Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو   درختوں کی کٹائی سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو درختوں کی کٹائی سے روک دیا

    سپریم کورٹ، ایف نائن پارک اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا ،عدالت نے سی ڈی اے، وائلڈ لائف بورڈ، حکومت کو بھی نوٹس جاری کر دیئے،سپریم کورٹ نے کہا کہ وکلاء سعد ہاشمی اور حسن رضا کیس میں عوام کی نمائندگی کرینگے، عدالت نے پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صدر اور سیکرٹری کو کمیشن مقرر کر دیا،صدر عقیل افضل اور سیکرٹری عمران وسیم کو پارک کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی،سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو آئندہ سوموار تک رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کر دی،درختوں کی کٹائی کس کے حکم پر ہو رہی ہے؟ سی ڈی اے سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا،درختوں کی کٹائی پر آنے والے اخراجات اور دیے گئےٹھیکے کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قوم درختوں کو ترس رہی ہے، سی ڈی اے ایف نائن پارک میں درخت کاٹ رہا ہے،رجسٹرار سپریم کورٹ نے درختوں کی کٹائی سے متعلق نوٹ ججز کمیٹی کو پیش کیا،تین رکنی ججز کمیٹی نے معاملہ بنیادی حقوق کا قرار دیتے ہوئے نوٹس لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    مریم نواز کو وزیراعلی کا پروٹوکول مل گیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا استعفی مسترد

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا،عدالتی معاون

    ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ دیگر معاونین کے برعکس کچھ کہنا چاہتے ہیں تو بتا دیں،عدالتی معاون سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ میں نے تحریری طور پر بھی معروضات پیش کی ہیں، سابق وزیرِ اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کیس کا ٹرائل شفاف انداز میں نہیں چلایا گیا، سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا، سپریم کورٹ اس حد تک ضرور قرار دے سکتی ہے کہ بھٹو کیس غلط طریقے سے چلایا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ بھٹو کیس کے میرٹس پر نہیں جا سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کا پابند ہے،خالد جاوید خان نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے علاوہ دیگر معاملات پر عدالت رائے دینے کی پابند ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میرے خیال میں عدالت بھٹو کیس میں صرف ٹرائل شفاف ہونے کی حد تک دیکھ سکتی ہے،وکیل خالد جاوید خان نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہو گا پوری ریاستی مشینری آمر ضیاء الحق کے کنٹرول میں تھی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس تاریخ کا وہ واحد فوجداری فیصلہ ہے 935 طویل صفحات پر مشتمل ہے، کیا کبھی اسے بھی طویل فوجداری فیصلہ لکھا گیا ہے تو بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اتنے تفصیلی فیصلے سے لگتا ہے جن ججز نے فیصلہ دیا وہ خود بھی متفق نہیں تھے اس لیے اتنی تفصیل لکھی گئی، عدالتی معاون نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس آفتاب نے تو کہہ دیا ذوالفقار علی بھٹو اچھے مسلمان نہیں تھے،سپریم کورٹ نے کہا اس میں کچھ غلط نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت نے یہ بھی کہا؟ کہاں لکھا ہوا ہے،

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

    میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: مبارک احمد ثانی کیس میں نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،جماعت اسلامی کے وکیل شوکت عزیز صدیقی روسٹرم پر آگئے،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہم نے بھی اس کیس میں نظرثانی درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست ابھی موصول ہوئی ، ابھی پڑھی نہیں،عدالت نے جماعت اسلامی کی درخواست کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا، شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں مبارک ثانی کیس میں عدالت کی درست معاونت نہیں ہوئی،درست معاونت نہ ہونے پر 6 فروری کے آرڈر میں غلطی ہوئی ، درخواست گزار نے دفعات حذف کرنے کی استدعا کہیں کی ہی نہیں تھی،

    اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا یہ ایک ضمانت کے کیس کا معاملہ تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست ضمانت کی تھی ایک فرد جرم میں ترمیم کی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں، یقینا نظر ثانی سے اپنی غلطی درست کرنے کا موقع ملتا ہے۔نہیں کہتے کہ ہم عقل کل ہیں،اس لیے عدالت معاونت کو ویلکم کرتی ہے۔اگر غلطی ہے درست کریں اور معاونت پر شکریہ بھی ادا کرینگے۔ہم اوپر والے سے ڈرتے ہیں۔یہاں تو چھوٹ ہو جائے گی اوپر چھوٹ نہیں ہوگی۔یقینا فیصلوں میں غلطی ہو سکتی ہے۔اس لیے نظر ثانی کا آپشن دیا گیا ہے۔وکیل شوکت صدیقی نے کہا کہ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ کیس میں عدالت کی درست معاونت نہیں ہوئی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دینی معاملہ پر معاونت کیلئے آپ آئے ہیں۔کامران مرتضی صاحب آپ نے بھی نظر ثانی دائر کی ہے۔کامرا ن مرتضیٰ نے کہا کہ میری نظر ثانی دائر ہونے کے پراسس میں ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ججز عقل کل نہیں ہیں،ہم سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ہمارے ایمان پر سوال مت اٹھائیں

    سپریم کورٹ نے مبارک احمد ثانی کیس میں دیگر مکاتب فکر کو بھی نوٹسز جاری کردئیے ،کونسل آف اسلامک اڈیالوجی ،دارلعلوم کراچی ،جمعیت الحدیث کو نوٹسز جاری کر دئے گئے،قرآن اکیڈمی ،جامعتہ المنتظر لاہور کو بھی نوٹسز جاری کر دیئے گئے، عدالت نے کہا کہ دیگر کو ئی بھی عدالتی فیصلے پر رائے دینا چاہتا ہے تو تحریری طور پر تین ہفتوں میں دے سکتا ہے ،کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے بعد ہوگی

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    مریم نواز کو وزیراعلی کا پروٹوکول مل گیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا استعفی مسترد

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • مبینہ دھاندلی،شیر افضل مروت نے تحقیقات کےلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    مبینہ دھاندلی،شیر افضل مروت نے تحقیقات کےلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے انتخابات کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،

    شیر افضل مروت نے سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے الزامات پر بنائی گئی الیکشن کمیشن کمیٹی اور چیف الیکشن کمشنر اور ممبر الیکشن کمشن کی تعیناتی چیلنج کر دی، شیر افضل مروت نے اس حوالہ سے درخواست دائر کر دی ہے،شہر افضل مروت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام فارم 47 کالعدم قرار دئیے جائیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کالعدم قرار دی جائے، دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کے لیے وزارتِ داخلہ کو جوڈیشیل کمیشن بنانے جا حکم دیا جائے،جوڈیشیل کمیشن ملک بھر کے الیکشن نتائج راولپنڈی سمیت کنسالیڈیشن کرے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تشکیل روک دی جائے،

    قبل ازیں شیر افضل مروت نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن نتائج میں دھاندلی کے خلاف میں سپریم کورٹ میں پٹیشن فائل کرنے جا رہا ہوں، اس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمشنر کی تقرری کو بھی چیلنج کریں گے۔عمران ریاض کی گرفتاری مریم نواز اور کا پنجاب میں راستہ صاف کرنے کیلئے کی گئی عمران ریاض خان سچ کا نام ہے اس کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ سچ بولتا ہے

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی،سپریم کورٹ

    جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یامستعفی ججزکیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے

    سپریم کورٹ نے عافیہ شہربانو کیس میں انٹرا کورٹ اپیل جزوی طور پر منظور کرلی،سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، آج سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کی تھی، بعد ازاں مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ جج کیخلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی مستعفی جج کیخلاف کارروائی جاری رکھنا جوڈیشل کونسل کا اختیار ہوگا،وفاقی حکومت کی اپیل جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت و دیگر کی اپیلیں چار ایک سے منظور کیں ، جسٹس حسن اظہر رضوی نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے،فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی جج کے خلاف جب انکوائری شروع ہو جائے تو مستعفی ، ریٹائرمنٹ لینے سے انکوئری میں فرق نہیں پڑے گا اور کیس منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ،جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کیخلاف شکایت پر کونسل کو اجازت مل گئی

    واضح رہے کہ مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی جاری تھی کہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا.مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ  سے خارج

    انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ سے خارج

    سپریم کورٹ نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ نے 19 فروری کو شہری علی خان کو وزارتِ دفاع کے ذریعے نوٹس جاری کیا تھا تاہم درخواست گزار سابق بریگیڈیئر علی خان پیش نہیں ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ علی خان کے گھر پولیس بھی گئی، وزارتِ دفاع کے ذریعے نوٹس بھی بھیجا، علی خان گھر میں نہیں ہیں، نوٹس ان کے گیٹ پر لگا دیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی خان کون ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ سابق بریگیڈیئر ہیں جن کا 2012ء میں کورٹ مارشل ہوا تھا،

    شوکت بسرا قرآن لے کر چیف جسٹس کی عدالت پہنچ گئے، چیف جسٹس نے بات نہ سنی بٹھا دیا
    دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا روسٹرم پر آ گئے تاہم عدالت نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت بسرا کو بیٹھنے کا حکم دیا،شوکت بسرا نے عدالت میں کہاکہ میں بہاولنگر سے منتخب رکن اسمبلی ہوں، اس کیس میں پیش ہونا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت بسرا سے استفسار کیا کہ آپ علی خان کے وکیل ہیں؟شوکت بسرانے عدالت میں جواب دیا کہ نہیں میں ان کا وکیل نہیں ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ہمیں وکیلوں کو سننے دیں، شوکت بسرا نے کہاکہ میں بھی ہائیکورٹ کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ مبارک ہو آپ ہائیکورٹ کے وکیل ہیں مگر آپ تشریف رکھیں ،شوکت بسرا نے استدعا کی کہ میری بات تو سن لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ورنہ لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے کر توہین عدالت کا نوٹس بھی کر سکتے ہیں، آپ کا اس کیس سے تعلق کیا ہے؟شوکت بسرا نے کہاکہ میرا اس کیس سے تعلق نہیں لیکن میرے ہاتھ میں قرآن ہے اس کی قسم کھانا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ نہ کریں ورنہ توہین کا نوٹس کر دیں گے،شوکت بسرا نے کہاکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ تقریر نہ کریں، ہمارے سامنے، پہلے سن لیجیے، بالکل ہی اخلاق چھوڑ دیا ہے،آئندہ آپ نے یہ کیا تو وکالت کا لائسنس منسوخی کا معاملہ بار کو بھیجیں گے،سب نے ملکر سپریم کورٹ کو مذاق بنایا ہوا ہے ،اب اس درخواست گزار کو دیکھیں درخواست دائر کر کے بیرون ملک روانہ ہو گیا،شوکت بسرا کا کنڈکٹ دیکھیں، مجھ سے معافی تک نہیں مانگی، شہزاد شوکت نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کبھی اتنی شفافیت نہیں تھی جنتی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے آنے کے بعد آئی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے کسی میڈیا چینل سے بات کی نا ہی درخواست جاری کرائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت سے سوال کیا کہ شوکت بسرا کے خلاف رپورٹ ہونی چاہیے یا بار کونسل کارروائی کرے گی؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ شوکت بسرا والے معاملے کو فیصلے کا حصہ نا بنایا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کہنے پر ان کو چھوڑ رہے ہیں، اگر شوکت بسرا نے باہر جا کر اس کیس سے متعلق میڈیا پر بات کی تو یہ بھی کسی چیز کے لیے تیار رہیں، وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ میں شوکت بسرا کو سمجھا دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ کوئی سازش نہیں ہے کہ ایک دن درخواست دائر کر کے اگلے ہی دن درخواست گزار ملک سے چلا گیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ درخواست گزار خود نا آئے اور دوسری پارٹی کو راستہ دکھائے کہ اس درخواست کے ذریعے عدالت آجاو،

    میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو،چیف جسٹس پھٹ پڑے
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس ملک کو دنیا کے لیے جگ ہنسائی کا سامان بنا دیا گیا ہے،ہفتے کو ایک مرکزی ٹی وی چینل پر خبر چلی کہ ججز کا اجلاس ہو گیا ہے،میرا ساتھی ججز کے ساتھ کوئی اجلاس نہیں ہوا لیکن یہاں تو میڈیا آزاد ہے،میرے ساتھی ججز مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ بتائیں پھر اجلاس میں کیا ہوا؟ ججز آ کر اب پریس کانفرنس کر کے وضاحتیں تو نہیں دے سکتے، خبر چلانے سے پہلے تصدیق تو کر لیا کریں رجسٹرار کو کال کر کے پوچھ لیں،یہاں جینوین صحافی نوکری سے فارغ ہو رہے ہیں، اب یہ میڈیا چلائے گا نہیں کہ بریگیڈئیر کا کورٹ مارشل ہوا تھا،ہر چیز پر بس ضمیر بیچ دو، گھر بیٹھ کر کچھ بھی چلا دیتے ہیں،سچ بولیں اور سچ بتائیں لیکن نہیں، یہاں میڈیا کو بس اپنی ریٹنگ کی پڑی ہے،اب ہر کوئی آ کر کھڑا ہو جائے کہ درخواست خارج کیوں کر دی، میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ہفتے کو تو یہ خبر بھی چل گئی تھی کہ بنچ بن گیا اور سماعت شروع ہو گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا سے غلطی بھی ہو سکتی ہے لیکن وضاحت بھی تو چلائیں کہ خبر غلط چلی، اگر میڈیا 10 جھوٹی خبریں چلائے گا تو لوگ ان کی خبروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے، میں نے ایسا کبھی پہلے نا دیکھا نا سنا، یہ نہیں ہے کہ بس اداروں پر ملامت شروع کر دیں،ملک میں بس دو تین ہی تو ادارے باقی رہ گئے ہیں،ایک سپریم کورٹ ہے ایک پارلیمنٹ اور ایک دو اور ادارے،

    سپریم کورٹ نے 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی جبکہ عدم پیشی پر درخواست گزار پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا

    سپریم کورٹ میں 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر کی گئی تھی، درخواست میں کہا گیا تھاکہ8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت بننے کے عمل کو روکا جائے ،عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے ،درخواست علی خان نامی شہری نے دائر کی تھی

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے جس میں کسی بھی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی،سیاسی جماعتیں دھاندلی کے خلاف بھی سراپا احتجاج ہیں،سندھ میں دھرنا دیا گیا ہے تو تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کیا ہے، ن لیگ بھی کہہ رہی ہے ہماری سیٹیں چھینی گئیں تو پیپلز پارٹی کا بھی یہی دعویٰ ہے

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت  جاری

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کوعدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دینے کے خلاف صدارتی ریفرنس پرسماعت آج سپریم کورٹ میں ہورہی ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں، عدالت نے ریفرنس میں مقررکیے گئے عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، فیصل کریم کنڈی اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود ہیں، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاعدالتی معاونین نےجواب جمع کرائے ہیں؟ کیا ریما عمر آئی ہیں؟

    اس دوران مخدوم علی خان روسٹرم پرآئے جن سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ نےکچھ فائل کیاہے؟ آپ نے2 والیم پرمشتمل جواب جمع کرایاہے،سابق جج اسد اللہ چمکنی اور صلاح الدین بھی بطور عدالتی معاونین پیش ہوئے، چیف جسٹس نےاُن سےکہا کہ صلا ح الدین صاحب آپ ناراض نہ ہوں توط مخدوم صاحب کو پہلے سن لیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے مخدوم علی خان سے سوال کیا کہ اس معاملے میں آپ کاقانونی نکتہ کیا ہے؟ ، اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بھٹو کیس میں جو فیصلہ دیا گیا کیا اس کے آرٹیکل 4 کو پورا کیا؟

    مخدوم علی خان نے اپنے دلائل کے آغاز پر عدالت کو بتایا کہ عدالتی معاون خالد جاوید بیمارہیں، وہ آئندہ سماعت پرآئیں گے، چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ مخدوم صاحب آپکاجواب 2 والیم پر مشتمل ہے، ہمارا اصل فوکس آئینی پہلو کی طرف ہے۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی کاروائی میں طریقہ کاردرست اپنایا گیا یا نہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقاربھٹوکیس فیصلے میں بدنیتی پر بات کروں گا، سابق چیف جسٹس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر فیصلے کیلئے دباؤتھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ سابق چیف جسٹس نے اپنی غلطی کااعتراف کیا،اسے بدنیتی نہیں اعتراف جرم کہیں گے، ذوالفقارعلی بھٹو قتل کے فیصلے میں غلطی کا اعتراف کیا گیا ہے، جان بوجھ کر غلط کام کیا جائے تو اسے بدنیتی نہیں کہیں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارااختیار سماعت بالکل واضح ہے یہ واضح ہے کہ دومرتبہ نظرثانی نہیں ہوسکتی، ہم اس کیس میں لکیرکیسے کھینچ سکتے ہیں،کیااس کیس میں تعصب کاسوال ہےیاغلط فیصلہ کرنے کوتسلیم کرنا ہے؟

    عدالتی معاون کی جانب سے یہ کہنے پر کہ ایک جج نے انٹرویو میں کہا ان پر دباؤ تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو نہیں کہا میں تعصب کا شکار تھا، اگرمیں دباؤ برداشت نہیں کرسکتا تومجھے عدالتی بنچ سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    مخدوم علی خان نے جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کا ایک حصہ تعصب کے اعتراف کا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل کوئی جج کہے مجھ پر بیوی کا دباؤتھا تویہ کس کیٹیگری میں آئے گا؟-

    جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ اصل سوال ہےکہ اب ہم کیسے دروازہ کھول سکتےہیں، کیاہم آرٹیکل186کے تحت اب یہ فیصلہ کرسکتےہیں کہ پروسس غلط تھا،اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کرسکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم اب انکوائری کر سکتے ہیں؟ ،اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کرسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ہم اس پہلوکو نظراندازکرسکتے ہیں کہ کیس کے وقت ملک میں مارشل لا تھا، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا اپنا مفاد تھا، جسٹس منصورعلی شاہ کے سوال پر مخدوم علی خان نے بتایا کہ اس وقت ججزنے پی سی اوکے تحت حلف اٹھایا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اختلاف کرنے والوں کوبعد میں ملک نہیں چھوڑنا پڑا؟ جسٹس صفدرشاہ نے ملک چھوڑا کیا اختلاف کرنے والوں کا کوئی انٹرویویا کتاب ہے؟

    مخدوم علی خان نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا حوالہ دیا جس پرجسٹس منصور علی شاہ نے 3 بنیادی سوالات کے جواب دینے کا کہا، ذوالفقار بھٹو کیس کے فیصلے میں کیا ناانصافی ہوئی؟، اگر ناانصافی ہوئی توثبوت کیسے ملیں گے؟ ثبوت مل جائیں توکیا یہ عدالت آرٹیکل 186 کے تحت انکوائری کرا سکتی ہے؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیا عدالت کمرے میں ہاتھی یعنی مارشل لا کونظراندازکردے؟ کیا پراسیکیوشن کو اس وقت ایک شخص کو مارشل لا کے نفاذ کیلئے سزا دینا مقصود نہیں تھا؟جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر مخدوم علی خان نے بتایاکہ فیصلہ چارتین سے آیا تھا ، اقلیتی ججزمیں جسٹس محمد حلیم ، جسٹس غلام صفدر شاہ اور جسٹس دراب پٹیل تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بھٹو کیس افواج پاکستان اور سپریم کورٹ کیلئے اپنی غلطی درست کرنے اور ساکھ بحالی کا ایک موقع نہیں؟ کیا یہ موقع نہیں دونوں ادارے خود پر لگے الزامات سے دامن چھڑائیں، کیا بھٹو کیس کے فیصلے سے عدلیہ اور فوج کے لیے ایک لکیر نہیں کھینچ جائے گی؟ مارشل لا فوج بطور ادارہ نہیں لگاتی ایک شخص کا انفرادی فعل ہوتا ہے، کیا غلط کاموں کا مدعا انہی انفرادی شخصیات پر ڈال کر اداروں کا ان سے لاتعلق ہونے کا موقع نہیں؟ کیا ایسا کرنا قوم کے زخم نہیں بھرے گا؟ ہم ماضی میں رہ رہے ہیں اور ہماری تاریخ بوسیدہ ہے یہ ایک مخصوص کیس تھا ،اگرہم اس کیس کوایک خاص پیرائے میں دیکھیں تو مارشل لاء کے دوران باقی کیسزکودیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    سپریم کورٹ میں وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالتی معاون مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت 26فروری کو ہوگی۔

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا جس میں کہا گیا کہ آج عدالتی معاون مخدوم علی خان نے معاونت کی، عدالتی معاون خالدجاویدنےتحریری بریف عدالت کو فراہم کیا، عدالتی معاون صلاح الدین کو معاونت کیلئے ایک گھنٹہ چاہیے، عدالتی معاونین کے عدالت دیگرفریقین کو عدالت سنے گی، صدارتی ریفرنس پرآئندہ سماعت 26فروری دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ بھٹو کی بھانسی کے خلاف یہ ریفرنس ان کے داماد اور سابق صدر صف علی زرداری کی جانب سے 2011 میں آئین کے آرٹیکل 86 کے دائر کیا گیا تھا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میںیفرنس پر چند سماعتیں ہوئیں لیکن اُن کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے صدارتی ریفرنس پر سماعت نہیں کی،موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکتوبر 2023 میں صحافیوں سے ملاقات میں ذوالفقارعلی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی جلد سماعت کا عندیہ دیا تھا-

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    ریفرنس کی پیروی سابق وفاقی وزیر بابر اعوان نے کی تھی جو اُس وقت پی پی کاحصہ تھے تاہم اب پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت نے وکیل رہنما اور سینئر پارٹی رُکن عتزاز احسن سے ریفرنس کی پیروی کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انہوں نے معذرت کرلی۔

    کیس کی پہلی سماعت 2 جنوری 2012 اورآخری 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی جو 9 رکنی لارجربینچ نے کی تھی تاہم اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل بابر اعوان کا وکالت لائسنس منسوخ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے وکیل کی تبدیلی کا حکم دیا تھا، بعد ازاں اسی بنیاد پر یہ ریفرنس ملتوی کردیا گیا تھا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    پی پی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صدارتی ریفرنس میں پانچ سوالات اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی۔

    کیا سابق وزیراعظم ذوالفقاربھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں شامل بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تھا؟، کیاپھانسی کی سزا کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پرآرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ اورتمام ہائیکورٹس پر لاگو ہو گا؟اگر نہیں تو فیصلے کے نتائج کیا ہو ں گے؟، کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ منصفانہ تھا؟ کیا ذاولفقارعلی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا یہ فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟، کیا یہ سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟، کیا سابق وزیراعظم کیخلاف ثبوت اور گواہان کے بیانات انہیں سزا سنانے کیلئے کافی تھے؟-

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

  • سیاست دانوں کی نااہلی  کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی :53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ شامل ہے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کو عوامی رائے اور عوام کی شاباشی حاصل کرنے کے بجائے آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے چاہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس فیصلے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت سپریم کورٹ براہ راست کورٹ آف لاء کے تحت کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین کیسے کر سکتی ہے؟ کسی امیدوار کو نااہل کرنے میں عدلیہ کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی امیدوار کے کردار کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں یہ کام ووٹر کا ہے، نہ آئین میں اور نہ ہی کسی قانون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کورٹ آف لاء کون سا عدالتی فورم ہوگا جو ڈیکلریشن دینے کا مجاز ہوگا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔

    فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نا اہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نا اہلی کا کہیں ذکر نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں، ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی،تاحیات نا اہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت الیکشن ایکٹ کے اسکوپ کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی،آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں درج نہیں کہ کورٹ آف لا کیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف واضح نہیں کرتا کہ ڈکلیئریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا،سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی، سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی مستقل یا تاحیات نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن تک محدود ہے، نا اہلی تب تک بر قرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن موجود ہو، سپریم کورٹ کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

  • توہین قرآن کیس:  ملزم کی درخواست ضمانت پرتحریری فیصلہ جاری

    توہین قرآن کیس: ملزم کی درخواست ضمانت پرتحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد : سپریم کورٹ نے توہین قرآن اورقادیانیت کی ترویج کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت پرتحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ نے توہین قرآن اورقادیانیت کی ترویج کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت پرتحریری فیصلہ جاری کردیا ،5 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے جس میں مقدمے سے توہین قرآن اور قادیانیت کی ترویج کی دفعات حذف کرنے کا حکم دیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر اور چالان میں ملزم پر دونوں جرائم کا ذکر نہیں، قرآن کریم میں نبی پاک ﷺ کوبھی حکم دیاگیاکہ صرف اللہ کاپیغام پہنچائیں کسی کواسلام قبول کرنے پرمجبور نہ کریں، مذہبی آزادی اسلام کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے، کیس سے منسلک افراد نے قرآن پاک سے رہنمائی نہیں لی، متعلقہ افراد کو جلدی تھی کہ قرآن کریم اور نبی پاک ﷺ کی توہین ہوئی ہے۔

     

    سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرا …

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ نے فرمایا ہے بے شک ہم نے اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے، دین میں جبر نہ ہونے کا اصول آئین پاکستان میں بنیادی حق کے طور پر شامل کیا گیاآئین کے آرٹیکل 20 کے مطابق ہر شہری کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور آئین ہر مذہب اور فرقے کو اپنے مذہبی ادارے کھولنے کی اجازت دیتا ہے۔

    ٹانک: این اے 43 میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو شکست

    سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آرٹیکل22 کے تحت کسی مذہب، گروہ یافرقے کو مذہبی تعلیم اور اپنے اداروں میں نصاب رائج کرنے سے نہیں روکا جا سکتا، آئین میں درج بنیادی حقوق سے روگردانی نہیں کی جاسکتی، متعلقہ حکام اگر قرآن پاک سے رہنمائی لیتے تو شاید مقدمہ ہی درج نہ ہوتا، عدالت نے ملزم مبارک احمد ثانی کو 5 ہزار روپے کے ذاتی ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

    واضح رہے کہ ملزم مبارک ثانی کو 7جنوری 2023 کو گرفتار کیا گیاتھا، ملزم کےخلاف مقدمہ چنیوٹ کےتھانہ چناب نگرمیں 6 دسمبر 2022 کو درج کیا گیا تھا-

    ذاتی مفادات کی وجہ سے آئی ووٹنگ اور ووٹنگ مشین متعارف نہیں کرائی جاسکیں،صدر مملکت

  • جج کوئی جرم کرتا  تو استعفے سے کلین چٹ مل جائے گی؟جسٹس جمال مندوخیل

    جج کوئی جرم کرتا تو استعفے سے کلین چٹ مل جائے گی؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں عافیہ شہربانو کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 21 اپریل کے بجائے 11 اکتوبر سے نافذ ہو تو یہ اپیل قابل سماعت نہیں،جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل قابل سماعت ہونے پر نہیں، مرکزی کیس پر آپ کی معاونت درکار ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت اپیل کے ماضی سے اطلاق کی شق کالعدم قرار دی گئی، ججز پر عام قوانین لاگو نہیں ہوتے، اگر جج پر کرپشن کے الزامات ہوں تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار جج کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے، بھارتی عدالت نے قراردیا کہ جج کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہو سکتی ہے

    جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ اگر جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کر چکی تو کیا جج کی ریٹائرمنٹ سے ختم کر دے؟جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر میں بطور جج کوئی جرم کرتا ہوں تو میرے استعفے سے کلین چٹ مل جائے گی؟جسٹس عرفان نے استفسار کیا کہ موجودہ کیس میں جوڈیشل کونسل سابق چیف جسٹس کے خلاف کارروائی نمٹا چکی، اگر کونسل ایک بار رائے دے چکی تو کیا دوبارہ کارروائی کھولی جاسکتی ہے؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کو یرغمال بنا سکتا ہے؟ کیا چیف جسٹس اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں خود شکایت سن سکتا ہے؟

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ ضابطے کے تحت جس جج کے خلاف شکایت ہو وہ خود کو کونسل سے الگ کر لیتا ہے، ججز کے خلاف انکوائری رولز صرف حاضر سروس جج کے خلاف ہیں،جج کا استعفیٰ بدنیتی کی بنیاد پر چیلنج کیا جاسکتا ہے، ججز کی کرپشن پر اینٹی کرپشن یا نیب جیسے اداروں کو کارروائی سے کوئی نہیں روکتا،جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ کوئی ادارہ ججز کے خلاف کارروائی کرے تو کیا انصاف کی فراہمی میں ججز پر خوف کی تلوار نہیں لٹکتی رہے گی؟

    واضح رہے کہ ریٹائر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا اختیار دینے کی طرف اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،وفاق نے کارروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی ہے،اٹارنی جنرل نے شوکت صدیقی کیس کے ساتھ اپیل بھی سننے کی تجویز دے دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے، وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے ،جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے،عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے،عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے،

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    بلاول کا "تیر” چل گیا، پیپلز پارٹی اب تک قومی کی ایک،صوبائی کی 5سیٹوں سے کامیاب

    آٹھ گھنٹے گزر گئے، الیکشن کمیشن نتائج دینے میں ناکام،آصف زرداری اسلام آباد،نواز گھر چلے گئے

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ