Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • فارم 47 کیا چیز ، قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،چیف جسٹس

    فارم 47 کیا چیز ، قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، این اے 81 انتخابی عذرداری کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،وکیل احسن بھون نے کہا کہ دوبارہ گنتی میں میرے موکل کامیاب قرار پائے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ریٹرننگ افسرنےدوبارہ گنتی کی درخواست پر آرڈر نہیں کیا، ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کا قانون کے مطابق پابند تھا، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کو کرنی چاہیے تھی،ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردے تو کیا ہوگا،ریٹرننگ افسر فیصلہ کیخلاف داد رسی کا فورم کونسا ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فارم 47 کیا چیز ہے۔ قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،فارم 47 کیلئے قانون میں کیا لفظ استعمال کیا گیا ہے،وکیل احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ فارم 47 ابتدائی نتیجہ ہوتا ہے، حتمی نتیجہ فارم 48 پر جاری ہوتا ہے جب کہ فارم 47 کو قانون میں عارضی نتیجہ قرار دیا گیا ہے

    وکیل احسن بھون نے کہا کہ 9 فروری کو ریٹرننگ افسر نے فارم 47 جاری کیا اور 11فروری کو ریٹرننگ افسر نے حلقے کا فارم 48 بھی جاری کردیا، انتظامی افسر کے فیصلے کے خلاف میرا مؤکل الیکشن کمیشن چلا گیا،کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے ؟آپ خوفزدہ کیوں ہیں،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،وکیل چوہدری بلال نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اختیار ہے کہ دوبارہ گنتی کروائے یا نہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ اس کیس میں نتیجہ حتمی ہونے سے پہلے گنتی کی درخواست دی گئی،وکیل نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست کے ساتھ کوئی شواہد نہیں دئیے گئے،الیکشن کے دن دھاندلی اور اگلے روز دوبارہ گنتی کی درخواست دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےا ستفسار کیا کہ دوبارہ گنتی کیلئے کیا شواہد دئیے جا سکتے ہیں، دوبارہ گنتی کیلئے دو قانونی شرائط ہیں،ایک الیکشن میں بہت سی بے قاعدگیاں ہو سکتی ہیں، وکیل نے کہا کہ نتیجہ کااعلان کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا اختیار ختم ہو جاتا ہے عدالت کا نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایک عمل کا نام ہے جس میں دوبارہ گنتی بھی شامل ہے،بدقسمتی سے عدالتیں بہت آگے چلی جاتی ہے،شفاف الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چوہدری اعجاز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے ؟آپ خوفزدہ کیوں ہیں دوبارہ گنتی میں آپ جیت بھی سکتے ہیں، اگر کچھ غلط ہوتو اسکو آغاز سے ہی درست کرنا چاہیے سپریم کورٹ میں این اے 81 سے متعلق سماعت مکمل ،عدالت نے انتخابی عذرداریوں کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • اختیارات کا غلط استعمال،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف درخواست

    اختیارات کا غلط استعمال،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف درخواست

    اختیارات کے غلط استعمال اور مس کنڈکٹ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف درخواست سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دی گئی

    سابق ڈی جی اسٹیٹس، محمد ایوب نے سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں کے خلاف ہراساں کرنے، بدسلوکی اور زور زبردستی کے رویے کے خلاف انکوائری اور تحقیقات کے لیے درخواست کی ہے۔ درخواست پوسٹ کے ذریعے بھیج دی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان خصوصاً جسٹس بابر ستار، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کو کیٹیگری -1 (I ٹائپ) گھروں کی الاٹمنٹ کے لیے ہاؤسنگ منسٹری پر ناجائز طریقے سے اثر انداز ہوئے اور دباؤ ڈالا۔ درخواست کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے بلیک میلنگ سے بھی کام لیا اور ڈاکٹر فخر عالم (اُس وقت کے سیکریٹری ہاؤسنگ) کو رجسٹرار کی جانب سے اکثر بلایا اور دھمکایا گیا کہ وہ تعاون کریں بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    درخواست کے مطابق، جسٹس طارق جہانگیری اور جسٹس ارباب طاہر بھی اس معاملے میں جسٹس بابر ستار کے ساتھ شامل تھے۔ یہ جج صاحبان زبردستی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےاثرانداز ہوئے اور وزارت ہاؤسنگ کو تمام الاٹمنٹس منسوخ کرنے کا حکم دے کر اپنے لئے مکانات الاٹ کروائے۔جبکہ اکوموڈیشن ایلوکیشن رولز 2002 کے رول 3 (اہلیت) کے مطابق صرف سرکاری ملازمین ہی سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ کے مجاز ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اس قسم کی الاٹمنٹ کے اہل نہیں ہیں۔

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • جسٹس ملک شہزاد نے  چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھٹیاں مانگ لیں

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درخواست دی ہے جس میں انہوں نے چھٹیاں مانگی ہیں،چار جولائی کو جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس کو خط لکھا جس میں کہا کہ
    میں فرض کے گہرے احساس اور بھاری دل کے ساتھ آپ کو خط لکھ رہا ہوں،یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کے کیس سے متعلق قانونی عمل کو غیر ضروری طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ الزامات چاہے ان کی سچائی سے قطع نظر، ہماری معزز عدلیہ کی غیر جانبداری اور دیانتداری پر پرچھائی ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح، میں اسے اخلاقی طور پر سمجھتا ہوں۔میں اس وقت تک مقدمات کی سماعت نہیں کر سکتا جب تک اس طرح کے دعوے موجود ہیں، میں نے غیر متزلزل طور پر انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو برقرار رکھا ہے۔ یہ میرا فرض رہا ہے کہ میں کسی بھی قسم کے بیرونی اثرات یا ذاتی تحفظات سے آزاد ہو کر مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کروں۔ ان اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے میری عدالتی ذمہ داریوں سے عارضی ریلیف دیں اور میری بیٹی سے متعلق قانونی کارروائی کے اختتام تک مجھے کسی بھی بنچ پر تفویض کرنے سے گریز کریں۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے خط میں انکی بیٹی کی گاڑی حادثے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حادثے کے نتیجے میں نوجوان کی بے وقت موت ہوئی ، میں اپنے آپ کو اپنے عدالتی فرائض سے دستبرداری کی عاجزانہ درخواست کرتا ہوں۔یہ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ اقدام ہمارے عدالتی ادارے کے تقدس اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ غیر جانبداری کا تصور اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کی حقیقت، اور میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہوں کہ دونوں میں سے کوئی بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

    بیٹی کو مشورہ دیتا ہوں دیانت کے ساتھ قانونی عمل کا مقابلہ کرے،خود کو قانون کے حوالے کرے، جسٹس ملک شہزاد
    جسٹس ملک شہزاد احمد نے اپنے خط میں مزیدکہاکہ میں اس موقع کو اپنی بیٹی کو مشورہ دینے کے لیے کہتا ہوں کہ وہ ہمت اور دیانت کے ساتھ قانونی عمل کا مقابلہ کرے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ عدالتی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور خود کو قانون کے حوالے کرے۔میں اللہ رب العزت، سپریم جوڈیشل کونسل اور آپ کے معزز فیصلے پر اپنا غیر متزلزل بھروسہ رکھتا ہوں۔ میں انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہتا .

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    واضح رہے کہ مقتول نوجوان کے والد رفاقت تنولی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دیں،قانون سب کے لیے برابر ہے،اگر میں برابر کا حق رکھتا ہوں تو میرے بچے کی قاتل کو گرفتار ہونا چاہیے تھا
    میرے بچے کی قاتل آزاد گھوم رہی ہے،جسٹس شہزاد نے دو سال اپنے بیٹی کو سزا سے بچایا،میرے بیٹے اور اس کے دوست جو یتیم بھی تھا کو سابق چیف جسٹس ملک شہزاد کی بیٹی نے سرکاری گاڑی سے کچل کر مار دیا تھا اور جج صاحب کو سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں رفاقت تنولی کی گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہوئے،اور کہا پولیس تفتیش میں پہلے کچھ نہیں ہوا، ہماری ڈیڑھ ماہ کی تفتیش میں پیشرفت ہوئی ہے،پہلے تو کوئی گھوسٹ ڈرائیور بتایا گیا تھا، اب ہمیں نئی فوٹیجز ملیں، پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ایک خاتون ڈرائیور گاڑی چلا رہی تھی، لینڈ کروزر گاڑی نے ٹکر ماری، قائداعظم تھرمل پراجیکٹ کی گاڑی تھی،ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے یہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ میں گئی تھی،گاڑی کا جب ایکسیڈنٹ ہوا تو یہ گاڑی جسٹس شہزاد احمد کے استعمال میں تھی، گاڑی جسٹس شہزاد احمد کی فیملی کے استعمال میں تھی، گاڑی سپرداری پر لی گئی تھی ہم نے سپرداری منسوخی کی درخواست دی ہے،گاڑی کا غلط استعمال ہو رہا ہے ہم سپرداری منسوخ کروا رہے ہیں،پولیس اب تفتیش میں بہت قریب پہنچ چکی ہے،

    واضح رہے کہ 2022 میں مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے جج کی بیٹی کی اسپورٹس گاڑی کی ٹکر سے ایکسپریس وے پر سوہان پل کے قریب شکیل تنولی اور اس کا دوست علی حسنین جاں بحق ہوگئے تھے، واقعہ آدھی رات کو تیزی رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے بعد سے کیس کی تفتیش تعطل کا شکار تھی،شکیل کے والد رفاقت تنولی نے کارروائی کیلئے درخواست دی تو دوران تفتیش معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ کے جج کے زیر استعمال تھی

  • حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کیخلاف نادرا کی اپیل سماعت کیلیے مقرر

    حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کیخلاف نادرا کی اپیل سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ میں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کے خلاف نادرا کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 10 جولائی کو سماعت کرے گا،نادرا نے جمعیت علمائے اسلام کےرہنما حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ غیر ملکی ہونے پر منسوخ کر دیا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے حافظ حمد اللّٰہ کے شناختی کارڈ کی منسوخی کالعدم قرار دیتے ہوئے بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد نادرا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے

    نادرا نے حافظ حمد اللہ کے شناختی کارڈ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے شہریت منسوخ کردی تھی،نادرا کا موقف تھا کہ حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ کینسل کیا،شہریت منسوخ کرنا ہمارا دائر کار نہیں،نادرا میں نہ حافظ حمد اللہ کے شناختی کارڈ نہ فیملی کے لنک کا پرانا رکارڈ ملا،12 دسمبر 2018 کو سیکیورٹی ادارے کی جانب سے حافظ حمد اللہ کو افغان نیشنل قرار دیا گیا،11 اکتوبر کو سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا حافظ حمد اللہ کی دستاویزات بوگس ہیں

    حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ میراشناختی کارڈنادراکی جانب سےایک سال سےبلاک ہے،شناختی کارڈ 2018میں منسوخ ہوا،آگاہ مارچ 2019میں کیا گیا، انہوں نے شناختی کارڈ کی منسوخی پر وزارت داخلہ میں اپیل دائر کی تھی.

    حافظ حمداللہ جے یو آئی کے سینیٹر بھی رہے، حافظ حمداللہ 2002 میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ،وہ متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے ،حافظ حمداللہ 2002 سے 2005 تک صوبائی وزیر صحت بھی رہے ،

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • پنجاب حکومت غداری کیس بنانے کی ہمت نہ کرے، علی محمد خان

    پنجاب حکومت غداری کیس بنانے کی ہمت نہ کرے، علی محمد خان

    تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا، نیاز اللہ نیازی،،کنول شوذب سیمابیہ طاہر و دیگر نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کی ہے

    پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ میں الیکشن ٹر یبونل کیس کی سماعت تھی،176 درخواستیں دائر کررکھی ہیں،ہم نے چیف جسٹس پر اعتراض اٹھایا کہ وہ ہمارے درخواست والے بینچ میں نہ بیٹھیں ،ہمارے جتنے کیسزہیں وہ چیف جسٹس کے پاس لگ گئے ،مجھ سمیت 9 لوگ عدالت میں موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اس بینچ سے الگ ہونا چاہئیے،چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5رکنی بینچ 2021 میں یہ فیصلہ دے چکا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ عمران خان سے متعلق کیسوں کی سماعت میں شامل نہ ہوں لیکن آج ہر کیس میں قاضی سماعت کرتا ہے میرے سمیت تمام فارم 45 والے درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ سماعت سےالگ ہوں۔لیول پلئینگ فیلڈ سمیت سب کیسز میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے سنے ہمارے خلاف فیصلےآئے،ہم الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت میں ہیں، الیکشن کمیشن عدلیہ کو سپر سیڈ کرکے خود فیصلہ کرتا ہے،ہمارے ارکان نے حلف پرکہا تھا کہ ہم 45 کے مطابق جیتے ہوئے ہیں ،8 فروری سے الیکشن ہوا ،ابھی ایک کیس کہ سماعت نہیں ہوئی،اقوام متحدہ کی رپورٹ فافن کی رپورٹ ،پتن کی رپورٹ الیکشن کو مشکوک بنارہی ہے

    قسم قسم کی وردیاں پہننے سے فرصت مل گئی ہے تو عوام پر فوکس کریں،علی محمد خان
    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کو اگر ٹک ٹاک کی سے فرصت مل گئی ہو، اگر قسم قسم کی وردیاں پہننے سے فرصت مل گئی ہے تو عوام پر فوکس کریں، کسانوں پر فوکس کریں، استادوں پر فوکس کریں، مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کریں، امن و امان بہتر بنائیں، غریبوں پر فوکس کریں،غداری کیس بنانے کی ہمت نہ کریں، قوم آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو گی، کیا یہ وزیراعظم کی مرضی سے ہو ر ہا ہے، پاکستان کے آئینی نظام سے کھلواڑ بند کیا جائے، اعلیٰ عدلیہ اس کا نوٹس لے، انصاف کے نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں،قوم کسی بھی ایسے کیس کو رد کرتی ہے، جب جب پاکستانی قوم کے پاس جائیں گے تو جواب ایک ہی آئے گا،عمران خان،

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    سپریم کورٹ،الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ پر پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس امیدالدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں،دورانِ سماعت تحریکِ انصاف کے امیدواروں کے وکیل نیاز اللّٰہ نیازی نے تشکیل شدہ بینچ پر اعتراض کر دیا،نیاز اللّٰہ نیازی نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ہم اپنا اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہمارا کیس کو کسی اور بینچ میں بھیجا جائے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی جن کے وکیل ہیں انہوں نے فریق بننے کی استدعا کر رکھی ہے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کیلئے نوٹس جاری کیا تھا، عدالت نے فریق بننے کی استدعا منظور کر لی تھی،عدالت نے گزشتہ حکم نامہ میں دیگر صوبوں میں ٹربیونلز کی تشکیل کا ریکارڈ مانگا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بینچ میں شمولیت پر وکیل نیازاللہ نیازی نے اعتراض اٹھایا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سلمان اکرم راجہ جو کہ کیس میں مرکزی فریق ہیں، ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھی میری بینچ میں شمولیت پر اعتراض ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اعتراض نہیں کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا نیاز اللہ نیازی نے گزشتہ سماعت پر درخواست دی، ہم نے منظور کی،درخواست منظور ہونے کے بعد اعتراض عائد کردیا،کیا ہم انکا کیس پاکستان بار کونسل کو بھیج دیں؟ عدالت نے نیاز اللہ نیازی کا وکالت لائسنس سے متعلق معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجنے پر اپنی رائے محفوظ کر لی

    کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب بس بہت ہوگیا،عدالت کو پہلے ہی بہت زیادہ اسکینڈلائز کیا جاچکا ہے مزید سکینڈلائز کرنا بند کریں، بینچز اب اکیلے چیف جسٹس نہیں تین رکنی کمیٹی بناتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟نیازی صاحب جب پہلے دو رکنی بینچ تھا تو آپکو اعتراض نہیں تھا اب آپکو اعتراض ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکار
    وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ صرف مجھے نہیں جو اس وقت جیل میں ہے اسے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض ہے، الیکشن ٹریبونل کیس میں نیاز اللہ نیازی نے عمران خان کے اعتراض سے متعلق بنچ کو بتایا تو جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا لوگوں کی خواہشات پر عدالتیں نہیں چلتیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جن کی آپ بات کرہے ہیں انہوں نے جیل سے درخواست دی تھی کہ انہیں سنا جائے،عدالت نے انہیں اجازت دی اور جیل سے پیشی یقینی بنا کر انہیں سنا،اب آپ جاکر بیٹھ جائیے، ہمیں آپکو نہیں سننا،سوچیں گے کہ آپ کے خلاف ایکشن کے لئے پاکستان بار کونسل کو لکھیں یا نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکارکر دیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اعتراض سن لیا ہے تشریف رکھیں، یہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے درمیان معاملہ ہے،کسی پرائیویٹ شخص کا اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی پرائیویٹ پارٹیز کو آپ نے فریق کیسے بنا دیا ،

    کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ کیا کوئی صدارتی آرڈیننس آیا ہے ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق؟اٹارنی جنرل نے آرڈینینس سے متعلق تفصیلات بارے عدالت کو آگاہ کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈینینس میں ترمیم کی گئی ہے،بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پہنچ چکا ہے، الیکشن ایکٹ کی سیکشن 140 کو کو اسکی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بل اور آرڈینینس عدالت میں پیش کر دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرڈیننس کا کا اس کیس پر اثر ہو گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 15 فروری کا خط جمع کرائیں وہ بہت ضروری ہے،آپ نے پینل مانگا تھا اس کا کیا مطلب ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ججز کی فہرست درکار تھی تو ویب سائٹ سے لے لیتے؟ کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا، کیا اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں بھی پینل مانگے گئے تھے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن چیف جسٹس سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کر سکتا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے اچھے طالبان اور برے طالبان کی بات ہوتی تھی اب کیا ججز بھی اچھے برے ہونگے؟

    الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے،جسٹس عقیل عباسی
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بطور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جو نام دیے وہ قبول کر لئے گئے،پنجاب میں الیکشن کمیشن نے کیوں مسئلہ بنایا ہوا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ آپ کے نکات سے مکمل متفق ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے متفق ہونے کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن کا پہلا موقف درست نہیں تھا،کیا متفقہ طور پر ٹربیونلز کو کام جاری رکھنے اور حتمی فیصلہ نہ سنانے کا حکم دیدیں؟جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عقیل عباسی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹربیونل کے جج کا پینل مانگنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مشورہ دیا کہ آپ اب جا کر چیف جسٹس سے مشاورت کرلیں، ابھی مشاورت میں کیا رکاوٹ ہے؟

    سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کو واپس بھیجنے کا عندیہ دیدیا ! ریمار کس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ بیٹھ کر حل نکال لیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام ججز اچھے ہیں سب کا احترام کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے آپس میں لڑیں تو ملک تباہ ہوتا ہے،ججز تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کب ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتائوں گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس کو کہا جاتا کہ کن علاقوں کیلئے ججز درکار ہیں وہ فراہم کر دیتے، ملتان کیلئے جج درکار ہے وہ اس رجسٹری میں پہلے ہی جج موجود ہوگا، کیا لازمی ہے کہ ملتان کیلئے لاہور سے جج جائے جبکہ وہاں پہلے ہی جج موجود ہے،الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا تھا۔

    کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں دو آئینی اداروں میں لڑائی ہو، کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے، ہم کیس زیر التوا رکھ لیتے ہیں تب تک الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ شاید حل نکال لیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کی لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبیونلز کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ابھی معطل نہیں کرسکتے، ہم ججزآپس میں مشاورت کر لیتے ہیں، مشاورت کیلئے مختصر وقفہ لے لیتے ہیں

    دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ وکیل الیکشن کمیشن نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو لکھا 27 جون کا خط دکھایا، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چاروں ہائی کورٹس کو پہلے ٹربیونل تعیناتی کے لیے بھی خطوط لکھے، ریکارڈ کے مطابق پہلے دو ٹربیونلز لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ مل کر بنائے گئے تھے جو ناکافی تھے، اس کے بعد چھ مزید ججز کے نام بطور ٹربیونل لاہور ہائی کورٹ نے بھیجے، الیکشن کمیشن نے 6 میں سے دو ججز کو ہی ٹریبیونل تعینات کیا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا ابھی مشاورت نہیں ہوئی،الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے درمیان فیس ٹو فیس ملاقات ہوتی تو معاملہ شاید حل ہو جاتا،

    سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 26 اپریل کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہاٸیکورٹ سے پینل مانگنے کا خط بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گی،اٹارنی جنرل نے بتایا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعییناتی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ہے، پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملاقات ممکن ہے،

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،چیف جسٹس

    کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل ن لیگ شہزاد شوکت نے کہا کہ جیت کا تناسب پانچ فیصد سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ،ہم دوبارہ گنتی کے اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟ ہر کیس کو سننا شروع کردیں تو زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا، الیکشن سے متعلق کیسز کو جلد مقرر کر رہے ہیں،جب کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،اگر ایک کیس کو 155 گھنٹے سنیں گے تو سپریم کورٹ چوک ہو جائے گی،

    این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    ہمارے دور میں کچھ غلط ہوا تھا تو اس کو دہرانا نہیں چاہیے، عون چوہدری

    زیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری کی ملاقات

  • پی ٹی آئی کا نام سُنتے ہی الیکشن کمیشن تلملانا شروع کردیتا ہے،کنول شوذب

    پی ٹی آئی کا نام سُنتے ہی الیکشن کمیشن تلملانا شروع کردیتا ہے،کنول شوذب

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کی ہے اور کہا ہے عدالت میں کیس تاخیر کا شکار کیا جا رہا، الیکشن کمیشن کے رویئے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے.

    تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس کو مزید لمبا کرنے پر تشویش ہے، عدم استحکام مزید بڑھے گا،اور جب تک پارلیمان میں وہ لوگ نہیں آئیں گے جن کو عوام نے بھیجا پارلیمان کی اخلاقی حیثیت نہیں ہو گی، فارم 47 والے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے، بجٹ میں دیکھ لیا کہ عوام پر کتنے ٹیکس مسلط کئے گئے

    اٹارنی جنرل کےمنہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، کانپیں ٹانگ رہی تھیں، فردو س شمیم نقوی
    فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کےمنہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، کانپیں ٹانگ رہی تھیں، جب کانپیں ٹانگنے لگیں تو میری بہن کا جو کیس ہے وہ خود بیان کرے گی، عدالت میں واضح مثال دی گئی کہ جے یو آئی کی صفر سیٹ پھر بھی انکو سیٹ دی گئی،

    تحریک انصاف کی رہنما کنول شوذب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نام سُنتے ہی الیکشن کمیشن تلملانا شروع کردیتا ہے، آپ آنکھوں پر پٹی نہیں باندھ سکتے، 13 جنوری پر واپس جائیں اور دیکھیں اُس کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا رویہ تھا، آپکو دیکھنا پڑے گا، کس طرح الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے ساتھ سلوک کیا، عامر ڈوگر کھڑے ہیں سب نے تین چار چار فارم جمع کروائے، یہ ایک فارم عدالت اٹھا لائے، آر او کے آفس کے باہر ڈالے کھڑے کئے گئے تھے، ہمیں سکروٹنی نہیں کرنے دی گئی،ہمارے امیدواروں کو اٹھایا گیا، الیکشن والے دن فسطائیت برپا کی گئی، اس سب کو دیکھیں ،یہ عدالت نہیں انسانی حقوق پر نظر نہیں ڈالے گی تو کون دیکھے گا،الیکشن کمیشن ایک نیوٹرل ادارہ ہونا چاہئے،آئینی ادارہ ہونا چاہئے، لیکن یہاں الیکشن کمیشن کا رویہ کچھ اور ہے ، اس الیکشن کی انکوائری ہونی چاہئے کہ کیا کچھ ہوا.

    تعصب پر مبنی فیصلہ کرکے ہم سے بلا نہ چھینا جاتا تو آئین و قانون کیساتھ کھلواڑ نہ ہوتا،ملک عامر ڈوگر
    تحریک انصاف کے رہنما ملک عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ مُلک میں سیاسی، آئینی و معاشی بحران کی ذمہ دار سُپریم کورٹ ہے، اگر تعصب پر مبنی فیصلہ کرکے ہم سے بلا نہ چھینا جاتا تو آئین و قانون کیساتھ کھلواڑ نہ ہوتا،مخصوص نشستوں کا کیس ایک دن کا کیس ہے، مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمیں انصاف دے گی، کیس ضروری طور پر تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے، قوم کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، نامکمل پارلیمنٹ نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا،

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ ، سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ وکیل مخدوم علی خان نے بتایا آئین کے مطابق سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی نہ کہ آزاد امیدواروں کو، سیاسی جماعتیں تب مخصوص نشستوں کی اہل ہوں گی جب کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہوگی ،میرے پاس ریکارڈ آگیا ہے، 2002 اور 2018 میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے،2002 کی قومی اسمبلی میں 14آزاد اراکین تھے، 14آزاد اراکین کو نکال کر باقی مخصوص نشستوں کا فارمولا نکالا گیا،ان 14آزاد اراکین کی مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں میں بانٹی گئیں، ایک اسمبلی میں بلوچستان میں 20فیصد آزاد اراکین تھے، آزاد اراکین کو ہمیشہ الگ کیا جاتا رہا،

    کیا سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آزاد اراکین کو پولیٹیکل پارٹیز سے الگ رکھنے کے نتائج کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں تقریباً 33فیصد اراکین اسمبلی آزاد ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 51کی زیلی شق چھ کی اصل لینگویج تک خود کو محدود رکھ رہا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے باہر کردیا، کیا سپریم کورٹ کی آئینی زمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی یہی سوال کیا گیا تھا،میں آخر میں آرٹیکل 187پر دلائل دونگا ،

    جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 لایا گیا، 2002 میں مخصوص نشستوں کی تعداد 10 تھی،2018 میں 272 کل نشستیں تھیں تین پر انتخابات ملتوی ہوئے اور 13 آزاد امیدوار منتخب ہوئے، 9 امیدوار سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے مخصوص نشستوں کا فارمولا 265 نشستوں پر لاگو ہوا، 2018 میں 60 خواتین کی اور 10 اقلیتی سیٹیں مخصوص تھیں،2002 کے انتخابات میں بلوچستان میں 20 فیصد آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے، مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا،جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن کی غلطی کو درست کریں؟ الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی ،بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کے ناطے کیا یہ ہماری زمہ داری نہیں کہ اسے درست کریں،

    کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟جسٹس منیب اختر
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہے کیا آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحادکونسل میں آزادامیدواروں کی شمولیت ہوسکتی ہے، کیا سنی اتحادکونسل مخصوص نشستوں کی اہل ہے یا نہیں؟جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آزاد امیدواروں کی تعداد 2024 میں بہت بڑی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق کسی صورت کوئی نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں کبھی آزاد اراکین کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا، اس مرتبہ آزاد اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کیس بھی آیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسمبلی مدت ختم ہونے میں 120 دن رہ جائیں تو آئین کہتا ہے انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟ جن کو آپ آزاد کہہ رہے وہ آزاد نہیں انکو الیکشن کمیشن نے فیصلے سے آزاد کیا۔

    آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں،آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں، موجودہ سچوئشن بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتی تو خالی چھوڑ دیں، پارلیمانی پارٹی کےلیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو،
    پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے،پارلیمانی پارٹی کی مثال غیرمتعلقہ ہے کیونکہ اس معاملے کا تعلق انتخابات سے پہلے کا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کا ذکر آئین میں کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ذکر صرف آرٹیکل 63 اے میں ہے، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو،

    پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کر چکا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس اختیار کے تحت پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کرتا ہے؟ پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب الجواب دلائل میں وہ خود بتا دیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وہ نہیں، آپ بتائیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن پر کیا کہتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل کو دکھادیا،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن بھی دکھا دیا ،وکیل فیصل صدیقی نے کہ کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹیفکیشن سے زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بھی بنا چکا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار پارلیمانی پارٹی نہیں بنا سکتے،آزادامیدواروں نے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے جو پارٹی ایک سیٹ کم سے کم جیت کر آئی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی سیاسی جماعت کے جیتے ہوئے امیدوار ہوں تو سیاسی پارٹی آٹومیٹکلی پارلیمانی پارٹی بن جاتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزادامیدوار پارٹی بنا لے تو آرٹیکل 51 نافذ نہیں ہوگا، آزادامیدوار کی اسمبلی سے باہر تو پارٹی تصور کی جائےگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار کسی ایسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا جو پارلیمانی پارٹی نہ ہو،

    نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سرکاری طور پر ہونے والے کمیونکیشن کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے ان نوٹیفکیشنز کا تعلق نہیں، اٹارنی جنرل منصوراعوان نے علامہ اقبال کے بانگ درا کے شعر کا حوالہ دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، میرا شوق دیکھ اور میرا انتظار دیکھ،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ،جسٹس منیب اختر
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تشریح مان لیں تو پارلیمان میں بیٹھے اتنے لوگوں کا کوئی پارلیمانی لیڈر نہیں ہوگا؟ موقف مان لیا تو کسی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ہونے پر کارروائی ممکن نہیں ہوگی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ہے،بتائیں نا الیکشن کمیشن انہیں پارلیمانی پارٹی مان کر کیسے نشستوں سے محروم کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو بتا رہا ہے کہ ہمارے ریکارڈ میں یہ پارلیمانی جماعت ہے، ریکارڈ کسی وجہ سے ہی رکھا جاتا ہے ناں؟

    اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسا ہوسکتا کہ سیاسی جماعت اگر پارلیمانی پارٹی نہ ہو لیکن سیٹ جیتے تو پارلیمانی پارٹی تصور کی جاسکتی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات ہی تعین کریں گے کہ پارلیمانی پارٹی کون ہوگی،آزادامیدوار اگر ہوں تو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو سکتے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں آزادامیدوار کے بارے میں نہیں پوچھ رہی، میں انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے حوالے سے پوچھ رہی، آپ کے مطابق سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی بنے گی، ابھی تو ہم دیکھ رہے آزادامیدوار سیاسی جماعت ہیں یا نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں،لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن چکی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک آئینی ادارے نے غیر آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں، ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا کیس،سپریم کورٹ نے سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ،فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس،تحریری حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ،فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس،تحریری حکمنامہ جاری

    فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے

    سپریم کورٹ نے 34 ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں، سپریم کورٹ نے دو ہفتوں میں ٹی وی چینل مالکان کے دستخط کے ساتھ جواب طلب کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس نعیم افغان نے تحریری حکمنامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ” شوکاز نوٹس پیمرا کے ذریعے بھیجا جائے اور چینلز 2ہفتوں میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروائیں، شوکاز نوٹس کا جواب آپریشنل ہیڈ اور چینل مالکان یا شیئر ہولڈر کے دستخط کے ساتھ ہوں”۔

    سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں مزیدکہا گیا کہ وکیل صفائی فیصل صدیقی کے مطابق ابتدائی جواب جمع کروا دیا، چینلز کے جواب پر دستخط کسی چینل مالک کے نہیں بلکہ وکیل فیصل صدیقی کے ہیں، تمام چینلز کی جانب سے دلائل کم و بیش ایک ہی طرح کے ہیں،بادی النظر میں چینلز کا جواب اطمینان بخش نہیں۔

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    کیس کی سماعت ہوئی تھی تو دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا تھا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،