Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • نگران وزیراعظم،سپریم کورٹ کا فیصلہ، وزیراعظم نے اتحادیوں کو بلا لیا

    نگران وزیراعظم،سپریم کورٹ کا فیصلہ، وزیراعظم نے اتحادیوں کو بلا لیا

    نگران وزیراعظم کی مشاورت اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس طلب کر لیا،

    وزیراعظم شہباز شریف آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے، نگران وزیراعظم کے لئے کل وزیراعظم نے راجہ ریاض سے ملاقات کی تھی، آج بھی ملاقات ہونی ہے تا ہم اب وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے، وزیراعظم آج رات رہنماؤں کو عشائیہ بھی دیں گے

    وزیراعظم کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری، ساجد میر، خالد مقبول صدیقی، اویس نورانی،آفتاب شیر پاؤ، عبدالمالک بلوچ، ایمل ولی کو دعوت نامہ بھجوا دیا ہے،وزیراعظم آج اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی سمیت قانونی ماہرین سے بھی ملیں گے ، ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جائے گا،

    اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے عشائیہ میں وزیراعظم نگران وزیراعظم کے لئے حتمی نام پر مشاورت کرین گے بعد ازاں راجہ ریاض کو اعتماد میں لیں گے

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،اعظم نذیر تارڑ

    مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،اعظم نذیر تارڑ

    سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج فیصلہ آنے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ پارلیمان کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھایا گیا ہے

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے کیس پر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا قانون سازی کے بعد سب اب پانچ سال بعد سیاست کیلئے اہل ہو چکے ہیں ہ سیاست میں حصہ لینا بنیادی حق ہے ،نااہلی کی سزا پانچ سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی آئین میں طریقہ کار واضح ہے کہ اداروں نے کیسے چلنا ہے یہ قانون بار کونسلز اور بارایسوسی ایشنز کا پرانا مطالبہ تھا اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے نواز شریف کے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گاعدالت کا کام کیسز کا فیصلہ کرنا ہے اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے پارلیمان کے اختیار میں عدالت کی بار بار مداخلت اچھی روایت نہیں اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے۔ آئین کہتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کا وکیل رکھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • سول ایوی ایشن کے ملازمین کی پنشن،مراعات ، فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سول ایوی ایشن کے ملازمین کی پنشن،مراعات ، فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ، سول ایوی ایشن کے ملازمین کی پنشن اور مراعات کا معاملہ ،سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پنشنرز کے حق میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دیے گیے عبوری فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    ڈی جی سول ایویشن نے ملازمین کی پنشن اور مراعات سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے میرٹ سے ہٹ کر فیصلہ کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے سول ایویشن اتھارٹی کے سروس کے قواعد کو مدنظر نہیں رکھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کے ناقابل سماعت ہونے کے پہلو کو نہیں جانچا،

    سول ایوی ایشن کے تقریباً ڈیرہ ہزار متاثرہ ملازمین نے مرعات اور پینشن کے حصول کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ،ہائیکورٹ نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ایوی ایشن کے سروس معاملات ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں

    ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

    زرتاج گل نے مہلت مانگ لی،کیوں نہ ذمہ داروں کو جانوروں کے پنجروں میں بند کر دیں؟ عدالت

    قدرت نے جانوروں کو انسانوں کی انٹرٹینمنٹ کے لیے پیدا نہیں کیا،عدالت

    جانوروں کے مسائل اجاگر کرنیوالی این جی اوز اپنے رشتے داروں کا بھی خیال رکھیں،عدالت میں کس نے ایسا کہا؟

  • سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.

    جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.

    اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.

    لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.

    تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.

  • وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے عمران خان کو وکیل قتل کیس میں 24 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا

    کوئٹہ میں وکیل قتل کیس، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے 24 اگست تک چیئرمین پی ٹی آئی کو وکیل قتل کیس میں گرفتاری سے روک دیا ،شکایت کنندہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے ججز پر اعتراض اٹھا دیا ،عدالت نے کہا کہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کوگرفتارنہ کرنے کا حکم برقرار رہے گا،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی

    دوران سماعت مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی اور جسٹس مظاہر نقوی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ،دوران سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل امان اللہ کو بیٹھنے کی ہدایت کی ،جسٹس مظاہر نقوی کی ہدایت کے بعد وکیل امان اللہ کنرانی نے بینچ ممبران پر اعتراضات اٹھا دئیے ،جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کیا کہ کیا اپ نے ایف آئی آر پڑھی ہے ؟ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں نے آپکا فیصلہ بھی پڑھا ہے ،غلام محمد ڈوگر کیس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نے از خود نوٹس لینے کا لکھا جسٹس حسن اظہر رضوی کے خلاف بھی سندھ ہائیکورٹ میں کیس زیر التواء ہے ،

    جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں ایسے بات کرنے والے؟ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ جج بنیں گے تو ہم حاضر ہیں، ججز پارٹی بنیں گے تو پھر ہم کیا کریں گے ،جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آج یہ ذمہ داری دی گئی ہے ؟ کیا وکیل کا یہ رویہ ہوتا ہے، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا کہ
    آپ کے جو اعتراضات ہیں وہ تحریری طور پر لکھ کر دیں، ہم کیس ملتوی کررہے ہیں،

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے کہا کہ ہم بے جان نہیں اپنی بات کا جواب نہ دیں،امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہم بھی غلام نہیں، ججز تنخواہ لیتے ہیں،اپ ڈنڈا ماریں گے تو پھر ہم کیا ہم کھڑے رہیں

    امان اللہ کنرانی بولے "اگر آپ پارٹی بنیں گے تو ہم بات کریں گے” جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "آپ کو یہاں یہ سب کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے؟ ہم کمزور نہیں ہیں آپکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ امان اللہ کنرانی بولے ” جج صاحب آپ شاوٹ نا کریں میں کوئی غلام نہیں ہوں”جسٹس مظاہر نقوی نے کہا "ہم بھی غلام نہیں ہیں”

    جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ جب تک عدالت کی عزت نہیں کریں گے ہم آپکو نہیں سنیں گے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپنے الزامات واپس لیں، ہم نے 35 سال عزت سے گزارے ہیں، آپ نے الزامات لگائے اب بتائیں میرے اوپر کوئی ایف آئی آر ہے، جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل امان اللہ کنزانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بینچ سے معافی مانگیں ،وکیل امان اللہ کنزانی نے کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہمیں آپکی معافی قبول کرتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس مظاہر نقوی سے استفسار کیا کہ آپکی کیا رائے ہے ؟ جسٹس مظاہر نقوی نے جواب دیا کہ میں زبانی معذرت قبول نہیں کرتا ،،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں قبول کرتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ
    امان اللہ کنرانی صاحب آپ بیان تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگیں ،امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں تحریری طور پر معافی نہیں مانگوں گا آپ میرے خلاف کاروائی چلائیں ،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر تحریری حکمنامہ جاری کریں گے،

    وکیل امان اللہ کنرانی نے کمرہ عدالت میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ آپ تو بڑے ہیں میں معافی مانگ لیتا ہوں، آپ جج بنیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر پارٹی بنیں گے تو میں بولوں گا، وکیل امان اللہ کنرانی نے جسٹس مظاہر نقوی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بننا ہے تو آپ کرسی سے اتر جائیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر اعتراض لگ گیا

    ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر اعتراض لگ گیا

    سپریم کورٹ ،بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ ،ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی گئی

    اعتراض میں کہا گیا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواست میں ذاتی مفاد کے معاملے کو نہیں سنا جا سکتا، درخواست گزار نے سپریم کورٹ آنے سے قبل متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا،درخواست میں عوامی مفاد وابستہ ہونے کے معاملے کی وضاحت نہیں کی گئی،درخواست سپریم کورٹ رولز 1980 پر پورا نہیں اترتی ،درخواست ایڈوکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی تھی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ مبینہ ویڈیوز کو پبلک کرنے سے روکا جائے، سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر آئی جی پنجاب سمیت کسی تحقیقاتی افسر کا تبادلہ نہ کیا جائے،پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ جوڈیشل کمیشن کو پولیس تحقیقات تک کام سے روکا جائے،پولیس اور ایف آئی اے کو 15 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا جائے،عدالتی اجازت کے بغیر واقعہ سے متعلق تفصیلات کسی سیاسی شخصیت کو فراہم نہ کی جائیں مبینہ ویڈیو کلپس غیر متعلقہ افراد پبلک کر رہے ہیں .سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ ویڈیوز شیئر کرنے سے روکا جائے تاکہ طلبا کو بلیک میل نہ کیا جاسکے،طلبا کی غیر اخلاقی مبینہ ویڈیوز شیئر کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے،سیاسی افراد کی مداخلت کے باعث شفاف تحقیقات ممکن نہیں،درخواست میں وفاق،پنجاب حکومت اور ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر سے منشیات، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہونے کے کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر سید اعجاز اور ڈائریکٹر فنانس ابو بکر کے موبائل فونز کا فرانزک مکمل کرلیا گیا ہے۔ بہاولپور میں گرفتار ہونے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر سے منشیات، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہونے کے کیس میں ہوشرباء انکشافات سامنے آگئے جس میں ملزم اعجاز شاہ اور ڈائریکٹر فنانس ابوبکر کے موبائل فونز کا فرانزک مکمل کرکے ویڈیوز، چیٹس اور تصاویر کے حوالے سے جامعہ رپورٹ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کردی گئی۔

    نئے وائس چانسلر نے سینیٹ قائمہ کمیٹی میں اہم انکشافات کئے

    سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا

    منشیات کی مبینہ خرید و فروخت انکوائری کمیٹی تشکیل

    طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ بعض لوگوں نے اپنا ایجنڈا دوسرے کے منہ سے نکلوانے کی کوشش کی، 

  • سپریم کورٹ،پارک ویو سٹی کے تنازعے سے متعلق رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،پارک ویو سٹی کے تنازعے سے متعلق رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ: پارک ویو سوسائٹی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے چئیرمین سی ڈی اے سے پارک ویو سٹی کے تنازعے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ،پارک ویو سٹی کے وکیل نے این او سی معطلی کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ این او سی بحالی سے متعلق معاملہ تمام تنازعات کے حل کے بعد دیکھیں گے ،ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارک ویو سٹی نے مارگلہ نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے،پارک ویو سٹی کے نیشنل پارک کی زمین پر تعمیراتی کام سے ماحولیاتی خطرات ہو سکتے ہیں،پارک ویو سٹی کے غیر قانونی قبضے میں زمین واگزار کرائی جانی چاہیے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ پارک یا جنگل کی زمین کسی اور مقصد کے لیے استعمال نا ہو، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت مزید ماحولیاتی تباہی کا انتظار کر رہی ہے؟ سی ڈی اے قدرتی مسکن کو تباہ کرنے والی ہاوسنگ سوسائٹی کو زمین کیسے دے سکتی ہے؟ سی ڈی اے نے زمین کے اجراء کے وقت ماحولیاتی تحفظ سے متعلق جائزہ کیوں نہیں لیا؟ ممبرسی ڈی اے پلاننگ نے عدالت میں کہا کہ پارک ویو سوسائٹی کسی نیشنل پارک کی زمین پر نہیں، پارک ویو پر بوٹینکل گارڈن کی زمین استعمال کا الزام بھی درست نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مطمئن ہیں تو پھر تنازعہ ہی ختم،بہتر ہو گا ایک ایسا ہی بیان چئیرمین سی ڈی اے کی جانب سے آ جائے، سوسائٹی کو عبوری حکمنامے سے ملا ریلیف بھی برقرار رہے گا، سی ڈی اے کو معاوضے کی عدم فراہمی کے شکایت کنندگان کو سننے کی ہدایت کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے آئندہ سماعت سے پہلے تمام معاملات حل کرے،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی،کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

  • انتخابات کے لیے نئی مردم شماری،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اعلامیہ

    انتخابات کے لیے نئی مردم شماری،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اعلامیہ

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انتخابات کے لیے نئی مردم شماری کے فیصلے کو مسترد کردیا

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں ،نئی مردم شماری انتخابات کے انعقاد میں غیر آئینی تاخیر کا سبب بنے گی،آئین کے مطابق مقررہ وقت میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے،آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں، الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کرنے کا پابند ہے، 

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں حالیہ اضافے کے لیے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی ضرورت ہےصوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے،

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں دو دن قبل ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دے دی گئی ملک بھر میں نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے ،پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 میں مکمل ہو چکی ہے

  • توشہ خانہ کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،

    درخواست میں توشہ خانہ کیس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا جائے،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، توشہ خانہ کیس کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے،توشہ خانہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک سزا معطل کی جائے،درخواست آئین کے آرٹیکل 184 دو کے تحت دائر کی گئی ہے ،درخواست ایڈوکیٹ لاہور ہائیکورٹ صائمہ صفدر نے دائر کی ،درخواست میں درخواست میں پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد، حکومت اور جج ہمایوں دلاور کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو دو روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کا کہنا ہے کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کوسب سےسخت سزا سنائی ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں عابد زبیری نے کہا کہ خواجہ حارث احتساب عدالت میں مصروف تھے، عدالت نے کہا کہ ساڑھے 12 بجے تک نہ آئے تو فیصلہ سنادیں گےاس کے بعد عدالت نے کہا کہ وکیل پیش نہیں ہوئے اور کیس کے میرٹ پرفیصلہ سنا دیا حق دفاع کا کیس اب بھی ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے، جب دائرہ اختیار طے نہیں ہوا تو مرکزی کیس پر کیسے فیصلہ سنا دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کے کیسز میں فیصلہ آنے میں سالوں لگ جاتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو عجلت میں سزا کیوں سنائی گئی چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے، فیصلہ اسلام آباد سے آیا، گرفتارلاہور سے کرلیا گیا، وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیسے ہوا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 180 کیسز ہیں، ملزم ایک وقت میں ایک کیس میں پیش ہوسکتا ہے، عدالت کچھ انتظارکرلیتی تو آسمان نہیں گرجاتا۔

    عمران خان اٹک جیل منتقل

    سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود کا کہنا تھا عمران خان صرف تین بار عدالت میں پیش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی نے تاخیری حربے استعمال کئے پُرامن احتجاج تمام سیاسی جماعتوں کا حق ہے، پُرتشدد احتجاج کسی صورت قابل قبول نہیں سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر ہوسکتی ہے ہائیکورٹ نے وکلا کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا، وکلا کو ہائی کورٹ کے حکم کی پاسداری کرنی چاہئے تھی۔

    ورلڈکپ2023: ٹیموں کو میگا ایونٹ شروع ہونے سے قبل بڑا ریلیف