Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت منظور

    دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت منظور

    بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے باوجود کیجریوال بدستور جیل میں رہیں گے، یہ ابھی واضح نہیں کہ اروند کیجریوال کو جیل سے کب رہا کیا جائے گا،دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال مارچ سے شراب پالیسی کرپشن کیس میں گرفتار ہیں،بھارتی انتخابات کے موقع پر انکو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا تا ہم انتخابات کے بعد کیجریوال نے خود سپردگی کر دی تھی.

    بھارتی سپریم کورٹ نے کیجریوال کی گرفتاری کا معاملہ سپریم کورٹ کی بڑی بنچ کو منتقل کر دیا ہے، اب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ کیجریوال کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گا،جسٹس سنجیو کھنہ اور دیپانکر دتا پر مشتمل بنچ نے کیجریوال کی درخواست پر فیصلہ سنایا اور کیس تین رکنی بینچ کو بھیجا تا کہ اس سوال کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا کیجریوال کی گرفتاری منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 19 کے مطابق ضروری تھی؟ دو رکنی بینچ نے موجودہ بنچ نے کیجریوال کی اب تک کی قید کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں عبوری ضمانت دی ہے

    بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیجریوال رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ سی بی آئی نے انہیں گرفتار کر رکھا ہے،

    اروند کیجریوال کو کرپشن الزامات پر شراب پالیسی کیس میں 21 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے،اروندکیجریوال نے گرفتاری سے بچنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تا ہم عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی،

    عام آدمی پارٹی کا مؤقف ہےکہ بی جے پی کی قیادت عام آدمی پارٹی اور دیگر پارٹیوں کو جڑ سے ختم کرنا چاہتی ہے، کیجریوال پر الزامات کے پیچھے مودی کے سیاسی عزائم ہیں، عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئی دہلی کے سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سیسوڈیا اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے رکن سنجے سنگھ بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

  • سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا
    مخصوص نشستوں کے کیس کا تحریری مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے ،فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست بھی شامل ہے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار م ، پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل، بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،آزاد ارکان قرار دئیے گئے ارکان میں علی محمد خان، شہریار آفریدی ،انیقہ مہدی شامل ہیں،احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز ، عمیر خان نیازی ، ثناء اللہ خان مستی خیل بھی آزاد ارکان قرار پائے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرا ر دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ حمزہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان ، وقاص اکرم شیخ ، بھی آزار ارکان قرار دیئے گئے،میاں محمد اظہر ، سید رضا علی گیلانی ، جمشید دستی ، خواجہ شیراز آزاد ارکان قرار دیئے گئے

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کےاختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی یا اس کے کسی رہنما نے آزاد رکن قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا،تاہم اس حقیقت کے پیش نظر درخواستیں انتخابی کاروائی کا تسلسل ہے اس لیے عدالت کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،آئین کا آرٹیکل 51(1)(ڈی) خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ضامن ہے،جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے دن تک کوئی اور ڈیکلیریشن جمع نہیں کرایا وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں،لہٰذا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شامل کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،ایسے امیدوار جنہوں نے 24 دسمبر 2023 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور انہوں نے خود کو آزاد یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوں گے،سنی اتحاد کونسل ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آزاد ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں سکیں، جن لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اپنی رضامندی سے سنی اتحاد میں شامل ہوئے،

    تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 8/5 کی اکثریت سے ہے، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے وہ فیصلہ سنائیں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان کے چھینے سے کسی سیاسی جماعت کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا ،تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، پی ٹی آئی کو عورتوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملیں گی،دیگر جماعتوں کو ملنے والی مخصوص نشستیں واپس لے لی گئیں ہیں جن 39 امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی دکھائی وہ پی ٹی آئی کے ہی ہیں ،تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، وہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو لسٹ جمع کرائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی۔ نشستیں صرف پاکستان تحریک انصاف کو ملیں گی،پی ٹی آئی 15 روز میں مخصوص نشستوں کی فہرست دے،الیکشن کمیشن نے 80 ارکان کی فہرست پیش کی ہے ،80 میں سے 39 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا ،باقی 41 ارکان آئندہ 15 دنوں میں اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ کس جماعت کا حصہ ہیں

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بطور پی ٹی آئی قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں مسترد کر دیں،عدالت نے کہا کہ دیگر 41 امیدوار بھی 14 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں کہ وہ سنی اتحادکونسل کے امیدوار تھے، سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت نے اکثریتی فیصلہ سنایا۔

    فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست کی مسترد
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے درخواستوں کی مخالفت کی جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے قانون کے مطابق پروسیس مکمل نہیں کیا درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کا یکم مارچ کا آرڈر برقرار رہے گا،

    الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان کو نکال کر فیصلہ دیا، اس بنیاد پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن نے غلط طور پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کیا، پی ٹی آئی نے آزاد قرار دیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے، اب پی ٹی آئی کے منتخب ارکان یا خود کو آزاد یا پی ٹی آئی ڈیکلیئر کریں، پی ٹی آئی ارکان پر کسی قسم کا دباو نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں مصنوعی الفاظ کا اضافہ نہیں کر سکتی، آئین کی تشریح کے ذریعے نئے الفاظ کا اضافہ کرنا آئین پاکستان کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کےفیصلے کی غلط تشریح کی،

    جسٹس امین الدین خان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد کرتے ہیں، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ میں بھی جسٹس امین الدین خان کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں ،چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی ایک نشست بھی نا جیت سکی، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی، آئین نے متناسب نمائندگی کا تصور دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے فیصلہ سنایا، اس موقع پر سپریم کورٹ کےباہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں موجود تھی، پولیس الرٹ تھی،سپریم کورٹ کی جانب جانے والے راستے بند اور عام شہریوں کا داخلہ بند کردیا گیا تھا، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان،سردار لطیف کھوسہ اور کنول شوذب بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر علی خان, شبیر قریشی اور ثناءاللہ مستی خیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہِ عدالت وکلاء، رہنماؤں اور صحافیوں کی بڑی تعداد سے بھر گیاتھا،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو دن فل کورٹ مشاورتی اجلاس بلایا تھا جس کے بعد گزشتہ روز پہلے کہا گیا تھا کہ تین رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا پھر کاز لسٹ جاری کی گئی کہ فل کورٹ فیصلہ سنائے گی،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    جمعہ کا دن،کئی عدالتی فیصلے،ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا
    پاکستان کی ملکی سیاست میں جمعہ کا دن انتہائی اہم رہا، جمعہ کے دن کئی عدالتی فیصلے ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلایا،20 جولائی 2007 جمعہ کے روز سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ہوئی تھی،31 جولائی 2009 بروز جمعہ ،ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا،28 جولائی 2017 بروز جمعہ،پانامہ لیکس کیس میں‌سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا،15 دسمبر 2017 بروز جمعہ، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا،13 اپریل 2018 بروز جمعہ، نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا،6 جولائی 2018،ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نواز شریف، مریم نواز،کیپٹن ر صفدر کو سزا سنائی گئی تھی،

    شریف برادران اور مسلم لیگ ن کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے، پانامہ کیس کے فیصلے سے تاحیات نااہلی کے فیصلے تک سب جمعہ کو سنائے گئے، پانچ مئی 2017 بروزجمعہ پاناما جے آئی ٹی بنی۔ اٹھائیس جولائی بروز جمعہ نواز شریف نااہل ہوئے۔ پندرہ ستمبر بروز جمعہ نظر ثانی کی درخواست خارج ہوئی۔ تیرہ اپریل کو نواز شریف تاحیات نا اہل ہوئے .ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جمعہ چھ جولائی دوہزار اٹھارہ کو سنایا گیا جب عدالت نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن قید کی سزا کا حکم سنایا۔ا س سے پہلے اصغر خان کیس میں نوازشریف اور دیگر کیخلاف تحقیقات کا حکم بھی انیس اکتوبر 2012 بروز جمعے کو ہی جاری ہوا تھا.

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

  • سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے،بابر اعوان

    سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے،بابر اعوان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ساری گھمبیر صورتحال سے نکلنے کے لیے پاکستان کو عدم استحکام کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، عمران خان بار بار دہرا رہے ہیں کہ دوبارہ الیکشن کروایا جائے، ایک چوری شدہ الیکشن کے تحت لوگوں کو حکومت سے نوازا گیا،الیکشن کمیشن نے سیٹوں کے معاملے میں جو زیادتی کی اس پر سپریم کورٹ کو کاروائی کرنی چاہیے، سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے، ہم جہاں بھی جاتے ہیں لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران کب آئے گا، عمران آئے گا تو ہی استحکام آئے گا، انسانی حقوق، معیشت کے ادارے بھی اب بولنا شروع ہوگئے ہیں،

    واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ آج 12 بجے سنایا جائے گا، 13 رکنی فل کورٹ فیصلہ سنائے گی، تحریک انصاف کے رہنما سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں کیس،فل کوٹ کا مشاورتی اجلاس ختم

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں کیس،فل کوٹ کا مشاورتی اجلاس ختم

    سپریم کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر ہونے والا مشاورتی اجلاس ختم ہو گیا ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ کا اجلاس ہوا تھا، مشاورتی اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز شامل تھے.گزشتہ روز بھی ایک فل کورٹ کا اجلاس ہوا تھا، سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس پر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کسی بھی وقت سنائے جانے کا امکان ہے،آج ججز کا دوسرا مشاورتی اجلاس مختصر رہا، تقریبا 40 سے 45 منٹ جاری رہا، کل تقریباً 2 گھنٹے مشاورت ہوئی، 13 ججز نے سر جوڑے کیا فیصلہ ہونا چاہئے؟

    سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    کُل77 متنازع نشستوں میں سے 22 قومی اور 55 صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں ہیں،الیکشن کمیشن پاکستان نے 13مئی کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ان نشستوں کو معطل کر دیا تھا،قومی اسمبلی کی معطل 22 نشستوں میں پنجاب سے خواتین کی 11، خیبر پختون خوا سے 8 سیٹیں شامل ہیں،قومی اسمبلی میں معطل نشستوں میں 3 اقلیتی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 14، پیپلز پارٹی کو 5، جے یو آئی ف کو 3 اضافی نشستیں ملی تھیں،خیبر پختون خوا اسمبلی میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی مخصوص نشستیں معطل ہیں جن میں سے جے یو آئی ف کو 10، مسلم لیگ ن کو 7، پیپلز پارٹی کو 7، اے این پی کو 1 اضافی نشست ملی تھی،پنجاب اسمبلی میں 24 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 اقلیتی نشستیں معطل ہیں، جن میں سے ن لیگ کو 23، پیپلز پارٹی کو 2، پی ایم ایل ق اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک ایک اضافی نشست ملی تھی،سندھ اسمبلی سے 2 خواتین کی مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست معطل ہیں جہاں پیپلز پارٹی کو 2 اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست ملی تھی۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا  تو وہ جیل میں کیوں نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا تو وہ جیل میں کیوں نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس قاضی امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپیل میں عدالت نے اصل فیصلہ میں غلطی کو دیکھنا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل آپ کو ہمیں اصل فیصلہ میں غلطی دکھانا ہو گی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ ملزمان کے ساتھ سلوک تو انسانوں والا کریں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب انسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں ہو سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ پہلے بتاتے تھے ہر ہفتہ ملزمان کی فیملی سے ملاقات ہوتی ہے، آپ اس کو جاری کیوں نہیں رکھتے؟ اٹارنی جنرل آپ کا بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تفتیش کیلئے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے،تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج دو بجے زیر حراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا، لاہور میں ملاقاتوں کا ایشو بنا اب ایسا نہیں ہوگا۔

    ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈیر عمران عدالت میں پیش
    لطیف کھوسہ روسٹرم پر آگئے،جسٹس عرفان سعادت نے لطیف کھوسہ کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپ بیٹھ جاٸیں اور کیس چلنے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کو فیملی سے نہیں ملنے دیا گیا، اس کا پانچ سالہ بچہ فوت ہوگیا،ملزم کا بھاٸی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہے، ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈیر عمران عدالت میں پیش ہو گئے،عدالت نے ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن کو فوت ہونے والے بچے کے والد کو ورثا سے ملوانے کی ہدایت کر دی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کم از کم آج اس کیس کی میرٹ پر سماعت شروع کریں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے،

    جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے، جسٹس جمال مندوخیل
    اٹارنی جنرل نے ملزمان سے آج اہل خانہ کی ملاقاتوں کی یقین دہائی کروا دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوٰخیل نے کہا کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کیلئے فوکل پرسن کون ہے؟ ڈائریکٹر لاء بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ 24 گھنٹے دستیاب ہوتے ہیں ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب کیا آپ کے پاس تمام قیدیوں کے اہل خانہ کی فہرست موجود ہے؟جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے،

    اگر اپیل میں سب کچھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم کیس ریمانڈ بیک بھی کرسکتے ہیں؟جسٹس شاہد وحید
    جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان پھر جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلطی دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، ایک قانونی نکتے کی بات کی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ دلائل دیں ہم جو ہوا فیصلے میں دیکھ لیں گے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر اپیل میں سب کچھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم کیس ریمانڈ بیک بھی کرسکتے ہیں؟ جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ ایک جواب دے سکتے ہیں کہ یہ نظر ثانی نہیں اپیل ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ یہی کہ رہے ہیں نا کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، بس آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے،جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا،

    اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیئے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا، کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے اپیل دائر کرنے کے لیے،ایڈوکیٹ فیصل صدیقی وڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ میں نے متفرق درخواست دائر کر رکھی ہے کہ پرائیویٹ وکیل حکومت کی جانب سے نہیں آسکتا،خواجہ حارث کے دلائل سے پہلے میری درخواست نمٹائیں ورنہ غیر موثر ہوجائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلی بار تو نہیں ہوا کہ پرائیویٹ وکیل حکومت کی جانب سے آیا ہو، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کئی بار اس پریکٹس کی حوصلہ شکنی کر چکی ہے،پرائیویٹ وکیل کو حکومت کی نمائندگی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے بطور جج دیا تھا،فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل کے پاس متعلقہ کیس پر مہارت نہ ہو تو ہی نجی وکیل کیا جا سکتا ہے،اٹارنی جنرل کو لکھ کر دینا ہوتا ہے کہ ان کے پاس متعلقہ مہارت نہیں ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سویلنز کا فوجی ٹرائل روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا تھا۔پانچ رکنی لارجر بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو فوجی عدالتوں میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں،سپریم کورٹ

  • میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آبادی کے قریب اسٹون کریشنگ کو انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دے دیا،جبکہ میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دی گئی-

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسٹون کریشنگ پلانٹس کے خلاف کیس کی سماعت کی،دوران سماعت دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز انسانی جان کے لیے خطرہ ہے، آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز کو دوسری جگہ شفٹ کریں، خیبرپختونخوا میں اسٹون کریشنگ کا بڑا سنجیدہ ایشو ہے، ہمارے سامنے کیس تین اسٹون کریشرز کا ہے، ایسے سینکڑوں پاور کریشرز ہیں جو آبادی کے قریب ہے۔

    وکیل پاور کریشرز اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں کمیشن رپورٹ کا جائزہ لینے کا وقت دیا جائے، استدعا ہے کہ کیس کو محرم کے بعد رکھا جائے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ محرم کی بات ہے تو پھر کیس کا فیصلہ جلدی ہونا چاہیئے، انڈسٹری کو بند نہیں کرنا چاہتے لیکن انسانی جانوں کا معاملہ اہم ہے۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور وکیل اسٹون کریشنز کو کل تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کل اسٹون کریشرز کے وکیل نہ آئے تو کمیشن رپورٹ پر فیصلہ کردیں گے۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میڈیکل کالجز میں فیسوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ میڈیکل کالجز کی فیس پر کون سا قانون لگتا ہے اور فیس کی ریگولیٹری کون کرتاہے؟ سپریم کورٹ ایسے تو کیس نہیں سن سکتا۔

    جسٹس محمدعلی مظہر نے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان میڈیکل کمیشن سے فیس کے حوالے سے رابطہ کیا؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے وزیراعظم، صدر مملکت کو میڈیکل فیس کےحوالے سے خط لکھا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میڈ یکل ڈینٹل ایکٹ بنایاگیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط لیاگیا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا آپ ریگولیٹری کے پاس جائیں، سپریم کورٹ کا میڈیکل فیس دیکھنےسے متعلق کیاکام؟ ریگولیٹری جب بنا ہوا ہے تو کیا آپ وہاں گئے ہیں؟ کیا ہم کمیشن بنا سکتے ہیں؟ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے تو ریگولیٹری سے رجوع کریں۔

    بعد ازاں عدالت نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل ،عمران خان کا تحریری جواب جمع

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل ،عمران خان کا تحریری جواب جمع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا –

    باغی ٹی وی : بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے تحریری جواب میں کہا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی (چاہے یہ منی لانڈرنگ سے ہو یا کسی اور طریقے سے)۔

    عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا-

    انہوں نے تحریری جواب میں کہا کہ اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔

    عمران خان نے تحریری جواب میں بتایا کہ کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

  • پرویز مشرف حملہ کیس، تحقیقاتی افسر قتل کے ملزمان سپریم کورٹ سے بری

    پرویز مشرف حملہ کیس، تحقیقاتی افسر قتل کے ملزمان سپریم کورٹ سے بری

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف حملہ کیس کے تحقیقاتی افسر کے قتل کا معاملہ،سپریم کورٹ نے راجہ ثقلین قتل کیس کے ملزمان کو بری کر دیا

    عدالت نے ملزمان ارشد ستی،طاہر عباسی اور قاری یونس بری کر دیا،سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کے تناسب سے ملزمان کی بریت کا فیصلہ سنایا،جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ سے اختلاف کیا،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ملک شہزاد احمد تین رکنی بینچ کا حصہ تھے، ملزمان کی طرف سےعادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ پیش ہوئے،انسپکٹر راجہ ثقلین کو 2004 میں راولپنڈی میں قتل کیا گیا تھا،چار ملزمان میں سے ایک ملزم مفتی عید محمد سکنہ ٹمن دوران قید انتقال کر گیا تھا

    پنجاب پولیس کے مایہ ناز ،بہادر اور فرض شناس پولیس آفیسر انسپکٹر راجہ محمد ثقلین شہید کی سالانہ برسی ،جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہونے والے پولیس آفیسر کوراولپنڈی پولیس کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے،

    پنجاب پولیس کے 007 کے نام سے مشہور راجہ محمد ثقلین شہید کون؟
    10جولائی 2004کو راولپنڈی پولیس کے بہادر اور فرض شناس پولیس آفیسر انسپکٹر راجہ محمد ثقلین دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل الطاف حسین کے ہمراہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے، شہید انسپکٹر راجہ محمد ثقلین انتہائی قابل اوردلیر پولیس آفیسر تھے جوہمیشہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ،انسپکٹر راجہ محمد ثقلین شہید نہ صرف راولپنڈی بلکہ پاکستان کے مایہ ناز پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں،وہ ایک ماہر تفتیشی آفیسرتھے جس کی بناپر انہوں نے متعدد اہم مقدمات کی تفتیش کرتے ہوئے نہ صرف ملزمان کوگرفتارکیابلکہ ان کوقانون کے مطابق سز ا بھی دلوائی ،انہوں نے بے شمار اہم مقد ما ت کی تفتیش میں اپنا کردار ادا کیاجن میں ایرانی کیڈٹ حملہ کیس ،انٹرنیشنل صحافی قتل کیس ،اہم سرکاری و مذہبی شخصیات کے قتل کے مقدمات کے علاوہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات کی تفتیش کرتے ہوئے نہ صرف مقدمات کوٹریس کیابلکہ دہشت گردوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ،پیرودھائی مسجد پر دہشت گرد حملہ ،ٹیکسلا ہسپتال پر دہشت گرد حملہ ،مری سکول پر دہشت گرد حملہ ،صدرپاکستان حملہ کیس میں انہوں نے تفتیش کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ریکٹ کونہ صرف توڑا بلکہ ان کی گرفتار ی بھی کی ،انہوں نے القاعدہ کے دہشت گردوں کوبھی گرفتارکرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا،ان کی پیشہ وارانہ مہارت کایہ عالم تھاکہ آپ جس علاقہ میں تعینات ہوتے جرائم پیشہ عناصر اس علاقے کو چھوڑ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے ،منشیات سمگلرز کے خلاف بھی انہوں نے بے مثال کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات کی فیکٹریاں بند کروانے کے ساتھ ان گنت ملزمان کی گرفتارکیے اور منشیات برآمد کیں،راجہ محمد ثقلین بہادری کی ایک مثال تھے اورجان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں کے خلاف مصروف جنگ تھے ،ان کی مہارت اورپیشہ وارانہ قابلیت کی وجہ سے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں پے درپے ناکامیوں کاسامناتھا،اسی وجہ سے 10جولائی 2004 کودہشت گردوں نے منصونہ بندی کی تحت ان پر حملہ کیا، راجہ محمد ثقلین عباس کو 24 گولیاں لگیں اورانہوں نے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل الطاف حسین کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا،راجہ محمد ثقلین عباس کی بے پناہ خدمت اورجرات وبہادری کی مثال پر ستارہ شجاعت اورپریزیڈنٹ پولیس میڈل سے نوازا گیا،آپ کوایس ایچ اوپاکستان اورپنجاب پولیس کے 007 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،  سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مختصر رہوں گا، پندرہ منٹ میں جواب الجواب مکمل کروں گا،آرٹیکل 218 کے تحت دیکھنا ہے کیا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری شفاف طریقہ سے ادا کی یا نہیں،ثابت کروں گا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری مکمل نہیں کی، موقف اپنا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی، 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن تین مخصوص نشستیں ملیں،الیکشن کمیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق بے ایمانی پر مبنی جواب جمع کروایا،الیکشن کمیشن کے سامنے معاملہ سپریم کورٹ سے پہلے بھی لے کر جایاگیاتھا،الیکشن کمیشن اپنے ہی دستاویزات کی نفی کررہاہے، کیا یہ بےایمانی نہیں؟

    آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جسٹس عرفان سعادت
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھول جائیں الیکشن کمیشن نے کیاکہا؟ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق قانون پر مبنی تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق مخصوص نشستوں کا فیصلہ چیلنج کیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ دیتا کہ غلطی ہوگئی، الیکشن کمیشن نے ایسا رویہ اختیار کیاجیسے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق فیصلے کا وجود ہی نہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا لیکن سیٹ نہیں جیتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، ابھی دلائل دیں لیکن بعد میں تفصیلی جواب دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہوتا ہے،پارلیمنٹ کے اندر جو فیصلے ہوتے ہیں وہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے،ایسے فیصلے سیاسی پارٹی نہیں کرسکتی،پارلیمانی پارٹی پولیٹیکل پارٹی کا فیصلہ ماننے کی پابند نہیں، جیسے وزیراعظم کو ووٹ دینا ہو تو پارلیمانی پارٹی پابند نہیں کہ سیاسی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کرے، وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں،

    آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، چیف جسٹس
    باپ پارٹی! نام عجیب سا ہے! جسٹس جمال مندوخیل کے جملے پر قہقہے گونج اٹھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی باقی صوبوں میں سیٹ لے اور ایک صوبے میں نہ لے تو کیا ہوگا؟ وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے دیگر صوبوں میں سیٹ جیتی لیکن خیبرپختونخوا میں کوئی سیٹ نہیں لی، الیکشن کمیشن کا غیرشفاف رویہ ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں سپریم کورٹ جوڈیشل نوٹس لے؟ اگر نہیں تو ذکر کیوں کررہے؟آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، لیکن سپریم کورٹ 2018 انتخابات پر انحصار نہیں کرےگی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن امتیازی سلوک کررہا تو سپریم کورٹ دیکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی 2018 میں الیکشن کمیشن ٹھیک تھا؟

    کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یونانی کہتےتھے اگر دلائل سے بات نہیں کرسکتے تو فرد پر اٹیک کردو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یونانی مثال اچھی بات ہے؟ آئینی بات ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اچھی بات نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی منافقت ظاہر ہے، جمیعت علمائے اسلام ف کو بھی اقلیتوں کی مخصوص نشست دی ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام ف نے کہا ہمارے مینی فیسٹو میں ایسا کچھ نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں جمیعت علمائے اسلام ف کا اقلیتوں کے حوالے سے مینی فیسٹو دکھا دیتاہوں، جے یو آئی کو اقلیتی نشست بھی الاٹ کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا جمیعت علمائے اسلام ف کو اقلیتی نشست نہیں ملنی چاہیے؟ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ کامران مرتضیٰ اس پر وضاحت دے چکے ہیں کہ مس پرنٹ ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کامران مرتضیٰ کی وضاحت ہوا میں ہے، جے یو آئی کی کی ویب سائٹ سے آئین ڈائون لوڈ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں تمام مسلمان شامل ہوسکتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باقیوں کو آپ مسلمان سمجھتے ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ آئین کے ٹیکسٹ پر بات چاہتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں آئین کے ٹیکسٹ سے ہی فیصلہ چاہتا ہوں، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا ٹیکسٹ میں لکھا ہے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دے دیں ؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کے ٹیکسٹ میں ایسا نہیں لکھا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جواب الجواب دلائل نہیں دے رہے نئے نکات اٹھا رہے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں انہی نکات پر بات کر رہا ہوں جو بار بار یہاں اٹھائے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار پی ٹی آئی کی طرف سے بات کرنے لگتے ہیں آپ سنی اتحاد کونسل پر رہیں، متناسب نمائندگی کے حساب سے تو سنی اتحاد کونسل کو زیرو نشست ملنی چاہئے، آپ کی تو عام انتخابات میں زیرو نشست تھی،

    ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، چیف جسٹس کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیا 18 جنرل سیٹیں جیتنے والی کو 30 مخصوص نشستیں ملنی چاہیے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی لاجک کے مطابق آپ کو تو پھر صفر سیٹ ملنی چاہیے کیونکہ آپ کوئی سیٹ نہیں جیتے، آپ تحریک انصاف کے کیس پر دلائل دےرہے، آپ سب باتیں اپنے خلاف کررہےہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں آزادامیدوار کہہ رہے وہ آزادامیدوار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، ہم آپ کے دلائل مان لیتے ہیں تو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحادکونسل کو ملے گی جو پارلیمنٹ میں موجود ہے،

    2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹ کے حق پر کوئی بات نہیں کررہا، عوام نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دیا،انتخابات کو شفاف بنانا ضروری ہے، صورتحال کے مطابق ایک بڑی سیاسی جماعت کو ووٹ ملا جس کو انتخابی عمل سے نکال دیا گیا، بات سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کے حق کی ہے، 2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ عوام کا حق پامال ہونے دیں؟

    فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں،جسٹس عرفان سعادت
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اسی وقت کہہ دیتا آپ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہیں ہو سکتے، الیکشن کمیشن کا مسلسل ایک ہی موقف رہتا تو بات سمجھ آتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن نارمل حالات میں اور شفاف ہوئے تھے؟کیا ایک بڑی سیاسی جماعت کو اپنے امیدوار دوسری جماعت میں کیوں بھیجنے پڑے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ آزاد امیدواروں نے کیسے پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی،پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کو آزاد امیدواروں کی شمولیت کے حوالے سے بتانا ہوگا،آزاد امیدوار کی بھی مرضی شامل ہونی چاہیے،الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت کا ممبر ہے تو اسی سیاسی جماعت کا نشان اسے ملنا چاہیے،کسی سیاسی جماعت کو چھوڑے بغیر نئی جماعت میں شمولیت نہیں ہوسکتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بلے کے نشان کا فیصلہ آنے سے پہلے حامد رضا پی ٹی آئی کے نامزد تھے،الیکشن کمیشن نے غلط تشریح کی جس وجہ سے تنازع پیدا ہوا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جسٹس عرفان سعادت نے کہا تھا ہمیں مفت نشستیں ملیں، اس پرمرزا غالب کا شعر سنانا چاہتا ہوں، غالب نے کہا تھا مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مرزا غالب کو چھوڑیں، آپ تشریف رکھیں، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کے جواب الجواب دلائل مکمل ہو گئے.

    سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟جسٹس جمال مندوخیل کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ واپس بھی لے لیا گیا تھا،ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،الیکشن کمیشن نے مکمل دستاویزات جمع نہیں کروائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 13 جنوری کا ڈیکلریشن آپ نے تحریک انصاف نظریاتی کا ظاہر کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیس بہت اہم ہے، سنجیدہ سوالات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری پر اٹھے ہیں، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں جو تحریک انصاف کے ہوتے ہوئے سنی اتحادکونسل میں گئے وہ ٹھیک گئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر آزاد امیدوار ڈیکلیئر کیا ہے تو سنی اتحادکونسل میں شامل ہوسکتے، سنی اتحادکونسل کے علاوہ کسی پارٹی میں شامل کونے کی کوئی آپشن نہیں تھی،اس سے پہلے جو ہوا وہ الیکشن کمیشن کی غلطی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آئینی تشریح سے ایسے نتیجے پر پہنچے تو مجھے انکار نہیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں کہاں لکھا کہ مخصوص نشستیں لینے کے لیے ایک سیٹ جیتنا ضروری ہے،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا آپ کی دلیل وکیل فیصل صدیقی کے کیس کو نقصان نہیں پہنچا رہی، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اپنے دلائل مکمل اور شفاف دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بات ہو رہی تو ووٹ کے حق کی بات ہورہی،الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے نکالا،کیا ایسے عمل کو سپریم کورٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا،تمام فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے،فیصلہ کب سنایا جائے گا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے،

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،قاسم سوری الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سوچ رہے ہیں اس کیس میں کیا کریں ؟ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ آپ صرف مجھے سن لیں اور فیصلہ دے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا قاسم سوری سے رابطہ نہیں ہے، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جی میرا بلکل قاسم سوری کے ساتھ رابطہ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے کلائنٹ کو پکڑ کر تو نہیں لا سکتے ،انہیں بتائیں کہ سپریم کورٹ کو ایسے استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جو بھی کرنا ہے جلدی سے کر دیں، وآپ مجھے حکم دیتے ہیں تو میں کیس چھوڑ دیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اتنے خوبصورت شخص کو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ کیس چھوڑ دیں ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کورٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں،آپ انکو ہمارا پیغام پہنچائیں ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میرا کوئی رابطہ ہی نہیں ہے پیغام کیسے بھیجوں،

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی،سپریم کورٹ نے وفاقی و بلوچستان حکومت کو قاسم سوری جائیداد رپورٹ معاملہ پر نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے ایف آئی اے سے قاسم سوری سے متعلق رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے بتائے قاسم سوری کہاں پر ہے،بلوچستان حکومت قاسم سوری کی جائیدادوں کی رپورٹ پیش کرے۔قاسم سوری عدالتی حکم باوجود پھر پیش نہیں ہوئے۔

    قاسم سوری کو دو بار پہلے بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، آج بھی عدالت پیش نہ ہوئے نومئی کےو اقعات کے بعد سے قاسم سوری پہلے روپوش تھے اب اطلاعات کے بعد قاسم سوری برطانیہ میں ہیں.

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان