Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • توہین عدالت کیس، فیصل واوڈا کا جواب جمع،معافی مانگنے سے انکار

    توہین عدالت کیس، فیصل واوڈا کا جواب جمع،معافی مانگنے سے انکار

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں شوکاز نوٹس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کر دیا، فیصل واوڈا کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین کرنا نہیں تھا ،پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری تھا، عدالت توہین عدالت کی کاروائی آگے بڑھانے پر تحمل کا مظاہرہ کرے، توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے،

    فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں روف حسن مولانا فضل الرحمان شہباز شریف کی تقریروں کے ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پیش کر دیئے،فیصل واوڈا نے جواب میں کہا کہ توہین عدالت کا مبینہ ملزم عدالت کی عزت کرتا ہے،کسی بھی طریقے سے عدالت کا وقار مجروح کرنے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،سمجھتا ہوں کہ عدالت کا امیج عوام کی نظروں میں بےداغ ہونا چاہیے،پاکستان کے تمام مسائل کا حل ایک فعال اور متحرک عدالتی نظام میں ہے،حال ہی میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو اپنی غطلیاں تسلیم کرنی چاہیے ،اپریل 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خلاف توہین آمیز مہم چلی،آرٹیکل 19 اے کے تحت ملزم نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڑ سے متعلق معلومات کیلئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا،دو ہفتے گزر جانے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا،ملزم سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مضبوط دفاع کیلئے فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی ضروری ہے،عدلیہ کے ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی کا انحصار عوامی تائید پر ہے، دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف مہم زور پکڑ رہی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں نہیں دیں، سنی اتحاد کونسل کاکیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، گزشتہ روز سماعت ہوئی، آج پھر ہونی ہے، سنی اتحا د کونسل نے نہ تو الیکشن لڑا اور نہ ہی مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو جمع کروائی تھی جس کی وجہ سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں ملی تھیں، تحریک انصاف بضد ہے کہ وہ مخصوص سیٹ سنی اتحاد کونسل کو ہی ملنی چاہئے، مخصوص سیٹوں کے کیس بارے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھی تبصرہ کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جلد ہمارے پاس سپریم کورٹ کا فیصلہ آ جائے گا، تحریک انصاف شاید مخصوص نشستیں حاصل نہیں کر پائے گی کیونکہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کے لئے درخواست نہیں دی تھی،سپریم کورٹ کا متوقع فیصلہ متفقہ نہیں بلکہ اختلافی ہو سکتا ہے پھر بھی سنی اتحاد کونسل کے حق میں نہیں جیسا کہ اس وقت نظر آرہا ہے۔ اس ملک میں ہر گھنٹے میں حالات بدلتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ ٹویٹ دو دن میں ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس،مصطفیٰ کمال نے معافی مانگ لی

    توہین عدالت کیس، ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

    ایم کیو ایم رہنما سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بیان حلفی جمع کرا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ” اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتا ہوں، عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں، معزز عدالت سے معافی کی درخواست اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں”۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں،پاکستان بار کونسل

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں،پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے تحریک انصاف کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض مسترد کر دیا

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستان بار کونسل پی ٹی آئی کے چیف جسٹس سے ان کے پارٹی کیسز سے الگ ہونے کے مطالبے کی مذمت کرتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کو مسترد کرتے ہیں،یہ تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دباؤ ڈالے کی گھناؤنی سازش ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی جارہی ہے، پاکستان بار کونسل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

    واضح رہے کہ یکم جون کو تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پارٹی کے کیسز سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھاکہ کور کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی کے کیسز سے الگ ہوں، اس معاملے پر سپریم کورٹ سے کب رجوع کرنا ہے اس کا حتمی فیصلہ قانونی ٹیم کرے گی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسریٰ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہوکر چیف جسٹس پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ۔شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ مائی لارڈ آپ اس بنچ سے الگ ہو جائیں ۔سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کا فیصلہ موجود ہے جس میں آپ پر عمران خان کے کیسز سننے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے سماعت کی،جسٹس مسرت ہلالی طبیعت ناسازی کے باعث فل کورٹ کا حصہ نہیں ہیں ،سلمان اکرم راجہ اور فیصل صدیقی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آگئے ، فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی تنازع نہیں، کیونکہ وہاں ہماری کوئی نمائندگی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا 2 اپیلیں فائل کی گئی ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی دو اپیلیں ہم نے فائل کی ہیں، ایک میری اور دوسری خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے فائل کی گئی ،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا ایک کیس عدالتوں میں زیر التوا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کیس ہے تو ایڈووکیٹ جنرل استغاثہ بنتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کی کارروائی چلتی ہے تو کیا موقف ہوگا؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک درخواست پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر نے دائر کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اس پر کیا فیصلہ آئے گا وہ دیکھیں گے، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے کوئی نشست جیتی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی نہیں، سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں جیتی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں اور میرے ساتھی ججز کے سوال نوٹ کر لیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ پارٹی کسی کو نامزد کرے، سرٹیفکیٹ دے اور امیدوار کی بھی خواہش ہے کہ میں اس پارٹی سے آؤں اور الیکشن کمیشن اسے آزاد ڈیکلیئر کر دے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کس کو فریق بنایا گیا تھا اور فائدہ کس کو پہنچا، کس جماعت کو کتنی اضافی نشستیں ملیں وہ بتائیں، یہ بتائیں کہ یہ نشستیں کس کو گئیں؟ واضح ہے نشستیں سیاسی مخالفین کو گئی ہوں گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں، تفصیل دے دیں؟ فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں،سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ ، ایک پیپلزپارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں

    مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی مخالفت ،ن لیگ پیپلز پارٹی کی حمایت کر دی
    جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دستاویز کو درخواست میں لگایا ہواہے ،
    آپ کو پارٹی تسلیم کیا گیا وہ آ پ کا تیار کردہ دستاویز ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ دستاویز الیکشن کمیشن کا سرٹیفائیڈ ہے، عدالت نے کہا کہ کیا وہ سرٹیفائیڈ فہرست تھی جو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنی فہرست دی تھی لیکن اس کو مانا نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کی نمائندگی یہاں موجود ہے ؟ پیپلزپارٹی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،جے یو آئی کی جانب سے کامران مرتضٰی عدالت میں پیش ہوئے،خصوصی نشستوں سے متعلق کیس میں جے یو آئی نے اپنے وکیل سینٹر کامران مرتضی کے زریعے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے درخواست گزار یعنی پی ٹی آئی کے موقف کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی جماعت جے یو آئی پاکستان ہے یا ف؟کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایف نکل جائے تو کیا حیثیت ہو گی،کامران مرتضیٰ نے کہا کہ کسی بھی پارٹی سے کوئی بھی لیڈر نکل جائے تو حیثیت نہیں ہو گی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتادی،مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے سیاسی جماعتیں اضافی مخصوص نشستیں رکھنا چاہتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت آئین کے تحت اضافی مخصوص نشست نہیں لے سکتی،

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت بجلی چلی گئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو اب لاٸٹ بھی چلی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بجلی چلی گٸی تو پھر یہ جنریٹر سے کیوں نہیں آئی؟یہ ٹی وی اور لاٸٹس تو چل رہی ہے،

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خطاب نہ کریں، یہ نہ کریں، درخواست دینی ہے تو دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بولنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ”الیکشن کمیشن نے ان ممبران کو آزاد ڈیکلیئر نہیں کیا بلکہ سنی اتحاد کونسل کا ممبر نوٹیفائی کیا ہے” چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ "کیا دیگر جماعتیں آپکی تائیدکرتی ہیں؟”- وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مائی لارڈ ان کو مال غنیمت ملا ہے وہ کیوں ہماری تایئد کریں گے،15دسمبر کو الیکشن شیڈول جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لیا، پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی،کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں 2 دن کا اضافہ کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے بلے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہوگئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کرسکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے سیاسی جماعت ختم ہوگئی اور جنازہ نکل گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے بطور سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لیا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 218(3) پر فوکس بہت زیادہ رہتا ہے،کیا 17 فروری تک تمام جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا تھا، 2فروری کو الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دینے کیلئے درخواست جمع کرائی، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا، سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا گیا لیکن مخصوص نشستیں دینے سے انکار کردیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ درجنوں سیاسی جماعتوں نے کبھی جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے کوئی غلطی بھی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن کو درست کرنا چاہیے تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی،الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن کہتا ہے سنی اتحاد الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہوچکی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن نے منطق کے بغیر فیصلہ دیا،ایک سیاسی جماعت الیکشن لڑ رہی ہو تو اس سے مخصوص نشستیں کیسے واپس لے سکتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی خود جماعت ہے تو کیس ختم ہوگیا،پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں پھر سنی اتحاد کونسل کیسے لے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،یہ سارا معاملہ عوام کا ہے،عوام سے ان کا حق نہیں لیا جاسکتا،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں، لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کو چھوڑیں اپنے طریقے سے جواب دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شکر ہے ابھی آپ نے سوال نہیں پوچھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کیخلاف جا سکتا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 218 تین کا حوالہ دینا بہت پسند ہے،

    دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ عوام کا ہے، ٹیکنکلٹی کے ذریعے عوام کا حق نہیں لیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کو یہ غلطی خود درست کرنی چاہئے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل سے کہا کہ کہ آپ مزید بحث کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کیس پر بحث کریں، میں آپ کو ریسکیو کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ ریسکیو ہونا نہیں چاہتے، دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں،آپ آگے بڑھیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے،فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے، اس قسم کا بیان تسلیم نہیں کیا جاسکتا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا،

    ،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،جسٹس جمال مندو خیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ پی ٹی آئی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ کچھ دیر تک جمع کرا دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن غیر قانونی کام کرے تو کیا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے مطابق تین روز میں آزاد امیدوار کوئی جماعت چن سکتے ہیں، ہوسکتا ہے چار روز بعد پی ٹی آئی سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئی ہو،شمیولیت صرف آزاد ارکان کر سکتے ہیں،کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے آزاد امیدوار تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ آزاد امیدوار کے طور پر ہی نوٹیفائی ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی نکات کی بنیاد پر عوام کو ڈس فرنچائز نہیں کیا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اب غلطی تسلیم کرتے ہوئے آزاد ارکان کو دوبارہ تین دن کا وقت دیدے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلے کے نشان کو اتنا ہوا بنایا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ گمراہ ہوگئے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا، یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی نشست نہیں تھی،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،آپکے مطابق سنی اتحاد کی کوئی جنرل نشست تھی نہ ہی پی ٹی آئی کی،بلے کے نشان والے فیصلے کو نہ کسی نے پڑھا نہ ہی سمجھا،

    جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے ، میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، آپ نے آدھے گھنٹے سے کچھ بھی نہیں لکھوایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں پہلے حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں،آپ کا قلم سوکھنے نہیں دونگا،

    قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ دکھا دیں کس روز پی ٹی آئی نے درخواست کی اور سنی اتحاد کونسل نے منظور کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا تمام ریکارڈ دے دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک کاغذکے ٹکڑے سے کیسے مان لیں کہ سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہوگئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہوجائیں تو مخصوص نشستیں دی جانی ہیں ماضی میں ایک قانون آیا تھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن لڑنا اور پانچ فیصد ووٹ لینا لازم ہے ، وہ قانون بعد میں ختم کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا حقیقی پوزیشن یہی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی سارا تنازعہ یہی ہے،الیکشن کمیشن اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نشست حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکشن میں جیتنا ضروری ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت سے بھی نشستیں لی جا سکتی ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں گیا وہاں ایک گھنٹے میں وکیل دلائل مکمل کرتے ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں بھی ججز سوال پوچھ رہے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وقت مقرر کر دیں تو وکلاء اس کے اندر دلائل مکمل کر دینگے، یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے، بیگم جو وقت مقرر کرتی ہے میں اس سے آگے نہیں جاتا،

    غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ نشستیں خالی چھوڑ دیں نہ آپکو ملیں نہ کسی اور کو،آرٹیکل 51 کے مطابق نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی اور کو دینے سے نشستیں خالی چھوڑنا ہی بہتر ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایسی جماعت جو الیکشن نہ لڑے سیاسی جماعت کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہی نہیں تھی تو اس میں شمولیت کیسے ہوسکتی؟سنی اتحاد میں شمولیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ ضروری ہوگا کہ آرٹیکل 51 کی تشریح کیلئے ووٹرز کا حق بھی مدنظر رکھا جائے،اصل حق تو ووٹرز کا ہے باقی تو سب بعد کی باتیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ساری بحث سیاسی جماعتوں کے سیاق و سباق میں ہو رہی ہے،کیا الیکشن کمیشن ووٹرز کے حق کو متاثر کر سکتا ہے؟ غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلا واپس لیکر کہا بیٹنگ کرو،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ
    بلا جماعت سے لیا تھا بلے بازوں سے نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ امیدوار خود بلے کا نشان مانگ سکتے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اس نکتے پر لازمی سنیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں ہماری بلے کے بغیر بھی بلے بلے ہوگئی ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی،

    ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایک ٹیکس کیس میں بھی لارجر بنچ بنا ہوا ہے وہ منسوخ کر رہے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کیوں بنائی تھی،پیپلز پارٹی اور تلوار چھین لیے گئے تھے، مسلم لیگ ن کیساتھ بھی یہی ہوا ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، ایسی صورتحال میں قانون کی تشریح اسی تناظر میں ہی کرنی چاہیے سب کچھ سامنے بھی ہوتا ہے نظر بھی آ رہا ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حق دار کو اس کا حق واپس کرکے انہیں نشستوں کا دعویٰ کرنے دیا جائے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے لیکن ہر چیز یہاں آتی ہے،کوئی یہاں سے خوش اور کوئی ناراض جاتا ہے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس  پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید کر دی ہے

    ایک بیان میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل اتمان خیل کا کہنا ہے کہ میرے دفتر میں مخصوص نشستوں سے متعلق بینچ پر اجلاس نہیں ہوا، اس بارے میں وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھنے کی خبر بھی من گھڑت ہے، عدلیہ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے تمام ججز پر پورا اعتماد ہے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس خراب کرنے کے لیے جھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ جھوٹی خبروں کا مقصد مخصوص نشستوں کے کیس کو نقصان پہنچانا ہے، خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

    واضح رہے میڈیا میں کہا گیا تھا کہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کے آفس میں اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخواحکومت نے مخصوص نشستوں سے متعلق بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا اور بینچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض سے متعلق منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط بھی لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی سے متعلق کوئی بھی کیس چیف جسٹس نہ سنیں۔

  • سپریم کورٹ کی انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 میں ترمیم کی سفارش

    سپریم کورٹ کی انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 میں ترمیم کی سفارش

    سپریم کورٹ نے انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 میں ترمیم کی سفارش کر دی

    سپریم کورٹ نے انسداد سمگلنگ ایکٹ 1977 جائزے کیلئے پارلیمنٹ کو بھجوا دیا سپریم کورٹ نے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن، سیکرٹری قانون کو بھجوانے کا حکم دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی بھجوا دی،سپریم کورٹ کا 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اے این ایف نے 1998 میں شکایت درج کرائی کہ عبید خان نامی شخص نے جائیداد سمگلنگ سے بنائی ہے، انسداد اسمگلنگ ایکٹ میں اے این ایف کا کردار صرف سپیشل جج کو اطلاع دہندہ کا ہے، ملزمان کا موقف سامنے آنے کے بعد معاملہ جج اور ملزمان کے درمیان رہ جاتا ہے،انسداد سمگلنگ ایکٹ کے تحت جج کو اطلاع دینے کے بعد شکایت کنندہ کا کردار ختم ہو جاتا ہے،اے این ایف کا کردار شکایت کے بعد ختم ہونے پر وہ فیصلے سے متاثرہ فریق نہیں ہوگا، انسداد سمگلنگ ایکٹ میں اے این ایف یا ریاست کو اپیل کا کوئی حق نہیں دیا گیا،انسداد اسمگلنگ ایکٹ میں اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق یعنی ملزمان کو ہی ہے،پشاور ہائیکورٹ نے اے این ایف کی اپیل متاثرہ فریق نہ ہونے پر ہی خارج کی،دنیا بھر میں ریاست اور حکومت کو انسداد سمگلنگ قانون میں اپیل کا حق دیا گیا ہےمناسب ہوگا کہ پارلیمان قانون کا جائزہ لے تاکہ ریاست کو اپیل کا حق دیا جا سکے

    پی آئی اے کا ایک اور کارنامہ،میت اسلام آباد چھوڑ کر لواحقین کوسکردو پہنچا دیا

    پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اے کا جون سے یورپ اور برطانیہ کا آپریشن شروع کرنے کا امکان

    (پی آئی اے) کی نجکاری کا دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل

    پی آئی اے کی نجکاری سب سے پہلے ہو گی،وفاقی وزیر خزانہ

    پی آئی اے نے پچھلے پانچ سالوں میں پانچ سو ارب کا نقصان کیا، علیم خان

    عمان میں ہنگامی لینڈنگ کرنیوالے پی آئی اے طیارے کی فنی خرابی دور نہ ہوسکی،مسافر منتظر

    وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری پر عمل درآمد کیلئے حتمی شیڈول طلب کر لیا

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئ

  • برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے،سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

    برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے،سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے، خط رجسٹرارسپریم کورٹ کی جانب سے لکھا گیا ہے، رجسٹرار کا کہنا ہے کہ خط چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر بھیجا گیا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے برطانیہ بھی غلطیوں کا ازالہ کرے،خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے.

    سپریم کورٹ رجسٹرار نے خط پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر جین میریٹ کے نام بھجوایا، خط میں کہا گیا ہے کہ عاصم جہانگیر کانفرنس میں آپ کی پرجوش تقریر میں جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے،پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا، لیکن انتخابات اس لئے بر وقت نہیں ہو سکے تھے کیوں کہ صدر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان متفق نہیں تھے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کس کو ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دنوں میں حل کر دیا، اور 8 فروری 2024 کو پورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل، پاکستان میں الیکشن لڑنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں ایماندار اور قابل اعتماد (‘صادق’ اور ‘امین’) نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، ایک بڑے سات رکنی بنچ نے پہلے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعہ نافذ کردہ قانون (انتخابات ایکٹ، 2017) وقتاً فوقتاً انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد آمریت کو روکنے کے لئے اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اس جمہوری اصول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہوگی۔ ایک سیاسی جماعت (جس نے خود اس قانون میں ووٹ دیا تھا) نے لازمی انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون نے کیا کہا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقیدبلاجواز تھی۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوامی اہمیت کے مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے کیونکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشر کرنے کی اجازت دی. جس کے بعد پاکستانی عوام سپریم کورٹ کی کاروائی کو مکمل طور پر دیکھ سکتی ہے تا کہ عوام کو بھی مقدمات کی شفافیت اور فیصلوں بارے علم ہو،نٹرا پارٹی انتخابات اور پارٹی نشانات کے بارے میں فیصلہ بھی براہ راست نشر کیا گیا تھا

    خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بات خوش آئند تھی کہ آپ نے بارہا ‘اوپن سوسائٹیز’ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ متحرک جمہوریتوں کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ سپریم کورٹ نے معلومات کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اسے خود پر بھی لاگو کیا ہے۔ اس کے فیصلے کی کاپی ساتھ منسلک ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ ماضی کی پرتشدد غیر جمہوری غلطیوں پر قائم رہنا موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ آئیے سچائی کو اپنائیں،کیا 1953 میں محمد مصدق کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا، ایرانی تیل پر قبضہ کرنا، سات دہائیوں سے زیادہ چھپنے کے بعد ظاہر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ مجرم اور مظلوم کے لیے بہتر نہیں ہوگا؟ کیا یہ اعتماد، ممکنہ طور پر دوستی اور امن کو جنم نہیں دے گا؟جسے اس نے ‘یہودی صیہونی خواہشات’ کے طور پر بیان کیا ہے، برطانوی حکومت نے 2 نومبر 1917 کو اپنے شہری کو خط لکھا جس میں ایک آباد کار نوآبادیاتی ریاست کے قیام کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس فیصلے کو علاقے کے لوگوں نے جو اس سے متاثر ہوئے اور نہ ہی آپ کے لوگوں نے ووٹ دیا، برطانوی حکومت نے یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ کیا۔ بالفور اعلامیہ وہ بنیاد بن گیا جس پر ایک نسلی ریاست قائم ہوئی۔ جو لوگ ہمیشہ وہاں رہتے تھے اس نسلی ریاست سے نکال دیئے گئے۔ان پر وحشیانہ تشدد ہوا اور کئی مارے گئے،معذو ر ہوئے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ آئیے ہم آبادکاروں کی نسلی برتری کے دہانے سے پیچھے ہٹیں ۔ ہم سب اٹھ کھڑے ہوں اور برابری، امن اور انسانیت کے لیے شمار کیے جائیں۔آئیے ایماندار بنیں اور کھلے پن کے جذبے کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کریں، سپریم کورٹ کی جانب سے جاری خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے، ان کا تفصیل سے ازالہ کیا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کہ ان کا اعادہ نہ ہو۔ چونکہ کنگ چارلس تھری کی حکومت نے کھلے معاشروں اور جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں پر تنقید کی پیشکش کی ہے، اس لیے باہمی تعاون قابل قبول ہوگا۔

    برطانوی ہائی کمیشن کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ یہ خط چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات پر لکھا گیا ہے، جو آپ اور آپ کے ملک کے عوام کے لیے کھلے پن اور جمہوریت کے لیے اپنی تڑپ اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

    سپریم کورٹ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست ایڈوکیٹ میاں داود کی جانب سے دائر کی گئی ،درخواست میں تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین اور روف حسن کو فریق بنایا گیا ہے ، سپریم کورٹ میں میاں داؤد ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ روف حسن اور شعیب شاہین کے خلاف آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، تحریک انصاف کے رہنما باقاعدگی سے اعلی عدلیہ کو سکینڈلائز کر رہے ہیںچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے مہم چلائی جا رہی ہے،فیصل واڈا اور مصطفی کمال نے بھی تحریک انصاف کے طرز کی پریس کانفرنسز کیںسپریم کورٹ کا فیصل واڈا اور مصطفی کمال کے خلاف توہین عدالت پر شوکاز کرنا احسن اقدام ہے، درخواست کے ساتھ رئوف حسن اور شعیب شاہین کے توہین آمیز انٹرویوز کے ٹرانسکرپٹس بھی منسلک ہیں

    اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • سپریم کورٹ، نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کیلئے  درخواست دائر

    سپریم کورٹ، نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    درخواست نیب ترامیم کیس میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سید کوثر علی شاہ کی جانب سے دائر کی،درخواست میں کے پی حکومت کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت بنچ ون سے لائیو سٹریم کی جاتی ہیں، نیب ترامیم کیس کی اپیلوں کی سماعت لائیو سٹریم نہیں کی گئی،نیب ترامیم کیس کی لائیو سٹریمنگ نہ ہونا امتیازی سلوک ہے،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب ترامیم کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔

    واضح رہے کہ نیب ترامیم کیس کی گزشتہ سماعت میں عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش ہوئے تھے،تاہم کیس کو یوٹیوب پر لائیو نشر نہیں کیا گیا تھا،دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالتی کارروائی لائیو نہ ہونے کا نکتہ اٹھا یا تھا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہو رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی تھی.