Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں، سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور عامر میر کے وکیل جہانگیر جدون روسٹرم پر آئے-

    جہانگیر جدون نے کل کا حکمنامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ حکومت سے پوچھا جائے کہ عامر میر کیس میں عدالتی احکامات پرعمل ہوا یا نہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حکومت سے پوچھیں؟ جس پر جہانگیر جدون نے کہا کہ وفاقی حکومت سے پوچھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آرڈر بھی آپ کے خلاف پاس ہوگا، آپ کے موکل کیا ایک وزیر ہیں؟جہانگیر جدون نے کہا کہ جی وہ وزیر ہیں۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    چیف جسٹس نے پوچھا، کیا وہ بطور وزیر بے یارومددگار ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر وہ کون پراسرار ہے جو ملک چلا رہا ہے؟جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ سب کو پتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں مت کریں یہ کورٹ ہے اکھاڑہ نہیں، ہم اب از خود نوٹس نہیں لیں گے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صدر پریس ایسوسی ایشن کہہ رہے ہیں نوٹسز کی فہرست نہیں، ان کو لسٹ دیں یا نا دیں لیکن آ پ کے پاس تو ہوگی ، کیا کل کوئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں سر کوئی پیش نہیں ہوا، میں نے جے آئی ٹی کو بتا دیا تھا کیس چل رہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت کریں گے، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں۔

    گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی معطل

    چیف جسٹس نے صحافیوں کی جانب سے متفرق درخواست دائر نہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تحریری طور پر ہمارے سامنے کچھ نہیں آئے گا ہم آرڈر کیسے جاری کریں، اب سپریم کورٹ میں تین رکنی کمیٹی ہے وہ طے کرتی ہے کہ درخواست آنے کے بعد طے کرے گی، کوئی بندہ اپنا کام کرنے کوتیارنہیں، ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو دیکھ رہے ہیں، اس قانون سے متعلق کیس براہ راست نشرہوا تھا جسے پورے ملک نے دیکھا، ہمیں کوئی کاغذ تو دکھائیں ہم اس کیس میں آگے کیسے بڑھیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ توقع تھی کوئی تحریری درخواست آئے گی، جب تک ججز کمیٹی میں معاملہ نہ چلا جائےعدالت کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی، پہلے عدالت میں درخواست لے کر کارروائی کی تھی، اب قانون کے مطابق سسٹم بن چکا ہے، کمیٹی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، جے آئی ٹی کونوٹیفکشن کہاں ہے؟

    9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگرعدالت ایسے سوموٹولے تو بھی صحافی اعتراض کریں گے، سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تنقید سے اعتراض نہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی پر اعتراض ہے، عدالت قانون کے مطابق ہی چلے گی۔

    حیدر وحید ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ سٹیک ہولڈرز سے مل کر سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق بنائیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ایسا حکم جاری کر سکتی ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے، جوقانون ہے وہ صرف فوجداری کارروائی کیلئے ہے یوٹیوب پر ہتک عزت قانون تو لاگو ہوتا ہے لیکن کوئی ریگولیٹری قانون نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے جب قانون ہی نہیں تو کیا کریں؟ عدالت صرف سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے کی درخواست کر سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کل عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی، باضابطہ درخواست تو آئے ایسے حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے …

    صدر پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن کے باوجود نوٹسز واپس نہیں ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تنقید سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر قائم ہوں، نوٹس واپس کرنے کا طریقہ کار ہے۔

    عدالت نے آج کی سماعت کے حکم نامے میں لکھوایا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق ابصار عالم پر حملے کا ذکر کرنا بھول گئے تھے، عدالت نے ابصارعالم پرحملے کی تحقیقاتی رپورٹ بھی مانگ لی سپریم کورٹ نےپی ایف یوجے کو مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔

    حکم نامہ میں کہا گیا کہ پریس ایسوسی ایشن میڈیا کی آزادی اور موجودہ حالات پر درخواست دائرکرنا چاہتی ہے، عدالت نے پریس ایسوسی ایشن کی درخواست ملنے پر رجسٹرار آفس کو فوری نمبر لگانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ رجسٹرار آفس درخواست ملتے ہی ججز کمیٹی کے سا منے پیش کرے اٹارنی جنرل نے انتخابات تک صحافیوں کو جاری نوٹسز پر کارروائی مؤخر کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور کہا کہ الیکشن کے بعد دوبارہ نوٹسزجاری کئے جائیں گے،بعدا زاں سپریم کورٹ نے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

  • اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد

    اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد

    چیئرمین بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کردی،سردار اختر مینگل کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ، عدالت نے کہا کہ اعتراض کنندہ یاسر احمد نے سرادر اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل دائر کی، ریٹرننگ افسر نے سرادر اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے، الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی منظور کئے، ہائیکورٹ نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ،سپریم کورٹ انتخابی معاملہ کے حقائق سے متعلق کیسز میں مداخلت سے گریز کرتی ہے، اختر مینگل 8 فروری کے عام انتخابات میں امیدوار ہیں، سپریم کورٹ اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل مسترد کرتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

    الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر بارے بریفنگ،صحافیوں کا بائیکاٹ،احتجاج

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

    ہزاروں پولنگ سٹیشن اور پولنگ بوتھ کم بنانے سے الیکشن کے دن ووٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا 

  • ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس،عمران خان نے درخواست واپس لے لی

    ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس،عمران خان نے درخواست واپس لے لی

    سپریم کورٹ، سابق وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عمران خان، اسد قیصر اور عارف علوی کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہیں،جسٹس اطہر من اللہ بھی پانچ رکنی لارجر بنچ میں شامل ہیں،سابق وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی نے نظر ثانی درخواستیں واپس لے لیں،وکیل سابق وزیراعظم نےکہا کہ ہماری درخواست غیر موثر ہو چکی ہے، عدالت نے درخواستیں غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیں

    سابق اسپیکر اسد قیصر کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیئے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بخاری صاحب آپ اکیلے رہ گئے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ تو کیا میں بھی چلا جاؤں؟ نعیم بخاری کے جواب پر کمرہ عدالت میں قہقہ گونج اٹھا،نعیم بخاری نے کہا کہ لوگ اکثر میری حس مزاح کو غلط سمجھ لیتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نہیں سمجھونگا، نعیم بخاری نے کہا کہ لوگ تو اب مجھے جنازوں پر بھی نہیں بلاتے، کہتے ہیں کہیں مردہ زندہ ہو کر لطیفہ سنانے کا نہ کہہ دے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ اب کیا چاہتے ہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ میں چاہتا ہوں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کا عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت مجلس شوری پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی،جسٹس منیب اختر کے سوالات خوش آئند لیکن خوفناک ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ مجھے سوال پوچھ تو لینے دیں آپ پہلے ہی ڈرا رہے ہیں،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات عام نہیں ہوتے وہ محض افسران نہیں ہوتے، جسٹس منصو ر علی شاہ نے کہا کہ وہ قانون دیکھا دیں جس کے تحت اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات دیئے گئے،

    جہاں آئینی خلاف ورزی ہو وہاں سپریم کورٹ پارلیمنٹ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس منصور علی شاہ نے سابق اسپیکرز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ آرٹیکل 69 ٹو سے آگے نہیں بڑھ پا رہے جبکہ جسٹس مندوخیل نے کہا رولنگ ہونا چاہیے تھی کہ تحریک عدم اعتماد پر کارروائی 7 دن کے اندر مکمل ہو،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا یہ غلط فہمی پیدا کی گئی کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے امور میں مداخلت نہیں کر سکتی، جہاں آئینی خلاف ورزی ہو وہاں سپریم کورٹ پارلیمنٹ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،وکیل نعیم بخاری نے کہا آرٹیکل 69کی زیلی شق 2 کے تحت اسپیکر ذاتی اقدام کا جوابدہ نہیں، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا ہم نظرثانی درخواست سن رہے ہیں، یہ نکتہ کسی آزادانہ کیس میں اٹھائیں، تسلی رکھیں ڈپٹی اسپیکر رولنگ فیصلہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی ذات کے خلاف نہیں ہے، سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اسد قیصر اور قاسم سوری کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں خارج کر دیں اور کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ فیصلے کے خلاف نظرثانی کی کوئی بنیاد نہیں بنتی،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس سردار طارق مسعود نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی،بنچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل رہے گا، تین رکنی ججز کمیٹی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا لارجر بنچ تشکیل دے،

    گزشتہ سماعت پر دوران سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    سپریم کورٹ،ایف ائی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،ہراساں کیے جانے والے صحافی کورٹ میں پیش ہوئے،صحافیوں میں عبد القیوم صدیقی ، سہیل رشید، فیاض محمود اور ثاقب بشیر شامل تھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے،سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ صحافی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے،عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے،

    اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور پر تشدد ہوا کیا ان کا پتہ چلا کہ کون لوگ تھے؟کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے کہا کہ جی بالکل میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں، جو ایف آئی آر دی تھی اس میں بھی میں تشدد کرنے والوں نے اپنا تعارف کروایا تھا.اسد طور نے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسد طور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹا الزام لگایا ہے؟ اگر آپ پر دباؤ ہے تو ہم آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسد طور نے کہا کہ میں ایف آئی آر کو اون کر رہا ہوں لیکن اس درخواست میں مجھے غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،کیا اسد طور کا کیس فعال ہے یا سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے؟ اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن میں مجھے ٹریپ کیا گیا تھا، تین سال پرانی درخواست سے خود کو الگ کر رہا ہوں، جو حالیہ اعلامیہ ہے اس سے متفق ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹے الزامات لگائے تھے؟ اسد طور نے کہا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے، اسد طور نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹرم پر بلا لیا ، اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں جب درخواست دائر ہوئی تو سمجھا تھا کہ مطیع اللہ جان بھی ساتھ ہیں،جس انداز میں کمرہ عدالت میں درخواست دی گئی وہ طریقہ کار درست نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس انداز میں درخواست لگی اس سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا،ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے،ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر ہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں، یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے،جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا،

    میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کو جاری ایف آئی اے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اگر تنقید کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں تو وہ واپس لیں، اگر خامیاں تنقید کے ذریعے اجاگر نہیں کریں گے تو میں اپنی اصلاح کیسے کروں گا،پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارا مقدمہ صرف صحافیوں کی حد تک ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تفریق کی بات کر دی،دل کھول کر تنقید کریں،تنقید سے اصلاح ہوتی ہے،فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں،تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے، میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے، سپریم کورٹ بارے تنقید پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تھمب نیل پر جو کچھ لکھاہوتاہے وہ اندر نہیں ہوتا،یہ بہت عجیب ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالم گلوچ الگ بات ہے، ایف آئی اے تنقید کی بناء پر کارروائی نہ کرے،عدلیہ کا مذاق اڑائیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آرٹیکل 19 کا خیال ہے تو کچھ خیال آرٹیکل 14 کا بھی کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فئیر تنقید میں مسئلہ نہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کسی صحافی کے خلاف تنقید پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گالم گلوچ غلط ہے لیکن تنقید پر ممانعت نہیں، اگر کسی صحافی کو صرف تنقید کرنے پر پکڑا جائے تو یہ غلط ہے، مجھے تو گالم گلوچ سے بھی فرق نہیں پڑتا لیکن حدود ہونی چاہئے،صحافی قیوم صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی کیونکہ بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان کو بھی حقوق دلائیں گے جو ہمارے سامنے نہیں ہیں، خود پر تنقید کو ویلکم کرتا ہوں، کچھ باتیں قائد اعظم کی کر لیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہوں نے تو قائد اعظم کا بھی مذاق اڑایا ہے،

    ارشد شریف قتل کیس بھی مقرر کیا جائے، مطیع اللہ جان کی چیف جسٹس سے استدعا
    مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقرر کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں، اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں، صدر سپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا،
    ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے، خواتین کے سکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہاء پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے، ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں،خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اور اپنے ضابطہ اخلاق پر چلتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبر کی تردید کرتی ہے؟ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی
    خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس کو سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پیر کو سماعت کرے گا، سپریم کورٹ نے 2021 میں ازخود نوٹس لیا تھا۔


    قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی اور ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کا نوٹس لے لیتے ہوئے دونوں ایسوسی ایشنز کے صدور کو اپنے چیمبر میں طلب کیا،جس کے بعد میاں عقیل افضل ، عمران وسیم ، فیاض محمود کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی اورچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ صحافیوں سے متعلق کیس پیر کو مقرر کررہا ہوں، آپ کی جو گزارشات ہیں عدالت میں بتائیں۔

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    9 پاکستانی مزدور ایران کے سرحدی علاقے میں قتل

    پیپلز پارٹی کا عوامی معاشی معاہدے کے نام سے انتخابی منشور جاری

    دونوں ایسوسی ایشنز نے ایف آٸی اے کی جانب سے صحافیوں کو نوٹس جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا،حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے ججز کی کردارکشی پر نوٹسز جاری کیے تھے، کورٹ رپورٹرز کی تنظیموں نے ایف آئی اے نوٹسز واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر

    انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

    آئینی درخواست قاضی محمد سلیم نامی شہری نے سپریم کورٹ میں دائر کی،درخواست میں وفاق پاکستان اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کا حکم دے،عام انتخابات کے فوری بعد پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بحال کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا کوٹہ کا تحفظ کیا جا سکے،عام انتخابات میں ووٹرز کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کے لیے یکساں موقع فراہم کرنا نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں 175 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں، رپورٹس کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 59.3 فیصد ہے، اعدادوشمار کے مطابق 75.3 ملین رجسٹرڈ ووٹرز انپڑھ ہیں، اگر انتخابات کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان بحال ہو جائے تو عدالت پی ٹی آئی کے تمام منتخب آزاد امیدواروں کو "بلے” کے بحال شدہ نشان کے تحت پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت دے، سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی ووٹرز کو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو الاٹ کی گئی مخصوص نشستوں کے ذریعے یکساں طور پر مستفید ہونے کے قابل بنائے گا،یہ عمل انتخابی نشان واپس لینے جیسے مہلک گھاؤ کے بعد پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے مساوی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے میں مدد دے گا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لے رہے ہیں،

  • اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی  بھی طلب

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز اور غلط معلومات کی تشہیر کے خلاف ایف آئی اے حرکت میں آ گئی ہے،115 انکوائریاں باضابطہ طور پر رجسٹر کر دی گئیں،ایف آئی اے نے غلط معلومات پھیلانے والے 65 افراد کو نوٹس بھیج دیے،ایف آئی اے کی تحقیقات اور مذکورہ کارروائی معاملے کی سنجیدگی کو ظاہر کر رہی ہے،ایف آئی اے کے نوٹسز کے حوالے سے سماعت کی تاریخ 30 اور 31 جنوری 2024 مقرر کی گئی ہے،جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ان میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی 47 مشہور شخصیات بھی شامل ہیں

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کی پاداش میں ان 47 اہم افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے،ایف آئی اے کے اقدامات ادارے کی ملکی قوانین کی پاسداری کے عزم کا مظہر ہیں

    ایف آئی اے نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے الزام میں 47 صحافیوں کو طلب کر لیا ،جن صحافیوں کو طلب کیا گیا ہے ان میں مطیع اللہ جان، سیرل المیڈا، صابر شاکر، شاہین صہبائی، عدیل راجہ، ثمر عباس، اسد طور، صدیق جان، اقرار الحسن، ملیحہ ہاشمی، جبران ناصر شامل ہیں، ایف آئی اے نے ان صحافیوں کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں.پروپیگنڈا میں ملوث ملزمان کو 31 جنوری کو ایف آئی اے سائبرکرائم سینٹر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے

    واضح رہے کہ حساس اداروں کے افسران نے عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والوں کے حوالے سے ’پلان آف ایکشن‘ سربراہ جے آئی ٹی کو پیش کیا تھا، سوشل میڈیا پرعدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں جے آئی ٹی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا حساس اداروں کے افسران نے پلان آف ایکشن سربرا ہ جے آئی ٹی کو پیش کیا اس حوالے سے پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مواداپ لوڈ، شیئراورک منٹ کرنے والوں کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت کے ساتھ اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سابق رکن اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں خاتون کی عصمت دری،بنائیں فحش ویڈیو

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    شہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    یونیورسٹی میں فحش ویڈیوز اور مبینہ نشے کی فروخت،عدالت میں درخواست دائر

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نےتحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کمیٹی کے کنوینر ہوں گے،وزارت داخلہ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ہیں ٹیم ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی نشان دہی کرے گی جے آئی ٹی میں آئی بی کا گریڈ 20 کا ایک اور آئی ایس آئی کا ایک افسر بھی شامل ،ٹیم میں اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بھی بطور ممبر شامل ہوں گے جبکہ پی ٹی اے کا نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہے-

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ 13 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک کیس پر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ایک عدلیہ خلاف مہم چلائی گئی۔عدلیہ مخالف مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات داخلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وزرات داخلہ نے 16 جنوری کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔آئین پاکستان آرٹیکل 19 ہمیں آزادی رائے کی حد بھی بتاتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،پانچ سو سے زائد اکاؤنٹس کو چیک گیا ہے،ایف آئی اے سائبر ونگ باریک بینی سے تمام اکاؤنٹس کو دیکھ رہا ہے.

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل منظورکر لی گئی،شوکت بسرا کو قومی اسمبلی کے حلقے 163 سے انتخابات لڑنے کی اجازت مل گئی

    میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، شوکت بسرا کے کاغذات منظور
    کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد شوکت بسرا نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نمبر 804 کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، قیدی نمبر 804 پر اس جیسی 100 ایم این اے شپ قربان، عمران خان دلوں میں بستا ہے، بلا جو نشان ہیں یہ لوگوں کے دلوں میں چلا گیا ہے، میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، میرا مستقبل اس قیدی نمبر 804 کی شکل میں ہے جو کہتا ہے ایاک نعبدو ایاک نستعین، مائیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، صنم جاوید کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے میں اپنی ان بہنوں کو جو جیلوں میں پڑی ہیں سلام پیش کرتا ہوں، یہ فراڈ الیکشن کروا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں استحکام آجائے گا؟ ، آپ ہمیں صرف فیلڈ دے دیں تحریک انصاف کا ووٹر اسے خود لیول کرئے گا،

    سپریم کورٹ، صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،صنم جاوید کو تینوں حلقوں این اے 119, این اے 120 پی پی 150 میں الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صنم جاوید اور شوکت بسرا کے ناموں کو بیلٹ پیپر میں شامل کرنے کا حکم دے دیا.

    وکیل شاہزیب رسول نے کہا کہ صنم جاوید نے 21 دسمبر کو اوتھ کمشنر کی موجودگی میں 22 دسمبر کی تاریخ کا بیان حلفی دیا،
    اوتھ کمشنر نے صنم جاوید کے دستخط کی تصدیق کی ،ریٹرننگ افسر نے کہا کہ 22 دسمبر 2023 کو صنم جاوید سے جیل میں کوئی ملنے نہیں گیا تو کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے ازخود کیسے صنم جاوید کےدستخط کی تصدیق کی؟ وکیل نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے 30 دسمبر کو جیل حکام کو خط لکھا اور 22 دسمبر کو کوئی ملاقاتی نا جانے پر کاغذات مسترد کر دیے،صنم جاوید 10 مئی سے جیل میں ہیں اور ان کے شوہر بھی گرفتار ہیں، جسٹس عرفان نے کہا کہ صنم جاوید نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ انہوں نے22 دسمبر کو دستخط کیے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ہی امیدوار کے پیچھے سپریم کورٹ تک آئی اور پھر کہتے ہیں انفرادی شخص کے خلاف نہیں؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ریٹرننگ افسر ازخود انکوائری کیسے کرا سکتا ہے؟

    پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت
    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ، درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی .عمر اسلم کے نو مئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر کاغزات نامزدگی مسترد کئے گئے تھے، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا دیں کہاں لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج
    دوسری جانب پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار نے دو فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا،درخواست گزار نے دونوں مقدمات کا کاغذات نامزدگی میں بھی ذکر نہیں کیا،ریٹرننگ آفیسر نے بیٹے کی لندن میں موجود جائیدادوں کا پوچھا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر نے میری نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد کر دیئے،درخواست گزار کیخلاف وارث خان تھانے میں دو ایف آئی آرز درج تھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں کیس چلانا ہے تو فیکٹ بتائیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس شخص کیخلاف دو فوجداری ایف آئی آرز ہوئیں وہ پورے شہر میں گھوم رہا ہے،ضمانت کیلئے ٹرائل کورٹ جانے میں آپکو مسئلہ کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ہمارے پاس ایک کیس تھا انہوں نے ضمانت لی ہوئی تھی، آپ درخواست دیتے ہیں تو ہم فورا سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں مگر تیاری تو کر کے آئیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تزکرہ ہی نہیں کیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے اپنے بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سچ بولنے کیلئے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،

    این اے 49 اٹک، طاہر صادق کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما طاہر صادق کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،طاہر صادق نے این اے 49 اٹک سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں ، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ نے طاہر صادق کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہعوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں احتساب عوام نے کرنا ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔

    سپریم کورٹ،صنم جاوید اور شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کی مصروفیت کے باعث کیس 2 بجے تک ملتوی کر دیا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ،اڈیالہ جیل میں قید پرویز الہیٰ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے کاغذات مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پرویز الہی پر ایک پلاٹ ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے،پلاٹ کا اعتراض تب ہی بنتا تھا جب جج کا فیصلہ موجود ہو پلاٹ فلاں شخص کا ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ریٹرننگ افسر کا مکمل آرڈر بھی نہیں ملا،کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض عائد کیا گیا کہ ہر انتخابی حلقے میں انتخابی خرچ کیلئے الگ الگ اکاؤنٹ نہیں کھولے گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز الہیٰ پانچ حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، فیصل صدیقی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پانچ انتخابی حلقوں کیلئے پانچ الگ الگ اکائونٹس کھولے جائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر انتخابی مہم میں حد سے زائد خرچہ ہو تو الیکشن کے انعقاد کے بعد اکاؤنٹس کو دیکھا جاتا ہے، کاغذات نامزدگی وصول کرنے والے دن پولیس نے گھیراؤ کر رکھا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑیں قانون کی بات کریں، وکیل نے کہا کہ ایک اعتراض یہ عائد کیا گیا کہ میں نے پنجاب میں دس مرلہ پلاٹ کی ملکیت چھپائی، اعتراض کیا گیا 20 نومبر 2023کو دس مرلہ پلاٹ خریدا، میرے موکل نے ایسا پلاٹ کبھی خریدا ہی نہیں، اس وقت وہ جیل میں تھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جائیدادیں پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہو امیدوار کے جیتنے سے قبل کتنے اثاثے تھے اور بعد میں کتنے ہوئے، آپ پلاٹ کی ملکیت سے انکار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر ایک ہی وقت میں پرویز الہٰی، مونس الہٰی اور قیصرہ الہٰی کی ان ڈکلیئرڈ جائیداد نکل آئی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ اچانک آپ کی اضافی جائیداد نکل آئی ہے، آپ یہ اضافی جائیداد کسی فلاحی ادارے کو دے دیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نگران حکومت پرویز الٰہی کے کاغذات مسترد کرانے میں ملوث ہے،ریٹرننگ افسر کا کام سہولت پیدا کرنا ہے نہ کہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا،بدقسمتی سے ایک ہی سیاسی جماعت کیساتھ یہ سب ہو رہا ہے،انتخابات کو اتنا مشکل مت بنائیں، آر او کا کام رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں ہوتا، پرویز الہی پر جو اعتراض لگایا گیا اس کا تو بعد میں بھی ازالہ ممکن ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت اگر یہ وضاحت کر دے تو آئندہ ایسے بیوقوفانہ اعتراض نہ لگیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وہ کوئی اور طریقہ نکال لیں گے ،وکیل پرویز الہییٰ نے کہا کہ ہم الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، میرے موکل کو پی پی 32 گجرات کی حد تک الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹوں کو انکے حق دہی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے مخالف امیدوار ارسلان سرور کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ دس مرلہ پلاٹ کے کاغذ تک آپکو کیسے رسائی ملی، وکیل حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ دس مرلہ پلاٹ کا دستاویز پٹواری سے ملی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اِس پٹواری کا نام بتائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں نگران حکومت اس میں ملوث ہے، سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید چوہدری پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،پرویز الہی قومی اسمبلی کی نشستوں سے دستبردار ہوگئے ،سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے اور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے دیا

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت  دیدی

    سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی –

    باغی ٹی وی: دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ کیا بیلٹ پیپرز چھپ چکے ہیں؟حکام الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کیلئے تیار ہیں،وکیل نے کہاکہ ثنا اللہ مستی خیل کا نام ابتدائی لسٹ میں شامل تھا، انتخابی نشان بھی مل چکا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ ثنا اللہ مستی خیل نے کیا جرم کیا ہے تفصیل بتائیں؟کیا دہشتگردی یا اغوا برائے تاوان کا کیس ہے؟یہ کوئی خطرناک آدمی ہیں تو ہم بھی الیکشن نہیں لڑنے دیں گے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ثنا اللہ مستی خیل پر ٹائر جلانے کا کیس ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ ثنااللہ مستی خیل اشتہاری نہیں ضمانت ہو چکی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ہائیکورٹ کو کیا جلدی تھی جو ٹریبونل کا فیصلہ اچانک کالعدم کردیا؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایک ہی دن میں درخواست لگا کر فیصلہ کردیا گیا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کو ثنااللہ مستی خیل کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے کا حکم دے دیا-