Baaghi TV

Tag: شام

  • روس میں الاسد کی نئی زندگی،ماسکو میں کتنی جائیدادیں خریدیں؟

    روس میں الاسد کی نئی زندگی،ماسکو میں کتنی جائیدادیں خریدیں؟

    ماسکو: شامی صدر اسد، ان کی برطانوی اہلیہ اور ان کے تین بالغ بچے اپنے شامی محلات کو چھوڑ گئے ہیں ولادیمیر پوتن کی طرف سے سیاسی پناہ ملنے کے بعد روس میں نئی ​​زندگی کا آغاز کریں گے۔

    باغی ٹی وی: شام کے دارالحکومت دمشق پر اپوزیشن فورسز کے قبضے سے قبل ہی سابق صدر بشار الاسد اپنے خاندان کے ساتھ روس فرار ہوگئے تھےاس منتقلی کے بعد شام پر الاسد خاندان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا، بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے پر شامی عوام کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا، اب بشار الاسد برطانوی اہلیہ اور 3 بچوں کے ساتھ روس میں سیاسی پناہ لے کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

    ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کی بیٹی اسما الاسد نے صدر بشار الاسد سے 2000 میں شادی کی تھی، اس جوڑے کی 3 اولادیں ہیں، بشارالاسد کی اہلیہ نے ڈکٹیٹر شوہر کے دور حکومت میں عیش وعشرت بھری زندگی گزاری، اسماا لاسد نے اپنے شوہر کے دور حکومت میں گھریلو اشیاء اور کپڑوں پر لاکھوں ڈالر اڑائے
    syria
    امریکی محکمہ خارجہ کا تخمینہ ہے کہہ اس خاندان کی مجموعی دولت کی مالیت 2 بلین ڈالر ہے،جس میں ان کے بیشتر اکاؤنٹس، شیل کمپنیز اور آف شور ٹیکس ہیونز سمیت رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو شامل ہیں،اب امکان ہے کہ بشارالاسد اپنی روس منتقلی کے بعد عیش وعشر ت بھری زندگی گزارنے کیلئے ان اثاثوں کو استعمال کریں گے۔

    ڈیلی میل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشار الاسد نے حال ہی میں 20 اپارٹمنٹس خریدے ہیں جن کی مالیت 30ملین پاؤنڈ سے زائد ہے،جو اس قبیلے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر روس کی حیثیت کو واضح کرتی ہے-

    کریملن نے آج تصدیق کی ہے کہ اس خاندان کو پوٹن کے براہ راست حکم پر سیاسی پناہ دی گئی تھی ماسکو نے مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا، صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے آج نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ ہم اسد کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے، مسز اسد کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی اور دو بیٹوں کے ساتھ اپنے شوہر کے شام سے فرار ہونے سے کچھ دن پہلے ماسکو پہنچی تھیں۔

  • شام: جنگی جرائم میں ملوث افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات کا اعلان

    شام: جنگی جرائم میں ملوث افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات کا اعلان

    ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث سینئر فوجی اور سکیورٹی افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات دیئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: شام کے باغی گروہ ہیئت تحریر الشام نے سابق شامی صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں کام کرنے والے ان عہدیداروں کی فہرست تیار کرنے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے بشار الاسد کے مخالفین پر ہونے والے تشدد میں ملوث تھے یا جنہوں نے اس عمل کی نگرانی کی تھی۔

    ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے کہا کہ وہ تشدد کرنے والوں کے نام شائع کر کے منظر عام پر لائیں گے اور دوسرے ممالک فرار ہونے والوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا جائے گاجنگی جرائم میں ملوث سینئر فوجی اور سکیورٹی افسران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات دیئے جائیں گے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے شامی کمیشن کے کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ بشار الاسد کے حراستی مراکز کے حالات کو ظاہر کرنے والی فوٹیج اور تصاویر تکلیف دہ تو ہیں مگر حیران کر دینے والی نہیں ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے لینیا آرویڈسن نے بتایا کہ کہ اقوام متحدہ کی ٹیمیں 2011 سے شام کے حراستی مراکز سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے میں مصروف عمل ہیں اور سابق قیدیوں سے بات چیت بھی جاری ہے لیکن انھیں اب اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیر کے روز ہی ان مراکز تک رسائی حاصل ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ کھڑکیوں کے بغیر ان زیر زمین سیلز یا کوٹھڑیوں کو دیکھنا، جہاں لوگوں نے سورج کی روشنی کے بغیر برسوں اور دہائیاں گزاری ہیں انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ہم نے جن حالات کے بارے میں سنا تھا وہ واقعی اس سے مماثلت رکھتے ہیں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ذریعے ان سب کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششوں کو ’ویٹو‘ کیا گیا تھا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پاس شام میں مداخلت یا وہاں اپنے لوگوں کو بھیجنے کا اختیار نہیں، تاہم آرویڈسن نے تجویز دی کہ مناظر سامنے آنے کے بعد انصاف ہونا چاہیے شام میں ایک نئے دن کا آغاز ہوا اور وہ راستے بھی دکھائی دینے لگنے ہیں کہ جن تک پہنچنا 2011 کے بعد سے ناممکن تھا۔

  • ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اسرائیلی حملوں اور گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کے قبضے کی توسیع کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔

    تہران کی جانب سے "جارحیت کو روکنے” اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانے کا یہ مطالبہ اس کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شام کی سرزمین میں ایک "سیکیورٹی زون” قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا گولان کی بلندیوں میں اقدام "مقبوضہ رژیم کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ رویے کی علامت ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قانونی اصولوں اور ضوابط کی بے حرمتی ہے۔”

    اسرائیل نے 1967 میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ یہ خطہ شام کی سرزمین تھا جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلا جنگی تصادم ہو سکتا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 7 اکتوبر 2023 کو ایران کے حامی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات لیے جائیں،وزیراعظم

    شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات لیے جائیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت شام کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانیوں کے انخلاء کے حوالے سے اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف نے شام سے وطن واپسی کے خواہاں پاکستانیوں کے بذریعہ ہمسایہ ممالک جلد از جلد محفوظ انخلاء کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات لیے جائیں،شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، وزیراعظم نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کو معلوماتی ڈیسک اور پاکستانیوں سے رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک دفتر خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور شام اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہیں، ملاقات میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    جوبائیڈن کا شام میں 2012 سے قید صحافی کو واپس لانے کا اعلان

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

  • روس اور ایران دونوں  اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    روس اور ایران دونوں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "بشار الاسد اپنے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور اس موقع پر روس کی قیادت میں ولادی میر پوتن نے ان کی حفاظت کی تھی۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "بشار الاسد نے شامی صدر کے طور پر استعفیٰ دینے کے بعد شام چھوڑا۔” ان کا یہ بیان روسی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد آیا کہ بشار الاسد صدارت سے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے روسی فوج کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور اب وہ شام میں بشار الاسد کی حفاظت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔” ان کا کہنا تھا کہ "روس اور ایران دونوں ہی اس وقت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ہیں، اور ان دونوں ممالک کی شام میں موجودگی کی اہمیت بھی ختم ہو گئی ہے۔”ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "یوکرین کی جنگ نے روس کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب اپنے پڑوسی ملک کی جنگ میں شامل ہو کر اپنا اثر و رسوخ شام میں برقرار نہیں رکھ سکتا۔” روسی فوجیوں کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی تعداد کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "یوکرین میں جنگ کے دوران چھ لاکھ روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس کا اثر روس کی شام میں موجودگی پر بھی پڑا ہے۔”

    ٹرمپ نے اس موقع پر یوکرین کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ "روس کی موجودہ کمزوری کے پیش نظر فوری طور پر یوکرین میں جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پوتن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ چین بھی اس معاملے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔”

    دوسری جانب پاکستان کی سینئر سفارتکار سفیر ملیحہ لودھی نے باغیوں کے دمشق پر قبضے کو "سیاسی زلزلہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دمشق پر باغیوں کا قبضہ شام کے اندرونی حالات میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، اور اس سے پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔”

  • صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    اسرائیل نے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کی گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون پر قبضہ کر لیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فورسز کو حکم دیا کہ وہ شام کے ساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے ذریعے قائم کیے گئے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک بفر زون پر "قبضہ” کر لیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ دہائیوں پرانا معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور شامی فوجیوں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑ دی ہیں جس سے اسرائیلی قبضے کی ضرورت ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف بھی فوج بڑھا دی اور اسرائیل فوج مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف باڑ لگانے میں مصروف ہے۔شامی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل خانہ جنگی کافائدہ اٹھا کر شامی علاقوں پر قبضہ چاہتا ہے۔باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

  • دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    شام کے دارالحکومت دمشق میں مشتعل ہجوم نے ایرانی سفارتخانے پر حملہ کر دیا۔

    ایرانی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں مشتعل ہجوم نے ایرانی سفارتخانے پر حملہ کیا۔ انہوں نے حسن نصر اللہ اور قاسم سلیمانی کے پوسٹرز پھاڑ دیے۔ایرانی میڈیا کےمطابق مشتعل افراد نےسفارتخانےمیں توڑ پھوڑ بھی کی۔دوسری جانب اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دمشق میں ایرانی سفارتخانہ خالی کر کے عملہ لبنان منتقل کر دیا۔شام میں گزشتہ ہفتے باغی مسلح گروپوں نے دھاوا بولا تھا اور وہ اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے اب تک کئی شہروں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ حالیہ شورش کے دوران اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق اور تین لاکھ شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ باغی مسلح گروپ کے بڑھتے غلبے کے بعد شامی صدر بشار الاسد ملک سے فرار ہوگئے ہیں جب کہ شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے ملک میں ہی رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہ اہے کہ وہ بشار الاسد کے فرار کے باوجود دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔

  • شام میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سہولت کیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال

    شام میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سہولت کیلئے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال

    اسلام آباد: شام میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر وزارت خارجہ نے شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :شام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ دمشق میں پاکستان کا سفارتی عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے، پاکستان انٹرنیشنل اسکول کے اساتذہ اور عملہ بھی محفوظ ہے،حکام نے شام میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، اہلخانہ فون نمبر یا ای میل کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں شام میں 1200 پاکستانی ہیں، تمام پاکستانی محفوظ ہیں اور دمشق سفارتخانہ سے رابطے میں ہیں، پاکستان میں رابطے کے لیے درج ذیل فون نمبر: 051-9207887 اور ای میل cmu1@mofa.gov.pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    ترجمان کے مطابق دمشق میں پاکستانی سفارتخانہ شام میں موجود پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے شام میں رابطے کے لیے درج ذیل فون نمبر/واٹس ایپ +963987127822، +963990138972 اور ای میل parepdamascus@mofa.gov.pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد باغی ملیشیا حیات التحریر الشام نے سرکاری عمارتوں اور ائیر پورٹس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، ائیر پورٹ کی بندش کے باعث شام میں تقریباً 250 پاکستانی زائرین پھنس کر رہ گئے ہیں، ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے عراق اور شام کا سفر کرتے ہیں۔

  • شامی فوج نےسرحدی چوکیاں خالی کر دیں،بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر اسرائیلی فوج تعینات

    شامی فوج نےسرحدی چوکیاں خالی کر دیں،بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر اسرائیلی فوج تعینات

    شامی فوج نے ملک پر باغی ملیشیا حیات التحریر الشام کے قبضے کے ساتھ ہی لبنان کے ساتھ تمام سرحدی چوکیوں کو بھی خالی کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی افواج کی جانب سے سرحدی چوکیاں خالی کرنے پر اسرائیلی فوج کے ٹینک اور بکتر بند جنوب مغربی شام کے قنیطرہ میں داخل ہو گئے ہیں،اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے شام کے برابر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر فوجی تعینات کر دیئے ہیں یہ اقدام شام میں تازہ ترین واقعات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، باغیوں کو بشارالاسد کی فوج کے اسلحے پر قبضے سے روکنےکی کوشش کریں گے، شامی باغی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

    عراقی حکام کا کہنا ہے کہ 2000 شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی ہے، دمشق پر قبضے سے پہلے باغیوں نے حمص شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کیا، حمص کی فوجی جیل سے 3500 سے زائد قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    شامی صدر بشار الاسد کے دمشق سے فرار اور ان کی 24 سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد مسلح اپوزیشن گروہوں نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے پیشِ نظر اتوار کے روز اردن نے شام کے استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی اہمیت کا اعادہ کیا ہےخطے میں سلامتی کی حالت کو تقویت دینے پر "کام جاری ہے، لبنانی فوج نے ضروری یونٹس اور بٹالین شام کے ساتھ سرحد پر بھیج دی۔

    بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے چند گھنٹوں قبل قطر، سعودی عرب، اردن، مصر، عراق، ایران، ترکیے اور روس کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں شام کی موجودہ صورتِ حال کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔

    ادھر شامی باغیوں نے دارالحکوت دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اتوار کی صبح ایران کے سفارت خانے پر بھی دھاوا بول دیا۔

    شامی باغی گروپ حیات تحریر الشام (HTS) نے دارالحکومت دمشق پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، العربیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دمشق میں واقع ایرانی سفارت خانے کی عمارت اور املاک کی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔

    ایران کے انگریزی نشریاتی ادارے ”پریس ٹی وی“ نے سفارت خانے پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس صورتحال کو شام میں ایرانی مفادات پر براہ راست حملہ قرار دیا،فوٹیج میں افراتفری کے مناظر دکھائے گئے، سفارت خانے کے اندرونی حصے کو کافی نقصان پہنچا، جبکہ جنگجوؤں نے حسن نصر اللہ کے پوسٹرز بھی پھاڑ دئے۔

    خیال رہے کہ ایران صدر بشار الاسد کا ایک اہم اتحادی ہے اور شام پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہےدمشق میں ایران کے سفارت خانے پر حملہ شام میں ایرانی مفادات کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے برسو ں سے، ایران اسد کا بڑا حامی رہا ہے، جو اس کی حکومت کو اقتدار میں رکھنے کے لیے فوجی، مالی اور سیاسی حمایت فراہم کرتا ہے، تاہم باغی افواج کی حالیہ پیش قدمی اور شام میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے باعث خطے میں ایرانی مداخلت کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

  • میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوں،شامی وزیراعظم

    میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوں،شامی وزیراعظم

    دمشق: شامی وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے کہا کہ ان کا بشار الاسد سے گزشتہ شام آخری بار رابطہ ہوا تھا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شام میں حیات التحریر کے جنگجوؤں نے بشار الاسد کا 24 سالہ اقتدار ختم کردیا اور وزیراعظم محمد غازی الجلالی کو ہی پُرامن انتقالِ اقتدار تک ملکی امور دیکھنے ٹاسک کا دیا ہے-

    شام کے وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے العربیہ ٹی وی سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معزول صدربشارالاسد سے آخری رابطہ ہفتے کی رات ہوا تھا، اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیاتھا، آخری بات چیت کےدوران صدربشارالاسدکو صورتحال سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد صدر الاسد نے کہا موجودہ حالات پر کل بات کریں گے، مجھے نہیں معلوم سابق صدر اس وقت کہاں ہیں اور کیا واقعی وہ ملک چھوڑ گئے ہیں۔

    محمد غازی الجلالی کا کہنا تھا کہ ہمیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، مذاکرات سے بغاوت روکنےکی امید تھی لیکن جس تیزی کے ساتھ حالات تبدیل ہوئے اس کے لیے ہم کسی بھی طرح تیار نہیں تھے، شامی حکومت کے 28 وزرا میں بیشتر شام میں ہی موجود ہیں، غازی الجلالی نے اپنے ایک بیان میں ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی عوام کو اپنی مرضی سے نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام میں خوف وہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے لیکن عوام کو تبدیلی سےگھبرانےکی ضرورت نہیں ہے، حالات جلد معمول پر آجائیں گے، موجودہ حکومت ملک میں عام انتخابات اور پُرامن انتقال اقتدارکی پابند ہے۔

    شامی وزیراعظم نے باغی گروہوں کے سربراہ ابو محمد الجولانی سے رابطے میں ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوں،ملک میں رہنے کا میرا فیصلہ عارضی ہے اور اولین ترجیح 4 لاکھ ملازمین کو واپس ملازمتوں پر لانا ہے-

    واضح رہے کہ آج اتوار آٹھ دسمبر کو شام نے مسلح دھڑوں کی پیش قدمی کے ساتھ شامی حکومت کے سربراہ کے اعلان کے ساتھ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے،شام میں دھڑوں کی جامع کارروائی کی قیادت کرنے والے حیۃ تحریر الشام کے رہنما احمد الشارع نے اتوار کے روز کہا کہ سرکاری اداروں تک جانا ممنوع ہے وہ سابق وزیر اعظم کی نگرانی میں رہیں گے جب تک کہ انہیں باضابطہ طور پر اقتدار ان کے حوالے نہیں کیا جاتا‘‘۔

    انہوں نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ دمشق شہر میں تمام فوجی دستوں کے لیے سرکاری اداروں کی طرف جانے کی سختی سے ممانعت ہے شام کےتمام ادارے وزیراعظم کی نگرانی میں رہیں گے جب تک کہ انہیں باضابطہ طور پر حوالے نہیں کیا جاتا۔ ہوا میں گولیاں چلانا بھی منع ہے-