Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جو اتھارٹی بنانی ہے وہ بناتے نہیں  جو نہیں بنانی چاہیے وہ بنا دی گئی،سپریم کورٹ

    جو اتھارٹی بنانی ہے وہ بناتے نہیں جو نہیں بنانی چاہیے وہ بنا دی گئی،سپریم کورٹ

    موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے لیے قانون موجود نہیں لیکن اتھارٹی بنا دی گئی، جو اتھارٹی بنانی ہے وہ بناتے نہیں، جو نہیں بنانی چاہیے وہ بنا دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا ایکٹ 2017ء کا ہے، موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بہت بڑا خطرہ اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، اتنے سال بعد بھی اتھارٹی قائم نہیں ہوسکی، اٹارنی جنرل آئیں پھر اس معاملے کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر کے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا

  • فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے  رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    اسلام آباد: فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی جانب سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔

    باغی ٹی وی : اتوار کے روز فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ بذریعہ اٹارنی جنرل آفس سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت 6 مئی بروز پیر کو ہوگی، جس میں سپریم کورٹ فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن رپورٹ کا جائزہ لے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کرے گا جبکہ عدالت نے متعلقہ فریقن کو نوٹس جاری کردئیے-

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن رپورٹ 150 صفحات پر مشتمل ہے، انکوائری کمیشن نے 33 گواہان کے بیانات کی روشنی میں رپورٹ تیار کی ہے،پورٹ کے مطابق انکوائری کمیشن کو کسی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے، لیفٹیننٹ جنرل ( ر ) فیض حمید نے صرف بطور ثالث کردارادا کیا اور انہیں ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کی اجازت حاصل تھی، انکوائری کمیشن نے رپورٹ میں نتائج اخذ کرنے کے ساتھ 33 سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

    میرپورخاص میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کا انکشاف

    واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

    مشی گن یونیورسٹی میں اسرائیل کیخلاف مظاہروں کے باعث تقریب معطل

    اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوگیا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، 27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

    ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کے شیڈول کا اعلان

    بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، 2 ریٹائرڈ سابق آئی جیز طاہر عالم خان اور اختر شاہ شامل ہیں۔

  • سیکورٹی کم ہونے کی وجہ سے سدھو کا قتل ہوا، حکومت کا عدالت میں اعتراف

    سیکورٹی کم ہونے کی وجہ سے سدھو کا قتل ہوا، حکومت کا عدالت میں اعتراف

    بھارتی پنجاب کی حکومت نے بھارتی سپریم کورٹ میں اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کی سیکورٹی کم گئی تھی اسی لئے انکو ٹارگٹ کرنے میں دشمنوں کو آسانی ہوئی

    بھارتی پنجاب حکومت کے وکیل ایڈوکیٹ جنرل گرمندر سنگھ گیری نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کر لیا ہے، سپریم کورٹ میں اعتراف جرم کرنے کے بعد سدھو موسے والا کے والد بلکور سنگھ نے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اب حکومتی اعتراف کے بعد حکومتی ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے جنہو‌ں نے سیکورٹی کم کی تھی،سچ ایک دن زبان پر آ جاتا ہے اور ایسا ہی ہوا،ذمہ داران کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،سدھو قتل کیس میں ملزمان کے کردار سے زیادہ پنجاب حکومت کا کردار ہے، لارنس بشنوئی نے ڈیڑھ سال قبل جیل سے انٹرویو دیا تھا لیکن حکومت ابھی تک کچھ پتہ نہیں لگا سکی،

    واضح رہے کہ سدھو موسے والا کو پنجاب حکومت نے چار سیکورٹی اہلکار دیئے تھے جو بعد میں کم کر کے دو کر دیئے گئے، اسی دوران گولڈی برار نے شوٹرز کے ذریعے سدھو موسے والا کو قتل کروا دیا،پولیس نے 26 مئی کو سیکورٹی کم کی تھی اور اسکے تین دن بعد 29 مئی کو ہی سدھو موسے والا کو نشانہ بنایا گیا تھا،

    گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کا مبینہ ماسٹر مائنڈ امریکہ میں قتل؟حقیقت کچھ اور نکلی

    سدھو موسے والا کے بھائی کی پیدائش پر حکومت والد کو ہراساں کرنے لگی

    سدھوموسے والا قتل کیس: ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کیلئےچھاپے

  • سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کیلئے اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کیلئے اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کیلئے اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کر دی گئیں بینچ تشکیل دے دیا گیا

    اسپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی کی اپیلوں پر بھی بینچ تشکیل دے دیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 8 مئی کو اپیلوں پر سماعت کریگا،جسٹس محمد علی مظہر ،جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،رجسٹرار آفس نے سنی اتحاد کونسل اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں،اسپیکر کے پی نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • 19 برس قبل دو افراد  قتل ،مقدمہ درج نہ ہونے پر متاثرین کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا

    19 برس قبل دو افراد قتل ،مقدمہ درج نہ ہونے پر متاثرین کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا

    دو افراد کے قتل اور پراپرٹی پر قبضہ ہونے کے خلاف پشاور سے آئی متاثرہ فیملی نے سپریم کورٹ کے سامنے شاہراہ دستورپر دھرنا دیدیا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہمیں انصاف دیں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کے سامنے ماں اور بیٹے نے خود کو زنجیروں کے ذریعے کھمبے سے باندھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا، ماں بیٹے کا کہنا ہے کہ دو 2 بھائیوں کو 2005ء اور 2006ء میں قتل کیا گیا، جس کا مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا، خاتون کا کہنا تھا کہ آج بے بس ہو کر سپریم کورٹ کے سامنے خود کو زنجیروں میں باندھ کر انصاف مانگ رہی ہوں، چیف جسٹس ہمیں انصاف دیں،مقتولین کے بھائی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں نے میرے دو بھائیوں کو قتل کیا،پشاور میں ہمارے دو لوگ قتل کر دیئے گئے،ہمارے گھر اور جائیداد پر قبضہ کر لیا گیا، دشمن طاقتور ہے ہمیں انصاف چاہیے، احتجاج کرنیوالوں میں بچے بھی شامل ہیں.

    متاثرہ خاندان کی جانب سے شاہراہِ دستور بند کرنے کی کوشش پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس نے روڈ خالی کروا دیا ، سڑک پر بیٹھے بچوں اور خواتین کو پولیس نے وہاں سے اٹھا دیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری کی دوسری بار طلبی کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، قاسم سوری کی دوسری بار طلبی کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ ،سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے عدم پیشی پر قاسم سوری کو دوسری مرتبہ طلبی کا نوٹس جاری کر دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ قاسم سوری کے بھائی کے مطابق وہ روپوش ہیں،قاسم سوری کو دوسری مرتبہ طلبی کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے،عدالتی عملہ نے کہا کہ قاسم سوری کے ایڈریس پر نوٹس بھیجا گیا جو انکے بھائی نے وصول کیا،بھائی نے بتایا کہ قاسم سوری روپوش ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قاسم سوری کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ نوٹس جاری کرنے پر آپکو اعتراض تو نہیں،وکیل قاسم سوری نعیم بخاری نے کہا کہ قاسم سوری کو دوبارہ نوٹس کرنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    عدالت نے حکم امتناع پر ڈپٹی اسپیکر رہنے اور تحریک عدم اعتماد کیخلاف رولنگ دینے پر قاسم سوری کو طلب کر رکھا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سماعت کے اغاز ہر وکلا کی جانب سے گفتگو پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی گفتگو کرتا نظر آیا تو اسے کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا،میں آپکو 184(3) کے استعمال کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے ،فل کورٹ بناتے ہوئے انتخاب نہیں کیا گیا، جسٹس یحییٰ آفریدی کو صرف بینچ سے علیحدہ نہیں کیا، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے علیحدہ ہوتے وقت کچھ آبزرویشنز بھی دی ہیں ،دو ججز کے عدم دستیابی کے باعث فل کورٹ تشکیل نہیں ہوسکتی،سابقہ چیف پر اعتراضات کئے گئے تو وہ کمیشن سے علیحدہ ہوگئے،ہر کوئی اپنی خواہش عدلیہ ہر مسلط کرنا چاہتا ہے، یہ بھی دباؤ کی ایک قسم ہے، میں سپریم کورٹ کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں، جب سے چیف جسٹس بنا ہو ں تب سے ذمہ داری ہے، عدالتی مداخلت اندر، باہر ، انٹیلیجنس ایجنسیز سمیت سوشل میڈیا اور فیملی سے بھی ہوسکتی ہے،میں اس عدالت کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں ہوں، اپنے دور کا ذمہ دار ہوں،پارلیمان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا کیوں کہ ہم ناکام ہوئے، ہم عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کریں گے جیسے بھی ہو، ماضی کی غلطیاں سامنے آنے پر ہم نے اپنی تصحیح کی،تبدیلی راتوں رات نہیں آتی ،ہمیں اپنی مرضی کے راستے پر چلانے کیلئے مت دباؤ دیں ، عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے، بہت سے لوگ مقدمہ میں فریق بننا چاہتے، مثبت بات کو بغیر فریق بنائے بھی سنیں گے، کیا تجاویز اٹارنی جنرل آپکے پاس ہیں،ہائیکورٹ کی تجاویز سے شروع کرتے ہیں، آپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارشات دیکھی ہیں؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہ میں نے ہائیکورٹ کی سفارشات ابھی نہیں دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے آگے چلائیں؟

    صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے، ریاست کا ججز کے خلاف ہونا ہائیکورٹ خط میں بتایا گیا ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،اندرونی مسائل کا ہم نے حل تلاش کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ معاملے کو حل کریں،ہمیں مداخلت کے سامنے ایک فائر وال کھڑا کرنی ہو گی، ہمیں بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا، ہمیں طے کرنا ہو گا کہ اگر کوئی مداخلت کرتا ہے تو اس کے خلاف کیسے ایکشن لینا چاہئے،

    ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،چیف جسٹس
    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے عدالت میں ہائیکورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں ہائیکورٹس کے کام میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کہہ رہے ہیں کہ مداخلت تسلسل کے ساتھ ہوتی ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کی تجاویز متفقہ ہیں؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں بظاہر متفقہ نظر آ رہی ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی جج نے اختلاف نہیں کیا۔

    آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ دو بینچ کے ممبران کو ٹارگٹ کیا گیا،ہم نے نوٹس لیا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے، فیصلہ ایک نہیں دس دے دیں کیا ہو گا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے ،فیملی ممبران کا ڈیٹا حکومتی اداروں سے چرایا گیا، ججز کو صرف کہہ دیں تمہارا بچہ فلاں جگہ پڑھتا ہے،میں نے 2018 میں بطور چیف جسٹس 4 سال کام کیا اس دوران مداخلت نہیں ہوئی،ایسا لگتا ہے کہ لوگ مداخلت کی کوشش کرتے ہیں کہیں ان کو فائدہ ہوتا ہے کہیں نہیں ہوتا،ایسا کلچر چل رہا ہے،جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،بیوی بچوں تک کا ڈیٹا پبلک ہو جائے تو ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، 76 سال سے اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری میں پارٹنرشپ چل رہی ہے، جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مہربانی کریں 76 سال میں مجھے شامل نہ کریں، کوئی مداخلت ہوئی ہے تو ظاہر کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آج اس ایشو کو حل نہ کیا تو بہت نقصان ہوگا ،اس کمرے میں نہ بیٹھو ادھر بیٹھو ، فون ادھر رکھ دو کس طرح کا کلچر ہے یہ، آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،ہائیکورٹ خود کارروائی کر سکتی تھی مگر نہیں کی، سپریم کورٹ اس معاملے پرطریقہ کار واضح کرتی ہے توعدلیہ مضبوط ہوگی۔یہ کس قسم کی ریاست ہے کہ ہر وقت اس چیز کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے، کوئی ہمیں سن رہا ہے، کوئی ہماری ریکارڈنگ کر رہا ہے، کیمرے ہماری ویڈیو بنا رہے ہیں،کیا ریاست اس طرح چلائی جاتی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نتائج کے حصول کیلئے یہاں مخصوص اقدامات اٹھائے جاتے رہے میں نے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی مداخلت نہیں کروں گامیں جب سے چیف جسٹس پاکستان بنا کوئی شکایت نہیں آئی. اگر میرے کام میں مداخلت ہو اور وہ نہ روک سکوں تو میں گھر چلا جاؤں،ہم تو چاہتے ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں، اگر پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوگی تو دوسری قوتیں مضبوط ہونگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا،وکلا اور سیاست دان عدلیہ میں مداخلت کرتے رہے،چیف جسٹس کےچیمبر میں ملاقاتیں ہوتی تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرعدلیہ کے اندر سے مداخلت ہے تو عدلیہ کی کمزوری ہے،مداخلت اب بھی جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 2018 میں جو ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اس پر کچھ نہیں کہا کیونکہ ہم نے حلف لیا ہے،مکران کا سول جج بھی اتنا ہی طاقت ور ہے جتنا چیف جسٹس پاکستان ہے،میں نے عدلیہ کے آزادی کے لیے اندرونی مداخلت سے جنگ لڑی ہے، عدلیہ کی آزادی کو اندرونی مداخلت سے خطرہ ہے، فیض آباد دھرنا کیس پر عملدرآمد رکوانے کے لیے متعدد پٹیشنرز سامنے آئے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، تحریک انصاف نے بھی کیا، ضیا الحق کے صاحبزادے نے بھی پٹیشن دائر کی اور متعدد پٹیشنر سامنے آئے،5 سال تک نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں، کیا اس کی کوئی وضاحت دی جاسکتی ہے؟سوشل میڈیا پر جو کچھ ہوا اسی وجہ سے سابق چیف جسٹس نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا. مداخلت ایجنسیوں کے علاوہ خود عدلیہ کے اندر سے، ججز کی فیملیز سے، ساتھ کام کرنے والوں سے، سوشل میڈیا سے بھی ہوسکتی ہے.اگر ہم مانیٹرنگ جج لگائیں گے تو وہ بھی عدلیہ کی مداخلت ہے، اگر جے آئی ٹی میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے بندے شامل کریں گے تو وہ بھی مداخلت ہے.

    چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ سب کو پتا ہے، بولتا کوئی نہیں ہے، جو سچ بولتا ہے اس کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے، جو چھ ججز کیساتھ ہو رہا ہے، انٹیلی جنس ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہوتے ہیں،انٹیلی جنس ادارے کچھ کرتے ہیں تو اسکے ذمہ دار وزیراعظم اور انکی کابینہ ہے، آئین دیکھ لیں کچھ بھی آزادانہ نہیں ہوتا، ہمیں اپنی آرمڈ فورسز کا امیج بھی برقرار رکھنا ہے، یہ ہماری ہی مسلح افواج ہے جو ملک کے محافظ ہیں، یہ ہمارے سولجرز ہیں جو ملک کا دفاع کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دباو ہر جگہ ہوتا ہے کیا بیوروکریسی میں فونز نہیں آتے ، کوئی مان لیتا ہے اور کوئی کام کر دیتا ہے جو نہیں مانتا اس کو او ایس ڈی کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس دباو میں پر تو کچھ کر ہی نہیں سکتا، دباو تو ہر جگہ ہوتا ہے، بیوروکریسی کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں ہمارے پاس تو اختیارات ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اختیارات کیوں استعمال نہیں کرتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دروازے خود کھولے ہیں اس لیے دباو آرہا ہے، یہ دروازے بند ہونے چاہیے بدقسمتی سے ہم نے خود دروازے کھولے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دروازے کھولے ہیں ان کے خلادف مس کنڈیکٹ کی کارروائی کریں نا، ہر بندہ اتنا تگڑا نہیں ہوتا کہ وہ کھڑا ہو جائے یہ سسٹم مضبوط ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے سپریم کورٹ کا دروازہ بند کرنا ہوگا، اس کے بعد دوسرے لوگوں کو ہمت ملے گی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر کوئی جج کھڑا ہوتا ہے وہ اس کے خلاف ریفرنس دائر ہوجاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کس کے پاس آتا ہے کسی ایجنسی کے پاس تو نہیں آتا نا ، اٹھا کر پھینک دے اس ریفرنس کو باہر پھینک دیں جرمانے عائد کر دیں، ہم نے ایسا کیا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ ہے جسٹس شوکت صدیقی کا آپ نے کیا کیا ہے؟ کس کا احتساب کیا ہے؟ کیا کوئی کارروائی ہوئی ہے؟ صرف فیصلے دینے سے کچھ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مائی لارڈ اس میں سابق چیف جسٹسز ملوث ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ، جب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہم سب ہائیکورٹس میں رہ چکے ہیں ہمیں فئیر ہونا چاہیے، ہائیکورٹ کے ججز کی شکایات پر پاورفل جواب نہیں ملتا، احکامات سے انحراف کا کلچر معمول بننے سے ججز کی بولنے میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اب آپ جسٹس یحیی آفریدی کا نوٹ پڑھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پڑھنے سے پہلے آپ دیکھیں آپ خود مان چکے 2017 میں آپ کیخلاف پولیٹیکل انجینئرنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست کو چھوڑ دیا جائے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سیاست نہیں حقیقت ہے،کبھی بھی سول بالادستی نہیں رہی، جب ریاست خود جارحیت پر اتر آئے کوئی شہری اس سے لڑ نہیں سکتا، ادارہ جاتی رد عمل ہی اس کا حل ہے، ‏ہم سچ بولیں گے، کیونکہ سچ بولنا ہماری ذمہ داری ہے، بدقسمتی سے سچ کیوں نہیں بولتا اور کوئی بول دیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ ہوتا ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ساتھ ہورہا ہے اور پورے ملک کی عدالتیں اب اس کی تصدیق کر رہی ہیں،

    کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے، ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس مسرت ہلالی
    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر چیز ہی میڈیا پر چل رہی ہے تو ہم بھی پبلک کر دیتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شکایات کرنے والوں کو چھوڑیں، ازخود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ کیساتھ کیا کچھ ہوا یہ دیکھیں،کیا عدلیہ کی آزادی ایسے ہو سکتی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے اور اُسے ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹس کے ججز نے لکھا ہے، کیوں نہ اس پر تینوں حساس ادارے اپنا جواب تحریری طور پر جمع کرائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ان کو چاہئے کہ اس پر ایک بیان حلفی جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے پر قانون سازی ہونی چاہئے ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایجنسیوں کو بیانات حلفی دینے دیں کہ ان کی طرف سے مداخلت نہیں ہوتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو میں تو کہوں گا کہ مداخلت ہوئی لیکن ہمیں مستقبل کا دیکھنا ہے،

    پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے ،اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور دیگر بار کونسلز اپنی تحریری معروضات جمع کروا دیں ،ہم اس کیس کو زیادہ لمبا نہیں لے کر جا سکتے،لوگوں کے دیگر کیسز بھی لگے ہوئے ہیں ،ہدف ایک ہے سب کا اس طرف پہنچنا کیسے ہے آپ معاونت کر دیں،پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ، نمائندہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ اداراتی ریسپانس کے دو طریقے ان میں فل کورٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب کوئی دو ججز نہیں آئے تو کیا کریں انکا ؟ پھر ملتوی کرنا پڑ جاتا کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز خط پر از خود نوٹس کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دیتے ہیں،جن لوگوں نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں سب فریقین کو سننا مشکل ہوجائے گا،تمام فریقین تحریری معروضات دے دیں،فریقین چھ مئی تک جوابات جمع کرا دیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوادیا،حکمنامے میں کہا کہ 5 ہائیکورٹس نے اپنی تجاویز جمع کرائیں،اٹارنی جنرل نے دوران سماعت تجاویز پڑھ کر سنائیں، پاکستان بار کونسل نے اپنی تجاویز بھی جمع کرائیں، مناسب ہو گابار ایسوشی ایشنز اور بار کونسلز متفقہ طور پر کوئی جواب جمع کرائیں، جن نکات پر اتفاق نہ ہوان کو الگ دائر کیا جاسکتا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار کا اجلاس نہیں ہوا،بتایا گیا سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن آئندہ سماعت سے قبل تجاویز جمع کرا دے گی، حکومت اور انٹیلیجنس ایجنسیز، اٹارنی جنرل کے ذریعے اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دیں اور اگر کوئی تجاویز ہیں تو وہ بھی دیں.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے تجاویز دیں کہ شکایات خفیہ رکھی جائیں،عدلیہ اور حکومتی شاخوں سے بات چیت کرکے طریقہ کار طے کرنے کا سنہری موقع ہے، ججز کو ایجنسیوں یا انکے نمایندگان سے ملاقاتیں نہیں کرنی چاہیے، ججز کو سوشل میڈیا جیسے کہ وٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک سے دور رہنا چاہیے، عدالتی احاطے میں ایجنسیوں کے نمائندگان کا داخلہ بند ہونا چاہیئے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اگر انصاف ہوگا تو ہی نظام چلے گا ، یہ بات ان کو بھی سمجھ آنی چاہیے ۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ریفارمز پبلک اداروں میں جلد نہیں آتی ،اداروں کو ٹھیک کرنے کا یہ صحیح وقت ہے ،ملک میں آزاد عدلیہ کا نظام چاہتے ہیں ،آئین کہتا ہے کہ عدلیہ آزاد ہونی چاہیے،عدلیہ میں ریفارمز کے حوالے سے گذارشات کروں گا ،ادارے کو چلانے کیلئےانفرادی سوچ کو بھلانا ہو گا،اگر یہ کر گئے تو مضبوط عدلیہ ہو گی،کسی سیشن جج سے پوچھوں تو وہ کیس کے بارے میں نہیں بتا سکتے ،میں عدلیہ کی تاریخ سے بہت خوش نہیں ہوں ،ہمیں اسمارٹ ٹیکنالوجی کو ڈسٹرکٹ لیول تک لے کر جانا ہے ،پاکستان میں 24لاکھ کیس زیر التوا ہیں ،ججزکو مخصوص کیسز لگانے کا نظام نہیں ہونا چاہیے ،میرٹ پر کیسز ریفر کیے جا ئیں گے ،پریکٹس اینڈ پروسیجر سے بہتری آئے گی ،موجودہ چیف جسٹس نے اپنی پاورز کو کٹ کر کے کمیٹی بنائی ،بینچ کی تشکیل اور کیسز ریفر کرنا ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہونی چاہیے،ہمارے سسٹم میں مافیا کام کر رہا ،ٹیکنالوجی سے اس کا خاتمہ ہوگا،20 لاکھ کیسز ڈسٹرکٹ جوڈیشل کے پاس التوا میں ہے ،تنازعات کو حل کرنے کے دنیا میں اور بہت سے طریقے ہیں ،
    دنیا میں ثالثی کا نظام ہے،138 اضلاع میں ثالثی نظام قائم کریں گے،

    جو جج پرفارم نہیں کررہا اُسے سسٹم سے باہر کریں، کرپشن اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ روز 4ہزار ججز کام کررہے ہیں کچھ فیصلے برے ہوسکتے ہیں، عدالتوں میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے عدالتی نظام میں مداخلت کا مطلب اپنے آپ کو کمزور کرنا ہے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جس کی سمجھ نہ آئے۔ اگر عدالتی نظام کمزور ہو گا تو آپ بھی کمزور ہوں گے ،اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرونگا کیونکہ ہم از خود نوٹس میں یہ معاملہ دیکھ رہے ہیں۔جو جج پرفارم نہیں کررہا اُسے سسٹم سے باہر کریں، کرپشن اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،ایک چیف جسٹس آتے ہیں ایک طرف لے چلتے ہیں، دوسرے چیف جسٹس آتے ہیں دوسری طرف لے چلتے ہیں،برازیل میں سب سے بڑا بجٹ عدلیہ کا ہے اور آرمی کا دوسرا نمبر ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ میچ ہارنے پر سٹرائیک کردی جاتی ہے، لوگ اپنے بکریاں زیور فروخت کر کے آتے ہیں اور آگے سٹرائیک ہوتی ہے،اسٹے کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا،،پاکستان میں 1 ہزار افراد کے لیے 1 وکیل ہے۔

    عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اس شعر سے تقریر کا اختتام کیا،
    مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • سپریم کورٹ کا ملک بھر سے تین دن میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کا ملک بھر سے تین دن میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے ملک بھر کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے

    سپریم کورٹ رجسٹری نے کراچی تجاوزات کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں ملک بھر سے سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے حکمنامے کی کاپی اٹارنی جنرل، تمام ایڈووکیٹ جنرلز اور تمام سرکاری اداروں کو بھیجنےکا حکم دیتے ہوئے پیمرا کو اس ضمن میں پبلک سروس میسیج شائع اور نشر کرنے کا بھی کہا ہے،سپریم کورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 3 دن میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کریں، متعلقہ ادارے قبضہ کرنے والوں کے اخراجات پر تجاوزات ختم کریں۔عدالت نے حکمنامے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، کے ایم سی کے وکیل کو عمل درآمدرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے

    سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے سڑکوں پر قبضے اور تجاوزات ہیں، قبضہ کرنے والا سمجھتا ہے اس کی اپنی پراپرٹی کے سامنے قبضہ کرنا اس کا حق ہے، لوگوں نے فٹ پاتھوں پر جنریٹر تک لگا دیے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بھی تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے کراچی میں 5 دن میں 46 کیسز نمٹا ئے ہیں،سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں مختلف کیسز کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے 5 دن میں 46 کیس نمٹادیے،

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • کابینہ قانون سے بالاتر؟سرکار اور پارلیمان کا کام ہم نہیں کریں گے،چیف جسٹس

    کابینہ قانون سے بالاتر؟سرکار اور پارلیمان کا کام ہم نہیں کریں گے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے 600 کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی، دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کابینہ نے ان ملازمین کی ریگولرائزیشن کی منظوری دی تھی مگر برطرف کردیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ” کابینہ کیسے ریگولرایزشن کی منظوری دے سکتی ہے؟ قانون اگر ریگولرائزیشن کی اجازت دیتا ہے تو بتائیں، یہ پالیسی میٹر نہیں،قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے،قانون کیاکہتا ہے؟ آئین میں کہاں لکھا ہے،کابینہ قانون سے بالاتر ہے؟ سندھ اسمبلی قانون بنا دے پھرقانون کے تحت ریگولرائزکرتے رہیں”۔

    پاکستان میں یونیورسٹیوں کے برے حالات ہیں، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ رولز آف بزنس میں یونیورسٹی ملازمین کو ریگولرائز کرنےکا قانون ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز آف بزنس کو تقرری اور ریگولرائزیشن کا قانون مت بنائیں، اس کا اطلاق یہاں نہیں ہوگا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پورےپاکستان میں یونیورسٹیوں کے برے حالات ہیں اور یونیورسٹیوں میں کنٹریکٹ پر ایڈہاک بھرتیاں کی جارہی ہیں، تمام جامعات میں 6 ماہ سے زیادہ ایڈہاک پربھرتی پرپابندی ہونی چاہیے، بلوچستان میں آئے روز ٹیچرز تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کرتےہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکار اور پارلیمان کا کام ہم نہیں کریں گے، بعد ازاں عدالت نے درخواست مسترد کردی

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری