Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کروانے کا کیس ،سیاسی جماعتوں کے رہنما سپریم کورٹ پہنچ گئے

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوگئی، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت فریقین کے وکلاء اور سیاسی رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج سعد رفیق اور شاہ محمود قریشی دونوں نظر آ رہے ہیں،آج اپنے حوالے سے بھی کچھ بتانا ہے فاروق نائیک نے اتحادی حکومت کا جواب عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قرضوں میں78 فیصد، سرکولر ڈیٹ میں 125 فیصد اضافہ ہو چکا ہے،سیلاب کے باعث31 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،اسمبلی تحلیل سے پہلے بجٹ، آئی ایم ایف معاہدہ، ٹریڈ پالیسی کی منظوری لازمی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ اور ایک دن انتخابات پر اتفاق ہوا،اسمبلی تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا،ملکی مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو حکومت تیار ہے،ہر حال میں اسی سال ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں،سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے،مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہو سکتی،مذاکرات کیلئے مزید وقت درکار ہے

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے سیاسی ایشوز جو ہیں وہ سیاسی طور پر حل ہوسکتےہیں۔مذاکرات میں تاریخ اور مہینہ ابھی طے ہونا ہیں،پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے کہ مداخلت کے بغیر معاملات حل کئے جاسکتے ہیں اس لئے مزہد وقت درکار ہے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ فنانس منسٹرکی دستخط سے جمع ہوئی ہے سیاسی ایشوز کو سیاسی قیادت حل کرے لیکن موجودہ درخواست ایک حل پر پہنچنے کی ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات اس وقت بہت crucial ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بجٹ صرف قومی اسمبلی پاس ہی کرسکتی ہے ۔اگر آج پنجاب یا کے پی کی حکومت ختم نہ ہوتی تو یہ مسئلہ کھڑا نہ ہوتا۔ آپ کو پھر تکلیف نہ دی جاتی۔اس وجہ سے عدالت کا دوسرا کام ڈسٹرب ہوتا ہے سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے
    مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہوسکتی، مذاکرات کیلئے مذید وقت درکار ہے حکومت نے مذاکرات سے متعلق عدالت سے مہلت کی استدعا کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بجٹ آئی ایم ایف کے پیکج کے تحت بنتا ہے؟ اخبارات کے مطابق دوست ممالک بھی قرضہ آئی ایم ایف پیکج کے بعد دیں گے،کیا پی ٹی آئی نے بجٹ کی اہمیت کو قبول کیا یا رد کیا؟ آئین میں انتخابات کیلئے 90 دن کی حد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات کرانے میں کوئی دو رائے نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اور عوامی اہمیت کے ساتھ آئین پر عملداری کا معاملہ ہے،90 روز میں انتخابات کرانے پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے، کل رات ٹی وی پر دونوں فریقین کا مؤقف سنا، مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لیکر بیٹھی نہیں رہے گی، عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے، آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کرانے کیلئے آئین استعمال کرسکتے ہیں، عدالت صرف اپنا فرض ادا کرنا چاہتی ہے،کہا گیا ماضی میں عدالت نے آئین کا احترام نہیں کیا اور راستہ نکالا،عدالت نے احترام میں کسی بات کا جواب نہیں دیا، غصے میں فیصلے درست نہیں ہوتے اس لئے ہم غصہ نہیں کرتے،آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائیکاٹ کیا تھا، کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے،جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھیآج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کررہا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے کا کہا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی نکات پر دلائل نہیں ہوسکے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی، حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی، پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے، ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے، اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے، معاشی، سیاسی، معاشرتی، سیکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے،کل بھی اٹھ لوگ شہید ہوئے،
    حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا،معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کرائیں، کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے ؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے،حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،قانون پر عملدرآمد کیلئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، سپریم کورٹ، قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کرانے پر اتفاق کیا ہے، شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں، دوسرے شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرائے جائیں، تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے،14 مئی چند دن بعد ہے لیکن فنڈز جاری نہیں ہوئے،نظریہ ضرورت کی وجہ سے الیکشن مزید تاخیر کا شکار نہیں کرسکتے،

    خواجہ سعد رفیق عدالت پہنچے تو چیف جسٹس نے کہا کہ خوش آمدید خواجہ سعد رفیق صاحب، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وکیل نہیں ہوں اس لیے عدالت میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد بہت گہرا ہے،2017 سے عدالت نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی، میں بھی ایک شکار آپ کے سامنے کھڑا ہوں، کوئی بھی اداروں میں تصادم نہیں چاہتا،عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے، اداروں میں تصادم کے متحمل کیسے ہوسکتے ہیں، مذاکرات کے دوران بہت کچھ سننا پڑا، مذاکرات کے ذریعے ہی سیاسی بحران نکالا جا سکتا ہے،آئین 90 دن کے ساتھ شفافیت کا بھی تقاضہ کرتا ہے،پنجاب پر الزام لگتا ہے کہ یہی حکومت کا فیصلہ کرتا ہےالیکشن نتائج تسلیم نہ کرنے پر پہلے بھی ملک ٹوٹ چکا ہے آئین کے تقاضوں کو ملا کر ایک ہی دن الیکشن ہوں،صرف ایک صوبے میں الیکشن ہوا تو تباہی لائے گا،سیلاب اور محترمہ بینظیر کی شہادت پر انتخابات میں تاخیر ہوئی،اگر حکومت نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا تو عدالت ازخود ان پر غور کرے،کئی ماہ سے 63 اے والا نظرثانی کیس زیر التواء ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 63 اے والی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہورہی ہے،اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چاہتے ہیں شفاف الیکشن ہوں اور سب ان نتائج کو تسلیم کریں، مذاکرات میں طے ہوا ہے کہ یہ لوگ نتائج تسلیم کریں گے،سندھ اور بلوچستان میں اسمبلیاں بہت حساس ہیں، دونوں اسمبلیوں کو پنجاب کیلئے وقت سے پہلے تحلیل کرنا مشکل کام ہے، پی ٹی آئی نے کھلے دل سے مذاکرات کیے اس پر ان کا شکر گزار ہوں، مذاکرات کا مقصد وقت کا ضیاع نہیں ہے، مذاکرات جاری رکھنے چاہیئے، یہ میری تجویز ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں، اپنی مدت سے حکومت ایک گھنٹہ بھی زیادہ نہیں رہنا چاہتی، ملک کی قیمت پر الیکشن نہیں چاہتے، مستقل کوئی بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے اپ ہوں یا ہم، عدالت ہدایت نہ دے ہم خود مل بیٹھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ہدایت دیں گے نا ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے، اگر چند دنوں میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے، کیا نظرثانی اپیل دائر کرنے کی مدت ختم ہوچکی ہے؟نظرثانی اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل قابل سماعت ہے؟الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ صرف فنڈز اور سیکیورٹی چاہیے، شاہ خاور نے کہا کہ شہباز شریف اور عمران خان مذاکرات میں شامل ہوں تو حل نکل سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور عمران خان مصروف لوگ ہیں ان کے نمائندے موجود ہیں،پارٹی لیڈران کیلئے سیاسی قائدین سے بات کریں، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں کو ہی بات کرنے دی جائے، عدالت کو مذاکرات میں نا لایا جائے، پہلے ہی کافی خرابی ہو کی ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے کوئی نئی بات نہیں کی، پرانا مؤقف دہرایا ہے، اپنی پوری کوشش کی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں،حکومتی بینچز سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور تکبر والی باتیں آرہی ہیں، ہماری متفرق درخواست پر تمام کمیٹی ارکان کے دستخط ہیں، حکومتی جواب میں صرف اسحاق ڈار کے دستخط ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومتی درخواست صبح آئی ابھی نمبر بھی نہیں لگا، لیکن اسے سن لیا، پی ٹی آئی اور حکومت کی آپس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہے کسی تاریخ پر اتفاق ہوا یا نہیں، کیا دو یا تین دن میں کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کہتی تھی بارہ جماعتیں ہیں مشاورت کیلئے وقت دیں، عمران خان سمیت سب نے تنقید کی کہ تین دن کا وقت کیوں دیا، تیسری نشست دن گیارہ بجے ہونی تھی لیکن رات نو بجے ہوئی، نظرثانی یہ نا دائر کریں، مرضی کی مہلت بھی لیں، فیصلہ نہ ہو تو آئین کیوں داؤ پر لگائیں؟ آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئی ایم ایف والا معاملہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ سننا چاہتے ہیں،

    تحریک انصاف نے 14مٸی کو انتخابات کے حکم پرعملدرآمد کی استدعا کردی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے،حکومت نے 14مٸی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست داٸر نہیں کی ،فاروق ناٸیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے،آٸین سے باہر نہیں جایا جا سکتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فاروق ناٸیک نے عدالت کو صرف مشکلات سے آگاہ کیا،

    تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت لچک مظاہرہ نہیں کررہی ہم مذاکرات اور یہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں تنقید کے باوجود ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھے ، فاروق نائیک نے کہا کہ مسئلہ حل ہوجائے گا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صرف وعدہ کرتے ہیں ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات سےمتعلق کیس کی سماعت مکمل ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا

    پاکستان تحریک انصاف سے فواد چوہدری اور علی محمد خان سپریم کورٹ پہنچ گئے ،پاکستان مسلم لیگ ن سے خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ پہنچ گئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت الیکشن کمیشن کے حکام بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے بھی الیکشن پر مذاکرات سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، جواب اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا، جواب میں کہا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک تاریخ پر الیکشن کرانے پر متفق ہیں ملک کی بہترین مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو تیار ہیں قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا ،

    پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہوئے ہیں، پی ڈی ایم سرکار کے ساتھ تین نشستوں کا خلاصہ عدالت کے سامنے پیش کر دیا، تحریک انصاف نیک نیتی سے معاملات سلجھانا چاہتی ہے،جانتے ہیں آئین کی خلاف ورزی ہوئی ،انتخابات کے لئے حتمی امیدواروں کی لسٹ بنائی جا چکی،اس کے باوجود سیاسی حل کے لئے ہم ساتھ بیٹھے ہم نے بہت لچک دکھائی ہے،مذاکرات میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا،اب سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھنا ہو گا پی ٹی آئی نے آئین کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ کی آئینی حیثیت سے غافل نہیں رہنا،کل بروز ہفتہ پورے پاکستان میں چیف جسٹس کے ساتھ 5:30 بجے اظہار یکجہتی کے اجتماعات ہوں گے، عمران خان خود لاہور میں ریلی کی قیادت کریں گے، اسلام آباد میں بھی ریلی کا اہتمام کیا جائے گا،

    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا اسلام آباد عدالت پیشی سے قبل ویڈیو پیغام

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا اسلام آباد عدالت پیشی سے قبل ویڈیو پیغام

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ مراد سعید اور مجھے اگر کچھ ہوا تو اس کے پیچھے ڈرٹی ہیری ہوگا۔

    باغی ٹی وی : عدالت میں پیشی کے لیے اسلام آباد روانگی کے وقت اپنے ویڈیو پیغام میں عمران خان نے کہا کہ 4 چیزوں پر میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ عدالت نے طلب کیا ہے، میرے پاؤں پر سوجن ہے، اس کے باوجود جا رہا ہوں ۔ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں دوسرے لوگ جو ہر وقت ذلیل حرکتیں کرتے ہیں، پروپیگنڈا کرتے ہیں ججز کے خلاف ،ہم ان جیسے نہیں ۔

    وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے عزم کی یقین دہانی


    عمران خان نے کہا کہ کچھ دن پہلے میں نے لاہور ہائی کورٹ کو صاف کہا ہے کہ مجھے دو بار قتل کرنے کی کوشش کی ہے، جس کو ہم ڈرٹی ہیری کہتے ہیں ایک مرتبہ وزیر آباد دوسری مرتبہ 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں مجھے قتل کرنے کی کوشش کی-

    انہوں نے کہا کہ اب مراد سعید کو بھی یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گرد ہے اگر مراد سعید کو کچھ ہوا تو اس کے پیچھے ڈرٹی ہیری ہوگا اور اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے پیچھے بھی ڈرٹی ہیری ہی ہوگا –

    میسی کا فرنچ کلب کو خیرباد کہنے کا فیصلہ،سعودی کلب سے معاہدہ آخری مراحل میں …

    سابق وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ میں نے کال دی ہے اب پھر میں سارے پاکستانیوں کو کال دے رہا ہوں کہ آپ سب نے پرسوں ہفتے کے روز اپنے گھروں سے مغرب کے وقت ساڑھے پانچ بجے چیف جسٹس سے اظہاریکجہتی کے لیے ایک گھنٹے کے لیے باہر نکلیں میں پھر 4 ریلیاں کر رہا ہوں، لاہور میں ریلی کی قیادت کروں گا-

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور میں ریلیاں ہوں گی، چیف جسٹس کو بتانے کے لیے ریلیاں نکالیں گے کہ ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ مافیا نے سپریم کورٹ کو تقسیم کیا ہوا ہے، آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، نوے روز کے اندر الیکشن ہونے تھے، یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی،عمران خان کچھ دیر بعد زمان پارک لاہور سے روانہ ہوں …

  • پی ٹی آئی نے مذاکرات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    پی ٹی آئی نے مذاکرات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    ملک بھر میں انتخابات ایک ہی دن کرانے کا کیس ،پی ٹی آئی نے حکومت کیساتھ مذاکرات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کے انعقاد کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے معاملے پر باضابطہ طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کر دی گئی،سپریم کورٹ سے پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے 4 اپریل کے حکم نامے کے من و عن نفاذ کی استدعا کی گئی، تحریک انصاف کی درخواست میں کہا گیا کہ معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب میں 14 مئی کو انتخاب کروایا جائے دستور سے انحراف کی راہ روکنے کیلئے عدالتی فیصلے کی روشنی میں 14 مئی کو انتخابات کا انعقاد لازم ہے ،عدالت ِ عظمیٰ نے 19 اپریل کے اپنے حکم نامے میں سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات کے ذریعے انتخابات کے انعقاد کے لائحہ عمل کی تیاری کی تجویز دی تحریک انصاف نے عدالت میں کروائی گئی یقین دہانی کی روشنی میں خصوصی مذاکراتی کمیٹی قائم کی ،کمیٹی وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی، مرکزی سینئر نائب صدر چوہدری فواد حسین اور سینیٹر علی ظفر پر مشتمل تھیجمعیت علما ءاسلام کے علاوہ پی ڈی ایم اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، ایم کیو ایم اور ق لیگ نے بھی اپنے نمائندے نامزد کیے پی ڈی ایم کی کمیٹی وزیر ِ خزانہ اسحاق ڈار ، سینیٹر یوسف رضا گیلانی ، ویزرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر تجارت نوید قمر اور دیگر پر مشتمل تھی،

    تحریک انصاف کی درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم اتحاد کی مذاکراتی ٹیموں نے پوری نیک نیتی سے 27 ، 28 اپریل اور 2 مئی کو بات چیت کی ،اس بات چیت کے نتیجے میں فریقین کے مابین تین نکات پر اتفاقِ رائے ہوا،
    فریقین متفقہ طور پر سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات اہم ہیں اور تمام سیاسی تنازعات کا حل سیاسی جماعتوں کے پاس ہے ،فریقین سمجھتے ہیں کہ پوری نیک نیتی سے بات چیت اور ایسے حل کے دریافت کی کوشش کریں گے جو عوام کے حق میں اور آئین و قانو ن کے دائرہ کے اندر ہو،فریقین کے مابین اتفاق ہوا کہ بات چیت کوتاخیری حربے کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا،فریقین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس گفتگو کے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم نامے پر اس وقت تک کوئی اثرات مرتب نہیں ہو ں گے جب تک دونوں کے مابین آئینی حدود کے اندر کوئی معاہدہ طے پا کر رو باعمل نہیں ہو جاتا،تحریک انصاف ابتدا میں یہ سمجھتی تھی کہ اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز ہی میں منعقد ہونے چاہیئں ،معزز عدالت پنجاب کے انتخابات کیلئے 14 مئی کی تاریخ مقرر کر چکی ہے 14 مئی کو انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے جسے فریقین کی رائے سے بدلنا ممکن نہیں اسی حوالے سے پی ڈی ایم اتحاد سے بھی آئین پر عمل کرنے اور 14 مئی کو پنجاب میں انتخاب کے انعقاد کے حوالےسے سپریم کورٹ کے حکم نامے پر عمل درآمد کی التماس کی گئی ،پی ڈی ایم اتحاد پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا،پی ڈی ایم اتحاد کا خیال تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگست کے دوسرے ہفتے میں تمام اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد اکتوبر میں منعقد کیے جائیں ،مفصل گفتگو اور پی ڈی ایم اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک انصاف نے ملک بھر میں ایک روز میں انتخابات کے حوالے سے درج ذیل تجویز پیش کی

    تحریک انصاف کی درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف نے ملک میں ایک ہی روز انتخابات کروانے کیلئے 4 شرائط پیش کیں ،تحریک انصاف ایک ہی روز انتخابات کیلئے تیار ہے بشرطیکہ قومی ، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں کو 14 مئی یا اس سے پہلے تحلیل کر دیا جاے ،قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تینو ں اسمبلیوں کی تحلیل کے 60 روز کے اندر یعنی جولائی کے دوسرے ہفتے میں کروائے جائیں پنجاب اور پختونخوا کے انتخابات کو 90 روز کی مدت گزر جانے کے بعد ایک آئینی تحفظ فراہم کیا جائے ،انتخابات میں تاخیر کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کیلئے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی ایوان میں واپس جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کے مابین باہمی اتفاق رائےسے صرف ایک بار کیلئے موثر آئینی ترمیم کی جائےگی ،تمام جماعتیں انتخابات کے نتائج قبول کریں گی

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس،عدالت نے کیس نمٹا دیا

    ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس،عدالت نے کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے ہزارہ برادری کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوانے کیلئے تصدیق کی شرط ختم کر دی ،ایم این اے،ایم پی اے یا چیئرمین یونین کونسل کی تصدیق کی شرط ختم کر دی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ یورپ اور آسٹریلیا سے آنیوالے ہزارہ برادری کے افراد کو کوئٹہ ایئر پورٹ پر ہراساں نہ کیا جائے،مغوی علی رضا کی بازیابی کیلئے وزارت داخلہ بلوچستان حکومت سے تعاون کرے،

    دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ از خود نوٹس جس مقصد کیلئے لیا گیا تھا کیا وہ مقصد پورا ہوگیا،جسٹس اطہر من اللہ نے ہزارہ برادری کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ہزارہ برادری کے مسائل حل ہوگئے ہیں،وکیل ہزارہ برادری نے کہا کہ بنک اکاؤنٹس اور نادرا سے متعلقہ مسائل تاحال حل نہیں ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جواب جمع کرا دیا ہے،ہزارہ برادری کے بنک اکاؤنٹس،پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوانے کے تمام مسائل حل ہوگئے ہیں،ااب ہزارہ برادری کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوانے کیلئے کسی قسم کی تصدیق کی ضرورت نہیں،ا

    دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری بالخصوص ہزارہ برادری کو ہراساں نہ کیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہزارہ برادری کے مسائل کے حل سے متعلق لیٹر جمع کرا دیا ہے،سپریم کورٹ وفاقی حکومت کی یقین دہانی کے بعد مزید کیس کو آگے نہیں چلانا چاہتی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی ہزارہ برادری کے مسائل کے حل کی یقین دہانی پر کیس نمٹا دیا گیا ،

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     کیا عمران خان کو انتخابات سے دور رکھنے کے لیے آیسا ہورہا ہے ؟

  • پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات،الیکشن کمیشن کی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست

    پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات،الیکشن کمیشن کی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست

    پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر کردی، درخواست میں سپریم کورٹ سے 14 مئی پولنگ کی تاریخ واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فنڈز نہیں ملے، موجودہ صورتحال میں انتخابات کرانے سے قاصر ہیں

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا ،الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار عدلیہ کو حاصل نہیں، آئین بنانے والوں نے عدلیہ کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ انتخابات کیلئے تاریخ دے، سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دے کر طے شدہ قانون کو تبدیل کیا، سپریم کورٹ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے کی غلطی کو درست کرے،آئین پاکستان نے اداروں کے اختیارات کو بالکل واضح کر رکھا ہے،عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کی واضح آئینی حدود کے تحت سپریم کورٹ کا انتخاب کیلئے تاریخ دینا درست نہیں،آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دیکر اپنے ہی طے کردہ اصول کی نفی کی،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو واضح طور پر ناممکن قرار دے دیا تھا،
    الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں تین رپورٹیں جمع کرائی ہیں۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ مذکورہ تاریخ کو صوبائی انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت عظمیٰ اس معاملے کی مزید سماعت کیلئے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ مقررہ تاریخ تک ضروری مطلوبہ انتظامات کی تکمیل ممکن نہیں جبکہ انتخابات کے التوا یا تنسیخ کا اعلان آئندہ ہفتے کیاجائے گا سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے الیکشن کمیشن کو طلب نہیں کیا ۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس نے کیس میں ریمارکس دیے تھے کہ عدالت اپنا 14 مئی کو الیکشن کا حکم واپس نہیں لے گی , چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں،رانا ثناء اللہ

    قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں،رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ٹرک چھپاؤ یا پہنچاؤ تحریک کی پریس کانفرنس تھی، قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو نوٹس نہ بھیجیں، بشری بی بی عدالت میں پیش ہو کر کرپشن کا جواب دے جہاں خاوند منہ پر بالٹی پہن کر جاتا ہے؛ خاوند کو منہ پہ بالٹی ڈال کر عدالت لے کر جائیں ،الیکشن کمیشن، وکلاء، صحافیوں اور سیاسی مخالفین پر گند اچھالنا گالی دینا دھمکانا عمران خان کا وطیرہ ہے، جو خلاف بات کرے وہ وکلاء پے رول پے ہیں اور صحافی لفافے ہیں، الیکشن کمیشن بکاؤ ہے۔ جو غلامی نہ کرے وہ مسلم لیگ (ن) کے ہے رول پر اور جو صحافی حق کی بات کرے وہ لفافہ۔

    رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کے لفافے کا جواب دو جو فراڈ نیازی نے فراڈ کرکے اپنے سپانسر کو خیرات کیا، پورا قومی خزانہ عمران مافیا کے نشانے پرتھا۔ عدلیہ کا اختیار پارلیمنٹ نے شفاف بنایا ہے، منصب، کرسی اور اختیار کا ناجائز استعمال سب سے بڑی آئین شکنی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • چیف جسٹس کی جانب سے ججز کیلئے عشائیہ،جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدم شرکت

    چیف جسٹس کی جانب سے ججز کیلئے عشائیہ،جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدم شرکت

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کے لئے عشائیہ دیا گیا ، جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججز کے اعزاز میں گزشتہ رات عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں عدالت عظمیٰ کے تمام ججز کو مدعو کیا گیا۔

    آئی پی ایل:میچ میں تلخ کلامی، گوتم گھمبیر،نوین الحق اورویرات کوہلی پر کتنا جرمانہ عائد

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز عشائیے میں سپریم کورٹ کے 14 ججز نے شرکت کی جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عشائیے میں شرکت نہیں کی اور انہوں نے عشائیے میں عدم شرکت کی وجہ سے بھی آگاہ نہیں کیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    ذرائع کے مطابق عشائیے کا مقصد سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان اختلافات ختم کرنا تھا جبکہ ہرعید کے بعد چیف جسٹس پاکستان ساتھی ججز کے اعزاز میں عشائیہ دیتے ہیں۔

    سارک ممالک کے مرکزی بینکوں کااجلاس آج سے اسلام آباد میں شروع ہوگا

  • الیکشن کمیشن نے 14 مئی کوانتخابات کو واضح طور پر ناممکن قراردیا

    الیکشن کمیشن نے 14 مئی کوانتخابات کو واضح طور پر ناممکن قراردیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کو واضح طور پر ناممکن قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں تین رپورٹیں جمع کرائی ہیں جن میں الیکشن کمیشن نے کہا ہےکہ مذکو رہ تاریخ کو صوبائی انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاعدالت عظمیٰ اس معاملے کی مزید سماعت کےلیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

    گجرات میں پرویز الہی کی رہائشگاہ پر پولیس کا چھاپہ

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ مقررہ تاریخ تک ضروری مطلوبہ انتظامات کی تکمیل ممکن نہیں ہے جب کہ انتخابات کے التوا یا تنسیخ کا اعلان آئندہ ہفتے کیاجائے گاسپریم کورٹ نے مزید سماعت کے لیے الیکشن کمیشن کو طلب نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گزشتہ ماہ 4 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے لیے 14 مئی کوانتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔

    ملک بھر میں ایک ساتھ الیکشن کرانےکی درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے سماعت کی تھی الیکشن کی تاریخ پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سیاسی قائدین کو طلب کیا تھا چیف جسٹس نے کہا تھا کہ پنجاب الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ قائم ہے ، نہیں بدلے گا، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ہمارےگھر پر ریڈ کسی اندر کے بندے نے کروائی. چوہدری سالک حسین کا دعویٰ

    تین رکنی بینچ نے پنجاب اورخیبرپختونخوا میں الیکشن کے لیےفنڈز کےحوالے سےکہا تھا کہ حکومت 21 ارب روپے 27 اپریل تک الیکشن کمیشن کو فراہم کرے، حکومتی گرانٹ کے بل مسترد ہونے کا مطلب ہےکہ وزیر اعظم اورکابینہ ایوان میں اکثریت کھو بیٹھی ہےجبکہ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ ایسا نہیں اٹارنی جنرل سے فی الحال اتفاق کرتے ہوئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دوسری صورت بھی حکومت کو سنگین آئینی مسائل کی طرف لےجا سکتی ہےعدالتی حکم کی نا فرمانی کے بھی سنگیں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں لہٰذا ضروری ہےکہ حکومت 27 اپریل تک 21 ارب روپے فراہم کرے ۔

    عدالت نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انتخابات 8 اکتوبر تک ملتوی کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی متفرق درخواستیں نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹانےکا حکم بھی دے دیا۔

    ہم یقینی طور پرپاکستان کی داخلی یا ملکی سیاست پر کچھ نہیں کہیں گے،امریکا

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس کی سماعت کل دو مئی منگل کو ہوگی،

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ سماعت کرے گا ۔سماعت کل دن ساڑھے بارہ بجے ہوگی .سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سمیت 9 سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کیئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق دیگر تین درخواستوں کی سماعت بھی کل ہی ہوگئی رجسٹرار آفس کی جانب سے آج دیگر تینوں درخواستوں کو بھی نمبر الاٹ کر دیے گئے ہیں ۔اظہر صدیق ایڈووکیٹ ، زمان وردگ سمیت غلام محی الدین بھی درخواست گزار ہیں

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • سینئیرججز کی سپریم کورٹ میں تقرری: قاضی فائز عیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا

    سینئیرججز کی سپریم کورٹ میں تقرری: قاضی فائز عیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس مسرت کی سپریم کورٹ میں تقرری کی سفارش کردی۔

    باغی ٹی وی: : سپریم کورٹ میں دو ججز کی تقرری کے معاملے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور  اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو نامزدکیا ہے۔

    سابق گورنر پنجاب کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج

    ذرائع کا کہنا ہےکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے جسٹس مسرت اور جسٹس احمد علی شیخ کے ناموں پر غور کیا جائے سینیارٹی اصول پر دونوں چیف جسٹس صاحبان کو سپریم کورٹ لانے پر غور کیا جائے، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جلد بلانے پر بھی زور دیا ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت 17 ججز کی جگہ 15 ججز کام کر رہے ہیں-

    پولیس مقابلے میں مطلوب ریکارڈ یافتہ 2 ڈاکو ہلاک

    دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس 4 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے ججز معاملات کا جائزہ لیا جائے گا تاہم اجلاس کا ایجنڈا ممبران کو نہیں دیا گیا، اجلاس بلانے کے حوالے سے ممبران کو اطلاع دی گئی۔

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ جوڈیشل کمیشن کے سینیئر ممبر ہیں جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہیں۔

    کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس 8 ماہ بعد بحال