Baaghi TV

Tag: شہباز شریف

  • خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،شہباز شریف اور اسحاق ڈار نواز شریف کے ہمراہ تھے

    اس موقع پر صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کیا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اکانومی کو ٹھیک کرےگی، خواہش ہے ہر اسمبلی اپنی مدت پوری کرے ہر سینیٹ اپنی مدت پوری کرے، وزیر اعظم اپنی مدت پوری کرے، انشاءاللہ یہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی، معیشت سے ساری معاملات جڑے ہوئے ہیں، سیاسی عدم استحکام کی کوئی بات نہیں ہے، انشاءاللہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی تو سب ٹھیک ہوگا،

    پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہو گیا،اجلاس کے آغاز پر قائد مسلم لیگ ن کی آمد پر ارکان نے پرتپاک استقبال کیا،شہباز شریف تمام ارکان کو فردا فردا سب سے ملے ،اجلاس کی صدارت نواز شریف اور شہباز شریف کررہے ہیں ،اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان شریک ہیں،پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے تقریبا 100 سے زائد ارکان شریک ہیں،نومنتخب ارکان نے پارٹی قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،پارلیمانی پارٹی نےملک کو مشکلات سے نکالنے میں قیادت کا ہر قدم پر ساتھ دینے کا عزم کیا،

    وزیر اعظم شہباز شریف ،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ہوں گے، نواز شریف کا اعلان
    نواز شریف نے وزیرِ اعظم کے لئے شہباز شریف کا نام پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھ دیا،پارلیمانی پارٹی نے شہباز شریف کے نام کی توثیق کر دی،سپیکر قومی اسمبلی کے لئے نواز شریف نے ایاز صادق کا نام دے دیا،پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،وفاقی کابینہ کی تشکیل سمیت تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی قیادت کو سونپ دیا گیا ،پارلیمانی پارٹی نے ملک کی بہتری ،عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی .جمہوریت کی بالادستی ،پارلیمان کے استحکام کے لئے کردار ادا کے کا عزم کیا گیا، ملک اور قوم کو ملکر مشکلات سے نکالنے کے عزم کا اعادہ کیا،

    پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نواز شریف
    نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پہلے بھی ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کام کیا ،پاکستان کو بھنور سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو واپس پٹڑی پر چڑھائیں گے ،تبدیلی لانے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا،اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا ،ملک اب مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،پاکستان کو انتشار کی نہیں،اتحاد کی ضرورت ہے ،پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نومنتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بھرپور مقابلے کے بعد آپ لوگ یہاں پہنچے ہیں ،
    ہمارے ارکان بہت سخت لڑائی لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں،بانی پی ٹی آئی جب گرے تو میں سب سے پہلے اسپتال پہنچا،ملک کے وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،ایسے لگتا تھا جیسے غصے میں مجھے نااہل کیا گیا،قوم آج جو دن دیکھ رہی ہے وہ اسی فیصلے کا نتیجہ ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلے دیئے، کہاں ہے وہ آج ؟ ثاقب نثار کے بیٹے کس کی ٹکٹ کیلئے پیسے وصول کررہے تھے ،وہ جج جہاں ہیں جنہوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا،ہم نے کیا بگاڑا تھا ہمارے خلاف اتنا غصہ کیوں تھا ،اس سارے کھیل میں اور بھی پلیئر تھے ،مجھے جن ججوں نے فارغ کیا عوام کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے کس لئے مجھے نکالا ،مجھے ہٹانے سے نہ میرا نقصان ہوا تھا اور نہ ہی میری پارٹی کا نقصان ہوا تھ تو صرف پاکستان کا ہوا تھا،

    آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے ہوتے رہے اور ہم بجلی کے کار خانے لگاتے رہے۔2013 میں وزیراعظم بنا تو بنی گالہ عمران خان کے گھر گیا اور کہا کہ سیاسی قوتوں کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔مگر چند ہفتے بعد لندن میں میٹنگ کرکے طے کیا کہ دھرنے ہوں گے،2017 میں لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ ن دوبارہ الیکشن جیتے گی۔ساری سیاسی جماعتوں کو سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرنا چاہئے۔قوم کے بچوں کو تو بدتمیزی اور بدتہذیبی نا سکھاو،ملک کے وزیراعظم کی یہ زبان ہوتی ہے؟4سال میں آپ نے کیا کیا کون سا منصوبہ لگایا۔ عمران خان کے کسی بھی الزام سے نہ ڈرنا چاہیے نہ گھبرانا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیشہ ایسے ہی رونا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہو گئی ،آپ کچھ بھی کر لیں جب بھی آپ جیتیں گے انکا رویہ ایسا ہی ہوگا۔پاکستان کے ہر بڑے منصوبے پر مسلم لیگ ن کی مُہر لگی ہوئی ہے اگر کسی اور نے کوئی منصوبے لگائے ہیں تو سامنے آئیں ہم تسلیم کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیور کیا اب بھی ڈیلیور کریں گے۔میں تو شہباز شریف صاحب کو داد دیتا ہوں پچھلے 16 ماہ میں جس قدر مسائل تھے یہ انہی کا کام ہے جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا گئے، آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل ہوں گے ہم نے ایک ساتھ رہ کر کام کرنا ہے،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،ہم نے مل کر زخم بھرنے ہیں پاکستان اس وقت بہت زخمی ہے اس سے پہلے میں نے اتنا زخمی پاکستان نہیں دیکھا،ہم نے روپے کی قیمت کو کم کرنا ہے، بجلی اور گیس کے بل کم کرنے ہیں،اگر ہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ چلیں گے تو یقیناً ہم کامیاب ہو جائیں گے

    نو مئی والوں نے ملک کادیوالیہ نکال دیا تھا ،شہباز شریف
    ن لیگ کے صدر شہباز شریف نےبڑے بھائی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے جب بھی جو زمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی پی ڈی ایم حکومت میں بھی ملک کو مشکلات سے نکالا ،نو مئی والوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا ،پی ڈی ایم حکومت نے انتہائی جانفشانی سے ملک کے لئے کام کیا ، پاکستان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے،سب کو محنت کرنا ہو گی،ن لیگ ،نواز شریف کی قیادت میں آپ کی بہت بڑی کامیابی ہے ،ہمارے ارکان اسمبلی اپنے بل بوتے پر جیت کر آئے،جو آزاد اراکین پارٹی میں شامل ہوئے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں ،نواز شریف نے کراچی کا امن بحال کیا، آزاد اراکین کی قوت کے ساتھ ہماری تعداد 104 ہوگئی ہے،سی پیک کے منصوبے لیکر آئے اس کی پوری قوم گواہ ہے ،7 ہزار میگا واٹ بجلی قوم کو مہیا کی، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ،چاروں صوبوں کو موٹرویز کے ذریعے جوڑا،بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر شہید ہوئیں، مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا، جب نواز شریف بیمار ہوئے تو غلیظ زبان استعمال کی گئی مگر انہوں نے صبر کیا،

    آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،خواجہ آصف
    پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور فیض ہم سے قانون سازی کرواتے تھے ،اس ماحول میں کیا ہو سکتا تھا ،اس وقت کا بگاڑ ہم بھگت رہے ہیں،اداروں سے اختلافات نہیں کرنا چاہیے، صدر اس ادارے سے اختلاف کر رہا ہے ،آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،دو بار آئین کی خلاف ورزی کی گئی،پاکستان کا پاور اسٹرکچر کو مل کر بیٹھنا چاہیے کوئی حل نکالنا چاہیے ،اپنی ذاتی انا کو پس پشت ڈالنا چاہیے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت ہمارے قائد نواز شریف نے کی، نواز شریف نے باضابطہ شہباز شریف بطور وزیراعظم اور ایاز صادق کو اسپیکر نامزد کیا،نوازشریف کی پارٹی اور ملک کے لئے خدمات ہیں جن پر خراج تحسین پیش کیا گیا،شہباز شریف کو ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا،ہم نے جوعوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی کام کئے اس پر پارلیمانی پارٹی میں روشنی ڈالی، پارٹی جو ذمہ داریاں دے گی ان کو نبھاؤں گا،اتحادیوں جماعتوں کے ساتھ آج شام کو مشترکہ پارلیمانی میٹنگ ہے، مشترکہ اجلاس اور عشائیہ پنجاب ہاوس میں ہوگا،

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،شہباز شریف

    پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،شہباز شریف

    نامزد وزیراعظم شہبازشریف سے بلوچستان سے نومنتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے

    مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل نے وفد کی قیادت کی ، این اے 263 سے جمال شاہ کاکڑ، این اے 252 سے سردار یعقوب خان ناصر بھی وفد میں شامل تھے ،این اے 257 اور پی بی 22 سے جیتنے والے جام کمال ، نواب چنگیز خان مری بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ،میاں خان مندرانی، پی بی 4 سے سردارعبدالرحمن کھیتران اور راحیلہ درانی وفد کا حصہ تھے ،پی بی 14 سے محمد خان لہڑی ، پی بی 15 سے میر سلیم احمد کھوسہ ، پی بی 3 سے میر شعیب نوشیروانی بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ،پی بی 30سے آزاد جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے میر عاصم کرد گیلو ، پی بی 41 سے ولی محمد، پی بی 51 سے کیپٹن (ر) عبدالخالق، پی بی 27 سے برکت علی رند بھی ملاقات میں شریک تھے

    شہبازشریف نے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور پارٹی رہنماﺅں کے جذبے کو سراہا اور کہا کہ آپ سب کی کاوشوں کی بدولت پاکستان میں سیاسی استحکام کی صورت پیدا ہورہی ہے،پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کے لئے ہم سب مل کر خلوص دل سے کام کریں گے، سیاسی مفادات نہیں، پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،

    اس موقع پر بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ،بلوچستان سے رہنماﺅں نے اپنے سیاسی رابطوں کے حوالے سے پارٹی صدر کو آگاہ کیا ، اس موقع پر خواجہ محمد آصف، رانا ثناءاللہ ، سینیٹر اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، سینیٹراعظم نذیر تارڑبھی ملاقات میں موجود تھے

    قومی اسمبلی اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا،شہباز شریف

    پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا،شہباز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ افہام و تفہیم اور باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب نے ملکر اسے سنوارنا ہے،ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا میری اولین ترجیح ہے، خدمت، دیانت اور محنت کی روایت کو آگے بڑھائیں گے، ملک کسی صورت انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا، ملک کو ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے شب و روز کاوشیں کی جائیں گی، ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے سب کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا،پوری تندہی، محنت اور ایمانداری سے عوام کی خدمت کریں گے،قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی قائدانہ قیادت میں ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی، جس کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ ملکر حکومت بنا رہی ہیں، شہباز شریف کو بطور وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • سابق اتحادی جماعتوں کا ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان

    سابق اتحادی جماعتوں کا ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان

    سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    مفاہمت کے ذریعے چلیں گے ،جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے،آصف زرداری
    سابق صدرآصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج طے کیا ہے ہم مل کر کام کریں گے اور حکومت بنائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارا معاشی اور دفاعی ایجنڈا مشترکہ ہو۔ ہم مصالحت کیلئے بھی کام کریں گے۔ مفاہمت میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف الیکشن بھی لڑے ہیں۔ ہماری کوئی نظریاتی مخالفتیں نہیں ہیں.ہر مشکل سے پاکستان کو ملکر نکالنا ہے ، تحریک انصاف کو بھی مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں،

    صدر کا امیدوار تمام پارٹیاں مل کر طے کریں گی،آصف زرداری
    آصف علی زرداری جب پریس کانفرنس کے بعد واپس جا رہے تھے تو صحافیوں نے انہیں گھیر لیا، صحافی نے سوال کیا کہ صدر کے امیدوار آپ ہی ہوں گے جس پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ صدر کا امیدوار تمام پارٹیاں مل کر طے کریں گی،

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا پہلے بھی ساتھ دیا تھا، اب بھی ساتھ دیں گے،ایم کیو ایم پاکستان نے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، معاشی ایجنڈا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیئے، ہم میاں صاحب کے ساتھ ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا کہ امید کرتے ہیں پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جائیں گے، لوگوں پر اس وقت بہت مسائل ہیں، ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو صرف ملک اور عوام کی خاطر ہوں، شہباز شریف کی حکومت مسائل سے احسن طریقے سے چھٹکارا حاصل کرے گی

    نواز شریف سے درخواست کروں گا کہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں قوم کو آگے لے کر جانا ہے، وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن کی لیڈرشپ اختلافات کو بھلا دے،ہمارا پہلا چیلنج معیشت ہے، اسے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،انتخابات میں اپنا منشور اور موقف پیش کیا گیا، پارلیمان معرض وجود میں آنے والی ہے، ہماری جنگ ملک کے چیلنجز کے خلاف ہے،چوہدری شجاعت حسین ایک شاندار میزبان ہیں، ہم اس لیے اکٹھے ہیں کہ قوم کو بتا سکیں کے ہم ان کے ساتھ ہیں،یہاں پر موجود پارٹیوں کی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت ہے،پی ٹی آئی کے آزاد امیدواراں کے پاس اکثریت ہے تو وہ حکومت بنائیں، جمہور کا تقاضا یہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو قبول کیا جائے،ملک کے ہر حصے سے اکثریت یہاں آج اکٹھی ہوئی ہے، ہمارے پاس اکثریت ہے، مل کر پاکستان کے مسائل کو حل کریں گے، نواز شریف سے درخواست کروں گا کہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں ،وزیر اعلٰی پنجاب کیلئے مریم نواز امیدوار ہوں گی،

    مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا تھا۔چوہدری شجاعت حسین کے گھر ہونے والے اہم اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، شہباز شریف ، خالد مقبول صدیقی ، عبدالعلیم خان سمیت سید یوسف رضا گیلانی شریک ہیں ،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار،سالک حسین ودیگر بھی شریک تھے،گورنر سندھ کامران ٹیسوری،ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار صادق سنجرانی موجود تھے.

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    پی ڈی ایم پارٹ ٹو، مولانا فضل الرحمان غائب،پریس کانفرنس میں نظر نہ آئے
    پی ڈی ایم پارٹ ٹو میں ابھی تک ایک اہم شخصیت نظر نہیں آئی، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد میں نظر نہیں آئے ، پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود وزیر تھے تو وہیں جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وزیر تھے تا ہم آج ہونے والے اتحادیوں کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انکا کوئی نمائندہ نظر آیا، انتخابات کے بعد شہباز شریف نے دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، نواز شریف نے بھی دوبار رابطہ کیا لیکن مولانا فضل الرحمان سے ن لیگی قیادت کی ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی، جے یو آئی کا اسلام آباد میں اجلاس جاری ہے،جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان نے حکومت شامل نہ ہونے کی تجویز دی اور کہا کہ ہمیں پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے، مجلس عاملہ کی تجاویز پر مشاورت کےلیے جے یو آئی کی مجلس عمومی کا اجلاس بلانے کا فیصہ کیا، جو اگلے دس روز میں بلایا جائے گا، اپوزیشن میں بیٹھنے سے متعلق تجویز کی مجلس عمومی کے اجلاس میں منظوری لی جائے گی، اجلاس کے بعد کل مولانا فضل الرحمان ممکنہ طور پر پریس کانفرنس کریں گے اوراپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے.

  • نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اتحادی جماعتوں کی جانب سے واضح حمایت ملنے کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کر دیا

    نواز شریف جو چوتھی بار وزیراعظم بننے آئے تھے انکا خواب ادھورا رہ گیا، نواز شریف اتحادی وزیراعظم ہوں گے، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے نوازشریف نے وزیراعلی پنجاب کے عہدے کےلئے مریم نوازکو نامزد کردیا ہے

    پاکستان کو "نواز”دو، ن لیگ کا ووٹر سے دھوکہ، نواز کی بجائے "شہباز” دے دیا
    نواز شریف لندن سے واپس آئے تو اس وقت سے کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم بننے کے لئے آئے، مسلم لیگ ن نے نواز شریف وزیراعظم کے نام پر انتخابی مہم چلائی،منشور میں پاکستان کو نواز دو کا نعرہ لگایا، تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد نواز شریف نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیاالبتہ نواز شریف کا چہرہ اس روز "بجھا بجھا” سا تھا، اس خطاب کے بعد نواز شریف ابھی تک دوبارہ نظر نہیں آئے، آزاد امیدوار جو ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں ان سے شہباز شریف اور مریم نواز ملاقاتیں کر رہے ہیں، اتحادی جماعتوں سے رابطے شہباز شریف کر رہے ہیں تا ہم نواز شریف منظر سے غائب ہو چکے ہیں،این اے 15 سے نواز شریف الیکشن ہار چکے ہیں تو وہیں این اے 130 میں انکی کامیابی کا نوٹفکیشن آج جاری ہو چکا ہے، الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں واضح اکثریت چاہئے، تاہم نتائج آنے پر نہ واضح اکثریت ملی اور نہ ہی نواز شریف کو جیت ، لاہور سے ن لیگ سیٹیں ہار گئی، خواجہ سلمان رفیق ہار گئے،روحیل اصغر ہار گئے،ایسے میں نواز شریف انتخابات کے بعد شدید پریشان ہیں، یہ بھی امکان ہے کہ نواز شریف حکومت بننے کے بعد دوبارہ لندن چلے جائیں ،کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف بن رہے تو نواز شریف کا کسی قسم کا کوئی کردار حکومت میں نہیں رہے گا ، صدر آصف زرداری کو بنانا ن لیگ کی مجبوری بن جائے گا کیونکہ وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ لے رہے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کیلیے مریم نواز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو امید ہے کہ نمبر گیم کی برتری حاصل کر کے وہ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں اور پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے.

    واضح رہے کہ سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے،اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

  • شہباز شریف کی بی اے پی کے سربراہ کو حکومت سازی میں شمولیت کی دعوت

    شہباز شریف کی بی اے پی کے سربراہ کو حکومت سازی میں شمولیت کی دعوت

    باغی ٹی وی :مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا بلوچستان عوامی پارٹی( بی اے پی) کے سربراہ سے ٹیلیفونک رابطہ،حکومت سازی میں شمولیت کی دعوت دے دی۔

    باغی ٹی وی : میاں شہباز شریف نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ خالد مگسی کو ٹیلی فون کرتے ہوئے الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر بات چیت ہوئی، شہباز شریف نے حکومت سازی میں خالد مگسی کو شمولیت کی دعوت دی ، دونوں رہنماؤں نے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، شہبازشریف اور خالد مگسی نے جلد ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    واضح رہے کہ این اے 254 جھل مگسی سے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ خالد مگسی کامیاب ہوئے ،غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کےخالد مگسی 79304 ووٹوں سے کامیاب قرار پائے ہیں۔این اے 254 کے امیدوار جے یو آئی کے نظام الدین 44763 ووٹ ہی لے سکے۔

    علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور

    ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر ن …

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کی تیاری

  • تین پریس کانفرنسیں، منظر نامہ واضح،ن لیگ کا وزیراعظم

    تین پریس کانفرنسیں، منظر نامہ واضح،ن لیگ کا وزیراعظم

    عام انتخابات، کو ن بنے گا وزیراعظم، آج تین سیاسی جماعتوں کی پریس کانفرنسوں سے منظر نامہ واضح ہو گیا ، مسلم لیگ ن حکومت بنائے گی تو وہیں تحریک انصاف اپوزیشن میں بیٹھے گی

    سابق وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد امیدواروں کو حکومت بنانے کی دعوت دی اور ساتھ کہا کہ اگر وہ نہیں بنا سکتے تو ہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے، تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے، اسکے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میدان میں آئے، بلاول نے سیاسی چھکا مارا اور وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے، بلاول کا کہنا تھا کہ ہمیں اس فیصلے سے نقصان ہو گا لیکن ہم نے ملک کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا، ملک میں استحکام چاہئے، بلاول پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی سیٹوں پر حیران نظر آئے اور ساتھ پیغام بھی دیا کہ کراچی میں امن اور ترقی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، تحریک انصاف بارے بلاول کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا،

    bilawal

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے، کوئی بھی جماعت نہ تو اکثریت حاصل نہ کر سکی، نہ ہی اس پوزیشن میں دو پارٹیاں ملکر حکومت بنا لیں، اگر آزاد امیدوار اور پیپلز پارٹی مل جاتے تو حکومت بن سکتی تھی تاہم تحریک انصاف نے ہٹ دھرمی دکھائی اور میں نہ مانوں والی کی بات پر قائم رکھی، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی حمایت کا فیصلہ کر لیا،اب وزیراعظم مسلم لیگ ن کا ہو گا، ایم کیو ایم بھی مسلم لیگ ن کی حمایت کرے گی اور کابینہ میں بھی شامل ہو گی، جمعیت علماء اسلام کا ابھی تک کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ سکا

    پنجاب میں ن لیگ حکومت بنائے گی تو سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنائے گی، بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ حکومت بنائے تو وہیں ن لیگ بھی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جے یو آئی جس پارٹی کا ساتھ دے گی اسکی حکومت بلوچستان میں بن جائے گی،خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار حکومت بنائیں گے،

    وزیراعظم ن لیگ کا ہو گا، لیکن ہو گا کون؟ نواز شریف یا شہباز شریف؟اس حوالہ سے قوی امکان ہے کہ وزیراعظم شہبا ز شریف ہوں گے،الیکشن سے ایک د ن قبل شہباز شریف نے کہا تھاکہ اگر سادہ اکثریت ملی تو نواز شریف وزیراعظم ہوں گے او ر سادہ اکثریت نہ ملی تو پھر پارٹی مشاورت کرے گی،اب ن لیگ نے فیصلہ کرنا ہے کہ وزیراعظم کا امیدوار کون ہو گا،

    پنجاب میں مریم نواز وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہیں، قوی امکان ہے کہ وہی وزیراعلیٰ نامزد ہوں گی، مریم نواز قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ دیں گی جس پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہوں گے،سندھ میں سابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور فریال تالپور کا نام سامنے آ رہا ہے،خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے، بلوچستان میں کون وزیراعلیٰ آتا ہے اس بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ،پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کانام وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آ سکتا ہے.

    تحریک انصاف کے آزاد امیدوار اس وقت قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ ہیں،تحریک انصاف ہٹ دھرمی نہ دکھاتی تو پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنا سکتی تھی اور مستقبل میں کیسز ختم کروا سکتی تھی تا ہم تحریک انصاف نے غلط فیصلہ کیا اور ایسے لگ رہا کہ آنیوالے دنوں میں اب تحریک انصاف کے خلاف مزید کریک ڈاؤن ہوں گے اور مزید سختیاں آنیوالی ہیں، عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس اور نومئی کے مقدمات کا فیصلہ آنا بھی باقی ہے.

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    عام انتخابات 2024 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 93 نشستیں لے کر سب سے آگے ہیں جب کہ مسلم لیگ ن 75 اور پیپلز پارٹی نے اب تک 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17، دیگر آزاد امیدوار 8، مسلم لیگ (ق) 3، جمعیت علمائے اسلام 4، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2، 2 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشل عوامی پارٹی پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں ایک ایک نشست آئی۔

  • اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد امیدواروں کی اگر اکثریت ہے تو شوق سے حکومت بنا لیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 میں جیسے آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا پہلی بار ہوا تھا کہ دیہاتوں کے رزلٹ پہلے آگئے اور شہروں کے رزلٹ رات دیرتک نہیں آئے،2013 میں سپریم کورٹ نے بول دیا تھا الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی،پی ٹی آئی نے 2013 میں بھی 35 پنکچر کا ڈرامہ رچایا تھا۔انتخابات کے پامن انعقاد میں چیف جسٹس، افواج پاکستان اور الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے۔ چیف الیکشن کمشنر تحسین کے مستحق ہیں، آج میں گزارش کرنا چاہتا ہو ں کہ جس دن الیکشن ریزلٹ آ رہے تھے، اس رات کو دس بارہ فیصد نتائج آنے پر ایک ون سائیڈڈ شور ہوا، بتایا گیا کہ آزاد جیت رہے اور پارٹیاں ہار رہی ہیں، اس پر ایک رائے قائم کر لینا غیر مناسب بات تھی، اس الیکشن میں حقائق کا سامنا کریں تو جواب صاف مل جاتا ہے کہ اس الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، اگر ایسی بات ہوتی تو خواجہ سعد رفیق نے کھلے دل سے شکست تسلیم کی،یہ کس طرح ہار گئے، فیصل آباد، شیخوپورہ ، ایبٹ آباد میں سینئر رہنما ہمارے ہار گئے، آزاد جیت رہے اور پھر بھی دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن ہو گئے، ن لیگ کے نمبر زیادہ ہیں سیاسی جماعتوں میں ن لیگ نمبر ون ہے، اسکے بعد پیپلز پارٹی ہے، نتائج سامنے آ چکے، اب اگلا مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ پارلیمان میں اب سارا عمل معرض وجود میں آئے گا، اگر آزاد اراکین حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں، صدر نے ان کو دعوت نہیں دینی، جس کی تعداد زیادہ ہے وہی حکومت بنائے گا،آزاد اگر اکثریت دکھا دیں گے تو ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے اور آئینی کردار ادا کریں گے، اگر آزاد حکومت نہیں بنا سکتے تو پھر دوسری پارٹیاں مشاورت سے بنائیں گی، اور کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے، ہمیں اب آگے بڑھنا ہو گا،یکسوئی کے ساتھ آنیوالا مرحلہ طے کرنا ہے، ہمیں جب ہروایا گیا تو ہم نے کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا، پارلیمان میں جا کر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا او ر حلف اٹھایا کون نہیں جانتا کہ بدترین دھاندلی سے الیکشن چرایا گیا تھا، ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو آگ لگائیں گے، ڈی چوک پر دھرنے دیں گے،نواز شریف کی قیادت میں کبھی ایسا نہیں ہوا، فیٹف کا بل ہم نے منظور کروایا،جب بھی موقع آیا کشمیر کا تنازع، مل بیٹھنے سے انکار کر دیا گیا،دوسرے مراحل کرونا میں مل بیٹھنے سے انکار کیا گیا،جب بھارتی جہازوں نے پاکستانی فضاؤں کو عبور کیا، اور جہاز گرایا گیا، اس رات میٹنگ تھی، ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد سپہ سالار آئے لیکن وزیراعظم میٹنگ میں نہیں آئے، ہم نے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے، ماضی کی بھیانک داستان ہمارے سامنے ہے، میں کئی بار بات کر چکا ہوں،ہم نے ریاست بچائی، سیاست قربان کی ،پی ٹی آئی حکومت نے تو ملک کو ڈیفالٹ کر دیا تھا، ہم نے ریاست کو بچایا ہے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر لیا، اب مہنگائی، غربت ،بے روزگاری کے خلاف مقابلہ ہے، امن قائم کرنا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے،نان سٹیٹ ایکٹر نے لوگوں کو پولنگ سٹیشن پر نہیں آنے دیا، مخصوص لوگوں کو آنے دیا گیا، یہ باتیں سننے میں آ رہی ہیں، پشاور سے برف پوش پہاڑوں تک دن دہاڑے پولنگ سٹیشن پر بندوق برداروں نے ووٹ ڈلوائے،اسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئے ،وہ کونسی حکومت تھی جس نے دہشت گردوں کو دوبارہ پہاڑوں پر بٹھایا، جیلوں سے آزاد کروایا،قوم کو اسکا جواب ملنا چاہئے،قوم کے ہوش اڑ جائیں گے جب پتہ چلے گا کہ کون انکو واپس لایا، آج قوم کے زخم پر مرہم رکھنے کا وقت آ چکا ہے، نوا زشریف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت میں ہیں، نواز شریف نے اعلان کیا کہ اس وقت قوم کو جتنی یکجہتی، یکسوئی، محبت پیار بانٹنے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، ہمیں دکھوں کو خوشیوں میں بدلنا ہے، تلخیوں کو دفن کر نا ہو گا، مل بیٹھ کر ملک کا حل ڈھونڈنا ہو گا، خدا کے لئے ، دنیا کو دوبارہ جگ ہنسائی کا موقع دیں گے یا بتائیں گے کہ ہم ملکر چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں.

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں ہم حکومت بنائیں گے، ہمارے اراکین زیادہ ہیں، آزاد اگر وفاق میں حکومت بنا سکتے ہیں تو خوشی سے بنائیں ،ورنہ ہم اپنا آئینی کردار ادا کریں گے،مشاورت کا عمل جاری ہے، نواز شریف نے قوم کو بتایا کہ اکثریت ہونے کے باوجود مشاورت کریں گے، نواز شریف کی قیادت میں قوم کو متحد کریں گے،صدر کی انوائیٹ کرنے کی شق ختم ہو چکی، 2018 میں تو صدر نے انوائیٹ نہیں کیا تھا، ہاؤس خود اپنا فیصلہ کرے گا، جس پارٹی کی اکثریت ہے اسکا حق ہے حکومت بنائے،آئین کہتا ہے 21 دن میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • پی پی 49، سیالکوٹ سے آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل

    پی پی 49، سیالکوٹ سے آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے نومنتخب ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے

    پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 49 سیالکوٹ سے کامیاب آزاد امیدوار رانا فیاض نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا،رانا فیاض نے نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،نومنتخب رکن قومی اسمبلی وسیم قادر کی بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر سے ملاقات ہوئی،وسیم قادر پہلے ہی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ،شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے پر رانا فیاض اور وسیم قادر کو خوش آمدید کہا اور شکریہ ادا کیا ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب پاکستان کو خوشحال بنائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانی لائیں گے،پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ اتحاد، اتفاق اور قومی تعاون کی سوچ سے ہو سکتا ہے،

    قبل ازیں گزشتہ روزسابق وزیر اعظم شہباز شریف سے 5 آزاد منتخب ارکان اسمبلی نے ملاقات کی اور ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے آزاد منتخب ہونے والے پانچ ارکان اسمبلی نے ملاقات کی۔ این اے 189 سے سردار شمشیر مزاری، پی پی 195 سے عمران اکرم، پی پی 240 سے سہیل خان، پی پی 297 سے خضر حسین مزاری اور پی پی 249 سے صاحبزادہ محمد گزین عباسی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔ تمام ارکان نے قائد نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا،

    قبل ازیں قومی اسمبلی حلقہ این اے 127 سے کامیاب پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار وسیم قادر نے باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ،وسیم قادر نے پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے ہمراہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں وسیم قادر جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف لاہور اپنے گھر واپس آگیا ہوں میں اپنے علاقے کی ترقی کیلئے اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں

    علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 97 چنیوٹ سے نومنتخب آزاد امیدوار ثاقب خان چدھڑ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے،لاہور میں ثاقب خان چدھڑ نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا،شہباز شریف نے ثاقب خان چدھڑ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور انہیں مبارک باد دی۔

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہوگا،شہباز شریف

    حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہوگا،شہباز شریف

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کے لیے ایک ہونا ہوگا۔

    باغی ٹی وی :میاں محمد شہباز شریف نے حکومت سازی کے حوالے سے بلائے گئے اہم پارٹی اجلاس میں قائد محمد نواز شریف کی ہدایت پر مختلف جماعتوں سے ہونے والے رابطوں کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا، اجلاس میں حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر مشاورت کی گئی۔

    دوران اجلاس پارٹی رہنماؤں نے 8 فروری کے انتخابات میں کامیابی پر پارٹی صدر کو مبارک باد دی شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے کرم اور عوام کی حمایت سے مسلم لیگ (ن) عام انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے حکومت کا ہدف عوام کو مہنگائی اور مسائل سے نجات دلانا ہوگا، لیگی رہنما نے مزید کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو پاکستان کے لیے ایک ہونا ہوگا۔

    مجلس وحدت المسلمین کی عمران خان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

    اجلاس میں اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، ملک محمد احمد خان، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ اور خواجہ عمران نزیر شریک تھے۔

    این اے 48 سے جیتنے کے بعد راجہ خرم شہزادنواز ن لیگ میں …

    انتخابات 2024: ایسے لوگوں کو جتوا یا گیا جن کا حلقے میں نام تک نہیں …