Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، لیگی رہنما جاوید لطیف کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے مطلع کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جاوید لطیف کا مقدمہ انکوائری کی سطح پر تھا جس میں گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ تین جولائی 2023 کی ترمیم کے بعد انکوائری کے دوران بھی گرفتاری ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جولائی میں ہونے والی نیب ترمیم مشکوک ہے، تین جولائی کو کی گئی نیب ترامیم عدالتی فیصلوں کے متصادم ہیں،سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟ نیب قانون 2001 تک ڈریکونین تھا، نیب قانون میں ریمانڈ کا دورانیہ کم کرنے اور ضمانت دینے کی ترامیم اچھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کی تشریح عدالتی فیصلوں اور آئین کے تناظر میں ہی ہوسکتی ہے، عدالت نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی ،عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم تین جولائی کی ترمیم سے پہلے کا ہے، پراسیکیوٹر رضوان ستّی نے کہا کہ نیب ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑیں جی ان باتوں کو، چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری 

    نیب لاہور کی کاروائی، مونس الہی کے لیے مشکلات مزید بڑھنے لگیں

  • آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

    سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے پاس آئے، ایک دن خبر آئی کہ صدر مملکت نے دستخط کر دیئے تاہم دوسرے روز صدر مملکت نے ٹویٹ کر دی اور کہا کہ میں نے دستخط نہیں کئے، اسکے بعد پاکستانی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، صدر مملکت سے انکی حریف جماعتوں کے رہنما استعفیٰ مانگ رہے ہیں کہ اگر انکا سیکرٹری،یا پی اے انکی بات نہیں مانتا تو صدر فوری مستعفی ہوں اور گھر جائیں

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کو اس عدالت میں سخت سیکورٹی میں پیش کیا گیا تھا

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں،چیف جسٹس

    عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں،چیف جسٹس

    براڈ شیٹ کمپنی کی پانامہ جے آئی ٹی کے والیم 10 تک رسائی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،براڈ شیٹ کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے، وکیل براڈ شیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی غیر موثر نہیں ہوا، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں ثالثی کورٹ میں کارروائی کا کیا بنا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہاں معاملہ نمٹ چُکا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ والیم 10 میں ایسا کیا ہے کہ اسے خفیہ رکھا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے مگر ہمیں پتہ تو چلے کہ ہمارے سامنے درخواست کیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ نے پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے بارے میں کوئی آبزرویشن دی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت عوام کا حق ہے کہ وہ دیکھیں کیسے ملک کو لوٹا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم اس طرف نہیں جائیں گے کیونکہ اس میں تو ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، آپ کو والیم 10 ثالثی کورٹ میں کارروائی کے لیے چاہیے تھا، وہاں معاملہ نمٹ چُکا اب تو آپ کی درخواست غیر موثر ہو چُکی،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ براڈ شیٹ کو ریکور پراپرٹی میں سے بیس فیصد حصہ مل چُکا، 28 ملین ڈالر دیے گئے، براڈ شیٹ کمپنی نے والیم 10 فراہم کرنے کی درخواست واپس لے لی .وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ضرورت پڑی تو والیم 10 فراہمی کی نئی درخواست دائر کریں گے براڈ شیٹ کے ساتھ یہی معاہدہ تھا کہ شریف فیملی کی پراپراٹی سے ریکور 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا، پاکستان عوام کا 80 فیصد حصہ کہاں ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستانی عوام کی بات نہ کریں،اپ اپنے موکل براڈ شیٹ کی بات کریں، اگر والیم 10 میں کچھ بھی ہوتا تو پانامہ کا پانچ رکنی بنچ ضرور لکھتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ براڈشیٹ اب والیم 10 سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، براڈ شیٹ کی حد تک معاملہ نمٹ چکا ہےدوسرا فریق نیب ہے،وہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ شریف خاندان کے اثاثوں کا کھوج لگانے کیلئے براڈشیٹ کی خدمات لی گئیں،ملک کو کیسے لوٹ کر جائیدادیں بنائی گئیں سب سامنے لایا جائے یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس میں عدالت فیصلہ کرچکی، وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، اپنے دلائل کو پانچ رکنی بنچ کے فیصلے سے تک ہی محدود رکھیں، کیا پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے حوالے سے کوئی ہدایت ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانامہ کے حتمی فیصلے میں والیم 10 کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے کچھ نہیں ہے، والیم 10 کو خفیہ رکھنے کا آرڈر حتمی فیصلے میں ضم نہیں کیا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی پاکستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتی،اپ پاکستان کے عوام کی جانب سے نہیں کمپنی کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے براڈ شیٹ کمپنی کے وکیل لطیف کھوسہ کی والیم 10 تک رسائی کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایک شخص ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک گیا اور تدریسی عمل جاری رکھا، بھارتی شہری کو 102سال کی عمر میں نوبل انعام ملا،پاکستان میں جو بہترین دماغ تھے وہ اس وقت حکومت میں ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ بہتر دماغ اس وقت عدالت میں بھی موجود ہیں جن کی ذمہ داری ہے ملک آئین کے مطابق چلانا، پانامہ فیصلے میں لکھا ہے کہ اداروں پر شریف خاندان کا قبضہ تھا، آج بھی تمام اداروں پر قبضہ ہوچکا ہے،ملک سے زیادہ کسی چیز سے پیار نہیں کرتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ساتھ تو سب کو ہی محبت ہے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • مریم نواز کیخلاف ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    مریم نواز کیخلاف ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی سے متعلق نیب کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں ن لیگ کی چیف آگنائزر مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،نیب نے مریم نوازکے خلاف درخواست واپس لے لی، اور عدالت نے مریم نوازکے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پرخارج کردی۔

    نیب نے کیس میں تحریری جواب عدالت میں جمع کرایا، تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پروسیکیوٹر کو تحریری جواب پڑھنے کی ہدایت کی نیب پروسیکیوٹر نےعدالت کوبتایاکہ مریم نواز کا کیس نیب ترامیم کے بعد قابل سماعت نہیں رہا، درخواست خارج کرنے کی بجائے نمٹا دیں چیف جسٹس نےاستفسارکیاکہ درخواست نمٹائیں گے تو آپ کوپسند آئے گاعدالت نے مریم نواز کے خلاف نیب درخواست خارج کرتے ہو ئے کیس نمٹا دیا۔

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر …

    واضح رہے کہ مریم نواز پر شمیم شوگر ملز کیس میں آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے، اور نیب نے شمیم شوگر ملزکیس میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی تھی۔

    ڈینگی مریضوں کی تعداد میں اضافہ

    ملک میں مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی

  • سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ پر سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیدیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کل سماعت کریگا سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    جڑانوالہ میں چرچ اور عیسائی برادری کے گھروں پر حملوں کے خلاف متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی سپریم کورٹ گھنائونے واقعے کا ازخود نوٹس لے ،درخواست اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مقدمے میں دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ اقلیتی برادری پر۔حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ،درخواست منارٹیز الائنس ایمپلیمنٹشن کی جانب سے دی گئی تھی

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی 

  • سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اپیل 23 اگست کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہونگے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی،چیرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 اگست کے فیصلوں کو چیلنج کیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ قابل سماعت ہونے کا معاملہ واپس جج ہمایوں دلاور کو بھجوادیا تھا ،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • درخواست گزار کو کہیں کہ وہ معاشی معاملات پر اخبار میں لکھ کرعوام کو شعور دیں،چیف جسٹس

    درخواست گزار کو کہیں کہ وہ معاشی معاملات پر اخبار میں لکھ کرعوام کو شعور دیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آئینی حد سے زیادہ قرضے لینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آئینی حد سے زیادہ قرضے لینے سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس اطہر من اللہ بینچ کا حصہ تھے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ 2020 میں قرضے لینے سے متعلق آئینی درخواست دائر کی، کیس میں فریق حفیظ شیخ اور رضا باقر تو بھاگ چکے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا کیس یہ ہے کہ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ 2005 پر عملدرآمد نہیں کیا گیا وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ حکومتوں نے حد سے زیادہ قرضے لے کر آئینی خلاف ورزی کی۔

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے ہائیکورٹ جانا چاہیے، ملک شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے اٹھائے گئے نکتے میں وزن ہے، آخر ملک پر اتنا قرض کیوں لیا گیا؟ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دیکھیں کہ 1947 سے آج تک سالانہ کتنے قرض لیے گئےملک کو ابتر معاشی صورتحال کا سامنا ہے، یہ بہتر وقت نہیں ہے کہ عدالت اس قسم کی درخواست کو سنے۔

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئےکہ آپ نےجوتجاویز دینی ہیں وہ وفاقی حکومت کو دیں،سپریم کورٹ کومعاشی مسائل میں مت الجھائیں، عدالت پہلے ہی بہت سے معاملات میں الجھی رہی ہے،وفاقی حکومت ہی معیشت سے متعلق معاملات دیکھنے کا متعلقہ فورم ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کو کہیں کہ وہ معاشی معاملات پر اخبار میں لکھ کرعوام کو شعور دیں۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    عدالت نے وکیل کو درخواست گزار ڈاکٹر محمد زبیر سے ہدایات لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

  • عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

    عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی دیگر مقدمات میں گرفتاری روکنے کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی درخواست وکیل سلمان صفدر نےدائر کی جس میں عمران خان کی دیگرمقدمات میں روکنےکی استدعا کی گئی تھی،سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی، کہا کہ سپریم کورٹ میں اس نوعیت کی براہ راست درخواست نا قابل سماعت ہے-

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جب کہ درخواست گزار کے پاس ٹرائل کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کا متعلقہ فورم موجود تھا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست میں آرٹیکل 184/3 کے اجزا کو پورا نہیں کیا گیا، درخواست گزار نے ذاتی مفاد سے متعلق درخواست 184/3 کے تحت دائر کی۔

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ثابت نہیں کر سکا کہ کون سا بنیادی حق متاثر ہوا اور یہ کیسے عوامی مفاد کا معاملہ ہے، ایک درخواست میں غیر متعلقہ نہ سمجھ آنے والی مختلف استدعا کی گئیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان اس وقت توشہ خانہ کیس میں اٹک جیل میں تین سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اور ان کے جیل میں قید ہونے کے بعد انہیں 19 اگست کو سائفر گمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

  • پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق درخواست خارج

    پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق درخواست خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں سے متعلق درخواست کو 9 سال بعد غیر موثر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شاہد اورکزئی نے 2014 میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے استعفوں کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ 2013 کی اسمبلی میعاد پوری کرکے ختم ہوچکی ہے، استعفی سے متعلق درخواست غیر موثر ہو چکی ہے اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کو غیر موثر قرار دے کر خارج کردیا۔

    ایمان مزاری اور علی وزیر 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا !

    جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری نوٹ میں کہا کہ ہم 19 جولائی 2022 سے نیب ترامیم کے خلاف کیس سن رہے ہیں،
    16 مارچ کو کیس کی 46 ویں سماعت کے بعد پارلیمنٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 3 کے مطابق 184(3) کے مقدمات کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بینچ تشکیل دے گی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 4 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات کی سماعت کم از کم پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہونے کے بعد میں ترامیم کی گزشتہ سماعت 16 مئی کو ہوئی،16 مئی کی سماعت سے قبل میں نے کیس سننے سے متعلق چیف جسٹس پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، 16 مئی کو کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، میری رائے تھی کہ نیب ترامیم کیس کی مزید سماعت پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے فیصلے کے بعد کی جائے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس کا فیصلہ کیے بغیر نیب ترامیم کیس سماعت کے لیے مقرر کیا گیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری نوٹ میں کہا کہ نیب ترامیم کیس سمیت پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون تمام زیر التوا مقدمات پر بھی لاگو ہوتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ آٹھ رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر حکم امتناع جاری کر رکھا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف حکم امتناع عبوری حکم ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو آئینی طور پر درست یا غلط قرار دیئے جانے کا یکساں امکان ہے، اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو درست قرار دیا جاتا ہے تو قانون سپریم کورٹ کے فیصلے کی تاریخ کی بجائے اپنی نافذ کی گئی تاریخ سے لاگو ہوگا،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون درست قرار دیا گیا تو نیب ترامیم کے خلاف کیس کا فیصلہ قانون کی نظر میں کالعدم قرار پائے گا، قانون درست قرار پایا تو اس کا اطلاق نفاذ کی تاریخ سے ہوگا نہ کہ عدالتئ فیصلے کے دن سے، پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی قرار پایا تو نیب کیس سننے والا بنچ غیر قانونی تصور ہوگا، میری رائے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر فیصلے تک 184/3 کے مقدمات نہ سنے جائیں،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز