Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • لاہور ہائیکورٹ کو 21 اگست  تک پرویز الہی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کو 21 اگست تک پرویز الہی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ، سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو 21 اگست کو پرویز الہی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ 21 اگست کو فیصلہ نہیں کرتی تو گرفتاری کا عبوری حکمنامہ معطل تصور ہو گا،لاہور ہائیکورٹ نے عبوری حکمنامے میں پرویز الہی کی ضمانت مسترد کی تھی ،جسٹس اعجازالااحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی

    پرویز الہیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو نگران حکومت آتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، درخواست گزار کو مختلف مقدمات اور انکوائریوں میں جعلی طریقے سے ملوث کیا جا رہا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کی دس روز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی،لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کو کسی بھی نامعلوم مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا، ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کو کسی بھی زیر التوا انکوائری میں سنے بغیر گرفتار کرنے سے روکا،درخواست گزار تمام درج مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر چکا ہے،درخواست گزار کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمات بنائے جا رہے ہیں، درخواست گزار کے زندہ رہنے اور آزادی کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • سپریم کورٹ نے این اے 131 لاہور میں دوبارہ گنتی کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی

    سپریم کورٹ نے این اے 131 لاہور میں دوبارہ گنتی کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی

    اسلام آباد :سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی این اے 131 لاہور میں دوبارہ گنتی کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں این اے 131 لاہور دوبارہ گنتی کی درخواست پر سماعت کی دوران سماعت چیف جسٹس نےعمران خان کے وکیل بابر اعوان سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ گنتی کی اپیل تو اب غیر موثر ہو چکی ہے جس پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ جی سر بلکل غیرموثر ہو چکی ہے لیکن اگر اجازت دیں تو اس معاملہ پر چئیرمین پی ٹی آئی سے نئی ہدایات لے لوں، چیف جسٹس نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد اس معاملے پر کیا ہو سکتا ہے، لہٰذا نئے انتخابات کا انتظار کرنا چاہیے،چیئرمین پی ٹی آئی وکیل کا کہنا تھا کہ نئے انتخابات کا تو ہمیں بھی بے صبری سے انتظار ہےسپریم کورٹ نے درخواست عمران خان کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے این اے 131 لاہور میں دوبارہ گنتی کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی جس پر لاہور ہائیکورٹ نے سعد رفیق کی درخواست پر این اے 131 میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کر رکھا تھا-

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب

    آپ چیف جسٹس پاکستان آ رہے ہیں، میں ایک انتہائی اہمیت کے حامل معاملے پر آپکی توجہ چاہتی ہوں،یہ مسئلہ عدالتی حد سے تجاوز کے حوالہ سے ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوا تھا، "ڈیم فنڈ” کے فصٰلہ بارے نہ صرف فکر مند ہوں بلکہ پاکستان کو اس وقت جو سنگین معاشی مسائل ، چیلنج درپیش ہیں انکے حوالے سے توجہ چاہتی ہوں،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جولائی 2018 میں ڈیم فنڈ کی تشکیل کی گئی، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، یہ فیصلہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن سمیت چار رکنی بینچ نے سنایا۔ میڈیا میں رپورٹ کئے گئے، عدالتی فیصلہ کے مطابق ، اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی اتھارٹی یا محکمہ ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہ کرے۔ مزید برآں، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ فنڈ کا استعمال سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ آڈٹ پر منحصر ہوگا۔

    21 اپریل 2023 کو دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تقریب کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بتایا کہ کس طرح ان کا شروع کیا ڈیم فنڈ 10 ارب روپے سے بڑھ کر 17 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ اس اضافے کی وجہ سرکاری ٹی بلز میں سرمایہ کاری تھی۔ غور طلب ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما بھی ڈیم کے لیے فنڈ ریزنگ مہم میں شامل ہوئے۔ بہت سے لوگ ثاقب نثار کے بیرون ملک فنڈ ریزنگ کے دوروں میں ساتھ گئے۔ مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے فنڈز اکٹھے کیے گئے جن میں سرکاری ملازمین اور سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے بھی شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے 9 جنوری 2019 کو اطلاع دی کہ ڈیم فنڈ کے لیے 50 سے زائد ممالک سے 9.1 بلین روپے جمع کیے گئے ہیں۔

    اگرچہ ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالنے میں لوگوں کی فراخدلی کو کم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس میں بہت سے خدشات ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جمع شدہ فنڈز، جن کی رقم 17 ارب روپے ہے، فی الحال ایک اکاؤنٹ میں رکھی گئی ہے۔ تاہم، یہ فنڈز بنیادی طور پر ایگزیکٹو کے وسائل کا حصہ ہیں، اور ان کے مقصد اور استعمال پر پوری طرح غور کیا جا سکتا ہے، پاکستان معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے، جیسا کہ اس کے قرضوں پر انحصار سے ظاہر ہوتا ہے، بشمول آئی ایم ایف کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں، اور صرف مالی سال 2023-24 میں 19 بلین ڈالر کے بیرونی ذخائر۔ ان معاشی دباؤ کی روشنی میں، اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا غیر فعال اکاؤنٹ میں 17 ارب روپے رکھنا ملک کے بہترین مفادات میں ہے یا نہیں ؟

    پاکستان کے آنے والے چیف جسٹس کی حیثیت سے، مجھے انصاف کے لیے آپ کے عزم پر پورا بھروسہ ہے۔ ایک ٹیکس دہندہ اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے، میں آپ سے پر خلوص التجا کرتی ہوں کہ ملک کی اہم ضروریات کے لیے حکومت کو یہ فنڈز جاری کرنے پر غور کریں۔ مجھے پوری امید ہے کہ آپ کا انصاف کا احساس، شفافیت، مالیاتی ذمہ داری اور قومی بہبود کے اصولوں سے رہنمائی لیتے ہوئے، اس معاملے کے مناسب حل کا باعث بنیں گے،

  • جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کر دی گئی
    ریفرنس صدر سول سوسائٹی نیٹ ورک آمنہ ملک کی طرف سے دائر کیا گیا ہے ،ریفرنس میں جسٹس سردار طارق کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کفر والا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن وہ نہیں جہاں ناانصافی ہو،سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے لیے اپنے مالیاتی،ٹیکس معاملات کو قوم اور ریونیو ڈویژن سے چھپانا غیر مناسب بلکہ حیران کن ہے،معلومات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دو کروڑ 46 لاکھ روپے کا دعویٰ کیا، انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت کسی دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس رقم کی تائید نہیں ہوتی،معزز جج قانونی طور پر رقم سے متعلق دستاویزی ثبوت ظاہر کرنے اور فراہم کرنے کا پابند ہے،رقم کس سے اور کیسے حاصل کی گئی یہ بتانا ضروری ہے،رقم کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے بینکنگ چینل، دستاویزات سے ثابت کرنا ضروری ہے، اتنی بڑی رقم کے ثبوت فراہم نہ کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے

    ریفرنس میں جسٹس اخلاق حسین کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے عہدے پر بیٹھے ایک شخص کا سے یہ عمل حیران کن ہے، کوئی بھی ملک کے قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے مزید مواد/ڈیٹا/ثبوت حاصل کر سکتی ہے،پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی نمائندگی کرنے والا شخص جان بوجھ کر مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام کا انتخاب کر رہا ہے،

    ریفرنس میں ججز کے حلف کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آئین پاکستان ججز سمیت سب کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے،جج کی طرف رقم اکے ذرائع چھپانا عملی طور پر آرٹیکل 4 اور 5(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جسٹس سردار طارق مسعود سنگین مس کنڈڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر بیٹھے جسٹس سردار طارق مسعود نے مالی مجرمانہ ذہنیت دکھائی،اثاثے اور ذرائع چھپانے پر سردار طارق مسعود کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، جسٹس سردار طارق مسعود کو عہدے سے ہٹایا جائے،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    دوسری جانب بار کونسل نے جسٹس سردار طارق کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جسٹس سردار مسعود انتہائی قابل، راست باز اور آزاد جج ہیں اور ان کی دیانت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے، پاکستان بار کونسل نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کے لیے جدو جہد کی، ریفرنس کو فوری طور پر واپس نہ لینے پر قانونی برادری ہر سطح پر اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

  • حلقہ بندیوں کا کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا

    حلقہ بندیوں کا کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں سپریم کورٹ میں متعدد بارحلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا ہے الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کارسے کرے ٹپے دار سرکل کو ذرا بھی متاثر کرنے سے امیدوار کو پڑنے والے ووٹ متاثر ہوتے ہیں سندھ میں حلقہ بندیوں پر حساسیت زیادہ ہے سندھ سے اکثر یہ گلا کیا جاتا ہے کہ حلقہ بندیاں درست نہیں ہوئیں ،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کب کرا رہا ہے؟ اس پر ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکا دیے اور کوئی جواب نہیں دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی ابھی تو انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں ہوئی الیکشن کمیشن انتخابات سے قبل تمام معاملات حل کرے،سپریم کورٹ نے حلقہ بندیوں سے متعلق معاملہ واپس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا

    سندھ میں صوبائی حلقے پی ایس 7، 8 اور 9 شکارپورکی حلقہ بندیاں سپریم کورٹ میں چیلنج کی گئی تھیں

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • سپریم کورٹ، احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ، احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت ہوئی ہے یا نہیں یہ طے کرنا ہمارا کام ہے، درخواست گزار محمود اختر نقوی صاحب آپ نے اطلاع دی آپ کا شکریہاس کیس کو مزید چلانے کے لیے گراؤنڈ موجود نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد احسن اقبال کو بلا کر کیا پوچھنا ہے،اگر کوئی سنجیدہ بات ہوئی تو پھر دیکھیں گے،سپریم کورٹ اس پر کوئی سخت نوٹس نہیں لے رہی، ہمارے فیصلوں میں اتنا وزن ہونا چاہیے کہ ان کی تعمیل کی جائے،احسن اقبال نے 25 اپریل 2018 کو بیان دیا تھا کہ جج جرنیل کی طرح ہماری بھی عزت ہے ،احسن اقبال نظم و ضبط والے انسان ہیں، احسن اقبال نے 2018 میں سیمینار سے خطاب میں یہ کہا کہ ان کی بھی عزت نفس کا تحفظ ہونا چاہیے،نہیں سمجھتے کہ کچھ ایسا کہا گیا جس کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے،

    درخواست گزار محمود نقوی نے کہا کہ میرا مدعا یہ ہے کہ کوئی بھی آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تقریر نہ کیجیے،سپریم کورٹ کا توہین عدالت کا اختیار عام استعمال کیلئے نہیں ہے، احسن اقبال نے جذباتی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ ان کی عزت بھی کسی جج یا جرنیل کے برابر ہے،چیف جسٹسمیری نظر میں احسن اقبال بڑے سنجیدہ اور دانشور شخص ہیں،

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ مولوی اقبال حیدر نے 2 مئی 2018 کو سابق وزیر داخلہ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی. درخواست میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کی کاروائی کی استدعا کی گئی تھی اور درخواست میں احسن اقبال کو آئین کے آرٹیکل 63،64 کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اسکے علاوہ سابق وزیر داخلہ سے تمام مراعات اور تنخواہ واپس لینے کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی تھی.

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر

    پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت سماعت کے مقررکر دی گئی

    چیف جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ 16 اگست کو سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس شاید وحید شامل ہیں،پرویز الہٰی نے لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کا سترہ جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی

    پرویز الہیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو نگران حکومت آتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، درخواست گزار کو مختلف مقدمات اور انکوائریوں میں جعلی طریقے سے ملوث کیا جا رہا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کی دس روز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی،لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کو کسی بھی نامعلوم مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا، ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے درخواست گزار کو کسی بھی زیر التوا انکوائری میں سنے بغیر گرفتار کرنے سے روکا،درخواست گزار تمام درج مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر چکا ہے،درخواست گزار کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمات بنائے جا رہے ہیں، درخواست گزار کے زندہ رہنے اور آزادی کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے

  • نگران وزیراعظم،سپریم کورٹ کا فیصلہ، وزیراعظم نے اتحادیوں کو بلا لیا

    نگران وزیراعظم،سپریم کورٹ کا فیصلہ، وزیراعظم نے اتحادیوں کو بلا لیا

    نگران وزیراعظم کی مشاورت اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس طلب کر لیا،

    وزیراعظم شہباز شریف آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے، نگران وزیراعظم کے لئے کل وزیراعظم نے راجہ ریاض سے ملاقات کی تھی، آج بھی ملاقات ہونی ہے تا ہم اب وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے، وزیراعظم آج رات رہنماؤں کو عشائیہ بھی دیں گے

    وزیراعظم کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری، ساجد میر، خالد مقبول صدیقی، اویس نورانی،آفتاب شیر پاؤ، عبدالمالک بلوچ، ایمل ولی کو دعوت نامہ بھجوا دیا ہے،وزیراعظم آج اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی سمیت قانونی ماہرین سے بھی ملیں گے ، ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جائے گا،

    اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے عشائیہ میں وزیراعظم نگران وزیراعظم کے لئے حتمی نام پر مشاورت کرین گے بعد ازاں راجہ ریاض کو اعتماد میں لیں گے

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،اعظم نذیر تارڑ

    مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،اعظم نذیر تارڑ

    سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج فیصلہ آنے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ پارلیمان کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھایا گیا ہے

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے کیس پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا قانون سازی کے بعد سب اب پانچ سال بعد سیاست کیلئے اہل ہو چکے ہیں ہ سیاست میں حصہ لینا بنیادی حق ہے ،نااہلی کی سزا پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی آئین میں طریقہ کار واضح ہے کہ اداروں نے کیسے چلنا ہے یہ قانون بار کونسلز اور بارایسوسی ایشنز کا پرانا مطالبہ تھا اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے نواز شریف کے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گاعدالت کا کام کیسز کا فیصلہ کرنا ہے اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے پارلیمان کے اختیار میں عدالت کی بار بار مداخلت اچھی روایت نہیں اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے۔ آئین کہتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کا وکیل رکھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • سول ایوی ایشن کے ملازمین کی پنشن،مراعات ، فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سول ایوی ایشن کے ملازمین کی پنشن،مراعات ، فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ، سول ایوی ایشن کے ملازمین کی پنشن اور مراعات کا معاملہ ،سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پنشنرز کے حق میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دیے گیے عبوری فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    ڈی جی سول ایویشن نے ملازمین کی پنشن اور مراعات سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے میرٹ سے ہٹ کر فیصلہ کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے سول ایویشن اتھارٹی کے سروس کے قواعد کو مدنظر نہیں رکھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کے ناقابل سماعت ہونے کے پہلو کو نہیں جانچا،

    سول ایوی ایشن کے تقریباً ڈیرہ ہزار متاثرہ ملازمین نے مرعات اور پینشن کے حصول کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ،ہائیکورٹ نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ایوی ایشن کے سروس معاملات ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں

    ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

    زرتاج گل نے مہلت مانگ لی،کیوں نہ ذمہ داروں کو جانوروں کے پنجروں میں بند کر دیں؟ عدالت

    قدرت نے جانوروں کو انسانوں کی انٹرٹینمنٹ کے لیے پیدا نہیں کیا،عدالت

    جانوروں کے مسائل اجاگر کرنیوالی این جی اوز اپنے رشتے داروں کا بھی خیال رکھیں،عدالت میں کس نے ایسا کہا؟