Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس کی جانب سے ججز کیلئے عشائیہ،جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدم شرکت

    چیف جسٹس کی جانب سے ججز کیلئے عشائیہ،جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدم شرکت

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کے لئے عشائیہ دیا گیا ، جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججز کے اعزاز میں گزشتہ رات عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں عدالت عظمیٰ کے تمام ججز کو مدعو کیا گیا۔

    آئی پی ایل:میچ میں تلخ کلامی، گوتم گھمبیر،نوین الحق اورویرات کوہلی پر کتنا جرمانہ عائد

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز عشائیے میں سپریم کورٹ کے 14 ججز نے شرکت کی جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عشائیے میں شرکت نہیں کی اور انہوں نے عشائیے میں عدم شرکت کی وجہ سے بھی آگاہ نہیں کیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    ذرائع کے مطابق عشائیے کا مقصد سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان اختلافات ختم کرنا تھا جبکہ ہرعید کے بعد چیف جسٹس پاکستان ساتھی ججز کے اعزاز میں عشائیہ دیتے ہیں۔

    سارک ممالک کے مرکزی بینکوں کااجلاس آج سے اسلام آباد میں شروع ہوگا

  • الیکشن کمیشن نے 14 مئی کوانتخابات کو واضح طور پر ناممکن قراردیا

    الیکشن کمیشن نے 14 مئی کوانتخابات کو واضح طور پر ناممکن قراردیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو واضح طور پر ناممکن قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں تین رپورٹیں جمع کرائی ہیں جن میں الیکشن کمیشن نے کہا ہےکہ مذکو رہ تاریخ کو صوبائی انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاعدالت عظمیٰ اس معاملے کی مزید سماعت کےلیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

    گجرات میں پرویز الہی کی رہائشگاہ پر پولیس کا چھاپہ

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ مقررہ تاریخ تک ضروری مطلوبہ انتظامات کی تکمیل ممکن نہیں ہے جب کہ انتخابات کے التوا یا تنسیخ کا اعلان آئندہ ہفتے کیاجائے گاسپریم کورٹ نے مزید سماعت کے لیے الیکشن کمیشن کو طلب نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گزشتہ ماہ 4 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے لیے 14 مئی کوانتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔

    ملک بھر میں ایک ساتھ الیکشن کرانےکی درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے سماعت کی تھی الیکشن کی تاریخ پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سیاسی قائدین کو طلب کیا تھا چیف جسٹس نے کہا تھا کہ پنجاب الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ قائم ہے ، نہیں بدلے گا، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہمارےگھر پر ریڈ کسی اندر کے بندے نے کروائی. چوہدری سالک حسین کا دعویٰ

    تین رکنی بینچ نے پنجاب اورخیبرپختونخوا میں الیکشن کے لیےفنڈز کےحوالے سےکہا تھا کہ حکومت 21 ارب روپے 27 اپریل تک الیکشن کمیشن کو فراہم کرے، حکومتی گرانٹ کے بل مسترد ہونے کا مطلب ہےکہ وزیر اعظم اورکابینہ ایوان میں اکثریت کھو بیٹھی ہےجبکہ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ ایسا نہیں اٹارنی جنرل سے فی الحال اتفاق کرتے ہوئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دوسری صورت بھی حکومت کو سنگین آئینی مسائل کی طرف لےجا سکتی ہےعدالتی حکم کی نا فرمانی کے بھی سنگیں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں لہٰذا ضروری ہےکہ حکومت 27 اپریل تک 21 ارب روپے فراہم کرے ۔

    عدالت نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انتخابات 8 اکتوبر تک ملتوی کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی متفرق درخواستیں نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹانےکا حکم بھی دے دیا۔

    ہم یقینی طور پرپاکستان کی داخلی یا ملکی سیاست پر کچھ نہیں کہیں گے،امریکا

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس کی سماعت کل دو مئی منگل کو ہوگی،

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ سماعت کرے گا ۔سماعت کل دن ساڑھے بارہ بجے ہوگی .سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سمیت 9 سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کیئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق دیگر تین درخواستوں کی سماعت بھی کل ہی ہوگئی رجسٹرار آفس کی جانب سے آج دیگر تینوں درخواستوں کو بھی نمبر الاٹ کر دیے گئے ہیں ۔اظہر صدیق ایڈووکیٹ ، زمان وردگ سمیت غلام محی الدین بھی درخواست گزار ہیں

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • سینئیرججز کی سپریم کورٹ میں تقرری: قاضی فائز عیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا

    سینئیرججز کی سپریم کورٹ میں تقرری: قاضی فائز عیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس مسرت کی سپریم کورٹ میں تقرری کی سفارش کردی۔

    باغی ٹی وی: : سپریم کورٹ میں دو ججز کی تقرری کے معاملے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور  اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو نامزدکیا ہے۔

    سابق گورنر پنجاب کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج

    ذرائع کا کہنا ہےکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے جسٹس مسرت اور جسٹس احمد علی شیخ کے ناموں پر غور کیا جائے سینیارٹی اصول پر دونوں چیف جسٹس صاحبان کو سپریم کورٹ لانے پر غور کیا جائے، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جلد بلانے پر بھی زور دیا ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت 17 ججز کی جگہ 15 ججز کام کر رہے ہیں-

    پولیس مقابلے میں مطلوب ریکارڈ یافتہ 2 ڈاکو ہلاک

    دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس 4 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے ججز معاملات کا جائزہ لیا جائے گا تاہم اجلاس کا ایجنڈا ممبران کو نہیں دیا گیا، اجلاس بلانے کے حوالے سے ممبران کو اطلاع دی گئی۔

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ جوڈیشل کمیشن کے سینیئر ممبر ہیں جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہیں۔

    کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس 8 ماہ بعد بحال

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری ہوگیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر چھ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے، ایک بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہوگا جبکہ بینچ دو میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہوں گے-

    لیک آڈیو میں آواز میرےبیٹے کی ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی تصدیق

    اسی طرح بینچ تین جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا اور بینچ چار میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہوں گے،بینچ پانچ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل ہوگا اور بینچ چھ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہوں گے۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس کی سماعت منگل کو ہوگی ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس اور سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں ججز تقرری کیخلاف کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی۔

    پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپے کے باوجود پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات …

    ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر اور ڈاکٹر مہرین بلوچ کی بچیوں کے اغوا اور حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت اور 2005 کے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی غیر ملکی امداد سے متعلق کیس اور وکلا کی جعلی ڈگریوں اور لا کالجز اور سردار کوڑے خان وقف اراضی مظفرگڑھ میں خرد برد سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت جمعرات کو ہوگی جبکہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت جمعہ کو ہوگی۔

    آج پاکستان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے،عمران خان

  • جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    سندھ بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا۔

    باغی ٹی وی: ریفرنس وائس چیئرمین کے توسط سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا گیا ہے سندھ ہائیکورٹ بار کے وائس چئیرمین کے توسط سے دائر ہونیوالے ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کا رویہ عہدے کے حلف کے خلاف ہے لہٰذا ان کے خلاف انکوائری شروع کرائی جائے۔

    حکومتی اجلاس: پی ٹی آئی سےمذاکرات کےفائنل راؤنڈ کی حکمت عملی طے

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جسٹس مظاہرنقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر ہوچکے ہیں اسلام آباد بار کونسل کی جانب سےجسٹس مظاہرنقوی کےخلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائرکی تھی شکایت کےساتھ آڈیو ویڈیو کےٹرانسکرپٹ بھی لگائے گئے تھے شکایت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے حوالے سے مختلف آڈیوز اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

    کراچی کی آبادی میں مزید اضافہ

    شکایت میں جسٹس مظاہر علی اکبر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام لگایا گیاتھا اس کے علاوہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ٹیکس چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا،اسلام آباد بار کونسل کی شکایت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف مالی بے ضا بطگی کے ثبوت ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی لہٰذا جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی کی جائے-

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    دریں اثنا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر اراکین کو خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جسٹس مظاہرنقوی کے معاملے پر اجلاس بلایا جائے خط میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر جج پر لگے الزامات اگر غلط ہیں تو جائزہ لیا جائے، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کے خلاف پاکستان بار نے شکایت بھجوائی، سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت قائم کی گئی ہے۔

    ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیک،مریم کا ردعمل سامنے آ گیا

  • سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے،ملک احمد خان

    سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے،ملک احمد خان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اجلاس میں سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوگی ،

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک سب سے اہم فیصلہ 63-A کا پچیس سیٹوں والا ہے میں اس فیصلے پر معترض ہوں،سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرے لیکن آئین کو لکھے نا، سیاسی جماعتیں سیاسی نظام سے لوگوں کا اعتماد اٹھانا چاہتی ہیں جیسے تحریک انصاف، جیسے تین مہینے قبل دو حکومتوں کو ختم کردیا گیا، آرٹیکل 224 ایسے نہیں پڑھا جانا چاہیے جیسے پڑھا جارہا ہے، اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر اتنا برا کرکے گئے ،چوری کا مال ڈکیتی کے ساتھ بیچ رہے ہیں آپریشنز کا سلسلہ پچھلے چھ سال سے جاری ہے نہ تب ٹھیک تھا نہ اب ٹھیک ہے سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک ادارہ سپریم کورٹ زیادتی کرے بات کرنی چاہیئے ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک لاڈلے کی خواہش کے تابع پورے انتخابی عمل سے لوگوں کا یقین آٹھ جائے اتنا بڑا نقصان نہیں ہونا چاہیئے

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے مذاکرات ناکام ہوئے اور نہ ہی ان میں کوئی ڈیڈ لاک آیا ہے دونوں اطراف سے تجاویز آئی ہیں، معاملات آگے بڑھ رہے ہیں آئندہ منگل کو دوبارہ مذاکرات ہونگے اور بات آگے بڑھے گی

  • ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 3 مئی کو سماعت کرے گا ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک تین رکنی بنچ میں شامل ہونگے آئی جی بلوچستان،سیکرٹری داخلہ اور نیکٹا حکام سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کیسوں کی سماعت کے لیے بینچوں کی تشکیل کر دی گئی، اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آیندہ ہفتے چھ بینچ کیسوں کی سماعت کریں گے۔بینچ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہے۔ بینچ نمبر دو میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں ،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس شاہدہ وحید ینچ تین میں کیسوں کی سماعت کریں گے ۔ چوتھا بینچ جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل ہے۔بینچ نمبر پانچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی شامل ہیں۔چھٹا بینچ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہے۔

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    عمران خان سے شادی کا خواہشمند نوجوان سامنے آ گیا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • پی ٹی آئی یقین دہانی چاہتی ہے کہ الیکشن رواں سال ہی ہوں،عطا تارڑ

    پی ٹی آئی یقین دہانی چاہتی ہے کہ الیکشن رواں سال ہی ہوں،عطا تارڑ

    سپریم کورٹ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ عطا تاررڈ کی سپریم کورٹ آمد ہوئی

    اس موقع پر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل سے ملنے آیا تھا، صحافی نے سوال کیا کہ مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات چیت ہوئی ہے؟ جس پر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل سے ایک کیس کے حوالے سے ملاقات کی ہے، اٹارنی جنرل کو کوئی ہدایت نہیں دی انتخابات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے، دونوں فریقین کے درمیان بات چیت مثبت طریقے سے ہوئی ہے، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آج بھی تین بجے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، پی ٹی آئی آج اپنا تحریر کوئی ڈیمانڈ لائیں گے تو پتہ چلے گا،

    صحافی نے سوال کیا کہ حکومت اکتوبر سے پہلے اور نومبر سے آگے جانے کیلئے تیار ہے؟ عطا تارڑ نے کہا کہ ایسی تو ابھی کوئی بات نہیں ہوئی دیکھتے ہیں آج کیا ہوتا ہے ، صحافی نے سوال کیا کہ مذاکرات کا مقصد چودہ مئی کی تاریخ گزارنا تو نہیں، جس پر عطا تارڑ نے جواب دیا کہ قطعاً نہیں سنجیدہ طور پر بیھٹے ہیں،پی ٹی آئی یہ یقین دہانی چاہتی کہ الیکشن رواں سال ہی ہوں،

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • مولانا فضل الرحمان کا پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے سے انکار

    مولانا فضل الرحمان کا پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے سے انکار

    اسلام آباد:چئیرمین جمیعت علما اسلام اور حکمراں اتحاد (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں اور کس بنیاد پر کریں، اپنے اصول کے تحت سینیٹ کمیٹی کا حصہ نہیں بن رہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 14مئی کو پنجاب میں الیکشن کیلئے تھا، عدالت کا فیصلہ ناقابل عمل ہے، اس کا ادراک انہیں خود کرلینا چاہیے،یہ ہماری پارٹی کی سوچ ہےسپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کیلئے مجبور کررہی تھی، پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں،کس بنیاد پر کریں، ہم اپنے اصول کے تحت سینیٹ کمیٹی کا حصہ نہیں بن رہے۔

    نواز کو نکالا گیا،مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں،وزیراعظم

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الیکشن کیلئے مشاورتی عمل سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو مجبور کر رہی تھی کہ بات چیت کریں ساری سیاسی جماعتوں کی جانب سےایک شخص کوراضی کرنے پر اعتراض ہے سپریم کورٹ 90 دن میں کیوں پھنس گئی ہےپاکستان میں انتخابات ہمیشہ ایک دن ہوتے رہے ہیں وزیراعظم سے کہا ہے کہ سینیٹ کمیٹی کا مذاکرات کا نتیجہ آنے تک اپنی رائے محفوظ رکھیں گے-

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیڈریش اور آئین کو بچانا ہے، آج سپریم کورٹ کے رویہ کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی ہے، ہم پنجاب الیکشن اور فنڈنگ سے متعلق عدالتی فیصلہ ناقابل قبول نہیں قرار دے رہے بلکہ اسے ناقابل عمل کہہ رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    انہون نے کہا کہ اگر بنیادی ڈھانچے کا ایک بھی ستون گرتا ہے تو عمارت گر جاتی ہے، ہماری نظر وفاق پاکستان پر ہے، عدالت نے ایک طرف مذاکرات کا کہا اور ساتھ ہی کہہ رہی ہے ہمارا فیصلہ اپنی جگہ موجود ہے، سپریم کورٹ پہلے اپنا ہتھوڑا ہٹائے۔

    ملک میں جاری ڈیجیٹیل مردم شماری سے متعلق کہا کہ مردم شماری کےعمل پراعتماد کیا جارہا ہے، اندرون سندھ، کوئٹہ، فاٹا میں مردم شماری پراعتماد کیا گیا، مجموعی طور پر 5 سال میں ہماری آبادی کم ہوگئی مردم شماری کے مسئلے کا ہماری جماعت نے نوٹس لیا ہے، مردم شماری کے طریقہ کار ، مردم شماری کی کمپین پر عدم اعتماد کیا جارہا ہے۔

    ہم تو فقیر لوگ ہیں ،ہم کو جس طرف چلاتے ہیں چل پڑتے ہیں،آصف زرداری

    سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی نے سفارشات مکمل کرلی ہیں، پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پرکیوں قانون سازی نہیں ہوئی؟ قانون سازی ہونی چاہیے، 2018 میں بہت بڑی دھاندلی ہوئی، ذمےداران کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔