Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس ایک دہشت گرد کے سہولت کار بننے کے بعد اپنا وقار کھو بیٹھے. مریم نواز شریف

    چیف جسٹس ایک دہشت گرد کے سہولت کار بننے کے بعد اپنا وقار کھو بیٹھے. مریم نواز شریف

    مسلم لیگ نواز کی سینئر نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمران خان کی سیاست کے لئے اپنی کرسی استعمال کررہے ہیں، اب آپ سیاسی ردعمل کے لئے تیار رہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں مسلم لیگ ن کی چیف آگنائزر مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس ہونے کا مطلب ریاست کو اس شخص کی غلامی میں دینا نہیں جس نے اپنے پالتو غنڈوں کے ذریعے قومی وقار اور ملکی دفاع کی ہر علامت کو جلا کر راکھ کردیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایسے شخص کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنا ، اسے شاہی مہمان بنا کر رکھنا ، اس کے نخرے اٹھانا ہر پاکستانی کے علاوہ ان شہیدوں اور غازیوں کی توہین ہے جن کی ہر نشانی پر حملہ کیا گیا۔

    لیگی رہنما نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ اب عدلیہ ہی نہیں آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، ملکی تقدیر سے کھیلنے والے ایک دہشتگرد کے سہولت کار بننے کے بعد آپ اپنا وقار کھو چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    مریم نواز نے مزید کہا کہ چیف جسٹس اپنی کرسی کو عمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اب سیاسی رد عمل کے لیے تیار رہیں۔ جبکہ نواز لیگ کی سینئر نائب صدر کا کہنا تھا کہ فتنہ گرفتاری کے ڈر سے عدالت میں چھپا بیٹھا ہے، اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدالت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ اس دہرے معیار پر شرم آتی ہے۔

  • بلوائی حملے نظرانداز،ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی حلف سے غداری ہے،امان اللہ کنرانی

    بلوائی حملے نظرانداز،ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی حلف سے غداری ہے،امان اللہ کنرانی

    سُپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ڈاکٹر علوی صاحب جناب چیف جسٹس سُپریم کورٹ پاکستان جناب مُحترم عطا بندیال صاحب نے 9 مئی 2023 کو کورکمانڈر لاھور کے گھر و جی ایچ کیو راولپنڈی کے سنگین دھشت گردی توڑ پھوڑ و بلوائی حملوں کو نظرانداز کرکے اس میں ملوث مرکزی ملزم کی پزیرائی و پیشوائی کی ہے دونوں نے اپنے حلف سے غداری و سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمے میں اعانت جُرم یعنی تعزیرات پاکستان کے دفعات 109,120-Bاور124-A کا ارتکاب کیا ہے جس سے ملزموں کی حوصلہ افزائی و قانون نافذ کرنے والے جوانوں و افسروں کی حوصلہ شکنی ھوئی ہے جو درجنوں کی تعداد میں ملک بھر کے ھسپتالوں میں زیر علاج ہیں قومی و انسانی جانوں کا ضیاع ایک درجن سے زائد بے گناہ شہری اس روز جام شہادت نوش کرگئے کئ شدید زخمی ھوئے اگر اسی تحریک کے سربراہ جس کی آو بھگت و تعریف و توصیف میں دونوں آئینی اداروں کے سربراہان ھلکان و غلطان ہیں پھر قوم کو آزاد کردیا جائے اس ملک کی ریاستی حیثیت کو تسلیم کریں یا اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں جس کے آئینی سربراہ آئین و ریاست کے تحفظ و وفاداری کی بجائے ایک مخصوص پارٹی و سربراہ کی حفاظت و محبت میں گرفتار ھوچکےہیں وہ 24 کروڑ عوام کی مملکت کے سربراہ نہیں بلکہ وہ ایک مخصوص ذھنیت کی حامل سیاست کے نام پر دھشت گرد تنظیم کے زر خرید غلام ہیں جس میں ناقابل تردید آڈیو لیکس ثبوت کے لئےکافی ہیں

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ کم سے کم مجھے ایسی ریاست کے سربراہ و عدالت سے کے نام پر دھبے سے نفرت ہے مگر اپنی ماں ریاست پاکستان کی مانگ کو ایسا اُجڑا و بکھرا ھوا بھی نہیں دیکھ سکتا جہاں بلوچستان میں ایک عظیم لیڈر نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کو جو گورنر و وزیراعلی وفاقی وزیر داخلہ رہا جو پاکستان کے لئے گوادر کی سرزمین واگزار کرا چکا ھو جو قائداعظم کو بلوچستان میں خوش آمدید کہتا ھو جو قائداعظم کے دور میں بلوچستان کے دو رکنی کابینہ میں سے ایک ھو اس کو تو محض صرف صوبے کے وسائل کی بات کرنے پر تہہ و تیغ کردیا جائے مگر جو ریاست پر حملہ آور ھوں ریاستی اداروں کو تہس نہس کرتے ھوں اور اس کے مجرموں کیلئے نرم گوشہ رکھنے کے باوجود ریاست کے دو اھم اداروں کی سربراہی پر فائز رہتے ھوں اس ریاست کا خدا ہی حافظ ایسی سرزمین کے باسی منتظر ہیں کب میر جعفر و میر صادق و فساد فی الارض سے نجات کیلئے کوئی جرات مند کشتیاں جلانے والا طارق بن زیادہ پیدا ھو اور قوم کو ایسے بونوں سے نجات کا اقدام کرے جو ریاست کی بجائے اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں ریاست کی اساس کی بجائے اپنی”ساس”کو ترجیح دیتے ہیں

  • چیف جسٹس نے  مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    چیف جسٹس نے مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے حکم پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے وارداتیے کو مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انھیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔

    خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےدوبارہ رجوع کرنےکا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ آپ کو ماننا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کی گرفتاری سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی ڈرامائی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دینے کے حکم سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔

  • عمران خان کی طرح  آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں سُپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے عمران خان کی نیب کی جانب سے رہائی کے احکامات کے بعد آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت نیب کے کیسزز میں گرفتار تمام ملزمان کی رہائی اور ماضی میں سزا پانے والوں کی سزائیں پارلیمنٹ کے قانون سازی کے زریعے معاف کرکے ان کے ذمے تمام واجبات کالعدم قرار دیئے جائیں کیونکہ نیب کا ہر ملزم گرفتاری کا طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر گرفتار کیا گیا ہے.

    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کاش محترمہ فاطمہ جناح کو بستر پر شہید نہ کیاجاتا وزیراعظم لیاقت علی خان سابق وزراء اعظم حسین شہید سہروردی و محترمہ بے نظیر بھٹو کو بیچ چوراہا گولی نہ ماری جاتی، ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکو عدالتی قتل و دو دیگر وزراء اعظم محمد نواز شریف و یوسف رضا گیلانی کو عدالتی ستم سے نہ ہٹایا جاتا جبکہ سابق گورنر نواب اکبر خان بگٹی کو تراتانی کے پہاڑوں میں شہید نہ کیا جاتا تو شاید آج عمران نیازی کی گرفتاری بھی بڑی خبر ہوتی عوام کی توجہ حاصل کرتی یہ قوم غم کی ماری ہوئی ہے اور انہی کے ہاتھوں پرورش پانے والے اپنے گھوارے میں روتے پیٹتے ہوئے بتائے جارہے ہیں بلکہ اس کی آڑ میں فوجی اداروں میں گھسنا و سرکاری و سول املاک کو نقصان پہنچانا لوٹ مار کرنا، ملزمان و اکسانے والے رہنماؤں کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کاروائی و کورٹ مارشل پر منتج ہوسکتا ہے.

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس میں عدالتوں کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور مزید براں حالات کی سنگینی کے تناظر میں وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرنا شہریوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ایک سیاسی جماعت کی فسطائی ذہنیت و مکروہ عزائم کا باعث بناہے جو قابل مذمت عمل ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی کا خدشہ،جمہوری و سیاسی عمل بھی متاثر و انتخابات بروقت اکتوبر 2023 میں انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے آئیندہ پُرامن سیاسی عمل کا حصہ بنے تاکہ ملک میں پارلیمانی و جمہوری و سیاسی نظام بلا تعطل جاری رہے عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے میرٹ پر تقرریوں سپریم کورٹ سے جونئیر ججز جو واپس متعلقہ ہائی کورٹس میں بھیج کر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں PLD 1996SC324,PLD 1998SC161&PLD 2009 SC 879 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سینارٹی کی بنیاد پر ھائی کورٹس کے ججوں کو سُپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائےورنہ عنقریب سندھ میں بار کونسل کی آئینی درخواستوں کی طرزپرسُندھ ھائی کورٹ میں زیر التواء درخواستوں کو سامنے رکھتے ھوئے دیگر ھائی کورٹس میں بھی عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاسکتا ہے.

  • سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں عمران خان کی گرفتاری کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، دیگر ججز میں جسٹس ا طہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر شریک تھے۔

    پی ٹی آئی کی طرف سے سینئر وکیل حامد خان دلائل دینے سپریم کورٹ پہنچے، گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کیخلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے ہونے والی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اسلام آباد ہائیکورٹ سے کل رجوع کریں اور آپ کو عدالت عالیہ کا فیصلہ ہر حال ماننا ہو گا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ آپ نے ورکرز نے سڑکوں پرماحول بنایا، آپ کو دیکھ کر اچھا لگا، عدالت کوکچھ خدشات ہیں، آپ کو ملک میں پرتشددمظاہروں کاعلم ہوگا، یہ شاید سیاسی عمل کا حصہ ہےلیکن امن بحال کرناہوگا، امن بحال ہوگاتوآئینی مشینری کام کرسکےگی، عدالت کی خواہش ہے کہ آپ پرتشددمظاہروں کی مذمت کریں، عدالت ہرشہری کےتحفظ کیلئے بیٹھی ہے۔ امن ہوگاتوہی ریاست چل سکےگی۔ یہ ذمہ داری ہر سیاست دان کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    اسی دوران عمران خان نے کہا کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، اپنی 27 سال کی جدوجہد میں کارکنوں کو پر امن رہنے کا پیغام دیا ہے۔سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جبکہ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھے ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا، مجھے ڈنڈے مارے گئے، ایسا کسی مجرم کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، مجھے کبھی پولیس لائن اور کبھی کہیں لے کر پھرتے رہے، مجھے کچھ علم نہیں باہر کیا ہوا نہ مجھے پتا ہے، کمانڈو ایکشن کر کے مجھے سر پر ڈنڈے مارے گئے، کریمنل کی طرح مجھے پکڑا گیا۔ جو میرے ساتھ ہوا اس کا ردعمل توآئےگا، مجھ پر دہشت گردی سمیت کئی مقدمات درج ہیں، میں نے کہا مجھے گرفتار کرنا ہے تو وارنٹ دکھاؤ، مجھ پر 100 سے زائد مقدمات بنائے گئے، ایک پارٹی جو الیکشن چاہتی ہے وہ انتشارکیوں چاہےگی؟ انتشاروہ چاہتےہیں جوالیکشن نہیں چاہتے۔

  • عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کیا جائے، سپریم کورٹ

    عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کیا جائے، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کس کیس میں پیش ہوئے تھے ؟ وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ عمران خان نیب کیس میں ضمانت کروانے کیلئے ہائیکورٹ آئے تھے عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے کہ رینجرز نے ہلہ بول دیا دروازہ اور کھڑکیاں توڑ کر عمران خان کو گرفتارکیا گیا،بائیو میٹرک کروانا عدالتی عمل کا حصہ ہےعمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گرفتاری پر تشدد ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق جو مقدمہ مقررتھا وہ شاید کوئی او تھا عدالتی حکم کے مطابق درخواست ضمانت دائر ہوئی تھی لیکن مقرر نہیں ، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بائیومیٹرک سے پہلے درخواست ہو جاتی ہے، حامد نے کہا کہ بائیو میٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہو سکتی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان احاطہ عدالت میں داخل ہو چکے تھے ایک مقدمہ میں عدالت بلایا تھا دوسرا دائر ہو رہا تھا، کیا انصاف کے رسائی کے حق کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہی سوال ہے کہ کسی کو انصاف کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟ کیا مناسب ہوتا نیب رجسٹرارسے اجازت لیتا، نیب نے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کا کیس یہ ہے کہ جب کوئی شخص عدالتی احاطے میں داخل ہو تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ‏آپ کی کیا استدعا ہے،وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ استدعا ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب نے عدالت کی توہین کی ہے، نیب کو کتنے افراد کو گرفتار کیا؟ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 افراد احاطہ عدالت میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیر رہی؟ کسی بھی فرد کو احاطہ عدالت سے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے،ماضی میں عدالت میں توڑ پھوڑ کرنے پر وکلاء کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی گئی، کسی فرد نے عدالت کے سامنے سرنڈر کردیا تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی شخص بھی آئندہ انصاف کیلئے خود کو عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، گرفتاری سے قبل رجسٹرار سے اجازت لینا چاہیے تھا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب ایسے کئی سالوں سے کر رہا ہے، نیب نے منتخب عوامی نمائندوں کو تضحیک سے گرفتار کیا، یہ طریقہ کار بند کرنا ہوگا،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عمران خان نے بائیؤ میٹرک کروالی تھی؟ وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی درخواست کو ڈائری نمبر لگ چکا تھا، ہم نے اسی دن درخواست سماعت کی استدعا کی تھی، وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ ‏عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کی گئی، ایسے واقعات ہائیکورٹ میں پہلی بار ہوئے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت صرف عدالت کی عزت اور انصاف کی فراہمی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معاملہ عدلیہ کے احترام کا ہے،نیب نے ایک ملزم سپریم کورٹ پارکنگ سے گرفتار کیا تھا،عدالت نے گرفتاری واپس کرا کر نیب کے خلاف کارروائی کی نیب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی آئندہ ایسی حرکت نہیں ہو گی، نیب کی یقین دہانی سے 9 افسران توہین عدالت سے بچے تھے ،ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے، ہم ابھی اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہیں،ہم عدالت کی توقیر کو بحال کریں گے، میانوالی کی ڈسٹرکٹ کوٹ ہر حملہ کیا گیا جو بدقسمتی ہے،چ عدالت پر حملے پر آج میرا دل دکھا ہے، ایسے کیسے ہورہا ہے اور کوئی نہیں روک رہا؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏عمران خان لاہور میں تھے تو وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیلئے وفاقی حکومت کو کیوں لکھا؟ نیب نے پنجاب حکومت کو کیوں نہیں لکھا؟ نیب پراسیکیوٹر صاحب معاملات کو پیچیدہ مت بنائیں، نیب نے پاکستان کا بہت نقصان کردیا ہے، نیب پراسیکیوٹر کا ایسا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرایا، کیا گرفتاری کے وقت نیب کا کوئی شخص وہاں موجود تھا؟ کس فورس نے عمران خان کو گرفتار کیا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بائیو میٹرک کمرے میں کس نے گرفتاری کی نیب کو یہ بھی معلوم نہیں،

    وکیل عمران خان نے کہا کہ ‏انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ ملزم کو دینا لازمی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے تھے، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان نے نوٹس کا جواب نیب کو ارسال کیا تھا، نیب کا وارنٹ غیرقانونی تھا،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ ‏بظاہر نیب نے عمران خان کے وارنٹ قانون کے مطابق نہیں لیے، سپریم کورٹ نے نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر طلب کر لیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے عمران خان کو کتنے نوٹس جاری کیے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان کو ایک نوٹس جاری کیا، جسٹس اطہر من اللہ‏ نے استفسار کیا کہ ایک کے بعد دوسرا نوٹس کیوں جاری نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 100 لوگوں کے داخلے سے احاطہ عدالت میں خوف پھیل جاتا ہے، ‏نیب کی خواہش ہے کہ بس دوسرے قانون پر عمل کرتے رہیں،وہ خود نہیں، سب آپ کی مہربانی ہے آج جو کچھ ہو رہا ہے آپ کی بزدلی کی وجہ سے،‏گرفتاری سے جوہوا اسے رکنا چاہئے تھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر قانونی اقدام سے نظر چرائی جاسکے ،ایسافیصلہ دینا چاہتے ہیں جس کا اطلاق ہر شہری پر ہوگا، انصاف تک رسائی ہرملزم کا حق ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ‏گرفتاری کیلئے رینجرز نے اسلام آباد پولیس کی معاونت کی،آئی جی اسلام آباد نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرایا، چیف جسٹس نے کہا کہ رینجرز صرف وزارت داخلہ کی اجازت پر آسکتی ہے، وزارت داخلہ نے پولیس کی بجائے رینجرز سے عملدرآمد کرایا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رینجرز اسلام آباد ہائیکورٹ کی سیکیورٹی کیلئے ہر پیشی پر موجود ہوتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد سے خود کو الگ کرلیا ہے، نیب اس سے قبل احاطہ عدالت سے اپنے افسران کو گرفتاری سے روک چکا ہے،ایس او پیز کے تحت احاطہ عدالت سے گرفتاری نہیں ہوسکتی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطہ کے انچارج ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد پولیس وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیلئے لاہور گئی،گرفتاری سے قبل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کی اجازت ضروری نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏گرفتاری کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے شیشے ٹوڑے گئے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان احاطہ عدالت سے باہر آئے تو ان کو گرفتار کیا گیا،عمران خان کو گرفتار کرنا ناممکن ہوگیا تھا جب بھی گرفتاری کی کوشش کی جاتی عمران خان لوگ اکٹھے کرلیتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری سے قبل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے اجازت نہیں کی گئی، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جس نے بھی عدالت کے شیشے توڑے اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان جس کمرے میں تھے اس کمرے کی کنڈی لگا دی گئی،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کمرہ بند ہو تو کنڈی کھٹکائی جاتی ہے نہ کے دروازہ توڑا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے گرفتاری کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیا ہے،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ موجودہ حکومت سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اجازت دے دی گئی تو عدالتوں کے اندر سے گرفتاری بہت آسان ہوجائے گی، ایسے تو عدالتیں گرفتاری میں سہولت کار بن جائیں گی،لاہور میں عدالت کے اندر قتل کے واقعات بڑھے، ہم نے کوشش کر کے یہ رویہ روکاجائے،اس طرح لوگ ذاتی لڑائیوں کے بدلے عدالت کے اندر لینا شروع ہوجائیں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ احاطہ عدالت میں جو ہوا وہ انصاف کی راہ میں بُری مثال قائم کرے گا، اس واقعے نے پوری قوم میں بہت خوفناک تاثر قائم کیا،وقت آ گیا ہے کہ قانون کی عملداری یقینی بنائے جائے،اس معاملے ٹھیک کرنے کیلئے معاملہ ریورس کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اس معاملے کا واحد حل اس وقت کو ریورس کر دیا جائے، جس موقع پر ملزم کے فنگر پرنٹ ہو رہے تھے۔

    عدالت نے ‏عمران خان کو ایک گھنٹے میں سپریم کورٹ پیش کرنے کا حکم‏ دے دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب وارنٹ کا نہیں، تعمیل کرانے کا طریقہ کار اصل مسلہ ہے، گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی۔ عدالتی احاطے سے گرفتاری کیا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کیلئے دفاع کرنا مشکل ہورہا ہے، عدالت نے کہا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بہت برا سلوک ہوا ہے، حالیہ گرفتاری سے ہر شہری متاثر ہورہا ہے، عدالت سے گرفتاری بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کیا جائے۔

    ‏سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ اس موقع پر پی ٹی آئی کا کوئی رہنما یا کارکن نہ آئے۔ عدالت نے کہا کہ ‏قانون پر عمل کی بات سب کرتے ہیں لیکن خود کوئی عمل نہیں کرتا،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کی خواہش ہے کہ دوسرے قانون پر عمل کریں، نیب نے وارنٹ کی تعمیل کیلئے پنجاب حکومت کو کیوں نہیں لکھا، نیب نے ملک کو بہت تباہ کیا ہے، سردار مظفر نے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ بھی دکھیں، ماضی میں مزاحمت کرتے رہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب نے وارنٹ کی تعمیل سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏ضابطہ فوجداری کی دفعات 47 سے 50 تک پڑھیں، بائیو میٹرک برانچ کی اجازت کے بغیر بھی شیشے نہیں توڑے جاسکتے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ‏عمران خان کو گرفتار کرنا ناممکن تھا،احتساب عدالت ریمانڈ دے چکی ہے ، جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ بنیاد غیرقانونی ہو تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی، وقت آگیا ہے کہ مستقبل کیلئے مثال قائم کی جائے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے ، نیب نے رینجرز تعینات کرنے کی درخوست کی تھی ‏عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پربلا لیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق پراٹارنی جنرل کوسنیں گے ، ‏عدالتیں آزاد ہوتی ہیں ، آزاد عدلیہ کا مطلب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ،‏ملزم سرینڈرکرے اورگرفتارکیا جائے توعدالت گرفتاریوں کیلئےآسان مقام بن جائے گا،ملزمان کے ذہن میں عدالتیں گرفتاری کی سہولت کاربن جائینگی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتی دروازے سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو عدالت کون آئے گا؟ عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد عمران خان کو ساڑھے 4 بجے عدالت میں پیش کریں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی سیاسی رہنما اور کارکن عدالت نہیں آئیگا،پاکستان کو جیل نہیں بننے دیا جائیگا،کیوں نہ گھڑی کو واپس بائیو میٹرک مرحلے میں پہنچا دیں،عدالت معاملے پربہت سنجیدہ ہے ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی کل تک کی مہلت کی استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ عدالت آج مناسب حکم جاری کرے گی ،

    عمران خان کی گرفتاری کیخلاف درخواست ایڈووکیٹ محبوب گجر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت دفاع اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کی گرفتاری اختیارات کے ناجائز استعمال و انتقام پر مبنی ہے ،حکومت کا رویہ بنیادی حقوق، آئین کے آرٹیکل 9 ،10 اے کی خلاف ورزی ہے ،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کی مداخلت ناگزیر ہے درخواست میں عمران خان کی رہائی کا حکم دینے اور گرفتاری کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعاکی گئی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی حفاظتی یقینی بنانے کا حکم دیا جائے

    سپریم کورٹ، عمران خان نے گرفتاری سے متعلق اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرادی ،عمران خان نے نیب کال اپ نوٹس، ڈی جی نیب کو لکھے خط کی کاپی جمع کرا دی ،عمران خان نے چئیرمین نیب کیخلاف دائر رٹ پٹیشن اوربیان حلفی جمع کرا دیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ مجھے بائیومیٹرک تصدیق کے دوران غیرقانونی گرفتار کیا گیا میرے وکلاء گوہرعلی اورعلی بخاری کیساتھ دوران گرفتاری بد تمیزی کی گئی،میرے وکلاء کی آنکھوں پر زہریلا اسپرے پھیکا گیا، انصاف کے تقاضوں کیلئے اضافی دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے،امان اللہ کنرانی

    تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے،امان اللہ کنرانی

    تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہاہےکہ کاش محترمہ فاطمہ جناح کو بستر پر شہید نہ کیاجاتا وزیراعظم لیاقت علی خان سابق وزراء اعظم حسین شہید سہروردی و محترمہ بے نظر بھٹو کو بیچ چوراہا گولی نہ ماری جاتی ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکو عدالتی قتل و دو دیگر وزراء اعظم جناب محمد نواز شریف و جناب یوسف رضا گیلانی کو عدالتی ستم سے نہ ہٹایا جاتا سابق گورنر نواب اکبر خان بگٹی کو تراتانی کے پہاڑوں میں شہید نہ کیا جاتا تو شاید آج عمران نیازی کی گرفتاری بھی بڑی خبر ہوتی عوام کی توجہ حاصل کرتی

    اپنے ایک بیان میں امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ یہ قوم غم کی ماری ہوئی ہے اور انہی کے ہاتھوں پرورش پانے والے اپنے گھوارے میں روتے پیٹتے ہوئے بتائے جارہے ہیں بلکہ اس کی آڑ میں فوجی اداروں میں گھسنا و سرکاری و سول املاک کو نقصان پہنچانا لوٹ مار کرنا، ملزمان و اکسانے والے رہنماؤں کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کاروائی و کورٹ مارشل پر منتج ہوسکتا ہے جس میں عدالتوں کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور مزید براں حالات کی سنگینی کے تناظر میں وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرنا شہریوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ایک سیاسی جماعت کی فسطائی ذھنیت و مکروہ عزائم کا باعث بناہےجو قابل مذمت عمل ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی کا خدشہ،جمہوری و سیاسی عمل بھی متاثر و انتخابات بروقت اکتوبر 2023 میں انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ھوئے قوم سے معافی مانگے آئیندہ پُرامن سیاسی عمل کا حصہ بنے تاکہ ملک میں پارلیمانی و جمہوری و سیاسی نظام بلا تعطل جاری رہے عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے میرٹ پر تقرریوں سپریم کورٹ سے جونئیر ججز جو واپس متعلقہ ھائی کورٹس میں بھیج کر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں PLD 1996SC324,PLD 1998SC161&PLD 2009 SC 879 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سینارٹی کی بنیاد پر ھائ کورٹس کے ججوں کو سُپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائےورنہ عنقریب سندھ میں بار کونسل کی آئینی درخواستوں کی طرزپرسُندھ ھائی کورٹ میں زیر التواء درخواستوں کو سامنے رکھتے ھوئے دیگر ھائ کورٹس میں بھی عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاسکتا ہے

  • عمران خان کی گرفتاری،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان کی گرفتاری،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد کردیئے

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست اعتراض عائد کرکے واپس کر دی ،رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض میں کہا گیا کہ عمران خان ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر سکتے تھے عمران خان نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا عمران خان کی درخواست کے ساتھ لگائی گئی دستاویزات مکمل نہیں ہیں درخواست کے ساتھ لگایا گیا وکالت نامہ بھی دستخط شدہ نہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ،
    تحریک انصاف کی جانب سے القادر ٹرسٹ کیس مین عمران خان کی گرفتاری اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے کل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے ،‏عمران خان نے ہائی کورٹ سے گرفتاری کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا گرفتاری درست قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، عمران خان کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کا حکم آرٹیکل 10 اے کیخلاف ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرپور ہے، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے گئے،اسلام آباد ہائی کورٹ غیر قانونی حراست سے نکالنے میں ناکام رہی، چیئرمین نیب کے جاری کردہ وارنٹ غیر قانونی ہیں،انکوائری کو تحقیقات میں بدلنے کے بعد نیب نےکوئی نوٹس جاری نہیں کیا،جس 190 ملین کی کرپشن کا الزام ہے وہ سپریم کورٹ میں پہلے ہی جمع ہوچکی، حکومت جب چاہے تو 190 ملین کو کہیں بھی منتقل کر سکتی ہے،عدالتی حدود سے گرفتاری کیخلاف سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں، زندگی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں، عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی ہے انہیں فوری رہا کیا جائے ، تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر ایک اور درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس لائنز کو عدالت بنائے جانے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیا جائے، عمران خان کے وکلا سے ان کی ملاقات کروائی جائے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھی پارٹی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت دلوائی جائے

    واضح رہے کہ عمران خان کو کل اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب نے گرفتار کیا تھا، عمران خان کو نیب عدالت میں آج پیش کر دیا گیا ہے، پولیس لائن میں خصوصی نیب عدالت بنائی گئی ہے، پولیس لائن کو ہی سب جیل کا درجہ دے دیا گیا ہے، عمران خان کو سب جیل میں رکھا جائے گا،عمران خان کی گرفتاری کے وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے رپورٹ طلب کی تھی، کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے سخت ریمارکس دیئے تاہم آئی جی اسلام آباد پولیس اور نیب حکام عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور رات کو فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی رہائی کی استدعا مسترد کر دی تھی،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    سپریم کورٹ میں صحافی ارشد شریف کے قتل پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایم ایل اے کا جواب تاحال نہیں آیا، جے آئی ٹی دوبارہ یو اے ای جانے کی تیاری کررہی ہے ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جے آئی ٹی کا مقصد بتا دیں ابھی تک کوئی میٹریل نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد شریف قتل کیس تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہیں،متحدہ عرب امارات کا 11 اپریل کو ایم ایل اے آیا،یو اے ای کو27 اپریل کو ایم ایل اے سوالات کا جواب دیدیا،کینین حکومت نے بھی تحقیقات کے سلسلے میں ابتک انکار نہیں کیا ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر2022 میں معاملے پر ازخودنوٹس لیا تھا،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی نے قتل سے متعلق ابتک کیا مواد اکٹھا کیا؟جے آئی ٹی ٹیم دبئی سے آ رہی ہے کینیا جارہی ہے،اس کے علاوہ ابتک کی کیا پراگرس ہے؟ پراگرس رپورٹ میں خرم، وقار کو ملزم لکھا گیا۔

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت 13جون تک ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کر دی ، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی رپورٹس نہیں چاہیے جن میں کچھ پیش رفت ہے ہی نہیں،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ

    انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طارق آفریدی کو پشاورہاٸیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل …

    درخواست گزارکے وکیل حامد خان نے مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل کمیشن نے طارق آفریدی کو پشاور ہاٸیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی سفارش کی لیکن ججز تقرر بارے پارلیمانی کمیٹی نے نامزدگی انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹ پر مسترد کی، انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق طارق آفریدی کی ساکھ اچھی نہیں۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں، پارلیمانی کمیٹی نے پیشہ وارانہ صلاحیت کی بجائے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا، اس عمل سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عدالت معاملے کی قانونی حیثیت کا جاٸزہ لے گی، کیا پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لیے بلا لیتے ہیں۔

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات: تفتیشی آفیسر کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ …

    سپریم کورٹ نے آٸندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوعدالتی معاونت کے لیے طلب کرتے ہوے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل طارق آفریدی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 2 جولائی 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن پارلیمانی کمیٹی نےاس سفارش کومسترد کردیا تھاپارلیمانی کمیٹی نے 8 جولائی 2019 کے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق آفریدی کی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرری آئین پاکستان کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    خاتون جج دھکمی کیس: دلائل نہیں دیں گے تو اپیل خارج کردیں گے،عدالت

    پارلیمانی کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے مالی معاملات درست نہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر اہل نہیں اور انہوں نے قانون و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

    دوسری جانب دو دن قبل ہی مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ طارق آفریدی پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

    میرپور خاص:سی آئی اے پولیس کی ٹنڈو جان محمد میں منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی،4گرفتار