Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل ،عمران خان کا تحریری جواب جمع

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل ،عمران خان کا تحریری جواب جمع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا –

    باغی ٹی وی : بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے تحریری جواب میں کہا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی (چاہے یہ منی لانڈرنگ سے ہو یا کسی اور طریقے سے)۔

    عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا-

    انہوں نے تحریری جواب میں کہا کہ اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔

    عمران خان نے تحریری جواب میں بتایا کہ کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

  • پرویز مشرف حملہ کیس، تحقیقاتی افسر قتل کے ملزمان سپریم کورٹ سے بری

    پرویز مشرف حملہ کیس، تحقیقاتی افسر قتل کے ملزمان سپریم کورٹ سے بری

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف حملہ کیس کے تحقیقاتی افسر کے قتل کا معاملہ،سپریم کورٹ نے راجہ ثقلین قتل کیس کے ملزمان کو بری کر دیا

    عدالت نے ملزمان ارشد ستی،طاہر عباسی اور قاری یونس بری کر دیا،سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کے تناسب سے ملزمان کی بریت کا فیصلہ سنایا،جسٹس عائشہ ملک نے فیصلہ سے اختلاف کیا،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس ملک شہزاد احمد تین رکنی بینچ کا حصہ تھے، ملزمان کی طرف سےعادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ پیش ہوئے،انسپکٹر راجہ ثقلین کو 2004 میں راولپنڈی میں قتل کیا گیا تھا،چار ملزمان میں سے ایک ملزم مفتی عید محمد سکنہ ٹمن دوران قید انتقال کر گیا تھا

    پنجاب پولیس کے مایہ ناز ،بہادر اور فرض شناس پولیس آفیسر انسپکٹر راجہ محمد ثقلین شہید کی سالانہ برسی ،جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہونے والے پولیس آفیسر کوراولپنڈی پولیس کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے،

    پنجاب پولیس کے 007 کے نام سے مشہور راجہ محمد ثقلین شہید کون؟
    10جولائی 2004کو راولپنڈی پولیس کے بہادر اور فرض شناس پولیس آفیسر انسپکٹر راجہ محمد ثقلین دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل الطاف حسین کے ہمراہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے، شہید انسپکٹر راجہ محمد ثقلین انتہائی قابل اوردلیر پولیس آفیسر تھے جوہمیشہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ،انسپکٹر راجہ محمد ثقلین شہید نہ صرف راولپنڈی بلکہ پاکستان کے مایہ ناز پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں،وہ ایک ماہر تفتیشی آفیسرتھے جس کی بناپر انہوں نے متعدد اہم مقدمات کی تفتیش کرتے ہوئے نہ صرف ملزمان کوگرفتارکیابلکہ ان کوقانون کے مطابق سز ا بھی دلوائی ،انہوں نے بے شمار اہم مقد ما ت کی تفتیش میں اپنا کردار ادا کیاجن میں ایرانی کیڈٹ حملہ کیس ،انٹرنیشنل صحافی قتل کیس ،اہم سرکاری و مذہبی شخصیات کے قتل کے مقدمات کے علاوہ دہشت گردی کے متعدد مقدمات کی تفتیش کرتے ہوئے نہ صرف مقدمات کوٹریس کیابلکہ دہشت گردوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ،پیرودھائی مسجد پر دہشت گرد حملہ ،ٹیکسلا ہسپتال پر دہشت گرد حملہ ،مری سکول پر دہشت گرد حملہ ،صدرپاکستان حملہ کیس میں انہوں نے تفتیش کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ریکٹ کونہ صرف توڑا بلکہ ان کی گرفتار ی بھی کی ،انہوں نے القاعدہ کے دہشت گردوں کوبھی گرفتارکرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا،ان کی پیشہ وارانہ مہارت کایہ عالم تھاکہ آپ جس علاقہ میں تعینات ہوتے جرائم پیشہ عناصر اس علاقے کو چھوڑ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے ،منشیات سمگلرز کے خلاف بھی انہوں نے بے مثال کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات کی فیکٹریاں بند کروانے کے ساتھ ان گنت ملزمان کی گرفتارکیے اور منشیات برآمد کیں،راجہ محمد ثقلین بہادری کی ایک مثال تھے اورجان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں کے خلاف مصروف جنگ تھے ،ان کی مہارت اورپیشہ وارانہ قابلیت کی وجہ سے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں پے درپے ناکامیوں کاسامناتھا،اسی وجہ سے 10جولائی 2004 کودہشت گردوں نے منصونہ بندی کی تحت ان پر حملہ کیا، راجہ محمد ثقلین عباس کو 24 گولیاں لگیں اورانہوں نے اپنے ڈرائیور کانسٹیبل الطاف حسین کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا،راجہ محمد ثقلین عباس کی بے پناہ خدمت اورجرات وبہادری کی مثال پر ستارہ شجاعت اورپریزیڈنٹ پولیس میڈل سے نوازا گیا،آپ کوایس ایچ اوپاکستان اورپنجاب پولیس کے 007 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،  سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مختصر رہوں گا، پندرہ منٹ میں جواب الجواب مکمل کروں گا،آرٹیکل 218 کے تحت دیکھنا ہے کیا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری شفاف طریقہ سے ادا کی یا نہیں،ثابت کروں گا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری مکمل نہیں کی، موقف اپنا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی، 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن تین مخصوص نشستیں ملیں،الیکشن کمیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق بے ایمانی پر مبنی جواب جمع کروایا،الیکشن کمیشن کے سامنے معاملہ سپریم کورٹ سے پہلے بھی لے کر جایاگیاتھا،الیکشن کمیشن اپنے ہی دستاویزات کی نفی کررہاہے، کیا یہ بےایمانی نہیں؟

    آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جسٹس عرفان سعادت
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھول جائیں الیکشن کمیشن نے کیاکہا؟ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق قانون پر مبنی تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق مخصوص نشستوں کا فیصلہ چیلنج کیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ دیتا کہ غلطی ہوگئی، الیکشن کمیشن نے ایسا رویہ اختیار کیاجیسے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق فیصلے کا وجود ہی نہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا لیکن سیٹ نہیں جیتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، ابھی دلائل دیں لیکن بعد میں تفصیلی جواب دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہوتا ہے،پارلیمنٹ کے اندر جو فیصلے ہوتے ہیں وہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے،ایسے فیصلے سیاسی پارٹی نہیں کرسکتی،پارلیمانی پارٹی پولیٹیکل پارٹی کا فیصلہ ماننے کی پابند نہیں، جیسے وزیراعظم کو ووٹ دینا ہو تو پارلیمانی پارٹی پابند نہیں کہ سیاسی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کرے، وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں،

    آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، چیف جسٹس
    باپ پارٹی! نام عجیب سا ہے! جسٹس جمال مندوخیل کے جملے پر قہقہے گونج اٹھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی باقی صوبوں میں سیٹ لے اور ایک صوبے میں نہ لے تو کیا ہوگا؟ وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے دیگر صوبوں میں سیٹ جیتی لیکن خیبرپختونخوا میں کوئی سیٹ نہیں لی، الیکشن کمیشن کا غیرشفاف رویہ ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں سپریم کورٹ جوڈیشل نوٹس لے؟ اگر نہیں تو ذکر کیوں کررہے؟آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، لیکن سپریم کورٹ 2018 انتخابات پر انحصار نہیں کرےگی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن امتیازی سلوک کررہا تو سپریم کورٹ دیکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی 2018 میں الیکشن کمیشن ٹھیک تھا؟

    کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یونانی کہتےتھے اگر دلائل سے بات نہیں کرسکتے تو فرد پر اٹیک کردو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یونانی مثال اچھی بات ہے؟ آئینی بات ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اچھی بات نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی منافقت ظاہر ہے، جمیعت علمائے اسلام ف کو بھی اقلیتوں کی مخصوص نشست دی ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام ف نے کہا ہمارے مینی فیسٹو میں ایسا کچھ نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں جمیعت علمائے اسلام ف کا اقلیتوں کے حوالے سے مینی فیسٹو دکھا دیتاہوں، جے یو آئی کو اقلیتی نشست بھی الاٹ کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا جمیعت علمائے اسلام ف کو اقلیتی نشست نہیں ملنی چاہیے؟ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ کامران مرتضیٰ اس پر وضاحت دے چکے ہیں کہ مس پرنٹ ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کامران مرتضیٰ کی وضاحت ہوا میں ہے، جے یو آئی کی کی ویب سائٹ سے آئین ڈائون لوڈ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں تمام مسلمان شامل ہوسکتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باقیوں کو آپ مسلمان سمجھتے ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ آئین کے ٹیکسٹ پر بات چاہتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں آئین کے ٹیکسٹ سے ہی فیصلہ چاہتا ہوں، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا ٹیکسٹ میں لکھا ہے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دے دیں ؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کے ٹیکسٹ میں ایسا نہیں لکھا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جواب الجواب دلائل نہیں دے رہے نئے نکات اٹھا رہے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں انہی نکات پر بات کر رہا ہوں جو بار بار یہاں اٹھائے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار پی ٹی آئی کی طرف سے بات کرنے لگتے ہیں آپ سنی اتحاد کونسل پر رہیں، متناسب نمائندگی کے حساب سے تو سنی اتحاد کونسل کو زیرو نشست ملنی چاہئے، آپ کی تو عام انتخابات میں زیرو نشست تھی،

    ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، چیف جسٹس کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیا 18 جنرل سیٹیں جیتنے والی کو 30 مخصوص نشستیں ملنی چاہیے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی لاجک کے مطابق آپ کو تو پھر صفر سیٹ ملنی چاہیے کیونکہ آپ کوئی سیٹ نہیں جیتے، آپ تحریک انصاف کے کیس پر دلائل دےرہے، آپ سب باتیں اپنے خلاف کررہےہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں آزادامیدوار کہہ رہے وہ آزادامیدوار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، ہم آپ کے دلائل مان لیتے ہیں تو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحادکونسل کو ملے گی جو پارلیمنٹ میں موجود ہے،

    2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹ کے حق پر کوئی بات نہیں کررہا، عوام نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دیا،انتخابات کو شفاف بنانا ضروری ہے، صورتحال کے مطابق ایک بڑی سیاسی جماعت کو ووٹ ملا جس کو انتخابی عمل سے نکال دیا گیا، بات سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کے حق کی ہے، 2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ عوام کا حق پامال ہونے دیں؟

    فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں،جسٹس عرفان سعادت
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اسی وقت کہہ دیتا آپ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہیں ہو سکتے، الیکشن کمیشن کا مسلسل ایک ہی موقف رہتا تو بات سمجھ آتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن نارمل حالات میں اور شفاف ہوئے تھے؟کیا ایک بڑی سیاسی جماعت کو اپنے امیدوار دوسری جماعت میں کیوں بھیجنے پڑے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ آزاد امیدواروں نے کیسے پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی،پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کو آزاد امیدواروں کی شمولیت کے حوالے سے بتانا ہوگا،آزاد امیدوار کی بھی مرضی شامل ہونی چاہیے،الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت کا ممبر ہے تو اسی سیاسی جماعت کا نشان اسے ملنا چاہیے،کسی سیاسی جماعت کو چھوڑے بغیر نئی جماعت میں شمولیت نہیں ہوسکتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بلے کے نشان کا فیصلہ آنے سے پہلے حامد رضا پی ٹی آئی کے نامزد تھے،الیکشن کمیشن نے غلط تشریح کی جس وجہ سے تنازع پیدا ہوا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جسٹس عرفان سعادت نے کہا تھا ہمیں مفت نشستیں ملیں، اس پرمرزا غالب کا شعر سنانا چاہتا ہوں، غالب نے کہا تھا مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مرزا غالب کو چھوڑیں، آپ تشریف رکھیں، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کے جواب الجواب دلائل مکمل ہو گئے.

    سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟جسٹس جمال مندوخیل کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ واپس بھی لے لیا گیا تھا،ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،الیکشن کمیشن نے مکمل دستاویزات جمع نہیں کروائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 13 جنوری کا ڈیکلریشن آپ نے تحریک انصاف نظریاتی کا ظاہر کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیس بہت اہم ہے، سنجیدہ سوالات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری پر اٹھے ہیں، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں جو تحریک انصاف کے ہوتے ہوئے سنی اتحادکونسل میں گئے وہ ٹھیک گئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر آزاد امیدوار ڈیکلیئر کیا ہے تو سنی اتحادکونسل میں شامل ہوسکتے، سنی اتحادکونسل کے علاوہ کسی پارٹی میں شامل کونے کی کوئی آپشن نہیں تھی،اس سے پہلے جو ہوا وہ الیکشن کمیشن کی غلطی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آئینی تشریح سے ایسے نتیجے پر پہنچے تو مجھے انکار نہیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں کہاں لکھا کہ مخصوص نشستیں لینے کے لیے ایک سیٹ جیتنا ضروری ہے،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا آپ کی دلیل وکیل فیصل صدیقی کے کیس کو نقصان نہیں پہنچا رہی، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اپنے دلائل مکمل اور شفاف دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بات ہو رہی تو ووٹ کے حق کی بات ہورہی،الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے نکالا،کیا ایسے عمل کو سپریم کورٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا،تمام فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے،فیصلہ کب سنایا جائے گا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے،

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،قاسم سوری الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سوچ رہے ہیں اس کیس میں کیا کریں ؟ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ آپ صرف مجھے سن لیں اور فیصلہ دے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا قاسم سوری سے رابطہ نہیں ہے، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جی میرا بلکل قاسم سوری کے ساتھ رابطہ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے کلائنٹ کو پکڑ کر تو نہیں لا سکتے ،انہیں بتائیں کہ سپریم کورٹ کو ایسے استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جو بھی کرنا ہے جلدی سے کر دیں، وآپ مجھے حکم دیتے ہیں تو میں کیس چھوڑ دیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اتنے خوبصورت شخص کو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ کیس چھوڑ دیں ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کورٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں،آپ انکو ہمارا پیغام پہنچائیں ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میرا کوئی رابطہ ہی نہیں ہے پیغام کیسے بھیجوں،

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی،سپریم کورٹ نے وفاقی و بلوچستان حکومت کو قاسم سوری جائیداد رپورٹ معاملہ پر نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے ایف آئی اے سے قاسم سوری سے متعلق رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے بتائے قاسم سوری کہاں پر ہے،بلوچستان حکومت قاسم سوری کی جائیدادوں کی رپورٹ پیش کرے۔قاسم سوری عدالتی حکم باوجود پھر پیش نہیں ہوئے۔

    قاسم سوری کو دو بار پہلے بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، آج بھی عدالت پیش نہ ہوئے نومئی کےو اقعات کے بعد سے قاسم سوری پہلے روپوش تھے اب اطلاعات کے بعد قاسم سوری برطانیہ میں ہیں.

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • فارم 47 کیا چیز ، قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،چیف جسٹس

    فارم 47 کیا چیز ، قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، این اے 81 انتخابی عذرداری کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،وکیل احسن بھون نے کہا کہ دوبارہ گنتی میں میرے موکل کامیاب قرار پائے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ریٹرننگ افسرنےدوبارہ گنتی کی درخواست پر آرڈر نہیں کیا، ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کا قانون کے مطابق پابند تھا، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کو کرنی چاہیے تھی،ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردے تو کیا ہوگا،ریٹرننگ افسر فیصلہ کیخلاف داد رسی کا فورم کونسا ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فارم 47 کیا چیز ہے۔ قانون میں فارم 47 کو کیا کہتے ہیں،فارم 47 کیلئے قانون میں کیا لفظ استعمال کیا گیا ہے،وکیل احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ فارم 47 ابتدائی نتیجہ ہوتا ہے، حتمی نتیجہ فارم 48 پر جاری ہوتا ہے جب کہ فارم 47 کو قانون میں عارضی نتیجہ قرار دیا گیا ہے

    وکیل احسن بھون نے کہا کہ 9 فروری کو ریٹرننگ افسر نے فارم 47 جاری کیا اور 11فروری کو ریٹرننگ افسر نے حلقے کا فارم 48 بھی جاری کردیا، انتظامی افسر کے فیصلے کے خلاف میرا مؤکل الیکشن کمیشن چلا گیا،کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے ؟آپ خوفزدہ کیوں ہیں،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،وکیل چوہدری بلال نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اختیار ہے کہ دوبارہ گنتی کروائے یا نہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ اس کیس میں نتیجہ حتمی ہونے سے پہلے گنتی کی درخواست دی گئی،وکیل نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست کے ساتھ کوئی شواہد نہیں دئیے گئے،الیکشن کے دن دھاندلی اور اگلے روز دوبارہ گنتی کی درخواست دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےا ستفسار کیا کہ دوبارہ گنتی کیلئے کیا شواہد دئیے جا سکتے ہیں، دوبارہ گنتی کیلئے دو قانونی شرائط ہیں،ایک الیکشن میں بہت سی بے قاعدگیاں ہو سکتی ہیں، وکیل نے کہا کہ نتیجہ کااعلان کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا اختیار ختم ہو جاتا ہے عدالت کا نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایک عمل کا نام ہے جس میں دوبارہ گنتی بھی شامل ہے،بدقسمتی سے عدالتیں بہت آگے چلی جاتی ہے،شفاف الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چوہدری اعجاز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے ؟آپ خوفزدہ کیوں ہیں دوبارہ گنتی میں آپ جیت بھی سکتے ہیں، اگر کچھ غلط ہوتو اسکو آغاز سے ہی درست کرنا چاہیے سپریم کورٹ میں این اے 81 سے متعلق سماعت مکمل ،عدالت نے انتخابی عذرداریوں کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • اختیارات کا غلط استعمال،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف درخواست

    اختیارات کا غلط استعمال،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف درخواست

    اختیارات کے غلط استعمال اور مس کنڈکٹ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف درخواست سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دی گئی

    سابق ڈی جی اسٹیٹس، محمد ایوب نے سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں کے خلاف ہراساں کرنے، بدسلوکی اور زور زبردستی کے رویے کے خلاف انکوائری اور تحقیقات کے لیے درخواست کی ہے۔ درخواست پوسٹ کے ذریعے بھیج دی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان خصوصاً جسٹس بابر ستار، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کو کیٹیگری -1 (I ٹائپ) گھروں کی الاٹمنٹ کے لیے ہاؤسنگ منسٹری پر ناجائز طریقے سے اثر انداز ہوئے اور دباؤ ڈالا۔ درخواست کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں نے بلیک میلنگ سے بھی کام لیا اور ڈاکٹر فخر عالم (اُس وقت کے سیکریٹری ہاؤسنگ) کو رجسٹرار کی جانب سے اکثر بلایا اور دھمکایا گیا کہ وہ تعاون کریں بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    درخواست کے مطابق، جسٹس طارق جہانگیری اور جسٹس ارباب طاہر بھی اس معاملے میں جسٹس بابر ستار کے ساتھ شامل تھے۔ یہ جج صاحبان زبردستی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےاثرانداز ہوئے اور وزارت ہاؤسنگ کو تمام الاٹمنٹس منسوخ کرنے کا حکم دے کر اپنے لئے مکانات الاٹ کروائے۔جبکہ اکوموڈیشن ایلوکیشن رولز 2002 کے رول 3 (اہلیت) کے مطابق صرف سرکاری ملازمین ہی سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ کے مجاز ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اس قسم کی الاٹمنٹ کے اہل نہیں ہیں۔

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • جسٹس ملک شہزاد نے  چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چھٹیاں مانگ لیں

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درخواست دی ہے جس میں انہوں نے چھٹیاں مانگی ہیں،چار جولائی کو جسٹس ملک شہزاد احمد نے چیف جسٹس کو خط لکھا جس میں کہا کہ
    میں فرض کے گہرے احساس اور بھاری دل کے ساتھ آپ کو خط لکھ رہا ہوں،یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کے کیس سے متعلق قانونی عمل کو غیر ضروری طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ الزامات چاہے ان کی سچائی سے قطع نظر، ہماری معزز عدلیہ کی غیر جانبداری اور دیانتداری پر پرچھائی ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح، میں اسے اخلاقی طور پر سمجھتا ہوں۔میں اس وقت تک مقدمات کی سماعت نہیں کر سکتا جب تک اس طرح کے دعوے موجود ہیں، میں نے غیر متزلزل طور پر انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو برقرار رکھا ہے۔ یہ میرا فرض رہا ہے کہ میں کسی بھی قسم کے بیرونی اثرات یا ذاتی تحفظات سے آزاد ہو کر مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کروں۔ ان اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے میری عدالتی ذمہ داریوں سے عارضی ریلیف دیں اور میری بیٹی سے متعلق قانونی کارروائی کے اختتام تک مجھے کسی بھی بنچ پر تفویض کرنے سے گریز کریں۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے خط میں انکی بیٹی کی گاڑی حادثے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حادثے کے نتیجے میں نوجوان کی بے وقت موت ہوئی ، میں اپنے آپ کو اپنے عدالتی فرائض سے دستبرداری کی عاجزانہ درخواست کرتا ہوں۔یہ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ اقدام ہمارے عدالتی ادارے کے تقدس اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ غیر جانبداری کا تصور اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کی حقیقت، اور میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہوں کہ دونوں میں سے کوئی بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

    بیٹی کو مشورہ دیتا ہوں دیانت کے ساتھ قانونی عمل کا مقابلہ کرے،خود کو قانون کے حوالے کرے، جسٹس ملک شہزاد
    جسٹس ملک شہزاد احمد نے اپنے خط میں مزیدکہاکہ میں اس موقع کو اپنی بیٹی کو مشورہ دینے کے لیے کہتا ہوں کہ وہ ہمت اور دیانت کے ساتھ قانونی عمل کا مقابلہ کرے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ عدالتی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور خود کو قانون کے حوالے کرے۔میں اللہ رب العزت، سپریم جوڈیشل کونسل اور آپ کے معزز فیصلے پر اپنا غیر متزلزل بھروسہ رکھتا ہوں۔ میں انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہتا .

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    واضح رہے کہ مقتول نوجوان کے والد رفاقت تنولی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دیں،قانون سب کے لیے برابر ہے،اگر میں برابر کا حق رکھتا ہوں تو میرے بچے کی قاتل کو گرفتار ہونا چاہیے تھا
    میرے بچے کی قاتل آزاد گھوم رہی ہے،جسٹس شہزاد نے دو سال اپنے بیٹی کو سزا سے بچایا،میرے بیٹے اور اس کے دوست جو یتیم بھی تھا کو سابق چیف جسٹس ملک شہزاد کی بیٹی نے سرکاری گاڑی سے کچل کر مار دیا تھا اور جج صاحب کو سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں رفاقت تنولی کی گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہوئے،اور کہا پولیس تفتیش میں پہلے کچھ نہیں ہوا، ہماری ڈیڑھ ماہ کی تفتیش میں پیشرفت ہوئی ہے،پہلے تو کوئی گھوسٹ ڈرائیور بتایا گیا تھا، اب ہمیں نئی فوٹیجز ملیں، پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ایک خاتون ڈرائیور گاڑی چلا رہی تھی، لینڈ کروزر گاڑی نے ٹکر ماری، قائداعظم تھرمل پراجیکٹ کی گاڑی تھی،ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے یہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ میں گئی تھی،گاڑی کا جب ایکسیڈنٹ ہوا تو یہ گاڑی جسٹس شہزاد احمد کے استعمال میں تھی، گاڑی جسٹس شہزاد احمد کی فیملی کے استعمال میں تھی، گاڑی سپرداری پر لی گئی تھی ہم نے سپرداری منسوخی کی درخواست دی ہے،گاڑی کا غلط استعمال ہو رہا ہے ہم سپرداری منسوخ کروا رہے ہیں،پولیس اب تفتیش میں بہت قریب پہنچ چکی ہے،

    واضح رہے کہ 2022 میں مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے جج کی بیٹی کی اسپورٹس گاڑی کی ٹکر سے ایکسپریس وے پر سوہان پل کے قریب شکیل تنولی اور اس کا دوست علی حسنین جاں بحق ہوگئے تھے، واقعہ آدھی رات کو تیزی رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے بعد سے کیس کی تفتیش تعطل کا شکار تھی،شکیل کے والد رفاقت تنولی نے کارروائی کیلئے درخواست دی تو دوران تفتیش معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ کے جج کے زیر استعمال تھی

  • حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کیخلاف نادرا کی اپیل سماعت کیلیے مقرر

    حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کیخلاف نادرا کی اپیل سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ میں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کے خلاف نادرا کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 10 جولائی کو سماعت کرے گا،نادرا نے جمعیت علمائے اسلام کےرہنما حافظ حمد اللّٰہ کا شناختی کارڈ غیر ملکی ہونے پر منسوخ کر دیا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے حافظ حمد اللّٰہ کے شناختی کارڈ کی منسوخی کالعدم قرار دیتے ہوئے بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد نادرا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے

    نادرا نے حافظ حمد اللہ کے شناختی کارڈ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے شہریت منسوخ کردی تھی،نادرا کا موقف تھا کہ حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ کینسل کیا،شہریت منسوخ کرنا ہمارا دائر کار نہیں،نادرا میں نہ حافظ حمد اللہ کے شناختی کارڈ نہ فیملی کے لنک کا پرانا رکارڈ ملا،12 دسمبر 2018 کو سیکیورٹی ادارے کی جانب سے حافظ حمد اللہ کو افغان نیشنل قرار دیا گیا،11 اکتوبر کو سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا حافظ حمد اللہ کی دستاویزات بوگس ہیں

    حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ میراشناختی کارڈنادراکی جانب سےایک سال سےبلاک ہے،شناختی کارڈ 2018میں منسوخ ہوا،آگاہ مارچ 2019میں کیا گیا، انہوں نے شناختی کارڈ کی منسوخی پر وزارت داخلہ میں اپیل دائر کی تھی.

    حافظ حمداللہ جے یو آئی کے سینیٹر بھی رہے، حافظ حمداللہ 2002 میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ،وہ متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے ،حافظ حمداللہ 2002 سے 2005 تک صوبائی وزیر صحت بھی رہے ،

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • پنجاب حکومت غداری کیس بنانے کی ہمت نہ کرے، علی محمد خان

    پنجاب حکومت غداری کیس بنانے کی ہمت نہ کرے، علی محمد خان

    تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا، نیاز اللہ نیازی،،کنول شوذب سیمابیہ طاہر و دیگر نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کی ہے

    پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ میں الیکشن ٹر یبونل کیس کی سماعت تھی،176 درخواستیں دائر کررکھی ہیں،ہم نے چیف جسٹس پر اعتراض اٹھایا کہ وہ ہمارے درخواست والے بینچ میں نہ بیٹھیں ،ہمارے جتنے کیسزہیں وہ چیف جسٹس کے پاس لگ گئے ،مجھ سمیت 9 لوگ عدالت میں موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اس بینچ سے الگ ہونا چاہئیے،چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5رکنی بینچ 2021 میں یہ فیصلہ دے چکا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ عمران خان سے متعلق کیسوں کی سماعت میں شامل نہ ہوں لیکن آج ہر کیس میں قاضی سماعت کرتا ہے میرے سمیت تمام فارم 45 والے درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ سماعت سےالگ ہوں۔لیول پلئینگ فیلڈ سمیت سب کیسز میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے سنے ہمارے خلاف فیصلےآئے،ہم الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت میں ہیں، الیکشن کمیشن عدلیہ کو سپر سیڈ کرکے خود فیصلہ کرتا ہے،ہمارے ارکان نے حلف پرکہا تھا کہ ہم 45 کے مطابق جیتے ہوئے ہیں ،8 فروری سے الیکشن ہوا ،ابھی ایک کیس کہ سماعت نہیں ہوئی،اقوام متحدہ کی رپورٹ فافن کی رپورٹ ،پتن کی رپورٹ الیکشن کو مشکوک بنارہی ہے

    قسم قسم کی وردیاں پہننے سے فرصت مل گئی ہے تو عوام پر فوکس کریں،علی محمد خان
    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کو اگر ٹک ٹاک کی سے فرصت مل گئی ہو، اگر قسم قسم کی وردیاں پہننے سے فرصت مل گئی ہے تو عوام پر فوکس کریں، کسانوں پر فوکس کریں، استادوں پر فوکس کریں، مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کریں، امن و امان بہتر بنائیں، غریبوں پر فوکس کریں،غداری کیس بنانے کی ہمت نہ کریں، قوم آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو گی، کیا یہ وزیراعظم کی مرضی سے ہو ر ہا ہے، پاکستان کے آئینی نظام سے کھلواڑ بند کیا جائے، اعلیٰ عدلیہ اس کا نوٹس لے، انصاف کے نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں،قوم کسی بھی ایسے کیس کو رد کرتی ہے، جب جب پاکستانی قوم کے پاس جائیں گے تو جواب ایک ہی آئے گا،عمران خان،

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    سپریم کورٹ،الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ پر پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس امیدالدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں،دورانِ سماعت تحریکِ انصاف کے امیدواروں کے وکیل نیاز اللّٰہ نیازی نے تشکیل شدہ بینچ پر اعتراض کر دیا،نیاز اللّٰہ نیازی نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ہم اپنا اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہمارا کیس کو کسی اور بینچ میں بھیجا جائے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی جن کے وکیل ہیں انہوں نے فریق بننے کی استدعا کر رکھی ہے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کیلئے نوٹس جاری کیا تھا، عدالت نے فریق بننے کی استدعا منظور کر لی تھی،عدالت نے گزشتہ حکم نامہ میں دیگر صوبوں میں ٹربیونلز کی تشکیل کا ریکارڈ مانگا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بینچ میں شمولیت پر وکیل نیازاللہ نیازی نے اعتراض اٹھایا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سلمان اکرم راجہ جو کہ کیس میں مرکزی فریق ہیں، ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھی میری بینچ میں شمولیت پر اعتراض ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اعتراض نہیں کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا نیاز اللہ نیازی نے گزشتہ سماعت پر درخواست دی، ہم نے منظور کی،درخواست منظور ہونے کے بعد اعتراض عائد کردیا،کیا ہم انکا کیس پاکستان بار کونسل کو بھیج دیں؟ عدالت نے نیاز اللہ نیازی کا وکالت لائسنس سے متعلق معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجنے پر اپنی رائے محفوظ کر لی

    کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب بس بہت ہوگیا،عدالت کو پہلے ہی بہت زیادہ اسکینڈلائز کیا جاچکا ہے مزید سکینڈلائز کرنا بند کریں، بینچز اب اکیلے چیف جسٹس نہیں تین رکنی کمیٹی بناتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟نیازی صاحب جب پہلے دو رکنی بینچ تھا تو آپکو اعتراض نہیں تھا اب آپکو اعتراض ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکار
    وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ صرف مجھے نہیں جو اس وقت جیل میں ہے اسے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض ہے، الیکشن ٹریبونل کیس میں نیاز اللہ نیازی نے عمران خان کے اعتراض سے متعلق بنچ کو بتایا تو جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا لوگوں کی خواہشات پر عدالتیں نہیں چلتیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جن کی آپ بات کرہے ہیں انہوں نے جیل سے درخواست دی تھی کہ انہیں سنا جائے،عدالت نے انہیں اجازت دی اور جیل سے پیشی یقینی بنا کر انہیں سنا،اب آپ جاکر بیٹھ جائیے، ہمیں آپکو نہیں سننا،سوچیں گے کہ آپ کے خلاف ایکشن کے لئے پاکستان بار کونسل کو لکھیں یا نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکارکر دیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اعتراض سن لیا ہے تشریف رکھیں، یہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے درمیان معاملہ ہے،کسی پرائیویٹ شخص کا اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی پرائیویٹ پارٹیز کو آپ نے فریق کیسے بنا دیا ،

    کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ کیا کوئی صدارتی آرڈیننس آیا ہے ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق؟اٹارنی جنرل نے آرڈینینس سے متعلق تفصیلات بارے عدالت کو آگاہ کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈینینس میں ترمیم کی گئی ہے،بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پہنچ چکا ہے، الیکشن ایکٹ کی سیکشن 140 کو کو اسکی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بل اور آرڈینینس عدالت میں پیش کر دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرڈیننس کا کا اس کیس پر اثر ہو گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 15 فروری کا خط جمع کرائیں وہ بہت ضروری ہے،آپ نے پینل مانگا تھا اس کا کیا مطلب ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ججز کی فہرست درکار تھی تو ویب سائٹ سے لے لیتے؟ کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا، کیا اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں بھی پینل مانگے گئے تھے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن چیف جسٹس سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کر سکتا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے اچھے طالبان اور برے طالبان کی بات ہوتی تھی اب کیا ججز بھی اچھے برے ہونگے؟

    الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے،جسٹس عقیل عباسی
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بطور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جو نام دیے وہ قبول کر لئے گئے،پنجاب میں الیکشن کمیشن نے کیوں مسئلہ بنایا ہوا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ آپ کے نکات سے مکمل متفق ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے متفق ہونے کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن کا پہلا موقف درست نہیں تھا،کیا متفقہ طور پر ٹربیونلز کو کام جاری رکھنے اور حتمی فیصلہ نہ سنانے کا حکم دیدیں؟جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عقیل عباسی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹربیونل کے جج کا پینل مانگنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مشورہ دیا کہ آپ اب جا کر چیف جسٹس سے مشاورت کرلیں، ابھی مشاورت میں کیا رکاوٹ ہے؟

    سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کو واپس بھیجنے کا عندیہ دیدیا ! ریمار کس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ بیٹھ کر حل نکال لیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام ججز اچھے ہیں سب کا احترام کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے آپس میں لڑیں تو ملک تباہ ہوتا ہے،ججز تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کب ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتائوں گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس کو کہا جاتا کہ کن علاقوں کیلئے ججز درکار ہیں وہ فراہم کر دیتے، ملتان کیلئے جج درکار ہے وہ اس رجسٹری میں پہلے ہی جج موجود ہوگا، کیا لازمی ہے کہ ملتان کیلئے لاہور سے جج جائے جبکہ وہاں پہلے ہی جج موجود ہے،الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا تھا۔

    کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں دو آئینی اداروں میں لڑائی ہو، کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے، ہم کیس زیر التوا رکھ لیتے ہیں تب تک الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ شاید حل نکال لیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کی لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبیونلز کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ابھی معطل نہیں کرسکتے، ہم ججزآپس میں مشاورت کر لیتے ہیں، مشاورت کیلئے مختصر وقفہ لے لیتے ہیں

    دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ وکیل الیکشن کمیشن نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو لکھا 27 جون کا خط دکھایا، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چاروں ہائی کورٹس کو پہلے ٹربیونل تعیناتی کے لیے بھی خطوط لکھے، ریکارڈ کے مطابق پہلے دو ٹربیونلز لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ مل کر بنائے گئے تھے جو ناکافی تھے، اس کے بعد چھ مزید ججز کے نام بطور ٹربیونل لاہور ہائی کورٹ نے بھیجے، الیکشن کمیشن نے 6 میں سے دو ججز کو ہی ٹریبیونل تعینات کیا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا ابھی مشاورت نہیں ہوئی،الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے درمیان فیس ٹو فیس ملاقات ہوتی تو معاملہ شاید حل ہو جاتا،

    سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 26 اپریل کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہاٸیکورٹ سے پینل مانگنے کا خط بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گی،اٹارنی جنرل نے بتایا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعییناتی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ہے، پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملاقات ممکن ہے،

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان