Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

    عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی دیگر مقدمات میں گرفتاری روکنے کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی درخواست وکیل سلمان صفدر نےدائر کی جس میں عمران خان کی دیگرمقدمات میں روکنےکی استدعا کی گئی تھی،سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی، کہا کہ سپریم کورٹ میں اس نوعیت کی براہ راست درخواست نا قابل سماعت ہے-

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جب کہ درخواست گزار کے پاس ٹرائل کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کا متعلقہ فورم موجود تھا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست میں آرٹیکل 184/3 کے اجزا کو پورا نہیں کیا گیا، درخواست گزار نے ذاتی مفاد سے متعلق درخواست 184/3 کے تحت دائر کی۔

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ثابت نہیں کر سکا کہ کون سا بنیادی حق متاثر ہوا اور یہ کیسے عوامی مفاد کا معاملہ ہے، ایک درخواست میں غیر متعلقہ نہ سمجھ آنے والی مختلف استدعا کی گئیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان اس وقت توشہ خانہ کیس میں اٹک جیل میں تین سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اور ان کے جیل میں قید ہونے کے بعد انہیں 19 اگست کو سائفر گمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

  • پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق درخواست خارج

    پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق درخواست خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں سے متعلق درخواست کو 9 سال بعد غیر موثر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شاہد اورکزئی نے 2014 میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے استعفوں کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ 2013 کی اسمبلی میعاد پوری کرکے ختم ہوچکی ہے، استعفی سے متعلق درخواست غیر موثر ہو چکی ہے اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کو غیر موثر قرار دے کر خارج کردیا۔

    ایمان مزاری اور علی وزیر 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا !

    جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری نوٹ میں کہا کہ ہم 19 جولائی 2022 سے نیب ترامیم کے خلاف کیس سن رہے ہیں،
    16 مارچ کو کیس کی 46 ویں سماعت کے بعد پارلیمنٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 3 کے مطابق 184(3) کے مقدمات کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بینچ تشکیل دے گی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 4 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات کی سماعت کم از کم پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہونے کے بعد میں ترامیم کی گزشتہ سماعت 16 مئی کو ہوئی،16 مئی کی سماعت سے قبل میں نے کیس سننے سے متعلق چیف جسٹس پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، 16 مئی کو کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، میری رائے تھی کہ نیب ترامیم کیس کی مزید سماعت پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے فیصلے کے بعد کی جائے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس کا فیصلہ کیے بغیر نیب ترامیم کیس سماعت کے لیے مقرر کیا گیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری نوٹ میں کہا کہ نیب ترامیم کیس سمیت پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون تمام زیر التوا مقدمات پر بھی لاگو ہوتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ آٹھ رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر حکم امتناع جاری کر رکھا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف حکم امتناع عبوری حکم ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو آئینی طور پر درست یا غلط قرار دیئے جانے کا یکساں امکان ہے، اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو درست قرار دیا جاتا ہے تو قانون سپریم کورٹ کے فیصلے کی تاریخ کی بجائے اپنی نافذ کی گئی تاریخ سے لاگو ہوگا،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون درست قرار دیا گیا تو نیب ترامیم کے خلاف کیس کا فیصلہ قانون کی نظر میں کالعدم قرار پائے گا، قانون درست قرار پایا تو اس کا اطلاق نفاذ کی تاریخ سے ہوگا نہ کہ عدالتئ فیصلے کے دن سے، پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی قرار پایا تو نیب کیس سننے والا بنچ غیر قانونی تصور ہوگا، میری رائے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر فیصلے تک 184/3 کے مقدمات نہ سنے جائیں،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل تھے،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز سامنے آئی، جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ میں فل کورٹ بنانے کی ابزرویشن دے دی۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق کیس میں 22 جون کو میں نے نوٹ لکھا تھا ،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے آنے کے کے بعد اس کیس کو فل کورٹ کو سننا چاہیے ،آج بھی چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ نیب ترامیم کیس کو فل کورٹ سنےابھی تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوا ،اگر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہو جاتا تو معاملہ مختلف ہوتا ،پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے سیکشن 3 اور چار کی موجودگی میں فل کورٹ یہ کیس سن سکتا ہے، 

    جسٹس منصور نے کیس کی سماعت سے معذرت نہیں کی، سماعت جاری ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث خرابی صحت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکے ،خواجہ حارث کی جانب سے وکیل ڈاکٹر یاسر عمان عدالت میں پیش ہوئے وکیل ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کی عدم حاضری کی وجہ سے معذرت خواہ ہیں،

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ درخواست ابھی پری میچور ہے، میں اگلے مہینے ریٹائر ہو رہا ہوں، مجھے اس مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے یہ بہت اہم مقدمہ ہے، جسٹس منصورعلی شاہ نے حکومتی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیمی ایکٹ کی موجودگی میں آپ کی کیا رائے ہے کہ موجودہ بینچ کو سننا چاہئے یا نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تیاری کر کے آئیں ہم اس مقدمے کی سماعت کا شیڈول بنائیں گے، خواجہ حارث کے معاون نے اپنے موکل کیطرف سے جواب جمع کرایا ہے،وفاقی حکومت جواب پر اپنا موقف دے داچھی چیز ہے بینچ کے خیالات میں تنوع ہیں،مخدوم صاحب وفاقی حکومت کے وکیل ہے، آپ کو 26 سماعتیں دلائل کیلئے دیں،اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، نئے جواب پر اگر مزید دلائل دینا ہے تو موقع دینے کو تیار ہیں،کیس کی سماعت 28 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرینگے ، میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا، اہم معاملہ ہے اور اسکی طویل عرصے سے سماعت بھی ہو رہی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے نکتے پر عدالت میں کوئی بحث ہی نہیں ہوئی،

    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

  • ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟سپریم کورٹ

    ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فرانزک آڈٹ کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے، رپورٹ کیمطابق 175 ارب روپے کا نقصان ہوا،رپورٹ میں ایک مجموعی تخمینہ دیا گیا مگر سوسائٹیوں سے وضاحت طلب نہیں کی گئی ،

    دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ کے اہم ریمارکس سامنے آئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں اپنا نام استعمال کر سکتا ہے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے؟ ایف آئی پر زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات ہیں ،آئی بی بھی بظاہر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہے،ان اداروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ہاوسنگ سوسائٹی چلانا نہیں ،اگر آئی بی کی ہاؤسنگ سوسائٹی ہو گی تو اس کے ساتھ کون مقابلہ کریگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ،اس معاملے پر الگ سے از خود نوٹس ہو سکتا ہے،دیکھتے ہیں از خود نوٹس لینا ہے یا نہیں ،بہتر ہو گا ہمارے سامنے کوئی درخواست آ جائے،ہم از خود نوٹس لینے میں محتاط ہیں ،از خود نوٹس کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    میڈم یہ کہتے ہیں بچے کو نہیں ملے گی،فردوس عاشق اعوان کو بچے نے پکڑ لیا

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر

    پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ، پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقررکر دی گئیں،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ 22 اگست کو سماعت کرے گا ،بینچ میں جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی شامل ہیں،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے براڈ شیٹ کمپنی نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی رکھی ہے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے شریف خاندان کی غیر ملکی جائیدادوں کی تلاش میں نیب کی معاونت کی لیکن نیب نے اس کا معاوضہ ادا نہیں کیا، درخواست گزار براڈ شیٹ کمپنی نے برطانیہ کی ایک عدالت میں نیب کے خلاف واجبات کے حصول کیلئے مقدمہ دائر کیا تھا براڈ شیٹ کمپنی نے سپریم کورٹ سے چیئرمین نیب کو پانامہ پیپرز لیکس کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 فراہم کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی تھی براڈشیٹ کمپنی پانامہ جے آئی ٹی والیم 10 کو برطانوی عدالت میں اسے بطور ثبوت پیش کرنا چاہتی تھی

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • دیگر مقدمات میں گرفتاری کا ڈر،عمران خان نے درخواست کی دائر

    دیگر مقدمات میں گرفتاری کا ڈر،عمران خان نے درخواست کی دائر

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ملک بھر درج دیگر مقدمات میں ممکنہ گرفتاری کا معاملہ ،چیرمین پی ٹی آئی نے دیگر مقدمات میں گرفتاری روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    درخواست میں وفاقی حکومت ،آئی جی پنجاب ،بلوچستان ،سپریٹنڈنٹ جیل اٹک کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں نیب ،ایف ائی اے ،انسداد دہشتگردی عدالت لاہور اور اسلام آباد کو بھی فریق بنایا گیا ہے درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے درخواستگزار کے خلاف ملک بھر میں 180 سے زائد بے بنیاد ،جھوٹے فوجداری مقدمات درج کئے گئے ہیں درخواست گزار کا سفر 1992 سے ورلڈ کپ جیتنے سے شروع ہوتا ہے،درخواست گزار کو دیگر مقدمات میں گرفتاری سے روکا جائے

    سائفر انکوائری اور مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے پانچ کیسز پر سماعت

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، گزشتہ روز بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات ہوئی تھی، عمران خان کی کئی مقدمات میں درخواست ضمانت خارج ہو چکی ہے

  • پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت وکیل نالہ متاثرین نے عدالت میں کہا کہ متاثرین کو ابتک صرف دو چیک ادا ہوئے ہیں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ مجموعی طور پر 6 ہزار 932 گھر ہٹائے گئے، گجرنالہ، اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ سے یہ گھر ہٹائے گئے،عدالت نے استفسار کیا کب تک بقیہ چیک ادا ہو جائیں گے، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آئندہ 6 مہینے میں ادا ہو جائیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں، آپ کی توہین عدالت درخواست کیا ہے؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2سال میں چیک کی 4 اقساط ادا کی جانی تھیں اب تک صرف 2 چیک کی اقساط ادا کی گئیں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ سی ایم صاحب، چیف سیکرٹری صاحب آگے آ جایئے،

    مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ محمود آباد کے چیکس کا 2 سالہ پیریڈ شروع ہو چکا ہے، کچھ لوگ تیسرا اور چوتھا چیک بھی لے چکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں کوئی فوکل پرسن تعینات نہیں کیا باہر لوگوں کا احتجاج چل رہا ہے، میئر کراچی صاحب آپ میئر ہیں،سی ایم صاحب آپ نے حلفیہ بیان دیا تھا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ میں تیسری، چوتھی سماعت میں پیش ہو رہا ہوں، 2020 میں کراچی میں شدید برسات ہوئی،2007 کی برسات میں کئی ہلاکتیں ہوئیں،نگران وزیراعلیٰ آج حلف رہے ہیں آج تک وزیراعلیٰ ہوں، 2020 کی بارش کے بعد سپریم کورٹ نے نالے صاف کرنے کا حکم دیا نالوں کی صفائی، متاثرین بحالی کا معاملہ این ڈی ایم اے کا تھا، ایک نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی تمام اداروں پر بنائی گئی،یہ ذمہ داری بنیادی طور پر این ڈی ایم اے کی تھی،احساس پروگرام، نیا پاکستان کے تحت 36 ارب روپے رکھے، 2021 میں وفاقی حکومت نے یوٹرن لے لیا،یہ وفاقی حکومت کا ہمیشہ کی طرح یوٹرن تھا،36ارب مختص کرکے وفاقی حکومت نے کہا کہ فری کچھ نہیں دیں گے،میں وکیل نہیں، غلطی کر جاؤں تو معافی چاہوں گا،نالوں سے متعلق این ای ڈی یونیورسٹی سے سروے کروایا گیا متاثرین کی تعداد ہیرا پیھری سے 6 ہزار 932 پر لاک کردی،وفاق سے جو فنڈز آنے تھے وہ نہیں دیئے گئے سکیم بنائی، جو 10 اب روپے کی تھی،رقم نہیں تھی پھرسپریم کورٹ سے رجوع کیا،نجی ہاؤسنگ سکیم کے پیسے سپریم کورٹ میں پڑے ہیں ہم چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے

    جسٹس محمد علی مظہر نے وزیراعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری آرڈر میں تو آپ نے حلفیہ بیان لکھا ہوا ہے،مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی سے مکر گئی ،مگر کچھ فنڈز کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں،سارے فنڈز تو سندھ حکومت سے جنریٹ نہیں ہوتے،ایک جینئن ایشو سیلاب آیا 2022 میں،یو این سیکرٹری کا سندھ کے سیلاب پر بیان ریکارڈ پر موجود ہے،صرف ریلیف پر 66 بلین روپے خر چ ہوئے،یہ سیلاب ریلیف فنڈز وفاقی اورصوبائی تھا،وزیراعلیٰ سندھ تو کچھ نہیں ہوتا کابینہ ہوتی ہے، مصطفی امپکس کیس میں کابینہ ذمہ دارہوتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہ یہ بات تو حلفیہ بیان دیتے وقت کہنی تھی آپ نے، یہ بتائیں، 2 چیک کب دیں گے؟مراد علی شاہ نے کہا کہ 3 آپشنز بنائے تھے، متاثرین بحالی کے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپشنز میں آپ نے ٹائم نکال دیا نہ ،مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 7 دن چیک بنانے میں لگیں گے،7 دن کے اگلے 30 دن میں چیک متاثرین کو دے دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا نہ ہو لوگ کل ہی سے آنا شروع ہو جائیں، چیف سیکرٹری صاحب!یہ چلے جائیں گے اگلی حکومت آئے گی،یہ سب معاملات آپ نے دیکھنے ہیں ،

    وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس،عدالت کا واپس لینے سے انکار
    سپریم کورٹ نے گجر نالہ کیس میں وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے سے انکار کر دیا،دوران سماعت عدالت نے حکم دیا کہ ایک مہینے میں تمام متاثرین کو چیک دیے جائیں اورابتدائی رپورٹ 15 دن میں عدالت کے سامنے پیش کی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اکاؤنٹ میں 462 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہے جو سندھ کے عوام کی ہے اگر سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع رقم سندھ حکومت واپس چاہتی ہے توعدالت میں درخواست دائر کرے ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک مہینے کیلئے ملتوی کر دی

    عدالت پیشی کے بعد وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سارا کام کرتے رہے لیکن رپورٹ جمع نہ کرا سکے ،سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت لوگوں کو بےگھر کرنے کے حق میں نہیں ہوتی، وفاق نے معاملہ اپنے ذمہ لیا پھر یو ٹرن لے لیا،اس وقت کی وفاقی حکومت نے 36 ارب دینے کا معاہدہ کیا بعد میں مکر گئے،ہم سارا کام کرتے رہے لیکن ماہانہ رپورٹ جمع نہیں کرا سکے، رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت سے معذرت کی،عدالت نے کہا کہ 7 دن میں چیکس تیار کریں ، 30 دن میں متاثرین کو دیئے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عدالت کو یقین دلایا ہے کہ ہماری حکومت مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے، سپریم کورٹ میں پڑا 462 ارب سندھ کا پیسہ ہے،حکومت نے نیک نیتی سے اس پر کام کیا ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ کمشنر کراچی چیک کی ادئیگی میں شفافیت کو یقینی بنائیں،عدالت جب بھی بلائے گی پیش ہوں گا، بے گھر افراد کے چیک 15 روز میں تیار کر دیں گے، بے گھر افراد کے پلاٹ اور تعمیر کے پیسے دینے کو تیار ہیں،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • میر شکیل الرحمان کے خلاف بول نیٹ ورک کی درخواست عدم پیرویِ پر خارج

    میر شکیل الرحمان کے خلاف بول نیٹ ورک کی درخواست عدم پیرویِ پر خارج

    سپریم کورٹ، میر شکیل الرحمان کے خلاف دی نیوز میں پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ چھاپنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے میر شکیل الرحمان کے خلاف بول نیٹ ورک کی درخواست عدم پیرویِ پر خارج کر دی ،بول نیٹ ورک کی جانب سے وکیل بابر اعوان کی عدم پیشی پر کیس خارج کیا گیا ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،بول نیٹ ورک نے 2017 میں پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کی احمد نورانی کی خبر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی سپریم کورٹ نے میر شکیل الرحمان، میر جاوید الرحمان اور احمد نورانی کو طلب کیا تھا ،عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر بول نیٹ ورک کی درخواست خارج کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا

    دوسری جانب پانامہ پیپرز میں شامل 436 افراد کیخلاف کارروائی کیلئے دائر درخواست،جماعت اسلامی نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے پوچھے گئے 9 سوالات کا تحریری جواب جمع کرا دیا ،عدالت نے پہلا سوال کیا کہ کن حالات کے پیش نظر جماعت اسلامی کی پہلے آنے والی درخواست کو پاناما مرکزی کیس سے الگ کیا گیا؟ جس پر جماعت اسلامی نے جواب میں کہا کہ پاناما کیس سننے والے بنچ نے کہا تھا اگر جماعت اسلامی کا کیس سنا گیا تو فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، پانامہ کیس سننے والے بنچ نے کہا ہم پہلے نواز شریف کے کیس کو سنیں گے، پاناما کیس سننے والے بنچ کی اصل توجہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے کیس پر تھی،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بنچ نے 9جون کی عدالتی کارروائی میں 9 سوالات پوچھے تھے

    امیر جماعت اسلامی نے 2017 میں پانامہ پیپرز میں سامنے آئے 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی درخواست دائر کی تھی پانامہ سکینڈل میں شریف خاندان کے علاوہ چوہدری خاندان سے مونس الہیٰ کا بھی نام آیا تھا ،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج

    فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کردی

    درخواست غیر موثر ہونے کی بنا پر خارج کی گئی ،سپیشل پراسیکوٹر نیب رضوان ستی نے عدالت میں کہا کہ ریفرنس میں فواد حسن فواد ٹرائل کورٹ سے بری ہو چکے ہیں، ملزم کے بری ہونے سے ضمانت منسوخی کی درخواست غیر موثر ہو چکی، کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی

    واضح رہے کہ احتساب عدالت نے بیورو کریٹ فواد حسن فواد کو بری کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ فواد حسن فواد کے خلاف جرم ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا لہذا عدالت فواد حسن فواد، وقار حسین، رباب حسین اور انجم حسین کو باعزت بری کرتی ہے ، استغاثہ کے 19 گواہ فواد حسن فواد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق شہادت نہیں دے سکے نیب ایسی کوئی شہادت نہیں دے سکا جس سے فواد حسن فواد اور ان کے خاندان پر کرپشن کے ذریعے اثاثے بنانے کا الزام ثابت ہو، قومی احتساب کے قانون کے تحت سرکاری فنڈز کا عنصر شامل کیے بغیر کرپشن ثابت نہیں ہوتی

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس کیس میں تمام ٹرانزیکشن نجی نوعیت کی ہیں جس میں سرکاری فنڈز شامل نہیں، ایسی کوئی شہادت میسر نہیں جس سے فواد حسن فواد کا کرپشن کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا تعلق ثابت ہو، وہ اثاثے جنہیں بے نامی کہا گیا ان کا فواد حسن فواد سے کوئی تعلق نہیں ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں کہ فواد حسن فواد نے اثاثے کرپشن یا غلط طریقے سے بنائے، اس کیس کی تفتیش ٹھیک نہیں کی گئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت