Baaghi TV

ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

usa

امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

More posts