Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جا رہی؟ سپریم کورٹ میں سوال

    طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جا رہی؟ سپریم کورٹ میں سوال

    طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا ہے تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جارہی ہیں؟
    سپریم کورٹ میں لیگل ایجوکیشن، وکلا کی جعلی ڈگریوں وکلا انرولمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تمام انکوائریاں ان لا کالجز کے خلاف ہورہی ہیں جن کے الحاق ختم ہو چکے ہیں ہمیں انکوائری میں پیش ہونے کا موقع بھی نہیں دیا جا رہا ہمیں جے آئی ٹی کے سامنے ریکارڈ پیش کرنے کی اجازت دی جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے سپریم کورٹ نے پہلے حکم دیا تھا اب کیس دوبارہ نہیں کھول سکتے عدالت فیصلے کریگی کہ انکوائری درست ہوئی یا نہیں ایف آئی اے انکوائری صرف موجودہ کیسز کیلئے نہیں مستقبل میں بھی اس کی بنیاد پر لا کالجز کاالحاق ختم کیا جا سکتا ہے ،سربراہ ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار حسن رضا پاشا نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں الحاق شدہ لا کالجزکی تفصیلات پیش ہو چکی ہیں ،رپورٹ کے مطابق 6227 طلبہ نے داخلہ ٹیسٹ دیا 3997 طلبہ کو جعلی اور2230 کو جینوئن قرار دیا گیا جے آئی ٹی نے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی اورکالجز کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش کی جے آئی ٹی نے کہا کہ مستقبل میں ایسی جعلسازی روکنے کیلئے سخت اقدامات کرنے چاہئیں جب یونیورسٹی لا کالجز سے الحاق کرتی ہے تو کوئی معیار نہیں دیکھا جاتا دو دو کمروں پر مشتمل یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں جے آئی ٹی نے کہا کہ 26لا کالجز کا کوئی کرائٹیریا ہی نہیں ہے یونیورسٹی وزٹ پر ہمیں بتایا گیا کہ ہم لیکچریوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہیں طلبا وہاں سے دیکھ لیتے ہیں اگر طلبا نے یوٹیوب سے پڑھنا ہے تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جارہی ہیں؟

    جسٹس حسن اظہررضوری نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پروفیسرز، لیکچررزاور ٹیچرز کی قابلیت سے متعلق کوئی ڈیٹا طلب کیا؟ کیا ٹیچرز کی ڈگریوں کی تصدیق بھی کی جا رہی ہے؟ حسن رضا پاشا نے کہا کہ جی باقاعدگی سے ٹیچرزکے ڈیٹا کی بھی سکروٹنی کی جارہی ہے،یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کا عملہ گھپلے کر رہا ہے، 3 لاکھ روپے کر طلبا کو پچھلی تاریخوں میں داخلہ دے دیا جاتا ہے جن کالجز کا الحاق ختم ہو گیا وہ اب بھی طلبا کو بلیک میل کرکے پیسہ مانگ رہے ہیں، جو طلبا فیل ہو گئے انہیں دوبارہ داخلے دیئے گئے عدالت اس حوالے سے سخت آرڈر پاس کرے

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ایڈووکیٹ احمد اس معاملے میں عدالت کی معاونت کریں،عدالت نے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو آئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیا عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی لا کالج کا ریکارڈ بھی ساتھ لائیں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی ، عدالت نے کہا کہ پاکستان بار کونسل فیکلٹی ممبران کی سکروٹنی سے متعلق رپورٹ جمع کرائے عدالت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے نان پریکٹس الاؤنس پالیسی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی سپریم کورٹ نے صوبائی بار کونسلوں سے بھی رپورٹ طلب کرلیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس،سماعت ملتوی

    لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ ،پنجاب نگران حکومت کی جانب سے لاء افسران کی تبدیلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل پنجاب حکومت نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر تمام اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈووکیٹ جنرلز کوکیس بارے آگاہ کر دیا گیا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ اسی نوعیت کا کیس پشاور میں جسٹس مسرت ہلالی سن چکی ہیں، پشاور ہائیکورٹ میں لارجر بنچ دینے کا حکم دیا گیا تھا

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا کسی کو میری بنچ میں موجودگی پر اعتراض ہے، فریقین وکلاء نے کہا کہ فریقین میں سے کسی بھی وکیل کو جسٹس مسرت ہلالی کی بنچ میں شامل ہونے پر اعتراض نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرلنے استدعا کی کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام حکومتوں پر لاگو ہوگا، تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جائیں، وکیل درخواست گزار عابد زبیری نے کہا کہ عدالت کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کر دے، دیگر صوبوں اور وفاق میں اگست میں نگران حکومتیں بننے کو ہیں،دیگر صوبوں میں نگران حکومتوں بننے کے انتظار میں کیس تاخیر کا شکار ہوگا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس نگران حکومتوں کے اختیارات کا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون طے کرے گا، دیگر صوبوں کو سننا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے ،عدالت نے رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے زیر التوا کیس بارے رپورٹ طلب کر لی کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی تین رکنی بنچ کا حصہ ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ سے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جس میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی احاطہ عدالت سے گرفتاری بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 22 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جاری کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے علیحدہ وجوہات جاری کرنے کا نوٹ بھی لکھا۔

    صحافی افضل جاوید کے مطابق فیصلے میں لکھا گیا کہ پولیس حکام، تحقیقاتی ایجنسی احاطہ عدالت سے گرفتاری سے پرہیز کریں، احاطہ عدالت سے گرفتاری عدالت کی عزت و تکریم اور وقار کی خلاف ورزی ہے، احاطہ عدالت سے گرفتاری شہریوں کی بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، عدالتوں کو لوگ اپنے لیے محفوظ سمجھ کر انصاف حاصل کرنے آتے ہیں ، چیٸرمین پی ٹی آٸی اسلام آباد ہاٸیکورٹ میں سرینڈر کر چکے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ چیٸرمین پی ٹی آٸی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود کو نو مٸی کے واقعات سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں، سابق وزیراعظم نے جواب دیا وہ گرفتار تھے۔ معلوم نہیں کہ ملک میں کیاہوا، انہوں نے یقین دہانی کرواٸی کہ بھی کارکنوں کو تشدد پرنہیں اکسایا، چیٸرمین پی ٹی آئی نے یقین دہانی کرواٸی کہ وہ ملک میں امن چاہتے ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، چئیرمین پی ٹی آئی القادر ٹرسٹ سمیت ایک اور کیس کے لیے ہائیکورٹ پہنچے تھے، ہائیکورٹ میں بائیو میٹرک کے وقت رینجرز نے ڈائری برانچ میں زبردستی گھس کر چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا، رینجرز نے 9 مئی کو ہائیکورٹ کے احاطے میں شیشے توڑے، وکلا اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے مزید میں لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے واقعے کا نوٹس لیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے گرفتاری کے طریقے کو غلط لیکن گرفتاری کو قانونی قرار دیا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے گرفتاری غیر قانونی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالتی حکم پر ساڑھے چار بجے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے 9 مئی کے واقعات پر بیان کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کو روسٹرم پر آنے کی اجازت دی۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے گرفتاری کے بعد کے واقعات سے لا علمی کا اظہار کیا، عدالت نے پوچھا کہ کیا وہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے یقین دہانی کرائی اور کہا کبھی اپنے چاہنے والوں کو تشدد پر نہیں اکسایا۔

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ درخواست گزار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتاری پر مایوسی کا اظہار کیا، نیب پراسیکیوٹر اور اٹارنی جنرل کو سننے کے فوری بعد مختصر حکم جاری کیا گیا، مختصر حکم میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پولیس گیسٹ ہاؤس میں نامزد لوگوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی، احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے انصاف کے حصول کے بنیادی حق کو پامال کیا گیا، طے شدہ اصول ہے کہ عدالتی وقار اور تقدس کی پاسداری سب پر لازم ہے، لوگ اس یقین دہانی پر عدالتوں آتے ہیں کہ آزادانہ ماحول اور شفاف انصاف ملے گا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ میں پیش ہو کر بائیو میٹرک تک چئیرمین پی ٹی آئی نے عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا، جس طریقے سے گرفتاری ہوئی ہائیکورٹ کی اتھارٹی اور تقدس کو پامال کیا گیا، اس سے قبل احاطہ عدالت سے گرفتاری پر سپریم کورٹ توہین عدالت کی کارروائی کر چکی ہے، عدالت کی صوابدید ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کرے یا اس سے احتراز برتے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے اپنے تقدس کو شہری کے انصاف کے حصول کے بنیادی حق پر ترجیح دی، ہائیکورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت دے سکتی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری قانونی قرار دی جاتی تو القادر ٹرسٹ میں دائر ضمانت کی درخواست غیر مؤثر ہو جاتی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر سابق وزیراعظم کی گرفتاری قانونی قرار دی جاتی تو آئندہ احاطہ عدالت سے گرفتاری معمول بن جاتی، عدالت گرفتاری کی توثیق کرتی تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے احاطہ عدالت کو ملزمان کے شکار کا گڑھ بنا لیتے، پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزمان کے ساتھ احاطہ عدالت میں بدتمیزی کی اجازت مل جاتی، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 4، 9 اور 10 اے کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے گرفتاری غیر قانونی قرار دی۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا وارنٹ غیر قانونی قرار دے کر انہیں رہا کردیا تھا۔

  • جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا

    جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا

    سپریم کورٹ کی دوسری خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا

    جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج کے حلف اٹھا لیا ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس مسرت ہلالی سے حلف لیا جسٹس مسرت ہلالی سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی دوسری جج ہیں ، تقریب حلف برداری میں سپریم کورٹ کے ججز، وکلا اور اٹارنی جنرل نے شرکت کی

    جسٹس مسرت ہلالی کے حلف اٹھانے کے بعد سے اب سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 16 ہوگئی ہے ج کہ وہ سپریم کورٹ میں ذمہ داریاں نبھانے والی دوسری خاتون جج ہوں گی ان سے قبل جسٹس عائشہ ملک نے 24 جنوری 2022 کو سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا

    جسٹس مسرت ہلالی 8 اگست 1961 کو پشاور میں پیدا ہوئیں انہوں نے خیب لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اوروہ 1983 میں ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر انرولڈ ہوئیں، 1988 میں انہوں نے بطور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ اور 2006 میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے طور پر کام کیا ،جسٹس مسرت ہلالی نے یکم اپریل 2023 کو پشاور ہائیکورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا اور پھر 12 مئی 2023 کو انہیں ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا گیا تھا

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،سپریم کورٹ

    ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز االاحسن اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،وکیل منیر پراچہ نے کہا کہ میرے نظرثانی کیس میں ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ایشو کو حل کرنا ہے وکیل نے کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ میں صرف دو شقوں میں 184 (3) کا ذکر ہے،ایکٹ کی دیگر شقیں تمام نظرثانی مقدمات پر لاگو ہوں گی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ اپیل میں آنے والے مقدمات پر بھی لاگو ہو گا بتائیں دیگر شقوں میں 185 کے اطلاق کا کیوں نہیں لکھا گیا؟ قانون بنانے کا مقصد بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق 184تین کے مقدمات کیلئے ہے متروکہ وقف املاک نظرثانی کیس میں وکیل کے ایکٹ اطلاق سے متعلق تمام اعتراضات مسترد کر دیئے گئے

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا تعلق 184 (3) کے علاوہ مقدمات پر نہیں ہوتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل کو ہدایت کی کہ کیس کے میرٹ پر دلائل دیں،وکیل نے کہا کہ وفاقی وزیر کے پاس متروکہ وقف املاک کی جائیداد الاٹمنٹ کا حق نہیں تھا جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل ویلفیئر کا وزیر کیسے متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کر سکتا ہے آپکی دلیل مان لی تو پھر وفاقی حکومت کا ڈرائیور بھی متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کر سکے گا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کا ہر وزیر یوں زمین کی الاٹمنٹ کر سکتا ہے؟ ملک میں قانون ہے کوئی بادشاہت نہیں،ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،قوانین، قواعد جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں موجودہ کیس میں وزیر کا اختیار تھا نہ قانونی طریقہ کار اپنایا گیا

    سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل خارج کردی

    22مارچ 1977 کو اس وقت کے وفاقی وزیر نے زمین شہریوں کو الاٹ کرنے کی منظوری دی تھی زمین الاٹمنٹ کے خلاف متروکہ وقف املاک نے عدالت میں کیس دائر کیا تھا

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

  • چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا   جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری

    وفاقی وزارت قانون و انصاف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 177 کی شق ون کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
    نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ جسٹس مسرت ہلالی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا اطلاق اسی دن ہوگا جب وہ اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گی۔
    ٕیاد رہے کہ 14 جون کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے عدالت عظمیٰ کی تاریخ میں دوسری خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی کی تعیناتی کی سفارش کردی تھی، جس کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی سفارش کردی تھی۔
    ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، جسٹس (ر) سرمد عثمان جلالی اور پاکستان بار کونسل کے اختر حسین نے شرکت کی تھی۔اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی کے نام پر اتفاق کرتے ہوئے ان کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش کردی تھی۔
    سپریم کورٹ میں اس وقت 17 ججوں کی طے شدہ تعداد کے برخلاف چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال سمیت 15 جج امور سرانجام دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پشاور ہائی کورٹ میں بطور قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں ادا کرنے والی جسٹس مسرت ہلالی کی آئین کے آرٹیکل 175 اے (13) کے تحت بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی تھی۔
    یکم اپریل کو جسٹس مسرت ہلالی نے پشاور ہائی کورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا تھا جس کے بعد وہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں۔8 اگست 1961 کو پشاور میں پیدا ہونے والی جسٹس مسرت ہلالی نے خیبر لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1983 میں وکالت کا آغاز کیا۔1988 میں انہوں نے ہائی کورٹ جبکہ 2006 میں سپریم کورٹ کا لائسنس بھی حاصل کر لیا۔2013 میں وہ پشاور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج تعینات ہوئیں اور 2014 میں مستقل جج بن گئیں۔
    جسٹس مسرت ہلالی 2007 کی وکلا تحریک میں بھرپور طور پر سرگرم رہیں اور احتجاجی مظاہروں میں مرد وکلا کے شانہ بشانہ شرکت کرتی رہیں۔اس کے علاوہ انہیں پشاور ہائی کورٹ بار کی نائب صدر، سیکریٹری، خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، پہلی صوبائی محتسب کے عہدوں پر فائز رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔پشاور ہائی کورٹ کی خواتین وکلا نے جسٹس مسرت ہلالی کی پہلی خاتون قائم مقام چیف جسٹس ہائی کورٹ کے عہدے پر تعیناتی کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

  • بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے، چیف جسٹس

    بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا ہے کہ بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے-

    سپریم کورٹ میں بچوں کی انسانی سمگلنگ کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی،دوران سماعت سپریم کورٹ میں یونان کشتی حادثے کا تذکرہ ہوا،چیف جسٹس نے کہا کہ یونان میں ہونے والا کشتی حادثہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، سادہ لوح غریب شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے،شہری انسانی سمگلروں کے دھوکے میں آ کر لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں، ملک میں خواتین اور بچوں کی بھی انسانی سمگلنگ ہو رہی ہے-

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    چیف جسٹس نے استفسا کیا کہ کیا حکومت کے پاس بچوں کی سمگلنگ کے اعداد و شمار ہیں؟ ڈی جی وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ بدقسمتی سے درست اعدادوشمار موجود نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے بنائے گئے 2018 کے قانون میں ابہام ہے، بنیادی مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کیلئے سپیشلسٹ فورس نہ ہونا بھی ہے، انسانی سمگلنگ روکنے کا کام بھی پولیس کے ذمہ تھا، سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بھی انسانی سمگلنگ روکنے کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا، سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے طیبہ تشدد کیس بھی سنا تھا، کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ آج نویں جماعت کی ہونہار طالبہ ہے، طیبہ کو اس کے گھر والے چھوڑ چکے تھے وہ ایس او ایس ویلج میں قیام پذیر ہے،بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے-

    کراچی میں لڑکی سے سرعام زیادتی کی کوشش

  • سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے مزید 45 نشتوں پر بھرتیوں کا معاملہ موخر کردیاپی آئی اے نے پائلیٹس، کیبن کریو، آئی ٹی ماہر، فنانس اور مینیجمنٹ سائیڈ پر 250 بھرتیوں کی اجازت مانگی تھی سپریم کورٹ نے پائلیٹس، کیبن کریو اور آئی ماہرین کی بھرتیوں کی اجازی دیدی-

    عدالت نے پی آئی اے انتظامیہ کو بھرتیوں کا عمل صاف شفاف بنانے کی ہدایت کی ،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پی آئی اے اپنے واجبات ادا نہیں پا رہا ہے، پی آئی اے کو مزید بھرتیاں کس لیے کرنی ہے، جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ پی آئی آے کی سروسز کے معیار اپ ٹو مارک نہیں، نئی بھرتیوں سے ماہانہ 9 کروڑ سے زائد کا ادارہ پر بوجھ پڑے گا-

    لاہورسمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش کا سلسلسہ وقفے وقفے سے جاری

    سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے کو پاوں پر کھڑے کرنے کیلئے پلان بنایا ہے، قومی ائیر لائین کا گذشتہ چھ ماہ کا نفع 3 ارب ہے، نفع بخش روٹس پر فلائیٹس آپریشن چلا رہے ہیں، سمزید انٹرنیشنل نیشنل روٹس پر فائیٹ آپریشن شروع کرنے لگے ہیں-

    جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ دیگر ائیر لائین کا فلائیٹ اسٹاف تو کم ہوتا ہے، یہ بھرتیاں کس بنیاد پر ہوگی، بھرتیوں مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ پر ہوگی، سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ بھرتیاں ایک سال کے قابل توسیع کنٹریکٹ کی بنیاد ہر ہوگی،عدالت نے سی ای او PIA, ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد بھرتیوں کی اجازی دیدی-

    اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو آمدن کے برابر ڈالرز کی ایل سی کھولنے کی اجازت

  • سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل،22 جون کا تحریری حکم نامہ جاری

    سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل،22 جون کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف آئینی درخواستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے 22 جون کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    9 رکنی بینچ کے آرڈر پر 7 ججز نے دستخط کیے اور تحریری حکم کے ساتھ ویب سائٹ سے ہٹایا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ بھی شامل ہے جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ کے بھی نوٹ شامل ہیں۔

    جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ چیف جسٹس کو 17مئی کو 5 صفحات پر مشتمل جواب ارسال کیا، نشاندہی کی کہ مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل چیف جسٹس اور 2 سینئر ججز پرمشتمل کمیٹی کرے گی، اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ عدالت عظمٰی نے قانون کو جنم لینے سے پہلے ہی معطل کردیا۔

    کرنل شیر خان شہید نشان حیدر کا 24 واں یوم شہادت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ معزز چیف جسٹس نے مجھے ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے، مخمصے سے اسی وقت نکلا جاسکتا ہے جب اس قانون کے خلاف درخواستوں پرفیصلہ کریں یا حکم امتناع واپس لیں چیف جسٹس کو 17 مئی کو پانچ صفحات پر مشتمل جواب ارسال کیا، چیف جسٹس کو جواب میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا ایک بار پھر حوالہ دیا اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ عدالت عظمٰی نے قانون کو جنم لینے سے پہلے ہی معطل کردیا معزز چیف جسٹس نے مجھے ایک مخمصے میں ڈال دیا جس سے اسی وقت نکلا جاسکتا ہے جب اس قانون کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ کریں یا حکم امتناع واپس لیں۔

    ایس سی او ریاستی دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرے. …

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام ضروری معاملات اپنی مرضی یا چیدہ اہلکاروں کےذریعے چلائے، ججوں کی فل کورٹ میٹنگ تو نہ بلائی لیکن درخواست گزاروں اور ان کے وکلا کو ترجیح دی، ایکٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنےوالے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس کررہے ہیں، پوری قوم کی طرح میں بھی منتظر ہوں فیصلہ جلد ہو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کب تک چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں، اس کا جواب چیف جسٹس ہی بہتر دے سکیں گے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےنوٹ میں کہا کہ کچھ عرصے سے بینچ کی تشکیل کے لیے متواتر ایک مخصوص پیٹرن نظر آرہا ہے، چند معزز ججز کے اسپیشل بینچ بنائے گئے، فل کورٹ کی عدم تشکیل سے اس عدالت کی اتھارٹی اور فیصلوں کی قانونی حیثیت متاثرہورہی ہے، حالیہ معاملے کی آئینی حیثیت اعلیٰ ترین عدالتی جانچ کا تقاضا کرتی ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہونے تک بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات فل کورٹ سنے۔

    قتل یا خود کشی ؟بارات کےروزغائب والے دولہا کی گولی لگی لاش کھیت سے برآمد

    تحریری حکم نامے کے ساتھ جسٹس سردار طارق مسعود کا نوٹ بھی جاری کردیا گیا ہےجسٹس سردار طارق مسعود کے نوٹ میں کہا گیا ہےکہ چیف جسٹس سویلین کے فوجی ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیں سویلین کے فوجی ٹرائل کیخلاف درخواست گزار وکیل کے ساتھ چیف جسٹس کو ملا، چیف جسٹس سے چیمبر میں ملاقات کے اگلے روز مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ بینچ کی تشکیل کے حوالے سے کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی، پوچھا کہ کیا سالوں سے زیر التوا مقدمات میں درخواست گزاروں کو چیف جسٹس سے ملنے کی اجازت ہوگی انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس اس وجہ سے سنا کہ 5 رکنی بینچ اسے قابل سماعت قرار دے چکاتھا۔

    روجھان: ریسکیو1122 ایمبولینس حادثہ کاشکار، 2 ریسکیورز شہید

  • عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر

    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر

    سپریم کورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کے دور حکومت میں فوجی عدالتوں سے 29 افراد کو سنائی گئی سزائیں چیلنج کر دی گئیں

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے ،درخواست میں وفاق ،سابق وزیراعظم ،سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو فریق بنایا گیا ہے۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سمیت چاروں رجسٹرار ہائی کورٹس بھی فریقین میں شامل ہیں،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 29 سویلین کو ملک کے مختلف حصوں سے اٹھا کر فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا گیا ۔29 میں سے صرف پانچ افراد کو وکلا تک رسائی کی اجازت دی گئی، آرمی ایکٹ کے تحت دی گئی سزاوں کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت قرار دے کہ عمران خان، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خلاف قانون شہریوں کو اغوا کیے رکھا ، 29 شہریوں کو دی جانے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کیا جائے، ایک شہری کو 2020 میں سزائے موت، جبکہ ایک کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی دیگر ملزمان کو فوجی عدالتوں نے پانچ سے دس سال کی سزائیں سنائیں

    واضح رہے کہ سانحہ نو مئی کے شرپسندوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو رہا ہے جس پر تحریک انصاف نے فوجی عدالتوں کے خلاف اب سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے،

    سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟