Baaghi TV

Tag: سیاست

  • عمران خان پر عمارت کی چھت سے فائرنگ کا دعویٰ مشکوک

    عمران خان پر عمارت کی چھت سے فائرنگ کا دعویٰ مشکوک

    عمران خان پر عمارت کی چھت سے فائرنگ کا دعویٰ مشکوک

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان پر قریبی عمارت کی چھت سے فائرنگ کا دعویٰ بھی مشکوک ہوگیا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے مطابق چھت سے ملنے والے زنگ آلود تیس بور کے سات خول پرانے ہیں۔ جے آئی ٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دکان کی چھت سے کنٹینر کو نشانہ بنانا ممکن نہیں، چھت سے ملنے والے زنگ آلود 30 بور کے 7 خول پرانےہیں۔

    ذرائع کے مطابق چھت سے سب مشین گن (ایس ایم جی) کا کوئی خول برآمد نہیں ہوا۔ پرانےخول بھی حملے میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، جس کا مقصد حملہ آوروں کی تعداد کو ایک سے زائد ثابت کرنا ہے۔ جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے 30 بور کے 12 اور ایس ایم جی کے دو خول ملے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
    عمران خان کو لگنے والے ٹکڑے 30 بور کے برآمد خولوں سے میچ ہوئے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ 30 بور کے تمام 12 خول ملزم نوید کی پستول سے میچ ہوئے، جبکہ ایس ایم جی کے خول کا میچنگ ریکارڈ نہیں ملا۔ جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے محافظوں کا اسلحہ ڈیڑھ ماہ بعد فرانزک کیلئے دیا گیا۔

  • آج بڑے پیمانے پر عوام اور رہنما ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکریں گے. امین الحق کا دعویٰ

    آج بڑے پیمانے پر عوام اور رہنما ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکریں گے. امین الحق کا دعویٰ

    آج بڑے پیمانے پر عوام اور رہنما ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکریں گے. امین الحق کا دعویٰ

    ایم کیو ایم کے کنوینیئر اور وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ ہمارا ایک ہی مرکز بہادر آباد اور ایک ہی نشان پتنگ ہوگا۔ کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں کئی کمپنیاں موبائل فونز مینوفیکچرنگ کر رہی ہیں، آج کا اسمارٹ فون منی آفس ہے، آپ لاکھوں روپے کما سکتے ہیں، ہمیں بھی آئی ٹی کے شعبے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیر ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ میں نے وزارت سنبھال کر آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا، ہماری پالیسی واضح ہے کہ جو کام کرے وہ ہی ملازمت پر رہے گا، پاکستان میں موبائل فون کی تیاری کی بات کی تو مجھے دھمکایا گیا، اگر ہم 2008 میں گاڑیاں تیار کرنا شروع کر دیتے تو آج ہمارا ایک مقام ہوتا۔ امین الحق نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ 2050ء میں ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، اور آئی ٹی کی وزارت آگے کا سوچ کر کام کررہی ہے، اورنگی ٹاؤن کے ہر گھر میں تعلیم موجود ہے، اب وہاں جلد سی ایس ایس کی کلاسز شروع کرنے جا رہے ہیں، او بہت جلد اس ٹاؤن سے سی ایس ایس کے بچے بھی نکلیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اتحاد میں برکت ہے، آج بڑے پیمانے پر عوام اور رہنما ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکریں گے، آج اتحاد بھی ہوگا، ایک ہی مرکز بہادرآباد ہوگا، اور ایک نشان پتنگ ہوگا۔ امین الحق نے اپنی جماعت کے کارکنان کو الیکشن کی تیاری کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہمارامطالبہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کی عوام کو درست گنا جائے، اور حلقہ بندیاں درست کرکے الیکشن کروایا جائے، تو ایم کیو ایم مکمل اور بھرپور طریقے سے الیکشن میں حصہ لے گی۔

  • عمران خان، اسدعمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران خان، اسدعمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران خان، اسدعمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔ وارنٹ گرفتاری توہین الیکشن کمیشن کیس میں عدم پیشی پر جاری کئے گئے۔

    عمران خان کے علاوہ فواد چوہدری اور اسد عمر کے بھی قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے تینوں رہنماؤں کو پچاس، پچاس ہزار کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے خیال رہے کہ توہین الیکشن کمیشن کیس اور چیف الیکشن کمشنرکیسز میں الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، اسد عمر، فواد چوہدری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر آج فیصلہ سنایا گیا ہے. تینوں رہنماؤں نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی تھیں جبکہ چار رکنی کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی، عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے صرف حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا ہے، الیکشن ایکٹ کمیشن کو کارروائی کیلئے با اختیار بناتا ہے. سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کمیشن عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف کارروائی جاری رکھے، الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے اعتراضات پر بھی قانون کے مطابق فیصلہ کرےکیونکہ کسی ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے نہیں روکا۔

  • وفاقی حکومت کو ہر صورت الیکشن کا اعلان کرنا ہوگا. ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ

    وفاقی حکومت کو ہر صورت الیکشن کا اعلان کرنا ہوگا. ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ

    وفاقی حکومت کو ہر صورت الیکشن کا اعلان کرنا ہوگا؛ ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ

    ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کو ہر صورت الیکشن کا اعلان کرنا ہوگا، باعزت قوم کو بھکاری کہنے اور بنانے والے الیکشن میں تاریخی شکست کھائیں گے۔ مسرت جمشید چیمہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہےکہ ‏پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے پنجاب اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت اور نمبرز ثابت کر دیے ہیں،پی ٹی آئی اور ق لیگ کا بہترین ورکنگ ریلیشن قائم ہے۔


    انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہمارے اتحاد کے خلاف پروپیگنڈا سراسر بے بنیاد ہے،چوہدری پرویز الہٰی صاحب کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب تحریک انصاف کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت نے مزید کہا کہ ‏آج عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی اور باعزت روزگار ہے لیکن وفاقی حکومت کی ساری توجہ سازشوں، عیاشی اور لوٹ مار پر ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کو ہر صورت الیکشن کا اعلان کرنا ہوگا،غاصب حکمرانوں کو عوام اب مزید برداشت نہیں کرسکتی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اسمبلی اجلاس میں اعتماد کو ووٹ نہ لینے پر وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 130 اے کی شق سات کے تحت وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے، اور اس کے بعد دو تین روز میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا، اس دوران اجلاس میں موجود اراکین سے سب سے زیادہ جو ووٹ لے گا وہ وزیراعلیٰ ہوگا۔

  • سیاسی  استحکام کے لیے   تمام جماعتوں  کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ پریم کورٹ میں ریلوے سے متعلق کیس لگ گیا ہے اور چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے لائف لائن ہے جبکہ اب ہم شفاف اور بہترین پلان لیکر پیش ہوں گے. انکا کہنا تھا کہ ریلوے کو بہتر بنانے کےلیے ریاستی تعاون کی ضرورت ہے، ہم سے جو ممکن ہوا ریلوے کے کی بہتری کے لیے کریں گے، اور سیلاب آیا خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومت نے مرکز کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا.

    انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی جبکہ سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے ،سب کو ہمت کرکے ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے، اور سیاسی استحکام کے لیے آگے آنا تمام جماعتوں کی ذ مہ داری ہے. ان کے مطابق وفاقی حکومت تنہا سیاسی استحکام نہیں لاسکتی لہذا سیاسی جماعتوں کو کھینچاتانی کے بجائے معاشی استحکام کے لیے سوچنا چاہیے جبکہ احتساب قبر میں ڈال دیا گیا،مائنس کسی کو نہیں کیاجاسکتا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ مرکز اور صوبوں میں اختلاف رہاہے مگر ملکی مفاد کے لیے آگے جانا ہوگا اور کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو مائنس نہیں کیا جاتا وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو مائنس نہیں کیا جاتا وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ اداروں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں، جلد نتائج سامنے آجائیں گے۔ اور سیاست دان اتنا لڑتے ہیں کہ ایک کی چونچ اور ایک کی دم رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ایک پارٹی آئی ہوئی ہے جس نے ملک میں عذاب ڈالا ہوا ہے. لہذا پنجاب میں پرویزالہٰی چلے بھی جائیں ہماری حکومت آ بھی جائے تو سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو قبر میں ڈال دیا گیا، مائنس نہیں ہوئے۔ لہذا کسی کو پھانسی لگا کر ،جیلوں میں ڈال کر مائنس نہیں کیا جا سکتا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے گالف کلب کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون 9.8 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور ایکنک اس کی منظوری دے چکا ہے۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر قرض لے کر منصوبے لگانے کی بات ہر کوئی کرتا ہے۔ ملک میں اربوں ڈالر کا انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس پر کیا ڈلیوری ہے؟۔ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں چیف جسٹس نے دوران سماعت یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ چھٹیوں کے دوران سندھ میں ریل کا سفر کیا ہے۔ سندھ میں ریلوے لائنوں کے اطراف آج بھی سیلابی پانی کھڑا ہے۔ بارشیں گرمیوں میں ہوئی تھیں، پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا۔ ریلوے افسران نے بتایا کہ بلوچستان میں صورتحال سندھ سے بھی ابتر ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی سڑکوں پر ضمیمہ چھاپا تھا۔عالمی ضمیمے کا عنوان تھا ’’وہ سڑکیں جو کہیں نہیں جاتیں‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو یہ پرتعیش آسائشیں نہیں، پرفارمنس اور استعداد کار چاہیے۔ اربوں ڈالروں کے منصوبے لگانے سے عدالت امپریس نہیں ہوگی۔

  • عمران خان کی وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر گفتگو

    عمران خان کی وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر گفتگو

    لاہور: عمران خان نے وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات کی ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کی عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اور راسخ الٰہی سے ملاقات کے دوران کہا کہ 13 جماعتوں پر مشتمل حکومتی ٹولے نے چند ماہ کے اندر معیشت تباہ کر دی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔

    عمران خان مشکل میں پھنس گئے،پولی گرافک ٹیسٹ کی درخواست منظور

    عمران خان نے تمام معاملات باالخصوص آٹے کی صورتحال پر کھل کر گفتگو کی جب کہ پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کی حکمت عملی اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

    زمان پارک میں وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کی ڈائریکشن مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    عمران خان نے کہا کہ لاؤ لشکر سمیت جنیوا جاکر بھیک مانگتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی؟ معیشت کو سنبھالنے کے دعویدار آج خود اغیار کے پاؤں میں گرے ہوئے ہیں ٹولہ جینوا سے بھی خالی ہاتھ واپس لوٹے گا، آج معیشت نہ سنبھلی تو کل اس کا نقصان ریاست کو ہوگا-

    ملاقات کے دوران چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں آٹے کی سپلائی کو بہتر بنانے کیلئے سرکاری گندم کا کوٹہ دوگنا کر دیا ہے۔

    پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط بے حس ٹولے نے غریب آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، یہ لوگ عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے این آراو کے ذریعے اپنے آپ کو کلیئر کرانے میں لگے ہیں۔

    پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ:  شہزاد قریشی

    سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ اور یورپ سے لے کر سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت اپنی قوم اور اپنے ممالک کے لئےمستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی کے میدان میں اتر چکے ہیں سعودی عرب کا انحصار مستقبل میں صرف پٹرول اور ڈیزل پر نہیں ہوگا جبکہ روس اور یوکرائن کی جنگ کو لے کر یورپ مستقبل میں گیس اور پٹرول ڈیزل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ممالک کے شاندار مستقبل کے لئے بجلی پر انحصار کر کے گا۔

    اس سلسلے میں گھروں میں گیس کی جگہ الیکٹرانک سسٹم جبکہ گاڑیاں بھی الیکٹرانک سسٹم پر سڑکوں پر لانے کے لئے عملی طور پر کام شروع کردیا گیا ہے سعودی عرب کا وژن 2030 اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ سعودی عرب اپنے مستقبل کے لئے چین سمیت اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے صرف سیاسی رابطوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، تجارت اور دیگر شعبوں میں مذاکرات کر رہا ہے۔

    سعودی عرب جس کی ستر فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون کے ذریعے استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے سعودی عرب کے مستقبل کے لئے ترقی کے خواب کا بلاشبہ سہرا پرنس محمد بن سلیمان کو جاتا ہے۔ کاش ہمارے ریاستی ذمہ داران اور سیاستدان وطن عزیز کی ترقی اور پڑھے لکھے جوانوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔

    سیاستدان ایک دوسرے کی آڈیو، ویڈیو پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں ایک دوسرے کو غدار، کرپٹ، سیکورٹی رسک ثابت کرنے، حد یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معاشرے کے نوجوان بچوں اور بچیوں کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ایک دوسرے کی عورتوں کی آڈیو ، ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائی جا رہی ہے کیا یہ وطن عزیز اور عوام کا مقدر سنوار رہے ہیں؟ انتظامی افسران کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ ہر آنے والی حکومت کی غلامی اختیار کر لیتے ہیں یہی حال بیورو کریسی کا ہے۔

    یہی حال اعلیٰ پولیس افسران کا ہے۔ اقتدار اور ہوس اقتدار میں وطن عزیز اور نوجوان نسل کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں۔ دنیا اپنے اپنے مستقبل کے لئے اپنی عوام کے لئے منصوبے بنا رہی ہے ہم ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

    حکمرانوں، تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں کو بھی چاہئے کہ آپس کی سیاسی کھینچا تانی اور رسہ کشی کو ترک کر کے وطن عزیز میں سیاسی ہم آہنگی، کفایت شعاری، گڈگورننس پر توجہ دیں اور قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ختم کیا جائے۔ لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی جائیں جس سے عوام کو رہنمائی اور وطن عزیز کو استحکام کی امید لگے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    غالباً 31 اکتوبر 2018 کا دن تھا اور میرا فیملی ٹور تھا سوات کیلئےہم دو سگے بھائی اور دو کزن گاڑی میں بیٹھے اور انتہائی مشکلات کیساتھ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ انٹرچینج پہ پہنچے کیونکہ ہمارے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع ہو چکا تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر چکا اور جلاؤ گھیراؤ تک بات پہنچ چکی تھی-

    قصور سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے تک محض چار پولیس ناکے تھے مگر آج وہ پولیس ناکے تو نا تھے مگر کم و بیش 47 رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا راستہ گلیوں بازاروں کے بیچ سے طے کیا اور محض 50 منٹ کا راستہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا خیال یہی تھا کہ موٹر وے محفوظ ترین ٹریک ہے وہ بند نا ہوا ہو گا مگر جب انٹرچینج پہ پہنچے تو صورتحال انتہائی گھمبیر اور پریشان کن تھی جلاؤ گھیراؤ جاری تھا اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں-

    مسافر گاڑیوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے کیونکہ پیچھے کی جانب جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا کیونکہ شہر لاہور کی قسمت کہ زیادہ تر جلاو گھیراؤ یہی سے شروع ہوتا ہےیعنی ہمارے گلے میں وہ ہڈی پھنس چکی تھی جسے نا تو نگل سکتے تھےنا ہی اگلی رات 8 بجے موٹر وے پہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ تحفظ کا احساس ہوا-

    میں اپنی گاڑی سے نکل کر موٹر وے پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچا جہاں وائرلیس سیٹ پہ ہوئی گفتگو سے صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا جس سے پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی خیر اب تو سوائے صبر کے کچھ نا ہو سکتا تھارات تقریباً ایک بجے کے قریب پولیس وائرلیس سیٹ سے آواز سنی کہ 22 ونگ رینجرز از موونگ ٹورڈ بابو صابو انٹرچینج یعنی رینجر کی 22 ونگ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے موٹر وے پہ پہنچ رہی ہے یہ الفاظ سن کے دل کو قرار آیا کہ چلو اب بات بنے گی-

    خیر صبح فجر سے کچھ دیر پہلے رینجرز نے کنٹرول کرکے موٹر وے پولیس کو منتقل کیا تو موٹر وے پولیس نے سفر کی اجازت دی ہم جب بابو صابو انٹرچینج پہ پہنچے تو کلیجہ منہ کو آ گیا مسافر گاڑیوں،بسوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور گاڑیاں چیخ چیخ کہ بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب زور آزمائی ہوئی ہےموٹر وے پہ ایک جانب مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم بمعہ چنگچی رکشہ اور موٹر سائیکلیں بکھری ہوئی پڑی تھیں اور سڑک کے ایک جانب بہت سارے جوتے بھی جو کہ غالباً رینجرز کے پہنچنے پہ مظاہرین چھوڑ بھاگے تھے-

    ہم نے رک کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے بڑی سختی سے آگے بڑھنے کو کہا گجرانوالہ،و چکری انٹر چینج پہ بھی جلتی گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب غصہ نکلا ہے ہم نے برق رفتاری سے اپنا سفر جاری کیا اور مردان سے انٹرچینج لیا کیونکہ اس وقت سوات تک موٹر وے ابھی زیر تعمیر تھی-

    مردان شہر میں داخل ہوئے تو سارا شہر بند تھا مجبوراً گاڑی تخت بھائی شہر میں لے گئے جہاں تخت بھائی کے مین بازار کو بند کیا گیا تھا مجبوراً واپس مڑے اور تخت بھائی کے کھیتوں کھلیانوں سے سفر کرتے ہوئے مینگورہ ( سوات) شہر پہنچے اور ہلکی پھلکی کشیدگی کی بو پا کر گاڑی کالام کی جانب موڑ لی مگر زیادہ دیر ہونے کے باعث وادی بحرین میں قیام کیا صبح سویرے کالام کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ
    سوات میں برف باری شروع ہو چکی تھی اور کالام کا ٹمپریچر منفی 3 تک گر چکا تھا –

    تقریباً 40 کلومیٹر کی چڑھائی والا سفر طے کرکے ہم کالام پہنچے اور ہوٹل لے کر کالام ہوٹل کے ٹیرس پہ باربی کیو شروع کیا تاکہ تھکاوٹ بھی دور ہو اور گرمائش بھی ملےمیں نے ساتھیوں سے کہ کہا کہ نماز عشاء پڑھ لوں اور پھر آکر کر کھانا کھاؤں گا میں ہوٹل سے نکل کر کالام میں واقع کئی دہائیوں سال پہلے بنی تاریخی لکڑی سے بنی مسجد میں میں نماز پڑھنے چلا گیا جہاں مولانا سمیع الحق کی شہادت کی اطلاع ملی-

    مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر آنکھیں نمک ناک ہوئیں اور مجھے 2016 میں اسلام آباد کے ایک جلسے میں ان سے ہاتھ ملانے کا منظر یاد آ گیامیں نے بڑے پیار سے مولانا صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مولانا صاحب نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا تھا اور بلکل بھی احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک بہت بڑے عالم دین و سیاست دان ہیں-

    پورا صوبہ خیبرپختونخوا خاص کر مینگورہ سوات مکتبہ دیوبند کا گڑھ ہے سو مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ یہ گمان ہوا کہ اب یہاں بھی حالات کشیدہ ہونگے مگر بفضل ربی کوئی واقعہ پیش نا آیا-

    مولانا کی شہادت پہ میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ان کی شہادت سے قبل معروف سیاستدان و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفات پہ پاکستان کا برا حال کیا گیا تھا اور اب کی بار اگر مولانا سمیع الحق کی جگہ کوئی معروف سیاستدان ہوتا تو یقیناً ان کی وفات پہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے لیڈر کی ایک کال پہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اگر کوئی پارٹی کارکن حکم ربی سے طبعی موت بھی مر جائے تو اس پہ سیاست کرتے ہوئے ملک کے امن و امان کو برباد کرکے عوام کا نقصان کیا جاتا ہے –

    ماضی قریب و موجودہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا ہے اور مذہبی منافرت نے کم مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ کی چوتھی برسی پہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین-