Baaghi TV

عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کے نام ایک سوال اقتدار کی سیاست بہت ہو گئی، عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟

عوام کو نعروں، الزامات اور اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ دیانت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، سستی بجلی و گیس اور عملی خدمت درکار ہے

سیاست ہو یا مذہب، رسول ﷺ کی تعلیمات کردار، دیانت اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں، اقتدار اور مفاد پرستی کا نہیں

پاکستان اسی دن حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داری، جوابدہی اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنا لے گی۔

تجزیہ شہزاد قریشی

یہ سرزمین کسی فرد، جماعت یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے، اور اس پر بسنے والے کروڑوں عوام اس امانت کا اصل سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ برسوں سے اقتدار، سیاست، مذہب اور جمہوریت کے نام پر عوام سے وعدے کرنے والوں نے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے؟ سیاسی جماعتوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی مسائل سے نجات دلانے کے لیے ان کی حقیقی خدمات کیا ہیں؟ ہر روز بیانات، الزامات اور سیاسی کشمکش تو نظر آتی ہے، مگر عام شہری کی زندگی میں آسانی کہاں پیدا ہوئی؟ اسی طرح مذہبی جماعتوں سے بھی ایک اہم سوال ہے۔

رسول اکرم ﷺ کا واضح فرمان ہے: "جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔” کیا اس حدیث پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر تحریک چلائی گئی؟ کیا بازاروں، کاروباری مراکز اور اپنے زیرِ اثر علاقوں میں دیانت داری، امانت اور خالص تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے؟ افسوس یہ ہے کہ اکثر مذہب کو خدمتِ خلق کے بجائے اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے، جبکہ دین کا اصل مقصد انسانیت کی اصلاح اور معاشرے میں انصاف کا قیام ہے۔ آج عالمی سطح پر پاکستان کی سیاست اور جمہوری رویوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، ذاتی مفادات، انا پرستی اور اقتدار کی کشمکش نے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی سیاست کا ذکر اکثر ایک سنجیدہ قومی ماڈل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل بحران کے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ہر محب وطن پاکستانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہیرو بننے کی خواہش میں ایسے قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو ریاستی استحکام اور قومی سلامتی کے ستون سمجھے جاتے ہیں تنقید ہر جمہوری معاشرے کا حق ہے، مگر تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہےقومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر قربان کرنا کسی بھی ذمہ دار قیادت کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔

استحقاق اور اختیار کا مطالبہ کرنے والوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ استحقاق کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ کیا استحقاق اس بات کا نام ہے کہ عوام کے مسائل نظر انداز کر دیے جائیں، احتساب سے بالاتر سمجھا جائے اور تنقید کو اپنی توہین قرار دے دیا جائے؟ حقیقی استحقاق تو خدمت، دیانت، جوابدہی اور کردار سے حا صل ہوتا ہے، نہ کہ بلند عہدوں اور طاقت کے مظاہروں سے، وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے اپنے گریبان میں جھانکے، قوم کو نعروں، الزام تراشیوں اور محاذ آرائی سے زیادہ کردار، بصیرت اور خدمت کی ضرورت ہے۔

عوام کو بجلی، گیس، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف چاہیے؛ انہیں تقریروں اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں خدا کا خوف کیجیے، اس ملک پر رحم کیجیے، اس قوم پر رحم کیجیے، اقتدار، شہرت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیے کہ تاریخ آپ کے کردار کے بارے میں کیا فیصلہ دے گی۔ قومیں نعروں سے نہیں، کردار، دیانت اور خدمت سے بنتی ہیں پاکستان بھی اسی دن مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے گی۔

More posts