Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف 2015 سے دائر غداری کیس سماعت کیلئےمقرر

    سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف 2015 سے دائر غداری کیس سماعت کیلئےمقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کیخلاف کارروائی کیلئے وفاقی حکومت کی اپیل اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کے خلاف 2015 سے دائر غداری کیسز کو سماعت کیلئے مقرر کرلیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق آئندہ عدالتی ہفتے میں مقدمات کی سماعت کیلئے پانچ معمول کے مطابق جبکہ ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بنچ آئندہ ہفتے اہم مقدمات پر سماعت کرے گا،مذکورہ تین رکنی بینچ ایاز صادق کی جانب سے 2015 میں عمران خان کے خلاف دائر انتخابی غداری کیس کی سماعت کرے گا۔

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کیخلاف کارروائی کیلئے وفاقی حکومت کی اپیل کو بھی سماعت کیلئے مقرر کر دیا جس پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ 12 فروری کو سماعت کرے گا، اس کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے ، تین نمبر بنچ جسٹس منصو ر علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہے، چوتھا عدالتی بنچ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل ہے اور پانچواں عدالتی بنچ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہے۔

    انتخابات 2024: ایسے لوگوں کو جتوا یا گیا جن کا حلقے میں نام تک نہیں …

    بھارتی میڈیا کا نواز شریف کی حکومت سازی کے حوالے سے بڑا دعویٰ

    این اے 48 سے جیتنے کے بعد راجہ خرم شہزادنواز ن لیگ میں …

  • بلاول کی انتخابی اہلیت الیکشن سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں چیلنج

    بلاول کی انتخابی اہلیت الیکشن سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں چیلنج

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی انتخابی اہلیت الیکشن سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلاول پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ہیں جس کا انتخابی نشان تلوار ہے، بلاول بھٹو انتخابات میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے ٹکٹ پر تیر کے نشان پر حصہ لے رہے ہیں، کوئی شخص بیک وقت دو جماعتوں کا ممبر نہیں رہ سکتا،شاہ محمد زمان نامی شہری نے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔اپیل میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،اپیل میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ بلاول بھٹو کو تیر کے نشان پر الیکشن لڑنے سے روکا جائے

    واضح رہے کہ بلاول زرداری لاہور کے حلقہ این اے 127 اور لاڑکانہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لاہور میں ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ بلاول کے مقابلے میں ہیں،بلاول نے پاکستان بھر میں پیپلز پارٹی کی بھر پور انتخابی مہم چلائی ہے، این اے 127 میں ن لیگ نے بلاول پر ووٹ خریدنے کا الزام بھی عائد کیا ہے، وہیں پیپلز پارٹی کے دفاتر پر ن لیگی رہنما عطا تارڑ کی جانب سے حملہ بھی کیا گیا، جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے.

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے پر پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست دائر

    بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے پر پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست دائر

    سپریم کورٹ ، تحریک انصاف نے بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی

    تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے انٹرا پارٹی انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کر دی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کرے،انٹراپارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق کروائے گئے، الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں رکھتا، تحریک انصاف کو عام انتخابات سے باہر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد پی ٹی آئی امیدواروں کو دن دیہاڑے اغواء کرتے رہے، کبھی کاغذات جمع کرانے سے روکا گیا تو کبھی تجویز و تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا،الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرے، الیکشن کمیشن ذمہ داران کیخلاف کارروائی کے بجائے بانی پی ٹی آئی کیخلاف جیل جا کر کارروائی کر رہا ہے،بلے کا نشان واپس لینے کا معاملہ پورے سیاق و سابق میں دیکھا جانا چاہیے،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گ

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لے رہے ہیں،

  • ہم ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے،سپریم کورٹ

    ہم ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے،سپریم کورٹ

    پی پی 244 سے امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے لئے دائر اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے سماعت کی ، اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش ہوئے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے اپیل دائر کرنے میں 12 دن کی تاخیر کی، بروقت اپیل دائر ہوتی تو انتخابات کیلئے اجازت مل سکتی تھی، ہم ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے،جسٹس جمال مندو خیل نے اسپیشل سیکرٹری سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے شیڈول اتنا کم مدتی کیوں رکھا ہے؟ الیکشن کمیشن کو علم ہونا چاہیے تھا کہ اپیلیں بھی دائر ہونی ہیں، اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے عدالت میں کہا کہ اس مرحلے پرکاغذات منظورکیے تو حلقے میں انتخابات تاخیرکا شکار ہوسکتے ہیں، بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور کئی اضلاع میں بیلٹ پیپرزکی ترسیل کا عمل جاری ہے، مجموعی طورپر 859 حلقوں کیلئے 26 کروڑ بیلٹ پیپرزچھاپے گئے ہیں، گزشتہ انتخابات میں 850 اور اس مرتبہ 2170 ٹن کاغذ منگوایا گیا ہے، امیدوار زیادہ ہونے کی وجہ سے بیلٹ پیپرزکیلئے 2400 ٹن کاغذ کی ضرورت تھی، کاغذ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بیلٹ پیپرکا سائزچھوٹا کردیا ہے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی پی 224 سے امیدوار کی کاغذات نامزدگی کی منظوری کیلئے دائر اپیل خارج کردی

    حماد اظہر نے عام انتخابات سے دستبردار ی کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے حماد اظہرکے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر اپیل کی پیروی نہیں کرنا چاہتے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں62 ون ایس کا حوالہ کیوں دیا ہے؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح ہےکہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ازخود نہیں ہوتا،اپیل واپس لینے کی وجہ سے حماد اظہرکو فیصلے کا فائدہ نہیں ہوگا، لگتا ہے حماد اظہر سرینڈر نہیں کرنا چاہتے، حماد اظہر کے وکیل نے عدالت سے اپیل واپس لے لی اور سابق وزیر نے انتخابات سے دستبرداری کا بھی اعلان کردیا،حماد اظہر این اے 129 سے آزاد امیدوار تھے

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

    توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا 

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں، سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور عامر میر کے وکیل جہانگیر جدون روسٹرم پر آئے-

    جہانگیر جدون نے کل کا حکمنامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ حکومت سے پوچھا جائے کہ عامر میر کیس میں عدالتی احکامات پرعمل ہوا یا نہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حکومت سے پوچھیں؟ جس پر جہانگیر جدون نے کہا کہ وفاقی حکومت سے پوچھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آرڈر بھی آپ کے خلاف پاس ہوگا، آپ کے موکل کیا ایک وزیر ہیں؟جہانگیر جدون نے کہا کہ جی وہ وزیر ہیں۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    چیف جسٹس نے پوچھا، کیا وہ بطور وزیر بے یارومددگار ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر وہ کون پراسرار ہے جو ملک چلا رہا ہے؟جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ سب کو پتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں مت کریں یہ کورٹ ہے اکھاڑہ نہیں، ہم اب از خود نوٹس نہیں لیں گے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صدر پریس ایسوسی ایشن کہہ رہے ہیں نوٹسز کی فہرست نہیں، ان کو لسٹ دیں یا نا دیں لیکن آ پ کے پاس تو ہوگی ، کیا کل کوئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں سر کوئی پیش نہیں ہوا، میں نے جے آئی ٹی کو بتا دیا تھا کیس چل رہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت کریں گے، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں۔

    گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی معطل

    چیف جسٹس نے صحافیوں کی جانب سے متفرق درخواست دائر نہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تحریری طور پر ہمارے سامنے کچھ نہیں آئے گا ہم آرڈر کیسے جاری کریں، اب سپریم کورٹ میں تین رکنی کمیٹی ہے وہ طے کرتی ہے کہ درخواست آنے کے بعد طے کرے گی، کوئی بندہ اپنا کام کرنے کوتیارنہیں، ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو دیکھ رہے ہیں، اس قانون سے متعلق کیس براہ راست نشرہوا تھا جسے پورے ملک نے دیکھا، ہمیں کوئی کاغذ تو دکھائیں ہم اس کیس میں آگے کیسے بڑھیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ توقع تھی کوئی تحریری درخواست آئے گی، جب تک ججز کمیٹی میں معاملہ نہ چلا جائےعدالت کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی، پہلے عدالت میں درخواست لے کر کارروائی کی تھی، اب قانون کے مطابق سسٹم بن چکا ہے، کمیٹی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، جے آئی ٹی کونوٹیفکشن کہاں ہے؟

    9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگرعدالت ایسے سوموٹولے تو بھی صحافی اعتراض کریں گے، سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تنقید سے اعتراض نہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی پر اعتراض ہے، عدالت قانون کے مطابق ہی چلے گی۔

    حیدر وحید ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ سٹیک ہولڈرز سے مل کر سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق بنائیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ایسا حکم جاری کر سکتی ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے، جوقانون ہے وہ صرف فوجداری کارروائی کیلئے ہے یوٹیوب پر ہتک عزت قانون تو لاگو ہوتا ہے لیکن کوئی ریگولیٹری قانون نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے جب قانون ہی نہیں تو کیا کریں؟ عدالت صرف سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے کی درخواست کر سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کل عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی، باضابطہ درخواست تو آئے ایسے حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے …

    صدر پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن کے باوجود نوٹسز واپس نہیں ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تنقید سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر قائم ہوں، نوٹس واپس کرنے کا طریقہ کار ہے۔

    عدالت نے آج کی سماعت کے حکم نامے میں لکھوایا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق ابصار عالم پر حملے کا ذکر کرنا بھول گئے تھے، عدالت نے ابصارعالم پرحملے کی تحقیقاتی رپورٹ بھی مانگ لی سپریم کورٹ نےپی ایف یوجے کو مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔

    حکم نامہ میں کہا گیا کہ پریس ایسوسی ایشن میڈیا کی آزادی اور موجودہ حالات پر درخواست دائرکرنا چاہتی ہے، عدالت نے پریس ایسوسی ایشن کی درخواست ملنے پر رجسٹرار آفس کو فوری نمبر لگانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ رجسٹرار آفس درخواست ملتے ہی ججز کمیٹی کے سا منے پیش کرے اٹارنی جنرل نے انتخابات تک صحافیوں کو جاری نوٹسز پر کارروائی مؤخر کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور کہا کہ الیکشن کے بعد دوبارہ نوٹسزجاری کئے جائیں گے،بعدا زاں سپریم کورٹ نے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

  • اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد

    اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد

    چیئرمین بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کردی،سردار اختر مینگل کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ، عدالت نے کہا کہ اعتراض کنندہ یاسر احمد نے سرادر اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل دائر کی، ریٹرننگ افسر نے سرادر اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے، الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی منظور کئے، ہائیکورٹ نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ،سپریم کورٹ انتخابی معاملہ کے حقائق سے متعلق کیسز میں مداخلت سے گریز کرتی ہے، اختر مینگل 8 فروری کے عام انتخابات میں امیدوار ہیں، سپریم کورٹ اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد کرتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

    الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر بارے بریفنگ،صحافیوں کا بائیکاٹ،احتجاج

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

    ہزاروں پولنگ سٹیشن اور پولنگ بوتھ کم بنانے سے الیکشن کے دن ووٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا 

  • ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس،عمران خان نے درخواست واپس لے لی

    ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس،عمران خان نے درخواست واپس لے لی

    سپریم کورٹ، سابق وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان، اسد قیصر اور عارف علوی کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہیں،جسٹس اطہر من اللہ بھی پانچ رکنی لارجر بنچ میں شامل ہیں،سابق وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی نے نظر ثانی درخواستیں واپس لے لیں،وکیل سابق وزیراعظم نےکہا کہ ہماری درخواست غیر موثر ہو چکی ہے، عدالت نے درخواستیں غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیں

    سابق اسپیکر اسد قیصر کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیئے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بخاری صاحب آپ اکیلے رہ گئے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ تو کیا میں بھی چلا جاؤں؟ نعیم بخاری کے جواب پر کمرہ عدالت میں قہقہ گونج اٹھا،نعیم بخاری نے کہا کہ لوگ اکثر میری حس مزاح کو غلط سمجھ لیتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نہیں سمجھونگا، نعیم بخاری نے کہا کہ لوگ تو اب مجھے جنازوں پر بھی نہیں بلاتے، کہتے ہیں کہیں مردہ زندہ ہو کر لطیفہ سنانے کا نہ کہہ دے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ اب کیا چاہتے ہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ میں چاہتا ہوں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت مجلس شوری پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی،جسٹس منیب اختر کے سوالات خوش آئند لیکن خوفناک ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ مجھے سوال پوچھ تو لینے دیں آپ پہلے ہی ڈرا رہے ہیں،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات عام نہیں ہوتے وہ محض افسران نہیں ہوتے، جسٹس منصو ر علی شاہ نے کہا کہ وہ قانون دیکھا دیں جس کے تحت اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات دیئے گئے،

    جہاں آئینی خلاف ورزی ہو وہاں سپریم کورٹ پارلیمنٹ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس منصور علی شاہ نے سابق اسپیکرز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ آرٹیکل 69 ٹو سے آگے نہیں بڑھ پا رہے جبکہ جسٹس مندوخیل نے کہا رولنگ ہونا چاہیے تھی کہ تحریک عدم اعتماد پر کارروائی 7 دن کے اندر مکمل ہو،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا یہ غلط فہمی پیدا کی گئی کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے امور میں مداخلت نہیں کر سکتی، جہاں آئینی خلاف ورزی ہو وہاں سپریم کورٹ پارلیمنٹ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،وکیل نعیم بخاری نے کہا آرٹیکل 69کی زیلی شق 2 کے تحت اسپیکر ذاتی اقدام کا جوابدہ نہیں، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا ہم نظرثانی درخواست سن رہے ہیں، یہ نکتہ کسی آزادانہ کیس میں اٹھائیں، تسلی رکھیں ڈپٹی اسپیکر رولنگ فیصلہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی ذات کے خلاف نہیں ہے، سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اسد قیصر اور قاسم سوری کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں خارج کر دیں اور کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ فیصلے کے خلاف نظرثانی کی کوئی بنیاد نہیں بنتی،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس سردار طارق مسعود نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی،بنچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل رہے گا، تین رکنی ججز کمیٹی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا لارجر بنچ تشکیل دے،

    گزشتہ سماعت پر دوران سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    سپریم کورٹ،ایف ائی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،ہراساں کیے جانے والے صحافی کورٹ میں پیش ہوئے،صحافیوں میں عبد القیوم صدیقی ، سہیل رشید، فیاض محمود اور ثاقب بشیر شامل تھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے،سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ صحافی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے،عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے،

    اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور پر تشدد ہوا کیا ان کا پتہ چلا کہ کون لوگ تھے؟کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے کہا کہ جی بالکل میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں، جو ایف آئی آر دی تھی اس میں بھی میں تشدد کرنے والوں نے اپنا تعارف کروایا تھا.اسد طور نے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسد طور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹا الزام لگایا ہے؟ اگر آپ پر دباؤ ہے تو ہم آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسد طور نے کہا کہ میں ایف آئی آر کو اون کر رہا ہوں لیکن اس درخواست میں مجھے غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،کیا اسد طور کا کیس فعال ہے یا سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے؟ اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن میں مجھے ٹریپ کیا گیا تھا، تین سال پرانی درخواست سے خود کو الگ کر رہا ہوں، جو حالیہ اعلامیہ ہے اس سے متفق ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹے الزامات لگائے تھے؟ اسد طور نے کہا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے، اسد طور نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹرم پر بلا لیا ، اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں جب درخواست دائر ہوئی تو سمجھا تھا کہ مطیع اللہ جان بھی ساتھ ہیں،جس انداز میں کمرہ عدالت میں درخواست دی گئی وہ طریقہ کار درست نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس انداز میں درخواست لگی اس سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا،ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے،ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر ہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں، یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے،جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا،

    میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کو جاری ایف آئی اے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اگر تنقید کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں تو وہ واپس لیں، اگر خامیاں تنقید کے ذریعے اجاگر نہیں کریں گے تو میں اپنی اصلاح کیسے کروں گا،پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارا مقدمہ صرف صحافیوں کی حد تک ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تفریق کی بات کر دی،دل کھول کر تنقید کریں،تنقید سے اصلاح ہوتی ہے،فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں،تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے، میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے، سپریم کورٹ بارے تنقید پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تھمب نیل پر جو کچھ لکھاہوتاہے وہ اندر نہیں ہوتا،یہ بہت عجیب ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالم گلوچ الگ بات ہے، ایف آئی اے تنقید کی بناء پر کارروائی نہ کرے،عدلیہ کا مذاق اڑائیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آرٹیکل 19 کا خیال ہے تو کچھ خیال آرٹیکل 14 کا بھی کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فئیر تنقید میں مسئلہ نہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کسی صحافی کے خلاف تنقید پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گالم گلوچ غلط ہے لیکن تنقید پر ممانعت نہیں، اگر کسی صحافی کو صرف تنقید کرنے پر پکڑا جائے تو یہ غلط ہے، مجھے تو گالم گلوچ سے بھی فرق نہیں پڑتا لیکن حدود ہونی چاہئے،صحافی قیوم صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی کیونکہ بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان کو بھی حقوق دلائیں گے جو ہمارے سامنے نہیں ہیں، خود پر تنقید کو ویلکم کرتا ہوں، کچھ باتیں قائد اعظم کی کر لیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہوں نے تو قائد اعظم کا بھی مذاق اڑایا ہے،

    ارشد شریف قتل کیس بھی مقرر کیا جائے، مطیع اللہ جان کی چیف جسٹس سے استدعا
    مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقرر کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں، اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں، صدر سپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا،
    ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے، خواتین کے سکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہاء پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے، ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں،خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اور اپنے ضابطہ اخلاق پر چلتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبر کی تردید کرتی ہے؟ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی
    خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس کو سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پیر کو سماعت کرے گا، سپریم کورٹ نے 2021 میں ازخود نوٹس لیا تھا۔


    قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی اور ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کا نوٹس لے لیتے ہوئے دونوں ایسوسی ایشنز کے صدور کو اپنے چیمبر میں طلب کیا،جس کے بعد میاں عقیل افضل ، عمران وسیم ، فیاض محمود کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی اورچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ صحافیوں سے متعلق کیس پیر کو مقرر کررہا ہوں، آپ کی جو گزارشات ہیں عدالت میں بتائیں۔

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    9 پاکستانی مزدور ایران کے سرحدی علاقے میں قتل

    پیپلز پارٹی کا عوامی معاشی معاہدے کے نام سے انتخابی منشور جاری

    دونوں ایسوسی ایشنز نے ایف آٸی اے کی جانب سے صحافیوں کو نوٹس جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا،حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے ججز کی کردارکشی پر نوٹسز جاری کیے تھے، کورٹ رپورٹرز کی تنظیموں نے ایف آئی اے نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔