Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آپ  اعتبار نہیں کرتے،ریلیف بھی مانگتے ہیں،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ

    آپ اعتبار نہیں کرتے،ریلیف بھی مانگتے ہیں،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آ گئے

    لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ نااہلی کیخلاف درخواست مقرر کرنے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئےکہا کہ لطیف کھوسہ صاحب آپ باہر جاکر الزامات لگاتے ہیں،ایک طرف آپ عدلیہ پر اعتبار نہیں کرتے دوسری طرف ریلیف بھی مانگتے ہیں،جلد سماعت کی درخواست دائر کر دیں،قانون کے مطابق جو ریلیف ہوگا وہ دیں گے،چیف جسٹس اور لطیف کھوسہ کا مکالمہ ملازمت سے متعلق کیس کے دوران ہوا

    واضح رہے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے لطیف کھوسہ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست واپس لے لی تھی،لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا تھا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ، مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپکی عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے، آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں آپ احکامات دے سکتے ہیں، ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا، آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے ،

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل 

    رؤف حسن بانی پی ٹی آئی مخالف صحافیوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

  • پی ٹی آئی کی چیف جسٹس پر تنقید،ٔپاکستان،سپریم کورٹ بار میدان میں آ گئیں

    پی ٹی آئی کی چیف جسٹس پر تنقید،ٔپاکستان،سپریم کورٹ بار میدان میں آ گئیں

    پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کے نمائندگان نے موجودہ ملکی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی سے نشان واپس لے لیا گیا،ہمیشہ پاکستان میں جمہوریت کو آمریت نے دبایا ہے،جو طاقتیں پی ٹی آئی کو لائی تھیں وہی پی ٹی آئی کو واپس لے گئیں،پی ٹی آئی کا سربراہ جمہوری نہیں تھا تو اسے تحریک عدم اعتماد سے گھر بھیجا گیا،سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خلا ہے تو دیکھا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم ہے تو بتائیں، سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سینئر وکلاء کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جج فلاں فلاں ہے،آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو اس پر اعتراض کیا جارہا ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کو کمزور کیا ہے،کچھ سینئر وکلا اور پی ٹی آئی کے رہنما ججز پر تنقید کر رہے ہیں،پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے جس پر انکے خلاف کاروائی ہوئی،پی ٹی آئی نے گمنام گاؤں میں انٹرا پارٹی الیکشن کرائے،وکلا اور پی ٹی آئی کے کارکنان سے گزارش ہے ججز پر بے جا تنقید نہ کی جائے،

    سپریم کورٹ تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،حسن رضا پاشا
    چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو عدالت نے معصوم کہا تو ایک جماعت کی جانب سے ٹرولنگ شروع ہو گئی، جب تک کسی پر جرم ثابت نا ہو وہ قانون کی نظر میں معصوم ہی ہوتا ہے،سائفر مقدمے میں ابھی جرم ثابت نہیں ہوا تو کہہ دیا گیا کہ سپریم کورٹ معصوم ڈکلئیر کر رہی ہے، نو گھنٹے کی سماعت میں پی ٹی آئی کے وکلاء کی تیاری نہیں تھی،جب پوچھا گیا کہ انتخابات کہاں کرائے تو چمکنی کے گاوں کا بتایا، سب سے بڑی بات کہ پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کا ذکر نہیں کیا،ایک ہائیکورٹ میں درخواست زیر التوا ہونے کا ذکر دوسری عدالت میں نا کیا جائے تو عدالتیں کیا برتاو کرتی ہیں سب کو پتا ہے،پی ٹی آئی کا حق ہے کہ نظر ثانی دائر کرے، اس فیصلے کا ایک پہلو اخلاقی اور ایک قانونی ہے، اخلاقی طور پر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملنا چاہیے،قانونی طور پر انٹراپارٹی انتخابات کرائے بغیر ریلیف ملنا ممکن نہیں تھا، سینئیر وکلاء کو جس عدالت سے ریلیف لینا ہے اس کے بارے الفاظ کے چناو میں محتاط ہونا چاہیے،سینئیر وکلاء کی جانب سے بلا وجہ تنقید کو بار کونسلز برداشت نہیں کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مہم کی پرزور مذمت کرتے ہیں، پی ٹی اے اور ایف آئی اے چیف جسٹس کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف خاموش تماشائی نا بنیں،سپریم کورٹ اپنے خلاف نام لے لے کر تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سپریم اور پاکستان بار سمیت وکلاء ججز پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان لیا تو پشاور ہائیکورٹ نے واپس دیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، سپریم کورٹ میں دو دن مسلسل کیس کی سماعت ہوئی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کی، جس پر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر تنقید کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے وکلا بھی چیف جسٹس پر تنقید کر رہے ہیں،

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل ضرور دائر کریں گے، بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل ضرور دائر کریں گے، بیرسٹر گوہر

    رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تین دنوں کے اندر اپنے امیدوار کی انتخابی نشانات کیساتھ لسٹ جاری کریگی،عوام سے اپیل ہے پی ٹی آئی کے منتخب کردہ نمائندوں کو ووٹ دیگر کامیاب بنائیں ،جو سیٹیں پینڈنگ میں رکھی تھی وہ جلدی فائنل ہو جائینگی،سپریم کورٹ کے بلے کے فیصلے سے 25کروڑ عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ،یہ جمہوریت کیخلاف ایک سازش کامیاب ہوئی ہے، جمہوریت کا ایک بڑا نقصان ہوا ہے اس سے کرپشن کی ایک ابتدا ہو گی ،ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کرینگے ،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہر صورت دائر کرنی ہے آئین کے تحت کیا کسی پارٹی سے نشان واپس لیا جا سکتا ہے یا نہیں ،قانون کے تحت اس کیس کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نہیں پانچ رکنی بینچ کو سننا چاہیے تھا ،بانی پی ٹی آئی کا ووٹرز کو یہ مسیج ہے کہ گھبرانا نہیں ہے اپنے ووٹ کی حفاظت کرنی ہے ،8 فروری کو جیت ہو گی پر امن رہنا ہے،

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں‌کو دیگر انتخابی نشان الاٹ کر دیئے ہیں، آج صبح پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست بھی واپس لے لی ہے،

  • لیول پلینگ فیلڈ،پی ٹی آئی نے درخواست واپس لے لی

    لیول پلینگ فیلڈ،پی ٹی آئی نے درخواست واپس لے لی

    تحریک انصاف نے لیول پلیئنگ فیلڈ کے تحت الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست سماعت سے قبل ہی واپس لے لی،

    تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پرسماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کرنی تھی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور چیف سیکرٹری پنجاب کی رپورٹس پر جواب طلب کررکھا تھا،سماعت سے قبل ہی پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ عدالت پیش ہوئے، لطیف کھوسہ نےکہا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ، مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپکی عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے، آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں آپ احکامات دے سکتے ہیں، ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا، آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے ، جسٹس مسرت ہلالی نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے کسی جماعت سے اتحاد کیا ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں وہی تو بتا رہا ہوں کہ ہمیں اتحاد بھی نہیں کرنے دیا گیا،ہم نے آپکی خاطر تحریک چلائی، اپنا خون دیا، اگر آج بھی آپ پر مشکل وقت آتا ہے تو ہم جان دینے کو تیار ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس دن ہمارے سامنے بیرسٹر گوہر صاحب کا کیس آیا، ہم نے ریاست کو احکامات دئیے، یہ بھی کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر مطمئن نہیں ہوتے تو ہمیں تحریری طور پر آگاہ کریں، جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے کچھ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، ابھی تک بیرسٹر گوہر صاحب کی طرف سے کچھ بھی تحریری طور پر نہیں آیا،اس حوالے سے اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو ہم وہ بھی کریں گے، ہمارے سامنے الیکشن کا معاملہ اٹھا، ہم نے تاریخ دلوائی ، کیا آپ تاریخ دلوا سکے تھے؟ قانون ہم نہیں بناتے ، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون نہیں پسند تو بدل دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہعوامی نیشنل پارٹی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس دیا، تحریک انصاف کو کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کل پتہ چلا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے آئین کے مطابق ابھی وقت موجود تھا، اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو نشان واپس لوٹایا، لطیف کھوسہ صاحب یہ درست طریقہ کار نہیں ہے، آپ سینئر وکیل ہیں،آپ پاکستان کے سارے ادارے تباہ کرہے ہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ سے لیول پلئنگ فیلڈ لینے آئے تھے آپ نے اپنے فیصلے سے ہماری 230 نشستیں چھین لیں، آپ کا شکریہ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہمارا فیصلہ ماننا ہے مانیں نہیں ماننا تو آپ کی مرضی ہے، اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے تو تحریک انصاف کی فیلڈ ہی چھین لی، لیول پلیئنگ فیلڈ کا اب کیا سوال رہ گیا، کسی کو ڈونگا، کسی کو گلاس اور کسی کو بینگن کا نشان دیدیا گیا،ہم آپ کی عدالت میں لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے آئے تھے،آپ نے 13 جنوری کی رات 11:30 پر ایسا فیصلہ سنایا جس سے تحریک انصاف کا شیرازہ بکھر گیا، ہم اب کیا توقع کریں کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی،

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پرنمٹا دی

    واضح رہےکہ سپریم کورٹ نے 3 جنوری کو ہونے والی سماعت میں ریمارکس دیے تھے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات یقینی بنائے،تحریک انصاف کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پرالیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست 26 دسمبر کو دائرکی گئی تھی

    قبل ازیں لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور چاروں ممبران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے نئی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی،درخواست میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبران کو کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے ملک کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں رکاوٹ ڈالی گئی،پکڑ دھکڑ پر چھ رہنماؤں کے بیان حلفی جمع کرادیئے۔

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کا معاملہ،سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،

    سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لے سکتے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سنانے سے پہلے کہاکہ ‏معافی چاہتا ہوں تاخیر ہوئی،فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا نوٹس 2021 میں کیا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جون 2022 تک انتخابات کرانے کا وقت دیا، الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں تھے،پی ٹی آئی شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر نوٹس جاری کیے،لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں زیرالتواء ہوتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرائے گئے،دوبارہ پارٹی انتخابات شکایات ملنے پر انتخابی نشان واپس لیا گیا، پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کا پانچ رکنی بنچ بنا جو زیر التوا ہے،الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات درست نہ کرانے پر انتخابی نشان پی ٹی آئی سے لے لیا،،پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ریلیف فراہم کیا، باد ی النظر میں پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کرایا اس کا کوئی ثبوت نہیں،پی ٹی آئی نے اپنے ممبران کو انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لینے سے روکا،پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات میں جمہوریت کو نظرانداز کیا،الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کے جائزہ کا اختیار ہے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کیخلاف جابنداری نہیں کی ،پی ٹی آئی نے شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد پیش نہیں کیے ،الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کر رہا، فیصلہ،الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی،پی ٹی آئی کے پاس آئین کے مطابق ممبران کو نکالنے کا ثبوت نہیں،
    جمہوریت پارٹی کے اندر اور ملک میں بھی ضروری ہے،پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا، عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 13جماعتوں کے انتخابی نشان لیے، الیکشن کمیشن نےکہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کرائے، پی ٹی آئی کے14 اراکین کی درخواست یہ کہہ کر ہائی کورٹ نے مسترد کی کہ وہ ممبران ہی نہیں، پاکستان جمہوریت سے وجود میں آیا، پاکستان میں آمریت نہیں چل سکتی، ثابت نہیں ہوتا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو انٹراپارٹی انتخابات کرانا ہوتے ہیں، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کہاں کرا رہے ہیں، پشاور ہائی کورٹ کا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کو برا کہنا ان کے سامنے درخواست سے تجاوز تھا

    جس وقت فیصلہ سنایا گیا، تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کمرہ عدالت میں موجود تھے، جبکہ عدالت میں دلائل دینے والے بیرسٹر علی ظفر فیصلے سے قبل روانہ ہو گئے تھے،پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،حامد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،اٹارنی جنرل کا عملہ،الیکشن کمیشن کے وکلا، میڈیا کی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود تھی،سپریم کورٹ نے ساڑھے نو بجے فیصلے کا وقت دیا تھا تا ہم فیصلہ تاخیر سے سنایا گیا،

    اکبر ایس بابر فیصلہ سنے بغیر سپریم کورٹ سے راونہ ہو گئے، اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے،انٹرا پارٹی الیکشن کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں لوگوں کو شعور ملا۔فیصلہ کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، جوبھی فیصلہ ہوا ہمیں منظور ہے۔

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کو بلّے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دلائل دونوں جانب سے اچھے دیئے گئے، ابھی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے،سانس لینے دیں، دلائل جذب کرنے اور نتیجہ تک پہنچنے کیلئے وقت درکار ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں، گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پر سوالات اٹھایا تھا ،پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے بھی عدالت کے سامنے انٹراپارٹی انتخابات کی شفافیت بارے تفصیلات پیش کیں،

    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان کمرہ عدالت میں موجود تھے،پی ٹی آئی کے وکلاء حامد خان، علی ظفر اور نیاز اللہ نیازی کمرہ عدالت میں موجودتھے،حامد علی خان نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں بیرسٹر علی طفر نے دلائل دیے تھے اگر عدالت اجازت دے تو بیرسٹر علی ظفر دلائل دیں ،پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے، حامد خان نے کہا کہ فیصلہ پڑھا ہے پشاور ہائی کورٹ نے بہترین فیصلہ لکھا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آج پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا آخری دن ہے،وقت کی قلت ہے اس لئے جلدی دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس بھی وقت کم ہے کیونکہ فیصلہ بھی لکھنا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دو سوالات ہیں کہ کیا عدالتی دائرہ اختیار تھا یا نہیں اور کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی الیکشن کی چھان بین کا اختیار ہے یا نہیں، علی ظفر نے کہا کہ عدالت کی معاونت کروں گا لیکن آج انتخابی نشان اور حتمی فہرستوں کے اجراء کی آخری تاریخ ہے،

    انٹراپارٹی انتخابات صرف سول کورٹ میں ہی چیلنج ہوسکتے تھے، الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو اختیار نہیں کہ خود فیصلہ بھی کرے اور اپیلیں بھی،علی ظفر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو ادراک ہے لیکن عدالت پر ایک بوجھ فیصلہ لکھنے کا بھی ہے جو وکیل پر نہیں ہے، علی ظفر نے کہا کہ نہ تو آئین اور نہ ہی الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کے جائزہ کی اجازت دیتے ہیں،انتخابی نشان انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا،آرٹیکل 17 دو تحت سیاسی جماعتیں بنانے کا اختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بھی آرٹیکل 17 دو کی تفصیلی تشریح کر چکی ہے،انتخابات ایک انتخابی نشان کے ساتھ لڑنا سیاسی جماعت کے حقوق میں شامل ہے،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی انتخاب کی چھان بین کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کر سکتا،آئین کے تحت الیکشن کمیشن کورٹ آف لاء نہیں ، بنیادی سوال سیاسی جماعت اور اسکے ارکان ہے اس لئے شفاف ٹرائل کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہیں،الیکشن کمیشن عدالت نہیں جو شفاف ٹرائل کا حق دے سکے، الیکشن کمیشن میں کوئی ٹرائل ہوا ہی نہیں، پی ٹی آئی کے کسی رکن نے انٹرپارٹی انتخابات چیلنج نہیں کیے، انٹراپارٹی انتخابات صرف سول کورٹ میں ہی چیلنج ہوسکتے تھے، الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو اختیار نہیں کہ خود فیصلہ بھی کرے اور اپیلیں بھی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے، الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان چھین کر بظاہر بدنیتی کی ہے،الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کیساتھ جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک کیا،

    الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی،بیرسٹر علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات جماعت کے آئین کے مطابق کرائے گئے ہیں، پی ٹی آئی نے پہلے 2022 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جو الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیے، الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا حکم دیا،خدشہ تھا پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر نہ کر دیا جائے اس لئے عملدرآمد کیا،سپریم کورٹ اسی دوران آٹھ فروری کو انتخابات کا حکم دے چکی تھی، دو دسمبر کو پی ٹی آئی نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے،الیکشن کمشین میں پارٹی انتخابات کیخلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں، ہمارا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر نہیں ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا،جواب ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیکر انتخابی نشان واپس لے لیا، الیکشن کمیشن کے حکم نامہ میں تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکر نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے فیصلے کی جو وجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی، الیکشن کمیشن نے کہا تعیناتی درست نہیں اس لئے انتخابات تسلیم کرینگے نہ ہی نشان دینگے، کل مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے، مخدوم علی خان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا،

    آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی،جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمہوریت ملک کیساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے، بنیادی سوال جمہوریت کا ہے پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں،کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں،اکبر بابر بانی رکن تھے وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن انکی رکنیت تو تھی، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے، اکبر بابر نے اگر استعفی دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اس وقت نوٹس کیا جب وہ حکومت میں تھی، الیکشن ایکٹ کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کرینگے کیونکہ کسی نے چیلنج نہیں کیا،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کر رہے، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اپنا جاری کردہ شیڈیول فالو کیا تھا؟ کیا انتخابات شفاف تھے، کچھ واضح تھا کہ کون الیکشن لڑ سکتا ہے کون نہیں؟ آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی،الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی شکایات ملنے پر کارروائی کی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی،تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا،الیکشن کمیشن نے ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں، وہ عمومی نوعیت ہے ہیں،انتخابی نشان بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،

    آپ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دباو ہے تو اس کو بھی ثابت کریں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابی نشان کیا ہوتا ہے اچھے سے معلوم ہے،اگر ایوب کے دور کے بعد کی بات کریں تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ایک تاریخ ہے،پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوار کا نشان واپس لیا گیا، پھر پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین بنی، ایک اور سیاسی جماعت مسلم لیگ نے ابھی ایسا ہی وقت دیکھا،لیکن اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھنا ہے،آج کی اور تب کی صورتحال میں بہت فرق ہے، تب سپریم کورٹ کے ججز نے پی سے او کے تحت حلف اٹھایا تھا، آج تحریک انصاف کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں،آج کل ہر کوئی اسٹبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتا ہے، اصل نام فوج ہے،ہمیں کھل کر اور مکمل بات کرنی چاہئے ،میں آئینی اداروں کی عزت کرتا ہوں، آپ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دباو ہے تو اس کو بھی ثابت کریں،جب پہلا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تب آپکی حکومت تھی ، کیا تب بھی اسٹبلشمنٹ کا دباؤ تھا؟اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دباو ڈالے گی؟عدالت آئینی اداروں کو کنٹرول تو نہیں کر سکتی، آپ جب بدنیتی کا الزام لگاتے ہیں تو بتائیں کہ بدنیتی کہاں ہے،

    اگر انتخابات باقاعدہ طریقے کار سے کرائے ہیں تو انتخابی نشان ہر صورت ملنا چاہیے،چیف جسٹس
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جن بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے وہ پی ٹی آئی آئین سے ہی کی ہیں، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈیول اور مقام پر کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ پارٹی میں الیکشن ہوا ہے یا نہیں،اکبر بابر کو الیکشن لڑنے دیتے سپورٹ نہ ہوتی تو ہار جاتے، پی ٹی آئی کے بانی جیل میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں،کل وہ باہر آ کر کہ دیں کہ یہ عہدیدار کون ہیں تو کیا ہوگا؟ پی ٹی آئی کو اپنے ساڑھے آٹھ لاکھ ممبران پر اعتماد کیوں نہیں ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو جن ضابطگیوں کی بنیاد پر نشان واپس لیا اسکی نشاندہی کر رہا ہوں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیاد نکتہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اگر وہ ہی نہ ہوا تو باقی چیزیں خود ختم ہو جائیں گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر انتخابات باقاعدہ طریقے کار سے کرائے ہیں تو انتخابی نشان ہر صورت ملنا چاہیے،انتخابات کی پیچیدگیوں میں نا جائیں، بس اتنا بتا دیں کہ کیا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں تمام پارٹی اراکین کو یکساں موقع ملا یا نہیں، الیکشن کمیشن کو ایک کاغذ کا ٹکرا دکھا کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لو انتخابات کرا دیے، یہ دیکھنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مروجہ طریقہ کار سے ہوئے یا نہیں، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر سیاسی جماعت نے پارٹی انتخابات کے 7 دن میں سرٹیفکیٹ دینا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سرٹیفکیٹ پارٹی آئین کے مطابق انتخابات سے مشروط ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انٹراپارٹی انتخابات کی سکروٹنی کا اختیار نہیں ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اصل مسئلہ ہی دائرہ اختیار کا بنا ہوا ہے،

    اگر 8 فروری کو آپ 326 ارکان کو بلا مقابلہ جتوادیں تو ایسے الیکشن کو میں نہیں مانوں گا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یا آپ تسلیم کر لیں جمہوریت چاہئے یا نہیں؟ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ گھر میں جمہوریت چاہیے باہر نہیں چاہیے، آپ کو سیاست چاہئے جمہوریت نہیں چاہئے، سیاست تو ہے ہی جمہوریت،الیکشن کمیشن کا ایک ہی دکھڑا ہے کہ پارٹی انتخابات کرا لو، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی الیکشن کرائے لیکن وہ الیکشن کمیشن مانے نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چودہ درخواست گزاروں کو الیکشن کیوں نہیں لڑنے دیا ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ کسی کو اعتراض ہے تو سول کورٹ چلا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں چاہے وہ گھر کے اندر ہو یا باہر ہو،وکیل علی ظفر نے کہا کہ کوئی پٹواری انٹراپارٹی انتخابات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اسے اختیار نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر الیکشن کمیشن دو لاکھ جرمانہ کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی آپ کہتے ہیں باقی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں، اگر 8 فروری کو آپ 326 ارکان کو بلا مقابلہ جتوادیں تو ایسے الیکشن کو میں نہیں مانوں گا،کل کو سرکار تمام امیدواروں کو بند کرے اور 326 بلامقابلہ جیت جائیں تو ہم کیوں مانیں، عقل اور دانست بھی کوئی چیز ہوتی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کوئی پارٹی الیکشن کرائے بغیر سرٹیفکیٹ دیدے تو کیا الیکشن کمیشن کچھ نہیں کر سکتا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں پارٹی انتخابات کی شفافیت کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے،انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن دو لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کروا کر جرمانے کی سٹیج سے تو آگے نکل چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کون ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ بیرسٹر گوہر پارٹی کے چیئرمین ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا اپنا الیکشن ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے، بانی پی ٹی آئی سرٹیفکیٹ دیتے تو اور بات تھی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سرٹیفکیٹ پارٹی سربراہ نے دینا ہوتا ہے سابقہ سربراہ نے نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پارٹی انتخابات کے وقت چیئرمین کون تھا؟ علی ظفر نے کہا کہ پارٹی انتخابات ہوئے تو چیئرمین عمران خان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے تو پھر کس کا ہے؟ لولی لنگڑی جمہوریت نہیں پوری جمہوریت ہونی چاہیے،

    علی ظفر نے کہا کہ اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں انہیں نکال دیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں دکھائیں ریکارڈ سے وہ ممبر نہیں، علی ظفر نے کہا کہ میں آپ کو وہ دستاویز دکھا دیتا ہوں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سرٹیفکیٹ اسی وقت مل سکتا ہے جب انتخابات پارٹی آئین کے مطابق ہوئے ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کہتا ہے چیئرمین کا الیکشن دو سال باقی تین سال بعد ہوں گے،یہاں تک تو پارٹی آئین کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ میرا بیان یہی ہے اکبر ایس بابر ممبر نہیں ہیں،مجھے ہدایات یہی ملی ہیں وہ ممبر نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کو ہدایات کون دے رہا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ مجھے پارٹی سربراہ ہدایات دے رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے خود دو سال پہلے پارٹی جوائن کی وہ ہدایت دے رہے ہیں ؟برطانیہ میں جتنے وزراء اعظم آئے وہ ایک ہی جماعت کے لوگ تھے اور اپنی ہی جماعت سے ان کو مخالفت ہوئی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا آپ نے انٹرا پارٹی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی اپنی ویب سائٹ پر شائع کئے؟ کس طرح مخصوص لوگوں کو علم ہوا کہ یہ کاغذات نامزدگی ہیں اور کب جمع کرانا ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے پاس لیپ ٹاپ ہے وہ تحریک انصاف کی ویب سائٹ کھولیں،

    چیف جسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کی ویب سائٹ پر کاغذاتِ نامزدگی چیک کرنے کا کہہ دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جب الیکشن ہو گیا تو کاغذات نامزدگی ہٹا دئیے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہماری سپریم کورٹ کی ویب سائٹ دیکھیں ہمارے تو انتخابات نہیں ہوتے،ہماری ویب سائٹ پر اگر ہم نوکری کا اشتہار دیتے ہیں تو موجود ہو گا، کچھ تو کاغذ کا ٹکڑا دکھا دیں کہ امیدواروں سے فیس کی یا کاغذات نامزدگی کا،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ فیس کیش میں وصول کی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کونسی سیاسی جماعت کیش میں فیس وصول کرتی ہے،صرف کہنے سے تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو جاتی ،آمریت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے،کسی بڑے کی ناجائز بات سنی جائے تو باہر سے جمہوریت اندر آمریت ہونے لگتی ہے، آپ کا الیکشن شیڈول سر آنکھوں پر اس کی تعمیل دکھا دیں،

    اگر تو قانون کے بجائے مرضی سے فیصلے کرنے ہیں تو میں تسلیم نہیں کر سکتا،جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کی پارٹی کا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بااختیار بنانا ہے، لیکن یہاں نظر نہیں آ رہا،علی ظفر نے کہا کہ ہم نے جو بھی غلطیاں کی اس کیلئے 20 دن کا ٹائم دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ الیکشن کروائیں ،آپ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ کرونا ہے ایک سال کا ٹائم دیا گیا،الیکشن کمیشن نے تو بہادری دیکھائی کہ حکومت میں نوٹس دیا،علی ظفر نے کہا کہ صرف ہمیں نہیں الیکشن کمیشن نے سب کو نوٹس بھیجا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جو شیڈیول پی ٹی آئی نے دیا ہے وہ عملی طور پر ممکن نہیں لگ رہا، اگر تو قانون کے بجائے مرضی سے فیصلے کرنے ہیں تو میں تسلیم نہیں کر سکتا، سب سیاسی جماعتوں کیساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کسی اور پارٹی کے انتخابات پر اعتراض نہیں آیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارٹی الیکشن شیڈیول پر اعتراض کا جواب دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج صاحب نے اعتراض نہیں کیا سوال کیا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارٹی انتخابات کا شیڈیول پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کو ہی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بہادری دکھائی اور حکومتی جماعت کو شوکاز دیا، عدالت کی دلچسپی صرف جمہوریت میں ہے تکنیکی نکات میں نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار نہیں دے سکتا، علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات میں ٹربیونل کا کردار ادا نہیں کر سکتا، پارلیمان نے انٹراپارٹی انتخابات کا جائزہ لینے کا اختیار دینا ہوتا تو واضح لکھ دیتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ آج نہیں بنا،پچھلے الیکشن بھی اسی قانون کے تحت ہوئے، آپ الیکشن کروا لیں،آپ کچھ دکھا نہیں پا رہے،کیا فیسوں کے پیسے جیب میں ڈال لئے یا گھر لے گئے،علی ظفر نے کہا کہ ہمارا ایک الیکشن چیئرمین کا ہوتا ہے دوسرا پینل الیکشن ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیئرمین کا الیکشن دکھا دیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے خود اخباری تراشہ لگایا ہے اکبر ایس بابر کاغذات نامزدگی لینے پہنچ گئے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ان کی پچاس ہزار فیس جمع کرانے کا ثبوت کہاں ہے؛ علی ظفر نے کہا کہ اکبر ایس بابر ہمارے پارٹی رکن نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ دکھا دیں کہ اکبر ایس بابر کو کیسے پارٹی سے نکالا گیا،

    عدالت کو جو تشویش ہے پہلے اسے دور کریں، پھر گلہ نہ کیجیے گا کہ فیصلہ کیوں معطل کیا،چیف جسٹس
    علی ظفر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرپارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ دینا لازمی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنیادی بات سرٹیفکیٹ نہیں الیکشن ہونا ہیں، سرٹیفکیٹ نہ ہونا مسئلہ نہیں الیکشن نہ ہونا مسئلہ ہے، پی ٹی آئی پارٹی انتخابات سے گھبرا کیوں رہی ہے؟ ہمیں کوئی دستاویزات دکھا دیں کہ انتخابات ہوئے ہیں، سرٹیفکیٹ تو الیکشن کے بغیر بھی آ سکتا ہے، اگر پی ٹی آئی کو زیادہ وقت چاہیے تو پہلے کہا تھا کہ فیصلہ معطل کرنا پڑے گا، عدالت کو جو تشویش ہے پہلے اسے دور کریں، پھر گلہ نہ کیجیے گا کہ فیصلہ کیوں معطل کیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمران خان نے کس کو چیئرمین نامزد کیا وہ اگلے ہی دن اعلان کر دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمران خان کی نامزدگی کا لیٹر کہاں ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کی نامزدگی کا کوئی خط نہیں ہے میڈیا پر اعلان کیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسے کیسے تسلیم کر لیں کہ عمران خان نے کس کو نامزد کیا تھا، آپ پرانے اور حامد خان بانی رکن ہیں انہیں کیوں نہیں نامزد کیا گیا؟ کل عمران خان کہہ دیں میں نے نامزد نہیں کیا تھا پھر کیا ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے ممبر ہیں،علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل نیاز اللہ نیازی 2009 سے پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، 29 نومبر کو فیڈرل الیکشن کمیشن کو نامزد کیا گیا،نیاز اللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیکھیں ناں سب نئے نئے چہرے آ رہے ہیں، پرانے لوگ کہاں ہیں؟عمر ایوب کے پینل نے کاغذات یکم دسمبر کو جمع کروائے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پارٹی انتخابات میں اور کوئی پینل آیا،علی ظفر نے کہا کہ ایک ہی پینل تھا وہ جیت گیا،پینل میں 15 لوگ تھے جو منتخب ہوئے،پی ٹی آئی آئین کے مطابق کوئی اکیلا شخص الیکشن نہیں لڑسکتا پینل بنانا ضروری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ جمہوریت کیخلاف نہیں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ ہونا تو ایسے ہی چاہیے لیکن پارٹی آئین میں یہی لکھا ہے،

    ،نیاز اللہ نیازی اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لگتا ہے پی ٹی آئی دستاویزات میں کافی کمزور ہے، جو بھی دستاویزات مانگتے ہیں وہ آپ کے پاس نہیں ہوتیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیاز اللہ نیازی کو بات کرنے سے روک دیا ،نیاز اللہ نیازی اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،نیازاللہ نیازی نے کہا کہ آپ نے میرے بیٹے کے لائسنس انٹرویو میں بھی پی ٹی آئی کے سوالات پوچھے تھے، آپ میری تذلیل کر رہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے علم ہی نہیں کہ نیاز اللہ نیازی کا کوئی بیٹا بھی ہے،اگر ایسے کرنا ہے تو ہم اٹھ کر چلے جاتے ہیں کیا ہم نیاز اللہ نیازی جیسے کو نوٹس جاری کریں؟ علی ظفر نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ پولنگ اسلام آباد میں ہو، شادی ہال سمیت کوئی بھی اپنی جگہ دینے کیلئے تیار نہیں تھا،علی ظفر
    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو دلائل کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا؟ علی ظفر نے کہا کہ کوشش کروں گا ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں، کاغذات نامزدگی جمع ہونا پہلا اور انتخابات کا مقام دوسرا مرحلہ تھا، پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ پولنگ اسلام آباد میں ہو، شادی ہال سمیت کوئی بھی اپنی جگہ دینے کیلئے تیار نہیں تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جہاں الیکشن ہوا کیا وہاں آپ کا دفتر ہے؟علی ظفر نے کہا کہ جس گرائونڈ میں الیکشن ہوا وہ ہمارے دفتر کےساتھ ہے،الیکشن کمیشن نے آئی جی پولیس کو پشاور میں سکیورٹی فراہمی کیلئے خط لکھا،اکبر ایس بابر جب تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ آئے تو اس وقت کاغذات نامزدگی کا وقت ختم ہوچکا تھا، اکبر ایس بابر کو آفس آنے دیا گیا،اکبر ایس بابر نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے کسی پینل کا اعلان نہیں کیا، اکبر ایس بابر نے کبھی بھی پینل کا اعلان نہیں کیا،اکبر ایس بابر انتخابات لڑنا چاہتے تو پینل کا اعلان کرتے، ہم تیار تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ لفظ پینل کا ذکر کہاں ہے؟ پارٹی آئین میں کہاں لکھا ہے الیکشن اکیلا شخص نہیں لڑ سکتا، علی ظفر نے کہا کہ پارٹی آئین میں پینل انتخابات کا ذکر ہے،چیف جسٹس نے کہا کہپی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک بھی شخص نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا،عام انتخابات میں بھی ہوتا ہے کہ ہر شخص الیکشن لڑ سکتا ہے چاہے ووٹ نہ ملیں ،عام انتخابات میں بھی ہوتا کہ اتنی تعداد میں ووٹ ہوں ورنہ دوبارہ انتخابات ہونگے، پارٹی آئین کے مطابق چیئرمین کا انتخاب ہو ہی ووٹ کے زریعے ہو سکتا ہے، علی ظفر نے کہا کہ کوئی مدمقابل نہ ہو تو انتخاب بلامقابلہ تصور ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارٹی آئین میں کہیں بلامقابلہ انتخاب کا نہیں لکھا،علی ظفر نے کہا کہ ووٹنگ ہوتی ہی تب ہے جب ایک سے زیادہ امیدوار ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر چیئرمین کے واحد امیدوار کو ہی لوگ پسند نہ کرتے ہوں تو کیا ہوگا،اس طرح تو آپ آمریت کی جانب جا رہے ہیں، اگر ایک ووٹ بھی نہ ڈلے تو سینٹر بھی منتخب نہیں ہوسکتا، علی ظفر نے کہا کہ میں بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیئرمین، سیکرٹری جنرل سمیت سب لوگ ایسے ہی آگئے یہ تو سلیکشن ہوگئی، پی ٹی آئی نے الیکشن کیوں نہیں کرایا آخر مسئلہ کیا تھا، پی ٹی آئی کی پوری باڈی بغیر مقابلے کے آئی،پی ٹی آئی میں لوگ الیکشن سے نہیں سلیکشن سے آئے،پی ٹی آئی نے مخالف جماعتوں کو خود تنقید کا موقع دیا ہے،

    بڑی سیاسی جماعتوں میں کچھ لوگ بلامقابلہ منتخب ہوتے سب تو نہیں ایسے آجاتے،چیف جسٹس
    وکیل علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانا چاہتی تھی مگر کوئی جگہ دینے کو تیار نہیں تھاسیاسی جماعتوں میں بلامقابلہ سربراہان منتخب ہوتے ہیں،ن لیگ میں بھی نواز شریف،مریم نواز سمیت چھ لوگ بلامقابلہ سربراہ بنے،علی ظفر نے مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ انتخابات کا نوٹیفکیشن پیش کر دیا ، اور کہا کہ ن لیگ میں بھی سب بلامقابلہ انتخابات ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلامقابلہ انتخابات پارٹیوں میں ہوتے رہتے ہیں، اس پر تبصرہ نہیں کرینگے، بڑی سیاسی جماعتوں میں کچھ لوگ بلامقابلہ منتخب ہوتے سب تو نہیں ایسے آجاتے،جو ہمارے سامنے نہیں ان کے بارے میں بات نا کریں،علی ظفر نے کہا کہ اے این پی کے ضلعی صدور بھی بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے،اے این پی کو آج جرمانہ کرکے پارٹی انتخابات جنرل الیکشن کے بعد کرانے کا کہا گیا ہے،

    بغیر انتخاب بڑے لوگ آ جائیں تو بڑے فیصلے بھی کرینگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا معاملہ فنڈنگ کا بھی 2014 سے پڑا ہے جو آپ چلنے نہیں دیتےملک چلانے والے کون ہوتے ہیں عوام کو پتا ہونا چاہیے، سیاسی جماعت کا تو نام ہوتا ہے وہ لوگ کون ہوتے جو ملک چلاتے ہیں،لوگ اعتراض کر سکتے کہ ملک غلط لوگوں کے حوالے کر دیا ہے،عوام کو کیسے پتا چلے گا کہ کون لوگ منتخب ہوئے،کل بیرسٹر گوہر وزیراعظم بن گئے تو کیا انہیں پارٹی کے لوگ جانتے ہونگے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ آپ اختلافی نکتہ نظر بھی سنتے ہیں جو اچھی بات ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیشہ پروفیشل انداز میں دلائل دیتے ہیں،بغیر انتخاب بڑے لوگ آ جائیں تو بڑے فیصلے بھی کرینگے، آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی ہوسکتا ہے کرنا پڑے، لوگ اپنے منتخب افراد کو جانتے تو ہوں،پی ٹی آئی انتخابات میں کسی نے ووٹ نہیں ڈالا،علی ظفر نے کہا کہ مدمقابل کوئی نہیں تھا اس لئے ووٹنگ نہیں ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کرونا کے دوران بھی انتخابات ہوسکتے تھے، اگر کوئی پینل نہ سامنے آتا تو ایسے ہی بلامقابلہ الیکشن ہوجاتے، علی ظفر نے کہا کہ ماضی کو واپس کیا جا سکتا تو ضرور کر دیتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2021 میں انتخابی نشان واپس لینے کا خط لکھا تھا،پرانے لوگوں کو ساتھ رکھیں تو انہیں تجربہ ہوتا ہے،اکبر ایس بابر کی دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی کے بارہ بانی ارکان تھے، پی ٹی آئی نے شاید بعد میں آئین بدل لیا، یہ تو ثابت ہوگیا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی ممبر تھے، اکبر بابر کو پارٹی سے نکالنے کی دستاویزات دکھا دیں، پی ٹی آئی پر کوئی باہر سے تو نہیں حملہ کر رہا ناں،چیئرمین بننے کا حق حامد خان کا زیادہ ہے یا بیرسٹر گوہر کا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کے جائزے کا کوئی اختیار نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو فنڈنگ کا جائزہ لینے کا بھی اختیار نہیں؟علی ظفر نے کہا کہ فنڈنگ کا معاملہ مختلف ہے اس کی سکروٹنی الیکشن کمیشن کر سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سکروٹنی کا اختیار الیکشن کمیشن کو آئین نہیں قانون میں دیا گیا ہے،اس نکتے پر آپ کیوں نہیں کہتے کہ سول کورٹ کا اختیار ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ فنڈنگ کے ذرائع کے حوالے سے الیکشن ایکٹ بالکل واضح ہے،

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے عدالت میں کہا کہ میرے بیٹوں اور بھتیجوں کو مارا جا رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بھی ہوا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ابھی خبر آئی ہے میرے گھر چار ڈالے گئے، میرے بھتیجے کو مارا ہے اور سارے کاغذات لے کر چلے گئے ،کوئی بات نہیں ہم اس کاروائی کو جاری رکھیں گے،بیرسٹر گوہر کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ چوہدری صاحب اس طرح ہوا ہے تو نہیں ہونا چاہیے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی جنرل کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے.

    یہ نہیں ہو سکتا کہ الیکشن نہ ہو اور انتخابی نشان بھی مل جائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن بار بار کہ رہا تھا الیکشن کرا لو، یہ نہیں ہو سکتا کہ الیکشن نہ ہو اور انتخابی نشان بھی مل جائے، علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کروایا لیکن وہ مانتے ہی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس وقت معاملہ حالیہ انتخابات کا ہے پرانا نہیں، وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ الیکشن ہوجائے تو سرٹیفکیٹ اور انتخابی نشان بعد کی باتیں ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو اس کی روح سے کون محروم کر رہا ہے،علی ظفر نے کہا کہ آپ نے نااہلی فیصلے میں کہا کہ ایک بندے کو بھی انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا،یہاں تو ایک پوری جماعت کو محروم کیا جا رہا ہے،

    چار ڈالوں میں لوگ میرے گھر آئے، کسی پر اعتماد نہیں ہے عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر علی خان روسٹرم پر دوبارہ آگئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کیا صورتحال ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بہت سیریس صورتحال ہے،حالات بہت سنگین ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ابھی معاملے کو طے کریں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چار ڈالوں میں لوگ میرے گھر آئے، کسی پر اعتماد نہیں ہے عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سے بات ہوئی ہے،سیکرٹری داخلہ اور آئی جی معلوم کر رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بات کرنے سے روک دیاکہا کہ پہلے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بتائیں اگر بات نہ سنی جائے تو عدالت کو آگاہ کریں،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اب تو حد سے بھی تجاوز ہوگیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایس ایچ او تو نہیں ہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بات نہیں کروں گا تو کہاں کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ساتھ جائیں،ہم مقدمہ سن رہے ہیں،اگر مسئلہ حل نہیں کرتے تو ہم بیٹھیں ہیں،فی الحال ہم توجہ بانٹنا نہیں چاہتے،

    بیرسٹر گوہر اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کمرہ عدالت نمبر 1 کے باہر مکالمہ ہوا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے اٹارنی جنرل سے بات کی ہے وہ آئی جی اور دیگر لوگوں کو فون کر رہے ہیں ، بیرسٹر گوہر نے گھر کی موبائل فوٹیجز ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو دیکھائیں، اور کہا کہ انہوں نے گھر پر مارا ہے کمپیوٹر سب کچھ اٹھا کر لے گئے ہیں ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل دوبارہ اٹارنی جنرل آفس کی طرف روانہ ہو گئے،

    آئی جی اسلام آباد سپریم کورٹ پہنچ گئے،آئی جی اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیش ہونگے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آئی جی سے رابطہ کیا تھا

    ایسا نہیں ہونے دینگے کہ ایک جگہ سے سٹے نہ ملے تو دوسری ہائیکورٹ چلے جاؤ،چیف جسٹس
    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر دو ہائی کورٹس بیک وقت کیس سننے کیلئے بااختیار ہوں تو کسی سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے،ایک ہائیکورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہو تو دوسری کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے دینگے کہ ایک جگہ سے سٹے نہ ملے تو دوسری ہائیکورٹ چلے جاؤ،اگر کے پی کا صوبائی الیکشن ٹھیک نہ ہوتا تو پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنا بنتا تھا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ بیرسٹر گوہرالیکشن کمیشن کے حکم سے متاثرہ فریق ہیں، بیرسٹر گوہر کو پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ نام نہاد شکایت کنندگان بھی لاہور ہائیکورٹ میں فریق نہیں تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ کے پاس دائرہ اختیار نہیں تھا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا کہ کس عدالت سے رجوع کرنا ہے کس سے نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر لاہور ہائیکورٹ پی ٹی آئی کا سابقہ الیکشن درست قرار دیدے تو کیا ہوگا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمران خان دوبارہ چیئرمین بن جائیں تو ہم سے زیادہ خوش کوئی نہیں ہوگا، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو ہٹانے کا نوٹس جاری کیا تھا اس وجہ سے چئیرمین تبدیل کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن چیئرمین کو ہٹا سکتا ہے؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس چیلنج کر رکھا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ عمران خان ازخود بحال ہوجائیں گے یا چیئرمین کا دوبارہ الیکشن ہوگا؟علی ظفر نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے مستعفی ہونے پر چیئرمین کا الیکشن دوبارہ ہوگا، الیکشن کمیشن نے 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی اور کے پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کیے، ہمایوں اختر کیس میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا پارٹی انتخابات کیس میں مداخلت نہیں کر سکتے،

    اسد عمر نے نو مئی واقعات کی وجہ سے پارٹی چھوڑی، سارے مسئلے آپ کی پارٹی کےساتھ کیوں ہو رہے ہیں؟چیف جسٹس
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ 2009 کا ہے، کیا اس وقت اور ان کے قانون میں فرق نہیں ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون میں کوئی فرق نہیں آیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ سیاسی جماعتوں کے 2002 کے آرڈیننس کے تحت ہے،علی ظفر نے کہا کہ نئے قانون میں بھی دفعات وہی ہیں،ق لیگ میں بھی پارٹی انتخابات درست نہ ہونے کا سوال تھا،اسد عمر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل تھے، اسد عمر کو اٹھا لیا گیا جس کے بعد انہوں نے پارٹی عہدہ چھوڑ دیا،اسد عمر کے مستعفی ہونے کے بعد ڈپٹی سیکرٹری جنرل عمر ایوب کو سیکرٹری جنرل بنایا گیا، اسد عمر نے پہلے عہدہ بعد میں پارٹی چھوڑی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد عمر نے نو مئی واقعات کی وجہ سے پارٹی چھوڑی، سارے مسئلے آپ کی پارٹی کےساتھ کیوں ہو رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ ایک بندے کو کاغذات نامزدگی نہ ملنے پر پارٹی کو الیکشن سے باہر نہیں کیا جا سکتا، الیکشن کمیشن نے ٹرائل کرنا ہے تو ہمیں شواہد پیش کرنے کا موقع بھی دیتا، کسی اور جماعت کیساتھ یہ رویہ نہیں جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، اگر الیکشن نہ کراتے تو الیکشن کمیشن کا پوچھنا بنتا تھا،الیکشن کمیشن کو ٹربیونل بننے کا اختیار کہاں سے مل گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات میں مسئلہ ہو تو کہاں رجوع کیا جا سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے کہ سول کورٹ سے رجوع کیا جائے، الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات نہیں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کو غلط قرار دیا ہے، الیکشن کمیشن نے عہدیداران کے بلامقابلہ انتخاب پر اعتراض نہیں کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں تحریک انصاف نے انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں کی تھی، الیکشن درست ہو تو نشان کا مسئلہ خود حل ہو جائے گا، علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی،الیکشن کمیشن کا حکم ہی کالعدم ہوگیا تو سب کچھ ختم، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابی نشان واپس لینے کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں ہے،آپ سوچ کر جواب دینا چاہیں تو مخدوم علی خان کے بعد دوبارہ سن لینگے،

    سماعت میں آدھ گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    سپریم کورٹ کا ابھی آئی جی اسلام آباد کو بیرسٹر گوہر کے گھر جا کر تحقیقات کا حکم
    پی ٹی آئی انٹراپارٹی کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی، تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے گھر ہم نے آئی جی کو بھیجا تھا،علی ظفر نے کہا کہ یہ تو اچھی بات ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئی جی اسلام آباد عدالت میں موجود ہیں ؟آئی جی اسلام آباد سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پولیس بیرسٹر گوہر کے گھر کیوں گئی تھی۔آئی جی نے کہا کہ پولیس کو اشتہاری ملزموں کی تلاش تھی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ کون کون سے اشتہاری تھے ؟ آئی جی نے کہا کہ مجھے اتنے کم وقت میں اس کا علم نہیں ہوا، ابھی مزید تحقیق کر رہے ہیں، مکمل معلومات نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا، اسے حل کریں، فوری بیرسٹر گوہر کے گھر جائیں،واقعہ کی تحقیقات کی تحریری رپورٹ جمع کروائیں،تحفظ ہر شہری کا حق ہے، معاملے کی تحقیقات کریں،حامد خان نے عدالت میں کہا کہ یہاں کسی کو کام نہیں کرنے دیا جاتا، پشاور میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی وجہ یہی تھی کہ اسلام آباد انتظامیہ اور پنجاب ہمارے کارکنوں کو ہراساں کررہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کی بات مان لیں تو سرکار کو خط کیوں لکھ رہے ہیں کہ ہمیں سیکیورٹی دیں،چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر کو گھر پر حملے کے متعلق درخواست دینے کی ہدایت کر دی۔

    پی ٹی آئی کے رکن محمد مزمل بھی عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ 2016 سے پی ٹی آئی کا رکن اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے وائس پریذیڈنٹ تھا، انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لینے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ گیا تو کہا گیا خان صاحب نے جن کو کہہ دیا وہی لڑیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خان صاحب سے آپ کی کوئی ناراضگی تھی؟ مزمل نے کہا کہ سچ بولو تو خان صاحب ناراض ہو جاتے ہیں، احمد حسن نے کہا کہ پارٹی بنی تو بلے کے نشان کیلئے عمران خان نے اکبر بابر کو الیکشن کمیشن سے رجوع کا کہا، اکبر بابر کو پارٹی کےخلاف بیانات پر شوکاز جاری کیا گیا تھا، اکبر بابر کو شوکاز نوٹس 2019 میں جاری کیا گیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ قرار دے چکی ہے کہ اکبر بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اکبر بابر کی رکنیت کا اعتراض اٹھایا گیا تھا،پارٹی انتخابات درست نہ ہوں تو انتخابی نشان نہیں مل سکتا،

    پی ٹی آئی انتخابات کیخلاف درخواست گزار یوسف علی عدالت میں پیش ہوئے، یوسف علی نے کہا کہ بچپن سے تحریک انصاف میں ہوں، محمود خان پیش ہوئے اور کہا کہ قطر میں ہوتے ہوئے پی ٹی آئی 2006 میں جوائن کی،اسلام آباد کا کوآرڈینیٹر 2009 میں بنا تھا، الیکشن لڑنا چاہتا تھا لیکن طریقہ کار کا علم ہی نہیں تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کو آپ سے کیا مسئلہ ہے؟ محمود خان نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی سے پوچھیں میں تو جمہوری آدمی ہوں،

    پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا تو شاید انٹرا پارٹی انتخابات کا سلسلہ ختم ہوجائے گا، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کہتی ہے الیکشن کمیشن دوہرا معیار اپنا رہا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کل 13 سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن ختم کی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اے این پی کو شاید لاء اینڈ آرڈر کی وجہ سے دس مئی تک وقت دیا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اے این پی کے پانچ سال ابھی پورے نہیں ہوئے تھے، اے این پی کو مہلت پانچ سال کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہوسکتا ہے پشاور ہائی کورٹ کو لگا ہو کہ لاہور میں ایک ہی درخواست دائر ہوئی ہے،پشاور ہائی کورٹ کو تین درخواستیں زیرالتوا ہونے کا علم نہیں ہوگا،کیا پی ٹی آئی کو 2021 میں شوکاز نوٹس کسی شکایت پر دیا گیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 2021 والا شوکاز کسی شکایت پر نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ جمہوریت کے حوالے سے ہمیں کچھ بتائیں گے، پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا تو شاید انٹرا پارٹی انتخابات کا سلسلہ ختم ہوجائے گا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • انتخابی نشان عقاب، سپریم کورٹ نے آل پاکستان مسلم لیگ کی درخواست خارج کردی

    انتخابی نشان عقاب، سپریم کورٹ نے آل پاکستان مسلم لیگ کی درخواست خارج کردی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابی نشان ’عقاب‘ کی واپسی کیلئے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کی درخواست خارج کردی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آل پاکستان مسلم لیگ کے انتخابی نشان عقاب کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    اے پی ایم ایل کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ آپ کے کاغذات میں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی تصاویر موجود ہیں، کیا وہ آپ کی جماعت کے ممبر تھے؟ سیاسی پارٹیاں اس وقت الیکشن ایکٹ کے تحت اپنا کام کرتی ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی جماعت کے انتخابات کرائے اورنہ ہی ریکارڈ الیکشن کمیشن کو دیا-

    پیپلز پارٹی نے لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ٹکٹوں کا اعلان کر …

    وکیل نے جواب دیا کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی تصاویر ہمارے مخالف فریق نے دائر کی ہیں، ہمارے پاس عقاب کا نشان تھا، اس کا ذکر الیکشن کمیشن کے کاغذات میں ہے، الیکشن کمیشن نے بدنیتی سے انتخابی نشان عقاب چھینا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آئینی اداروں پر بدنیتی کا الزام لگا کر تباہ کرنا چھوڑدیں، اس ملک میں روایت بن گئی ہے کہ ہر ایک پر بدنیتی کا الزام لگادو بعد ازاں سپریم کورٹ نے آل پاکستان مسلم لیگ کی درخواست خارج کردی۔

    ن لیگ کی اعلی قیادت نے جلسوں کی تیاری مکمل کرلی

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کی رجسٹریشن ختم کردی تھی اور انتخابی نشان عقاب بھی واپس لے لیا تھا،عقاب اب استحکام پاکستان پارٹی کا نشان ہے۔

  • سابق جج مظاہر نقوی کیخلاف  سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی 15 فروری تک ملتوی

    سابق جج مظاہر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی 15 فروری تک ملتوی

    سپریم کورٹ،جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کیخلاف شکایات کا معاملہ،چئیرمین سپریم جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں اجلاس ہوا،

    جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس منصور علی شاہ, چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم افغان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی اجلاس میں شریک تھے،سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس انتخابات کے بعد تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ روز عدالت میں شیر بانو کیس فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا،وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپیل دائر کر رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابات سے متعلق اہم معاملے ہمارے سامنے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث کے معاون وکیل سے کہا کہ کونسل کی کاروائی ملتوی کرتے ہیں تو آپکو اعتراض تو نہیں،معاون وکیل نے کہا کہ ہمیں کونسل کی کاروائی ملتوی ہونے پر اعتراض نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت آفیہ شہر بانو کیس میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،وفاقی حکومت بھی چاہتی ہے کہ کچھ مہلت دی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پھر کونسل کی کاروائی انتخابات کے بعد 15 فروری تک ملتوی کر دیتے ہیں،

    اٹارنی جنرل کا ریٹائرڈ ججز کیخلاف کارروائی چلانے پر پابندی کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان
    مظاہر نقوی کے وکیل خواجہ حارث کا جواب رجسٹرار نے پڑھ کر سنایا،خواجہ حارث کے جواب میں کہا گیا کہ کونسل صرف سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے ،ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی،خواجہ حارث صاحب لاہور سے آرہے ہیں،ابھی تک پہنچے نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک اور کیس بھی ہم نے سننا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف شہر بانو کیس کے فیصلے پر ہم اپیل دائر کر رہے ہیں ،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • سوشل میڈیا پر ہڑتال کی خبر جھوٹ پر مبنی ، پاکستان بار کونسل کی تردید

    سوشل میڈیا پر ہڑتال کی خبر جھوٹ پر مبنی ، پاکستان بار کونسل کی تردید

    پاکستان بار کونسل نے ہڑتال کی تردیدکر دی

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک پیغام، خبر وائرل ہے کہ پاکستان بار کونسل نے آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ کونسل نے اس حوالے سے نہ تو ہڑتال کی کال دی ہے اور نہ ہی کوئی پریس ریلیز جاری کی ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان بار کونسل ہمیشہ اپنے لیٹر ہیڈ پر ایک پریس ریلیز جاری کرتی ہے اور میڈیا والوں کو مناسب طریقے سے آگاہ کرتی ہے، اس لیے آج کی ہڑتال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ خبر،پیغام سراسر جعلی ہے۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کل سے کہا جا رہا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفیٰ کے بعد ہڑتال کا اعلان کیاہے، تا ہم آج پاکستان بار کونسل نے اعلامیہ جاری کر کے اس خبر کی تردید کر دی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے

  • بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل تھے،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا،مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا،

    تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت، علی ظفر لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی، آپ مقدمہ کیلئے کب تیار ہونگے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پیر کو سماعت رکھ لیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیر تک سماعت ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا،ہم تو ہفتے اور اتوار کو بھی سماعت کیلئے تیار ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ اس صورت میں تیاری کیلئے کل تک کا وقت دیں،

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن قانونی طور تشکیل نہیں دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ حقیقت درست ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ بات درست نہیں الیکشن کمیشن اپیل قابل سماعت نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اگر اپیل کے قابل سماعت ہونے کا اعتراض ہے تو حامد خان پہلے آپ دلائل دیں۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کی تشکیل قانون طور پر درست نہیں تھی،وکیل حامد خان نے کہا کہ اس معاملے پر دلائل دینے کو تیار ہوں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بتائیں سیاسی جماعت انتخابات کیلئے فیڈرل الیکشن کمشنر کیسے تعینات کرتی ہے،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے پی ٹی آئی کا فیڈرل الیکشن کمشنر بھی درست تشکیل نہیں ہوا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جمال اکبر انصاری فیڈرل الیکشن کمشنر تھے، تحریک انصاف کے گزشتہ پارٹی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے،پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف 2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی،الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار کہاں درج ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے جمال انصاری بعد میں نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بنے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کون تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبر تعینات نہیں تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے سوال کیا کہ کیا یہ بات درست ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات کہاں ہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس کی تیاری کیلئے وقت اسی لئے مانگا تھا،الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پر بھی دلائل دوں گا،مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ریگولیٹ کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ کوئی ادارہ اپنے فیصلے کے دفاع میں اپیل نہیں کر سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسٹم کلیکٹر بھی اپنے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں کرتے ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت نے مسابقتی کمیشن اور وفاقی محتسب کے کیسز میں اداروں کو اپنے فیصلوں کیخلاف اپیلوں سے روکا تھا،کیا کوئی جج بھی اپنے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آئینی اداروں پر ان فیصلوں کا اطلاق ہو سکتا ہے؟قانون اور آئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہوسکتے،آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا،کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انحصار آئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی،

    کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی انتخابی نشان کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپیل نہ کرے تو اسکے فیصلے بے معنی ہوجائیں گے، وکیل حامد خان نے کہا کہ متاثرہ فریق اپیل کر سکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں، کیا ڈسٹرکٹ جج خود اپنا فیصلہ کالعدم ہونے کی خلاف اپیل کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے الیکشن کمیشن الگ آئینی ادارہ ہے، کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ حامد خان صاحب ایک آئینی ادارے کا قانونی ادارے سے تقابل نہ کریں،آپ نے جو دوفیصلوں کا حوالہ دیا وہ قانونی اداروں کے حوالے سے ہے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہرآئینی ادارہ قانون کے تحت چلتا ہے اورالیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کے قانون کے مطابق چلتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم نے آپ کے اعتراض کو نوٹ کرلیا ہے، آپ کے پاس اعتراضات کرنے کا بالکل حق موجود ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کل ہی نوٹس ملا ہے ہم تیار نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ابھی تک یہ بات سمجھ آئی ہےکہ پارٹی نے اپنے ہی آئین کے تحت الیکشن نہیں کرایا، حامد خان صاحب،آپ دستاویزات داخل کرنا چاہتے ضرور کریں، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت الیکشن کمیشن کا ریکارڈ منگوالے توہم وہ بھی منگوالیتے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کیخلاف چودہ شکایات ملی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ یہ درخواستیں کس نے دائر کیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستیں دینے والے تحریک انصاف کے لوگ تھے،

    کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،چیف جسٹس
    اکبر ایس بابر کے وکیل روسٹرم پر آ گئے، اور کہا کہ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ، اکبر ایس بابر فاونڈر ممبر پی ٹی آئی ہے، اکبر ایس بابر پارٹی میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر وہ پی ٹی آئی کے ممبر کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا؟وکیل حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندگان پی ٹی آئی کے ارکان نہیں تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فاونڈر ممبر تو میرے حساب سے کبھی ختم نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی؟ حامد خان نے کہا کہ یہ تو ایک اور بحث ہے کہ کون فاونڈنگ ممبر ہے کون نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب کیا آپ تحریک انصاف کے فاونڈنگ ممبر نہیں ؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جی میں پارٹی کا فاونڈنگ ممبر ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سے آگاہ کرنے دیں،پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی خود ہائی کورٹ گئی تھی انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں،

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہے،اجلاس کے بعد ڈیڑھ بجے تک کیس کی سماعت دوبارہ شروع کریں گے،دو صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کیلئے انتظار کررہے ہیں،ہم جمہوریت پر چلتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں ہے ہم کب دستیاب ہونگے،ڈیڑھ بجے تک آپ لوگ آزاد ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن سے کیس کی اوریجنل فائل منگوا لی.

    پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا دوبارہ آغاز کر دیا ، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے، الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے آئین پر اعتراض نہیں ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے تحت نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئین تو بہت اچھا بنایا ہے،وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑ سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد عمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، اسد عمر سیکرٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ چمکنی کے گرائونڈ میں ہوئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی نوٹیفیکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہونگے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھوٹے سے گم نام گائوں میں انتخابات کیوں کرائے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا،پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟پی ٹی آئی وکلاء جواب نہیں دینا چاہتے تو آگے چلتے ہیں،پارٹی ممبران کو تو معلوم ہونا چائیے کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے، چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ واٹس ایپ پر لوگوں کو بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی،ویڈیو موجود ہے عدالت میں چلا لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویڈیوز باہر جا کر چلا لیں ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کتنے ممبر ہیں آپ کی جماعت کے؟نیازاللہ نیازی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ممبر ہیں، ووٹنگ ہوئی تھی،وڈیوز چلاکر دیکھ لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیازاللہ نیازی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج وکیل نہیں پارٹی ہیں،آپ کوکوئی تمیزہے کہ سینئروکلا کی موجودگی میں اجازت لے کربات کرتے ہیں،آپ کی پارٹی کے وکیل موجود ہیں آپ بیٹھ جائیں،آپ کے سینئر وکلا موجود ہیں ،ہم ہر کسی کو نہیں سن سکتے ،آپ کا وکیل کون ہے آپ پارٹی ہیں،یا تو کہہ دیں کے آپ خود وکیل ہیں ،نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میرے حامد خان وکیل ہیں،

    ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے 2 دسمبر سے پہلے کب الیکشن ہوئے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آخری الیکشن جون 2017 میں ہوئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ان کاکہنا ہےکہ آخری الیکشن دسمبرمیں ہوئے دستاویزات سے بتائیں،کیا الیکشن کمیشن کا یہ حکم چیلنج ہوا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج ہوا تھا جو لارجر بنچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا دونوں پارٹی انتخابات میں وہی عہدیداران منتخب ہوئے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے ہدایات اور ریکارڈ لیکر ہی آگاہ کر سکوں گا،الیکشن کمیشن نے 20 دن میں پارٹی الیکشن کرانے کا کہا تھا اس لئے دوبارہ کرائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرالتواء درخواست کیا واپس لے لی ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست غیر موثر ہونے سے آگاہ کر دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر بلے کا انتخابی نشان بنتا ہے تو پی ٹی آئی کو ملنا چاہیے،ہم نے پی ٹی آئی کے مقدمہ کیلئے جوڈیشل کونسل اجلاس آگے کیا،پی ٹی آئی انتخابات کرانے آئی تو 12 دن میں انتخابات کی تاریخ دے دی، انتخابات کی تاریخ دی تو علی ظفر خوش اور اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرلز سب خوش، آپ الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست لائے ہم نے فوری طور پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا، آپ لاہور ہائیکورٹ گئے وہاں لارجر بنچ بنا دیا،آپ لاہور ہائیکورٹ کو چھوڑ کر پشاور چلے گئے ریلیف مل گیا،اب اور کیا کریں؟

    انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی عہدے کیلئے نااہل کرنے کیلئے کیس چلایا، پارٹی انتخابات اور چیئرمین پی ٹی آئی نااہلی کیسز ایک ساتھ چلانے کی درخواست کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا تو پشاور ہائی کورٹ نے کیسے سن لیا؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرموثر ہوچکا ہے، انٹراپارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے تھے اس لئے پٹیشن بھی وہیں کیے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت کی معاونت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں انہیں بات کرنے دیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پشاور ہائی کورٹ میں فورم شاپنگ کرنے نہیں گئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فورم شاپنگ کی بات آپ نے کی،میں نے نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لاہور ہائی کورٹ کیوں پسند نہیں آئی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ پشاور کے علاوہ کہیں بھی سکیورٹی نہیں مل رہی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سکیورٹی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے،ہر طرف گرفتاریوں کی وجہ سے پشاور میں سکیورٹی ملنے پر وہاں انتخابات کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے، کیا پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا نکتہ اٹھایا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سمیت دو ہائی کورٹس والا نکتہ بھی اٹھایا تھا، لاہور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کی ایک درخواست خارج کر چکی ہے، پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہونے کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ نے درخواست خارج کی،چیف جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ نہیں بنے گا، کیا لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو انٹراکورٹ اپیل واپس لے لی گئی تھی، وکیل حامد خان نے کہا کہ جن درخواستوں کا ذکر ہو رہا ہے وہ امیدواروں نے اپنے طور پر دائر کی تھیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار عمر آفتاب صدر پی ٹی آئی شیخوپورہ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا پارٹی کی جانب سے تھی، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں تضاد تو آ گیا ہے،کیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت فریق ہی نہیں تھی تو چیلنج کیسے کرتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ہو دوسری ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا تو فوقیت کسے ملے گی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے کو فوقیت دی جائے گی، عمر ایوب کو اختیار نہیں تھا کہ نیازاللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرتے،

    جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پہلے موقف تھا کہ جون 2022 والے انتخابات درست تھے،دوبارہ الیکشن پر جو عہدیدار فارغ ہوئے کیا ان کے حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ کیا پہلے والے انتخابات بھی بلامقابلہ تھے؟ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سال 2021 میں انتخابات کا نوٹس جاری کیا تو جواب آیا کہ کرونا کی وجہ سے نہیں کرا سکتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی شوکاز دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں نگران حکومت کے دبائو میں کام نہیں کر رہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ایک سال کی مہلت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کیساتھ رویہ اب سخت ہوگیا ہے یا پہلے سے تھا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو وقت مانگنے پر ایک سال دیا پھر کہا انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے،پہلے پی ٹی آئی سرکاری پارٹی تھی اب شاید نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ضروری ہے، نیاز اللہ نیازی کا تقرر کسی بھی انتخاب کے بغیر ہوا،

    الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور جماعت کا ہے،الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو بھی اتنی باریکی سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر جواب دینگے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج پارٹی انتخابات نہ کرانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کو نوٹس کیا گیا تھا،کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ تحریک انصاف کے ساتھ امتیازی سلوک کرہے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا، ایکٹ تمام سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل آج بھی اسد عمر ہی ہیں، جسٹس مسرت نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی آگاہی کیلئے قانون میں کوئی طریقہ کار ہے؟ ہر شخص کے پاس واٹس ایپ کی سہولت تو نہیں ہوتی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون صرف شفاف انٹراپارٹی انتخابات کی بات کرتا ہے،

    بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارا جھگڑا 22 دسمبر کے انتخابات کا ہے،سب سے پہلے تو ہائیکورٹ کو ڈکلئیر کرنا تھا کہ انتخابات درست ہوئے، انتخابات درست ہوئے تو انتخابی نشان کا مسئلہ آئے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انتخابات درست قرار دینے کا ڈیکلریشن نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنیادی چیز جمہوریت ہے، ملک اور سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت ہونی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پی ٹی آئی وکیل حامد خان کی تعریف کردی، کہا حامد خان صاحب کل پوری تیاری کرکے آئیں اور مخدوم علی خان کو بولڈ کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پٹیشن میں بھی انٹرا پارٹی انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں تھی، استدعا انتخابات سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور انتخابی نشان کیلئے کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر صرف پارٹی انتخابات درست قرار پاتے تو باقی کسی استدعا کی ضرورت نہیں تھی،لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا الیکشن ایکٹ کی دفعات کالعدم قرار دیے بغیر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوسکتا،کیا پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ میں استدعائیں آئین کیخلاف نہیں تھیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری نظر میں استدعا آئین کیخلاف تھیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسد عمر نے پارٹی عہدہ چھوڑا تو ایسے میں پی ٹی آئی کا آئین کیا کہتا ہے؟ کیا ہنگامی طور پر کوئی سیکرٹری جنرل تعینات ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اگر الیکشن کمشنر کی نامزدگی کریں تو بھی ون مین شو نہیں ہوسکتا، کیا پشاور ہائی کورٹ نے پارٹی انتخابات پر کوئی رائے دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مختصر فیصلے میں پارٹی انتخابات کا ذکر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ "بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے”پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دینے کا مطلب ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،

    تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا حیرت کا اظہار
    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے اس کا کیا بنا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حتمی فیصلہ نہیں آیا پی ٹی آئی کو شوکاز جاری کردیا گیا تھا، شوکاز پر کاروائی ابھی جاری ہے، ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنگل بینچ نے تو شواہد ریکارڈ کرنے کی ہدایت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارن فنڈنگ میں بھی بے پناہ بے ضابطگی تھی،

    انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ دھرنا کیس میں الیکشن کمیشن نے قانون کو کاسمیٹک کہا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا آپشن نہیں ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نو سال سے ممنوعہ فنڈنگ کیس ہی نہیں ہوسکا، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی چلتی رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں الیکشن کمیشن کو کارروائی کا حکم دیا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر مبنی قانون غیرموثر کر دیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،لاہور ہائیکورٹ میں پانچ رکنی بنچ میں آج سماعت تھی علی ظفر نے التواء مانگا،

    اکبر ایس بابر سے بانی رکن ہونے،پی ٹی آئی سے اکبر ایس بابر کو نکالنے کا ثبوت طلب
    وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں نوٹس کیا گیا نہ موقف سنا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا تھا تو پہنچ جاتے،حامد خان بھی آج خود پیش ہوئے ہیں،وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، کاغذات نامزدگی لینے مرکزی سیکرٹریٹ گئے لیکن کچھ نہیں دیا گیا، الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی نے پریس ریلیز جاری کی تھی، ہر شہری کا حق ہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت جوائن کر سکتا ہے،اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں کبھی مستعفی ہوئے نہ کوئی اور جماعت جوائن کی، عدالت نے اکبر بابر سے بانی رکن ہونے کا ثبوت مانگ لیا ،پی ٹی آئی سے اکبر بابر کو نکالنے کی دستاویزات بھی طلب کر لی گئی، تفصیلی فیصلہ کب آئے گا، چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے معلومات لینے کی ہدایت کر دی

    پی ٹی آئی کے بلے کے نشان کے حوالے سے کیس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی گئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرلئے،تحریک انصاف کے وکلا کل دلائل کا آغاز کریں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، ہم بھی تھک گئے ہیں،آپ آج دلائل دیں گے یا کل؟ ہم کل صرف آپ کیلئے بیٹھیں گے، بتائیں کس وقت سماعت رکھیں،ہم انتخابات کروانا چاہتے ہیں ، آپ جو چاہیں گے ہم وہ کریں گے، فیصلہ نہیں صرف سماعت کا وقت، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کل ساڑھے نو بجے دلاٸل شروع کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم سماعت کل دس بجے شروع کر لینگے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادراہ ہے جس کا کام صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں،چیف جسٹس

    آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں،چیف جسٹس

    پرویزمشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آل پاکستان مسلم لیگ کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ نے اکاونٹس کی تفصیل نہیں دی اس لیے جماعت ڈی لسٹ کی گئی، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا آل پاکستان مسلم لیگ نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے،

    وکیل آل پاکستان مسلم لیگ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی دکھائی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں بتائیں الیکشن کمیشن کے آرڈر میں غلطی کیا ہے بس بد نیتی کا الزام لگا دیا بس۔،دکھائیں کیا غلطی ہے الیکشن کمیشن کے فیصلہ میں،پاکستان میں ایک عادت ہو گئی ہے کہ ہر آدمی کو ڈس کریڈٹ کرو اُس پر الزام لگا دو،

    اے پی ایم ایل کے وکیل نے ماسک ناک کے نیچے پہن کر دلائل دینے کی کوشش کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سن نہیں پا رہا، یا آپ ماسک پہنیں یا اتار دیں،سانس تو ناک سے بھی اندر جا رہی ہے،منہ کور کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،وکیل نے ماسک اتار کر جیب میں ڈال لیا.

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،