Baaghi TV

Tag: شام

  • شامی باغیوں کا فتح کے بعد  سرکاری ٹی وی پر خطاب

    شامی باغیوں کا فتح کے بعد سرکاری ٹی وی پر خطاب

    دمشق: شامی باغیوں نے دارالحکومت پر قبضے کے بعد سرکاری ٹی وی پر پہلے ہی خطاب میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے اپنی فتح کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کرتے ہوئے بتایا کہ شام سے بشار الاسد حکومت کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا ہےباغیوں نے پہلے ہی خطاب میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے،کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔

    عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے آزاد شام کی خود مختاری اور سالمیت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاہ دور کا خاتمہ کرنے کے بعد نیا عہد شروع ہونے جا رہا ہےباغیوں کا کہنا ہے کہ شام کی تمام سرکاری، غیر سرکاری املاک اور تنصیبات کا تحفظ کیا جائے گا۔

    شامی باغی گروپ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے سابق شامی سرکاری فوج اور عوام کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور سابق حکومت کے فوجی سرکاری اداروں سے دور رہیں، سرکاری ادارے اس وقت سابق وزیراعظم کی نگرانی میں ہیں، اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی اداروں کی سربراہی کریں گے۔

  • صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا،سربراہ باغی گروپ

    صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا،سربراہ باغی گروپ

    دمشق: شامی فوجی کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شامی فوجی کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا دمشق میں گولیاں چلنے اور دھماکے سنے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جشن میں نعرے بازی بھی کر رہے ہیں، اس حوالے سے شامی باغی گروہ کا کہنا ہے جشن کے دوران ہوائی فائرنگ کی اجازت نہیں ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کا بتانا ہے کہ عوام کی جانب سے امیہ اسکوائر پر جشن منایا گیا شہری شامی فوج کے ٹینکوں پر چڑھ گئے، دمشق میں باغی ملیشیا کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، دمشق کے قریب جیل سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔

    صدر بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد باغی گروپ تحریر الشام ملیشیا کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پُرامن انتقال اقتدار تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی تمام ریاستی اداروں کو چلائیں گے کسی بھی صورت شام میں موجود کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینک اور بکتر بند جنوب مغربی شام کی قنیطرہ گورنری میں داخل ہو گئیں۔

    عبرانی میڈیا آؤٹ لیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج سرحدی دفاع مضبوط بنانے کے لیے قنیطرہ کے بفرزون میں داخل ہوئیں۔

    قبل ازیں شامی باغیوں نے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا دعویٰ کردیا ہے شامی صدر بشارالاسد بھی دمشق چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی شہریوں نے بتایا کہ دمشق میں گولیاں چلنے کی آوازیں اور دھماکے سنے جا رہے ہیں،بشارالاسد کے صدارتی محافظ بھی ان کی معمول کی رہائش گاہ پر تعینات نہیں جس کے باعث ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ بشار الاسد فرار ہوچکے ہیں، شامی فوجی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ بشارالاسد طیاتازرے پر فرار ہوئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شام کے باغیوں نے دمشق ائیرپورٹ اور سرکاری ٹی وی کی عمارت پرقبضے کا دعویٰ کیا ہے، دمشق میں شامی وزارت داخلہ کی عمارت باغیوں کے قبضے میں آگئی ہے دارالحکومت پر باغیوں کے قبضے کی اطلاعات کے بعد دمشق کے مرکزی اسکوائر پر ہزاروں شہری جمع ہو گئے اور جشن اور نعرے بازی شروع کر دی۔

    شامی اپوزیشن وار مانیٹر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد ملک چھوڑ کر طیارے میں کسی نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے ہیں، صدر بشارالاسد آج صبح طیارے میں بیٹھ کر دمشق سے فرار ہوئے شامی کردوں نے دیرالزور کا کنٹرول سنبھال کر اپنا جھنڈا لہرا دیا اور صدربشارالاسد کی فوج کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، سیکڑوں فوجیوں اور سرکاری افسران نے عراق میں پناہ لے لی۔

    دوسری جانب جنگجو لیڈر محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ بغاوت کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ہے، شامی حکومت کا خاتمہ قریب ہے، ہتھیار پھینکنے والے سرکاری فوجیوں کو عام معافی دی جائے گی۔

    شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغی گروپ حیات تحریر الشام کے باغیوں نے اتوار کے روز حکومت کے خلاف زبردست کارروائی کے دوران اہم شہر حمص پر قبضہ کرنے کا اعلان کیارپورٹ میں بتایا گیا کہ باغیوں نے حمص کی سینٹرل جیل پر بھی قبضہ کیا جس دوران تین ہزار پانچ سو قیدی فرار ہوگئے۔

    باغیوں کا اسرائیلی سرحد کے قریب القُنیطرہ کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ خبرایجنسی کے مطابق دو ہزار شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی۔ جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔

    اس کے علاوہ امریکی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ شامی صدربشارالاسد دمشق میں موجود نہیں ہیں جبکہ شامی فوج دمشق کے مضافات سے پیچھے ہٹ گئی ہے،امریکی اور مغربی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بشارالاسد حکومت آئندہ ہفتے ختم ہونے کا امکان ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق تمام ایرانی فوجی عہدیدار خصوصی پرواز کے ذریعے دمشق سے تہران روانہ ہوگئے ہیں جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام سے فوری نکلنے کا حکم دے دیا ہے اس کے علاوہ حمص شہر سے درجنوں فوجی گاڑیوں کو نکلتے دیکھاگیا، حمص کے مرکزی سکیورٹی ہیڈکوارٹرز سے بھی سکیورٹی اہلکار نکل گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شامی آرمی چیف جنرل عبدالکریم محمد ابراہیم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شامی عوام باغیوں کی من گھڑت افواہوں پر کان نہ دھرے، شامی فوج بغاوت پرقابو پانےکے لیےکوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، فوج نے باغیوں پر شدید حملے کرکے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا صفایا کیا،باغیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دیہی علاقوں میں فوج کے دستے موجود ہیں، عوام کے تعاون سے جلد بغاوت پر قابو پا لیا جائے گا۔

    شام کی جنگ میں اہم واقعات

    مارچ 2011: دمشق اور درعا میں پرامن احتجاج شروع ہوا الاسد حکومت نے ایک پرتشدد کریک ڈاؤن کے ساتھ جواب دیا، جس کے نتیجے میں مسلح بغاوت ہوئی،

    جولائی 2012: حلب کی لڑائی کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جس میں اپوزیشن فورسز نے شہر کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ شامی فوج نے چار سال بعد اس پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا-

    اگست 2013: مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں شہری مارے گئے یہ حملہ بین الاقوامی سطح پر مذمت کا باعث بنااور شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنے پر آمادہ کیا گیا-

    جون 2014: داعش نے پورے شام اور عراق میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد خلافت کا اعلان کیا۔ رقہ، شام میں ان کا اصل دارالحکومت بن گیا اور ان کی حکومت 2019 تک جاری رہی۔

    ستمبر 2015: روس نے الاسد کی حمایت میں براہ راست فوجی مداخلت شروع کی۔ روسی فضائی حملوں نے حکومتی فورسز کے حق میں لہر کو موڑنے میں مدد کی۔

    اپریل 2017: خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں شامی حکومت کے اہداف پر میزائل حملے شروع کرتے ہوئے امریکہ ملوث ہو گیا یہ اسد کی افواج کے خلاف ان کی پہلی براہ راست فوجی کارروائی تھی۔

    نومبر 2024: پچھلے چار سالوں میں تنازعہ بڑی حد تک رُک گیا، یہاں تک کہ مسلح گروپوں نے ادلب سے پچھلے ہفتے آپریشن شروع کیا۔

  • شامی صدارتی محل  کی صدر  کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کی تردید

    شامی صدارتی محل کی صدر کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کی تردید

    دمشق: شامی صدارتی محل نے صدر بشار الاسد کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کے ملک چھوڑنے کی اطلاعات کے چند گھنٹے بعد شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے شامی صدارتی محل کا بیان جاری کیا جس میں ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئےکہا گیا ہےکہ صدر دمشق میں ہی ہیں اور اپنی ذمہ داریاں سرگرمی سے نبھانے میں مصروف ہیں۔

    واضح رہےکہ شام میں باغی حمص میں داخل ہوگئے ہیں اور باغیوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی جاری ہے، باغیوں نے دمشق کے جنوبی ٹاؤن صنمین پر قبضےکا دعوٰی بھی کیا ہے،ایسے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ بشارالاسد اپنے خاندان کے ساتھ ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق شامی اپوزیشن باغیوں کے ایک کمانڈر حسن عبدالغنی نے بتایا ہے کہ ہماری افواج نے دارالحکومت دمشق کو گھیرے میں لینےکا آخری مرحلہ شروع کر دیا ہے جبکہ امریکی میڈیا کا کہنا ہےکہ شام میں موجود ایران کی پاسدارن انقلاب کے اعلیٰ فوجی عہدیدار شام سے نکل چکے ہیں، تمام ایرانی فوجی عہدیدار خصوصی پرواز کے ذریعے دمشق سے تہران روانہ ہوگئے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اردن اور مصر نے شامی صدر بشار الاسد کو شام چھوڑنے کا مشورہ دے دیا، تاہم شامی صدر نے انکار کر دیا ہے، ترک، ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کی دوحا میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں شامی حکومت اور باغی گروپوں سے فوری مذکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے شام میں مقامی بغاوتیں شروع ہونے سے صدر بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

    شام میں بشارالاسد مخالف فورسز نے جنوبی شہر درعا کے بعد حمص پر قبضہ کر لیا ہے، یہ ایک ہفتے میں شامی حکومتی فورسز کے ہاتھوں کھو جانے والا چھٹا شہر ہےفوج نے ایک معاہدے کے تحت درعا سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی جس کے تحت فوج کے اہلکا ر وں کو دمشق کے شمال میں تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر محفوظ راستہ فراہم کیا –

  • شامی باغی حمص میں داخل،شامی فورسز کو انخلا کی آخری کال

    شامی باغی حمص میں داخل،شامی فورسز کو انخلا کی آخری کال

    شام میں باغی درعا پر قبضےکے بعد حمص میں داخل ہوگئے-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق سیکڑوں شامی فوجی اور ایران نواز ملیشیا کے درجنوں رضاکار بھاگ کر عراق میں داخل ہوگئے ہیں 1650 شامی فوجیوں اور اعلیٰ سرکاری افسران نےعراق میں پناہ لے لی ہے عراقی شہرالقائم میں سیکڑوں زخمی شامی فوجیوں کوطبی امداد بھی دی جا رہی ہے۔

    شامی باغی درعا اور قنیطرہ شہروں پر قبضے کے بعد حمص کے نواحی علاقوں میں داخل ہوئے اور عمارتوں پر لگے صدر بشارالاسد کے پورٹریٹ پھاڑ دیے۔ حما شہر میں بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کا مجسمہ گرا دیا گیا، شام کا شمالی شہر ادلب پہلے ہی باغیوں کے قبضے میں ہے، حالیہ حملوں کے دوران باغی حلب اور حما کاکنٹرول حاصل کرچکے ہیں جب کہ حمص کی حدود میں داخل ہوکر شامی فورسز کو انخلا کی آخری کال دے رکھی ہے۔

    باغیوں کی دمشق کی طرف پیش قدمی جاری ہے، باغیوں نے دمشق کے جنوبی ٹاؤن صنمین پر قبضےکا دعوٰی بھی کیا ہے،برطانوی میڈیا کے مطا بق شامی باغیوں نےدعویٰ کیا ہےکہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے اندر تقریباً پورے جنوب مغرب پر قبضہ کرلیا ہے اور دمشق سے 30 کلومیٹر کے اندر پیش قدمی کی ہے۔

  • شامی باغی صدر بشار الاسد کے محل تک پہنچنے میں کامیاب

    شامی باغی صدر بشار الاسد کے محل تک پہنچنے میں کامیاب

    شامی باغی حلب میں صدر بشار الاسد کے محل تک پہنچنے اور اس میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : شامی باغیوں کی تنظیم ”حیات تحریر الشام“ (HTS) نےہفتے کو حلب شہر میں داخل ہونے کے بعد اس پر قابو پا لیا ہے، اور حکومتی حامی شامی افواج کو تقریباً گھیر لیا، جس کے نتیجے میں شامی دفاعی افواج کی کرد فورسز کو آنا پڑاشامی باغیوں نے صدر بشار الاسد کے محل کے ساتھ ساتھ قریبی حلب ملٹری اکیڈمی پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا، اس دوران باغیوں نے روسی فضائی دفاعی نظام پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا، حلب کا تقریباً پورا علاقہ اس وقت باغیوں کے قبضے میں ہے، سوائے شہر کے شمال میں واقع چند کرد محلو ں کے، جو اب بھی شامی افواج کے قبضے میں ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق کچھ رپورٹس نے اشارہ کیا کہ باغی اور شامی افواج، فوجیوں کے انخلا کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم ایس ڈی ایف نے اس کی تردید کی ہے حلب کی لڑائی (2012-16) کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسد حکومت شام کے دوسرے شہر کا کنٹرول کھو چکی ہے، جو حکومت کے کنٹرول میں سنگین بگاڑ کا اشارہ ہےرپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اسد کے تمام فوجیوں نے شہر کو خالی کر دیا ہے۔

    شام میں زمینی سطح پر تیزی سے پیش رفت کے بعد اور حلب پر مسلح دھڑوں کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے تناظر ایرانی وزارت خارجہ نے شامی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دمشق کی درخواست پر ایرانی فوجی مشیروں کی دمشق میں موجودگی برقرار رہے گی،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام اور خطے میں عدم تحفظ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد دہشت گرد گروہوں کا دوبارہ متحرک ہونا محض ایک اتفاق یا حادثہ ہے، لیکن اگر ہم 2011ء اور 2012ء کے بعد شام میں دہشت گردی کے ابھرنے کی تاریخ پر نظر ڈالیں اور اس کے اور اسرائیل کے درمیان مشکوک تعلقات کو دیکھیں تو ہم ان واقعات کو محض اتفاق نہیں سمجھ سکتے۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی حکام بھی سمجھتے ہیں کہ شام میں ان تبدیلیوں نے "مزاحمت کے محور” کو کمزور کر دیا ہے،ہ ترکیہ کے حکام بھی شام میں ہونے والی پیش رفت پر اتنے ہی فکر مند ہیں جتنا کہ ایران ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "شام میں کسی بھی قسم کی عدم تحفظ یا دہشت گردی کا پھیلاؤ نہ صرف شام کو متاثر کرے گا بلکہ اس کے پورے خطے کی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے”۔

    بین الاقوامی اور علاقائی خدشات کے جلو میں شامی فوج کی پسپائی اور حلب میں تحریر الشام محاذ اور اس کے اتحادی دھڑوں کی طرف سے شہر پر مکمل کنٹرول کے بعد عراق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور سکیورٹی فورسز چوکس ہیں۔

    عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل مقداد مری نے آج پیر کو بارڈر فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد صقر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ شام ۔ عراق سرحد کو تھرمل کیمروں سمیت تمام تکنیکی اور انسانی ذرائع سے محفوظ بنایا گیا ہے، آج کی عراق اور شام کی سرحد کا 2014ء کے حالات سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا”۔

    عراقی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے یونٹس نینویٰ کے مغرب میں شمالی سیکٹر کو بکتر بند اور مشینی یونٹوں کے ساتھ مدد فراہم کرنے کے بعد جنوب میں القائم سے اردن کی سرحد تک کھلی سرحد کی سکیورٹی کے لیے منتقل ہو گئے ہیں۔

    شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہا ہے کہ شام میں دہشت گردی میں اضافہ مشرق وسطیٰ کے خطے کو تقسیم کرنے اور مغربی مفادات کے مطابق دوبارہ نقشے تیار کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    شامی ایوان صدر کی طرف سے ٹیلی گرام پیج پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی صدر اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان فون کال کے دوران صدر الاسد نے اس بات پر زو دیا کہ شام میں "دہشت گردی میں اضافہ” ایک مخصوص منصوبے کے تحت کیا گیا ہے تاکہ خطے کو تقسیم کرنے کرکے اس کا نیا نقشہ جاری کیا جا سکے،پیشرفت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ خطے کے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور امریکہ اور مغرب کے مفادات اور اہداف کے مطابق دوبارہ نقشے بنانے کی کوششیں ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے ملک کی جانب سے شام کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کیا،انہوں نے کہا کہ شام کے اتحاد کو نقصان پہنچانا خطے، اس کے استحکام اور اس کے ممالک کے اتحاد کے لیے ایک دھچکا ہو گا، انہوں نے زور دیا کہ ایران شام کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    علاوہ ازیں ترکیہ اور ایران نے شام کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک شام کو دہشت گردی کا گڑھ نہیں بننے دیں گے، دمشق سے اپنے فوری دورے پر انقرہ پہنچنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں چیف ایرانی سفارت کار نے تہران اور انقرہ کے درمیان اس بات پر زور دیا کہ شام کو "دہشت گرد گروہوں” کی آماجگاہ بننے سے روکنے کی ضرورت ہے،انہوں نے شام میں "دہشت گرد تنظیمو ں” پر اسرائیل اور امریکہ سے تعاون حاصل کرنے کا الزام لگایا تاہم ان کے ترک ہم منصب نے یہ الزام مسترد کر دیا۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کی خطرناک صورتحال خطے کے تمام ممالک کو متاثر کرے گی، "آستانہ معاہدے” کے حوالے سے ترکیہ اور ایران کے موقف میں ہم آہنگی موجود ہے۔

    انہوں نے شام کے بارے میں علاقائی مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شامی حکومت اور اس کی فوج کی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا،انہوں نے وضاحت کی کہ ترکیہ کے ساتھ ان کی مشاورت بہت اچھی رہی، خاص طور پر چونکہ انہوں نے شامی سرزمین کے اتحاد اور خودمختاری کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

    ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سے شام میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہےانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں "دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے” کے حوالے سے ترکیہ اور ایرانی خیالات میں اتفاق پایا جاتا ہے،انہوں نے شام کی علاقائی سالمیت کے لیے انقرہ کی حمایت پر بھی زور دیا۔

    ترک وزیر خارجہ کہا کہ شام میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت حکومت اور دھڑوں کے درمیان کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو انقرہ کسی بھی بات چیت میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہےہم نہیں چاہتے کہ شام میں خانہ جنگی شدت اختیار کرے یا شہر تباہ ہوں، عام شہری مارے جائیں اور شام کے لوگ دوبارہ بے گھر ہونے اور ہجرت کرنے پر مجبور ہوں، دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے ان کے ملک کی حساسیت برقرار ہے شام میں استحکام ضروری ہے اور خطے میں خونریزی اور تباہی کو روکنا ضروری ہے۔

  • اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے،جبکہ جوابی کارروائی میں شامی باغی رہنما ‘روسی فضائی حملے میں مارا گیا-

    باغی ٹی وی : مقامی میڈیا کے مطابق شامی باغیوں کا ایک رہنما ابو محمد الجولانی ممکنہ طور پر روسی فضائی حملے میں مارا گیاجب اس کی فورسز نے حلب پر قبضہ کر لیا،ابو محمد الجولانی، حیات تحریر الشام گروپ کے موجودہ کمانڈر انچیف، سمجھا جاتا ہے کہ حملے کے وقت وہ عمارت کے اندر تھے۔
    syria
    باغی رہنما ابو محمد الجولانی

    شام کے اخبار الوطن نے اطلاع دی ہے کہ مبینہ طور پر تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے ارد گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے لیکن الجولانی مارا گیا ہے یا نہیں اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی رہنما ابو محمد الجولانی ان مسلح دھڑوں کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک ہے جو شامی فوج کے ساتھ لڑائیوں میں مصروف ہیں اور اس کے سر پر 7.9 ملین ڈالر کا انعام ہےیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر اسد کی افواج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ وہ دوبارہ تعینات ہو گئے ہیں اور جوابی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
    syiran rebel
    دریں اثنا، کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے منظر نامے کی تیاری کر رہا ہے جہاں صورت حال بگڑنے پر اسے کارروائی کرنے کی ضرورت ہوگی،انٹیلی جنس سربراہوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ ‘اسد حکومت کے خاتمے سے ممکنہ طور پر افراتفری پھیلے گی جس میں اسرائیل کے خلاف فوجی خطرات پیدا ہوں گے۔’

    القاعدہ سے منسلک باغیوں نے ہفتے کے روز دمشق کی طرف جنوب کی طرف پیش قدمی کی، جس کے ایک دن بعد انہوں نے حلب پر حکومتی دستوں کی جانب سے تھوڑی مزاحمت کے ساتھ قبضہ کر لیا،باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    دوسری جانب روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام میں پیدا کی جانے والی نئی صورت حال پر باہم تبادلہ خیال کیا ہے،ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تبادلہ خیال دونوں وزرائے خارجہ نے فون پر کیا ہے دونوں ملکوں نے اس موقع پر شامی اپوزیشن کے مسلح حملوں کے خلاف بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں حملے امریکی واسرائیلی منصوبے کا نتیجہ ہیں، تاکہ خطے میں عدم استحکام بڑھایا جاسکے۔

    ہفتے کے روز شام کی فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے فوجیوں کو قتل کیا گیا ہے یہ فوجی اپوزیشن کے حملوں میں اس وقت ہلاک ہوئے ہیں جب اپوزیشن نے حلب شہر پر حملے کیے اس واقعے سے بشارالاسد کے شمال مغربی صوبے میں ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے کہ وہ فوج کی تعینات کو نئے سرے سے کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے شام میں صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دہشت گردانہ حملوں سے شام میں صورت حال خطرناک ہو گئی-

  • 2016 کے بعد پہلی بار حلب پر  شامی باغیوں کا قبضہ

    2016 کے بعد پہلی بار حلب پر شامی باغیوں کا قبضہ

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغی شمالی علاقوں حلب اور ادلب میں داخل ہوگئے ہیں، باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    شام کے معاملات پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے برطانوی ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق 2016 کے بعد روس نے پہلی مرتبہ حلب پر فضائی حملے بھی کیے ہیں ملک میں بدھ سے شروع ہونے والی لڑائیوں میں اب تک 20 عام شہریوں سمیت 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے نے شامی فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتھارٹیز نے حلف کا ایئر پورٹ بند کردیا ہے۔ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

    دوسری طرف شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حلب اور ادلب گورنریوں پر بڑے حملے کا مقابلہ کر رہی ہے حلب اور ادلب پر حملے میں مسلح دھڑوں نے بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا ان کی فوج نے حلب اور ادلب پر حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان مسلح گروہوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور درجنوں گاڑیاں اور ڈرون تباہ کر دیے۔

    شامی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں فوجی کمک پہنچ گئی ہے۔

    حلب شہر کے مرکز اور گردونواح میں شامی فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان ابھی تک لڑائی جاری ہے،دھڑوں کا کہنا ہے کہ وہ حلب کے محلوں میں داخل ہوئے جبکہ شامی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے حملے کا جواب دیا اور عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

    واضح رہےکہ 2016 میں شامی صدر بشارالاسد کی افواج نے حلب سے باغیوں کو نکال دیا تھا اس کے بعد سے یہاں پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا۔

  • انقرہ میں حملہ: ترکیہ کی عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری

    انقرہ میں حملہ: ترکیہ کی عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری

    انقرہ میں دفاعی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے ردعمل میں ترکیہ نے عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری کردی۔

    باغی ٹی وی : ترک میڈیا کے مطابق ترکیہ کی جوابی کارروائی میں کرد عسکریت پسندوں کے 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہےدفاعی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے اراکین کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

    ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یارلیکایا کا کہنا تھا کہ حملہ آور ایک خاتون اور مرد کو ماردیا گیا ہے، دہشتگردوں کے حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے،حملے میں ملوث دہشتگردوں کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔

    پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    ترک میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں کمپنی میں کوالٹی کنٹرول کا افسر، مکینیکل انجینئر، ملازم ، سکیورٹی گارڈ اور ٹیکسی ڈرائیور شامل ہیں حملہ ایسے وقت کیا گیا جب سکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹی تبدیل ہوئی تھی، حملہ آور ٹیکسی میں سوار ہوکر آئے تھے۔

    حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلح مرد اور خاتون ترکیہ کی ائیروسپیس انڈسٹریز کے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی،عمارت سے دھماکے کی آواز بھی سنائی دی گئی تھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلح افراد کے داخل ہونے سے پہلے عمارت کے دروازے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔

    آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس ملی جوش و خروش کے …

  • شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے سابق سربراہ شہید حسن نصر اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حسن نصر اللہ کے داماد حزب اللہ کے سینیئر رکن اور یونٹ 4400 کے کمانڈر محمد جعفر قصیر کے بھائی تھے حزب اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر ایک روز قبل ہی شام کے دارالحکومت پہنچے تھے ،حسن نصر اللہ کے داماد کے بھائی محمد جعفر قصیر کو بھی گزشتہ روز فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محمد جعفر قصیر ایران کے نہایت قریب تھے اور ایران سے جنگی اسلحہ لانے کے ذمہ دار تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکزی علاقے میں پارلیمنٹ سے محض کچھ میٹر فاصلے پر ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں کم از کم پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بدھ کو ایران نے اسرائیل کی جانب 180 میزائل داغے تھے جبکہ شمالی لبنان میں اسرائیلی کی زمینی کارروائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں مرکزی بیروت کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں حزب اللہ سے منسلک ایک طبی مرکز قائم تھا۔

    دوسری جانب یمن سے حوثیوں نے تل ابیب میں پانچ ڈرون حملے کیے جس سے اسرائیل کا دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھازمینی کارروائی میں ناکامی پر صہیونی فوج کے لبنان پر فضائی حملے کیے اور چوبیس گھنٹے میں چھیالیس سے زائد شہری شہید کردیےلبنانی سرحد کے قریب شیلنگ میں مصروف اسرائیلی ہیلی کاپٹر پرحزب اللہ کا جوابی حملہ ہونے پر ہیلی کاپٹر رفوچکر ہوگیا۔

  • شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ  موجودگی کا انکشاف

    شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ موجودگی کا انکشاف

    شام میں ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی جنگجو ایران کے پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ تعینات ہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور شام میں موجود ایران نواز ملیشیا گروپوں پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 70 سے زائد ملیشیا گروپ شام میں دیرالزور، بوکمال سمیت بیروت و دیگر علاقوں میں تعینات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فاطمیون ملیشیا میں 3 ہزار افغان جنگجو بھی شامل ہیں۔ ملیشیا گروپ زینبیون بیروت اور گردونواح میں تعینات ہے۔رپورٹ کے مطابق عراقی حزب اللّٰہ کے تحت 7 ہزار جنگجو لبنان میں ہیں، عراق کے لواء ابوالفضل العباس، تحریک نجباء، عصائب اہل الحق اور الوعدالصادق بریگیڈز بھی شامل ہیں۔ سرایا طلیعہ الخرسانی کے 5 ہزار جنگجو عراق اور شام میں پھیلے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محمد باقر الصدر ملیشیا کے جنگجو شام کی سرکاری پولیس میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاسدارن انقلاب کی القدس بریگیڈز کے ڈھائی سے تین ہزار ایرانی جنگجو بھی شام میں تعینات ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کی زیر صدارت سیف سٹی پروجیکٹ سے متعلق اجلاس
    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا