازع فیصلہ کسی صورت قبول نہیں،فیصلہ آئین اور اسلام کی روح کے منافی ہے،ختم نبوت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ عدالتی فیصلوں سے ابہام پیدا ہوا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فیصلوں کہہ رہے کیا اور بھی کوئی فیصلے ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جیسے آپ نے کہا غلطیاں ہوجاتی ہیں اس لیے میری فیصلوں کی بات کو بھی نظرانداز کیا جائے،72 سال کا ہوگیا ہوں پہلی بار کسی عدالت میں پیش ہورہا ہوں،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے آئے ہیں،میرے والد مفتی محمود نے قادیانیوں کے سربراہ سے مباحثہ کیا تھا،مرزا غلام احمد کے مطابق جو ان پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے،مرزا غلام احمد نے کہا تھا صحابہ کرام بھی ان پر ایمان نہ لاتے تو نعوذبااللہ کافر ہوتے،قادیانی ایک فتنہ ہے جس کا حل نکالنا چاہیے،قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں باقی سب کو کافر کہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز آئی تھیں انکو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، مولانا تقی عثمانی کے اعتراضات سے اتفاق کرتا ہوں،جس شخص کو ضمانت دی گئی اس کو انڈر ٹرائل رکھا جائے،
    حکومت کو نظرثانی دائر کرتے ہوئے علما کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت کی درخواست میں آپکا بھی ذکر ہے،آپ پورے کیس میں عدالت موجود رہیے گا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جی میں انشاءاللہ موجود رہوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ماضی میں لوگ قاضی یا جج بننا ہی نہیں چاہتے تھے کیونکہ یہ مشکل ہے،مجھے بھی قاضی بننے کا کوئی شوق نہیں تھا،آپ نے نظرثانی کی درخواست دی ہم نے فوری لگا دی کوئی بات نہیں چھپائی،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اللہ نے عدالت سے بچائے رکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اتنے برے نہیں ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قادیانی مرتد ہیں تو ہم نے انہیں غیر مسلم کا نام کیوں دیا یہ سوال بھی ہے،ہم پاکستان میں غیر مسلموں کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے،

    میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، غلطی ہوئی ہےتو ہم مانیں گے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں بطور چیف جسٹس بلوچستان سے اپنے فیصلوں میں قرآنی آیات کا ذکر کرتا ہوں، اِس کی وجہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں،عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہے ہمیں نشاندہی کریں،اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو ہم سوال کریں گے، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اسلئے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں،میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، غلطی ہوئی ہےتو ہم مانیں گے،

    سپریم کورٹ نے مولانا فضل الرحمان ،مفتی شیر محمد اور کمرہ عدالت میں موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کرلیا ،ڈاکٹرابو الخیر، محمد زبیر ،جماعت اسلامی کے فرید پراچہ بھی عدالت کی معاونت کریں گے،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 6 فروری کے فیصلے اور نظرثانی پر بھی تبصرہ بھیجا، مجھے نہیں معلوم آپ تک میری رائے پہنچی یا نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم وہ منگوالیں گے لیکن زبانی طور پر بھی آپ کو سننا چاہتے ہیں ،میں قرآن مجید ،احادیث اور فقہ کا حوالہ دیتا ہوں مگر شاید میری کم علمی ہے نظر ثانی فیصلے میں بتائیں کون سے پیراگراف غلط ہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ نظرثانی فیصلہ میں شروع کے پیراگراف درست ہیں اور یہ طے شدہ ہیں ،آپ نے فیصلہ میں لکھا کہ احمدی نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم دے رہا تھا،تاثر مل رہا ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم دے سکتے ہیں ،آپ نے صفحہ نمبر 42 پر قادیانی کیلئے تبلیغ کا لفظ استعمال کیا،298 سی ضابطہ فوجداری کے تحت وہ تبلیغ نہیں کرسکتے

    مفتی تقی عثمانی نے ویڈیو لنک پر دلائل دیئے،اور کہ ہم نےجورائےدی شاید نظراندازکیاگیا،فیصلے میں کچھ قرآنی آیات کاحوالہ دیاگیا،اچھی بات ہے چیف جسٹس فیصلوں میں آیات کاحوالہ دیتےہیں،اگرایسی آیات لکھ دی جائیں جن کامعاملے سے تعلق ہی نہ تومسائل پیدا ہوتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ تقی عثمانی صاحب میں معذرت چاہتا ہوں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں جنہیں نوٹس کیا تھا ان کی جانب سے ہمیں بہت سارے دستاویزات ملے،اگر ان سب کا بغور جائزہ لیتے تو شاید فیصلے کی پوری کتابیں جاتی، ان تمام دستاویزات کو دیکھ نہیں سکا وہ میری کوتاہی ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکشن 298 سی پڑھ کر سنایا،سیکشن کے مطابق غیر مسلم کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے تبلغ کی اجازت نہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ قادیانی اقلیت میں ہیں لیکن خود کو غیر مسلم نہیں تسلیم کرتے،علامہ تقی عثمانی نے 29 مئی کے فیصلے سے دو پیراگراف حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے استاد ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہمارے شریعت اپلیٹ بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آپ کو چاہئے تھا تمام نکات کو زیر بحث لاتے، کبھی کبھار بڑے فیصلے بھی لکھنا پڑتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کرتے ہوئے ہم سے بھی بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں، جو کام نہیں کرتا، وہ غلطی بھی نہیں کرتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل لطیف کھوسہ اور سربراہ سنی اتحاد حامد رضا کو عدالت میں بات کرنے سے روک دیا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وکیل کونہیں سنیں گے یہ واضح کررہے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کے نکتہ اعتراض پرہی سارا معاملہ شروع ہوا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ دیگرعلماء سے بڑے ہیں؟ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ درس نظامی کا فاضل ہوں کسی سے بڑے ہونے یابرابری کا دعویٰ نہیں کرتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور عدالتی کارروائی چلنے دیں،صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ عدالت کا پورا فیصلہ ہی غلط ہے،ہم چاہتے ہیں پوراعدالتی فیصلہ ہی واپس لیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل لطیف کھوسہ اور سربراہ سنی اتحاد حامد رضا کو عدالت میں بات کرنے سے روک دیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سربراہ سنی اتحاد کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ دیگر علما کرام سے بڑے ہیں ،عدالت میں مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی ویڈیو لنک کے ذریعے موجود ہیں

    مفتی حنیف قریشی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ بیٹھ جائیں ،مفتی حنیف قریشی نے کہا مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے آپ کے فیصلے سے، چیف جسٹس بولے آپ تشریف رکھیں مفتی حنیف قریشی چیف جسٹس کے کہنے پر نہیں بیٹھے، جسٹس نعیم نے کہا آپ کون ہیں بیٹھ جائیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان کو بلایا کہ انہیں سمجھائیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ آپ کی عدالت ہے آپ کو حکم چلتا ہے میں کیا کر سکتا ہوں۔

    میرے والد نے ایک پین تک نہ لیا،جائیداد لٹا دی، میں نے بھی کچھ نہیں لیا، پھر بھی الزامات، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے والد پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے، انہوں نے پاکستان سے کبھی ایک پین بھی نہیں لیا، میرے والد نے کہا اس کے باوجود میں نے اپنی ساری جائیداد لٹا دی، میں نے بھی یہاں سے کبھی کچھ نہیں لیا، لیکن ہم پر بنا کسی وجہ کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ بڑی با اختیار ہے،پارلیمنٹ تو سُپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی ختم کر سکتی ہے،
    جس دن مجھے لگے میں دباؤ میں آکر فیصلے کررہا ہوں اُس دن گھر چلا جاؤں گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مولانا فضل الرحمن کو Good To See You کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مولانا صاحب آپکے آنے کا شکریہ،عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں، علماء اکرام نے آرا دی ہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ تحفظات ہیں سب آپ کے سامنے ہیں، مولانا فضل الرحمن ایک دفعہ پھر سیٹ پر کھڑےہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں ،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیس کو صرف مبارک ثانی کی ضمانت تک محدود کریں اور مزید فیصلہ واپس لیں،

    مفتی شیر محمد خان کے دلائل شروع ہو گئے، مفتی شیر محمد نے کہا کہ میں سرزمین مقدس پر خصوصی دعا کر کے واپس آیا ہوں کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے۔مسلمہ کذاب کو حضرت ابوبکر صدیق نے مکمل روک دیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے فیصلے میں لکھا ہے کہ قانون کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا، 295c بھی قانون کے تابع ہے،مفتی شیر محمد نے کہا کہ پیراگراف 27,28,29,33,39پر بھی غور کرنا ہوگا، قادیانیوں کو باقی اقلیتوں سے الگ کردیا جائے گا تو ان پیراگراف پر بھی غور کرنا ہوگا،قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ نجی مقامات پر قادیانی اپنی تعلیمات کا پرچار کریں گے، قانون کے تابع کرنے سے انہیں نجی مقامات پر بھی اجازت ختم ہوگی، عدالت واضح کرے کہ قانون کے مطابق قادیانی نجی مقامات پر بھی تبلیغ نہیں کرسکتے،پیراگراف 7اور42 کو مکمل حذف کرنا ہوگا، قرآن میں تحریف کرنا بھی توہین ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شکوہ مجھے بھی ہے، ہم کتنے تحمل سے سب کو سن رہے ہیں مگر نوجوان وکلا کو دیکھیں، ریاض حنیف راہی اور ملک تیمور پھر نشستوں سے کھڑے ہوگئے ،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ ہمیں اخلاقیات کا اچھے سے علم ہے

    صاحبزادہ ابو الخیر زبیر نے کہا کہ ہم حیدر آباد سے آئے ہیں آپ نے عدالت آنے والے تمام تمام راستے بند کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ الزام مجھ پر مت لگائیں اس سے میرا تعلق نہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مناسب یہی ہے کہ عدالت مبارک ثانی کیس میں دونوں فیصلے کالعدم قرار دے، نہیں چاہتے کہ عدالت کے فیصلے میں ابہام کا کوئی فائدہ اٹھائے، سب ہی علماء اس تجویز سے متفق ہوں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سپریم کورٹ کے فیصلے کو UNDO کر سکتا ہے، پارلیمان اپنا کام کرے سپریم کورٹ کو اپنا کام کرنے دیں،

    مبارک ثانی کیس ،جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سپریم کورٹ پہنچ گئے ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ متنازعہ فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ۔فیصلہ آئین اور اسلام کی روح کے منافی ہے ۔ختم نبوت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔قوم تحفظ ختم نبوت کے متفق ،متحد اور ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہے ۔

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے؟چیف جسٹس برہم

    چائے ضروری ہے یا پاکستان؟ چائے پینا کم ہو جائیں تو ملک کا کتنا فائدہ ہوگا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے سر کی قیمت لگانیوالا ایک اور ملزم گرفتار

    کسی کو مارنے کے فتوے دینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔وزیر قانون

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی ،پیر ظہیر الحسن شاہ پر مقدمہ درج

    چیف جسٹس کیخلاف شرانگیز گفتگو ،قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا: وزیر دفاع

  • سپریم کورٹ، ن لیگی امیدوار کو جھٹکا،دوبارہ گنتی کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ، ن لیگی امیدوار کو جھٹکا،دوبارہ گنتی کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ،حلقہ این اے 97 فیصل آبادمیں دوبارہ گنتی کی درخواست خارج کر دی گئی

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم دوبارہ گنتی پر پہلے فیصلہ دے چکے ہیں، کیا کیس میں بھی ویسے ہی حقائق ہیں؟ ن لیگی وکیل نے کہا کہ کیس میں بھی حقائق وہی ہیں،عدالت نے کہا کہ آر او کہہ رہا ہے اسے دوبارہ گنتی کی درخواست نہیں ملی، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جو درخواست دکھا رہے ہیں اس پر تاریخ نہیں، کیسے مان لیں کہ آپ نے درخواست 9 فروری کو ہی دی تھی، نتائج مرتب ہونے سے پہلے آپ نے آر او کو درخواست دی،

    تحریک انصاف کے سعد اللہ بلوچ کی قومی اسمبلی رکنیت برقرار رہے گی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ میں این اے 97فیصل آباد میں دوبارہ گنتی کے کیس میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ کی اپیل خارج کر دی گئی.

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • سپریم کورٹ، جناح ہاؤس حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، جناح ہاؤس حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، نو مئی جناح ہائوس حملہ کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملزم پر کیا الزام ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ملزم پر پولیس کانسٹیبل کو ڈنڈا مار کر زخمی کرنے کا الزام ہے،میڈیکل رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار کو ہجوم نے پتھر مار کر زخمی کیا تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم موقع پر موجود تھا؟ وکیل ملزم نے کہا کہ ملزم دکاندار ہے موقع پر موجود نہیں تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ملزم کی موجودگی کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملزم کی موجودگی کے کیا شواہد پیش کیے گئے ہیں؟ وکیل ملزم نے کہا کہ کوئی سی سی ٹی وی پیش نہیں کی گئی نہ شواہد موجود ہیں، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس سننے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس سننے سے روک دیا

    بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات معطل کر دیئے ،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی کاروائی آگے نہیں بڑھا سکتی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں،سپریم کورٹ نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کو بھی نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ طلب کر لیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی

    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا، تفتیش جاری ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنانا چاہتا، سچ جاننے کیلئے انکوائری کمیشن بنا اسے سپریم کورٹ سے سٹے دے دیا، سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا، پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا، نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انہوں نے لیک کی ہو،کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے،آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے،

    سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس کی کاروائی آگے بڑھانے سے روک دیا،سپریم کورٹ نے غیر قانونی سسرویلینس سے روکنے کا حکم بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ کی آج کی عدالتی کاروائی کے بعد اداروں کو ڈیجیٹل نگرانی پر بھی ریلیف مل گیا,

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے،جسٹس نعیم اختر افغان
    جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس سے متعلق سماعت روکنے سے پہلے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ جانچنے اور اس تک پہنچنے کیلئے کوئی تیار نہیں،حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن بنایا تو اسے سپریم کورٹ سے رکوا دیا گیا، بس اسموک اسکرین بنا دو تا کہ سچ تک رسائی نا ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وہ احکامات دیئے جس کی کسی نے استدعا ہی نہیں کی، سب سے پہلے تو آڈیو لیکس والے افراد کا موبائل لینا چاہیے تھا،جن افراد کی آڈیو لیک ہوئی ان کے موبائل فونز کیوں نہیں لیے گئے؟آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے

    آڈیو لیکس کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا جس میں مبینہ طور پر لطیف کھوسہ اور بشری بی بی کی آڈیو کا تنازعہ تھا جس پر وفاقی حکومت اپیل لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی اور سپریم کورٹ کے معزز ججز پر مشتمل دو رکنی بینچ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان نے سماعت کی

    سماعت کے دوران ججز نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے آڈیو آپس میں بات کرنے والے دونوں میں سے کسی نے ریلیز کی ہو کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟ کیونکہ آج کل ہر موبائل ڈیوائس میں ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہے،جسٹس امین الدین خان نے حکم نامے میں لکھوایا کہ ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں آرٹیکل 199 کی حد کو عبور کیا ہے،کاونٹر ٹیررازم اور قانونی کاروائی کیلئے فون ٹیپنگ سے روکنے کا ہائیکورٹ کا حکم صرف ایک سماعت کیلئے تھا،سرویلینس سے روکنے کے حکم کو بھی سپریم کورٹ نے معطل کر دیا

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ  سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • آڈیو لیکس کیس،سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آڈیو لیکس کیس،سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آڈیو لیکس کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا، بشری بی بی نجم ثاقب آڈیو لیک کیس میں جسٹس بابر ستار کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان ،جسٹس نعیم افغان 19 اگست کو سماعت کرینگے،بشری بی بی نجم ثاقب نے آڈیوز کو اسلام آباد میں چیلنج کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاروائی، حکم ناموں کیخلاف وفاق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،اب سپریم کورٹ میں درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ہے،19 اگست کو دو رکنی بینچ سماعت کرے گا

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ  سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےسیکرٹری کابینہ کامران علی افضل پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیوں نہ آپ پر فرد جرم عائد کریں، سچ بتائیں چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ کے نوٹی فیکیشن کے پیچھے کون ہے؟ کس کے کہنے پر نوٹی فیکیشن جاری ہوا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ میرے علم میں نہیں،چئیرمن وائلڈ لائف کی تبدیلی کے احکامات وزیر اعظم نے جاری کئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے الزام وزیر اعظم پر لگا دیا ہے، سیکرٹری کابینہ نے بھائی کو بچانے کیلئے الزام وزیر اعظم پر عائد کردیا ہے،سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم کو بس کے نیچے دھکا دیدیا ہے، مارگلہ ہلز سے متعلق حکم کے بعد سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا، فریقین کی رضامندی سے حکم جاری ہوا پھر پروپیگنڈہ کون کر رہا ہے، آپ کے بھائی لقمان علی افضل کدھر ہیں، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نہیں معلوم وہ کدھر ہیں،

    2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ پروپیگنڈہ وار سپریم کورٹ کیخلاف کیوں چل رہی ہے، اسلام آباد میں کئی جگہوں پر ہاوسنگ سوسائٹی کےاشتہارات لگے ہیں،وکیل نجی ہاؤسنگ نے کہا کہ ہماری سوسائٹی خیبر پختونخوا میں ہے،ہماری سوسائٹی کے درجنوں اشتہارات اسلام آباد میں لگے ہیں، سی ڈی اے کے افسر نے رابطہ کرکے سوسائٹی کے مالک سے سپانسر مانگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے کس افسر نے رابطہ کیا،وکیل نے کہا کہ یہ مجھے نہیں معلوم ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰیٰ نے کہا کہ مارگلہ ہلز میں آپ سوسائیٹی کیسے بنا رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی اپنی ملکیتی اراضی ہے اس پر منصوبہ شروع کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات کدھر ہے،وکیل نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات میرے موکل کے پاس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شاہ صاحب اپنے موکل کو بلالیں،2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،مارگلہ ہلز کے معاملہ پر وزارت داخلہ وزارت کابینہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور سی ڈی اے ملوث ہیں،

    آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،تاثر دے رہا کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،چیف جسٹس
    وکیل شاہ خاور نے کہا کہ میرا موکل ڈیڑھ گھنٹے میں سپریم کورٹ میں پہنچ جائینگے،میرا موکل صوابی سے نکل آیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے موکل کا نام کیا ہے، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کا نام صدیق انور ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موکل کا پورا نام بتائیں، وکیل نے کہا کہ موکل کا پورا نام کیپٹن صدیق انور ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کے موکل کو بھی توہین عدالت کو نوٹس جاری کریں،آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،آپ کے موکل نے نام کیساتھ ریٹائرڈ بھی نہیں لکھا،کیا آپ کا موکل تاثر دے رہا ہے کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،اس ملک میں ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے،ساری حکومت آج عدالت میں کھڑی ہے لیکن معلوم کچھ نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل پارک کو مجموعی طور پر بچانا ہے، خوبصورتی ساری مارگلہ ہلز کی ہے،

    ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، سپریم کورٹ پر سب سے پہلے ہم نے انگلی اٹھائی،10,10 سال سے خلاف قانون بیٹھنے والوں کو واپس بھیجا، ڈیپوٹیشن والوں کو واپس کرنے پر بھی شور مچا،کہا گیا کہ چیف جسٹس نے یہ کردیا وہ کردیا،ذاتی حملہ کرا لو، گالی گلوچ کرا لو بس،میں آزادی اظہار رائے ہر یقین رکھتا ہوں،آج تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی،سیکریٹری کابینہ نے سچ نہ بولا تو نتائج بھگتیں گے، زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،ایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں جو دفاع کر سکے،

    عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری پھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی طر ف سے 190 ملین پاؤنڈزکیس کا تذکرہ بھی کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری کروپھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،ان 190 ملین پاؤنڈزوالوں سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا،اس وقت کی حکومت نےبرطانیہ سے ملنے والے پیسے طاقتورشخص کو دے دیئے،برطانوی حکومت نےپیسے واپس بھجوائے مگراسی چوری کرنے والے شخص کوواپس کردیئے گئے،شکرہے کہ بیرون ممالک کی ایسی ایجنسیاں ہیں جوفعال ہیں،ججزکوگالیاں دینے کیلئے کرایہ کے بندے رکھ لیتے ہیں،اگرہمت ہے توہمارے سامنے آکربولیں ہم جواب دیں گے

    پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ایسا ہی ہے توپارلیمنٹ بند کر دیں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزاردت داخلہ کے ماتحت کیوں کیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس کو درخواست آئی کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تصوراتی بات لگتی ہے وزارت ہاؤسنگ سی ڈی اے کے ماتحت ہے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے،پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ہم تو کہہ رہے ہیں سی ڈی اے کو بھی وزارت داخلہ سے نکال دیں،اگر ایسی بات ہے تو وزارت تعلیم کو وزارت ریلویز میں ڈال دیں،کیوں نہ وزارت داخلہ کو نوٹس کریں سارا گند ہی ختم ہو جائے گا،پارلیمان کس لیے ہوتا ہے پارلیمان میں ایسے موضوعات پر بحث کیوں نہیں ہوتی،اگر ایسا ہے تو پارلیمنٹ کو بند کردیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا نہیں آرٹیکل 99 کے تحت رولز آف بزنس بنتے ہیں جس سے معاملات چلائے جاتے ہیں،

    جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بات تو کر سکتے ہیں،کوئی طاقتور آیا ہو گا اور اس نے کہا ہو گا سی ڈی اے کو میری وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں پلاٹس وغیرہ کے بھی معاملات ہوتے ہیں، ،جسٹس نعیم اختر افغان نے چیئرمین سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے،کیا سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت رہنا چاہیے،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کو وزارت داخلہ سے عملدرآمد کرنے کیلئےپاور مل جاتی ہے،پولیس اور انتظامیہ بھی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیئرمین سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی طبعیت ٹھیک ہے،آپ اتنے اہل نہیں ہیں کہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروا سکیں ،اگر ایسی بات ہے تو ایف بی آر کو بھی وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،پھر ٹیکس نہ دینے والوں کو پولیس پکڑ لے گی،جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز آف بزنس کے تحت فیڈرل گورنمنٹ ڈویژنز کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کرتی رہتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت داخلہ وزیر اعظم آفس سے بھی زیادہ طاقتور ہے،

    سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا، بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا،سیکرٹری کابینہ نے بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،طاقتور شخصیات نے اپنی مرضی سے کام کروائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اسلام آباد کی سب سے قیمتی جگہ کونسی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ قیمتی جگہ شاید ون کانسٹیٹیوشن ایونیو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلڈنگ کی بات نہیں کر رہے جگہ کا پوچھ رہا ہوں،اسلام آباد میں سب سے مہنگی جگہ ای سیکٹر ہے،آپکو پتا ہے ای سیکٹر کس نے بنوایا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بارے علم نہیں،وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ اسلام آباد کا ای سیکٹر ضیا الحق کے دور میں بنوایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل ضیا الحق کے حکم پر ای سیکٹر بنایا گیا، مارگلہ ہلز کے سامنے ہونے کی وجہ سے ای سیکٹر سب سے مہنگا ہے،چاوپر سے حکم آیا ضیا الحق کا تو کسی نے آگے سے اعتراض نہیں کیا ہوگا،

    لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے مارگلہ میں کمرشل سرگرمیاں روکنے کا کہا نوٹیفکیشن نکلنے لگے، یہاں کہا جاتا ہے مارگلہ میں پودے لگا رہے ہیں،کوئی آدھے دماغ والا آدمی بھی ایسی بات نہیں بولے گا، جنگل میں پودوں کی افزائش خود ہوا کرتی ہے، چیف جسٹس نےضیا دور میں پولن کا باعث بننے والے درختوں کی شجرکاری کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ چار دہائی پہلے ایک صاحب آئے اور پیپر میلبری لگاتے رہے، کسی ایکسپرٹ سے پوچھا بھی نہیں کیا ہو گا،مونال کے مالک نے سپریم کورٹ کیخلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا، کہتے ہیں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے،اپنے کسی اور ریستوران میں انہیں ملازمت دے دیں،لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،

    سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟چیف جسٹس کا پائن سٹی کے مالک سے استفسار
    ڈی جی گلیات اور پائن سٹی کے مالک کیپٹن رصدیق انور پیش ہو گئے ، ڈی جی گلیات نے عدالت میں کہا کہ ہم نے پائن سٹی کوتعمیرات سے روکا یہ اسٹے لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدیق انور سے استفسار کیا کہ آپ وہاں کیاں بنانا چاہتے ہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ مجھے معاف کر دیں میں کچھ نہیں بناؤں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیا اب بھی فوج میں ہیں؟ نام کیساتھ ریٹائرڈ کیوں نہیں لکھا؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں 1999 میں ریٹائرڈ ہو گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی کے ساتھ آپکا ایڈریس جی ایچ کیو کا کیوں ہے؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ جب یہ رجسٹرڈ کروایا تب ایڈریس یہی تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ سروس میں ہوتے ہوئے بزنس کر سکتے تھے؟جب آپ ریٹائرڈ ہوئے آپ کی تنخواہ کیا تھی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ اس وقت کم تنخواہیں تھیں میری سات ہزار روپے تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے گاؤں کی زمین بیچی تھی، میں نے پھر یہ زمین نواب آف خان پور سے خریدی، مارگلہ پہاڑ بھی نواب آف خان پور کے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیایہ اللہ کے نہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہاکہ اللہ نے ہی انہیں دیئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فوجی ہیں کس طرح کی بات کر رہے ہیں؟آپ مارگلہ کو تباہ کر رہے ہیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں تو مارگلہ کو بنا رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنا قدرت نے دیا ہے آپ اسے چھوڑ دیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ چھوڑ دیتا ہوں، میں صرف نیچر ایڈونچر پارک بنانا چاہتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی نام سے تو لگتا ہے یہ رہائشی منصوبہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے اس نام سے نقصان اٹھایا ہے سوچتا ہوں نام بدل دوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نام نہیں کام ہی بدل دیں، یہاں تعمیرات نہیں ہو سکتیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے وہاں نئے درخت بھی لگائے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ آپ کا صدقہ جاریہ رہے گا ثواب آپ کو ملے گا،نیشنل پارک میں تعمیرات نہیں ہو سکتیں ہمارا فیصلہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نیشنل پارک میں نہیں ہوں یہ میری ملکیتی زمین ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ملکیت رکھیں مگر اس پر تعمیرات نہیں کر سکتے، خاور شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنی زمین پر قانونی کاروبار ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اپنا پلاٹ بھی ہو سی ڈی اے باونڈری وال کے اندر ایک حد تک آپ کو تعمیرات نہیں کرنے دیتا،

    محسن نقوی کو بڑا جھٹکا،وائلڈ لائف کوموسمیاتی تبدیلی سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس
    سپریم کورٹ نے سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی، اٹارنی جنرل کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی حکومت نے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا،عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ کے مالک لقمان علی افضل نے سپریم کورٹ کیخلاف مہم چلائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ملازمین بے روزگار ہو گئے، بادی النظر میں لقمان علی افضل کا عدلیہ مخالف مہم چلانا توہین عدالت ہے، لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا،

    مونال کے مالک لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، مونال ریسٹورینٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،سپریم کورٹ کے مقدمات کو کور کرنے والی خاتون صحافی مریم نواز خان نے ایکس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس پوسٹ کئے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاونڈز عوام کا چوری ہو جائے کوئی خبر نہیں چلتی مگر پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں دینے اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،

    موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں 190 ملین پاونڈز اور ملک ریاض کا نام لیے بغیر تذکرہ کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا 190 ملین پاونڈ حکومت اسی شخص کو دے دے جس نے لوٹے تو کوئی خبر نہیں چلتی لیکن پیسے دے کر اخبارات خرید کر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، آج کل بس موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے ، دس دس سال سے بیٹھے ڈیپوٹیشن پر ملازمین کو واپس بھیجا تو یہ دو نمبر کے لوگ کہتے ہیں چیف جسٹس نے پتا نہیں کیا کر دیا ،

    چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،چیف جسٹس
    مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع ہوٹل مونال 11 ستمبر 2024 کو بند ہونے جا رہا ہے، ہوٹل انتظامیہ نے باقاعدہ اعلان کر دیا،مونال انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم 11 ستمبر 2024 سے مونال کو بند کر رہے ہیں،سپریم کورٹ کے حکم پر مونال کو بند کیا جا رہا ہے،مونال انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کوبند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تمام چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے،مونال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آپ کے اعتماد کے لیے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آپ کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرنے، ہمیں پہچان، تعریف اور آپ کے دل میں جگہ دینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ،2006 کے بعد سے مونال کے لیے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں کی ایک مثبت انداز میں خدمت اور نمائش کرنا بے حد خوشی کی بات ہے، یہ سفر ہم سے وابستہ ٹیم کے لیے کامیابی کی کہانیوں اور جذبات سے بھرا ہوا تھا لیکن اب الوداع کہنے کا وقت ہے، جوکہ واقعی بہت مشکل ہے۔

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • 7 ستمبر  کو مینار پاکستان پر ختم نبوت کانفرنس کا اعلان

    7 ستمبر کو مینار پاکستان پر ختم نبوت کانفرنس کا اعلان

    اسلام آباد:عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ال پارٹیز کانفرنس قانون تحفظ ناموس رسالت کا انعقاد کیا گیا

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے ابتدائی خطاب میں کہا کہ قادیانیوں کا مسئلہ آئین و قانون کے رو سے طے ہوچکا ہے ،اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،ان لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاچکا ہے ،عالمی قوتیں بھی ان کی پشت پناہی کررہی ہیں ،ریاست پاکستان پر ان کا دباؤ بڑھتا ہے ،اگر حکومتیں کچھ نہیں کر پاتی تو عدالتیں کود پڑتی ہیں، فیصلہ میں ایسا مواد ڈال دیا جاتا ہے جس سے ان طاقتوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے،فیصلے میں ایسی عبارت شامل کی گئی جس سے قادیانیوں کو لٹریچر شائع کرنے کا حق دیا گیا،قرآن کریم میں تحریف کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے،ان کو بطور فرقہ حق دیا کہ اگر یہ کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں،اگر ادارے اس حد تک جاتے ہیں ہیں تو امت مسلمہ کا موقف واضح ہونا چاہیے، ابتدائی طور پر آج علماء کرام کو دعوت دی گئی ہے،اس کے بعد سیاسی جماعتوں سے بھی بات کی جاسکتے ہے,پہلے علماء کرام کا ایک موقف پہ آنا ضروری ہے،اگر ہمارا موقف کمزور ہوگا تو انہوں نے آگے بڑھنا ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس امر کو تسلیم کریں کہ قادیانی مبارک احمد کیس میں اس کے فروری اور جولائی 2024 کے فیصلے متنازع ہیں، اس فیصلے کو قرآن و سنت اور آئین کے مطابق کرنے کے لیے چیف جسٹس آئین کے مطابق از خود انتظام کرے اور فیصلہ درست کرے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس اور تمام اسلامی قوانین کی حفاظت کے لیے ہر قدم اٹھایا جائے گا اور اسلامی قوانین اور شعائر اسلام کی ہر قیمت پر تحفظ کی جائے گی۔ سات ستمبر 1974 آئین پاکستان میں تحفظ ختم نبوت کے آئینی ترمیم کے 50 سال مکمل ہونے پر 7 ستمبر 2024 لاہور مینار پاکستان پر ختم نبوت کانفرنس ملت اسلامیہ پاکستان کی متفقہ مشترکہ تاریخ ساز کانفرنس ہوگی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔7 ستمبر 2024 کو لاہور مینار پاکستان پر جو ایک ملک گیر اجتماع ہوگا اور جس میں 7 ستمبر 1974 کی ترمیم کی یاد منائی جائے گی، اسے یوم الفتح کے طور پر منایا جائے گا، میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ اس کے بعد پھر ہم مزید اگلے اقدام کا فیصلہ کریں گے ممکن ہے یہ کانفرنس جو وہاں منعقد ہوگی وہ ایک بحر بے کنار ہوگی لیکن اسی سے ہی ایک ایسا سیلاب اٹھے گا جو پھر ملک میں ان قوتوں کو بہا کر لے جائے گا اور یہ ہم سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں، ہمارے تمام ادارے ہمارے اس فیصلے کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لیں، عدالت اس کا نوٹس لے، عدالت مادر پدر آزاد نہیں ہیں! وہ قرآن و سنت کی پابند ہے، وہ آئین پاکستان کی بھی پابند ہے، وہ قانون کی بھی پابند ہے اور اس کی پابندی کرتے ہوئے اپنے خیالات و نظریات اور اپنے اندر کا جو خبث باطن ہے اس کی بنیاد پر ہمیں اپنے نظریات ہمارے اوپر مسلط نہ کریں نہ ہم ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر شرعی اور اپنے حلف کے برعکس متنازعہ فیصلہ کرنے والے ججوں کے خلاف حکومت پاکستان فوری طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجیں، نیز آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے بھی ان ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ آل پارٹیز کانفرنس پارلیمانی کمیٹی کو مشترکہ موقف سے آگاہ کر رہی ہے۔

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید