Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آڈیو لیکس سے متعلق کمیشن،پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس سے متعلق کمیشن،پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے آڈیو لیکس سے متعلق کمیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔

    جوڈیشل کمیشن کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی،جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے،چیف جسٹس پاکستان کی اجازت کے بغیر کسی جج کو کمیشن کیلئے نامزد نہیں کیا جا سکتا ،سپریم کورٹ کے کس جج کیخلاف تحقیقات یا کاروائی کا فورم صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے ایڈوکیٹ بابر اعوان کے توسط سے درخواست دائر کی گئی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے توسط سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ،آئینی درخواست وفاقی حکومت کے بنائے گئے کمیشن کیخلاف دائر کی ،سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی, جسٹس عامر فاروق اور جسٹس نعیم اختر افغان ہمارے لئے معزز ہیں ہم نے درخواست ان ججز کے خلاف درخواست دائر نہیں کی ،ہم نے حکومتی بدنیتی کو چیلنج کیا ہے ،یہ کمیشن عدلیہ پر حملہ ہے ،ہم نے آئینی درخواست میں پانچ نقاط کو چیلنج کیا ،سپریم کورٹ طے کر چکی ہے کہ فون ٹیپ نہیں ہوسکتا ،ان آڈیوز کو ٹیپ کس نے اور کس اتھارٹی کے تحت کیا ،ان آڈیوز لیکس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں سپریم کورٹ خود ایک جوڈیشل کمیشن بنا کر اس پر تحقیقات کرے سوال یہ بھی ہے کہ آڈیو ٹیپ کرنے کے بعد انہیں اپلوڈ کون کررہا ہے عمران خان نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عدلیہ کے سامنے آواز اٹھائںجعلی یا اصلی آڈیو ویڈیو کا کاروبار چلایا جارہا ہے

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیشن تشکیل دے دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر کمیشن میں شامل ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق بھی کمیشن میں شامل ہیں،وفاقی حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    کمیشن جوڈیشری کے حوالے سے لیک ہونے والی آڈیوز پر تحقیقات کریگا یہ آڈیو لیکس درست ہیں یا من گھرٹ کمیشن اس بارے میں تحقیقات کرے گا، وفاقی حکومت کی جانب سے بنایا جانے والا کمیشن ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا،وکیل اور صحافی کے درمیان بات چیت کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی سابق چیف جسٹس اور وکیل کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی کمیشن سوشل میڈیا پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد کی عدالتی کارروائی پراثرانداز ہونے کے الزامات کی آڈیو لیک کی تحقیقات کریگا،کمیشن چیف جسٹس کی ساس اور ان کی دوست کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کرے گا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • آڈیو لیکس ،جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    آڈیو لیکس ،جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت اجلاس ہوا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اجلاس میں شریک تھے، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کمیشن کے پہلے اجلاس میں پیش ہوئے،آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کس قانون کے تحت تشکیل دیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کمیشن انکوائری کمیشن ایکٹ 2016 کے تحت تشکیل دیا گیا،آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا ،انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ کوئی حساس معاملہ سامنے آیا تو ان کیمرہ کارروائی کی درخواست کا جائزہ لیں گے،کمیشن کی کارروائی سپریم کورٹ اسلام آباد بلڈنگ میں ہوگی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن سے متعلقہ انکوائری کرنی ہے ان میں 2 بڑی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں،اگر درخواست آئی تو کمیشن کارروائی کیلئے لاہور بھی جا سکتا ہے،کمیش نے اٹارنی جنرل کو کمیشن کیلئے آج ہی موبائل فون اور سم فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،کمیشن نے وفاقی حکومت کو ای میل ایڈریس بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن بذریعہ اشتہار عوام سے بھی معلومات فراہم کرنے کا کہے گا،معلومات فراہم کرنے والے کو شناخت ظاہر کرنا لازمی ہوگی،نامعلوم ذرائع سے آنے والی معلومات قابل قبول نہیں،انکوائری کمیشن نے حکومت سے تمام آڈیو ریکارڈنگز طلب کر لیں تمام آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ بھی ذمہ دار افسر کے دستخط کے ساتھ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    انکوائری کمیشن نے کہا کہ ٹرانسکرپٹ میں غلطی ہوئی تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،وفاقی حکومت کو تمام مواد بدھ تک فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، انکوائری کمیشن نے کہا کہ جن کی آڈیوز ہیں ان کے نام،عہدے اور رابطہ نمبر بھی فراہم کئے جائیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انکوائری کمیشن کا دائرہ اختیار بھی واضح کر دیا، کہا کہ انکوائری کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہے،اجلاس کے دوران اٹارنی جنرل نے کمشین کا نوٹیفیکیشن، ٹی او آرز اور اختیارات پڑھ کر سنائے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کی وجہ سے میرے کچھ آئینی فرائض بھی ہیں،میں سپریم جوڈیشل کونسل کا بھی ممبر ہوں،جوڈیشل کمیشن میں پیش ہونے والا کوئی بھی ملزم نہیں،ہم پر بھاری بوجھ ہے، تمام پیش ہونے والوں کو احترام دیا جائے گا، چاہتے ہیں کمیشن جلد اپنی کاروائی مکمل کرے،

    پہلے اجلاس کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ نوٹس وفاقی حکومت مقرر کردہ افسر یا کوریئر کے ذریعے بھیجے جائیں۔ اورجس شخص کو نوٹس بھیجا جائے اس کے نوٹس وصولی کی تصویراتاری جائے ،نوٹس ایک سے زائد بار جاری کیا جائے، بار بار نوٹس بھیجنے کے باوجود وصول کرنے والے فرد کے گھر کے باہر نوٹس چسپاں کرکے اس کی تصویر بنائی جائے.

  • جسٹس فائز عیسیٰ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کی ملاقات

    جسٹس فائز عیسیٰ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کی ملاقات

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس فائز عیسیٰ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق لاہور میں ہونے کی وجہ سے ملاقات میں شریک نہیں ہوئےجسٹس فائز عیسیٰ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی-

    عمران نیازی نے وہ کام کیا جو 75 سال میں دشمن نہ کرسکا،وزیراعظم

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں منتقلی سے متعلق امور پرگفتگو کی گئی اس دوران جسٹس فائزعیسیٰ نے ججز کی چائے اورکافی سے تواضع کی اور ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

    خیال رہےکہ گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے ملاقات کی تھی۔

    پی ٹی آئی نے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ویمن ونگ پلوشہ عباسی کوعہدے سے برطرف کر …

  • ہمیں سزا سنانے والے 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں،نواز شریف

    ہمیں سزا سنانے والے 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں،نواز شریف

    لندن: سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سزا سنانے والے 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : اپنی ٹوئٹ میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ بیٹے سے چند ہزار درہم تنخواہ نہ لینے پر مجھے نا اہل کروا کر جیل پھینک دیا گیا اور دوسری طرف ایک ثابت شدہ کرپٹ کو صادق اور امین بنا کر اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی توہین کی گئی۔
    ہمیں سزا سنانے والے، 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں کون کرے گا ایسے عدل کا احترام ؟-


    واضح رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کےبعد سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس نے عمران خان کو دیکھ کر کہا تھا ’ویلکم خان صاحب! گُڈٹو سی یو۔‘

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور وفاقی کابینہ نےبھی مذمت کی تھی بعدازاں چیف جسٹس نے وضاحت بھی دی تاہم انہیں ملکی سیاسی قیادت کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    اسلام آباد: عدالت نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    باغی ٹی وی : نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجازالاحسن تین رکنی خصوصی بینچ کا حصہ تھے،وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آج آپ اتنی دور سے پیش ہوئے، جس پر وکیل نے کہاکہ گزشتہ روز کے حالات کے پیش نظر مجھے لگا کہ عدالت پہنچنا مشکل ہوگا آج کل تو سوشل میڈیا بھی نہیں کہ معلومات مل سکیں،چیف جسٹس نےکہاکہ دھیان سے بات کریں،عدالت میں جو بات کہیں گے وہ سوشل میڈیا پر گُڈ ٹو سی یو کی طرح سیاق و سباق کے بغیر پیش کی جائے گی-

    چیف جسٹس نے کہا کہ 46ویں سماعت ہے خواجہ حارث نے 26 اور مخدوم علی خان نے 19 سماعتوں پر دلائل دیئے اور بینچ چاہتا ہے اس کیس کو سمیٹا جائے،تحریری مواد دیکھنے کے بعد ضرورت ہوئی تو مزید سماعت کریں گے،اگر فراہم کردہ مواد پر عدالت کسی نتیجہ پر پہنچی تو فریقین کو آگاہ کر دیں گےمقدمہ کو مزید نہیں لٹکانا چاہتے، عدالتی چھٹیوں میں شاید بینچ بیک وقت یہاں دستیاب نہ ہو،نیب قانون میں بہت سی چیزیں درست ہیں، کچھ غلطیاں ہیں جن پر فیصلہ دیں گے۔

    اگر پی ٹی آئی کو پی ٹی وی حملہ کیس میں سزا مل جاتی تو …

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سے کہاکہ نیب ترامیم دیکھ کر بتائیں ان میں غلطی کیا ہے، نیب ترامیم میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہاں ہوئی؟ خود سے یہ طے نہیں کر سکتے کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بنیادی حقوق متاثر ہو گئے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اپنے جواب میں مخدوم علی خان کے اعتراضات کا جواب بھی شامل کیجیے گا،خواجہ حارث نے کہا کہ حکومت نے نیب قانون میں تیسری ترمیم کی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت بھی تو ہمارا امتحان لیتی جا رہی ہے-

    وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیب قانون میں ریفرنسز واپس ہو کر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے پر ترمیم کی چیف جسٹس نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کریں گے،عدالت نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

    اب واٹس صارفین ا نتہائی نوعیت کی ذاتی چیٹس محفوظ کر سکیں گے

  • چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس کی "گڈ ٹو سی یو” کی وضاحت پر مریم نواز کا ردعمل

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی گُڈ ٹو سی یو جملے پر وضاحت پر ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پو مرم نواز نے کہا کہ ربوں کے ڈاکے ڈالنے والے کتنے مجرموں کو آپ گڈ ٹو سی یو کہتے ہیں؟ ہر ایک کو ریجسٹرار سے فون کروا کر مرسیڈیز بھی منگوا کر رخصت کرتے ہیں؟ ہر ایک کو جیل سے ریسٹ ہاؤس بھی شفٹ کرتے ہیں؟ –

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس


    انہوں نے مزید کہا کہ سب پر اسی طرح ریمانڈ میں ضمانتوں کی برسات کرتے ہیں؟ سب کو کہتے ہیں دس فیملی میمبرز کو بلائیں، گپیں لگائیں اور سو جائیں؟-

    قبل ازیں مریم نواز نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمر عطا بندیال صاحب! سپریم کورٹ کی اس سفید سنگ مر مر کی عمارت کو آپ نے اپنی ایمانداری سے نہیں بلکہ عمرانداری سے داغدار کرنے کی کوشش کی ہے ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ عمرعطا بندیال کا لاڈلہ عمران خان تھا.تنصیات پر حملوں کے ہیچھے چھ ماہ کی پلاننگ ہے-

    پی ٹی آئی کا کورکمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے پر ردعمل

    انہوں نے کہا کہ آج جب پاکستان کی افواج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے تو جوڈیشل مارشل لاء بھی یہاں سے لگا ہے.چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں اب تو یہ کمبخت مارشل لاء بھی نہیں لگاتے،پنجاب اسمبلی تڑوانے کا پوشیدہ کردار عمر عطا بندیال تھا-

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سول مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے وکیل اصغر سبزواری سے مکالمہ کیا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کافی وقت بعد آپ میری عدالت آئے، مجھے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، میں ہر ایک کو احترام دیتا ہوں، ادب و اخلاق تو سب کے لیے ضروری ہے،ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔

    9 مئی کے یوم سیاہ اور15 مئی کے عوامی احتجاج میں فرق پوری دنیا نے …

  • 9 مئی کے یوم سیاہ اور15 مئی کے عوامی احتجاج میں فرق پوری دنیا نے دیکھ لیا،مریم نواز

    9 مئی کے یوم سیاہ اور15 مئی کے عوامی احتجاج میں فرق پوری دنیا نے دیکھ لیا،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر اور چیف آرگنائزرمریم نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے بتا دیا کہ پرامن جمہوری احتجاج کیا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف آرگنائزر مریم نواز شریف کا شاہراہ دستور پر احتجاج میں آنے والے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا مریم نواز شریف نے جمعیت علمائے اسلام(ف)، پی پی پی، اے این پی سمیت پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے قائدین، سیاسی کارکنان کا شکریہ ادا کیا –

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    انہوں نے کہا کہ امسلم لیگ (ن) کے قائدین اور کارکنوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتی ہوں شدید گرمی میں بڑی تعداد میں خواتین،بچوں اور نوجوانوں کے شرکت کرنے پر بھی مشکور ہوں میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے سخت موسم اور حبس میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں آئین کی سربلندی اور آزاد و غیر جانبدار سپریم کورٹ کے لئے آواز بلند کرنے آئے، آپ سب کا شکریہ –

    مریم نواز نے کہا کہ اشاہراہ دستور پر ہزاروں مظاہرین نے جمہوری احتجاج کی روشن مثال قائم کی ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین اور نوجوانوں نے بتایا کہ پرامن، جمہوری، عوامی احتجاج کیا ہوتا ہے ہزاروں کارکنوں کی آمد اور روانگی ہوئی لیکن ایک شاخ، گملا نہیں ٹوٹا کوئی عمارت جلی نہ گاڑی، کوئی ایمبولنس روکی گئی نہ کسی پولیس اہلکار کا سر پھٹا، یہ ہوتا ہے عوام کا احتجاج-

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کالعدم قراردی

    مریم نواز نے کہا کہ 9 مئی کے یوم سیاہ اور15 مئی کے عوامی احتجاج میں فرق پوری دنیا نے دیکھ لیا9 مئی کو عمرانی منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کیسے ہوتی ہے اور ایک دن کی کال پہ عوام خود کیسے امڈ آتی ہے، فرق سامنے آگیا حق، انصاف اور آئین کےلئے آواز اٹھانے اور چوری چھپانے کی خاطر پاکستان کو جلانے میں کیا فرق ہے، دنیا نے دیکھ لیا –

    انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو عمران خان کی منصوبہ بندی پر اس کے غنڈوں اور مسلح جتھوں نے دہشت گردی کی عمران خان کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں سکول، مساجد، سرکاری املاک جلائیں گئیں، شہدا کی یادگاروں کی بےحرمتی کی گئی 15 مئی کوشاہراہِ دستور پر عوام کے احتجاج میں میڈیا کی گاڑیوں کو توڑا گیا نہ کسی صحافی پر تشدد ہوا –

    ظل شاہ قتل کیس:تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی

    مریم نواز نے کہا کہ عارف علوی کے خلاف اشتعال کے باوجود کسی کارکن نے ایوان صدر کا رخ نہیں کیاعوام جانتے ہیں کہ یہ اپنے آئینی حلف کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کا گھر نہیں، ایوان صدر ہے 9 مئی کو غنڈے، مسلح جتھے باہر نکلے اور دہشت گردی کی، 15 مئی کو عوام نکلےاورایک پتہ نہیں ٹوٹا 9 مئی وطن دشمنی اور 15 مئی حب الوطنی کی دو مثالیں، دو موازنے اور دو روئیے ہیں اپنی چوری چھپانے کے لئے ملک جلانے اور انصافی کے خلاف آواز اٹھانے میں یہ فرق ہوتا ہے-

  • میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    میں ہر کسی کو’گڈ ٹو سی یو‘کہتا ہوں ،مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ’گڈ ٹو سی یو‘ میں ہر کسی کو کہتا ہوں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں سول مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے وکیل اصغر سبزواری سے مکالمہ کیا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، کافی وقت بعد آپ میری عدالت آئے۔

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، میں ہر ایک کو احترام دیتا ہوں، ادب و اخلاق تو سب کے لیے ضروری ہے،ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔

    واضح رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کےبعد سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر چیف جسٹس نے عمران خان کو دیکھ کر کہا تھا ’ویلکم خان صاحب! ’گڈ ٹو سی یو‘-

    عمران خان کی دو مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا،وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارات کابینہ اجلاس میں چیف جسٹس کے ان ریمارکس سمیت دیگر کلمات کی شدید مذمت کی گئی تھی عدل کی اعلیٰ ترین کرسی پر بیٹھے شخص کا یہ کہنا عدل کے ماتھے پر شرمناک دھبہ ہے اسلام، مہذب دنیا اور عدالتی فورمز کی تاریخ گواہ ہے یہ طرز عمل منصف کا نہیں ہو سکتا۔

    علی زیدی کی رہائش گاہ سب جیل قرار

  • من گھڑت باتیں چھوڑیں، شامل تفتیش ہوں، اپنی کرپشن کا حساب دیں،وزیراعظم

    من گھڑت باتیں چھوڑیں، شامل تفتیش ہوں، اپنی کرپشن کا حساب دیں،وزیراعظم

    عمران خان کی لمبی چوڑی ٹویٹ کا وزیراعظم شہباز شریف نے ایک لائن میں جواب دے دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وز یراعظم شہباز شریف نے عمران خان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اِدھر اُدھر کی من گھڑت باتیں چھوڑیں۔ شامل تفتیش ہوں اور اپنی کرپشن کا حساب دیں۔ بات ختم

    عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ چنانچہ اب لندن پلان تو کھل کر سامنے آچکا ہے۔ میں قید میں تھا تو تشدد کی آڑ میں یہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن بیٹھے ہیں! منصوبہ اب یہ ہے کہ بشریٰ بیگم کو زندان میں ڈال کر مجھے اذیّت پہنچائیں اور بغاوت کے کسی قانون کی آڑ لیکر مجھےآئندہ دس برس کیلئےقیدکر دیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی بچی کھُچی قیادت اور کارکنان کو بھی پوری طرح جکڑ لیں گے۔ اور آخر میں پاکستان کی سب سے بڑی اور وفاقی جماعت پر پابندی لگا دیں گے۔(جیسے انہوں نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ پر لگائی)-
    یہ یقینی بنانے کیلئے کہ عوام کی جانب سے کوئی ردّعمل نہ آئے، انہوں نے دو کام کئے ہیں؛
    اوّل: محض تحریک انصاف کے کارکنان ہی کو خوفزدہ نہیں کیا جارہا بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں بھی خوف بٹھایا جارہا ہے۔
    دوم: میڈیا پر پوری طرح قابو پایا جا چکا ہے اور بزورِ جبر اس کی آواز دبائی جاچکی ہے۔
    کل پھر یہ انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں گے اور سوشل میڈیا، جو پہلے ہی جزوی طور پر چل رہا ہے, کو پوری طرح بند کردیں گے۔
    اس دوران،جبکہ میں آپ سے مخاطب ہوں،گھروں کی حرمت پامال کی جارہی ہے اور پولیس نہایت بے شرمی سے گھر کی چار دیواری میں موجود خواتین سے بدتمیزی وبدسلوکی میں مصروف ہے۔ آج سے پہلے اس ملک میں چادر و چاردیواری کا تقدس کبھی یوں پامال نہ ہوا جیسا کہ یہ مجرم کر رہے ہیں۔ یہ لوگوں کے دلوں میں اتنا خوف بٹھانا چاہتے ہیں کہ جب یہ مجھے گرفتار کرنے آئیں تو لوگ باہر نہ نکلیں۔
    سپریم کورٹ کے باہر فضل الرحمٰن والے تماشے کا واحد مقصد بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو مرعوب کرنا ہے تاکہ وہ آئینِ پاکستان کےمطابق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے باز رہیں۔
    پاکستان پہلے ہی 1997 میں نون لیگی غنڈوں کو نہایت ڈھٹائی سے سپریم کورٹ پر عملاً حملہ آور ہوتے دیکھ چکا ہے جس کے نتیجے میں ایک نہایت محترم چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹایا گیا۔
    عوامِ پاکستان کو میرا پیغام ہے کہ؛
    میں اپنے خون کے آخری قطرے تک حقیقی آزادی کیلئے لڑوں گا کیونکہ مجرموں کے اس گروہ کی غلامی سے موت میرے لئے مقدّم ہے۔ میں اپنے لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے کلمہ لَاِ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی صورت میں یہ عہد باندھ رکھا ہے کہ ہم ربّ ذوالجلال کے علاوہ ہرگز کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
    اگر آج ہم خوف کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوگئے تو ذلت اور شکست و ریخت ہماری آئندہ نسلوں کا مقدّر ٹھہرے گی۔
    وہ ملک جہاں ناانصافی اور جنگل کے قانون کا دَور دَورہ ہو وہ زیادہ دیر تک صفحۂ ہستی پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے!

  • سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے

    سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے

    سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے،

    پی ڈی ایم کی قیادت کی اپیل پر اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج میں پی ڈی ایم کی قیادت پہنچ چکی ہے، ن لیگی رہنما مریم نواز بھی عدالت پہنچ چکی ہیں،مولانا فضل الرحمان بھی پہنچ چکے ہیں، جے یو آئی رہنما مولانا امجد خان بھی پہنچ چکے ہیں،

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں کارکنوں نے ان کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا، بلاول بھٹو کا سپریم کورٹ کے خلاف پی ڈی ایم کے دھرنے میں شرکت کا امکان ہے ،دوسری جانب دھرنے میں پیپل پارٹی کا وفد پہلے ہی شریک ہے ، پی پی سینیٹر نثار کھوڑو، سینیٹر وقار مہدی پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں ، پیپلز پارٹی کی دھرنے میں شرکت سے متعلق سینیئر قیادت کی مشاورت تاحال جاری ہے اور سینیئر رہنماؤں نے بلاول بھٹو کو دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم دھرنے کے شرکا کی تعداد میں اضافہ جاری ہے،اسٹیج پر مولانا فضل الرحمٰن ‘ مریم نواز ‘ محمود حان اچکزئی ‘ آفتاب شیرپاؤ موجود تھے،میاں افتخار ‘ نثار کھوڑو ‘ سمیت کئی اہم رہنما بھی اسٹیج پر موجود تھے ، اکرم درانی نے شرکا سے غیر معینہ مدت تک دھرنے کا وعدہ لے لیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کا دھرنا ،سپریم کورٹ کے ججز نے متبادل راستے کا استعمال کیا، سپریم کورٹ کے ججز اور عملہ وزیر اعظم آفس کا راستہ استعمال کر رہے ہیں اسلام آباد پولیس نے سیکورٹی کے پیش نطر شاہراہ دستور پر ججز داخلی راستہ کنٹینرز لگا کر بند کر رکھا ہے

    احتجاجی مظاہرے سے انصار الاسلام کی وردی پہنے ایک شخص گرفتارکر لیا گیا، انصار الاسلام کے رضاکارو نے تحویل میں لے کر انتظامیہ کے حوالے کر دیا ،جے یو آئی کی جانب سے کسی قسم کے شرپسند ی کرنے والے کو گرفتار کرکے انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے سامنے پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں ،ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو خدشات سے آگاہ کردیا ہے ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ کو بتایا گیا ہےکہ سپریم کورٹ کے باہر عوام کے بڑے مجمعے کے جمع ہونے سے سکیورٹی خدشات ہوں گے، ریڈزون میں اہم سرکاری عمارتیں اور سفارت خانے موجود ہیں، احتجاج کے باعث شرپسند عناصر مجمعے کی آڑ میں ریڈ زون میں داخل ہو سکتے ہیں

    سپریم کورٹ کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ریڈ زون میں داخلے کے لیے ایک کے سوا تمام راستے بندکر دیے گئے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    وزیراعظم شہباز شریف کور کمانڈر ہاؤس لاہور پہنچ گئے