Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ، ن لیگی امیدوار کو جھٹکا،دوبارہ گنتی کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ، ن لیگی امیدوار کو جھٹکا،دوبارہ گنتی کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ،حلقہ این اے 97 فیصل آبادمیں دوبارہ گنتی کی درخواست خارج کر دی گئی

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم دوبارہ گنتی پر پہلے فیصلہ دے چکے ہیں، کیا کیس میں بھی ویسے ہی حقائق ہیں؟ ن لیگی وکیل نے کہا کہ کیس میں بھی حقائق وہی ہیں،عدالت نے کہا کہ آر او کہہ رہا ہے اسے دوبارہ گنتی کی درخواست نہیں ملی، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جو درخواست دکھا رہے ہیں اس پر تاریخ نہیں، کیسے مان لیں کہ آپ نے درخواست 9 فروری کو ہی دی تھی، نتائج مرتب ہونے سے پہلے آپ نے آر او کو درخواست دی،

    تحریک انصاف کے سعد اللہ بلوچ کی قومی اسمبلی رکنیت برقرار رہے گی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ میں این اے 97فیصل آباد میں دوبارہ گنتی کے کیس میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ کی اپیل خارج کر دی گئی.

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • سپریم کورٹ، جناح ہاؤس حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، جناح ہاؤس حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، نو مئی جناح ہائوس حملہ کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملزم پر کیا الزام ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ملزم پر پولیس کانسٹیبل کو ڈنڈا مار کر زخمی کرنے کا الزام ہے،میڈیکل رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار کو ہجوم نے پتھر مار کر زخمی کیا تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم موقع پر موجود تھا؟ وکیل ملزم نے کہا کہ ملزم دکاندار ہے موقع پر موجود نہیں تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ملزم کی موجودگی کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملزم کی موجودگی کے کیا شواہد پیش کیے گئے ہیں؟ وکیل ملزم نے کہا کہ کوئی سی سی ٹی وی پیش نہیں کی گئی نہ شواہد موجود ہیں، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس سننے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس سننے سے روک دیا

    بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات معطل کر دیئے ،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی کاروائی آگے نہیں بڑھا سکتی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں،سپریم کورٹ نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کو بھی نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ طلب کر لیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی

    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا، تفتیش جاری ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنانا چاہتا، سچ جاننے کیلئے انکوائری کمیشن بنا اسے سپریم کورٹ سے سٹے دے دیا، سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا، پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا، نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انہوں نے لیک کی ہو،کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے،آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے،

    سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس کی کاروائی آگے بڑھانے سے روک دیا،سپریم کورٹ نے غیر قانونی سسرویلینس سے روکنے کا حکم بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ کی آج کی عدالتی کاروائی کے بعد اداروں کو ڈیجیٹل نگرانی پر بھی ریلیف مل گیا,

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے،جسٹس نعیم اختر افغان
    جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس سے متعلق سماعت روکنے سے پہلے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ جانچنے اور اس تک پہنچنے کیلئے کوئی تیار نہیں،حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن بنایا تو اسے سپریم کورٹ سے رکوا دیا گیا، بس اسموک اسکرین بنا دو تا کہ سچ تک رسائی نا ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وہ احکامات دیئے جس کی کسی نے استدعا ہی نہیں کی، سب سے پہلے تو آڈیو لیکس والے افراد کا موبائل لینا چاہیے تھا،جن افراد کی آڈیو لیک ہوئی ان کے موبائل فونز کیوں نہیں لیے گئے؟آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے

    آڈیو لیکس کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا جس میں مبینہ طور پر لطیف کھوسہ اور بشری بی بی کی آڈیو کا تنازعہ تھا جس پر وفاقی حکومت اپیل لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی اور سپریم کورٹ کے معزز ججز پر مشتمل دو رکنی بینچ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان نے سماعت کی

    سماعت کے دوران ججز نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے آڈیو آپس میں بات کرنے والے دونوں میں سے کسی نے ریلیز کی ہو کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟ کیونکہ آج کل ہر موبائل ڈیوائس میں ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہے،جسٹس امین الدین خان نے حکم نامے میں لکھوایا کہ ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں آرٹیکل 199 کی حد کو عبور کیا ہے،کاونٹر ٹیررازم اور قانونی کاروائی کیلئے فون ٹیپنگ سے روکنے کا ہائیکورٹ کا حکم صرف ایک سماعت کیلئے تھا،سرویلینس سے روکنے کے حکم کو بھی سپریم کورٹ نے معطل کر دیا

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ  سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • آڈیو لیکس کیس،سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آڈیو لیکس کیس،سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آڈیو لیکس کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا، بشری بی بی نجم ثاقب آڈیو لیک کیس میں جسٹس بابر ستار کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان ،جسٹس نعیم افغان 19 اگست کو سماعت کرینگے،بشری بی بی نجم ثاقب نے آڈیوز کو اسلام آباد میں چیلنج کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاروائی، حکم ناموں کیخلاف وفاق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،اب سپریم کورٹ میں درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ہے،19 اگست کو دو رکنی بینچ سماعت کرے گا

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ  سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےسیکرٹری کابینہ کامران علی افضل پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیوں نہ آپ پر فرد جرم عائد کریں، سچ بتائیں چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ کے نوٹی فیکیشن کے پیچھے کون ہے؟ کس کے کہنے پر نوٹی فیکیشن جاری ہوا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ میرے علم میں نہیں،چئیرمن وائلڈ لائف کی تبدیلی کے احکامات وزیر اعظم نے جاری کئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے الزام وزیر اعظم پر لگا دیا ہے، سیکرٹری کابینہ نے بھائی کو بچانے کیلئے الزام وزیر اعظم پر عائد کردیا ہے،سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم کو بس کے نیچے دھکا دیدیا ہے، مارگلہ ہلز سے متعلق حکم کے بعد سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا، فریقین کی رضامندی سے حکم جاری ہوا پھر پروپیگنڈہ کون کر رہا ہے، آپ کے بھائی لقمان علی افضل کدھر ہیں، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نہیں معلوم وہ کدھر ہیں،

    2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ پروپیگنڈہ وار سپریم کورٹ کیخلاف کیوں چل رہی ہے، اسلام آباد میں کئی جگہوں پر ہاوسنگ سوسائٹی کےاشتہارات لگے ہیں،وکیل نجی ہاؤسنگ نے کہا کہ ہماری سوسائٹی خیبر پختونخوا میں ہے،ہماری سوسائٹی کے درجنوں اشتہارات اسلام آباد میں لگے ہیں، سی ڈی اے کے افسر نے رابطہ کرکے سوسائٹی کے مالک سے سپانسر مانگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے کس افسر نے رابطہ کیا،وکیل نے کہا کہ یہ مجھے نہیں معلوم ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰیٰ نے کہا کہ مارگلہ ہلز میں آپ سوسائیٹی کیسے بنا رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی اپنی ملکیتی اراضی ہے اس پر منصوبہ شروع کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات کدھر ہے،وکیل نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات میرے موکل کے پاس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شاہ صاحب اپنے موکل کو بلالیں،2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،مارگلہ ہلز کے معاملہ پر وزارت داخلہ وزارت کابینہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور سی ڈی اے ملوث ہیں،

    آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،تاثر دے رہا کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،چیف جسٹس
    وکیل شاہ خاور نے کہا کہ میرا موکل ڈیڑھ گھنٹے میں سپریم کورٹ میں پہنچ جائینگے،میرا موکل صوابی سے نکل آیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے موکل کا نام کیا ہے، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کا نام صدیق انور ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موکل کا پورا نام بتائیں، وکیل نے کہا کہ موکل کا پورا نام کیپٹن صدیق انور ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کے موکل کو بھی توہین عدالت کو نوٹس جاری کریں،آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،آپ کے موکل نے نام کیساتھ ریٹائرڈ بھی نہیں لکھا،کیا آپ کا موکل تاثر دے رہا ہے کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،اس ملک میں ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے،ساری حکومت آج عدالت میں کھڑی ہے لیکن معلوم کچھ نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل پارک کو مجموعی طور پر بچانا ہے، خوبصورتی ساری مارگلہ ہلز کی ہے،

    ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، سپریم کورٹ پر سب سے پہلے ہم نے انگلی اٹھائی،10,10 سال سے خلاف قانون بیٹھنے والوں کو واپس بھیجا، ڈیپوٹیشن والوں کو واپس کرنے پر بھی شور مچا،کہا گیا کہ چیف جسٹس نے یہ کردیا وہ کردیا،ذاتی حملہ کرا لو، گالی گلوچ کرا لو بس،میں آزادی اظہار رائے ہر یقین رکھتا ہوں،آج تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی،سیکریٹری کابینہ نے سچ نہ بولا تو نتائج بھگتیں گے، زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،ایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں جو دفاع کر سکے،

    عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری پھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی طر ف سے 190 ملین پاؤنڈزکیس کا تذکرہ بھی کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری کروپھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،ان 190 ملین پاؤنڈزوالوں سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا،اس وقت کی حکومت نےبرطانیہ سے ملنے والے پیسے طاقتورشخص کو دے دیئے،برطانوی حکومت نےپیسے واپس بھجوائے مگراسی چوری کرنے والے شخص کوواپس کردیئے گئے،شکرہے کہ بیرون ممالک کی ایسی ایجنسیاں ہیں جوفعال ہیں،ججزکوگالیاں دینے کیلئے کرایہ کے بندے رکھ لیتے ہیں،اگرہمت ہے توہمارے سامنے آکربولیں ہم جواب دیں گے

    پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ایسا ہی ہے توپارلیمنٹ بند کر دیں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزاردت داخلہ کے ماتحت کیوں کیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس کو درخواست آئی کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تصوراتی بات لگتی ہے وزارت ہاؤسنگ سی ڈی اے کے ماتحت ہے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے،پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ہم تو کہہ رہے ہیں سی ڈی اے کو بھی وزارت داخلہ سے نکال دیں،اگر ایسی بات ہے تو وزارت تعلیم کو وزارت ریلویز میں ڈال دیں،کیوں نہ وزارت داخلہ کو نوٹس کریں سارا گند ہی ختم ہو جائے گا،پارلیمان کس لیے ہوتا ہے پارلیمان میں ایسے موضوعات پر بحث کیوں نہیں ہوتی،اگر ایسا ہے تو پارلیمنٹ کو بند کردیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا نہیں آرٹیکل 99 کے تحت رولز آف بزنس بنتے ہیں جس سے معاملات چلائے جاتے ہیں،

    جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بات تو کر سکتے ہیں،کوئی طاقتور آیا ہو گا اور اس نے کہا ہو گا سی ڈی اے کو میری وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں پلاٹس وغیرہ کے بھی معاملات ہوتے ہیں، ،جسٹس نعیم اختر افغان نے چیئرمین سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے،کیا سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت رہنا چاہیے،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کو وزارت داخلہ سے عملدرآمد کرنے کیلئےپاور مل جاتی ہے،پولیس اور انتظامیہ بھی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیئرمین سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی طبعیت ٹھیک ہے،آپ اتنے اہل نہیں ہیں کہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروا سکیں ،اگر ایسی بات ہے تو ایف بی آر کو بھی وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،پھر ٹیکس نہ دینے والوں کو پولیس پکڑ لے گی،جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز آف بزنس کے تحت فیڈرل گورنمنٹ ڈویژنز کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کرتی رہتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت داخلہ وزیر اعظم آفس سے بھی زیادہ طاقتور ہے،

    سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا، بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا،سیکرٹری کابینہ نے بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،طاقتور شخصیات نے اپنی مرضی سے کام کروائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اسلام آباد کی سب سے قیمتی جگہ کونسی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ قیمتی جگہ شاید ون کانسٹیٹیوشن ایونیو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلڈنگ کی بات نہیں کر رہے جگہ کا پوچھ رہا ہوں،اسلام آباد میں سب سے مہنگی جگہ ای سیکٹر ہے،آپکو پتا ہے ای سیکٹر کس نے بنوایا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بارے علم نہیں،وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ اسلام آباد کا ای سیکٹر ضیا الحق کے دور میں بنوایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل ضیا الحق کے حکم پر ای سیکٹر بنایا گیا، مارگلہ ہلز کے سامنے ہونے کی وجہ سے ای سیکٹر سب سے مہنگا ہے،چاوپر سے حکم آیا ضیا الحق کا تو کسی نے آگے سے اعتراض نہیں کیا ہوگا،

    لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے مارگلہ میں کمرشل سرگرمیاں روکنے کا کہا نوٹیفکیشن نکلنے لگے، یہاں کہا جاتا ہے مارگلہ میں پودے لگا رہے ہیں،کوئی آدھے دماغ والا آدمی بھی ایسی بات نہیں بولے گا، جنگل میں پودوں کی افزائش خود ہوا کرتی ہے، چیف جسٹس نےضیا دور میں پولن کا باعث بننے والے درختوں کی شجرکاری کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ چار دہائی پہلے ایک صاحب آئے اور پیپر میلبری لگاتے رہے، کسی ایکسپرٹ سے پوچھا بھی نہیں کیا ہو گا،مونال کے مالک نے سپریم کورٹ کیخلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا، کہتے ہیں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے،اپنے کسی اور ریستوران میں انہیں ملازمت دے دیں،لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،

    سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟چیف جسٹس کا پائن سٹی کے مالک سے استفسار
    ڈی جی گلیات اور پائن سٹی کے مالک کیپٹن رصدیق انور پیش ہو گئے ، ڈی جی گلیات نے عدالت میں کہا کہ ہم نے پائن سٹی کوتعمیرات سے روکا یہ اسٹے لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدیق انور سے استفسار کیا کہ آپ وہاں کیاں بنانا چاہتے ہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ مجھے معاف کر دیں میں کچھ نہیں بناؤں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیا اب بھی فوج میں ہیں؟ نام کیساتھ ریٹائرڈ کیوں نہیں لکھا؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں 1999 میں ریٹائرڈ ہو گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی کے ساتھ آپکا ایڈریس جی ایچ کیو کا کیوں ہے؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ جب یہ رجسٹرڈ کروایا تب ایڈریس یہی تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ سروس میں ہوتے ہوئے بزنس کر سکتے تھے؟جب آپ ریٹائرڈ ہوئے آپ کی تنخواہ کیا تھی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ اس وقت کم تنخواہیں تھیں میری سات ہزار روپے تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے گاؤں کی زمین بیچی تھی، میں نے پھر یہ زمین نواب آف خان پور سے خریدی، مارگلہ پہاڑ بھی نواب آف خان پور کے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیایہ اللہ کے نہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہاکہ اللہ نے ہی انہیں دیئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فوجی ہیں کس طرح کی بات کر رہے ہیں؟آپ مارگلہ کو تباہ کر رہے ہیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں تو مارگلہ کو بنا رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنا قدرت نے دیا ہے آپ اسے چھوڑ دیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ چھوڑ دیتا ہوں، میں صرف نیچر ایڈونچر پارک بنانا چاہتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی نام سے تو لگتا ہے یہ رہائشی منصوبہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے اس نام سے نقصان اٹھایا ہے سوچتا ہوں نام بدل دوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نام نہیں کام ہی بدل دیں، یہاں تعمیرات نہیں ہو سکتیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے وہاں نئے درخت بھی لگائے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ آپ کا صدقہ جاریہ رہے گا ثواب آپ کو ملے گا،نیشنل پارک میں تعمیرات نہیں ہو سکتیں ہمارا فیصلہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نیشنل پارک میں نہیں ہوں یہ میری ملکیتی زمین ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ملکیت رکھیں مگر اس پر تعمیرات نہیں کر سکتے، خاور شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنی زمین پر قانونی کاروبار ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اپنا پلاٹ بھی ہو سی ڈی اے باونڈری وال کے اندر ایک حد تک آپ کو تعمیرات نہیں کرنے دیتا،

    محسن نقوی کو بڑا جھٹکا،وائلڈ لائف کوموسمیاتی تبدیلی سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس
    سپریم کورٹ نے سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی، اٹارنی جنرل کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی حکومت نے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا،عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ کے مالک لقمان علی افضل نے سپریم کورٹ کیخلاف مہم چلائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ملازمین بے روزگار ہو گئے، بادی النظر میں لقمان علی افضل کا عدلیہ مخالف مہم چلانا توہین عدالت ہے، لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا،

    مونال کے مالک لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، مونال ریسٹورینٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،سپریم کورٹ کے مقدمات کو کور کرنے والی خاتون صحافی مریم نواز خان نے ایکس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس پوسٹ کئے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاونڈز عوام کا چوری ہو جائے کوئی خبر نہیں چلتی مگر پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں دینے اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،

    موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں 190 ملین پاونڈز اور ملک ریاض کا نام لیے بغیر تذکرہ کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا 190 ملین پاونڈ حکومت اسی شخص کو دے دے جس نے لوٹے تو کوئی خبر نہیں چلتی لیکن پیسے دے کر اخبارات خرید کر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، آج کل بس موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے ، دس دس سال سے بیٹھے ڈیپوٹیشن پر ملازمین کو واپس بھیجا تو یہ دو نمبر کے لوگ کہتے ہیں چیف جسٹس نے پتا نہیں کیا کر دیا ،

    چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،چیف جسٹس
    مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع ہوٹل مونال 11 ستمبر 2024 کو بند ہونے جا رہا ہے، ہوٹل انتظامیہ نے باقاعدہ اعلان کر دیا،مونال انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم 11 ستمبر 2024 سے مونال کو بند کر رہے ہیں،سپریم کورٹ کے حکم پر مونال کو بند کیا جا رہا ہے،مونال انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کوبند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تمام چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے،مونال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آپ کے اعتماد کے لیے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آپ کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرنے، ہمیں پہچان، تعریف اور آپ کے دل میں جگہ دینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ،2006 کے بعد سے مونال کے لیے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں کی ایک مثبت انداز میں خدمت اور نمائش کرنا بے حد خوشی کی بات ہے، یہ سفر ہم سے وابستہ ٹیم کے لیے کامیابی کی کہانیوں اور جذبات سے بھرا ہوا تھا لیکن اب الوداع کہنے کا وقت ہے، جوکہ واقعی بہت مشکل ہے۔

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • 7 ستمبر  کو مینار پاکستان پر ختم نبوت کانفرنس کا اعلان

    7 ستمبر کو مینار پاکستان پر ختم نبوت کانفرنس کا اعلان

    اسلام آباد:عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ال پارٹیز کانفرنس قانون تحفظ ناموس رسالت کا انعقاد کیا گیا

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے ابتدائی خطاب میں کہا کہ قادیانیوں کا مسئلہ آئین و قانون کے رو سے طے ہوچکا ہے ،اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،ان لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاچکا ہے ،عالمی قوتیں بھی ان کی پشت پناہی کررہی ہیں ،ریاست پاکستان پر ان کا دباؤ بڑھتا ہے ،اگر حکومتیں کچھ نہیں کر پاتی تو عدالتیں کود پڑتی ہیں، فیصلہ میں ایسا مواد ڈال دیا جاتا ہے جس سے ان طاقتوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے،فیصلے میں ایسی عبارت شامل کی گئی جس سے قادیانیوں کو لٹریچر شائع کرنے کا حق دیا گیا،قرآن کریم میں تحریف کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے،ان کو بطور فرقہ حق دیا کہ اگر یہ کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں،اگر ادارے اس حد تک جاتے ہیں ہیں تو امت مسلمہ کا موقف واضح ہونا چاہیے، ابتدائی طور پر آج علماء کرام کو دعوت دی گئی ہے،اس کے بعد سیاسی جماعتوں سے بھی بات کی جاسکتے ہے,پہلے علماء کرام کا ایک موقف پہ آنا ضروری ہے،اگر ہمارا موقف کمزور ہوگا تو انہوں نے آگے بڑھنا ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس امر کو تسلیم کریں کہ قادیانی مبارک احمد کیس میں اس کے فروری اور جولائی 2024 کے فیصلے متنازع ہیں، اس فیصلے کو قرآن و سنت اور آئین کے مطابق کرنے کے لیے چیف جسٹس آئین کے مطابق از خود انتظام کرے اور فیصلہ درست کرے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس اور تمام اسلامی قوانین کی حفاظت کے لیے ہر قدم اٹھایا جائے گا اور اسلامی قوانین اور شعائر اسلام کی ہر قیمت پر تحفظ کی جائے گی۔ سات ستمبر 1974 آئین پاکستان میں تحفظ ختم نبوت کے آئینی ترمیم کے 50 سال مکمل ہونے پر 7 ستمبر 2024 لاہور مینار پاکستان پر ختم نبوت کانفرنس ملت اسلامیہ پاکستان کی متفقہ مشترکہ تاریخ ساز کانفرنس ہوگی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔7 ستمبر 2024 کو لاہور مینار پاکستان پر جو ایک ملک گیر اجتماع ہوگا اور جس میں 7 ستمبر 1974 کی ترمیم کی یاد منائی جائے گی، اسے یوم الفتح کے طور پر منایا جائے گا، میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ اس کے بعد پھر ہم مزید اگلے اقدام کا فیصلہ کریں گے ممکن ہے یہ کانفرنس جو وہاں منعقد ہوگی وہ ایک بحر بے کنار ہوگی لیکن اسی سے ہی ایک ایسا سیلاب اٹھے گا جو پھر ملک میں ان قوتوں کو بہا کر لے جائے گا اور یہ ہم سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں، ہمارے تمام ادارے ہمارے اس فیصلے کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لیں، عدالت اس کا نوٹس لے، عدالت مادر پدر آزاد نہیں ہیں! وہ قرآن و سنت کی پابند ہے، وہ آئین پاکستان کی بھی پابند ہے، وہ قانون کی بھی پابند ہے اور اس کی پابندی کرتے ہوئے اپنے خیالات و نظریات اور اپنے اندر کا جو خبث باطن ہے اس کی بنیاد پر ہمیں اپنے نظریات ہمارے اوپر مسلط نہ کریں نہ ہم ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر شرعی اور اپنے حلف کے برعکس متنازعہ فیصلہ کرنے والے ججوں کے خلاف حکومت پاکستان فوری طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجیں، نیز آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے بھی ان ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ آل پارٹیز کانفرنس پارلیمانی کمیٹی کو مشترکہ موقف سے آگاہ کر رہی ہے۔

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • شیخ رشید کے بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ،سندھ حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

    شیخ رشید کے بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ،سندھ حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

    سپریم کورٹ، بلاول بھٹو کے خلاف نامناسب الفاظ کے استعمال سے متعلق کیس،سندھ حکومت نے شیخ رشید کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا

    سندھ حکومت نے شیخ رشید کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ،سندھ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 25 جون کا فیصلہ خلاف قانون ہےکالعدم قراردیاجائے ،چیمبر میں سماعت کر کے جج نے اپنا مائنڈ اپلائی نہیں کیاشیخ رشید نےبلاول بھٹو کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی،ہائیکورٹ کا مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے

    واضح رہے کہ 25 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف سندھ اور بلوچستان کے تھانوں میں درج مقدمات خارج کرنے کا فیصلہ سنایا تھا،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کے کیس میں شیخ رشید کی اخراج مقدمہ کی درخواست منظور کر لی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ فیصلہ سنا یا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیخ رشید کے خلاف تھانہ موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات خارج کر دیئے ہیں، عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • سپریم کورٹ،3 ن لیگی اراکین اسمبلی بحال

    سپریم کورٹ،3 ن لیگی اراکین اسمبلی بحال

    سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں ووٹوں کی گنتی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    سپریم کورٹ کا فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے جاری کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اکثریتی فیصلہ دیا،فیصلے میں جسٹس عقیل عباسی کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،الیکشن ایکٹ کی سیکشن 95 پانچ کے مطابق ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کروا سکتا ہے،الیکشن ایکٹ کے مطابق کل کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں پانچ فیصد فرق پر دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے،قومی اسمبلی کیلئے آٹھ ہزار اور صوبائی اسمبلی کیلئے چار ہزار ووٹوں کے فرق پر دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے،مسترد ووٹوں کی تعداد جیت کے تناسب سے زیادہ یا برابر ہو تو بھی دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کو نظرانداز کیا،

    ہر آئینی ادارہ اور آئینی عہدے دار احترام کے مستحق ہیں،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے ن لیگی ارکان اسمبلی اظہرقیوم ، عبد الرحمان کانجو،ذوالفقار احمد کو بحال کردیا ، لیگی امیدواروں کی این اے 154، این اے 79 اور این اے 81 سے کامیابی برقرار رکھی گئی، تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا کہ جسٹس عقیل عباسی نے فیصلےسے اختلاف کیا، سپریم کورٹ نےن لیگی امیداروں کی اپیلیں منظور کر لیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ مجموعی طور پر 47 صفحات پر مشتمل ہے، سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ 24 صفحات اوراختلافی نوٹ 23 صفحات پرمشتمل ہے،اکثریتی فیصلہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے،الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ممبران احترام کے حقدار ہیں،بدقسمتی سے کچھ ججز اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے تضحیک آمیز ریمارکس دیتے ہیں،ہر آئینی ادارہ اور آئینی عہدے دار احترام کے مستحق ہیں،ادارے کی ساکھ میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب وہ احترام کے دائرہ فرائض سر انجام دے، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تین حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں 9 اور دس فروری کو آ گئی تھیں، 5 اگست 2023 کو الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے ذریعے ریٹرننگ افسر کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا اختیار دیا گیا،جب ہائیکورٹ میں کیس گیا اس وقت یہ ترمیم موجود تھی، ہائیکورٹ نے سیکشن 95 کی ذیلی شق 5 کو مدنظر ہی نہیں رکھا،

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا حقائق کی غلطی نہیں، جسٹس عقیل احمد عباسی کا اختلافی نوٹ
    جسٹس عقیل احمد عباسی نےاختلافی نوٹ میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا حقائق کی غلطی نہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت نہیں،لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیلیں خارج کی جاتی ہیں،لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا، الیکشن کمیشن نے متعدد مقدمات میں انتخابی نتائج حتمی ہونے پر درخواستیں خارج کیں، ہائیکورٹ کی ان مثالوں سے سپریم کورٹ میں کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا،

    قبل ازیں سپریم کورٹ،ن لیگی اراکین قومی اسمبلی عبدالرحمان کانجو، اظہر قیوم ناہرا اور ذوالفقاراحمد کی درخواستیں منظور کر لی گئیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کر دیا،این اے 154 لودھراں ،این اے 81 اور این اے 79 گوجرانوالہ میں دوبارہ گنتی کا کیس،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کر دیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نےسماعت کی تھی، بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کر دیا۔

    ہائیکورٹ کے کچھ ججز الیکشن کمیشن کے احترام سے انکاری، تمام ججز کو الیکشن کمیشن کا احترام کرنا چاہیے.سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے ن لیگی امیدواروں کی اپیلیں منظوری کر لیں، عدالت نے محفوظ فیصلہ2:1 کی اکثریت سے سنایا،جسٹس عقیل عباسی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ن لیگی ارکانِ اسمبلی اظہر قیوم ناہرا، عبد الرحمٰن کانجو اور ذوالفقار احمد بحال ہو گئے ہیں،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اور الیکشن کمیشن کے ممبران احترام کے مستحق ہیں، ہائیکورٹ کے کچھ ججز الیکشن کمیشن کے احترام سے انکاری ہیں، تمام ججز کو الیکشن کمیشن کا احترام کرنا چاہیے.ججز نے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران سے متعلق غیرضروری ریمارکس دئیے، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا،

    واضح رہے کہ این اے 154 لودھراں، این اے 81 گوجرانوالہ، این اے 79 گوجرانوالہ کے لیے دوبارہ گنتی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی اور نظام لے آئیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی اور نظام لے آئیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اسلام آباد میں‌ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو پھر کوئی اور نظام لے آئیں، اپنے اختیارات کے مطابق فیصلے پر عملدرآمد کراؤں گا،

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا،یہ نہیں ہو سکتا کہ سپریم کو رٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد ر آمد نہ ہو ،فیصلوں پر کسی قسم کا ایگزیکٹو اوور ریچ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک بات ذہن نشین کر لیں یہ ہو نہیں سکتا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو ،، عدالتی فیصلے سے انحراف آئین کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہے یا ٹھیک، یہ طے بھی سپریم کورٹ نے کرنا ہے،ایگزیکٹو کو سپریم کورٹ کے فیصلے ہر صورت عمل کرنا ہے یہی آئینی ذمہ داری ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے اچھے دوست ہیں، سپریم کو رٹ اپنا اختیار آئینِ پاکستان سے لیتی ہے، فیصلوں پر عمل کرنا لازمی آئینی تقاضہ ہے، کسی کے پاس کوئی چوائس نہیں کہ وہ بیان کرے یہ ٹھیک ہے یا غلط، نیا نظام بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں، معاملات ایسے نہیں چلیں گے،میں نے دیکھا کہ2014کے فیصلے پر اب عملدرآمد ہوا ہے،

    ہر مذہب ایک دوسرے کو جگہ دے رہا ہے لیکن ہم کیوں اتنے تنگ نظر ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں،بین المذاہب ہم آہنگی پر مباحثے کی ضرورت ہے، تمام مذاہب دوسرے مذاہب کو جگہ دیتے ہیں تو ان کے ماننے والے کیوں نہیں دیتے؟ہر مذہب ایک دوسرے کو جگہ دے رہا ہے لیکن ہم کیوں اتنے تنگ نظر ہیں،اقلیتوں سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے بات کرونگا،بطور شہری کہہ رہا ہوں تحمل سے معاشرے میں امن آئے گا، تحمل کے سبب نہ صرف معاشرہ ترقی کرے گا بلکہ اس سے نوکریوں میں اضافہ ہوگا، عدم برداشت کے سبب معاشرے میں بدامنی آتی ہے اور تقسیم پیدا ہوتی ہے، تشدد سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوگا ترقی رک جائے گی

    چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    ایک میڈل انکو بھی دے دیں،جس نے قوم کی جان چھوڑ دی،خواجہ آصف

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    کرکٹر بننا تھالیکن عدم سہولت کی وجہ سے کرکٹ چھوڑی،ارشد ندیم

  • پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے؟چیف جسٹس برہم

    پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے؟چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ ،چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو عہدے سے ہٹانے کا کیس،سپریم کورٹ نے سیکرٹری کابینہ اور اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیا

    عدالت نے معاملہ فوری طور پر وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ اور ریسٹورنٹ مالک لقمان علی افضل کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک جاوید وینس نے کہا کہ ذاتی تعلق کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس سے زیادہ سنگین توہین عدالت کیا ہوگی؟ وائلڈ لائف بورڈ کی درخواست پر عدالت نے مارگلہ نیشنل پارک کے تحفظ کا فیصلہ دیا،حکومت نے پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو عہدے سے ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے؟ درخواست گزار کے مطابق سیکرٹری کابینہ ریسٹورنٹ مالک کے بھائی ہیں،بھائی بھائی کی مدد نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟ کیا سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل اور لقمان علی افضل ملک کے مالک ہیں؟ ماہرین کے نام پر وزارت داخلہ سے لوگ وائلڈ لائف بورڈ میں لائے جا رہے ہیں، کامران علی افضل نے وزیراعظم سے سمری منظور کروا کر رعنا سعید کو عہدے سے ہٹایا،

    سیکرٹری کابینہ کی عدالت میں حاضری یقینی بنائیں، آج ہم کچھ کریں گے، چیف جسٹس
    چیئرپرسن وائلڈ لائف بورڈ کو ہٹانے کا کیس،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوگئے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سیکرٹری کابینہ عدالت میں آ گئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کامران علی افضل کو کابینہ اجلاس سے باہر بلائیں، سیکرٹری کابینہ کی عدالت میں حاضری یقینی بنائی جائے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس کیس پر وفاق نے کچھ ہدایات دی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ کو بلائیں آج ہم کچھ کریں گے، سماعت میں سیکرٹری کابینہ کی حاضری تک سماعت میں پھر وقفہ کر دیا گیا

    کورٹ رپورٹر مریم نواز خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عدالت میں سماعت کا احوال لکھتے ہوئے کہا کہ .
    "کیا سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل اور مونال کے مالک لقمان علی افضل ملک کے مالک ہیں؟ چیف جسٹس”
    اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ رائنہ سعید کو عہدے سے ہٹانے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سخت برہم !
    حال ہی میں مونال ریسٹورنٹ بندش کے تنازعے میں مرکزی درخواست گزار چئیرپرسن وائلڈ لائف بورڈ رائنہ سعید کو عہدے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد آج ان کی برطرفی کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی تو منصفِ اعظم جناب چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے معاملہ فوری طور پر وزیر اعظم کے علم میں لانے کی ہدایت کر دی اور ساتھ ہی حکم فرمایا کہ سیکرٹری کابینہ اور اٹارنی جنرل فوری پیش ہوں! مقدمے کی سماعت میں چیف جسٹس کو اچانک معلوم پڑ گیا کہ مونال کے مالک اور سیکریٹری کابینہ آپس میں بھائی ہیں اور by book چلنے والے چیف جسٹس نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کی لاعلمی کے باوجود ریمارکس دیے کہ:کامران علی افضل نے وزیراعظم سے سمری منظور کروا کر رعنا سعید کو عہدے سے ہٹایا! سپریم کورٹ کے حکم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس سے زیادہ سنگین توہین عدالت کیا ہوگی؟وائلڈ لائف بورڈ کی درخواست پر عدالت نے مارگلہ نیشنل پارک کے تحفظ کا فیصلہ دیا،حکومت نے پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو عہدے سے ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے،درخواست گزار کے مطابق سیکرٹری کابینہ ریسٹورنٹ مالک کے بھائی ہیں، بھائی بھائی کی مدد نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟ ماہرین کے نام پر وزارت داخلہ سے لوگ وائلڈ لائف بورڈ میں لائے جا رہے ہیں!جس کے بعد سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا گیا!

    سپریم کورٹ کے حکم پر”مونال” انتظامیہ نے ہوٹل بند کرنے کی تاریخ کا کیا اعلان

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ