Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پریس کانفرنس سنی ہے؟ کیا پریس کانفرنس توہین آمیز ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو میں نے سنی ہے اس میں الفاظ میوٹ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف اس سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے لیکن نظرانداز کیا، نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ ہم بھی تقریر کر لیں،برا کیا ہے تو نام لیکر مجھے کہیں ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے، ادارے عوام کے ہوتے ہیں، اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں، اداروں میں فالٹس ہوسکتے ہیں۔میں کسی اور کا وزن برداشت نہیں کرسکتا۔اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو بتائیں تنقید کریں۔ہر روز ہم اچھا کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر عمل کررہے ہیں۔ معاشرے میں سب سے زیادہ کمزور وہ ہے جو بندوق اٹھاتا ہے۔ اور اس سے زیادہ کمزور وہ ہے جو گالیاں دیتا ہے۔جس کے پاس دلائل ہونگے وہ ہم ججز کو بھی چپ کرادے گا۔میں نے اپنے ذات کے لئے نہیں بلکہ ادارے کے لئے حلف لیا ہے،مہذب معاشرے میں توھین عدالت کے قانون کا استعمال نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کوئی نہیں ایسے بولتا ،کیا چیخ پکار کرکے آپ ادارے کو سرو کررہے ہیں،تنقید کی ایک حد ہونی چاھئے۔

    مانتے ہیں کہ آپ نے تقریر کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا، پریس کلب کیوں؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد ایک اور صاحب آگئے جن کا نام مصطفی کمال ہے انہوں نے بھٹو کا ذکر کیا۔بھائی اگرہم نے غلط کیا ہے تو بتائیں۔ بھٹو کے بارے میں آپ نے کیا کیا ہے، صرف ایک کام کرنا ہے کہ ادارے کو بدنام کرنا ہے۔ آپ نے بڑی جدوجہد کردی ، تقریر کرکے،لیکن بہتری کے لئے کوئی بھی تحریری طور پر نہیں جاتا۔مانتے ہیں کہ آپ نے تقریر کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا۔ پریس کلب کیوں؟کیا کسی صحافی نے ان سے سوال کیا کہ یہاں کیوں بول رے ہیں؟ بس ان کو کیپٹو آڈیئنس چاھئے۔ فیصل واووڈا کے بعد مصطفٰی کمال بھی سامنے آ گئے، دونوں ہی افراد پارلیمنٹ کے ارکان ہیں ایوان میں بولتے، ایسی گفتگو کرنے کیلئے پریس کلب کا ہی انتخاب کیوں کیا؟پارلیمان میں بھی ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جا سکتی،

    فیصل واوڈا، مصطفیٰ کمال دونوں کو بلا لیتے ہیں ہمارے منہ پر تنقید کریں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کرلیں،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت لانے کیلئے اپنے اختیارات کم کیے، سیکرٹری فنانس سپریم کورٹ بار نے بھی توہین عدالت کی کارروائی کی حمایت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ماضی کے ججز کے کام ہمارے کھاتے میں نہ ڈالے جائیں،دونوں کو بلا لیتے ہیں تنقید ہمارے منہ پر کر دیں،سینیٹر فیصل واوڈا نے 15 اور مصطفیٰ کمال نے 16 مئی کو پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے عدلیہ پر سنگین الزامات لگائے اور زیرالتواء مقدمات پر رائے دی، فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو نوٹس جاری کرتے ہیں، دونوں کو بلا لیتے ہیں، ہمارے منہ پر آکر تنقید کر لیں

    سپریم کورٹ نے آج کی کاررواٸی کا حکمنامہ لکھوانا شروع کردیا،سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے مصطفی کمال اور فیصل واوڈا سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ،دونوں رہنماوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا،کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کردی گئی

    گزشتہ روز سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنماوں ، وکلا کی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود ہے،عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں،‏وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ ایڈووکیٹ ، فیصل چودھری ،بیرسٹر علی ظفر بھی موجود ہیں،اظہر صدیق ایڈووکیٹ،نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ سمیت پی ٹی آئی کے 15 کے قریب وکلاء و رہنما سپریم کورٹ میں موجود ہیں،سینیٹر فیصل جاویدخان ،سابق سینیٹر اعظم سواتی ،سینیٹر شبلی فراز ،رکن قومی اسمبلی علی محمد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں.

    عمران خان نے نیلے رنگ کی قمیض زیب تن کر رکھی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر بلا لیا۔‏سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کرلیا،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا،خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے،

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی نے دلائل دیئے،‏، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے،آپ کے نہ آنے پر مایوسی تھی، ہم آپ کے موقف کو بھی سننا چاہیں گے، عمران خان مخدوم علی خان کے دلائل سنے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی سے کہا کہ ‏مخدوم علی خان اونچی آواز میں بولیں تاکہ عمران خان سُن سکیں،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیر التواء ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‏کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں وہ درخواست سماعت کے لیے منظور ہوچکی تھی،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی وہ درخواست سماعت کےلیے منظور ہوچکی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لے،

    کیس کی سماعت براہ راست نہیں دکھائی جا رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا، عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترمیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا نیٹ چل رہا ہے؟مخدوم علی خان اونچا بولیں تا کہ عمران خان سن سکیں،

    imran supreme

    ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست 4جولائی2022کوآئی ،سپریم کورٹ میں 6جولائی 2022کو کو نمبر لگا ،سماعت 19جولائی کو ہوئی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ مرکزی کیس پر اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2022کا پورا سال درخواستگزاڑ کے وکیل نے دلائل میں لیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کا پورا آرڈیننس بنانے میں کتنا عرصہ لگا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف نے 12 اکتوبر کو اقتدار سنبھالا اور دسمبر میں آرڈیننس آچکا تھا،مشرف نے دوماہ سے کم عرصے میں پورا آرڈیننس بنا دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا، مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس کی کل کتنی سماعتیں ہوئیں؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارش لاء کے فوری بعد ایک ماہ کے اندر نیب قانون بن گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم سے متعلق پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں کیسز زیر التوا تھے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست ہائیکورٹس میں کیس زیر سماعت ہونے کے باجود الیکشن کیس بھی سنا ،

    الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس کا آرڈر آف کورٹ کدھر ہے،جب ایک آرڈر آف کورٹ ہی نہیں تو اسے فیصلہ کیوں کہہ رہے ہیں، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میں پھر اسے سات جج کی رائے کہوں گا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بنچ دوبارہ تشکیل دیا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے براہ راست درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوال آئینی تشریح سے متعلق ہے،اگر ایک جج اپنی رائے دے تو وہ دوبارہ کیسے بنچ میں رہ سکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2023میں الیکشن کیس میں ایسی ہی وجوہات پر ہم دو ججز نے ناقابل سماعت کردیا تھا،ہم نے کہا تھا جو کیس ہاٸیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،اگر تب لاہور ہاٸیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنچ سے الگ ہوجانا الگ معاملہ ہے،اگر پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ بھی کہہ دیا جائے تب بھی یہ سوال ہے کہ آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیر التو ہونے کے باجود سپریم کورٹ براہ راست کیس سننے پر ججز میں اختلاف آیا،

    دوران سماعت عمران خان نے ورزش کے انداز میں سر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر سٹریچنگ کی،بازوؤں کو ورزش کے انداز میں ہلایا اور گردن کو دائیں بائیں حرکت دیتے رہے،عمران خان نے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں کو پاس بلا لیا اور اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے کی شکایت کی کہ اسکو سہی کرو جس پر اہلکاروں نے فوراً لائٹ کو ایڈجسٹ کر دیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا اور کہا کہ آپ جب میرے ساتھ بینچ میں بیٹھے ہم نے تو 12 دن میں الیکشن کروادیے،آپ جس بینچ کی بات کررہے ہیں اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں نہیں تھا، کیا چیف جسٹس کسی بھی جج کو بنچ سے الگ کرسکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سات رکنی بنچ نے کہا نوے دونوں میں الیکشن ہوں مگر نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صرف بارہ دونوں میں الیکشن کرانے کا فیصلہ دیا،پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا ہم نے آرڈر آف دی کورٹ دیا،

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالتی کارروائی لائیو نہ ہونے کا نکتہ اٹھا دیا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہو رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس جیسے مختلف فیصلے بھی موجود ہیں،ہائی کورٹ میں زیرسماعت درخواست سپریم کورٹ نہیں سن سکتی، نیب ترامیم کیس بھی سپریم کورٹ میں قابل سماعت نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں سرگوشیوں پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ جس نے باتیں کرنی ہیں کمرہ عدالت سے باہر چلا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا نفاذ کب سے ہوا؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد نیب ترامیم کی کتنی سماعتیں ہوئیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد کئی سماعتیں ہوئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا،پریکٹس اینڈ پروسیجر معطل کرنا درست تھایا غلط مگر بہر حال اس عدالت کے حکم سے معطل تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک قانون کو معطل کرنے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا ،آپ کو قانون پسند نہیں تو پورا کیس سن کر کالعدم کردیں ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بل کی سطح پر قانون کو معطل کرنا کیا پارلیمانی کارروائی معطل کرنے کے مترادف نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،ہم کب تک خود کو پاگل بناتے رہیں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اچھا تھا یا برا تھا لیکن پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو عدالت نے معطل کر رکھا تھا، ایکٹ معطل ہونے کے سبب کمیٹی کا وجود نہیں تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بنچ کے ایک رکن منصور علی شاہ نے رائے دی کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کو طے کیے بغیر نیب کیس پر کارروائی آگے نہ بڑھائی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون درست نہیں ہے تو اسے کلعدم قرار دے دیں،اگر قوانین کو اس طرح سے معطل کیا جاتا رہا تو ملک کیسے ترقی کرے گا،ہم کب تک اس بے وقوفانہ دور میں رہتے رہیں گے،اگر مجھے کوئی قانون پسند نہیں تو اسے معطل کردوں کیا یہ دیانتداری ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کمرہ عدالت میں درخواست گزار موجود ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ لیکن پہلے مخدوم علی خان کو سن لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو سن لیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل مخدوم علی سے سوال کیا کہ مخدوم علی خان ابھی کتنا وقت دلائل دینگے، مخدوم علی خان نے کہا کہ مجھے ابھی وقت لگے گا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپیل متاثرہ فریق دائر کر سکتا ہے اور وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے،حکومت اس کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہے؟پریکٹس ایند پروسیجر کے تحت اپیل صرف متاثرہ شخص لائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صرف متاثرہ شخص نہیں قانون کہتا ہے متاثرہ فریق بھی لاسکتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ دو تشریحات ہو سکتی ہیں کہ اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق تک محدود کیا گیا،متاثرہ فریق میں پھر بل پاس کرنے والے حکومتی بنچ کے ممبران بھی آسکتے ہیں،

    آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں،کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں وزیراعظم خود آرڈیننس جاری کرواتے رہے، پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ میں نیب ترامیم کی مخالفت نہیں کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس حکومت کے سیاست دانوں کو مجرم ٹھہرا رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں۔آرڈیننس کے زریعے آپ ایک شخص کی مرضی کو پوری قوم پر تھونپ دیتے ہیں۔کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔ کیا آرڈینس کے ساتھ تو صدر مملکت کو تفصیلی وجوہات نہیں لکھنی چاہیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط بنانا سیاستدانوں کا ہی کام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگلے ہفتے بنچ دستیاب نہیں ہوں گے، عمران خان کی موجودگی آئندہ سماعت پر بھی ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے عمران خان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان سے مخدوم علی خان کے سوالوں کے جواب لیں گے، عمران خان یہ نکات نوٹ کر لیں، عمران خان بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی مسکراہٹ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دیے

    سابق چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان آج کی سماعت میں دلائل نہ دے سکے ،مخدوم علی خان کے دلائل جاری ، سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہیں دلائل کے لئے مزید کچھ گھنٹے درکارہونگے، نیب ترامیم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ، عمران خان کی تصویر لیک ہونے پر تحقیقات شروع،پولیس کی دوڑیں
    سپریم کورٹ انتظامیہ نے عمران خان کی تصویر وائرل ہونے پر تحقیقات شروع کردیں،پولیس نے انتظامیہ اسٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کر دی،پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی،تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی،عمران خان کی کمرہ عدالت سے تصویر وائرل ہونے پر سپریم کورٹ میں دوڑیں لگ گئیں ،عدالتی عملہ اور پولیس پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تصویر کس نے کھینچی ہے ،عمران خان کی کمرہ عدالت میں تصویر بنانے والے کی تلاش شروع کردی گئی،کمرہ عدالت میں نصب بڑی سکرین سے عمران خان کی تصویر چند لمحوں کیلئے ہٹا دی گئی تھی پھر دوبارہ لگا دی گئی،سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون جانے والے افراد کی چیکنگ مزید سخت کر دی گئی،بانی پی ٹی آئی کی تصویر کمرہ عدالت کے بائیں جانب بیٹھے افراد میں سے کسی نے بنائی، کمرہ عدالت کی بائیں جانب موجود افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی،کمرہ عدالت میں جانے والے افراد کی تلاشی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

    نیب ترامیم کیس میں کمرہ عدالت سے بانی پی ٹی آئی کی تصویر وائرل ہونے کا معاملہ ،شوکت بسرا کا تصویر لیک ہونے کے حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے کوئی تصویر لیک نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کی تصویر میں نے نہیں بنائی ، سوشل میڈیا پر میرے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،اگر میں نے تصویر بنائی ہوتی تو میں اسے تسلیم کرتا ،

    سپریم کورٹ میں سیکورٹی سخت،موبائل فون لے جانے پر پابندی
    سپریم کورٹ نے کورٹ رپورٹر، صحافی ، اینکر پرسن اور کسی بھی فرد کو کورٹ میں موبائل فون لے جانے سے منع کر دیا تاکہ کوئی کیمرے سے بھی عمران خان کی تصویر نہ بنا سکے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،سپریم کورٹ میں آج عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے انتظامات مکمل کیے گئے تھے، جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے عملے اور جیل اتھارٹیز کے مابین ویڈیو لنک کے کونیکشن بارے رابطہ بھی کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے

    نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا،بابر اعوان
    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ بانی چئیرمین کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے، ذوالفقار علی بھٹو شہید کو عدالتی قتل کے بعد یہاں سنا گیا، نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا، آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق فئیر ٹرائل کا حق دیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سپریم کورٹ کی آج کی سماعت بھی لائیو نشر ہونی چاہیئے،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انہیں سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی تھی، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر رکھی ہے تا ہم سائفر اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے، عمران خان کی گزشتہ روز القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت ہوئی ہے، عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان کو مقامی عدالتوں نے پیشی کا حکم دیا تھا تاہم کسی بھی عدالت میں عمران خان کو پیش نہیں کیا گیا، بلکہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے، اب سپریم کورٹ نے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی.

    عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ آمد پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اِنہوں نے نہیں دکھانا اس وقت تک عمران خان کو جیل میں رکھیں گے جب تک سارے آپشنز ختم نہیں ہوتے ججز بھی پریشان ہیں کہ کیسے فیصلہ کریں،عمران خان کو القادر میں رہا کرنے کا حکم دیا تو کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا،عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے، یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ القادر کیس میں سزا دے دی جائے، عدت کیس میں کچھ بھی نہیں پھر بھی اسے گھسیٹا جا رہا ، بشری بی بی کے حوالے سے ان کی بیٹیوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دیا ہے، اس کیس پر سزا دینے والے جج کو بھی شرمندگی محسوس ہورہی ہو گی، اس وقت ججز بھی پریشان ہیں انہیں بھی سمجھ نہیں آ رہی کیسے فیصلے کریں، ہم اپنی عدلیہ سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی امید رکھتے ہیں،عمران خان نے کہا کہ اپنے تمام مقدمات کا سامنا کروں گا،اب عدلیہ پر ہے عمران خان کو کیسے انصاف دیں گے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کیسز میں ججز اب چھٹی پر چلے جائیں گے

  • کچھ لوگ اسکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں،چیف جسٹس

    کچھ لوگ اسکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں،چیف جسٹس

    ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بیٹھے افسران کیا مکھیاں مار رہے ہیں؟یونیورسٹیز پاکستان کا مستقبل ہیں، منظم طریقے سے پاکستان کے مستقبل کو تباہ کیا جارہا ہے، ملک میں سب کچھ آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہا ہے، ٹی وی چینلز میں بیٹھ کر سیاسی مخالفین کا غصہ نظر آتا ہے، تعلیم کے معاملے پر ٹی وی چینلز میں کوئی پروگرام نہیں ہوتے ہیں،گالم گلوچ کے اعدادوشمار میں پاکستان کی پہلی پوزیشن ہوگی، کچھ لوگ اسکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں، اسکولوں کو تباہ کرنے والوں سے حکومتیں پھر مذاکرات بھی کرتی ہیں،جس طرح پی آئی اے میں تباہی ہوئی اسی طرح یونیورسٹیز میں بھی ہورہی ہے،

    پاکستان میں 154 سرکاری یونیورسٹیز،66 میں وائس چانسلرز کو اضافی چارج یا عہدے خالی
    ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 154 سرکاری یونیورسٹیاں ہیں،66 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کو اضافی چارج دیا گیا یا عہدے خالی ہیں، اسلام آباد کی 29 یونیورسٹیز میں سے 24 پر مستقل وائس چانسلرز تعینات ہیں،بلوچستان کی 10 یونیورسٹیز میں سے 5 میں وائس چانسلرز تعینات ہیں، بلوچستان کی سرکاری یونیورسٹیز میں 5 میں قائم مقام وی سی موجود ہیں، خیبرپختونخوا کی 32 سرکاری یونیورسٹیز میں سے 10 پر مستقل وی سی موجود ہیں،خیبرپختونخوا میں کچھ سرکاری یونیورسٹیزمیں 16 پر اضافی چارج اور 6 خالی ہیں، پنجاب کی 49 سرکاری یونیورسٹیز میں سے 20 پر مستقل اور 29 پر قائم مقام وی سی ہیں،سندھ کی 29 سرکاری یونیورسٹیز میں سے 24 پر مستقل اور 5 پر اضافی چارج پر وی سیز تعینات ہیں،

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • کونسا مشہور آدمی چکوال میں ؟ گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہو جاتا ،چیف جسٹس برہم

    کونسا مشہور آدمی چکوال میں ؟ گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہو جاتا ،چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،چکوال سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار کمرہ عدالت میں درخواست دائر کرنے سے ہی مکر گئے،سپریم کورٹ میں کوڈ آف کنڈکٹ تشکیل دینے کی درخواست 2022 میں دائر کی گئی تھی، چکوال سے تعلق رکھنے والے راجہ شیر بلال،ابرار احمد، ایم آصف ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہی نہیں کی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے آپکے نام اور رہائشی پتے کیسے استعمال کیے؟کیا آپ بغیر اجازت درخواست دائر کرنے والوں کیخلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے؟ ایم آصف نے کہا کہ اگر آپکی سرپرستی ہوگی تو ہم ایف آئی آر کٹوا دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیوں سرپرستی کریں؟، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ رفاقت حسین شاہ نے کہا کہ جس ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعے درخواست دائر ہوئی انکا انتقال ہو چکا ہے،

    پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر عدالت میں پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپکو صرف چکوال والے کلائنٹ ہی کیوں ملتے ہیں،ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیں درس دیا جاتا ہے عدالتوں کو کیسے چلنا چاہیے،پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر عدالت میں پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا،ملک کو تباہ کرنے کیلئے ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے،سچ بولنے سے کیوں ڈرتے ہیں،وکیل کو اپنا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ خود کرنے کا اختیار ہوتا ہے، کونسا مشہور آدمی چکوال میں بیٹھا ہوا ہے؟ گالیاں دینا ہوں تو ہر کوئی شروع ہو جاتا ہے، کوئی سچ نہیں بولتا،ہم جانچ کیلئے معاملہ پنجاب فرانزک لیبارٹری کو بجھوا دیتے ہیں، ایڈوکیٹ حیدر وحید نے کہا کہ مجھے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے ہدایات دی تھیں،

    غلطیاں تو جیسے صرف سپریم کورٹ کے جج ہی کرتے ہیں، بس فون اٹھایا اور صحافی بن گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غلط خبر پر کوئی معافی تک نہیں مانگتا،کوئی غلط خبر پر یہ نہیں کہتا ہم سے غلطی ہو گئی ہے، غلطیاں تو جیسے صرف سپریم کورٹ کے جج ہی کرتے ہیں، بس فون اٹھایا اور صحافی بن گیا کہ ہمارے ذرائع ہیں، کسی کے کوئی ذرائع نہیں،ہم کچھ کرتے نہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھر پھینکی جاؤ،باہر کے ملک میں ایسا ہوتا تو ہتک عزت کے کیس میں جیبیں خالی ہو جاتیں،

    جھوٹ بولنے پولیس میں آئے ہو؟ پولیس یونیفارم کی توہین کر رہے ہو،چیف جسٹس برہم
    مطیع اللہ جان کیس میں پیشرفت نہ ہونے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایس ایس پی انویسٹگیشن کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سامنے آ ؤ، واقعے کی ریکارڈنگ موجود ہے اغواکاروں کا سراغ کیوں نہ ملا؟ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا کہ ہماری سی سی ٹی وی موجود نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے پولیس میں آئے ہو؟ یہ کیا بات کر رہے ہو؟ پولیس یونیفارم کی توہین کر رہے ہو،ریکارڈنگ موجود ہے اور کہہ رہے ہو ریکارڈنگ نہیں، کچھ پڑے لکھے بھی ہو یا نہیں؟ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا کہ جی سر، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کتنے سال ہو گئے ہیں پولیس میں؟ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا کہ مجھے پولیس میں 13 سال ہو گئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے آفیسر کو ہٹایا کیوں نہیں جا رہا؟ فوری فارغ کریں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ان کی طرف سے معافی مانگتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معافی کیوں، ان کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے کارروائی کریں،میں بالکل مطمئن نہیں ہوں ان سے، یہ مذاق بنا رہے ہیں،

    اچھا آپ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں،چیف جسٹس کا آئی جی سے مکالمہ
    صحافی مطیع اللہ جان اغوا کیس میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب کیا کر رہی ہے آپکی پولیس ؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ سر ہمیں کچھ وقت دے دیں میں خود اس کیس کو دیکھوں گا،کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اچھا آپ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں،کل میڈیا میں ہیڈلائن ہوگی کہ آئی جی اسلام آباد نے کہہ دیا کوئی قانون سے بالاتر نہیں،سلام آباد پولیس کو کوئٹہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پڑھائیں،کینیڈا کو دیکھیں کیسے انھوں نے دوسرے ملک کے باشندوں کیخلاف تحقیقات کیں،ہم لوگ اور ہمارے صحافی بہت خوش ہوئے کہ کسی اور ملک کیخلاف کینیڈا نے تحقیقات کیں،مگر یہاں اسلام آباد پولیس کو خود سیکیورٹی چاہیئے،ایک ایس ایس پی کیساتھ گارڈز ہوتے ہیں جیسے انکو کسی سے خطرہ ہے،جو پولیس کبھی ہماری حفاظت کرتی تھی اب انکی حفاظت کی جاتی ہے،ایک پولیس افسر کے گرد پوری نفری گھوم رہی ہوتی ہے،

    پولیس نے ہمارے موبائل لئے اور ابھی تک واپس نہیں کیے، مطیع اللہ جان، اسد طور
    صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ اغوا کے وقت میں نے موبائل پھینکا تھا جو پولیس لے گئی تھی،پولیس نے میرا موبائل واپس نہیں کیا،اسد طور نے کہا کہ میرے موبائل بھی لے لیے گئے تھے جو آج تک واپس نہیں ہوئے،
    مجھ پر حملہ ہوا تو وہ لوگ موبائل پر بات کر رہے تھے مگر جیو فینسنگ نہیں کی گئی،تفتیشی افسر نے کہا کہ مطیع اللہ جان کا موبائل حملہ آور ساتھ لے گئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ تو آسان تھا اگر موبائلز کا ڈیٹا نکال لیا جاتا تو ملزمان پکڑے جاتے،پولیس کو شاید ڈر تھا کہ موبائل کسی ایسی جگہ نہ ہو جن کیخلاف کاروائی نہیں ہوتی،لگتا ہے اب پولیس والوں کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کو کہنا پڑے گا،جیسے پولیس جے آئی ٹی بنا لیتی ہے ہم پولیس کیخلاف جے آئی ٹی بنا لیتے ہیں،پولیس والے عدالت آکر سر سر کہہ کر مکھن لگاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجھے اسلام آباد کا چارج سنبھالے تھوڑا سا وقت ہوا ہے میں خود یہ ان کیسز کی نگرانی کرونگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی ہوگی یا اوپر سے آرڈر آجائے گا،مطیع اللہ جان اغوا کی تحقیقات کرنی والی پولیس ٹیم تبدیل ہوگی یا نہیں،آئی جی اسلام آباد نے مطیع اللہ جان اغوا کیس میں تفتیشی افسران تبدیل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ تفتیشی افسران تبدیل کر کے خود صحافیوں پر حملوں کے مقدمات دیکھوں گا،

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس کی سماعت جون تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے اسد طور، ابصار عالم اور مطیع اللہ جان پر تشدد اور اغوا کے کیس میں پولیس تفتیش کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا،عدالت نےکہا کہ تفتیش کیلئے اہل افسر تعینات کیے جائیں، عدالت نے ابصار عالم، مطیع اللہ جان ، اسد طور پر حملے کی تفتیش ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو 30 دن کی مہلت دے دی،عدالت نے اسد طور حملہ کے ملزمان کے خاکے اخبارات میں شائع کرانے کا حکم دیا، اور کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے انعامی رقم مقرر کر کے اشتہار دیا جائے، مطیع اللہ جان اغوا کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج پنجاب فارنزک لیب کو بھیجنے کا حکم بھی دیا.

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کاعدالتوں کو زبردستی بند کروانے کا نوٹس

    ہڑتال پر چیف جسٹس برہم،بولے اتنے جرمانے لگائیں گےکہ یاد رکھیں گے

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • فیض آباد دھرنا کیس:  سپریم کورٹ نے کمیشن رپورٹ ٹی او آر کے برخلاف قرار دے دی

    فیض آباد دھرنا کیس: سپریم کورٹ نے کمیشن رپورٹ ٹی او آر کے برخلاف قرار دے دی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے کمیشن رپورٹ ٹی او آر کے برخلاف قرار دے دی،حکمنامے کے مطابق کمیشن نے مینڈیٹ سے باہر جاکر اصرار کیاکہ ایک شخص نے کچھ غلط نہیں کیا، کمیشن نے محض اس شخص کی کاغذ پرلکھی تردید پر انحصار کیا ہے، کمیشن نے سب فریقین سے مساوی سلوک نہیں کیا، ایک فریق سے بیان حلفی اور دوسرے سےسادہ بیان لیا گیا-

    حکمنامے کے مطابق کمیشن کی جانب سے دونوں فریقین کو ایک دوسرے پر جرح کا موقع بھی نہیں دیا گیاجبکہ کمیشن رپورٹ میں صوبائیت کی جھلک مایوس کن ہے، رپورٹ میں محض جملہ بازی اور اصلاحات ہیں، اس میں ٹھوس مواد موجود نہیں ہے ۔

    عیسائیوں کے جذبات مجروح کرنے پر کرینہ کپورکیخلاف قانونی کارروائی

    سپریم کورٹ کےحکمنامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے بھی کہا رپورٹ ٹھوس مواد سے خالی ہے، اس میں ٹی ایل پی کے کسی فریق کا بیان ہی نہیں لیا گیا، رپورٹ پبلک کی جائیگی یا نہیں، اٹارنی جنرل 2 ہفتےمیں وفاق کا جواب جمع کروائیں گے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا،فیض آباد دھرنے میں دوسرے اداروں کے کردار کی پولیس افسر نے تردید کردی-

    بھارت میں بہت جلد قیادت کا بحران پیدا ہوسکتا ہے،اروند کیجری وال

    حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوگیا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا،27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا،بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • ہڑتال پر چیف جسٹس برہم،بولے اتنے جرمانے لگائیں گےکہ یاد رکھیں گے

    ہڑتال پر چیف جسٹس برہم،بولے اتنے جرمانے لگائیں گےکہ یاد رکھیں گے

    سپریم کورٹ میں این اے 154لودھراں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت عدالت پیش ہوئے،شہزادشوکت نے کہاکہ آج وکلا ءہڑتال پر ہیں، آئندہ ہفتے کی تاریخ دے دیں،وکلاء کی ہڑتال پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کااظہار کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کا لفظ یہاں استعمال نہ کریں،کیس اپنے وقت پر ہی لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک اور مقدمہ میں بھی وکلاء کی ہڑتال پر ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وکلا کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہے، یہ بھی زحمت نہیں کریں گے،کوئی بھی کیس نہیں چلا رہا، ہر کوئی بہانہ بنا رہا ہے،کہتے ہیں 20سال سے کیسز نہیں لگ رہے، جب لگاتے ہیں تو بہانے بنا لیتے ہیں،ہڑتال کی باتیں عدالت میں آ کر نہ کریں،ہم اتنے جرمانے لگانا شروع کریں گے کہ آپ یاد رکھیں گے،کیس کی تیاری بھی ہم کریں اور پھر فیصلے بھی ہم ہی کریں؟

    شہزادشوکت نے کہاکہ کیس کے وکیل حامد خان نے تاریخ مانگی ہے،عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ریکارڈ کرلیا، عدالت نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

  • ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ججز اذ خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ مجھے گزشتہ آرڈر کی کاپی ابھی نہیں ملی،مجھے اس کیس میں وزیراعظم سے بھی بات کرنی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آرڈر پر تین دستخط ابھی بھی نہیں ہوئے۔کمرہ عدالت میں ججزکو آرڈرکاپی دستخط کرنے کیلئے دے دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو کتنا وقت چاہئے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے کل تک کا وقت دے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آج کون دلائل دینا چاہے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم 45منٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے،

    اعتزاز احسن کی جانب سے خواجہ احمد حسین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار اور بلوچستان بار کے وکیل حامد خان پیش ہوئے،وکیل حامد خان نے دلائل کیلئے ایک گھنٹہ مانگ لیا،سپریم کورٹ بار کے صدر اور ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ کے درمیان روسٹرم پر اختلاف ہو گیا،سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت نے دلائل کیلئے آدھا گھنٹہ مانگ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ہم پہلے وکلا تنظیموں کو سنیں گے، ایڈیشنل سیکرٹری شہبازکھوسہ نے کہاکہ ذاتی حیثیت میں الگ درخواست دائرکی ہے ،ایگزیکٹو کمیٹی کی کل رات میٹنگ ہوئی ہے ،صدر شہزادشوکت نے کہایہ معلوم نہیں کیوں اپنی تشہیر چاہتے ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ نے کہاکہ میں کوئی تشہیر نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تعجب ہو رہا ہے کہ اتنے وکیل ہیں لیکن ایک پیج پر نہیں آسکتے، تعجب ہے کہ وکیل عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی ایک پیج پر نہیں آ سکتے، پاکستان بار کونسل سے شروع کرتے ہیں، ہر شخص کہہ رہاہے کہ اپنی بات کرنی ہے,جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انفرادی طور پر یہ کریں، میں یہ تجویز کر رہا تھا کہ ایک باڈی کی میٹنگ کر لیتے، جمہوری ادارے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اہم حصہ ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل کو جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی پڑھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایک جج کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے وہ پڑھیں،اٹارنی جنرل کو پڑھنے پردشوارپرجسٹس اطہر من اللہ نے خود اپنا نوٹ پڑھ دیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نوٹ میں لکھا ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ مطمئن کرے مداخلت نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہایہ بات اصل آرڈر کے پیراگراف 5میں بھی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس پیرا گراف میں صرف تجاویز مانگنے کی بات تھی۔

    ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جج کچھ نہیں کر سکتا تو گھر بیٹھ جائے، ایسے ججز کو جج نہیں ہونا چاہیے جو مداخلت دیکھ کر کچھ نہیں کرتے، صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی لائیو سماعت روکی جائے، یہاں جو ہوا اس سے اچھا پیغام نہیں گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پلیز پروسیڈ،

    پاکستان بار کونسل کے وکیل ریاضت علی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، وکیل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کرانا چاہتی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنا کر قصورواروں کو سزا دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018/19 میں ہائی کورٹس کا سب سے بڑا چیلنج سپریم کورٹ کا مسائل پر خاموشی اختیار کرنا تھا،لگتا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ ہائیکورٹس کے جواب کی روشنی میں نہیں کیں، پاکستان بار کونسل یہ توقع کرتی ہے کہ ضلعی عدالت کا جج وہ کام کر لے جو سپریم کورٹ کا جج بھی نہیں کر سکتا؟ حقیقت بہت مختلف ہے، وکیل شہزاد شوکت وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ جب آپ براہ راست نشریات میں کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ مداخلت پر خاموش رہی تو اس سے عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مداخلت پر سزاؤں کا قانون لانے کی سفارش کرتی ہے،اس معاملے سے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے،

    سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر کی تھی، لیکن کاروائی نہیں ہوئی،جسٹس اطہرمن اللہ
    احسن بھون نے کہا کہ جج کے پاس توہین عدالت سمیت دیگر آپشنز موجود ہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں جو کام سپریم کورٹ نہیں کر سکتی وہ ڈسٹرکٹ جج کرے ۔ سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر (جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی) کی تھی جس پر عوامی طاقت پر بحال ہونے والی سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے بحالی کے بعد کوئی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کریں،ہائیکورٹس کے ججز نے جو کہا ہے اسکو دیکھیں وہ ججز ہیں وہ غلط نہیں کہہ سکتے۔

    سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے، ہائیکورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ ابتک جاری ہے اور سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، ساری ہائیکورٹس نے اپنی رپورٹس میں سیاسی مقدمات پر سنگین باتوں کو اجاگر کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا کہ یہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، ہم سب کو ماننا چاہیے انڈر ٹیکنگ دیں کہ وکلا کی مداخلت بھی روکی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو یا نہ ہو؟ مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ آگے بڑھتے ہیں کیونکہ دیگر افراد بھی ہیں، میں سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوں لیکن میں بطور خود سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ممبران بھی ہیں۔

    پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، سارے میڈیا نے چلایا، کسی نے نہیں پوچھا اس کا کوئی ثبوت ہے، دوسرے ممالک میں ایسا الزام لگے تو ہتک عزت کیس میں ان کی جیبیں خالی ہوجاتی ہیں، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا قبضہ ہے۔میں نے جج بنتے وقت حلف لیا ہوا ہے، یہ میرا فرض ہے، ہمیں تنخواہ اسی چیز کی ملتی ہے، اس میں دو رائے نہیں کہ میں آزاد بیٹھنا چاہوں یا نہیں، پریشرمیں آنا چاہوں یا نہیں، یقیناً آپ بھی اپنے دلائل یا ڈانٹ ڈپٹ کر مجھ پر پریشر ڈالیں گے، پریشر بہت سارے ہو سکتے ہیں،پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو،

    عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، سپریم کورٹ بار
    دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت میں اپنی تجاویز جمع کرائیں جس میں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ بارعدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی بھی قسم کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل،، قتل کرنا کب سے منع ، کیا وہ رک گیا ہے؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل ہوتا ہے، قتل کرنا کب سے منع ہے، کیا وہ رک گیا ہے؟ معاشرے ہوتے ہیں، لوگ ہوتے ہیں، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، آج حکم دیں کہ قتل ہونا بند کر دیا جائے، یہ رکے گا تو نہیں چلتا رہے گا، بات یہ کہ ہم اسے کیسے ڈیل کرتے ہیں، سزا و جزا کا عمل ہے جو چلتا رہے گا، ایک ڈیٹرنس تو یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے موت دیکھ کر دوسرے کہیں قتل نہیں کرنا چاہیے، دوسرا یہ کہ کچھ نہ ہو، سزا نہ ہو تو وہ کہیں گے کہ ہم بھی کر لیتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے، حکومت اس مداخلت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی، سوال یہ ہے کہ اس مداخلت کو ختم کیسے کیا جائے؟ مداخلت کا معاملہ اب 6 ججز کے خط سے آگے بڑھ چکا ہے،پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، عدلیہ کو خود ایکشن لینا ہو گا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عوام کو سچ جاننے کا پورا حق ہے، عوام کو سب جواب دہ ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وائس چیئرمین صاحب! ہم آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، آپ کو سننا چاہتے ہیں، سب لوگوں نے لمبا وقت لیا، کب تک مکمل کریں گے؟پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ ججوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ ان کے پاس جو قانون موجود ہے اسے استعمال کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 3 چیزیں کہہ رہے ہیں، ایک تو تحقیق ہو، دوسرا فوجداری قوانین کو جج استعمال کریں، تیسرا یہ کہ توہینِ عدالت کی کارروائی ہو۔

    ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پاکستان بار کو یہ بھی تجویز دینا چاہیے تھی کہ وکلاء کی جانب سے مداخلت کو کیسے روکیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے وکلاء کی نمائندگی کر رہے ہیں، ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، چیف جسٹس کافی مشکل وقت سے بھی گزرے، 2018 سے آج تک میری دیانتداری پر سوال اٹھا، لیکن کچھ فرق پڑا؟ ججز کو تنقید سے فرق نہیں پڑنا چاہیے، عوام کا ججز پر اعتماد ہونا چاہیے، ملک میں جوڈیشل تاریخ میں سب سے بڑی توہینِ عدالت کیا تھی؟

    خطرناک بات جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،احسن بھون
    احسن بھون نے کہا کہ لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے جو ردِ عمل آیا ہم نے وہ عدلیہ پر چھوڑا ہے، کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈیٹرنس ہونا چاہیے، انتہائی خطرناک بات ہے کہ جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے کہا کہ یہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے واقعات کی تفتیش ہو یا نہ ہو؟.جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے جو بذات خود ٹھیک سمجھا وہی کہا ہے، میری رائے ہے کہ دنیا بھر میں سماعتوں میں مداخلت ہوتی ہے، 3 نومبر کو سپریم کورٹ کے 8 ممبر بینچ نے عدلیہ بحال کی، کیسے ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں؟ ابھی تک معاملہ زیرِ التواء ہے، آپ توہینِ عدالت کی درخواست لائیں، اب تو سب ریٹائرڈ ہو چکے، یہی تو المیہ ہے،احسن بھون نے کہا کہ اسی لیے کہا ہے کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس
    ریاضت علی خان نے کہا کہ عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے ایگزیکٹیو کی ایک فورس عدلیہ کے ماتحت ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اب عدلیہ کے ماتحت نہیں ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آگے بڑھیں، کیونکہ ایسے باتیں ختم نہیں ہوں گی، بیوروکریٹ کے پاس تو کوئی توہینِ عدالت کا اختیار نہیں، عدالت کے پاس تو توہینِ عدالت کا اختیار ہوتا ہے، تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، میڈیا نے جھوٹ چلایا، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ان سے پوچھا کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ ماتحت عدلیہ کا جج وہ کام کرے جو سپریم کورٹ کے جج نہیں کر سکتے؟ 6 ججز نے ایک ایشو اٹھایا، جس کی ساری ہائی کورٹس نے توثیق کی، ساری ہائی کورٹس نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، اگر کوئی نشاندہی کرے گا تو اس کے ساتھ ایسا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسی ڈیٹرنس ہونی چاہیے کہ جو ایسا کرے اس کو بھگتنا پڑے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ جج کمپرومائز ہیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت سے کیا عدلیہ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ایسا نہ کہیں کہ سب برابر ہے، ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، کہیں کہ کچھ اچھے نکلے اور کچھ برے نکلے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پچھلے 50 سال میں کیا ہوا، میں آپ سے ہمدردی کر سکتا ہوں، بدل نہیں سکتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بتائیں کہ ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے جس پر ہائی کورٹس بھی روشنی ڈال رہی ہیں؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اگر یہ پیغام جائے گا کہ آپ ججز ملے ہوئے ہیں تو کیا پیغام جائے گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ دلائل دیں ورنہ ہم آپس میں لگے رہیں گے، لائٹر نوٹ پر بتاؤں مجھے کسی نے کہا تھا کہ جج کو سنیں اور وکیل کو بولنے دیں،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ کیسے یقین دہانی کی جائے کہ مداخلت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سچ کہیں اور اسے نظر آنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوری مجھے یہاں مداخلت کرنا پڑے گی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ آپ یہ کہہ کر قبول کر رہے ہیں کہ آپ ملے ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو یہاں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، سوری میں بہت بلنٹ بات کر رہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو نہیں بیٹھنا چاہیے، ہائی کورٹ کے ججوں کا خط باہمی خفیہ ادارہ جاتی خط و کتابت تھی جو میڈیا میں آئی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ججز کا خط لیک ہونے کی انکوائری ہونی چاہیے، خط کوئی شکایت نہیں ہے اور یہ عوام کے لیے خط و کتابت نہیں تھی، جسٹس بابر ستار نے یہ کہا ہے جو کہ خط پر دستخط کنندہ ہیں

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں کوئی گولی تو نہیں ملتی کہ جس سےمضبوط جج بنا جاسکے، سسٹم بنانا ہوگا،کمپرومائزڈ جج کو ایک منٹ میں سسٹم سے باہر نکال دینا چاہیے، اگر کوئی جج کھڑا ہو تو اُس کیساتھ کھڑے ہوجائیں،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت کا کیس، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    کراچی بار کی جانب سے تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ججز کو پابند بنایا جائے کہ مداخلت کی ہر کوشش س 7 دن میں مجاز اتھارٹی کو آگاہ کریں، مجاز اتھارٹی کو بھی پابند کیا جائے کہ رپورٹ کرنے والے ججز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، عدم تحفظ کے باعث بہت سے ججز ایسے واقعات سے مجاز حکام کو آگاہ ہی نہیں کرتے،مداخلت کی کوشش ریاستی اداروں سے ہو، خود عدلیہ سے یا نجی سیکٹر سے، ہر صورت آگاہ کیا جائے،عدلیہ اور حکومت کے درمیان آگ کی دیوار ہمیشہ قائم رہنی چاہیے،قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ججز کو سرکاری حکام اور انٹیلی جنس نمائندوں کیساتھ ملنے سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر سرکاری کام کیلئے حساس اداروں کے افسران سے ملنا ضروری ہو تو مجاز حکام کو آگاہ کیا جائے، مداخلت سے آگاہ کرنے کو جج کا مس کنڈکٹ قرار دیا جائے،مداخلت کے حوالے سے غلط بیانی کرنے والے ججز کی خلاف کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس مداخلت رپورٹ کرنے کیلئے خصوصی سیل قائم کریں، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کا بھی جائزہ لیا جائے، بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہونا درست نہیں، ہائی کورٹس میں بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا فیصلہ ججز کی تین رکنی کمیٹی کرے،سپریم کورٹ چھ ججز کے خط کی آزادانہ انکوائری کرائے، عدالت ذمہ داران کا تعین کرکے سخت کارروائی کا حکم دے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ملک میں انٹرپرینیورشپ اور انوویشن کے فروغ کے لیئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی "سٹیٹ آف یوتھ انٹرپرینیورشپ ایکوسسٹم ان پاکستان رپورٹ” لانچنگ کی تقریب سے یہاں سوموار کو خطاب کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لیئے کوشاں ہے، ہمارے نوجوانوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں،آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کے لیئے بے پناہ مواقع ہیں، ملک کی معاشی ترقی میں آئی ٹی سیکٹر کا بڑا اہم کردار ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا نوجوانوں کو جدید آئی ٹی سکلز سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر اعظم پاکستان ویژن کے تحت آئی ٹی کے شعبے میں سکلز ٹریننگ کو فروغ دے رہیں ہیں،نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے۔

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیس کی سماعت ہوئی،

    دائر اپیل پر سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی کے اعدادو شمار دیں، اُن میں سے کتنے آزاد امیدوار ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ چارٹ کے مطابق ٹوٹل قومی اسمبلی میں 82 سیٹس ہیں آپکی مخصوص سیٹیں نیشنل اسمبلی میں کتنی بنتی ہیں تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا 23 ہماری مخصوص بنتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا وہ فارمولا بتائیں جس کے تحت 23 بنتی ہیں،بیرسٹر گوہر نے کہا آرٹیکل 51 ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 51 فارمولا نہیں ہے۔ سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، وکیل خواتین اراکین اسمبلی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا، وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کر دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان بے کہا کہ اپیلیں لارجر بنچ ہی سن سکتا ہے، عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا

    انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی،

    قانون میں کہاں لکھا بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک بات تو طے ہے جس جماعت کی جتنی نمائندگی ہے اتنی ہی مخصوص نشستیں ملیں گی،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ، کیا جس پارٹی سنی اتحاد کونسل کی بات کی جا رہی ہے، وہ رجسٹرڈ ہے؟کیا اُسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ جی بالکل سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ ہے اور اسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو ساڑھے گیارہ بجے طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے۔عدالت نے سماعت آج 11:30 بجے تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر نمٹانا چاہتے ہیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت وقفہ کے بعد شروع ہو گئی،الیکشن کمیشن حکام سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کردی،جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس کیس میں دو اہم سوالات آپ سے پوچھیں گے،سلمان اکرم راجہ کے بعد آپکو سنتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا کہ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں اس لیے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتی لیکن بعد میں اسے سیاسی جماعت قبول کر کے فہرست جاری کر دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے تو آپس میں ہی مطابقت نہیں رکھتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے تناسب سے تو نشستیں لے سکتی ہیں،باقی نشستیں انہیں کیسے مل سکتی ہیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا باقی بچی ہوئی نشستیں بھی انہیں دی جاسکتی ہیں؟قانون میں ایسا کچھ ہے؟ اگر قانون میں ایسا کچھ نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟اگر قانون میں ایسا نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن سوموٹو اختیار سے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہیں جماعتوں کو نہیں دی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو کام ڈائریکٹ نہیں کیا جاسکتا وہ ان ڈائریکٹ بھی نہیں ہوسکتا، ایک سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو ان ڈائریکٹ طریقے سے نظر انداز کرنا کیا درست ہے؟

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق تحریک انصاف کی درخواستیں سماعت کےلئے منظور کر لیں ،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر رہے ہیں، تاہم فیصلوں کی معطلی صرف اضافی سیٹوں کو دینے کی حد تک ہوگی، سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق تحریکِ انصاف کی درخواست پر سماعت 3 جون تک ملتوی کر دی

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں،اسپیکر کے پی نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں.

    اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی،بیرسٹر گوہر
    عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا،وفاقی وزیر قانون
    مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ فیصلے کی معطلی پر حکومتی مؤقف سامنے آ گیا ،وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا عدالت عظمیٰ کے عبوری حکم نامے پر بیان سامنے آیا ہے، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے تحت 5 رکنی لارجر بینچ کا معاملے کی سماعت کرنا موزوں ہوتا ،مناسب ہوتا اگر لارجر بینچ ہی کوئی عبوری حکم نامہ بھی جاری کرتا ،یہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کا معاملہ ہے، پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں امتناع کے حکم سے احتراز برتا جانا چاہیے تھا، منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے ، آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نااہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے ،آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، امید ہے حتمی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا،

    قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان
    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا حکم نامہ ،قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان ہے،سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی 23 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں،قومی اسمبلی میں خواتین کی 14 مخصوص نشستیں ن لیگ کو دی گئی تھیں ،خواتین کی چار مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی دو جے یو آئی کو دی گئی تھیں،اقلیتوں کی تین مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں تقسیم کی گئی تھیں،20 اراکین کی معطلی سے حکمران اتحاد کی پارٹی پوزیشن بھی متاثر ہوگی ،اس وقت 227 اراکین پر حکمران اتحاد مشتمل ہے جو کہ20 اراکین کی معطلی کے بعد 207 رہ جائے گی ،حکمران اتحاد کی دو تہائی اکثریت بھی ختم ہو جائے گی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا موقف سامنے آگیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے اس کیس میں ہمیں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ۔مخصوص نشستوں پر بعد میں 23 اراکین نے حلف لیا تھا،اس حوالے سے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن کی طرف سے موصول ہوا تھا ،اب بھی ان اراکین کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن سے آنا ہے،جیسے ہی الیکشن کمیشن کوئی حکم یا نوٹیفیکیشن بھجواتا ہے اس پر عمل ہو گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان
    دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی نے بھی قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے،شارٹ آرڈر یا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی فیصلہ کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان ہے،پیپلزپارٹی کو دو اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست اضافی ملی ،سمیتا افضال سید ، سریندر ولاسائی پی پی جبکہ فوزیہ حمید ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں،سندھ اسمبلی اجلاس میں آئندہ سال کےلیے بجٹ تجاویز پیش کی جائیں گی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل