Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر

    انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

    آئینی درخواست قاضی محمد سلیم نامی شہری نے سپریم کورٹ میں دائر کی،درخواست میں وفاق پاکستان اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کا حکم دے،عام انتخابات کے فوری بعد پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بحال کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا کوٹہ کا تحفظ کیا جا سکے،عام انتخابات میں ووٹرز کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کے لیے یکساں موقع فراہم کرنا نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں 175 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں، رپورٹس کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 59.3 فیصد ہے، اعدادوشمار کے مطابق 75.3 ملین رجسٹرڈ ووٹرز انپڑھ ہیں، اگر انتخابات کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو بلے کا نشان بحال ہو جائے تو عدالت پی ٹی آئی کے تمام منتخب آزاد امیدواروں کو "بلے” کے بحال شدہ نشان کے تحت پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت دے، سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی ووٹرز کو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو الاٹ کی گئی مخصوص نشستوں کے ذریعے یکساں طور پر مستفید ہونے کے قابل بنائے گا،یہ عمل انتخابی نشان واپس لینے جیسے مہلک گھاؤ کے بعد پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے مساوی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے میں مدد دے گا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لے رہے ہیں،

  • اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی  بھی طلب

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز اور غلط معلومات کی تشہیر کے خلاف ایف آئی اے حرکت میں آ گئی ہے،115 انکوائریاں باضابطہ طور پر رجسٹر کر دی گئیں،ایف آئی اے نے غلط معلومات پھیلانے والے 65 افراد کو نوٹس بھیج دیے،ایف آئی اے کی تحقیقات اور مذکورہ کارروائی معاملے کی سنجیدگی کو ظاہر کر رہی ہے،ایف آئی اے کے نوٹسز کے حوالے سے سماعت کی تاریخ 30 اور 31 جنوری 2024 مقرر کی گئی ہے،جن افراد کو نوٹس بھیجے گئے ان میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی 47 مشہور شخصیات بھی شامل ہیں

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کی پاداش میں ان 47 اہم افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے،ایف آئی اے کے اقدامات ادارے کی ملکی قوانین کی پاسداری کے عزم کا مظہر ہیں

    ایف آئی اے نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے الزام میں 47 صحافیوں کو طلب کر لیا ،جن صحافیوں کو طلب کیا گیا ہے ان میں مطیع اللہ جان، سیرل المیڈا، صابر شاکر، شاہین صہبائی، عدیل راجہ، ثمر عباس، اسد طور، صدیق جان، اقرار الحسن، ملیحہ ہاشمی، جبران ناصر شامل ہیں، ایف آئی اے نے ان صحافیوں کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں.پروپیگنڈا میں ملوث ملزمان کو 31 جنوری کو ایف آئی اے سائبرکرائم سینٹر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے

    واضح رہے کہ حساس اداروں کے افسران نے عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والوں کے حوالے سے ’پلان آف ایکشن‘ سربراہ جے آئی ٹی کو پیش کیا تھا، سوشل میڈیا پرعدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں جے آئی ٹی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا حساس اداروں کے افسران نے پلان آف ایکشن سربرا ہ جے آئی ٹی کو پیش کیا اس حوالے سے پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مواداپ لوڈ، شیئراورک منٹ کرنے والوں کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت کے ساتھ اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سابق رکن اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں خاتون کی عصمت دری،بنائیں فحش ویڈیو

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    شہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    یونیورسٹی میں فحش ویڈیوز اور مبینہ نشے کی فروخت،عدالت میں درخواست دائر

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نےتحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کمیٹی کے کنوینر ہوں گے،وزارت داخلہ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ہیں ٹیم ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی نشان دہی کرے گی جے آئی ٹی میں آئی بی کا گریڈ 20 کا ایک اور آئی ایس آئی کا ایک افسر بھی شامل ،ٹیم میں اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بھی بطور ممبر شامل ہوں گے جبکہ پی ٹی اے کا نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہے-

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ 13 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک کیس پر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ایک عدلیہ خلاف مہم چلائی گئی۔عدلیہ مخالف مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات داخلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وزرات داخلہ نے 16 جنوری کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔آئین پاکستان آرٹیکل 19 ہمیں آزادی رائے کی حد بھی بتاتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،پانچ سو سے زائد اکاؤنٹس کو چیک گیا ہے،ایف آئی اے سائبر ونگ باریک بینی سے تمام اکاؤنٹس کو دیکھ رہا ہے.

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل منظورکر لی گئی،شوکت بسرا کو قومی اسمبلی کے حلقے 163 سے انتخابات لڑنے کی اجازت مل گئی

    میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، شوکت بسرا کے کاغذات منظور
    کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد شوکت بسرا نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نمبر 804 کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، قیدی نمبر 804 پر اس جیسی 100 ایم این اے شپ قربان، عمران خان دلوں میں بستا ہے، بلا جو نشان ہیں یہ لوگوں کے دلوں میں چلا گیا ہے، میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، میرا مستقبل اس قیدی نمبر 804 کی شکل میں ہے جو کہتا ہے ایاک نعبدو ایاک نستعین، مائیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، صنم جاوید کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے میں اپنی ان بہنوں کو جو جیلوں میں پڑی ہیں سلام پیش کرتا ہوں، یہ فراڈ الیکشن کروا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں استحکام آجائے گا؟ ، آپ ہمیں صرف فیلڈ دے دیں تحریک انصاف کا ووٹر اسے خود لیول کرئے گا،

    سپریم کورٹ، صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،صنم جاوید کو تینوں حلقوں این اے 119, این اے 120 پی پی 150 میں الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صنم جاوید اور شوکت بسرا کے ناموں کو بیلٹ پیپر میں شامل کرنے کا حکم دے دیا.

    وکیل شاہزیب رسول نے کہا کہ صنم جاوید نے 21 دسمبر کو اوتھ کمشنر کی موجودگی میں 22 دسمبر کی تاریخ کا بیان حلفی دیا،
    اوتھ کمشنر نے صنم جاوید کے دستخط کی تصدیق کی ،ریٹرننگ افسر نے کہا کہ 22 دسمبر 2023 کو صنم جاوید سے جیل میں کوئی ملنے نہیں گیا تو کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے ازخود کیسے صنم جاوید کےدستخط کی تصدیق کی؟ وکیل نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے 30 دسمبر کو جیل حکام کو خط لکھا اور 22 دسمبر کو کوئی ملاقاتی نا جانے پر کاغذات مسترد کر دیے،صنم جاوید 10 مئی سے جیل میں ہیں اور ان کے شوہر بھی گرفتار ہیں، جسٹس عرفان نے کہا کہ صنم جاوید نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ انہوں نے22 دسمبر کو دستخط کیے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ہی امیدوار کے پیچھے سپریم کورٹ تک آئی اور پھر کہتے ہیں انفرادی شخص کے خلاف نہیں؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ریٹرننگ افسر ازخود انکوائری کیسے کرا سکتا ہے؟

    پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت
    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ، درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی .عمر اسلم کے نو مئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر کاغزات نامزدگی مسترد کئے گئے تھے، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا دیں کہاں لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج
    دوسری جانب پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار نے دو فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا،درخواست گزار نے دونوں مقدمات کا کاغذات نامزدگی میں بھی ذکر نہیں کیا،ریٹرننگ آفیسر نے بیٹے کی لندن میں موجود جائیدادوں کا پوچھا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر نے میری نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد کر دیئے،درخواست گزار کیخلاف وارث خان تھانے میں دو ایف آئی آرز درج تھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں کیس چلانا ہے تو فیکٹ بتائیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس شخص کیخلاف دو فوجداری ایف آئی آرز ہوئیں وہ پورے شہر میں گھوم رہا ہے،ضمانت کیلئے ٹرائل کورٹ جانے میں آپکو مسئلہ کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ہمارے پاس ایک کیس تھا انہوں نے ضمانت لی ہوئی تھی، آپ درخواست دیتے ہیں تو ہم فورا سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں مگر تیاری تو کر کے آئیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تزکرہ ہی نہیں کیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے اپنے بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سچ بولنے کیلئے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،

    این اے 49 اٹک، طاہر صادق کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما طاہر صادق کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،طاہر صادق نے این اے 49 اٹک سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں ، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ نے طاہر صادق کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہعوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں احتساب عوام نے کرنا ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔

    سپریم کورٹ،صنم جاوید اور شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کی مصروفیت کے باعث کیس 2 بجے تک ملتوی کر دیا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ،اڈیالہ جیل میں قید پرویز الہیٰ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے کاغذات مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پرویز الہی پر ایک پلاٹ ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے،پلاٹ کا اعتراض تب ہی بنتا تھا جب جج کا فیصلہ موجود ہو پلاٹ فلاں شخص کا ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ریٹرننگ افسر کا مکمل آرڈر بھی نہیں ملا،کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض عائد کیا گیا کہ ہر انتخابی حلقے میں انتخابی خرچ کیلئے الگ الگ اکاؤنٹ نہیں کھولے گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز الہیٰ پانچ حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، فیصل صدیقی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پانچ انتخابی حلقوں کیلئے پانچ الگ الگ اکائونٹس کھولے جائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر انتخابی مہم میں حد سے زائد خرچہ ہو تو الیکشن کے انعقاد کے بعد اکاؤنٹس کو دیکھا جاتا ہے، کاغذات نامزدگی وصول کرنے والے دن پولیس نے گھیراؤ کر رکھا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑیں قانون کی بات کریں، وکیل نے کہا کہ ایک اعتراض یہ عائد کیا گیا کہ میں نے پنجاب میں دس مرلہ پلاٹ کی ملکیت چھپائی، اعتراض کیا گیا 20 نومبر 2023کو دس مرلہ پلاٹ خریدا، میرے موکل نے ایسا پلاٹ کبھی خریدا ہی نہیں، اس وقت وہ جیل میں تھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جائیدادیں پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہو امیدوار کے جیتنے سے قبل کتنے اثاثے تھے اور بعد میں کتنے ہوئے، آپ پلاٹ کی ملکیت سے انکار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر ایک ہی وقت میں پرویز الہٰی، مونس الہٰی اور قیصرہ الہٰی کی ان ڈکلیئرڈ جائیداد نکل آئی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ اچانک آپ کی اضافی جائیداد نکل آئی ہے، آپ یہ اضافی جائیداد کسی فلاحی ادارے کو دے دیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نگران حکومت پرویز الٰہی کے کاغذات مسترد کرانے میں ملوث ہے،ریٹرننگ افسر کا کام سہولت پیدا کرنا ہے نہ کہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا،بدقسمتی سے ایک ہی سیاسی جماعت کیساتھ یہ سب ہو رہا ہے،انتخابات کو اتنا مشکل مت بنائیں، آر او کا کام رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں ہوتا، پرویز الہی پر جو اعتراض لگایا گیا اس کا تو بعد میں بھی ازالہ ممکن ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت اگر یہ وضاحت کر دے تو آئندہ ایسے بیوقوفانہ اعتراض نہ لگیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وہ کوئی اور طریقہ نکال لیں گے ،وکیل پرویز الہییٰ نے کہا کہ ہم الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، میرے موکل کو پی پی 32 گجرات کی حد تک الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹوں کو انکے حق دہی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے مخالف امیدوار ارسلان سرور کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ دس مرلہ پلاٹ کے کاغذ تک آپکو کیسے رسائی ملی، وکیل حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ دس مرلہ پلاٹ کا دستاویز پٹواری سے ملی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اِس پٹواری کا نام بتائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں نگران حکومت اس میں ملوث ہے، سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید چوہدری پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،پرویز الہی قومی اسمبلی کی نشستوں سے دستبردار ہوگئے ،سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے اور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے دیا

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت  دیدی

    سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی –

    باغی ٹی وی: دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ کیا بیلٹ پیپرز چھپ چکے ہیں؟حکام الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کیلئے تیار ہیں،وکیل نے کہاکہ ثنا اللہ مستی خیل کا نام ابتدائی لسٹ میں شامل تھا، انتخابی نشان بھی مل چکا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ ثنا اللہ مستی خیل نے کیا جرم کیا ہے تفصیل بتائیں؟کیا دہشتگردی یا اغوا برائے تاوان کا کیس ہے؟یہ کوئی خطرناک آدمی ہیں تو ہم بھی الیکشن نہیں لڑنے دیں گے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ثنا اللہ مستی خیل پر ٹائر جلانے کا کیس ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ ثنااللہ مستی خیل اشتہاری نہیں ضمانت ہو چکی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ہائیکورٹ کو کیا جلدی تھی جو ٹریبونل کا فیصلہ اچانک کالعدم کردیا؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایک ہی دن میں درخواست لگا کر فیصلہ کردیا گیا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کو ثنااللہ مستی خیل کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے کا حکم دے دیا-

  • پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    سپریم کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار عبدالحفیظ لونی کو الیکشن لڑنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 سے انتحابات میں حصہ لینے سے متعلق کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ نے جے یو آئی امیدوار عبدالحفیظ کی اپیل مسترد کردی اور الیکشن ٹربیونل اور بلوچستان ہائیکورٹ کا کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا،وکیل نے عدالت میں کہا کہ عبدالحفیظ لونی کی نیب کیس میں سزا پوری ہوچکی، الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا مؤکل صرف 2 سال اور 2 ماہ جیل میں رہا، نیب کورٹ نے 10 سال کی سزا اور 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا،آٹھ سال تک آپ کا مؤکل پے رول پر جیل سے باہر رہا، آپ کے مؤکل نے 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہیں کیا، ایسے لوگ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی نہ کریں، الیکشن نہ لڑیں گھر بیٹھیں، الیکشن میں آپ کا خرچہ ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہ کرنے پر اس کی جائیداد ضبط ہونی چاہیے

  • کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ میں کی اپیل

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ میں کی اپیل

    سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،پرویز الٰہی نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،اپیل میں الیکشن کمیشن، الیکشن ٹربیونل کو فریق بنایا گیا ہے،اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا 13 جنوری 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، امیدوار محمد سلیم کے اعتراضات کی بنیاد پر میرے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے، مجھ پر اعتراض اٹھایا گیا کہ لاہور ماڈرن آٹا ملز میں میرے شیئر ہیں، جن فلور ملز کا الزام لگایا گیا وہ ناصرف غیر فعال ہے بلکہ اس کے نام پر کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں کھولا گیا، اس فلور مل کے شیئر میں نے کبھی نہیں خریدے، غیر فعال فلور مل اثاثہ نہیں ہوتی، اس فلور مل کی بنیاد پر مجھے الیکشن لڑنے سے روکا نہیں جا سکتا،

    درخواست میں کہا گیا کہ یہ اصول طے شدہ ہے کہ ہر ظاہر نہ کرنے والے اثاثے پر نااہلی نہیں ہو سکتی،کسی اثاثے کو ظاہر نہ کرنے کے پیچھے اس کی نیت کا جانچنا ضروری ہے، جو شیئر میرے ساتھ منسوب کیے جا رہے ہیں ان کی کل مالیت 24850 روپے بنتی ہے،میں نے اپنے کل اثاثے 175 ملین روپے ظاہر کیے ہوئے ہیں،ان اثاثوں میں 57 ملین روپے سے زائد نقد رقم بھی ظاہر کی گئی ہے،میرے لیے اتنے معمولی شیئر نہ ظاہر کرنا بدنیتی قرار نہیں دی جا سکتی، یہ اعتراض بھی لگایا گیا کہ میں نے اسلحہ کے 7 لائسنس ظاہر نہیں کیے،کاغذات نامزدگی میں اسلحہ لائسنس ظاہر کرنے کا کوئی کالم ہی نہیں ہے،

  • وفاق نے کاروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    وفاق نے کاروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    ریٹائر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا اختیار دینے کی طرف اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،وفاق نے کارروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    اٹارنی جنرل نے شوکت صدیقی کیس کے ساتھ اپیل بھی سننے کی تجویز دے دی،اٹارنی جنرل نے اپیل دائر کرنے سے عدالت کو آگاہ کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ توقع ہے ہماری اپیل پر آج یا کل نمبر لگ جائے گا،عافیہ شیربانو کیس فیصلہ کالعدم ہوجائے تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے، شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے، وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے ،جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے،عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے،عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں،خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور عرفان رامے کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نے کوئی جواب جمع کروایا ہے؟ کیا آپ نے اپنے اوپر لگے الزامات مانے ہیں ہیں مسترد کئے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے سابق رجسٹرار کو بھی نوٹس جاری کیا تھا،

    وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ میں سابق چیف جسٹس انوار کانسی کی نمائندگی کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے استفسارکیا کہ خان صاحب اب اس کیس کو کیسے چلائیں ؟ حامد خان نے کہا کہ میرا کیس واضح ہے کہ جوڈیشل کونسل کو انکوائری کرنی چاہیے، جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے دوران ہمیں ہمارے گواہان پیش کرنے کی اجازت دی جائے،فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہئے تھی، انکوائری میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا انکوائری کی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر تسلیم کر لی تھی تو انکوائری نہیں کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ چکے حقائق کی انکوائری نہیں ہوئی،

    کیل حامد خان کی شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس حل کیا ہے ؟ حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کالعدم کر دیں تو پھر بغیر انکوائری یہ سمجھا جائے گا آپ کے الزامات درست ہیں ،حامد خان نے کہا کہ پھر آپ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریمانڈ بیک کر دیں ، وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی ساکھ کا معاملہ ہے، ہم ایک سکے کو ہوا میں پھینک کر فیصلہ نہیں کر سکتے ۔اگر شوکت صدیقی کے الزامات سچے نہیں تو کیا ہوگا؟شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں،کون سچا ہے کون نہیں یہ پتا لگانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟انکوائری میں اگر ثابت ہو آپ کے الزامات درست ہیں کیا پھر بھی عہدے ہٹایا جا سکتا ہے؟ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتایا جائے،اگر انکوائری کے بعد الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا،جن پر الزامات لگایا گیا ہم نے انکو فریق بنانے کا کہا،اب سچ کی کھوج کون لگائے گا؟ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، دوسری طرف سے یہ بات ہو سکتی ہے کہ الزامات کو پرکھا ہی نہیں گیا،

    مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آگے کیسے بڑھیں دونوں فریقین میں سے کوئی سچ سامنے نہیں لارہا،پوری قوم کی نظریں ہم پر ہیں ،یہاں آئینی اداروں کی تکریم کا سوال ہے،ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ہم کیا حکمنامہ جاری کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر الزامات درست بھی ہیں تو کیا شوکت عزیز صدیقی کا بطور جج طریقہ کار مناسب تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر بھی دو طرح کی ہوتی ہیں،جج پر تقریر کرنے پر پابندی نہیں ہے، ایسا ہوتا تو بار میں تقاریر پر کئی ججز فارغ ہوجاتے،مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،برطانیہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکہ میں سپریم کورٹ ججز مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں،کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟بلاوجہ الزام لگانا کسی حکومت کے ماتحت ادارے پر بھی اچھی بات نہیں، جس پر الزام لگایا گیا میں اسے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کے ماتحت ادارہ کہوں گا،

    شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس آئینی طور پر ریمانڈ ہوسکتا ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس واپس نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی ریٹائر ہوچکے، بطور جج بحال نہیں ہوسکتے،سپریم جوڈیشل کونسل اب شوکت عزیز صدیقی کا معاملہ نہیں دیکھ سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم ہوئی تو الزامات درست تصور ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ فیض حمید پر تقریر میں کوئی الزام لگایا گیا نہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے، جوڈیشل کونسل نے کہا عزیز صدیقی نے عدلیہ کو بے توقیر کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کی بے توقیری کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو پبلک میں جا کر تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو عوامی اور سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے شہرت حاصل کرنے کیلئے تو تقریر نہیں کی ہوگی،

    تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں،چیف جسٹس
    وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پوری انکوائری کالعدم قرار دیکر معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ ایسا کر سکتی ہے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کونسل نے مکمل انکوائری ہی نہیں کی، وکیل فیض حمید نے کہا کہ معاملہ دوبارہ کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج مدت بھی ختم ہو چکی، جو الزامات لگائے گئے وہ باتیں نہ کونسل کے جوابات میں کہی گئیں نہ ہی تقریر میں آئیں، شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا،تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں،

    عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان چیف جسٹس کے طلب کرنے پر کمرہ عدالت پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی چیلنج نہیں ہوسکتی،اگر عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا گیا،سوال یہی ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی اپیل منظور ہوجائے تو نتائج کیا ہونگے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کیخلاف ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ پہلے شکایت آئے اور بغیر انکوائری برطرفی کی سفارش ہو تو کیا ہوگا؟کیا جج کے پاس اپنی صفائی دینے کیلئے کوئی فورم نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے کو طے کرنے کی ضرورت ہے کہ جوڈیشل کونسل جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کیس سن سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی،جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی بغیر تحقیقات کیے کسی کو ہوا میں اڑا دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے،

    جسٹس ر انور کاسی کے وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا، عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے، حامد خان نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہئے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے، 1956 اور 1962 کے آئین میں صدارتی ریفرنس کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جا سکتا تھا،1973 کے آئین میں بھی پہلے یہی شرط تھی ،2005 میں پہلی بار آئین میں صدارتی ریفرنس کے علاوہ طریقہ کار متعارف کرایاگیا،

    جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا،کیا جب کونسل ازخود کارروائی کرے تو بھی انکوائری کرنا ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کونسل نے خود کیسے کارروائی کا آغاز کیا ہمیں رجسٹرار آفس کا نوٹ دکھائیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیکرٹری کونسل کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کونسل نے ہی سیکرٹری کونسل کو کہا ہو، کونسل میں کتنی مرتبہ کیس لگا،حامد خان نے کہا کہ صرف ایک مرتبہ کیس لگا جس میں شوکت صدیقی کو بلایا گیا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے،شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں انکوائری لازم ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیخلاف شکایت کس نے کی یا رجسٹرار نے خود سب کچھ کونسل کو بھیجا،رجسٹرار کس حیثیت میں جج کے خلاف کونسل کو نوٹ لکھ سکتا ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ جب شوکت صدیقی کے الزامات آئے تو جسٹس ر انور کاسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری تھی،شوکت صدیقی کے الزامات مسترد کرنے پر انور کانسی کو بری کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب ہم سپریم جوڈیشل کونسل پر ایسے انگلیاں نہیں اٹھائیں گے،

    سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ نہیں ہے،ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کیخلاف ریفرنس کی بنیاد تقریر ہے، آپ اس تقریر کے متن سے انکار نہیں کر رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں،ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے، سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نا ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے،

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی ، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط،آپ پر الزام تھا کہ پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا، آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا،

    کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟ چیف جسٹس
    سندھ بار کے وکیل صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں شوکت صدیقی کے الزامات پر الگ سے انکوائری ہوسکتی ہے، اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کالعدم شدہ فیصلہ بحال ہو جائے گا؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو شوکت صدیقی کیخلاف فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بغیر سابق جج کیخلاف فوجداری کارروائی کیسے ممکن ہے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہججز قانون سے بالاتر نہیں ہوتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کوئی بھی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتی ہے؟ کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟مجھے تو یہ دلیل سمجھ نہیں آ رہی، کچھ آگے بڑھنے والی بات کریں، مناسب ہوگا اپنے نکات تحریری طور پر دیں،

    کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟ چیف جسٹس
    جسٹس عرفان سعادت خان نےکہا کہ کیا شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اس نکتے پر عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی گئی، یہ تو سب کہ رہے ہیں کہ انکوائری نہیں ہوئی، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اگر تقریر حقائق کے خلاف تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے، اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کر سکتی ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تین کے تحت معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم گواہان کے بیانات اور ان پر جرح کریں؟ صلاح الدین نے کہا کہ ہائیکورٹ بھی آرٹیکل 199 کے تحت یہ اختیار استعمال کرتی ہے تو سپریم کورٹ بھی کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے یا احساسات نہیں قانونی معاونت درکار ہے، آپ نے 184 تھری کی درخواست دائر کی تو صرف جج کی پنشن بحالی کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک نکتے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انکوائری کیوں نہیں ہوئی تھی، ہم پرانے کورس کو درست کر رہے ہیں،اگر آپ ایک جج کی ذاتی حثیت میں پنشن بحالی چاہتے ہیں تو پھر آپ کی 184 تھری کی درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ کی درخواست سے مفاد عامہ کا کیا معاملہ طے ہو گا؟کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟

    ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،چیف جسٹس
    حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اصول طے کر چکی ہے کہ جج کو مکمل انکوائری کا موقع ملنا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 10اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، کسی نائب قاصد کو بھی ہٹانے کیلئے پورا طریقہ کار طے شدہ ہے، ہم بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتے،انکوائری کو نظر انداز کرکے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کو ایک لائن کھینچنی ہے، سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان فرق کی لکیر کھینچی ہے،اداروں کی تضحیک کا سوال ہے، سوال یہ ہے کہ جج نے جو کہا سچ ہے یا سچ نہیں ہے، ملاقاتوں کی نفی کی گئی ہے،ہم ہوا میں طے نہیں کر سکتے، ہوا میں طے نہیں کر سکتے کون سچ کہہ رہا ہے کون سچ نہیں کہہ رہا،ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،عوام کو سچ جاننے کا مکمل حق ہے، یہ عوامی معاملہ ہے، کیا ہم کونسل کو بھیج سکتے ہیں یا نہیں سوال یہ بھی اہم ہے، ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، اگر ضرورت سمجھی تو کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر بھی کر سکتے ہیں،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری نااہلی کیس میں طلب

    سپریم کورٹ، قاسم سوری نااہلی کیس میں طلب

    سپریم کورٹ میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے قاسم سوری کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ نے قاسم سوری کو انتخابی دھاندلی کیس میں طلب کر لیا ، وکیل قاسم سوری نے کہا کہ اسمبلی کی مدت مکمل ہوچکی اپیل ان غیرموثر ہے، وکیل لشکری رئیسانی نے کہا کہ ٹربیونل نے قاسم سوری سے مراعات واپس لینے کا حکم دیا تھا، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ قاسم سوری نے 22 اپریل کو استعفی دے دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکم امتناع لیکر مزے کرتے رہے، پھر مستعفی ہوکر کہہ دیا اپیل غیرموثر ہوگئی،

    کیوں نہ قاسم سوری کےخلاف سنگین غداری کی کارروائی کی جائے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نعیم بخاری سے سوال کیا کہ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟ اگرآپ اتفاق کرتے ہیں توبلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا، نعیم بخاری نے عدالت میں کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے کہا تھاکہ قاسم سوری نے کوئی کرپٹ پریکٹس نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ قاسم سوری نے استعفیٰ کب دیا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ قاسم سوری نے 16 اپریل 2022 کو استعفیٰ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ جب آپ نے اسمبلی توڑی تب بھی اسٹے پر تھے ناں؟ قاسم سوری نے غیرقانونی طور پر اسمبلی توڑی، قاسم سوری کیلئے5 رکنی بینچ کے فیصلے میں آرٹیکل6 کے تحت سنگین غداری کی کارروائی کی تجویزکی گئی، کیوں نہ قاسم سوری کےخلاف سنگین غداری کی کارروائی کی جائے، جس کسی نے بھی آئین کے خلاف ورزی کی اس کونتائج کا سامنا کرنا ہوگا، سپریم کورٹ کے اندرجو ہاتھ گھس گئے ہیں کہ کونسے کیس مقرر ہونے ہیں کونسے روکنے ہیں یہ سلسلہ اب ختم ہوگا، اگر سپریم کورٹ میں کیسزکے تقرر میں ہیرپھیر ہوتی رہی توپرانے معاملات بھی درست کریں گے، اب مزید سپریم کورٹ کی سازباز نہیں ہوگی، سپریم کورٹ کی تباہی میری،آپ کی اورعوام کی تباہی ہے، یہ صرف میرا ادارہ نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کے اندر سے ہیراپھیری ہوتی رہی، کبھی اسٹیبلشمنٹ آجاتی ہے کبھی کوئی اور، اب یہ سلسلہ نہیں چلے گا،چیف جسٹس
    نعیم بخاری نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے خفا ہورہے ہیں یا سسٹم سے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ ہم اعتراف کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اندر سے ہیراپھیری ہوتی رہی، قاسم سوری بھی غلطی تسلیم کریں، سسٹم سے خفا ہوں آپ سے نہیں اوراعتراف کررہا ہوں کہ ہیرا پھیری ہوتی ہے، آپ بھی اعتراف کریں کہ ہیرا پھیری کرتے رہے ہیں، کبھی اسٹیبلشمنٹ آجاتی ہے کبھی کوئی اور، اب یہ سلسلہ نہیں چلے گا، قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہونے دی، ان کا اقدام سپریم کورٹ کے 5 ججز نے غلط قرار دیا، قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے، ان پر کیوں نہ آئینی شکنی کی کارروائی کا حکم دیا جائے، قاسم سوری کو طلب کرکے آئینی خلاف ورزی کا پوچھیں گے۔

    قاسم سوری کو اپنے دستخط کے ساتھ خود جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی،سپریم کورٹ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے بھی جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سوری نے حکم امتناعی لے کر پوری اسمبلی مدت کو انجوائے کیا ,اب کہہ رہے ہیں اسمبلی ختم کیس غیر موثر ہوگیا, کیا اپ نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کو نہ لگوانے کیلئے کوئی حربہ استعمال کیا ؟سپریم کورٹ نے قاسم سوری کا کیس مقرر نہ ہونے اور اسٹے برقرار رہنے پر رجسٹرار کو نوٹس کر دیا،سپریم کورٹ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کر لیا،عدالت نے قاسم خان سوری کے حریف لشکری رئیسانی کو بھی نوٹس جاری کر دیا،رجسٹرار آفس کو تین ہفتوں میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی،کیس کی سماعت ایک ماہ بعد تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • فیض آباد دھرنا کیس،انکوائری کمیشن اپنا کام  مکمل کرے،چیف جسٹس

    فیض آباد دھرنا کیس،انکوائری کمیشن اپنا کام مکمل کرے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز بڑھا دیئے،انکوائری کمیشن کو ایک ماہ کی توسیع دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ے کہا کہ انکوائری کمیشن کو دیکھنا تو حکومت کا کام ہے،کب تک کمیشن کو وقت دیا گیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 14 فروری تک انکوائری کمیشن کو توسیع دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے کمیشن اپنا کام مکمل کرے،عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا، سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی ہے،

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس