Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں ،بیرسٹر اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گٸے ،اعتراز احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں حالیہ ترامیم عدالت میں پیش کردی اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی ترامیم کا نوٹس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ اس قانون کے بعد ایجنسیوں کو اختیار دیا جار ہا بغیر وارنٹ کسی کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس اکیلے از خود نوٹس نہیں لے سکتا،خوش قسمتی سے بل ابھی زیر بحث ہے دیکھتے ہیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان اس قانون پر کیا رائے دیتا ہے زیادہ علم نہیں اس بل بارے اخبارات میں پڑھا ہے،

    اعتراز احسن نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے چھ ججز کی حیثیت فل کورٹ جیسی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل ہے یا قانون ہے،آپ نے ہمارے علم میں لایا آپ کا شکریہ،اعتراز احسن نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے،

    چیف جسٹس کی آبزرویشنز کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل کا اغاز کردیا ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بتائیں آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 175/3 کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں ایسی کوئی شق ہے جس کی بنیاد پر آپ بات کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپکا سوال نوٹ کرلیتا ہوں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پھر میرے سوال سے ہٹ رہے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب آئینی طریقہ کار کی جانب بڑھ رہے ہیں کیس کیسے ملٹری کورٹس میں جاتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو قانون سازوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت تو آئین پاکستان نے دے رکھی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ذکر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ممبرز آرمڈ فورسز اور دفاعی معاملات کیلئے مخصوص ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملٹری کورٹس کورٹ آف لا نہیں تو پھر یہ بنیادی حقوق کی نفی کے برابر ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق ملٹری کورٹ سے صلب کرنا چاہتے ہیں آرمڈ فورسز سے تعلق پر ٹرائل ہو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کل عدالت ممکن نہیں ہو گی ایک جج دستیاب نہیں ہیں
    آگے کچھ جج چھٹیوں پر جانا چاہتے ہیں جون سے کام کر رہے ہیں ہمیں ایک پلان آف ایکشن دینا ہو گاملٹری کورٹ میں سویلین کا ٹرائل ایک متوازی جوڈیشل سسٹم نہیں ہمیں اعتزازاحسن صاحب نے بتایا کہ پارلمینٹ بہت جلدی میں ہے ۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں ؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ مزید لوں گا دشمن ممالک کے جاسوس اور دہشت گردوں کے لیے ملٹری کورٹ کا ہونا ضروری ہےہم عدالت کو یقین دہانی کروا چُکے ہیں کہ کن وجوہات پر مشتمل فیصلے دیں گے آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی، اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آرڈی میں تھے، جیلوں میں بھی جاتے تھے،مگر ان لوگوں نے حملے نہیں کئے،
    نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہوتو ان کے پاس ہتھیار ہیں، وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں،ایسا نہیں ہوسکتا ان پر کہیں حملہ ہورہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں،وہ نو مئی کو گولی بھی چلاسکتے تھے

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ گولی چلائی کیوں نہیں یہ بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہوکہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں، اس لئے ٹرائل کررہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی حکومت 12 اگست کو جارہی ہے یہ کیا یقین دہانی کروائیں گے،اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے عدالت سے چھٹیوں پر جانے سے قبل فیصلہ کرنے کی استدعا کی،

    ملڑی کورٹ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ دو ہفتوں تک تو بینچ کے ممبران دستیاب نہیں ،جیسے ہی ججز دستیاب ہوں گے کیس سنیں گے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو بھی صبح 8 سے شام 8 بجے تک بیٹھیں اور فیصلہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں، روز رات 9 بجے تک بیٹھتا ہوں، اس بنچ کے ممبران کا بھی حق ہے وہ اپنا وقت لیں، چایک ممبر کو محرم کی چھٹیوں سے بھی واپس بلا لیا گیا ہے، ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی،آپ نے ساری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے جنہوں نے اس عدالت کو فعال بنانے میں مدد کی ہے ان کیلئے دل میں احترام ہے، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے،میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،فوج سرحدوں کی محافظ ہے،

    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ چھ رکنی بینچ اب آئیدہ دو ہفتے تک دستاب نہیں ہے کیس کہ آئندہ سماعت میں دو ہفتوں سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ کس کی ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو بتا رہے ہیں ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں افواج پاکستان کے انتہائی سینئر افسران کی جانب سے دی گئی ہدایات عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ٹرائل نہیں ہوگا اٹارنی جنرل کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں برقرار رہیں گی ،میانوالی ایئربیس گرائی گئی، وہاں معراج طیارے کھڑے تھے،ہم فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے،میرے ایک ساتھی جج نے ایک اہم زمہ داری نبھانی ہے میں وہ یہاں بتانا نہیں چاہتا،کچھ ججز کو صحت کے سنگین ایشو ہوسکتے ہیں،کچھ ججز کو چھٹیوں کی ضرورت ہے،عدالتی امور چلتے رہنے چاہئیں اس لئے میں دل سے کوشش کررہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ افواج پاکستان شہریوں پر بندوقیں تان لیں، فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے،

    واضح رہے اٹارنی جنرل نے عدالت کے علم میں لائے بغیر کسی سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • لاپتہ افراد کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    لاپتہ افراد کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    مسنگ پرسن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی

    مسنگ پرسن کی تعداد میں گزشتہ ماہ 157 افراد کا اضافہ رپورٹ ہوا ہے، رپورٹ کے مطابق مسنگ پرسن کی تعداد 9736سے بڑھ کر 9893 ہوگئی ہے، رپورٹ کے مطابق 7616 کیس نمٹا دیئے گئے ہیں تاہم 2277 گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہونا باقی ہے

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل،فل کورٹ کی تشکیل،فیصلہ آ گیا

    سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل،فل کورٹ کی تشکیل،فیصلہ آ گیا

    سپریم کورٹ: سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کا معاملہ ،فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا

    چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔جو آج سنا دیا گیا ہے،سپریم کورٹ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی حکومت سمیت دیگر فریقین نے فل کورٹ بنانے کی استدعا کی تھی۔

    سپریم کورٹ کا موجودہ بینچ ہی سماعت کرے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے عدالت کو ملزمان اور ٹرائل کے حوالے کچھ یقین دہانیاں کروائیں تھیں، ملزمان کو مرضی کا وکیل ،سہولیات کی فراہمی ،اہلخانہ سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے ہم نے آپس میں مشاورت کی ہے ،چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک قابل احترام وکیل ہیں انسانیت کیلئے آپکی خدمات کا میں خود گواہ ہوں
    براہ مہربانی اس طرح کی درخواستیں دائر نہ کریں ہم نے ماضی میں دیکھا ہے اس طرح کے حالات میں فل کورٹ تشکیل ہوئے مگر فعال نہ رہ سکے کچھ ججز کام کرہے ہیں کچھ چھٹیوں پر ہیں فل کورٹ ستمبر تک میسر نہیں اپنا کام جاری رکھیں گے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، ملک میں کون سا قانون چلے گا یہ فیصلہ عوام کریں گے، ہم نے کام ٹھیک کیا یا نہیں تاریخ پر چھوڑتے ہیں، جہاں پر دلائل رکے تھے وہاں سے ہی شروع کردیں،

    سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجر بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت شروع کردی ، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں پر دلائل رکے تھے وہاں سے ہی شروع کردیں،ہمیں اللہ کے سوا کسی کی مدد نہیں چاہیے، عدالت آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام کرتی رہے گی،کسی کو پسند آئے یا نہ آئے یہ تاریخی معاملات ہیں، جو بھی صورتحال ہے اس حوالے سے فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ہمارا کام مقدمات سننا اور فیصلے کرنا ہے، اس وقت جو کچھ ہورہا ہے تاریخ سب دیکھ رہی ہے، ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں،

    وفاقی حکومت اور سول سوسائٹی کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی،وکیل فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے بنچ پر جو اعتراضات اٹھائے گے ہماری درخواست کا اس سے تعلق نہیں، پہلے میں واضح کرونگا کہ ہماری درخواست الگ کیوں ہے، سیاست دانوں اور وزراء کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے،جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہئے،فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے،عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں،حکومت کا سپریم کورٹ کیلئے توہین آمیز رویہ ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن تین ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر درخواست گزاران کا بھی یہی موقف ہے، ،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں اگر کچھ ماہ کی تاخیر ہوجائے تو مسلہ نہیں،

    درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی ،سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ ہمیں اس بینچ پو مکمل اعتماد ہے ،عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا،دو ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے، میں خود 1980 میں 80 دیگر وکلاء کے ساتھ گرفتار ہور تھا،ہم مارشل لاء کے خلاف کھڑے ہوئے تھے دو ججز اٹھنے سے کوئی تنازعہ موجود نہیں 102 افراد کو ملٹری کے بجائے جوڈیشل حراست میں رکھا جائے ،اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر دو ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اعتزاز احسن کی حمایت کرتا ہوں کہ اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سپریم کورٹ، توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے لیکن تحریک انصاف چیئرمین نے یہ مقدمہ رکوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم اب سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس فوری ریلیف نہ مل سکا –

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے الیکشن کمیشن حکام چار اگست کو طلب کر لیا-

    عدالتوں سے اسٹے واپس لیں، ایک ہفتے میں فیصلہ سنا دیں گے،الیکشن کمیشن

    رواں ماہ اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 12 جولائی کو کیس کی سماعت کا دن مقرر کیا تھا-

    واضح رہے کہ 4اگست 2022 کو مسلم لیگ ن کے رہنما محسن نواز رانجھا نے حکمران الائنس پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قانونی ماہرین کے دستخطوں کے ساتھ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ تخائف کی تفصیلات شیئر نہ کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آرٹیکل 62، 63 کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    اس کے بعد 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں آرٹیکل 63(1)(p) کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ انہوں نے توشہ خانہ سے خریداری اور تحائف کی فروخت کی غلط اور جھوٹی دستاویزات جمع کروائی ہیں ریفرنس میں سرکاری تخائف کو بیرون ملک بیچنے کا الزام بھی لگایا گیا اور تمام دستاویزی ثبوت بھی ریفرنس کے ہمراہ جمع کروائے گئے تھے جبکہ عمران خان اور کی قانونی ٹیم کا موقف رہا ہے کہ یہ کیس بدنیتی پر مبنی ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط

  • توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، عطا تارڑ

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، عطا تارڑ

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاتارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے ،جب ٹرائل کورٹ فیصلہ کرتی ہے تو اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج ضرور کیا جاتا ہے، تکنیکی بنیادوں پر میرٹ پر بحث نہ کرنی ہو تو پھر کسی حیلے بہانے سے سٹے آرڈر لینے کی کوشش کرتے ہین، آج جب سماعت ہوئی تو بہت سارے سوال کئے گئے جس کا نہ ملزم کے پاس جواب تھا نہ کسی اور کے پاس،توشہ خانہ کے تحائف لینے پر سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں لئے تھے مگر کسی کو دیے دیئے تھے، تحائف بیچے تھا جواب میں کہا کہ ہاں بیچے تھے مگر میں نے نہیں کسی اور نے بیچے تھے،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحائف کے حوالہ سے کہا جاتا تھا کہ انکو ہوا نہیں لگنے دینی، کسی کو دیکھنے نہیں دینا ملازمین کی ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی تھی، اب جب سوال کیا جاتا ہے تو جواب نہیں دے رہے، روز دو گھنٹے قوم کو لیکچر دیا جاتا ہے ،اخلاقیات پر، اپنے آپ کو امت کا لیڈر کہتے ہیں، یہ نہیں بتا رہے کہ تحائف کی رقم کہاں استعمال ہوئی، ضروری عمل ہے کہ پتہ کروایا جائے کہ یہ رقم کہان خرچ کروائی، دوسروں کو باتیں کرتے تھے کہ رسیداں کڈھو، آج جعلی رسیدیں بنانے پر مجبور ہیں، دفاع میں کوئی بات نہیں کر سکے، پوری پوری مہم پانامہ کے اوپر چلتی رہی، نواز شریف بیٹی کی انگلی پکڑکر جیل میں گئے، یہ تو جیل جانے سے بچنے کے لئے ہر روز بہانے کر رہے ہیں، انتہائی افسوسناک امر ہےکہ بہانے بازی کی جا رہی ہے، چوری پکڑی جا چکی،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ایک کل کیس دائر کیا گیا یہ پاکستان کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے، وکلاٰ چیف جسٹس سے کمرہ عدالت میں کھڑے ہو کر استدعا کریں ، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، ٹرائل کورٹ کو دو بار کہہ چکے کہ مقدمہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ ٹرائل روکا جائے لیکن مسترد ہوئی،سپریم کورٹ گئے دو رکنی بینچ نے کہا کہ ٹرائل کے اندر مداخلت نہیں کی جا سکتی، معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھیجا اب دوسری بار درخواست کیوں؟ کیا یہ قانون کے مطابق جائز ہے؟ کہ ہر سائل سپریم کورٹ دوران سماعت جب ٹرائل کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہو وہ فکس کر دے، آؤٹ آف دا وے نمبر کیسے الاٹ ہوتا ہے؟ یہ واحد ملزم ہے صبح درخواست ڈالتا ہے دوپہر کو نمبر الاٹ ہو جاتا ہے، کیا عبوری حکم نامے کے خلاف دو بار سپرہم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے، پہلے یہ گرفتار تھے تو طریقہ گرفتاری کو بہانہ بنا کر رہا کیا گیا جو جسمانی ریمانڈ پر تھا، پہلے ایسے ملزم کو کبھی رہائی نہین ملی، جسمانی ریمانڈ پر ملزم تحقیقاتی ادارے کے پاس ہے اسکو گڈ ٹو سی یو کہا جا رہا ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ اسکا خیال رکھیں، یہ کیسا مزاق ہو رہا ہے کہ نواز شریف کے کیس میں ججزبیٹھتے ہیں اور مانیٹرنگ جج بھی ہوتا ہے، ادھر الٹی گنگا بہہ رہی ہے، سپریم کورٹ عبوری حکم نامے کے خلاف درخواست سماعت کے لئے مقرر کرتی ہے، نمبر بھی الاٹ کر دیتی ہے، ایک توشہ خانہ کا کیس ہے، تکنیکی بنیادوں پر نو درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو سپریم کورٹ میں دے چکے باوجود اسکے کہ ٹرائل کورٹ کا ابھی تک فیصلہ نہیں آیا،اتنا آؤٹ آف دا وے فیور کیوں کیا جا رہا ہے، شکر کرویہ نہیں کہہ دیا کہ توشہ خانہ ہوتا کیا ہے؟ آج کہتے رہے مجھے کچھ نہیں پتہ

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بندہ جب وزارت عظمیٰ کی کرسی پر ہوتا ہے تو تحائف کو بیچنا اور رقم کو زاتی استعمال میں لانا حق سمجھتے ہیں، عام پاکستانی شہری کے ساتھ اور سلوک آپکے ساتھ اور سلوک یہ ممکن نہیں، حساب تو دینا ہی ہو گا

    ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آپ اپنا جواب دیں لیکن فوج کے ادارے کو کیوں لا رہے،؟ اس کیس میں فوج کو بھی ڈال دیا گیا، سارا ملبہ سٹاف پر ڈالنا یہ چھوٹے پن کی نشانی ہے،

  • 190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط

    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن، پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے

    سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں مبشر لقمان نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19Aاور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ دو ہزار سترہ کے تحت درخواست کی کہ کچھ باتیں جو عام عوام کے علم میں نہیں ہیں اور صحافیوں کے علم میں بھی نہیں ہیں ان کے بارے میں جواب دیا جائے اور ان معلومات تک رسائی کی جو فیس ہے وہ بھی ادا رکرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایک سو نوے ملین پاونڈ کی معلومات
    مبشر لقمان نے خط میں سپریم کورٹ سے کہا کہ برطانیہ سے جو ایک سو نوے ملین پاونڈ لائے گئے اور جو بظاہر سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئے ۔ ان اکاونٹ کی معلومات کیا ہیں ؟ وہ کس اکاونٹ میں آئے۔ اب وہ پیسے کہاں ہیں ؟ اگر وہ پیسے کسی کام کےلیے لگائے گئے ہیں تو اس کی کیا تفصیلات ہیں ؟

    ڈیم فنڈز کی معلومات
    مبشر لقمان نے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ڈیم کےلیے ایک پوری مہم سازی کی گئی لوگوں نے اس میں کافی فنڈ بھی دیا۔ اربوں روپے اکٹھے ہوئے لیکن اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ وہ پیسہ لگا کہاں ؟ تو اس حوالے سے بھی معلومات دی جائیں کہ وہ پیسے کہاں گئے؟

    ریٹائرڈ ججز کی پینشین اور اس کےعلاوہ مراعات کی معلومات
    مبشر لقمان نے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ریٹائرڈ ججز کی پینشن اور ان کو دی جانے والی معلومات کی فراہمی کی بھی درخواست کی گئی ۔انھیں کتنے الاؤنس ملتے ہیں۔ وہ کہاں استعمال ہوتے ہیں ۔ ان کی پینشن کتنی ہے ۔ گھر کا کتنا الاؤنس ملتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کیا مراعات دی جاتی ہیں ۔اور اس کےساتھ ان تمام ریٹائرڈ اور حاضر سروس سپریم کورٹ کے ججز کی معلومات فراہم کی جائیں جنھوں نے ملک سے باہر اثاثے بنائے اور اس کے ساتھ ساتھ جن کی بیرون ملک کاروبار ہیں

    مبشر لقمان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ یہ تمام معلومات پاکستان کے قانون کے تحت دیے جانے و الے ٹائم فریم کے اندر اندر رہ کر فراہم کی جائیں ۔

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • فوجی عدالتیں،102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش

    فوجی عدالتیں،102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے فیصل صدیقی کی فل کورٹ کیلئے درخواست ہے، ایک درخواست خواجہ احمد حسین کی بھی ہے،وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میرے موکل چاہتے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ چیف جسٹس نہ لگایا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، فیصل صدیقی کے آنے تک خواجہ احمد حسین کو سن لیتے ہیں،وکیل خواجہ حسین احمد وکیل درخواست گزارنے کہا کہ میرے موکل سابق چیف جسٹس ہیں ،میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدالت میرے ساتھ خصوصی برتاوکی بجائے عام شہری کی طرح کرے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ گوشہ نشین انسان ہیں، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی آئینی درخواست غیر سیاسی ہے، کیا فیصل صدیقی صاحب چھپ رہے ہیں،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے فوج کی تحویل میں موجود 102 افراد کی فہرست عدالت میں پیش کردی ،فہرست کے ساتھ نو مئی کو حملے کی جگہوں کا بھی بتایا گیا ہے ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ زیر حراست سات ملزمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث ہیں، تین ملزمان نے آرمی انسٹیٹیوٹ پر حملہ کیا، ستائیس ملزمان نے کور کمانڈر ہاوس لاہور میں حملہ کیا،چار ملزمان ملتان، دس ملزمان گوجرانوالہ گریژن حملے میں ملوث ہیں، آٹھ ملزمان آئی ایس آئی آفس فیصل آباد، پانچ ملزمان پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث ہیں،چودہ ملزمان چکدرہ محلے میں ملوث ہیں،سات ملزمان نے پنجاب رجمنٹ سینٹر مردان میں حملہ کیا،تین ملزمان ایبٹ آباد، دس ملزمان بنوں گریژن حملے میں ملوث ہیں،زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کمیرے اوردیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں بہت سارے لوگ ملوث تھے،عدالت نے کہا کہ کس طرح فرق کیا گیا کہ یہ لوگ آرمی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی مجسموں کو گرانے کے سلسلے کسی کو نہیں اٹھایا گیا کیونکہ یہ کسی جرم کی ذیل میں نہیں آتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کا کورٹ مارشل کیا جانا چاہیئے،ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آپ کا دعوی سچائی پر مبنی ہے کہ نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں ایک معاملہ اٹھایا گیا کہ جس طرح سویلینز کو تحویل میں لیا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم صرف آئین کی خلاف ورزی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پک اینڈ چوز کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پک اینڈ چوز نہیں کیا بہت احتیاط برتی گئی،جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا،کور کمانڈر ہاوس میں جو لوگ داخل ہوئے انہیں ملٹری کورٹس بھیجا گیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں ، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انکوائری ریکارڈ پر موجود ہے سر،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی حکومت ان 102 افراد کا حکومت کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف تنصیبات کے اندر جانے والوں کو ہی حراست میں لیا گیا ہے، تمام گرفتار ملزمان کیخلاف براہ راست شواہد موجود ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فورم پر شواہد پیش ہونا چاہیئے جو حکومتی دعوے کو پرکھ سکے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ قانون اجازت نہیں دیتا کہ مجمع میں سے صرف چند افراد کا انتخاب کیا جائے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرگودھا میں مجسموں کو نقصان پہنچانے والے کسی کو فوج نے حراست میں نہیں لیا،فوجی تنصیبات اور گورنر ہاوس میں آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ہی پکڑا گیا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ کے آرڈر میں ملزمان کو ملٹری کورٹس بھیجنے کی وجوہات کا ذکر نہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے ملزمان کے خلاف مواد کے نام پر صرف فوٹو گراف ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان سوالات پر آپ پوری طرح تیار نہیں ،ہمارے سامنے ابھی وہ معاملہ ہے بھی نہیں ہم نے معاملے کی آئینی حیشت کو دیکھنا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے ایک درخواست اپنے موکل کی طرف سے فل کورٹ کی دی ہے، ہم پہلے فیصل صدیقی کو سن لیتے ہیں، فیصل صدیقی نے فل کورٹ بینچ کے تشکیل دینے کی درخواست پر دلائل شروع کردئیے،فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت کی جانب سے بنچ پر جو اعتراضات اٹھائے گے ہماری درخواست کا اس سے تعلق نہیں، پہلے میں واضح کرونگا کہ ہماری درخواست الگ کیوں ہے، سیاست دانوں اور وزراء کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے،جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہئے،فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے،

    سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں پہلے سننے کا فیصلہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے،عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں،حکومت کا سپریم کورٹ کیلئے توہین آمیز رویہ ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن تین ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر درخواست گزاران کا بھی یہی موقف ہے، ،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں اگر کچھ ماہ کی تاخیر ہوجائے تو مسلہ نہیں،

    فل کورٹ بنے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنچ جلد کسی رائے پر پہنچ گیا تو 15 منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا،اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو کل مقدمے کی سماعت کریں گے،

    درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی ،سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ ہمیں اس بینچ پو مکمل اعتماد ہے ،عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا،دو ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے، میں خود 1980 میں 80 دیگر وکلاء کے ساتھ گرفتار ہور تھا،ہم مارشل لاء کے خلاف کھڑے ہوئے تھے دو ججز اٹھنے سے کوئی تنازعہ موجود نہیں 102 افراد کو ملٹری کے بجائے جوڈیشل حراست میں رکھا جائے ،اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر دو ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اعتزاز احسن کی حمایت کرتا ہوں کہ اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بینچ اس کیس میں جلد کسی رائے پر آجاتے ہے تو پندرہ منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا ،اگر فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو وکلا کو اگاہ کردیا جائے گا ہم ججز آپس میں مشاورت کریں گے ،اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو کل مقدمے کی سماعت کریں گے اگر آج تاخیر ہوئی تو دفتر آپکو آگاہ کردے گا

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ کمرہ عدالت اٹھ گیا ،سول سوسائٹی کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی

    سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل معاملہ ،مقدمہ فل کورٹ سنے گی یا موجودہ 6 رکنی بینچ محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا ،رجسڑار سپریم کورٹ نے کیس کی کاز لسٹ جاری کردی ،کل دن بارہ بجے سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • اسلامیہ یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    اسلامیہ یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست ایڈوکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ مبینہ ویڈیوز کو پبلک کرنے سے روکا جائے، سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر آئی جی پنجاب سمیت کسی تحقیقاتی افسر کا تبادلہ نہ کیا جائے،پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ جوڈیشل کمیشن کو پولیس تحقیقات تک کام سے روکا جائے،پولیس اور ایف آئی اے کو 15 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا جائے،عدالتی اجازت کے بغیر واقعہ سے متعلق تفصیلات کسی سیاسی شخصیت کو فراہم نہ کی جائیں مبینہ ویڈیو کلپس غیر متعلقہ افراد پبلک کر رہے ہیں

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ ویڈیوز شیئر کرنے سے روکا جائے تاکہ طلبا کو بلیک میل نہ کیا جاسکے،طلبا کی غیر اخلاقی مبینہ ویڈیوز شیئر کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے،سیاسی افراد کی مداخلت کے باعث شفاف تحقیقات ممکن نہیں،درخواست میں وفاق،پنجاب حکومت اور ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر سے منشیات، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہونے کے کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر سید اعجاز اور ڈائریکٹر فنانس ابو بکر کے موبائل فونز کا فرانزک مکمل کرلیا گیا ہے۔ بہاولپور میں گرفتار ہونے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر سے منشیات، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہونے کے کیس میں ہوشرباء انکشافات سامنے آگئے جس میں ملزم اعجاز شاہ اور ڈائریکٹر فنانس ابوبکر کے موبائل فونز کا فرانزک مکمل کرکے ویڈیوز، چیٹس اور تصاویر کے حوالے سے جامعہ رپورٹ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کردی گئی۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ق کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل میں بیٹے کا نام آنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی عیب ثابت ہوگیا تو خود بیٹے کو گھر سے نکال دوں گا، جس دن میرے منہ سے الفاظ نکلے میرے مخالفین اس شہر میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل کے حوالے سے الزامات کی زد میں آئے اپنے صاحبزادے ولی داد چیمہ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اسلامیہ یونیورسٹی کا ایک واقعہ ہوا یہ کیسی صحافت ہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا گیا، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

  • نسلہ ٹاور کیس، منظور قادر کاکا کی ضمانت منسوخ،گرفتار

    نسلہ ٹاور کیس، منظور قادر کاکا کی ضمانت منسوخ،گرفتار

    اسپیشل جج صوباٸی اینٹی کرپشن کورٹ،نسلہ ٹاورکی زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا کیس ،سابق ڈاٸریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظورقادر کی عبوری ضمانت میں توثیق کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عبوری ضمانت میں توثیق پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو سنا دیا گیا ہے، سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور قارد کاکا اور سابق مختار کار خیر محمد ڈائری کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی گئی جس کے بعد صوبائی اینٹی کرپشن نے دونوں کو گرفتار کرلیا

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم منظور قادر کی عبوری ضمانت میں توثیق کا فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا ،عدالت نے منظور قادر کاکا کی پانچ لاکھ روپے میں عبوری ضمانت منظور کی تھی ،سرکاری وکیل کی جانب سے ملزم منظور قادر کاکا کی عبوری ضمانت میں توثیق پر اعتراض کیا گیا تھا، سرکاری وکیل نے کہا کہ منظور قادر کاکا نے نسلہ ٹاور کا غیر قانونی طور پر نقشہ پاس کیا تھا ،وکیل ملزم نے کہا کہ منظور قادر کاکا پر لگائے الزامات غلط ہیں ،منظور قادر کاکا کی عبوری ضمانت میں توثیق کی جائے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ منظور قادر کاکا اور دیگرملزمان پرنسلہ ٹاورکی زمین سات سو گزسے بڑھا کر گیارہ سو مربع گز کرنے کا الزام ہے،

    سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاورکی غیرقانونی تعمیر کانوٹس لےکرمقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا ،نسلہ ٹاورکوسپریم کورٹ کے حکم پر 2022 میں مسمار کردیا گیا تھا

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    حلیم عادل شیخ اور وزیر اعلی ٰمراد علی شاہ کے اختلافات سیاسی معاملہ قرار

  • بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کیس،سپریم کورٹ میں آج سماعت نہیں ہو گی

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کیس،سپریم کورٹ میں آج سماعت نہیں ہو گی

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کیس،سپریم کورٹ میں آج سماعت نہیں ہو گی

    مودی کے ہندوستان میں دل دہلا دینے والے مظالم پر انسانیت بھی شرما گئی ،4 مئی کو منی پور میں کوکی قبیلے کی 2 خواتین کے اہل خانہ کو آنکھوں سامنے انتہا پسند ہندوؤں نے زندہ جلا ڈالا ،خاندانوں کے قتل عام کے بعد دونوں خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ،بعد ازاں انتہا پسند ہندو جتھے نے متاثرہ خواتین کو سر عام برہنہ پریڈ بھی کروائی برہنہ مارچ کے دوران انتہا پسند ہندو مرد اور خواتین زیادتی شدہ خواتین کو مارتے، پیٹتے اور نوچتے رہے ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود پولیس اور مودی سرکار با اثر انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن لینے سے گریزاں ہیں پولیس اہلکار زیادتی اور اہل خانہ کو زندہ جلانے والے مجمع کا حصہ تھے،

    انسانیت سوز واقعہ ڈھائی ماہ تک انٹرنیٹ بندش کی وجہ سی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہو سکا 19 جولائی کو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں کہرام برپا مودی سرکار پر عالمی میڈیا کی شدید لعن طعن اور کڑی تنقید جاری ہے،امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے واقعے کو سفاک اور خوفناک قرار دے دیا ، امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ منی پور میں ہونے والے واقعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں،

    منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ، تشدد کے حوالہ سے بھارتی سپریم کورٹ میں آج سماعت نہیں ہو گی بلکہ پیر کو ہو گی،منی پور کے حوالہ سے باقی مقدمات کی آج سماعت ہو رہی ہے، آج بھارتی چیف جسٹس چھٹی پر ہیں اسلئے برہنہ پریڈ والے کیس کی سماعت نہیں ہو گی،

    خواتین کی برہنہ پریڈ کے حوالہ سے بھارتی وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا ہے جس میں کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی کو دے دی گئی ہے، ویڈیو بنانے والا گرفتار کر لیا گیا ہے، موبائل بھی برآمد کر لیا گیا ہے،18 جولائی کے بعد منی پور میں کسی کی موت نہیں ہوئی، حالات کو معمول پر لانے کے لیے مسلسل بات چیت جاری ہے، بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ مقدمے کی کاروائی چھ ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے،

    منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کی وائرل ویڈیو کے کیس میں میں اب تک 7 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کانگ پوکپی میں 4 مئی کو ایک ہجوم کے ذریعہ دو خواتین کو برہنہ کرکے پریڈ کرنے کا واقعہ کا انکشاف 19 جولائی کو سامنے آنے والی ویڈیو کی وجہ سے ہوا تھا،

    خواتین کی برہنہ پریڈ کے ھوالہ سے ویڈیو وائرل ہونے کے بعدبھارت کی تمام سیاسی جماعتیں مذمت کر رہی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اب تک اس معاملہ پر حکومت خاموش کیوں ہے

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار