Baaghi TV

Tag: شام

  • محمد البشیر شام کے نگران وزیر اعظم مقرر  ہو گئے

    محمد البشیر شام کے نگران وزیر اعظم مقرر ہو گئے

    محمد البشیر کو یکم مارچ 2025 تک باضابطہ طور پر شام کی عبوری حکومت کا نگران وزیر اعظم مقرر کردیا گیا۔

    العربیہ کی رپورٹ مطابق یہ بات شامی مسلح حزب اختلاف کے آپریشنز کے کمانڈر احمد الشرع عرف ابو محمد الجولانی، وزیراعظم محمد الجلالی اور سالویشن گورنمنٹ کے سربراہ محمد البشیر کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کے بعد سامنے آئی تھی جس کا مقصد اقتدار کی منتقلی کے انتظامات کا تعین کرنا اور شام کو افراتفری سے بچانا تھا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نگران وزیراعظم مقرر کیے جانے کی تصدیق خود انہوں نے ٹیلیویژن پر نشر اپنے ایک بیان میں کی۔قبل ازیں شام میں ملٹری آپریشنز ڈپارٹمنٹ کے کمانڈر احمد الشرع نے محمد البشیر سے ملاقات کی، اس دوران یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ محمد البشیر کو شام میں عبوری حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔

    محمد البشیر کا تعارف ؟
    محمد البشیر نے 2007 میں حلب یونیورسٹی سے شعبہ مواصلات میں الیکٹریکل اور الیکٹرانک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، انہوں نے 2011 میں شامی گیس کمپنی سے منسلک گیس پلانٹ میں پریزیشن انسٹرومینٹیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر کام کیا، وہ ڈھائی سال وزارت اوقاف میں تعلیم، تربیت و رہنمائی میں امور شریعہ کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔سالویشن حکومت میں ان کے پروفائل کے مطابق محمد البشیر نے 2021 میں ’ادلب‘ یونیورسٹی سے شریعہ اور قانون میں ڈگری حاصل کی، منصوبہ بندی اور انتظامی تنظیم کے اصولوں میں سرٹیفکیٹ حاصل کیا، محمد البشیر 2022 اور 2023 میں ترقی اور انسانی امور کے وزیر رہے، وہ 1983 میں ادلب گورنری کے جنوب میں جبل الزاویہ میں پیدا ہوئے تھے۔دریں اثنا، میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ باغیوں کے سربراہ احمد الشرع عرف ابو محمد الجولانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت میں شامل اہم عہدیداروں کا بے گناہ قیدیوں پر انسانیت سوز تشدد اور قتل عام کرنے پر جنگی جرائم میں ٹرائل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہم ایسے لوگوں کو انعامات دیں گے، جو شام کی سابق انتظامیہ میں شامل ایسے فوجی اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی معلومات فراہم کریں گے، جو شامی عوام کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

    چیمپئنزٹرافی کا شیڈول تیار، ایک سیمی فائنل دبئی میں ہوگا

    پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے،خواجہ آصف

  • بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ اور یورپ کی تباہی،بابا وانگا کی  شام کے حوالے سے بڑی پیشگوئی

    بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ اور یورپ کی تباہی،بابا وانگا کی شام کے حوالے سے بڑی پیشگوئی

    عالمی شہرت یافتہ نابینا نجومی خاتون آنجہانی بابا وانگا کی متعدد پیشن گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں اور شام کے حوالے سے بھی انھوں نے ایک پیشگوئی تھی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بابا وانگا کی پیشن گوئی کی تھی کہ بڑی جنگ کے نتیجے میں 2024 اور 2025 میں شام اور پھر مغرب میں تباہی ہوگی، بابا وانگا نے کہا تھا کہ شام فتح کے دہانے پر ہوگا لیکن فاتح کوئی ایک نہیں ہوگا، تیسری جنگ عظیم بھی چھڑ سکتی ہے۔

    نابینا نجومی خاتون کی پیشن گوئی کے مطابق جنگ عظیم کے باعث 2025 تک براعظم کی بڑی آبادی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی جب کہ 2043 تک یورپ کی حکمرانی مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوگی، بابا وانگا نے یہ پیش گوئی بھی کر رکھی ہے 2025 میں کائنات میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوگا جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، دنیا کا خاتمہ 2025 سے شروع ہوجائے گا لیکن انسانیت 5079 تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی۔

  • روس میں الاسد کی نئی زندگی،ماسکو میں کتنی جائیدادیں خریدیں؟

    روس میں الاسد کی نئی زندگی،ماسکو میں کتنی جائیدادیں خریدیں؟

    ماسکو: شامی صدر اسد، ان کی برطانوی اہلیہ اور ان کے تین بالغ بچے اپنے شامی محلات کو چھوڑ گئے ہیں ولادیمیر پوتن کی طرف سے سیاسی پناہ ملنے کے بعد روس میں نئی ​​زندگی کا آغاز کریں گے۔

    باغی ٹی وی: شام کے دارالحکومت دمشق پر اپوزیشن فورسز کے قبضے سے قبل ہی سابق صدر بشار الاسد اپنے خاندان کے ساتھ روس فرار ہوگئے تھےاس منتقلی کے بعد شام پر الاسد خاندان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا، بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے پر شامی عوام کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا، اب بشار الاسد برطانوی اہلیہ اور 3 بچوں کے ساتھ روس میں سیاسی پناہ لے کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

    ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کی بیٹی اسما الاسد نے صدر بشار الاسد سے 2000 میں شادی کی تھی، اس جوڑے کی 3 اولادیں ہیں، بشارالاسد کی اہلیہ نے ڈکٹیٹر شوہر کے دور حکومت میں عیش وعشرت بھری زندگی گزاری، اسماا لاسد نے اپنے شوہر کے دور حکومت میں گھریلو اشیاء اور کپڑوں پر لاکھوں ڈالر اڑائے
    syria
    امریکی محکمہ خارجہ کا تخمینہ ہے کہہ اس خاندان کی مجموعی دولت کی مالیت 2 بلین ڈالر ہے،جس میں ان کے بیشتر اکاؤنٹس، شیل کمپنیز اور آف شور ٹیکس ہیونز سمیت رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو شامل ہیں،اب امکان ہے کہ بشارالاسد اپنی روس منتقلی کے بعد عیش وعشر ت بھری زندگی گزارنے کیلئے ان اثاثوں کو استعمال کریں گے۔

    ڈیلی میل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشار الاسد نے حال ہی میں 20 اپارٹمنٹس خریدے ہیں جن کی مالیت 30ملین پاؤنڈ سے زائد ہے،جو اس قبیلے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر روس کی حیثیت کو واضح کرتی ہے-

    کریملن نے آج تصدیق کی ہے کہ اس خاندان کو پوٹن کے براہ راست حکم پر سیاسی پناہ دی گئی تھی ماسکو نے مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا، صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے آج نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ ہم اسد کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے، مسز اسد کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی اور دو بیٹوں کے ساتھ اپنے شوہر کے شام سے فرار ہونے سے کچھ دن پہلے ماسکو پہنچی تھیں۔

  • شام: جنگی جرائم میں ملوث افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات کا اعلان

    شام: جنگی جرائم میں ملوث افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات کا اعلان

    ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث سینئر فوجی اور سکیورٹی افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات دیئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: شام کے باغی گروہ ہیئت تحریر الشام نے سابق شامی صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں کام کرنے والے ان عہدیداروں کی فہرست تیار کرنے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے بشار الاسد کے مخالفین پر ہونے والے تشدد میں ملوث تھے یا جنہوں نے اس عمل کی نگرانی کی تھی۔

    ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے کہا کہ وہ تشدد کرنے والوں کے نام شائع کر کے منظر عام پر لائیں گے اور دوسرے ممالک فرار ہونے والوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا جائے گاجنگی جرائم میں ملوث سینئر فوجی اور سکیورٹی افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات دیئے جائیں گے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے شامی کمیشن کے کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ بشار الاسد کے حراستی مراکز کے حالات کو ظاہر کرنے والی فوٹیج اور تصاویر تکلیف دہ تو ہیں مگر حیران کر دینے والی نہیں ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے لینیا آرویڈسن نے بتایا کہ کہ اقوام متحدہ کی ٹیمیں 2011 سے شام کے حراستی مراکز سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے میں مصروف عمل ہیں اور سابق قیدیوں سے بات چیت بھی جاری ہے لیکن انھیں اب اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیر کے روز ہی ان مراکز تک رسائی حاصل ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ کھڑکیوں کے بغیر ان زیر زمین سیلز یا کوٹھڑیوں کو دیکھنا، جہاں لوگوں نے سورج کی روشنی کے بغیر برسوں اور دہائیاں گزاری ہیں انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ہم نے جن حالات کے بارے میں سنا تھا وہ واقعی اس سے مماثلت رکھتے ہیں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ذریعے ان سب کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششوں کو ’ویٹو‘ کیا گیا تھا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پاس شام میں مداخلت یا وہاں اپنے لوگوں کو بھیجنے کا اختیار نہیں، تاہم آرویڈسن نے تجویز دی کہ مناظر سامنے آنے کے بعد انصاف ہونا چاہیے شام میں ایک نئے دن کا آغاز ہوا اور وہ راستے بھی دکھائی دینے لگنے ہیں کہ جن تک پہنچنا 2011 کے بعد سے ناممکن تھا۔

  • ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اسرائیلی حملوں اور گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کے قبضے کی توسیع کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔

    تہران کی جانب سے "جارحیت کو روکنے” اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانے کا یہ مطالبہ اس کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شام کی سرزمین میں ایک "سیکیورٹی زون” قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا گولان کی بلندیوں میں اقدام "مقبوضہ رژیم کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ رویے کی علامت ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قانونی اصولوں اور ضوابط کی بے حرمتی ہے۔”

    اسرائیل نے 1967 میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ یہ خطہ شام کی سرزمین تھا جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلا جنگی تصادم ہو سکتا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 7 اکتوبر 2023 کو ایران کے حامی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات لیے جائیں،وزیراعظم

    شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات لیے جائیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت شام کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانیوں کے انخلاء کے حوالے سے اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف نے شام سے وطن واپسی کے خواہاں پاکستانیوں کے بذریعہ ہمسایہ ممالک جلد از جلد محفوظ انخلاء کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات لیے جائیں،شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، وزیراعظم نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کو معلوماتی ڈیسک اور پاکستانیوں سے رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک دفتر خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور شام اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہیں، ملاقات میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    جوبائیڈن کا شام میں 2012 سے قید صحافی کو واپس لانے کا اعلان

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • روس اور ایران دونوں  اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    روس اور ایران دونوں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "بشار الاسد اپنے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور اس موقع پر روس کی قیادت میں ولادی میر پوتن نے ان کی حفاظت کی تھی۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "بشار الاسد نے شامی صدر کے طور پر استعفیٰ دینے کے بعد شام چھوڑا۔” ان کا یہ بیان روسی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد آیا کہ بشار الاسد صدارت سے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے روسی فوج کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور اب وہ شام میں بشار الاسد کی حفاظت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔” ان کا کہنا تھا کہ "روس اور ایران دونوں ہی اس وقت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ہیں، اور ان دونوں ممالک کی شام میں موجودگی کی اہمیت بھی ختم ہو گئی ہے۔”ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "یوکرین کی جنگ نے روس کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب اپنے پڑوسی ملک کی جنگ میں شامل ہو کر اپنا اثر و رسوخ شام میں برقرار نہیں رکھ سکتا۔” روسی فوجیوں کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی تعداد کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "یوکرین میں جنگ کے دوران چھ لاکھ روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس کا اثر روس کی شام میں موجودگی پر بھی پڑا ہے۔”

    ٹرمپ نے اس موقع پر یوکرین کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ "روس کی موجودہ کمزوری کے پیش نظر فوری طور پر یوکرین میں جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پوتن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ چین بھی اس معاملے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔”

    دوسری جانب پاکستان کی سینئر سفارتکار سفیر ملیحہ لودھی نے باغیوں کے دمشق پر قبضے کو "سیاسی زلزلہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دمشق پر باغیوں کا قبضہ شام کے اندرونی حالات میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، اور اس سے پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔”

  • صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    اسرائیل نے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کی گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون پر قبضہ کر لیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فورسز کو حکم دیا کہ وہ شام کے ساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے ذریعے قائم کیے گئے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک بفر زون پر "قبضہ” کر لیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ دہائیوں پرانا معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور شامی فوجیوں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑ دی ہیں جس سے اسرائیلی قبضے کی ضرورت ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف بھی فوج بڑھا دی اور اسرائیل فوج مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف باڑ لگانے میں مصروف ہے۔شامی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل خانہ جنگی کافائدہ اٹھا کر شامی علاقوں پر قبضہ چاہتا ہے۔باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

  • دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    شام کے دارالحکومت دمشق میں مشتعل ہجوم نے ایرانی سفارتخانے پر حملہ کر دیا۔

    ایرانی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں مشتعل ہجوم نے ایرانی سفارتخانے پر حملہ کیا۔ انہوں نے حسن نصر اللہ اور قاسم سلیمانی کے پوسٹرز پھاڑ دیے۔ایرانی میڈیا کےمطابق مشتعل افراد نےسفارتخانےمیں توڑ پھوڑ بھی کی۔دوسری جانب اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دمشق میں ایرانی سفارتخانہ خالی کر کے عملہ لبنان منتقل کر دیا۔شام میں گزشتہ ہفتے باغی مسلح گروپوں نے دھاوا بولا تھا اور وہ اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے اب تک کئی شہروں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ حالیہ شورش کے دوران اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق اور تین لاکھ شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ باغی مسلح گروپ کے بڑھتے غلبے کے بعد شامی صدر بشار الاسد ملک سے فرار ہوگئے ہیں جب کہ شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے ملک میں ہی رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہ اہے کہ وہ بشار الاسد کے فرار کے باوجود دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔

  • شام میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سہولت کیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال

    شام میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سہولت کیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال

    اسلام آباد: شام میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر وزارت خارجہ نے شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :شام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ دمشق میں پاکستان کا سفارتی عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے، پاکستان انٹرنیشنل اسکول کے اساتذہ اور عملہ بھی محفوظ ہے،حکام نے شام میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، اہلخانہ فون نمبر یا ای میل کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں شام میں 1200 پاکستانی ہیں، تمام پاکستانی محفوظ ہیں اور دمشق سفارتخانہ سے رابطے میں ہیں، پاکستان میں رابطے کے لیے درج ذیل فون نمبر: 051-9207887 اور ای میل cmu1@mofa.gov.pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    ترجمان کے مطابق دمشق میں پاکستانی سفارتخانہ شام میں موجود پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے شام میں رابطے کے لیے درج ذیل فون نمبر/واٹس ایپ +963987127822، +963990138972 اور ای میل parepdamascus@mofa.gov.pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد باغی ملیشیا حیات التحریر الشام نے سرکاری عمارتوں اور ائیر پورٹس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، ائیر پورٹ کی بندش کے باعث شام میں تقریباً 250 پاکستانی زائرین پھنس کر رہ گئے ہیں، ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے عراق اور شام کا سفر کرتے ہیں۔