Baaghi TV

Tag: شہباز شریف

  • پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی گزشتہ شب ملاقات ہوئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل تھے،وفد نے وزیراعظم کو وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خدائے بزرگ و برتر اور عوام کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کیلئے ایک مرتبہ پھر سے موقع دیا. خادم پاکستان منتخب کرنے کیلئے ایوان میں اپنی اتحادی جماعتوں کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں. خدا کے کرم اور اپنی محنت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات کام کرنے کیلئے پر عزم ہیں. ملاقات میں سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی بھی موجود تھے۔

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات منظور

    کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات منظور

    نئے وزیر اعظم کا انتخاب،وزیر اعظم کے کاغذات نامزدگی پر سکروٹنی کا عمل مکمل کرلیا گیا
    شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لئے،سنی اتحاد کونسل نے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ شہباز شریف فارم 45 پر ہارے ہوئے ہیں،شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات رد کردئیے گئے،عمر ایوب نے اعتراض لگایا کہ شہباز شریف اس ایوان کے رکن نہیں، وہ الیکشن ہارے ہیں،سپیکر ایاز صادق نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے اعتراض کو مسترد کر دیا،سنی اتحاد کونسل نے ایوان کے نامکمل ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا،عمر ایوب نے کہا کہ نامکمل ایوان میں وزیراعظم کا انتخاب نہیں ہو سکتا، سپیکر نے اعتراضات مسترد کر دیئے،

    قبل ازیں وزیراعظم کا انتخاب، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات جمع کروا دیئے گئے،وزیراعظم کے انتخاب کے لئے ن لیگ و اتحادی جماعتوں کے امیدوار شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، خورشید شاہ،حنیف عباسی نے جمع کروائے، کاغذات سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کروائے گئے،شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ 7 تجویز کنندہ اور 7 افراد تائید کنندہ ہیں،اس موقع پر عطاء تارڑ، انوشہ رحمٰن، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، رومینہ خورشید عالم، کھیل داس کوہستانی، احسن اقبال، سردار یوسف اور خواجہ آصف بھی موجود تھے۔

    عمران خان کا پرانہ وطیرہ ، جس کو گالی دی بعد میں اس کے ساتھ ہی بغل گیر ہوئے،عطا تارڑ
    اس موقع پر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج محمود خان اچکزئی صاحب کو امیدوار نامزد کیا گی،2014 کے دھرنا میں عمران خان صاحب نے محمود خان اچکزئی کی نقل کی تھی، محمود خان اچکزئی کی پرانی خواہش تھی صدر بننے کی جو پوری ہوگئی، عمران خان کا یہ پرانہ وطیرہ ہے جس کو گالی دی بعد میں اس کے ساتھ ہی بغل گیر ہوئے،

    سنی اتحاد کونسل کے نامزدی امیدوار عمر ایوب خان کے کاغذات نامزدگی بھی سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرا دیے گئے ہیں،عمر ایوب کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ، اسد قیصر، عامر ڈوگر، علی محمد اور ریاض فتیانہ پہنچے ،اور کاغذات جمع کروائے،

    ن لیگ کے اراکین مینڈیٹ چور،منہ چھپاتے پھر رہے ہیں،عمر ایوب
    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ابھی بھی انکے خلاف کیسز ہیں، یہ بری نہیں ہوئے عدالت سے، انہوں نے اپنے کیسز ختم کروائے ہیں، چاہے دونوں بھائیوں میں سے کوئی بھی ہو چھوٹا ہو یا بڑا،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، ظلم کی انتہا کی گئی،پارلیمنٹ میں ہم اپنی آواز اٹھائیں گے،کل بھی احتجاج کیا ، بات بھی کریں گے،یہ ہمارا قانونی حق ہے،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے اراکین منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، وہ مینڈیٹ چور ہیں،عمران خان، بشریٰ بی بی، پرویز الہیٰ، شاہ محمود قریشی، ہماری خواتین، مرد ورکر جو پابند سلاسل ہیں انکو رہا کروائیں گے،جتنے میرے ساتھی یہاں موجود ہیں سب کے خلاف کیسز ہیں،

    وزارت عظمیٰ کے لیے کل شہباز شریف کا عمر ایوب سے مقابلہ ہو گا،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی 3 مارچ کو کسی بھی کارروائی کو چھوڑ کر اپنے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی، رائے دہی سے قبل اسپیکر امیدواران کے نام پڑھ کر سنائے گا،ایک ہی امیدوار ہونے کی صورت میں اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار وزیراعظم منتخب ہوگا،دو امیدوار ہونے کے صورت میں رائے دہی کرائی جائے گی، اگر کوئی امیدوار مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو دوبارہ رائے شماری ہو گی، رائے دہی سے قبل پانچ منٹ تک اسمبلی ہال کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی،گھنٹیاں بجانے کے بعد قومی اسمبلی ایوان کے دروازے مقفل کر دیے جائیں گے، رائے شماری کے عمل کے بعد سیکریٹری تقسیمی فہرست جمع کروائے گا، گنتی کے بعد دو منٹ کے لئے مزید گھنٹیاں بجائی جائیں گی، گھنٹیاں بجنے کے بعد سپیکر نتائج کا اعلان کرے گا

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، سنی اتحاد کونسل نے عمر ایوب کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے،جے یو آئی وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی،پیپلز پارٹی شہباز شریف کی حمایت کرے گی ، استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ بھی ن لیگ کی حمایت کریں گی

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • نامزد وزیراعظم شہباز شریف کی طبیعت ناساز

    نامزد وزیراعظم شہباز شریف کی طبیعت ناساز

    نامزد وزیراعظم شہباز شریف کی طبیعت ناساز ہو گئی

    شہباز شریف کی طبیعت خرابی کے باعث تاخیر سے ایوان میں پہنچے،شہباز شریف سپیکر کے لئے ووٹ ڈال کر پارلیمنٹ سے جلدی واپس رہائش گاہ چلے گئے، شہباز شریف پارلیمنٹ میں نواز شریف سے بھی نہ مل پائے،شہباز شریف کو فلو اور گلے کے درد کی شکایت ہے، شہباز شریف دوائی لے رہے ہیں اور ساتھ ڈاکٹرز نے آرام کو مشورہ بھی دیا ہے،شہباز شریف گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں ہیں انکی سیاسی رہنماؤں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں،شہباز شریف کو ن لیگ اور اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ کو ہو گا،

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ کو ہو گا، شیڈول جاری

    وزیراعظم کا انتخاب 3 مارچ کو ہو گا، شیڈول جاری

    قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کا انتخاب اتوار 3 مارچ کو ہو گا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیراعظم کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب اتوار 3 مارچ کو ہوگا،وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی 2 مارچ کو دن 2 بجے تک وصول کیے جائیں گے اور پھر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 3 بجے تک ہوگی، وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے شعبہ قانون سازی سے لیےجاسکتے ہیں،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تائید کنندگان کا موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے.

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی 3 مارچ کو کسی بھی کارروائی کو چھوڑ کر اپنے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی، رائے دہی سے قبل اسپیکر امیدواران کے نام پڑھ کر سنائے گا،ایک ہی امیدوار ہونے کی صورت میں اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار وزیراعظم منتخب ہوگا،دو امیدوار ہونے کے صورت میں رائے دہی کرائی جائے گی، اگر کوئی امیدوار مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو دوبارہ رائے شماری ہو گی، رائے دہی سے قبل پانچ منٹ تک اسمبلی ہال کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی،گھنٹیاں بجانے کے بعد قومی اسمبلی ایوان کے دروازے مقفل کر دیے جائیں گے، رائے شماری کے عمل کے بعد سیکریٹری تقسیمی فہرست جمع کروائے گا، گنتی کے بعد دو منٹ کے لئے مزید گھنٹیاں بجائی جائیں گی، گھنٹیاں بجنے کے بعد سپیکر نتائج کا اعلان کرے گا،

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، سنی اتحاد کونسل نے عمر ایوب کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے،جے یو آئی وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی،پیپلز پارٹی شہباز شریف کی حمایت کرے گی ، استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ بھی ن لیگ کی حمایت کریں گی

    قبل ازیں آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا،حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری، عمر ایوب، شیر افضل مروت، علی محمد خان، شہر یار آفریدی،حمزہ شہباز،خواجہ آصف، ایاز صادق و دیگر نے شرکت کی.

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

    دوسری جانب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما ایم کیو ایم کے آفس پہنچ گئے،اس دوران میڈیا سے گفتگو میں ن لیگی رہنما سردار ایاز صادق نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیرِ اعظم کے ووٹ کی یقین دہانی کرائی ہے، صدر اور سینیٹ کے چیئرمین کے ووٹ سے متعلق انہیں منانے پھر آئیں گے،ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے، جمہوریت کے ثمرات عوام کو بھی ملنے چاہئیں، عوام کے حقوق کے لیے آئین کا استعمال کیا جائے،جب تک عوام شریک نہ ہوں جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی

    دوسری جانب ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات کے حل تک وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگ ابھی صرف ایم کیو ایم کو ایک وزارت دینا چاہتی ہے، ایم کیو ایم چار وزارتوں کا مطالبہ کررہی ہے، ن لیگ کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلے کا حل نکال لیں گے، ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت جاری ہے،

  • پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر، اور موجودہ وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف نے عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط سائفر کے بعد ایک اور ملک دشمنی قرار دے دیا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کو لکھا ہے کہ پاکستان کے ساتھ نیا پروگرام نہ کیا جائے ،پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے، کسی کو کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ یہ چاہتے ہیں پاکستان مکمل طور پر تباہ ہو جائے،میں سمجھتا ہوں عمران خان کا آئی ایم ایف کو خط ایک انتہائی افسوسناک اقدام ہے، عمران خان کے اس اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کوئی پاکستانی کیسے بھی سیاسی اختلافات ہوں ملک کے لیے بددعا نہیں کرتا۔نیازی یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان مکمل تباہی کا شکار ہوجائے، آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لیے تحریک انصاف نے خط لکھا۔

    پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط ،نواز شریف بھی خاموش نہ رہ سکے
    دوسری جانب ایم آئی ایف کو خط پر نواز شریف سے سوال کیا گیا جس پر نواز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ خط لکھنا انہی کا وطیرہ ہے ،سوال کیا گیا کہ کیا یہ ملک دشمنی نہیں ، جس پر نواز شریف نے کہا کہ خود ہی نتیجہ اخذ کر لیں کوئی شخص کوئی فرد ایسا خط نہیں لکھ سکتا، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی مذمت کر دی اور کہا کہ یہ ملک دشمنی پر مبنی اقدام ہے،

    قبل ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو لکھے گئے خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، انتخابی معاملات کا فورم آئی ایم ایف نہیں ہے، پی ٹی آئی کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی، بیرونی قوتوں کے سامنے سرنڈر نہ کرنا ان کا بیانیہ ہے، اس وقت مثبت انداز میں بات ہورہی ہے، امید ہے 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف سے بات ہوجائے گی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

  • شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد میں عشائیہ،بلاول اور زرداری کی شرکت

    شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد میں عشائیہ،بلاول اور زرداری کی شرکت

    اسلام آباد: وزارت عظمٰی کے نامزد امیدوار شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد میں عشائیہ دیا گیا –

    باغی ٹی وی : سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کی، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چارٹر برائے معیشت، قومی اتفاق رائے اور دیگر تجاویز پیش کیں۔

    اعلامیےکے مطابق اس موقع پر میاں شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کی جانب سے ایاز صادق کا نام اسپیکرشپ کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کی جانب سے غلام مصطفی شاہ کا نام ڈپٹی اسپیکر شپ کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا۔

    اعلامیےکے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے متوقع نئی حکومت کے سامنے چارٹر برائے معیشت، قومی اتفاق رائے، انتخابی اور عدالتی اصلاحات پر عمل درآمد کرنے کی تجاویز پیش کردیں۔

    ملک میں آئندہ 3 روز کے دوران بارشیں

    الیکشن کے کامیاب انعقاد پر جاپان کی پاکستان کو مبارک باد

    28 فروری تاریخ کے آئینے میں

  • خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،شہباز شریف اور اسحاق ڈار نواز شریف کے ہمراہ تھے

    اس موقع پر صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کیا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اکانومی کو ٹھیک کرےگی، خواہش ہے ہر اسمبلی اپنی مدت پوری کرے ہر سینیٹ اپنی مدت پوری کرے، وزیر اعظم اپنی مدت پوری کرے، انشاءاللہ یہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی، معیشت سے ساری معاملات جڑے ہوئے ہیں، سیاسی عدم استحکام کی کوئی بات نہیں ہے، انشاءاللہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی تو سب ٹھیک ہوگا،

    پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہو گیا،اجلاس کے آغاز پر قائد مسلم لیگ ن کی آمد پر ارکان نے پرتپاک استقبال کیا،شہباز شریف تمام ارکان کو فردا فردا سب سے ملے ،اجلاس کی صدارت نواز شریف اور شہباز شریف کررہے ہیں ،اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان شریک ہیں،پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے تقریبا 100 سے زائد ارکان شریک ہیں،نومنتخب ارکان نے پارٹی قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،پارلیمانی پارٹی نےملک کو مشکلات سے نکالنے میں قیادت کا ہر قدم پر ساتھ دینے کا عزم کیا،

    وزیر اعظم شہباز شریف ،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ہوں گے، نواز شریف کا اعلان
    نواز شریف نے وزیرِ اعظم کے لئے شہباز شریف کا نام پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھ دیا،پارلیمانی پارٹی نے شہباز شریف کے نام کی توثیق کر دی،سپیکر قومی اسمبلی کے لئے نواز شریف نے ایاز صادق کا نام دے دیا،پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،وفاقی کابینہ کی تشکیل سمیت تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی قیادت کو سونپ دیا گیا ،پارلیمانی پارٹی نے ملک کی بہتری ،عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی .جمہوریت کی بالادستی ،پارلیمان کے استحکام کے لئے کردار ادا کے کا عزم کیا گیا، ملک اور قوم کو ملکر مشکلات سے نکالنے کے عزم کا اعادہ کیا،

    پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نواز شریف
    نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پہلے بھی ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کام کیا ،پاکستان کو بھنور سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو واپس پٹڑی پر چڑھائیں گے ،تبدیلی لانے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا،اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا ،ملک اب مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،پاکستان کو انتشار کی نہیں،اتحاد کی ضرورت ہے ،پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نومنتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بھرپور مقابلے کے بعد آپ لوگ یہاں پہنچے ہیں ،
    ہمارے ارکان بہت سخت لڑائی لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں،بانی پی ٹی آئی جب گرے تو میں سب سے پہلے اسپتال پہنچا،ملک کے وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،ایسے لگتا تھا جیسے غصے میں مجھے نااہل کیا گیا،قوم آج جو دن دیکھ رہی ہے وہ اسی فیصلے کا نتیجہ ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلے دیئے، کہاں ہے وہ آج ؟ ثاقب نثار کے بیٹے کس کی ٹکٹ کیلئے پیسے وصول کررہے تھے ،وہ جج جہاں ہیں جنہوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا،ہم نے کیا بگاڑا تھا ہمارے خلاف اتنا غصہ کیوں تھا ،اس سارے کھیل میں اور بھی پلیئر تھے ،مجھے جن ججوں نے فارغ کیا عوام کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے کس لئے مجھے نکالا ،مجھے ہٹانے سے نہ میرا نقصان ہوا تھا اور نہ ہی میری پارٹی کا نقصان ہوا تھ تو صرف پاکستان کا ہوا تھا،

    آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے ہوتے رہے اور ہم بجلی کے کار خانے لگاتے رہے۔2013 میں وزیراعظم بنا تو بنی گالہ عمران خان کے گھر گیا اور کہا کہ سیاسی قوتوں کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔مگر چند ہفتے بعد لندن میں میٹنگ کرکے طے کیا کہ دھرنے ہوں گے،2017 میں لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ ن دوبارہ الیکشن جیتے گی۔ساری سیاسی جماعتوں کو سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرنا چاہئے۔قوم کے بچوں کو تو بدتمیزی اور بدتہذیبی نا سکھاو،ملک کے وزیراعظم کی یہ زبان ہوتی ہے؟4سال میں آپ نے کیا کیا کون سا منصوبہ لگایا۔ عمران خان کے کسی بھی الزام سے نہ ڈرنا چاہیے نہ گھبرانا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیشہ ایسے ہی رونا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہو گئی ،آپ کچھ بھی کر لیں جب بھی آپ جیتیں گے انکا رویہ ایسا ہی ہوگا۔پاکستان کے ہر بڑے منصوبے پر مسلم لیگ ن کی مُہر لگی ہوئی ہے اگر کسی اور نے کوئی منصوبے لگائے ہیں تو سامنے آئیں ہم تسلیم کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیور کیا اب بھی ڈیلیور کریں گے۔میں تو شہباز شریف صاحب کو داد دیتا ہوں پچھلے 16 ماہ میں جس قدر مسائل تھے یہ انہی کا کام ہے جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا گئے، آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل ہوں گے ہم نے ایک ساتھ رہ کر کام کرنا ہے،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،ہم نے مل کر زخم بھرنے ہیں پاکستان اس وقت بہت زخمی ہے اس سے پہلے میں نے اتنا زخمی پاکستان نہیں دیکھا،ہم نے روپے کی قیمت کو کم کرنا ہے، بجلی اور گیس کے بل کم کرنے ہیں،اگر ہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ چلیں گے تو یقیناً ہم کامیاب ہو جائیں گے

    نو مئی والوں نے ملک کادیوالیہ نکال دیا تھا ،شہباز شریف
    ن لیگ کے صدر شہباز شریف نےبڑے بھائی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے جب بھی جو زمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی پی ڈی ایم حکومت میں بھی ملک کو مشکلات سے نکالا ،نو مئی والوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا ،پی ڈی ایم حکومت نے انتہائی جانفشانی سے ملک کے لئے کام کیا ، پاکستان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے،سب کو محنت کرنا ہو گی،ن لیگ ،نواز شریف کی قیادت میں آپ کی بہت بڑی کامیابی ہے ،ہمارے ارکان اسمبلی اپنے بل بوتے پر جیت کر آئے،جو آزاد اراکین پارٹی میں شامل ہوئے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں ،نواز شریف نے کراچی کا امن بحال کیا، آزاد اراکین کی قوت کے ساتھ ہماری تعداد 104 ہوگئی ہے،سی پیک کے منصوبے لیکر آئے اس کی پوری قوم گواہ ہے ،7 ہزار میگا واٹ بجلی قوم کو مہیا کی، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ،چاروں صوبوں کو موٹرویز کے ذریعے جوڑا،بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر شہید ہوئیں، مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا، جب نواز شریف بیمار ہوئے تو غلیظ زبان استعمال کی گئی مگر انہوں نے صبر کیا،

    آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،خواجہ آصف
    پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور فیض ہم سے قانون سازی کرواتے تھے ،اس ماحول میں کیا ہو سکتا تھا ،اس وقت کا بگاڑ ہم بھگت رہے ہیں،اداروں سے اختلافات نہیں کرنا چاہیے، صدر اس ادارے سے اختلاف کر رہا ہے ،آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،دو بار آئین کی خلاف ورزی کی گئی،پاکستان کا پاور اسٹرکچر کو مل کر بیٹھنا چاہیے کوئی حل نکالنا چاہیے ،اپنی ذاتی انا کو پس پشت ڈالنا چاہیے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت ہمارے قائد نواز شریف نے کی، نواز شریف نے باضابطہ شہباز شریف بطور وزیراعظم اور ایاز صادق کو اسپیکر نامزد کیا،نوازشریف کی پارٹی اور ملک کے لئے خدمات ہیں جن پر خراج تحسین پیش کیا گیا،شہباز شریف کو ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا،ہم نے جوعوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی کام کئے اس پر پارلیمانی پارٹی میں روشنی ڈالی، پارٹی جو ذمہ داریاں دے گی ان کو نبھاؤں گا،اتحادیوں جماعتوں کے ساتھ آج شام کو مشترکہ پارلیمانی میٹنگ ہے، مشترکہ اجلاس اور عشائیہ پنجاب ہاوس میں ہوگا،

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،شہباز شریف

    پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،شہباز شریف

    نامزد وزیراعظم شہبازشریف سے بلوچستان سے نومنتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے

    مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل نے وفد کی قیادت کی ، این اے 263 سے جمال شاہ کاکڑ، این اے 252 سے سردار یعقوب خان ناصر بھی وفد میں شامل تھے ،این اے 257 اور پی بی 22 سے جیتنے والے جام کمال ، نواب چنگیز خان مری بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ،میاں خان مندرانی، پی بی 4 سے سردارعبدالرحمن کھیتران اور راحیلہ درانی وفد کا حصہ تھے ،پی بی 14 سے محمد خان لہڑی ، پی بی 15 سے میر سلیم احمد کھوسہ ، پی بی 3 سے میر شعیب نوشیروانی بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ،پی بی 30سے آزاد جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے میر عاصم کرد گیلو ، پی بی 41 سے ولی محمد، پی بی 51 سے کیپٹن (ر) عبدالخالق، پی بی 27 سے برکت علی رند بھی ملاقات میں شریک تھے

    شہبازشریف نے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور پارٹی رہنماﺅں کے جذبے کو سراہا اور کہا کہ آپ سب کی کاوشوں کی بدولت پاکستان میں سیاسی استحکام کی صورت پیدا ہورہی ہے،پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کے لئے ہم سب مل کر خلوص دل سے کام کریں گے، سیاسی مفادات نہیں، پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنا ہے،

    اس موقع پر بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ،بلوچستان سے رہنماﺅں نے اپنے سیاسی رابطوں کے حوالے سے پارٹی صدر کو آگاہ کیا ، اس موقع پر خواجہ محمد آصف، رانا ثناءاللہ ، سینیٹر اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، سینیٹراعظم نذیر تارڑبھی ملاقات میں موجود تھے

    قومی اسمبلی اجلاس 26 سے 28 فروری تک بلانے کی تجویز

    پنجاب اسمبلی اجلاس، اراکین پہنچ گئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا،شہباز شریف

    پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا،شہباز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ افہام و تفہیم اور باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب نے ملکر اسے سنوارنا ہے،ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا میری اولین ترجیح ہے، خدمت، دیانت اور محنت کی روایت کو آگے بڑھائیں گے، ملک کسی صورت انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، پاکستان کیلئے سب کو مل بیٹھنا ہوگا، ملک کو ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے شب و روز کاوشیں کی جائیں گی، ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے سب کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا،پوری تندہی، محنت اور ایمانداری سے عوام کی خدمت کریں گے،قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی قائدانہ قیادت میں ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی، جس کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ ملکر حکومت بنا رہی ہیں، شہباز شریف کو بطور وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • سابق اتحادی جماعتوں کا ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان

    سابق اتحادی جماعتوں کا ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان

    سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    مفاہمت کے ذریعے چلیں گے ،جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے،آصف زرداری
    سابق صدرآصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج طے کیا ہے ہم مل کر کام کریں گے اور حکومت بنائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارا معاشی اور دفاعی ایجنڈا مشترکہ ہو۔ ہم مصالحت کیلئے بھی کام کریں گے۔ مفاہمت میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف الیکشن بھی لڑے ہیں۔ ہماری کوئی نظریاتی مخالفتیں نہیں ہیں.ہر مشکل سے پاکستان کو ملکر نکالنا ہے ، تحریک انصاف کو بھی مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں،

    صدر کا امیدوار تمام پارٹیاں مل کر طے کریں گی،آصف زرداری
    آصف علی زرداری جب پریس کانفرنس کے بعد واپس جا رہے تھے تو صحافیوں نے انہیں گھیر لیا، صحافی نے سوال کیا کہ صدر کے امیدوار آپ ہی ہوں گے جس پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ صدر کا امیدوار تمام پارٹیاں مل کر طے کریں گی،

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا پہلے بھی ساتھ دیا تھا، اب بھی ساتھ دیں گے،ایم کیو ایم پاکستان نے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، معاشی ایجنڈا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیئے، ہم میاں صاحب کے ساتھ ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا کہ امید کرتے ہیں پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جائیں گے، لوگوں پر اس وقت بہت مسائل ہیں، ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو صرف ملک اور عوام کی خاطر ہوں، شہباز شریف کی حکومت مسائل سے احسن طریقے سے چھٹکارا حاصل کرے گی

    نواز شریف سے درخواست کروں گا کہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں قوم کو آگے لے کر جانا ہے، وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن کی لیڈرشپ اختلافات کو بھلا دے،ہمارا پہلا چیلنج معیشت ہے، اسے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،انتخابات میں اپنا منشور اور موقف پیش کیا گیا، پارلیمان معرض وجود میں آنے والی ہے، ہماری جنگ ملک کے چیلنجز کے خلاف ہے،چوہدری شجاعت حسین ایک شاندار میزبان ہیں، ہم اس لیے اکٹھے ہیں کہ قوم کو بتا سکیں کے ہم ان کے ساتھ ہیں،یہاں پر موجود پارٹیوں کی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت ہے،پی ٹی آئی کے آزاد امیدواراں کے پاس اکثریت ہے تو وہ حکومت بنائیں، جمہور کا تقاضا یہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو قبول کیا جائے،ملک کے ہر حصے سے اکثریت یہاں آج اکٹھی ہوئی ہے، ہمارے پاس اکثریت ہے، مل کر پاکستان کے مسائل کو حل کریں گے، نواز شریف سے درخواست کروں گا کہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں ،وزیر اعلٰی پنجاب کیلئے مریم نواز امیدوار ہوں گی،

    مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا تھا۔چوہدری شجاعت حسین کے گھر ہونے والے اہم اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، شہباز شریف ، خالد مقبول صدیقی ، عبدالعلیم خان سمیت سید یوسف رضا گیلانی شریک ہیں ،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار،سالک حسین ودیگر بھی شریک تھے،گورنر سندھ کامران ٹیسوری،ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار صادق سنجرانی موجود تھے.

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    پی ڈی ایم پارٹ ٹو، مولانا فضل الرحمان غائب،پریس کانفرنس میں نظر نہ آئے
    پی ڈی ایم پارٹ ٹو میں ابھی تک ایک اہم شخصیت نظر نہیں آئی، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد میں نظر نہیں آئے ، پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود وزیر تھے تو وہیں جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وزیر تھے تا ہم آج ہونے والے اتحادیوں کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انکا کوئی نمائندہ نظر آیا، انتخابات کے بعد شہباز شریف نے دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، نواز شریف نے بھی دوبار رابطہ کیا لیکن مولانا فضل الرحمان سے ن لیگی قیادت کی ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی، جے یو آئی کا اسلام آباد میں اجلاس جاری ہے،جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان نے حکومت شامل نہ ہونے کی تجویز دی اور کہا کہ ہمیں پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے، مجلس عاملہ کی تجاویز پر مشاورت کےلیے جے یو آئی کی مجلس عمومی کا اجلاس بلانے کا فیصہ کیا، جو اگلے دس روز میں بلایا جائے گا، اپوزیشن میں بیٹھنے سے متعلق تجویز کی مجلس عمومی کے اجلاس میں منظوری لی جائے گی، اجلاس کے بعد کل مولانا فضل الرحمان ممکنہ طور پر پریس کانفرنس کریں گے اوراپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے.