Baaghi TV

Tag: شام

  • بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کی اہلیہ، برطانوی نژاد اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

    ترک اور عرب میڈیا کے مطابق اسماء الاسد اس وقت ماسکو میں خوش نہیں ہیں اور وہ لندن واپس جانا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کی درخواست کے ساتھ ساتھ ماسکو چھوڑنے کی خصوصی اجازت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ ان کی درخواست پر روسی حکام غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسماء کے پاس برطانیہ اور شام کی دوہری شہریت ہے، اور وہ لندن میں شامی والدین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 2000 میں شام گئی اور اسی سال 25 سال کی عمر میں بشار الاسد سے شادی کی تھی۔

    اگرچہ روس نے بشار الاسد کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کر لی ہے، لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو ماسکو چھوڑنے یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ روسی حکام نے بشار الاسد کی جائیداد اور رقم بھی ضبط کر لی ہے، جس میں 270 کلو سونا، 2 بلین ڈالر اور ماسکو میں 18 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔سعودی اور ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کو روس میں سیاسی پناہ نہیں دی گئی ہے اور ان کی درخواست کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہر الاسد اور اس کا خاندان اس وقت روس میں نظر بند ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بات کا غماز ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ روس میں سیاسی پناہ کی درخواستیں اور ان کے ساتھ جڑے مسائل عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور ان کے خاندان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسماء الاسد کی طرف سے طلاق کی درخواست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی نیت رکھتی ہیں، جس سے مزید سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

  • بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔

    انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تفصیل سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔سلیوان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے بجائے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی میں اضافے کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی پیداوار کے لیے ہے، مگر امریکہ اس دعوے سے مطمئن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا اور اس خدشے کو آج بھی برقرار رکھا ہے۔ جیک سلیوان نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہو گا۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایران کی جوہری صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور اس سے ایران کی دفاعی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔سلیوان نے مزید کہا کہ یہ صورت حال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک معاون قدم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کی کمزور پوزیشن عالمی سطح پر اس کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    جیک سلیوان نے شام میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کے زوال سے ایران کی علاقائی پوزیشن کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اس سے ایران کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کم ہوا ہے، جس کے باعث ایران کی حکمت عملی اور طاقت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے حوالے سے سخت نگرانی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    شام میں ملٹری آپریشنز کے محکمے کی جنرل کمان نے آج ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ اس نے اسعد حسن الشیبانی کو عبوری حکومت میں خارجہ امور کا عہدہ سونپا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق جنرل کمانڈ نے شام کی نئی حکومت میں مسٹراسعد حسن الشیبانی کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپنے کا اعلان کیا ہے”۔

    واضح رہے کہ الشیبانی کا تعلق بنی شیبان سے ہے وہ 1987ء میں الحسکہ گورنری میں پیدا ہوا ہوئے وہ اپنے خاندان کے ساتھ دمشق میں منتقل ہوئے جہاں انہوں نے 2009 میں دمشق یونیورسٹی سے آرٹس اینڈ ہیومینٹیز اور انگریزی زبان ادب میں گریجوایشن کی۔

    انہوں نے 2011ء میں شامی انقلاب کے آغاز سے ہی اس میں شمولیت اختیار کی شامی سالویشن گورنمنٹ کے قیام میں حصہ لیا اور سیاسی امور کے محکمے کی بنیاد رکھی انہوں انسانی ہمدردی کے میدان میں کام کیا اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور شمال مغربی شام میں انسانی ہمدردی کے کاموں میں سہولت فراہم کی۔

  • مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا،احمد الشرع

    مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا،احمد الشرع

    دمشق:شام کے نئے رہنما احمد الشرع نے کہا ہے کہ مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: شام میں جنرل کمان نے اعلان کیا کہ احمد الشرع نے فوجی گروپوں سے ملاقات کی اور عسکری ادارے کی شکل کے بارے میں بات چیت کی ہے، ان دھڑوں کو وزارت دفاع کے زیر انتظام نئی فوج کے ایک ادارے میں ضم کر دیا جائے گا۔

    قبل ازیں احمد الشرع نے کہا تھا کہ تمام دھڑوں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور شامی ریاست کے سوا کسی کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں ہوگا اور شام میں اب جبری بھرتی نہیں ہو گی، انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ شام میں تنخواہوں میں 400 فیصد اضافہ کرنے کے لیے کام کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق احمد الشرع نے زور دیا تھا کہ شام افغانستان میں تبدیل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا ملک جنگ سے تھک چکا ہے اور شام سے اس کے پڑوسیوں یا مغرب کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے انہوں نے دمشق پر سے تمام امریکی اور یورپی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ شام دوبارہ اٹھ سکے۔

    انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کی درجہ بندی کے مطابق ’’ھیئہ تحریر الشام‘‘ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے احمد الشرع نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کے کسی بھی جز کو خارج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں کے اتحاد پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ 27 نومبر کو شام میں مسلح گروپوں نے اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں اور پھر 8دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کو الٹ دیا تھا۔

  • امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر  10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    دمشق:امریکہ کے ایک سینئر سفارتکار نے اعلان کیا ہے کہ شام کے نئے رہنما احمد الشرع کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:الجزیرہ کے مطابق یہ اعلان ایک ایسی بغاوت کے بعد کیا گیا ہے جس نے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا محکمہ خارجہ کی معاون وزیر برائے مشرق قریب باربرا لیف اور دیگر امریکی حکام نے شامی دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا اور نئی شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، جس کے بعد امریکہ کی طرف سے مقرر کیا گیا انعام ہٹانے کا اعلان کیا گیا۔

    الجزیرہ کے مطابق یہ امریکی سفارتکاروں کا شام کا پہلا دورہ تھا، جو اس وقت کیا گیا جب بشار الاسد کو رواں ماہ کے شروع میں ھیئۃ تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) گروپ کی قیادت میں ہونے والے تیز حملے کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹایا گیا تھا، امریکہ نے 2018 میں ایچ ٹی ایس کو ایک "دہشت گرد” تنظیم قرار دیا تھا، الشرع جو ابو محمد الجولانی کے نام سے بھی مشہور ہیں، اس گروپ کے رہنما ہیں ، وہ پہلے القاعدہ سے وابستہ تھے۔

    باربرا لیف نے بتایا کہ الشرع کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مثبت پیغامات ملنے کے بعد انعام ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جن میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ "دہشت گرد” گروہ خطرہ پیدا نہیں کر سکیں گے انہوں نے کہا، "میں نے انہیں بتایا کہ ہم وہ انعام واپس لے رہے ہیں جو کئی سالوں سے نافذ العمل تھا۔”

    رپورٹ کے مطابق دمشق کے دورے میں لیف کے ساتھ سابق خصوصی ایلچی ڈینیئل روبنسٹین اور یرغمالیوں کے معاملات کے امریکی ایلچی راجر کارسٹنز بھی شامل تھے امریکی حکومت اور دیگر مغربی ممالک ایچ ٹی ایس کی "دہشت گرد” تنظیم کے طور پر درجہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، یہ شام کے نئے سیاسی ماحول کے پیش نظر ایک اہم اقدام ہو سکتا ہے۔

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • بشارالاسد حکومت گرانے کےپیچھے ترکی کا ہاتھ ہے، ٹرمپ

    بشارالاسد حکومت گرانے کےپیچھے ترکی کا ہاتھ ہے، ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے پیچھے ترکیہ کا ہاتھ ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شام کے مستقبل کی کنجی اب انقرہ کے پاس ہے.ترکیہ شام کو چاہتا تھا اور اردوان کی ذہانت نے اسے کامیاب بھی کردیا، ترکیہ نے جانی نقصان کے بغیر شام کو فتح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں کا کنٹرول ترکیہ کے پاس ہے اور یہ ٹھیک ہے. نومنتخب امریکی صدرٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترکیہ کی تعریف کی، ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ بڑی فوجی قوت ہے لیکن شام میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، ترکیہ شام کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ واضح رہے کہ شام میں شار الاسد کا طویل اقتدار گزشتہ ہفتے اختتام پذیرہو گیا تھا جب سابق شامی صدر استعفی دینے کے بعد ملک سے فرار ہوکر روس میں چلے گئے.

    ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں کرنے کی پابند ہوگی، ترامیم منظور

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

  • شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    سربراہ حیات تحریرالشام احمد الشارع نے شام میں تمام مسلح دھڑوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق احمد الشارع نے اعلان کیا ہے کہ شام میں تمام مسلح دھڑوں کو ختم کر دیا جائے گا اور صرف نئی شامی ریاستی فوج کو ہتھیار لے جانے کی اجازت ہو گی۔اسرائیلی حملوں پر ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو مداخلت کرنے اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ شام جلد ہی کسی بھی وقت اسرائیل کے ساتھ کسی تنازع میں جانے کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے۔اسرائیلی شام پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔ 8 دسمبر کو الاسد حکومت کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل نے ملک بھر میں فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔شدید فضائی حملے کر کے اسرائیل ملک کی فوجی صلاحیتوں کو کم کر رہا ہے لیکن خاص طور پر، وہ ملک کے فضائی دفاع اور فضائیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ نئی شامی انتظامیہ اسرائیلی حملوں اور جارحیت کے لیے انتہائی کمزور ہو جائے۔اسرائیل کے جاری فضائی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے جو 1974 میں شام اور اسرائیل کے درمیان طے پایا تھا۔

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

  • شام کے معزول صدر بشار الاسد کا ملک سے مفروری کے بعد پہلا بیان جاری

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کا ملک سے مفروری کے بعد پہلا بیان جاری

    ماسکو: شام کے معزول صدر بشار الاسد نے گزشتہ ہفتے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ بیان جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کے مطابق بشار الاسدنے اپنے بیان میں شام سے کسی "منصوبہ بند”روانگی کی تردید کی ہے،شام کے سابق مفرور صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ماسکو نے ان کی شام سے انخلا کی درخواست کی تھی۔

    یہ بیان شامی صدارت کے ٹیلیگرام چینل پر پیر کو ماسکو سے جاری ہوا ہے جس میں بشار الاسد نے کہا کہ انہیں 8 دسمبر کی شام حمیمیم بیس سے اس وقت روس منتقل کیا گیا جب اس پر ڈرون حملے ہو رہے تھے، روس نے ان کے انخلا کی درخواست کی تھی ، جب دہشت گردی پورے شام میں پھیل گئی اور بالآخر ہفتہ، 7 دسمبر 2024 کی شام دمشق تک پہنچ گئی، تو صدر کے انجام اور موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    بشار الاسد نے کہا کہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب جھوٹے بیانیے اور غلط معلومات کا سیلاب آیا ہوا تھا، جن کا مقصد بین الاقوامی دہشت گردی کو شام کی آزادی کی تحریک کے طور پر پیش کرنا تھا،شام سے میری روانگی نہ تو کسی منصوبہ بندی کے نتیجے میں تھی اور نہ ہی یہ لڑائی کے آخری لمحات میں ہوئی ماسکو نے 8 دسمبر، اتوار کی شام ہنگامی طور پر روس روانگی کی درخواست کی اس روز میں پہلے ہی لاذقیہ منتقل ہوچکا تھا،جب ایک ریاست دہشت گردی کا گڑھ بن جائے اور اس کے خلاف کچھ کرسکنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو اس کے بعد کوئی بھی پوزیشن بے معنی ہوتی ہے۔

    بشار الاسد نے انکشاف کیا کہ وہ 8 دسمبر کو دمشق سے اس وقت روانہ ہو گئے تھے جب اپوزیشن فورسز نے دارالحکومت میں پیش قدمی کی ان کا روس منتقل ہونا اس وقت ممکن ہوا جب لاذقیہ میں روس کے زیرِ کنٹرول حمیمیم ایئر بیس پر ڈرون حملے ہوئے بشارالاسد نے بتایا کہ انہوں نے دمشق سے فرار کے بعد لاذقیہ سے جنگی کارروائیوں کی نگرانی کی، لیکن تسلیم کیا کہ تمام فوجی پوزیشنز ختم ہو چکی تھیں۔

    بشار الاسد نے کہا کہ جب بیس چھوڑنے کا کوئی قابل عمل ذریعہ باقی نہ رہا، تو ماسکو نے بیس کی کمانڈ سے 8 دسمبر، اتوار کی شام فوری انخلا کے انتظامات کرنے کی درخواست کی یہ واقعہ دمشق کے سقوط اور آخری فوجی پوزیشنز کے خاتمے کے ایک دن بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں ریاست کے باقی تمام ادارے مفلوج ہو گئے،ان واقعات کے دوران میں نے کبھی استعفیٰ دینے یا پناہ لینے کا نہیں سوچا، نہ ہی کسی فرد یا جماعت کی طرف سے ایسا کوئی مشورہ دیا گیا واحد راستہ یہی تھا کہ دہشت گرد حملے کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے۔

    شامی سابق مفرور صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ بشارالاسد انتہائی خاموشی کے ساتھ دمشق سے فرار ہوئے انہیں روس کی مدد حاصل تھی اور انہوں نے اپنی روانگی سے پہلے اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں کو بھی اندھیرے میں رکھا وہ روس کے جہاز میں ماسکو کیلئے روانہ ہوئے ان کی روانگی کو خفیہ رکھنے کیلئے راستے میں طیارے کا ٹرانسپونڈر بھی بند کردیا گیا تھا تاکہ ان کا پتا نہ چلایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد اپنے والد کے بعد سن 2000 میں اقتدار میں آئے تھے، ان کے والد حافظ الاسد نے تقریباً تین دہائیوں تک شام پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کی کبھی ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے بشارالاسد کا اقتدار 8 دسمبر کو اس وقت ختم ہو گیا جب ایک تیز رفتار حملے کی وجہ سے ان کی حکومت کو دھچکا پہنچا یہ حملہ حیات تحریر الشام نامی گروپ، جو پہلے القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، اور اس کے اتحادی دھڑوں کی قیادت میں کیا گیا۔

  • سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی  کون؟

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کون؟

    دمشق: شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے پر عوامی سطح پر جشن منایا گیا جشن کی تقریب میں تحریرالشام کے رہنما محمد الجولانی نے شہریوں کے ساتھ سینکڑوں تصاویر بنوائیں تاہم ان کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی کی تصاویر نے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

    باغی ٹی وی : شام کے عوام نے جمعہ کے روز مقامی مسجد میں نماز کے بعد فتح کا جشن منایا اور مسجد کے قریب ایک بڑے چوک پر جمع ہوئے، تقریب میں محمد الجولانی بھی شریک ہوئے اور تقریب کے شرکا نے ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں، یوں تو محمد الجولانی نے سینکڑوں تصاویر بنوائی لیکن ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں انہیں ایک شامی لڑکی کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جب شامی لڑکی نے الجولانی سے تصویر بنوانے کی خواہش کی تو تحریر الشام کے رہنما محمد الجولانی نے لڑکی کی خواہش کا احترام کیا اور ساتھ ہی اانہوں نے لڑکی سے کہا کہ وہ اپنے بال ڈھانپ لے اور تب ہی تصویر بنوائے گا ، لڑکی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر وضاحت کی کہ الجولانی نے انہیں تصویر کے دوران ہی اپنے بال ڈھانپنے کو کہا تھا اس سے پہلے نہیں، بہت سی خواتین اور لڑکیوں نے حجاب کے بغیر فتح کے جشن میں شرکت کی اور انہوں نے ”آزادی دلانے“ پر باغیوں کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے محمد الجولانی کی سربراہی میں ہیئت تحریر الشام نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور وہ اب عوامی سطح پر نظر بھی آرہے ہیں ان کی موجودگی پر عوام نے خوشی کا اظہار کیا انٹرنیٹ پر محمد الجولانی کی شام کی خواتین کے ساتھ دیگر تصاویر بھی ہیں-