Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جماعت اسلامی کا الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ

    جماعت اسلامی کا الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ

    سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد جماعت اسلامی کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ٹویٹ کی ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ۔۔کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔۔مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کےفیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کواستعفیٰ دے کرگھرجاناچاہیے۔ فیصلہ سے ان جماعتوں کی دورنگی بھی عیاں ہوگئی جو جمہور کی رائے کے برخلاف ناجائز طریقے سے ان سیٹیوں پر قبضہ کرکے بیٹھی تھیں اور وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی تھیں۔

    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اب جوڈیشل کمیشن بنا کر فارم 45 کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی حقداروں کو واپس ملنی چاہئیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں بارے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دیا ہے،

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

  • حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    مخصوص نشستوں بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کا ردعمل سامنے آیا ہے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ،نظر ثانی کی درخواست سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے،ہمارے پاس اب بھی 209 ارکان ہیں ،فیصلہ ابھی پورا نہیں دیکھا، حکومت نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی یا نہیں یہ ابھی نہیں بتا سکتا،سُنی اتحاد کونسل کو یکسر ایکطرف کردیا گیا، پی ٹی آئی تو ریلیف مانگنے نہیں آئی تو اُن کو ریلیف دے دیا گیا،سپریم کورٹ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے لیکن اب یہ معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا ہے،آئین کی تشریح کرنا تو عدالت کا کام ہے لیکن ادھر تو آرٹیکل 51 اور 106کو ری رائٹ کردیا گیا ہے، میرے لئے اس کو ہضم کرنا مشکل نظر آرہا، سنی اتحاد کونسل نے نشستیں مانگیں تھیں لیکن پی ٹی آئی کو دے دی گئیں،قانون کا منشا ہے سپریم کورٹ 185 میں کسی کیس کا جائزہ لیتا ہے تو عدالت لوئر کورٹ کے فیصلے تک ہی محدود ہوتی ہے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے میں تحریک انصاف نہیں تھی ، اسمبلیوں میں 80 فیصد اراکین اسمبلی عدالت کے سامنے نہیں تھے، قانون یہ کہتا ہے کہ کسی کو نوٹس کئے بغیر ،سنے بغیر فیصلہ نہیں ہو سکتا.سپریم کورٹ نے ازخود اخذ کیا کہ قومی اسمبلی کے اسی ارکان پی ٹی آئی کے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے، وہ آزاد تھے، جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کی بجائے اُسے دوبارہ لکھ دیا ہے-

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،پی ٹی آئی نے خود عکس کیا 80کے قریب اراکین ہیں،39لوگوں نے کسی نہ کسی مرحلے میں لکھا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے،اچھے فیصلے وہ ہوتے ہیں جن پر لب کشائی نہ ہو، ہمارے 2018والے سینیٹ اراکین کے آگے آج بھی آزاد لکھا ہوا ہے،مختصر فیصلے سے سمجھ آیا ہے کہ ریلیف مانگنے سنی اتحاد کونسل آئی تھی،
    جوجماعت غیر مسلموں کو اپنا رکن تصور نہیں کرتی وہ ان کی سیٹ کیسے لے گی،محسوس ہوتا ہے آرٹیکل 51اور106کی تشریح کے بجائے انہیں دوبارہ تحریر کردیا گیا،اکثریتی ججز نے شاید سیاسی اور سوشل میڈیا کےدباؤ کے تحت فیصلہ دیاہے آئین اور قانون کے مطابق نہیں،

    فیصلے کے وقت وزیراعظم اور وزرا ایوان صدر میں موجود تھے ،وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیردفاع کو ان کی سیٹ پر فیصلے پر بریفنگ دی،

    وزیراعظم کے معاون خصوصی، ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلےکو تسلیم کرتی ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ اکثریتی ہے،قانونی ٹیم فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے ،پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیاگیا جومانگاہی نہیں گیاتھا،

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

  • سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ کی جانب سےمخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے پر تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ذمہ داری پوری نہیں کی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر فوری استعفیٰ دیں،آج عمران خان کی جیت ہے اور آج کا دن عمران خان کے نام ہے۔

    خوشی کا دن ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ نوافل ادا کریں ،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ آج محب وطن پاکستانیوں کیلئے خوشی کا دن ہے، نوافل ادا کریں، فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، پریکٹیکلی 11 ججز نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے،آج پورے ملک کے لئے ،جمہوری قوتوں کے لئے خوشی کا دن ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ نوافل ادا کریں اور رب کا شکر ادا کریں، ان شاء اللہ ہمارا حق ہمیں مل گیا، یہ وہی حق تھا جس کے لئے ہم کہتے چلے آ رہے تھے کہ ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، آج 11 ججز نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا،اور کہا کہ تحریک انصاف ان نشستوں کی حقدار ہے، یہ سیٹیں واپس تحریک انصاف کو ہی ملیں گی،

    عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے جشن منایا گیا اور عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،لاو ترازو تول کے دیکھو ساڈا بلہ بھاری اے، کے نعرے لگائے گئے تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل بھی نعرے لگانے والوں میں شامل تھیں،

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

    مخصوص نشستوں کی واپسی سے پی ٹی آئی کو اس کا حق واپس مل گیا ‘ مسرت جمشید چیمہ
    تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کی واپسی کی صورت میں پی ٹی آئی کو اس کا حق واپس مل گیا ہے ،عدالتی فیصلے سے واضح ہو گیا کہ الیکشن کمیشن نے کسی کی ایماء پر پی ٹی آئی کے حق پر ڈالا تھا ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ساری قوم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ، اگر پاکستان کو گھمبیر مسائل کی دلدل سے باہر نکالنا ہے تو آئین و قانون کے مطابق چلنا ہوگا ۔پی ٹی آئی نئے عزم اور جذبے کے ساتھ عوامی حقوق کے لئے جاری جدوجہد کو آگے برھائے گی اور ان شا اللہ فتح حق اور سچ کی ہو گی ،پی ٹی آئی کے اراکین ایوانوں کے اندر اور باہر عوام کے حقوق کی آواز بلند کریں گے ۔آنے والے دنوں میں نئی جدوجہد شروع ہونے جارہی ہے جس سے اتحادی حکومت کی بنیادیںلرز جائیں گی ۔

    سُپریم کورٹ اُس پارٹی کو عوام میں دوبارہ لائی جس کو عوام نے ووٹ دیا تھا،کنول شوذب
    تحریک انصاف کی رہنما کنول شوذب کا کہنا تھا کہ آج اللہ کی طرف سے مدد آئی ہے، سُپریم کورٹ اُس پارٹی کو عوام میں دوبارہ لائی ہے جس عوام نے اُسے ووٹ دیا تھا،الیکشن کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے، سلمان اکرم راجہ ہماری آواز بنے، سپریم کورٹ میں کیس لڑا، آج کا فیصلہ پی ٹی آئی کی جیت ہے، پی ٹی آئی کو سیٹیں مل جائیں گی،انصاف کا بول بولا ہوا ہے آج، خواتین کو انکا حق مل گیا،

    عدت نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آئے گا،زرتاج گل
    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ کل عدت نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آئے گا، آج سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ ختم کی ہے،بشریٰ بی بی کے ساتھ عدت جیسا کیس گھٹیا ترین کیس ہے، خواتین یکجہتی کے لئے عدالت آتی ہیں، ہم پورا دن عدالت بیٹھے ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا، جن لوگوں نے بشریٰ بی بی پر گھٹیا کیس بنایا سیاسی دشمنی کی بنا پر انکو بھی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کی خواتین بشریٰ بی بی کے ساتھ ہیں،آج سپریم کورٹ سے بھی عمران خان کی جیت ہوئی ہے، عمران خان کی پارٹی جیت گئی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دے دیا ہے۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

  • مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا سنی اتحاد کونسل کے حق میں فیصلہ،ملک آئینی بحران سے دوچار ہو گیا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا ہے. جس کے مطابق مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست منظور کر لی گئی ہے اور مخصوص سیٹیں تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے نے قانونی ماہرین کے مطابق آئینی بحران پیدا کردیا ہے – قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ آئین سے تجاوز کے مترادف ہے- اب آئین کی شق 51 ڈی کی بھی ترمیم کرنا پڑے گی کیونکہ سنی اتحاد کونسل وہ جماعت ہے جس نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا نہ ہی ان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کیلئے درخواست جمع کرائی گئی- نہ ہی ان کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے کوئی درخواست آئی اور سب سے بڑھ کر سنی اتحاد کونسل اقلیتوں کو ٹکٹ ہی جاری نہیں کرتی نہ ہی ان کی جماعت میں کوئی اقلیتی رکن ہے لہٰذا ایسا کرنے سے آئینی بحران آئے گا۔

    آزاد حیثیت سے منتخب ارکان پارلیمنٹ کو مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعت کا درجہ نہیں مل سکتا۔قانونی حلقے
    قانونی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے میں، سپریم کورٹ کو آئین کی پیروی کرنی چاہئے تھی نہ کہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا کسی جماعت کی نام نہاد مقبولیت یا دباؤ میں آ کر فیصلہ کیا گیا.یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کو کسی بھی قانون کے مطابق مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی جماعت کا درجہ نہیں مل سکتا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پر ایک مدت سے متحرک تھی اور سماعت کے دوران ججز کے دیئے جانے والے ریمارکس کو تروڑ مروڑ کر ایسے پیش کیاجا رہا تھا جیسے ان کے ساتھ بے انصافی کی گئی ہے اور اب یہ فیصلہ ان کے حق میں ہی آنا چاہیے تھا – یہ مخصوص سیاسی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے اس طرح کے حربے استعمال کرکے وہ ایک جانب فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری جانب ججز کو بھی دباؤ میں لاتے ہیں جس کا نتیجہ آج سامنے آگیا ہے.

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

  • دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت منظور

    دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت منظور

    بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے باوجود کیجریوال بدستور جیل میں رہیں گے، یہ ابھی واضح نہیں کہ اروند کیجریوال کو جیل سے کب رہا کیا جائے گا،دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال مارچ سے شراب پالیسی کرپشن کیس میں گرفتار ہیں،بھارتی انتخابات کے موقع پر انکو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا تا ہم انتخابات کے بعد کیجریوال نے خود سپردگی کر دی تھی.

    بھارتی سپریم کورٹ نے کیجریوال کی گرفتاری کا معاملہ سپریم کورٹ کی بڑی بنچ کو منتقل کر دیا ہے، اب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ کیجریوال کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گا،جسٹس سنجیو کھنہ اور دیپانکر دتا پر مشتمل بنچ نے کیجریوال کی درخواست پر فیصلہ سنایا اور کیس تین رکنی بینچ کو بھیجا تا کہ اس سوال کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا کیجریوال کی گرفتاری منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 19 کے مطابق ضروری تھی؟ دو رکنی بینچ نے موجودہ بنچ نے کیجریوال کی اب تک کی قید کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں عبوری ضمانت دی ہے

    بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیجریوال رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ سی بی آئی نے انہیں گرفتار کر رکھا ہے،

    اروند کیجریوال کو کرپشن الزامات پر شراب پالیسی کیس میں 21 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے،اروندکیجریوال نے گرفتاری سے بچنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تا ہم عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی،

    عام آدمی پارٹی کا مؤقف ہےکہ بی جے پی کی قیادت عام آدمی پارٹی اور دیگر پارٹیوں کو جڑ سے ختم کرنا چاہتی ہے، کیجریوال پر الزامات کے پیچھے مودی کے سیاسی عزائم ہیں، عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئی دہلی کے سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سیسوڈیا اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے رکن سنجے سنگھ بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

  • سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا
    مخصوص نشستوں کے کیس کا تحریری مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے ،فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست بھی شامل ہے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار م ، پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل، بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،آزاد ارکان قرار دئیے گئے ارکان میں علی محمد خان، شہریار آفریدی ،انیقہ مہدی شامل ہیں،احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز ، عمیر خان نیازی ، ثناء اللہ خان مستی خیل بھی آزاد ارکان قرار پائے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرا ر دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ حمزہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان ، وقاص اکرم شیخ ، بھی آزار ارکان قرار دیئے گئے،میاں محمد اظہر ، سید رضا علی گیلانی ، جمشید دستی ، خواجہ شیراز آزاد ارکان قرار دیئے گئے

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کےاختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی یا اس کے کسی رہنما نے آزاد رکن قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا،تاہم اس حقیقت کے پیش نظر درخواستیں انتخابی کاروائی کا تسلسل ہے اس لیے عدالت کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،آئین کا آرٹیکل 51(1)(ڈی) خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ضامن ہے،جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے دن تک کوئی اور ڈیکلیریشن جمع نہیں کرایا وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں،لہٰذا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شامل کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،ایسے امیدوار جنہوں نے 24 دسمبر 2023 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور انہوں نے خود کو آزاد یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوں گے،سنی اتحاد کونسل ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آزاد ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں سکیں، جن لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اپنی رضامندی سے سنی اتحاد میں شامل ہوئے،

    تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 8/5 کی اکثریت سے ہے، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے وہ فیصلہ سنائیں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان کے چھینے سے کسی سیاسی جماعت کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا ،تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، پی ٹی آئی کو عورتوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملیں گی،دیگر جماعتوں کو ملنے والی مخصوص نشستیں واپس لے لی گئیں ہیں جن 39 امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی دکھائی وہ پی ٹی آئی کے ہی ہیں ،تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، وہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو لسٹ جمع کرائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی۔ نشستیں صرف پاکستان تحریک انصاف کو ملیں گی،پی ٹی آئی 15 روز میں مخصوص نشستوں کی فہرست دے،الیکشن کمیشن نے 80 ارکان کی فہرست پیش کی ہے ،80 میں سے 39 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا ،باقی 41 ارکان آئندہ 15 دنوں میں اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ کس جماعت کا حصہ ہیں

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بطور پی ٹی آئی قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں مسترد کر دیں،عدالت نے کہا کہ دیگر 41 امیدوار بھی 14 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں کہ وہ سنی اتحادکونسل کے امیدوار تھے، سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت نے اکثریتی فیصلہ سنایا۔

    فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست کی مسترد
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے درخواستوں کی مخالفت کی جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے قانون کے مطابق پروسیس مکمل نہیں کیا درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کا یکم مارچ کا آرڈر برقرار رہے گا،

    الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان کو نکال کر فیصلہ دیا، اس بنیاد پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن نے غلط طور پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کیا، پی ٹی آئی نے آزاد قرار دیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے، اب پی ٹی آئی کے منتخب ارکان یا خود کو آزاد یا پی ٹی آئی ڈیکلیئر کریں، پی ٹی آئی ارکان پر کسی قسم کا دباو نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں مصنوعی الفاظ کا اضافہ نہیں کر سکتی، آئین کی تشریح کے ذریعے نئے الفاظ کا اضافہ کرنا آئین پاکستان کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کےفیصلے کی غلط تشریح کی،

    جسٹس امین الدین خان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد کرتے ہیں، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ میں بھی جسٹس امین الدین خان کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں ،چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی ایک نشست بھی نا جیت سکی، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی، آئین نے متناسب نمائندگی کا تصور دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے فیصلہ سنایا، اس موقع پر سپریم کورٹ کےباہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں موجود تھی، پولیس الرٹ تھی،سپریم کورٹ کی جانب جانے والے راستے بند اور عام شہریوں کا داخلہ بند کردیا گیا تھا، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان،سردار لطیف کھوسہ اور کنول شوذب بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر علی خان, شبیر قریشی اور ثناءاللہ مستی خیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہِ عدالت وکلاء، رہنماؤں اور صحافیوں کی بڑی تعداد سے بھر گیاتھا،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو دن فل کورٹ مشاورتی اجلاس بلایا تھا جس کے بعد گزشتہ روز پہلے کہا گیا تھا کہ تین رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا پھر کاز لسٹ جاری کی گئی کہ فل کورٹ فیصلہ سنائے گی،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    جمعہ کا دن،کئی عدالتی فیصلے،ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا
    پاکستان کی ملکی سیاست میں جمعہ کا دن انتہائی اہم رہا، جمعہ کے دن کئی عدالتی فیصلے ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلایا،20 جولائی 2007 جمعہ کے روز سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ہوئی تھی،31 جولائی 2009 بروز جمعہ ،ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا،28 جولائی 2017 بروز جمعہ،پانامہ لیکس کیس میں‌سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا،15 دسمبر 2017 بروز جمعہ، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا،13 اپریل 2018 بروز جمعہ، نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا،6 جولائی 2018،ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نواز شریف، مریم نواز،کیپٹن ر صفدر کو سزا سنائی گئی تھی،

    شریف برادران اور مسلم لیگ ن کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے، پانامہ کیس کے فیصلے سے تاحیات نااہلی کے فیصلے تک سب جمعہ کو سنائے گئے، پانچ مئی 2017 بروزجمعہ پاناما جے آئی ٹی بنی۔ اٹھائیس جولائی بروز جمعہ نواز شریف نااہل ہوئے۔ پندرہ ستمبر بروز جمعہ نظر ثانی کی درخواست خارج ہوئی۔ تیرہ اپریل کو نواز شریف تاحیات نا اہل ہوئے .ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جمعہ چھ جولائی دوہزار اٹھارہ کو سنایا گیا جب عدالت نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن قید کی سزا کا حکم سنایا۔ا س سے پہلے اصغر خان کیس میں نوازشریف اور دیگر کیخلاف تحقیقات کا حکم بھی انیس اکتوبر 2012 بروز جمعے کو ہی جاری ہوا تھا.

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

  • سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے،بابر اعوان

    سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے،بابر اعوان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ساری گھمبیر صورتحال سے نکلنے کے لیے پاکستان کو عدم استحکام کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، عمران خان بار بار دہرا رہے ہیں کہ دوبارہ الیکشن کروایا جائے، ایک چوری شدہ الیکشن کے تحت لوگوں کو حکومت سے نوازا گیا،الیکشن کمیشن نے سیٹوں کے معاملے میں جو زیادتی کی اس پر سپریم کورٹ کو کاروائی کرنی چاہیے، سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے، ہم جہاں بھی جاتے ہیں لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران کب آئے گا، عمران آئے گا تو ہی استحکام آئے گا، انسانی حقوق، معیشت کے ادارے بھی اب بولنا شروع ہوگئے ہیں،

    واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ آج 12 بجے سنایا جائے گا، 13 رکنی فل کورٹ فیصلہ سنائے گی، تحریک انصاف کے رہنما سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں کیس،فل کوٹ کا مشاورتی اجلاس ختم

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں کیس،فل کوٹ کا مشاورتی اجلاس ختم

    سپریم کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر ہونے والا مشاورتی اجلاس ختم ہو گیا ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ کا اجلاس ہوا تھا، مشاورتی اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز شامل تھے.گزشتہ روز بھی ایک فل کورٹ کا اجلاس ہوا تھا، سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس پر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کسی بھی وقت سنائے جانے کا امکان ہے،آج ججز کا دوسرا مشاورتی اجلاس مختصر رہا، تقریبا 40 سے 45 منٹ جاری رہا، کل تقریباً 2 گھنٹے مشاورت ہوئی، 13 ججز نے سر جوڑے کیا فیصلہ ہونا چاہئے؟

    سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    کُل77 متنازع نشستوں میں سے 22 قومی اور 55 صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں ہیں،الیکشن کمیشن پاکستان نے 13مئی کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ان نشستوں کو معطل کر دیا تھا،قومی اسمبلی کی معطل 22 نشستوں میں پنجاب سے خواتین کی 11، خیبر پختون خوا سے 8 سیٹیں شامل ہیں،قومی اسمبلی میں معطل نشستوں میں 3 اقلیتی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 14، پیپلز پارٹی کو 5، جے یو آئی ف کو 3 اضافی نشستیں ملی تھیں،خیبر پختون خوا اسمبلی میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی مخصوص نشستیں معطل ہیں جن میں سے جے یو آئی ف کو 10، مسلم لیگ ن کو 7، پیپلز پارٹی کو 7، اے این پی کو 1 اضافی نشست ملی تھی،پنجاب اسمبلی میں 24 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 اقلیتی نشستیں معطل ہیں، جن میں سے ن لیگ کو 23، پیپلز پارٹی کو 2، پی ایم ایل ق اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک ایک اضافی نشست ملی تھی،سندھ اسمبلی سے 2 خواتین کی مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست معطل ہیں جہاں پیپلز پارٹی کو 2 اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست ملی تھی۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا  تو وہ جیل میں کیوں نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا تو وہ جیل میں کیوں نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس قاضی امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپیل میں عدالت نے اصل فیصلہ میں غلطی کو دیکھنا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل آپ کو ہمیں اصل فیصلہ میں غلطی دکھانا ہو گی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ ملزمان کے ساتھ سلوک تو انسانوں والا کریں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب انسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں ہو سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ پہلے بتاتے تھے ہر ہفتہ ملزمان کی فیملی سے ملاقات ہوتی ہے، آپ اس کو جاری کیوں نہیں رکھتے؟ اٹارنی جنرل آپ کا بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تفتیش کیلئے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے،تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج دو بجے زیر حراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا، لاہور میں ملاقاتوں کا ایشو بنا اب ایسا نہیں ہوگا۔

    ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈیر عمران عدالت میں پیش
    لطیف کھوسہ روسٹرم پر آگئے،جسٹس عرفان سعادت نے لطیف کھوسہ کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپ بیٹھ جاٸیں اور کیس چلنے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کو فیملی سے نہیں ملنے دیا گیا، اس کا پانچ سالہ بچہ فوت ہوگیا،ملزم کا بھاٸی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہے، ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈیر عمران عدالت میں پیش ہو گئے،عدالت نے ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن کو فوت ہونے والے بچے کے والد کو ورثا سے ملوانے کی ہدایت کر دی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کم از کم آج اس کیس کی میرٹ پر سماعت شروع کریں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے،

    جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے، جسٹس جمال مندوخیل
    اٹارنی جنرل نے ملزمان سے آج اہل خانہ کی ملاقاتوں کی یقین دہائی کروا دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوٰخیل نے کہا کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کیلئے فوکل پرسن کون ہے؟ ڈائریکٹر لاء بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ 24 گھنٹے دستیاب ہوتے ہیں ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب کیا آپ کے پاس تمام قیدیوں کے اہل خانہ کی فہرست موجود ہے؟جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے،

    اگر اپیل میں سب کچھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم کیس ریمانڈ بیک بھی کرسکتے ہیں؟جسٹس شاہد وحید
    جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان پھر جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلطی دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، ایک قانونی نکتے کی بات کی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ دلائل دیں ہم جو ہوا فیصلے میں دیکھ لیں گے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر اپیل میں سب کچھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم کیس ریمانڈ بیک بھی کرسکتے ہیں؟ جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ ایک جواب دے سکتے ہیں کہ یہ نظر ثانی نہیں اپیل ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ یہی کہ رہے ہیں نا کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، بس آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے،جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا،

    اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیئے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا، کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے اپیل دائر کرنے کے لیے،ایڈوکیٹ فیصل صدیقی وڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ میں نے متفرق درخواست دائر کر رکھی ہے کہ پرائیویٹ وکیل حکومت کی جانب سے نہیں آسکتا،خواجہ حارث کے دلائل سے پہلے میری درخواست نمٹائیں ورنہ غیر موثر ہوجائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلی بار تو نہیں ہوا کہ پرائیویٹ وکیل حکومت کی جانب سے آیا ہو، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کئی بار اس پریکٹس کی حوصلہ شکنی کر چکی ہے،پرائیویٹ وکیل کو حکومت کی نمائندگی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے بطور جج دیا تھا،فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل کے پاس متعلقہ کیس پر مہارت نہ ہو تو ہی نجی وکیل کیا جا سکتا ہے،اٹارنی جنرل کو لکھ کر دینا ہوتا ہے کہ ان کے پاس متعلقہ مہارت نہیں ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سویلنز کا فوجی ٹرائل روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا تھا۔پانچ رکنی لارجر بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو فوجی عدالتوں میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں،سپریم کورٹ

  • میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آبادی کے قریب اسٹون کریشنگ کو انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دے دیا،جبکہ میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دی گئی-

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسٹون کریشنگ پلانٹس کے خلاف کیس کی سماعت کی،دوران سماعت دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز انسانی جان کے لیے خطرہ ہے، آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز کو دوسری جگہ شفٹ کریں، خیبرپختونخوا میں اسٹون کریشنگ کا بڑا سنجیدہ ایشو ہے، ہمارے سامنے کیس تین اسٹون کریشرز کا ہے، ایسے سینکڑوں پاور کریشرز ہیں جو آبادی کے قریب ہے۔

    وکیل پاور کریشرز اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں کمیشن رپورٹ کا جائزہ لینے کا وقت دیا جائے، استدعا ہے کہ کیس کو محرم کے بعد رکھا جائے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ محرم کی بات ہے تو پھر کیس کا فیصلہ جلدی ہونا چاہیئے، انڈسٹری کو بند نہیں کرنا چاہتے لیکن انسانی جانوں کا معاملہ اہم ہے۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور وکیل اسٹون کریشنز کو کل تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کل اسٹون کریشرز کے وکیل نہ آئے تو کمیشن رپورٹ پر فیصلہ کردیں گے۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میڈیکل کالجز میں فیسوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ میڈیکل کالجز کی فیس پر کون سا قانون لگتا ہے اور فیس کی ریگولیٹری کون کرتاہے؟ سپریم کورٹ ایسے تو کیس نہیں سن سکتا۔

    جسٹس محمدعلی مظہر نے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان میڈیکل کمیشن سے فیس کے حوالے سے رابطہ کیا؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے وزیراعظم، صدر مملکت کو میڈیکل فیس کےحوالے سے خط لکھا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میڈ یکل ڈینٹل ایکٹ بنایاگیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط لیاگیا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا آپ ریگولیٹری کے پاس جائیں، سپریم کورٹ کا میڈیکل فیس دیکھنےسے متعلق کیاکام؟ ریگولیٹری جب بنا ہوا ہے تو کیا آپ وہاں گئے ہیں؟ کیا ہم کمیشن بنا سکتے ہیں؟ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے تو ریگولیٹری سے رجوع کریں۔

    بعد ازاں عدالت نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کردی۔