Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے متعلق خصوصی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر شامل ہیں ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس عاٸشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے دلائل دیئے.وفاقی حکومت نے گزشتہ روز تحریری جواب جمع کروایا وفاقی حکومت نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی ہے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ میں نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ،وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہاکہ 1999 سپریم کورٹ میں لیاقت حسین کیس سے اصول طے ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل نہیں ہو سکتا ،میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے، پانچ نکات پر عدالت کی معاونت کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے آنا اچھا ہوگا، عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 83اے پر دلائل کا آغاز کروں گا، آرٹیکل 83A کے تحت سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکتا،

    عابد زبیری نے کہا کہ سوال ہے کہ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا فوجی عدالتوں ٹرائل ہوسکتا ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ اپنا موقف واضح کریں کہ کیا ملزمان کا تعلق جوڑنا ٹرائل کے لیے کافی ہوگا؟ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا؟ عابد زبیری نے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئینی ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں ملزمان کا تعلق ٹرائل کے لئے پہلی ضرورت ہے؟ آپ کے مطابق تعلق جوڑنے اور آئینی ترمیم کے بعد ہی سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں آئینی ترمیم کے بغیر ٹرائل کیا گیا تھا،فوج سے اندرونی تعلق ہو تو کیا پھر آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں؟

    سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کر دیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے اکسیویں آئینی ترمیم اور لیاقت حسین کیس کو بھی زیر بحث لایا گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ
    سوال یہ ہے کہ سویلینز پر آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں 9 رکنی بنچ تھا،عدالت کے 23 جون کے حکمنامے کو پڑھوں گا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے آرمی کے زیرحراست افراد کو خاندان سے ملنے دیا جارہا ہے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسوقت ججز دستیاب نہیں، فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے تمام ججز پر مشتمل بنچ بنانا تکنیکی بنیاد پر ہی ممکن نہیں تین ججز نے کیس سننے سے معذرت کی، کچھ ججز ملک میں نہیں ہیں،جسٹس اطہر من اللہ ملک سے باہر ہیں،ہم آپ کو تفصیل سے سننے کیلئے وقت دیں گے

    ‏وفاقی حکومت کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد‏ کر دی گئی، عرفان قادر نے روسٹرم پر آکر بات کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محترم آپ مہربانی فرما کر بیٹھ جائیں آپ کو بعد میں سنیں گے،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    وفاقی حکومت نے آرمی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور فوجی دفاترپر حملہ براہ راست قومی سلامتی کا معاملہ ہے، غیرملکی طاقتیں پاکستان کی قومی سلامتی اور فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، کلبھوشن جادھو اور شکیل آفریدی کے واقعات اس بات کے ثبوت ہیں۔

    سینئر قانون دان اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس سولین کے ٹرائل نہیں کر سکتے عابد زبیری صاحب کے دلائل مکمل ہوئے عابد زبیری نے بھی ہمارے موقف کو دوہرایا کہ ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل نہیں ہو سکتے آرٹیکل 8 میں 2ڈی کو قلعدم قرار دیا جائے یہ آرٹیکل 4 اور 9 کے خلاف ہیں اٹارنی جنرل کا خیال تھا کہ فل کورٹ بنائی جائے ہم نے خود استدعا کی کہ فل کورٹ بنائی جائے جسٹس عائشہ نے کہا کہ آپکو کیسے پتہ کہ چیف جسٹس نے بینج کی تشکیل میں سب سے مشاورت نہیں کی ہماری کوشش تھی کہ ججز میں تقسیم کو ختم کیا جائے سب مل کر بیٹھیں اور فیصلہ کریں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ تمام میسر جج صاحبان کو بینج میں شامل کیا گیا دو جج صاحبان اپنی مرضی سے الگ ہوئے اور ایک پر اعتراض ہوا اٹارنی جنرل کے بیان سے واضح ہو گیا کہ حکومت نے اپنی شکست قبول کر لی ہے چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ججز میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے فل کورٹ نہیں بن سکتی وفاقی وزیر کہتے ہیں تین جج صاحبان پر اعتراض ہے اور دوسری جانب فل کورٹ کی اپیل سمجھ نہیں آتی امید ہے کہ اس ہفتے اس کیس کا فیصلہ آ جائے گا کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے کہ نہیں ہم کبھی خاموش نہیں رہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • 14 سالہ نابالغ لڑکی کا اغوا، شادی، پولیس کو تفتیش مکمل کرنے کا حکم

    14 سالہ نابالغ لڑکی کا اغوا، شادی، پولیس کو تفتیش مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ میں 14 سالہ نابالغ لڑکی کے اغوا اور شادی کرنے کے معاملے کی سماعت ہوئی

    عدالت نے لڑکی کا میڈیکل معاٸنہ کروا کر اصل عمرچیک کرنے کی ہدایت کردی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت خانیوال پولیس کو ایک ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا گیا، عدالت نے حکم دیا کہ لڑکی کا شوہر بلاوجہ اپنی بیوی کو تنگ نہ کرے اور پولیس تفتیش میں تعاون کرے

    درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ لڑکی 12 سال کی تھی جب اغوا کرکے شادی کی گٸی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بچی کی عمرشادی کرنے کی ہے ہی نہیں ،جسٹس عاٸشہ ملک نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے پر اس کے خاوند کو جیل بھیجا جا سکتا ہے بچی کی مرضی کا عدالت اور پولیس جاٸزہ لے سکتی ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ پولیس نے اب تک کیا تفتیش کی؟ چھوٹی سی بچی کے بیان پر پولیس تفتیش کیسے بند کر سکتی ہے؟

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معصوم اور ناسمجھ ہے متاثرہ لڑکی کی دو بیٹیاں بھی ہی ان کا مستقبل اب کیا ہوگا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ لڑکی کے والدین سے صلح نہیں ہوسکتی؟ بچی کے خاوند نے کہا کہ صلح کے بدلے میری بہن کے ساتھ اپنے بیٹے کی شادی کروانا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے متاثرہ لڑکی کا والد بدلہ لے رہا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے متاثرہ بچی مہوش کو روسٹرم پر بلایا تو جسٹس عاٸشہ نے متاثرہ بچی سے پوچھا کس کے ساتھ جانا چاہتی ہیں؟ متاثرہ بچی مہوش نے جواب دیا کہ میں والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، جسٹس عاٸشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کا برا نہیں سوچتے ،عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے کردی

  • وفاقی شرعی عدالت کا  ٹرانس جینڈر ایکٹ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    وفاقی شرعی عدالت کا ٹرانس جینڈر ایکٹ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ٹرانس جینڈر ایکٹ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور سول سوسائٹی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،ٹرانس جینڈر رائٹس کی ڈائریکٹر نایاب علی اور صارم عمران نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے ایک پوری کمیونٹی کے شناخت کے حقوق سے انکار کیا، سپریم کورٹ وفاعی شرعی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے-

    درخواست میں کہا گیا کہ قانون سازی کمیونٹی کے اتفاق رائےکی نمائندگی کرتی ہے، قانون منتخب نمائندوں کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا، وفاقی شرعی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیاوفاقی شرعی عدالت نے صنفی شناخت اور وراثت کے حق سےمتعلق دفعات کو شرعی قانون سے متصادم قرار دیا تھا۔

    ایرانی شخص کی خلیج فارس میں وہیل شارک پرسواری کرنے کی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کےخلاف درخواست پر فیصلہ سنادیا گیا وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کےخلاف درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔

    دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ، درمیانے درجے …

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی خود کو مرد یاعورت کہلوا سکتے ہیں،وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کو سیکشن 2 اور 3 اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کا سیکشن 7 بھی خلاف اسلام وشریعت ہے، جسمانی خدوخال اور خودساختہ شناخت پرکسی کو ٹرانسجینڈر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

    امریکی ریاست الاسکا میں 7.2 شدت کے زلزلے کے جھٹکے،سونامی کی وارننگ جاری

    عدالت نے کہا کہ حکومت خواجہ سراؤں کو تمام حقوق دینے کی پابند ہے، اسلام خواجہ سراؤں کو تمام انسانی حقوق فراہم کرتا ہے وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کےخلاف دائردرخواستیں نمٹادیں۔

  • صحت، تعلیم اور خود مختاری خواتین کے بنیادی حقوق ہیں،چیف جسٹس

    صحت، تعلیم اور خود مختاری خواتین کے بنیادی حقوق ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری کے لیے خواتین کو با اختیار بنانا ہوگا، خواتین کو اپنے بنیادی فیصلے لینے کے لیے آزادی ہونی چاہیئے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں آبادی اور وسائل میں توازن سے متعلق کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ صحت اور تعلیم سمیت خواتین کے بنیادی حقوق سے متعلق پالیسیاں موجود ہیں،اب مسئلہ متعلقہ حکومتوں کی جانب سے پالیسیوں اور قوانین کے نفاذ کا ہے۔


    جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا کہ آبادی، بچوں اور خواتین کے حوالے سے کچھ اعترافات کروں گا، خوشی کی بات یہ ہے کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق کے لیے قانون سازی بھی ہو چکی ہے، آزاد کشمیر کو بھی اس میں شامل کیا جائے ملک کی بہتری کے لیے خواتین کو با اختیار بنانا ہوگا، خواتین کو اپنے بنیادی فیصلے لینے کے لیے آزادی ہونی چاہیئے اگر خواتین اور آبادی سے متعلق پالیسیوں کے نفاذ میں حکومتیں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں تو فوری عدالتوں سے رجوع کریں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی سے متفق ہیں، خواتین کو بنیادی فیصلے کرنے کے لیے آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

    ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں سب نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،شہباز شریف

    انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اعلیٰ عہدوں پر باصلاحیت خواتین موجود ہیں، جس مسئلے کے بارے میں ہم گفتگو کر رہے ہیں خواتین اس معاملے میں باصلاحیت ہیں، کانفرنس کا انعقاد جس مقصد کے لیے کیا گیا اچھی بات یہ ہے کہ حکومت اس سے بخوبی آگاہ ہے، پالیسیاں موجود ہیں اور حکومت اس کا شعور رکھتی ہےمیں ایک ضعیف العمر پرانے خیالات رکھنے والی شخصیت کا مالک ہوں، عدالتیں نہ پالیسیز بناتی ہیں نہ قانون بناتی ہیں، عدالتیں صرف قوانین اور پالیسز پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کر سکتی ہیں-

    سویڈن میں بائبل اور تورات کو جلانے کی اجازت دینے پر اسرائیل کا شدید ردعمل

    جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم بنیادی حق نہیں لیکن اسے بنیادی حق کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے، کانفرنس کی سفارشات معاشرے کی بہبود کے لیے ہیں، ملک بھر سے آئے کانفرنس کے شرکا ایک پیغام لے کر اپنے علاقوں میں جائیں گے انہوں نے قرآن کی آیات پڑھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم معاشرے کی بہتری کےلیے پر عزم ہوں تو اللہ ہمیں اپنی منزل تک ضرور پہنچائے گا۔ اس کے لیے ہمارے دل اور دماغ میں مثبت سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ صحت، تعلیم اور خود مختاری خواتین کے بنیادی حقوق ہیں۔

    قدرتی آفات کے چیلنجز سے نبرد آزما پاکستان نےآئی ایم ایف کو اپنا پلان بتا …

  • دہلی،بارش نے تباہی مچا دی،فوج سے مدد طلب

    دہلی،بارش نے تباہی مچا دی،فوج سے مدد طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، دہلی بارشی پانی میں گھر چکا ہے، دہلی کے مشہور لال قلعہ کے اطراف میں بھی پانی ہے، محکمۂ موسمیات کے مطابق یکم جون کو شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دروان نئی دہلی میں اوسط سے 113 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے

    دہلی کے لئے سیلاب کا خطرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا، جمنا کے پانی کی سطح میں معمولی کمی ہوئی لیکن شہریوں کی مشکلات کم نہیں ہوئیں ، شدید بارشوں کے وجہ سے دہلی کے کئی علاقے زیرآب آ چکے ہیں، دہلی حکومت نے مشکل وقت میں فوج سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا ہے،چیف سیکرٹری کو کہہ دیا گیا ہے کہ مشکل وقت میں فوج سے مدد مانگیں، دہلی میں سپریم کورٹ کے باہر بھی پانی کھڑا ہے، لال قلعہ، یمنا بازار، کشمیری گیٹ تک بھی پانی کھڑا ہے،

    دہلی میں بارش کے بعد ٹریفک مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، ملازمین کو کہا گیا ہے کہ گھروں سے کام کریں،تعلیمی اداروں میں چھٹی کر دی گئی ہے، ٹرینیں منسوخ ہو گئی ہیں، سیلاب کا پانی سمادھی استھل تک پہنچ گیا ہے،پانی کی وجہ سے لال قلعہ کو بند کر دیا گیا ہے، دہلی آنے اور جانے والی 342 ٹرینیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 140 ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیلابی ریلے کی وجہ سے مصروف سڑکیں زیر آب آگئی ہیں جب کہ رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے کے بعد ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں جس میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے

    انتظامیہ کا کہنا ہےکہ گزشتہ روز جمنا ندی میں پانی کی سطح 208.66 میٹر تک ریکارڈ کی گئی تھی جس میں معمولی کمی آئی ہے اور اب پانی کی سطح 208.46 میٹر تک پہنچی ہے، امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آج دوپہر تک پانی کی سطح میں مزید کمی آ سکتی ہے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے 18 جولائی کو مقرر کر دی ہیں، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے!

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ 18 جولائی کو سماعت کرے گا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہوں گے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہوں گے۔ عدالت نے مقدمے کے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں ۔

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال  نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کیخلاف درخواستیں پر سماعت کیلئے بینچ تشکیل دے دیا ہے، سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی لارجر بینچ 21 جولائی کو پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ رجسٹرار آفس نے تمام درخواست گزاروں اور فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں۔ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستوں کو عید الاضحی کے بعد دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، کل بھی ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • پی ٹی آئی پر پابندی کی درخواست،اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر

    پی ٹی آئی پر پابندی کی درخواست،اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر

    پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا معاملہ ،عون چودھری نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کر دی

    رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات لگا کر واپس کی تھی، اپیل میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس کیس میں سپریم کورٹ یہ اصول طے کر چکی ہے کہ پبلک آفس ہولڈر جواب دہ ہے،اس لیے ہماری درخواست قابلِ سماعت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں نفرت انگیز تقاریر کیں، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے خلاف کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر دفاع کو نوٹس جاری کیے،رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر کے درخواست سماعت کے لیے مقرر کی جائے،

    واضح رہے کہ عمران خان کے انتہائی قریب رہنے والے، عون چودھری نے درخواست دائر کر دی ہے،درخواست میں پی ٹی آئی پر ریاست ،ملکی اداروں کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے پابندی کی استدعا کی گئی ہے

    درخواست میں چیئرمین تحریک انصاف، صدر تحریک انصاف پرویز الٰہی، وزارت قانون، وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے ،سیکرٹری دفاع، وزیراعظم شہبازشریف، وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے فوج مخالف بیانات بھی درخواست میں شامل ہیں وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھا گیا خط بھی درخواست کا حصہ ہے ،درخواست میں چیئرمین تحریک انصاف پر ملک دشمنی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    درخؤاست میں استدعا کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کو بطور پارٹی تحلیل کیا جائے،تحریک انصاف کے چیرمین نے ریاستی اداروں پر براہ راست حملہ کیا، عدلیہ مخالف بیانات کے ساتھ ساتھ فوج اور اسکی تنصیبات پر حملہ کیا گیاتحریک انصاف کے چیرمین نے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بلکہ آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،

  • طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جا رہی؟ سپریم کورٹ میں سوال

    طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جا رہی؟ سپریم کورٹ میں سوال

    طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا ہے تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جارہی ہیں؟
    سپریم کورٹ میں لیگل ایجوکیشن، وکلا کی جعلی ڈگریوں وکلا انرولمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تمام انکوائریاں ان لا کالجز کے خلاف ہورہی ہیں جن کے الحاق ختم ہو چکے ہیں ہمیں انکوائری میں پیش ہونے کا موقع بھی نہیں دیا جا رہا ہمیں جے آئی ٹی کے سامنے ریکارڈ پیش کرنے کی اجازت دی جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے سپریم کورٹ نے پہلے حکم دیا تھا اب کیس دوبارہ نہیں کھول سکتے عدالت فیصلے کریگی کہ انکوائری درست ہوئی یا نہیں ایف آئی اے انکوائری صرف موجودہ کیسز کیلئے نہیں مستقبل میں بھی اس کی بنیاد پر لا کالجز کاالحاق ختم کیا جا سکتا ہے ،سربراہ ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار حسن رضا پاشا نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں الحاق شدہ لا کالجزکی تفصیلات پیش ہو چکی ہیں ،رپورٹ کے مطابق 6227 طلبہ نے داخلہ ٹیسٹ دیا 3997 طلبہ کو جعلی اور2230 کو جینوئن قرار دیا گیا جے آئی ٹی نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی اورکالجز کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش کی جے آئی ٹی نے کہا کہ مستقبل میں ایسی جعلسازی روکنے کیلئے سخت اقدامات کرنے چاہئیں جب یونیورسٹی لا کالجز سے الحاق کرتی ہے تو کوئی معیار نہیں دیکھا جاتا دو دو کمروں پر مشتمل یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں جے آئی ٹی نے کہا کہ 26لا کالجز کا کوئی کرائٹیریا ہی نہیں ہے یونیورسٹی وزٹ پر ہمیں بتایا گیا کہ ہم لیکچریوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہیں طلبا وہاں سے دیکھ لیتے ہیں اگر طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا ہے تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جارہی ہیں؟

    جسٹس حسن اظہررضوری نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پروفیسرز، لیکچررزاور ٹیچرز کی قابلیت سے متعلق کوئی ڈیٹا طلب کیا؟ کیا ٹیچرز کی ڈگریوں کی تصدیق بھی کی جا رہی ہے؟ حسن رضا پاشا نے کہا کہ جی باقاعدگی سے ٹیچرزکے ڈیٹا کی بھی سکروٹنی کی جارہی ہے،یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کا عملہ گھپلے کر رہا ہے، 3 لاکھ روپے کر طلبا کو پچھلی تاریخوں میں داخلہ دے دیا جاتا ہے جن کالجز کا الحاق ختم ہو گیا وہ اب بھی طلبا کو بلیک میل کرکے پیسہ مانگ رہے ہیں، جو طلبا فیل ہو گئے انہیں دوبارہ داخلے دیئے گئے عدالت اس حوالے سے سخت آرڈر پاس کرے

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ایڈووکیٹ احمد اس معاملے میں عدالت کی معاونت کریں،عدالت نے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو آئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیا عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی لا کالج کا ریکارڈ بھی ساتھ لائیں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی ، عدالت نے کہا کہ پاکستان بار کونسل فیکلٹی ممبران کی سکروٹنی سے متعلق رپورٹ جمع کرائے عدالت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے نان پریکٹس الاؤنس پالیسی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی سپریم کورٹ نے صوبائی بار کونسلوں سے بھی رپورٹ طلب کرلیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس،سماعت ملتوی

    لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ ،پنجاب نگران حکومت کی جانب سے لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل پنجاب حکومت نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر تمام اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈووکیٹ جنرلز کوکیس بارے آگاہ کر دیا گیا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ اسی نوعیت کا کیس پشاور میں جسٹس مسرت ہلالی سن چکی ہیں، پشاور ہائیکورٹ میں لارجر بنچ دینے کا حکم دیا گیا تھا

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا کسی کو میری بنچ میں موجودگی پر اعتراض ہے، فریقین وکلاء نے کہا کہ فریقین میں سے کسی بھی وکیل کو جسٹس مسرت ہلالی کی بنچ میں شامل ہونے پر اعتراض نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرلنے استدعا کی کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام حکومتوں پر لاگو ہوگا، تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جائیں، وکیل درخواست گزار عابد زبیری نے کہا کہ عدالت کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کر دے، دیگر صوبوں اور وفاق میں اگست میں نگران حکومتیں بننے کو ہیں،دیگر صوبوں میں نگران حکومتوں بننے کے انتظار میں کیس تاخیر کا شکار ہوگا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس نگران حکومتوں کے اختیارات کا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون طے کرے گا، دیگر صوبوں کو سننا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے ،عدالت نے رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے زیر التوا کیس بارے رپورٹ طلب کر لی کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی تین رکنی بنچ کا حصہ ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ سے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جس میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی احاطہ عدالت سے گرفتاری بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 22 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جاری کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے علیحدہ وجوہات جاری کرنے کا نوٹ بھی لکھا۔

    صحافی افضل جاوید کے مطابق فیصلے میں لکھا گیا کہ پولیس حکام، تحقیقاتی ایجنسی احاطہ عدالت سے گرفتاری سے پرہیز کریں، احاطہ عدالت سے گرفتاری عدالت کی عزت و تکریم اور وقار کی خلاف ورزی ہے، احاطہ عدالت سے گرفتاری شہریوں کی بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، عدالتوں کو لوگ اپنے لیے محفوظ سمجھ کر انصاف حاصل کرنے آتے ہیں ، چیٸرمین پی ٹی آٸی اسلام آباد ہاٸیکورٹ میں سرینڈر کر چکے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ چیٸرمین پی ٹی آٸی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود کو نو مٸی کے واقعات سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں، سابق وزیراعظم نے جواب دیا وہ گرفتار تھے۔ معلوم نہیں کہ ملک میں کیاہوا، انہوں نے یقین دہانی کرواٸی کہ بھی کارکنوں کو تشدد پرنہیں اکسایا، چیٸرمین پی ٹی آئی نے یقین دہانی کرواٸی کہ وہ ملک میں امن چاہتے ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، چئیرمین پی ٹی آئی القادر ٹرسٹ سمیت ایک اور کیس کے لیے ہائیکورٹ پہنچے تھے، ہائیکورٹ میں بائیو میٹرک کے وقت رینجرز نے ڈائری برانچ میں زبردستی گھس کر چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا، رینجرز نے 9 مئی کو ہائیکورٹ کے احاطے میں شیشے توڑے، وکلا اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے مزید میں لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے واقعے کا نوٹس لیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے گرفتاری کے طریقے کو غلط لیکن گرفتاری کو قانونی قرار دیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے گرفتاری غیر قانونی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالتی حکم پر ساڑھے چار بجے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے 9 مئی کے واقعات پر بیان کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کو روسٹرم پر آنے کی اجازت دی۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے گرفتاری کے بعد کے واقعات سے لا علمی کا اظہار کیا، عدالت نے پوچھا کہ کیا وہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے یقین دہانی کرائی اور کہا کبھی اپنے چاہنے والوں کو تشدد پر نہیں اکسایا۔

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ درخواست گزار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتاری پر مایوسی کا اظہار کیا، نیب پراسیکیوٹر اور اٹارنی جنرل کو سننے کے فوری بعد مختصر حکم جاری کیا گیا، مختصر حکم میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پولیس گیسٹ ہاؤس میں نامزد لوگوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی، احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے انصاف کے حصول کے بنیادی حق کو پامال کیا گیا، طے شدہ اصول ہے کہ عدالتی وقار اور تقدس کی پاسداری سب پر لازم ہے، لوگ اس یقین دہانی پر عدالتوں آتے ہیں کہ آزادانہ ماحول اور شفاف انصاف ملے گا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ میں پیش ہو کر بائیو میٹرک تک چئیرمین پی ٹی آئی نے عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا، جس طریقے سے گرفتاری ہوئی ہائیکورٹ کی اتھارٹی اور تقدس کو پامال کیا گیا، اس سے قبل احاطہ عدالت سے گرفتاری پر سپریم کورٹ توہین عدالت کی کارروائی کر چکی ہے، عدالت کی صوابدید ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کرے یا اس سے احتراز برتے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے اپنے تقدس کو شہری کے انصاف کے حصول کے بنیادی حق پر ترجیح دی، ہائیکورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت دے سکتی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری قانونی قرار دی جاتی تو القادر ٹرسٹ میں دائر ضمانت کی درخواست غیر مؤثر ہو جاتی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر سابق وزیراعظم کی گرفتاری قانونی قرار دی جاتی تو آئندہ احاطہ عدالت سے گرفتاری معمول بن جاتی، عدالت گرفتاری کی توثیق کرتی تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے احاطہ عدالت کو ملزمان کے شکار کا گڑھ بنا لیتے، پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزمان کے ساتھ احاطہ عدالت میں بدتمیزی کی اجازت مل جاتی، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 4، 9 اور 10 اے کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے گرفتاری غیر قانونی قرار دی۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا وارنٹ غیر قانونی قرار دے کر انہیں رہا کردیا تھا۔