Baaghi TV

Tag: شام

  • شام میں ترکیے کا سفارت خانہ  12 سال بعد دوبارہ  فعال

    شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال

    دمشق: شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال ہو گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ہفتے کے روز ترکیے کے سفارتی مشن نے 12 سال کے وقفے کے بعد اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں اور ترکیے کا پرچم سفارتخانے پر لہرایا گیاسفارتی مشن شروع ہونے کے بعد ترکیے نے شام میں برہان کور اوغلو کو ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیے نے سابق صدر بشارالاسد حکومت کے خلاف 2011 میں مظاہرے کرنے والوں پر بدترین کریک ڈاؤن کے خلاف 2012 میں شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں روک دی تھیں جبکہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اب استنبول میں شامی قونصلیٹ جنرل نے بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں،گزشتہ دنوں شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے دارالحکومت دمشق پر کنٹرول اور شامی صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد ترکیہ میں شامی قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا تھا-

  • شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    دمشق: شام میں اپوزیشن فورسز ہیئت تحریر الشام اور اتحادی گروپوں کے سربراہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام ہونے والی تبدیلی خطے میں ایران کے خطرناک منصوبے کے خلاف بڑی کامیابی ہے،جبکہ یہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصو بہ بندی کا نتیجہ ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق احمد الشرع نے کہاکہ ایران کے منصوبے خطے کے عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوئے، ایرانی عوام سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،سابق صدر بشار الاسد نے منشیات کی پیداوار میں عالمی ریکارڈ قائم کیا، روس بشارالاسد کی گرتی ہوئی ساکھ سے بیزار ہونےلگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ خط وکتابت کےذریعے روس کےساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی ہےاور روس کو نئےسرے سے تعلقا ت قائم کرنےکا موقع فراہم کیا ہے،موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی بلکہ کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، شام کےعلاقوں اور شہرو ں پر اپوزیشن فورسز کے قبضوں کےدوران کوئی نقل مکانی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل ایران کے بہانے شام میں مداخلت کرتا آیا ہے، اب شام میں غیرملکی مداخلت کا کوئی وجود نہیں رہا، اسرائیل کیلئے غیرملکی مداخلت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے دعویٰ کیا تھاکہ شام میں بشارالاسد حکومت کاخاتمہ امریکا، اسرائیل اور شام کے پڑوسی ملک کے منصوبےکا نتیجہ ہےشام میں باغی گروپوں کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں ،شام کے ہر باغی گروپ کے اپنے علیحدہ مقاصد اور ایجنڈا ہے، وقت ثابت کرےگا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہيں ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، فتنہ داعش کے دوران ایران کی شام میں موجودگی کا مقصد مقدس مقامات کا تحفظ تھا، ایران کی موجودگی کا مقصد امن قائم کرنے میں شامی حکومت کی مدد کرنا تھا۔

  • اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے تمام فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کر دیا تھا، تاکہ وہ ان اثاثوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں آنے سے بچا سکے۔

    اسرائیل کی فوج نے شام میں تقریباً 500 مقامات پر بمباری کی، شام کی بحریہ کو تباہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کی معروف سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا سب سے اہم اور دیرپا اقدام شام کے بلند ترین پہاڑ، جبل حرمون کی چوٹی پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کا قبضہ عارضی ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہر ایفرایم انبار، جو یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جبل حرمون علاقے کا سب سے بلند مقام ہے، جو لبنان، شام اور اسرائیل پر نظر رکھتا ہے۔ انبار نے کہا، "یہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ پہاڑوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔”

    جبل حرمون کی چوٹی شام میں واقع ہے اور یہ ایک بفر زون میں آتا تھا، جو اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان 50 سال تک تقسیم کا باعث رہا۔ تاہم، پچھلے اتوار تک یہ بفر زون غیر فوجی تھا اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جو دنیا کی سب سے بلند مستقل نگرانی کے مقام پر تعینات تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل نے جمعہ کے روز فوج کو حکم دیا کہ وہ موسم سرما کی سختیوں کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا، "شام کی صورت حال کے پیش نظر جبل حرمون کی چوٹی پر ہمارے کنٹرول کو برقرار رکھنا ہماری سیکیورٹی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔” اسرائیلی فوج جبل حرمون کی چوٹی سے آگے بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور بقااسم تک پہنچ چکی ہے، جو دمشق سے تقریباً 25 کلومیٹر (15.5 میل) دور ہے، تاہم یہ دعویٰ وائس آف دی کیپیٹل، ایک شامی کارکن گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سی این این نے اس دعویٰ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس ہفتے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی افواج "دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔”

    اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا، جو جبل حرمون کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تب سے اس پر قابض ہے۔ شام نے 1973 کی جنگ میں اس علاقے کو واپس لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل نے 1981 میں گولان کو اپنی سرزمین میں ضم کر لیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ نے گولان پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا۔

    اسرائیل نے دہائیوں تک جبل حرمون کے نچلے ڈھلوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہے اور یہاں ایک اسکی ریزورٹ بھی قائم کیا ہے، تاہم چوٹی ہمیشہ شام کے اختیار میں رہی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔”

    جبل حرمون کی چوٹی اسرائیل کے لیے ایک زبردست اثاثہ ہے۔ یہ 2814 میٹر (9232 فٹ) بلند ہے اور یہ نہ صرف اسرائیل یا شام کا سب سے بلند مقام ہے بلکہ لبنان کے ایک پہاڑ سے بھی اونچا ہے۔

    ایفرایم انبار نے 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں جبل حرمون کی کئی اہمیتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پہاڑ اسرائیل کو شام کی گہرائیوں میں الیکٹرانک نگرانی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو بروقت خبردار کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی والے متبادل جیسے فضائی نگرانی کے آلات، پہاڑ پر نصب تنصیبات کی مانند مؤثر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں بڑے اینٹینا نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دشمن کی زمین سے مار کرنے والی میزائلوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف اور شام کی مستقبل کی صورتحال

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے نئے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے "ہاتھ بڑھا رہا ہے”۔ لیکن 7 اکتوبر کے بعد کے عالمی منظر نامے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسرائیل زیو نے کہا، "یہ زیادہ تر ہمارے لیے تسلی کی بات ہے۔ ہم نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیمیں فوجی سازوسامان پر قابض ہو جاتی ہیں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔”نیتن یاہو نے کہا کہ جبل حرمون پر اسرائیل کا قبضہ عارضی ہے اور اسرائیل کبھی بھی جہادی گروپوں کو اس خلا کو پُر کرنے اور گولان کی بلندیوں پر اسرائیلی کمیونٹیز کو 7 اکتوبر جیسے حملوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایسا کوئی فوجی دستہ قائم ہونا ضروری ہے جو 1974 کے معاہدے پر عمل پیرا ہو اور جو سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ اسرائیل کب اس علاقے سے پیچھے ہٹے گا۔ ایفرایم انبار کے مطابق، "یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ فوج وہاں رہنا پسند کرے گی۔”

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

  • بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشارالاسد کے ماسکو فرار ہونے کے بعد روس نے شام کو گندم کی سپلائی معطل کردی۔

    روسی اور شامی ذرائع نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شام کو روسی گندم کی سپلائی نئی حکومت کے بارے میں غیریقینی صورتحال اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے معطل کر دی گئی ہے۔شام کے لیے روسی گندم لے جانے والے دو جہاز اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ سکے۔روس، دنیا کا سب سے بڑا گندم برآمد کرنے والا ملک اور بشار الاسد کا کٹر حامی تھا اور اس نے شام اور روس دونوں پر عائد مغربی پابندیوں کو ناکام بناتے ہوئے پیچیدہ مالیاتی اور لاجسٹک انتظامات کے ذریعے شام کو گندم فراہم کی تھی۔حکومت کے قریبی ایک روسی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ شام کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے کیونکہ برآمد کنندگان اس بات پر غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں کہ دمشق میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد شام کی جانب سے گندم کی درآمد کا انتظام کون کرے گا۔شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بحری جہاز، میخائل نیناشیف، شام کے ساحل پر لنگر انداز ہے، جب کہ دوسرا، الفا ہرمیس، کئی دنوں تک شام کے ساحل سے دور رہنے کے بعد مصری بندرگاہ اسکندریہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    کراچی فراہمی و نکاسی آب کیلئے 24 کروڑ ڈالر منظور

    محض شک کے بنا پرشوہر نے حاملہ بیوی کو نہر میں پھینک دیا

  • دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

    شام میں جاری بغاوت کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، دہلی میں واقع شام کے سفارتخانے نے اپنا پرانا قومی پرچم اتار کر باغیوں کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اس اقدام کو ایک اہم سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں موجود شام کے سفارتکاروں نے باغیوں کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔

    شام کے نئے جھنڈے میں سبز، سفید، سیاہ اور سرخ رنگ شامل ہیں، جو نہ صرف امید، آزادی، امن، جدوجہد اور انقلاب کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس پر موجود تین سرخ ستارے شام کی انقلابی تحریک کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ یہ جھنڈا اس بات کی علامت ہے کہ شام میں جاری سیاسی تبدیلی اور باغیوں کی حکومت کی تسلیمیت میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔پرانے قومی پرچم میں دو سبز ستارے تھے جو شام اور مصر کے ماضی کے اتحاد کی علامت تھے۔ تاہم، اب جو نیا جھنڈا اپنایا گیا ہے، وہ شام کی انقلابی تحریک اور اس کے نئے سیاسی رخ کو ظاہر کرتا ہے۔

    شام کے مختلف شہروں میں بھی باغیوں کی حکومت کی جانب سے نئے پرچم کو اپنانا شروع کر دیا گیا ہے۔ حمص، ادلب، حلب، حمہ، درعا اور دمشق جیسے اہم شہروں میں باغیوں نے اپنے نئے جھنڈے لہرا دئیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی دارالحکومت دمشق میں آئی ہے، جہاں باغیوں نے 11 دن کی سخت لڑائی کے بعد قبضہ مکمل کیا، جس کے بعد شام کے صدر بشار الاسد ملک چھوڑ کر روس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

    شام میں اس سیاسی تبدیلی کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔ برلن، استنبول اور ایتھنز جیسے شہروں میں باغیوں کے حامیوں نے نئے جھنڈے کو لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ مختلف ممالک، خاص طور پر ہندوستان جیسے بڑے ممالک، اب اس سیاسی تبدیلی کے بعد شام کی حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کیسے ترتیب دیں گے۔ہندوستان کے لیے یہ نیا سیاسی منظرنامہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اس کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں۔ تاہم، اب جب کہ باغیوں کی حکومت نے نئے جھنڈے کو اپنانا شروع کر دیا ہے، ہندوستان کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس نئی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا یا پھر اس کی پالیسی میں تبدیلی لائے گا۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

  • اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل نے شام میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانے کے لیے حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    اسرائیل کی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے کمزور ہونے اور شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے لیے اسرائیلی فضائیہ اپنی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے ،اسرائیلی اخبار کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اسرائیل مزید اقدامات کرے گا۔ فوجی حکام نے کہا کہ اسرائیل ایران کے جوہری منصوبے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ایران کو ایک جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھا رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے اسرائیل کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ نے شام میں فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے شام میں مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں شام کے فضائی دفاعی نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ایران کے حامیوں، خاص طور پر لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ ایران ایک جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ایران کو اس پروگرام میں کامیابی حاصل ہوئی تو اس سے پورے خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنا اسرائیل کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اسرائیل نے بارہا یہ کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام رہی تو اسرائیل کو خود ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹریش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حملوں کو فوراً روک دے اور شام سے باہر نکل جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور بے قابو بنا سکتی ہیں اور اس کے انسانی بحران کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔دوسری جانب، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اسرائیل کے دفاعی اقدامات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے جو اقدامات درکار ہوں، وہ اٹھانے کا حق ہے، اور امریکہ اسرائیل کے اس حق کی حمایت کرتا ہے۔

    اسرائیل کی ممکنہ حملے کی شدت کا انحصار ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت اور اسرائیل کی عسکری حکمت عملی پر ہوگا۔ اسرائیل نے پہلے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں، اور حالیہ دنوں میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی فضائیہ کے مطابق، اس بار ایران کے جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ برسوں میں کئی بار بڑھ چکی ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیتا رہتا ہے۔ ایران بھی اسرائیل کے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دے چکا ہے اور بارہا اسرائیل کو دھمکی دے چکا ہے کہ وہ اس کی جوہری صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب دے گا۔

    اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، تو اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری میں اس حملے پر شدید ردعمل آ سکتا ہے، اور اس سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود سیاسی اور فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اس صورتحال میں مداخلت کر سکتے ہیں تاکہ تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

  • شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے،چارٹرڈ طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، پاکستان پہنچنے پر وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستانی شہریوں کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو خیریت سے ملک واپس آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی پر لبنان کے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لایا جائے.شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا.شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں. شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی.حکومت نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے میں معلوماتی ڈیسک اور رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کیا.وطن واپسی پر تمام شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے.امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے تک کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانے کا معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہے گا.اللہ کا شکر ہے کہ شام سے طیارہ باحفاظت پاکستان پہنچ چکا ہے.حکومت کا یہ انتظام اس جذبہ کی علامت ہے کہ پاکستانی جہاں بھی مشکل میں ہوں وہ تنہا نہیں.پاکستانی قوم کی خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں.این ڈی ایم اے اور پاکستان کے سفارتخانوں نے انتھک کام کیا،

    شام میں پھنسے تین سو اٹھارہ پاکستانیوں کو بیروت سے چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیراعظم سے رابطہ کرکے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کی اپیل کی تھی جس پر لبنان نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کیے ،ذرائع کے مطابق ان شہریوں کو بذریعہ سڑک شام سے لبنان پہنچایا گیا، جہاں سے آج انہيں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے باحفاظت انخلاء پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے پرعزم ہے۔

  • شام سے 318 پاکستانیوں کو لے کر خصوصی طیارہ وطن روانہ

    شام سے 318 پاکستانیوں کو لے کر خصوصی طیارہ وطن روانہ

    شام سے بیروت پہنچنے والے 318 پاکستانیوں کو لے کر خصوصی طیارہ وطن روانہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق بیروت ایئرپورٹ پرپاکستانی سفیر نے طیارے کو الوداع کہا،پاکستانی سفارت خانہ بیروت نے پاکستانیوں کے ویزے لگوائے ، بیروت آنے پر ان کی رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات بھی کیے گئے تھے پاکستانیوں کو واپس لانے والا خصوصی طیارہ رات 2 بجے اسلام آباد پہنچے گا۔

    شام میں باغیوں کی جانب سے بشارالاسد کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد سےپروازیں منسوخ ہونے سے سیکڑوں پاکستانی وہاں پھنس گئے ، جن کے انخلا کی کوششیش کی جا رہی ہیں۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے شام میں پھنسے پاکستانیوں کےمحفوظ انخلاء کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں وزیراعظم نے حکام کو شہریوں کے محفوظ انخلاء کی ہدایت کی تھی،وزیراعظم نے دمشق میں پاکستانی سفارتخانہ کو معلوماتی ڈیسک اور پاکستانیوں سے رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    حکام کے مطابق اس وقت شام میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہری موجود ہیں جن میں سے 260 صرف زائرین ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے لبنان کےوزیر اعظم نجیب میقاتی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھااور ان سے بیروت کے راستے شام میں پھنسے پاکستانی شہریوں کے فوری انخلا میں سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

  • اسرائیل کے شامی فوجی اہداف  پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کی جانب سے شام پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس میں شامی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں شام میں مختلف اسٹریٹیجک فوجی مقامات پر 480 فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے شامی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں اسرائیل نے خاص طور پر اسٹریٹیجک فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے مشرق میں واقع بفر زون میں فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بفر زون میں اپنے فوجی بھیج کر شام کے 70 سے 80 فیصد اسٹریٹیجک فوجی اثاثوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل نے شام کے ساحلی شہر البیضا اور لطاکیہ بندرگاہ پر بھی حملے کیے ہیں، جہاں 15 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے دمشق اور دیگر اہم شہروں میں ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات کو بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جس سے شام کی عسکری صلاحیتوں پر مزید ضرب لگائی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ سے لے کر شمالی شام تک ایک "گریٹر اسرائیل” منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اسرائیل کی موجودہ کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے اسرائیلی حملوں کو شام-اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے شام کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور یہ کہ ان حملوں کی شدت سے شام کے ساتھ موجود امن معاہدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔روسی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرے اور شام میں جاری جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔پاکستان سمیت دیگر عرب ممالک نے بھی اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس حملے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنے جارحانہ رویے کو فوری طور پر روکنے اور علاقائی امن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

  • اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی  اہم  دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    دمشق: اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کے اہم اوراسٹریٹیجک دفاعی تنصیبات مکمل تباہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق شام کےخلاف اسرائیلی دہشت گردی انتہا کوپہنچ گئی، غاصب صیہونی افواج نے گذشتہ دو دنوں کے دوران شام کے تقریباً تمام فوجی اور حساس مراکز پر حملے کئے ان حملوں کا مقصد شام کی فوجی اور اسٹریٹجک صلاحیت کو ختم کرنا تھا جن میں فضائی اڈے، فوجی تحقیقاتی مراکز، بحری تنصیبات اور اسلحے کے ذخائر شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق صہیونی طیاروں نے 2روزمیں480سے زائد حملے کئے ، شام کے بری ، حملوں میں بحری اور فضائی اڈے مکمل تباہ ہوگئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے شام کی نئی حکومت کو دھمکی دی کہ ایران کو تنظیم نو کی اجازت دی تو طاقتور ردعمل دیں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شام کے سترفیصد حصے پر مسلح باغی گروپ قابض ہوچکے ہیں صرف بیس فیصد علاقہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے زیراثرہے الاذقیہ اور طرطوس میں ابھی تک روسی فوجی اڈے قائم ہیں، نگران وزیراعظم محمد البشیر نے بیرون ملک موجود شامی شہریوں سے وطن واپسی کی اپیل کردی ، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے مطالبہ کیا نئی حکومت کوکیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنا چاہیے، شام میں جہاں بھی کیمیائی ہتھیار ملیں، شام کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا خاتمہ کرے اور ان علاقوں کو کنٹرول میں لے جہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔’

    اس سے پہلے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ شام کی اگلی حکومت شام کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ بننے دے۔ نیز یہ بھی یقینی بنائے کہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار کا جہاں کہیں بھی ذخیرہ ہو اسے تباہ کرے۔

    واضح رہے ‘ھیتہ التحریر الشام’ کی مسلح فورسز نے اتوار کے روز بشار الاسد کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد محمد البشیر کے زیر قیادت ایک نئی عبوری حکومت کے قیام کا منگل کے روز اعلان کیا ہے۔