Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • مفاداتی سیاست  کرنے والے  ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفاداتی سیاست کرنے والے ہی لیڈر ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی دنیا کی طرح پاکستان میں ایسے ادوار آئے اور چلے گئے مضبوط سیاسی لیڈر موجود تھے۔پاکستان ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں لیڈر نظر نہیں آتے تاہم ناقص ترین کارکردگی کے نام نہاد رہنما نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور قوم اب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں، سیاسی نظریات کو دفن کرکے مفاداتی سیاست کرنے والے کو ہی لیڈر کہا جانے لگا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی لیڈرشپ کا فقدان کیوں ہو رہاہے۔ شاندارلیڈر شپ کا دور بظاہر ختم ہورہا ہے ۔ نواز شریف جو اس ملک کے سینئر ترین سیاستدان ہیں ،عمران خان بلاشبہ جو اس وقت جیل میں ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہیں۔انہوں نے سینئر ترین سیاستدان نواز شریف کے خلاف ایسی سازش کی کہ ان کو لندن ان کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ ہائوس اور گلی چوراہوں میں منی لانڈرنگ اور چور ثابت کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا اسے پاکستان اور قوم کے ساتھ زیادتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے آج وہ خود اور ان کی جماعت بھگت رہی ہے۔ بلاشبہ نواز شریف کے خلاف اس سازش میں ان کی اپنی ہی جماعت کے مبینہ طور پر چند اشخاص بھی شامل تھے۔

    ملکی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کے دعویداروں نے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے کیا کردار ادا کیا ؟ جمہوریت کو مستحکم کرنے، آئین اور قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے جس کے ذمہ دار خود سیاستدان ہیں۔ سیاستدانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آئین و قانون کے تحت ان کی تابع رہے۔ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی اپنا قبلہ درست رکھیں۔ آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں گے آپ کی پسند وناپسند مختلف ہوگی لیکن فوج تو اپنی ہے اور ملک وقوم کی حفاظت پر مامور ہے۔ جن کی وجہ سے آپ کی سیاست بھی قائم ہے ۔ سیاستدانوں کی جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے کم عقل سیاستدان ملک میں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دارفوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں جو سراسر غلط ہے ۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ماضی اور حال میں فوج کو سیاستدا ن سو کنوں کی طرح طعنے ہی دیتے ہیں ، سیاسی گلیاروں میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک نئی نسل کی ضرورت ہے۔

  • دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسلم لیگ (ن) کے اصل میرکاررواں نوازشریف تھے مگر اس کاررواں میں شامل (ن) لیگ کے کسی رہنما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کی عدالت عظمیٰ میں جاکر درخواست دائر کرتا کہ نواشریف کو تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا اس کے اسباب کیا تھے؟ بھٹو کا مقدمہ پیپلزپارٹی لے کر عدالت میں گئی ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھٹو کا ٹرائل درست نہیں تھا۔ بھٹو کے عدالتی قتل ، محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کا تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دینا اس کا نقصان ملک و قوم کو جو ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نوازشریف نے استحکام پاکستان اور قوم کے سہانے مستقبل کا خواب دے کر بھاری قیمت ادا کی ۔قربانیوں کی اس داستان میں اپنے والدین سے جدائیاں اپنی شریک حیات سے نزع کے عالم میں پابند سلاسل کی کال کو لبیک کہا یہ وہ واقعات ہیں جن کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے اور اس پر ستم یہ ہے کہ اقتدار کے پجاری اقرباء اور رفقاء نے جس تیزی سے پیٹھ دکھائی وہ کہانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے میر کاررواں کی کشتی میں سوار، تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو کشتی میں سوراخ کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاک فوج اور جملہ اداروں پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والے غور کریں اگر انتخابات میں دھاندلی ہوتی یا فوج دھاندلی کرتی تو کے پی کے کیا پہنچ سے دور تھی ،وہاں حکومت پی ٹی آئی کی ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی نے نشستیں حاصل کیں اگر پاک فوج اور جملہ ادارے دھاندلی کرتے تو کیا بانی پی ٹی آئی کو اتنی پذیرائی ملتی؟

    سیاست چونکہ ایمانی باتوں سے دور ہے اس لئے شکوک کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ سابق ادوار میں نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھ کر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی نشستیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کروائی۔ ملک کے معاشی، سیاسی حالات کے پیش نظر اپوزیشن اگر حکومت کے ہمرکاب ہونا نہیں چاہتی تو قومی مسائل جس میں معیشت اہم ہے رخنہ اندازی نہ کرے اداروں کو متنازعہ بنانے کے عمل سے گریز کیا جائے عوام کی اکثریت مہنگائی ، بیروزگاری اور دیگر مسائل جن کا عوام کو سامنا ہے بیزار ہے۔ اپنا رخ شور شرابے کے بجائے ملک و قوم کی طرف موڑ دیا جائے

  • وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    وقت کی پابندی اور مریم نواز کی نئی روایت، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ عرب ممالک کی ترقی کے راز میں جہاں بہت سے دوسرے عوامل شامل ہیں و ہاں وقت کی پابندی شامل ہے۔ نظام کائنات بھی پابندی وقت کا درس دیتا ہے۔ موسم اپنے مقررہ وقت پر بدلتا ہے ۔ دن رات مقررہ وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ چاند سورج کا ایک مقررہ وقت ہے۔ انسان اگر وقت کی پابندی کا عادی نہیں ہوتا تو یہ اس کی نا سمجھی یا نااہلی کے سوا کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں وقت کی پابندی کا حکم دیاہے۔ وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے۔ ملک میں حکومتوں کی ناکامی کی ا یک وجہ وقت کی پابندی ہے بالخصوص بیورو کریٹ، سول انتظامیہ ، وقت کی پابندی کرنا شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

    بلاشبہ مریم نواز نے صوبے میں نئی روایت ڈالی ہے۔ صوبائی کابینہ کی اکثریت نئے اور پڑھے لکھے وزراء کی ہے جو قابل تحسین ہے ۔ پنجاب میں گڈ گورننس اور عوامی فلاح ا ورترقیاتی عمل کی بحالی بلاشبہ عوام میں اُمید کی کرن پیدا ہو گئی ہے مگر اس سمت میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مزید اقدامات اٹھانا ہوںگے۔ چیف سیکرٹری ، صوبائی سیکرٹری ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، تحصیل آفس میں اسسٹنٹ کمشنر ، تحصیلدار ، پنجاب میں ہر سرکاری محکمے میں کسی بھی دفتر میں عملہ حکومت کا چہرہ ہوتا ہے تمام حکومتی عملہ کو وقت کا پابند بنایا جائے ۔ قومی فریضہ جان کر حکومتی عملہ عام آدمی کے مسائل حل کرے عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ عام آدمی کو غلام سمجھنے کی بجائے خادم بن کر اُن کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردارا دا کرے۔ عوام تک حکومت کی رسائی اور رہنمائی یقینی بنائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی حکومت اور گڈ گورننس کا عمل نظر آئے ۔

    آج بھی پنجاب میں چیف سیکرٹری کے ماتحت سول انتظامیہ مغلیہ دور کے شہزادوں کے طرز پر زندگی گزار رہی ہے ۔ کسی بھی ضلع میں کمشنر سے لے کر تحصیلدار تک وقت پر دفتر نہیں آتے ،عام آدمی کی رسائی نہ دربار میں اور نہ سرکار میں اگر سول انتظامیہ کا مغلیہ دور کے شہزادوں کا طرز ندگی رہا تو پھر گڈ گورننس ایک سوالیہ نشان رہے گا۔

  • کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وائٹ ہائوس کا نیا مکین کون ہوگا ؟بائیڈن یا ٹرمپ عالمی میڈیا کا تبصرہ جاری ہے,تاہم ٹرمپ کی امریکہ میں مقبولیت میں اضافہ ،بائیڈن کی جنگی پالیسیوں سے امریکی عوامی نفرت کا اظہار ہے،د وسری طرف بین الاقوامی برادری امریکی خارجہ پالیسی کی مستقبل کی سمت کے بارے میں بے تابی سے انتظار کررہی ہے، امریکہ کی خارجہ پالیسی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ا س کے فیصلے اور اقدامات پوری دنیا میں گونجتے ہیں، امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنا دنیا کے رہنمائوں کے لئے بہت اہم ہے، بائیڈن اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی، عالمی دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ،یہ زیادہ دور کی بات نہیں،تیسری دنیا کے لئے امریکہ کی پالیسی کیا ہے اور کیا ہو گی ایک عالم گواہ ہے،

    پاکستان میں پردہ اسکرین پر جو سیاسی فلم دکھائی جا رہی ہے اس کا انجام کیا ہو گا اس کا اظہار گزشتہ روز قومی اسمبلی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کیا اور کہا کہ موجودہ شور شرابے کا انجام اچھا نہیں ہوگا، لگتا ہے یہ کمپنی زیاد دیر نہیں چلے گی،بلاشبہ راجہ پرویز اشرف نے درست ہی کہا عوام کی اکثریت سیاسی فلم تو دیکھ رہی ہے اور کھڑکی توڑ رش ہے لیکن اس سیاسی فلم کی ناکامی کے بہت سے اسباب بھی ہوں گے ، فلم میں سنجیدہ اداکار نہیں پوری فلم مزاحیہ نظر آرہی ہے، ساری سیاسی فلم میں ہیرو نام کا کوئی بندہ نظر نہیں آرہا، ایک ہیرو جیل میں، دوسرا ہیرو نواز شریف جاتی امراء میں ، تیسرا ہیرو بلاول بھٹو، ہر طرف جو کر راج کا منظر دکھائی دے رہا ہے، خدا نہ کرے یہ سیاسی فلم فلاپ ہو جائے ،یہ اپنے ساتھ پوری فلم انڈسٹری کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،

    جن سیاسی جماعتوں نے شہباز شریف کو ووٹ دیا اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا آنے والے کل میں بھی ساتھ رہیں گے ؟ سردست یہ دیکھنا اہم ہے کہ سانجھے کی ہانڈی میں سیاسی ابال کس حد تک آتا ہے،یہ بات طے ہے کہ ہم عوام اپنے سیاسی لیڈروں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں میں حسینی اور یزیدی ٹولے موجود ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر ہر حد کراس کر جاتے ، حد کراس کرنے والوں کو خدا بھی معاف نہیں کرتا ،نواز شریف نام کے بھی شریف اور بحیثیت انسان بھی شریف ہیں قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن ارکان کے لئے فرد واحد کے خلاف نعرہ بازی آپ کو کو زیب نہیں دیتی.

  • ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں ن لیگ ، سندھ پیپلزپارٹی، کے پی کے پی ٹی آئی اور وفاق میں مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے، کوئی بھی سیاسی جماعت سچا پیار نہ ملنے کا گلہ نہیں کر سکتی، اب پارلیمانی سیاست کے پلیٹ فارم یعنی اسمبلیوں میں عوام کے حقو ق کا دفاع کیا جائے، دھرنوں غل غپاڑے، دھینگا مشتی کے ذریعے وطن عزیز اور جمہوری روایات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، وطن عزیز اور عوام کو بحرانوں سے نکالنے کا وقت آ گیا ہے، غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے ،قومیں کبھی دو عملی اور دو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہوتیں،اپنے وسائل پر توجہ دیں، کشکول پکڑے ہم کب تک عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے قطار بنائے کھڑے رہیں گے؟ بین الاقوامی مالیاتی ادارے وطن عزیز کو اپنی انگلیوں پر کس اطمینان سے نچاتے ہیں ،اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ،واحد حل یہی ہے کہ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کیلئے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا، وطن عزیز کی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ سیاسی قیادتیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں، الزام تراشیوں کی سیاست سے نکل کر پاکستان کو بطور ریاست مستحکم کرنےاور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں، وطن عزیز اور عوام کے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا،سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے،

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے،کہاں غلطیاں ہیں ہم آج تک عالمی مالیاتی اداروں کے مقروض کیوں ہیں؟ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے کیوں نہیں،ہم آج تک بجلی اور گیس کے بحران سے دوچار ہیں کیوں؟ عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے،اب وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان اور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں باقی سب راستے غلط ہیں۔

  • غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کے تابوت میں کیل ٹھونک رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں سماعت جاری ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک اس عالمی عدالت میں اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ امریکی صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسی نے امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات بائیڈن کی دوبارہ کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ میں جنگ مخالف غصہ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہائوس واپسی کا اشارہ دے رہا ہے۔

    غزہ کی تازہ ترین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ذرا چند ثانیوں کے لئے رک جایئے اگر آپ باپ بھی ہیں تو تھوڑا تصور کیجئے کہ جیتے جاگتے بچوں میں اور اس معصوم میں کیا فرق ہے سبھی کے دو ہاتھ ،دو پائوں، دو آنکھیں. ایک جیسے مگر غزہ میں اس پھول کو کھلنے کی اجازت نہیں۔ سوال نیتن یاہو اور امریکی صدر بائیڈن سے ہے کیا ان بچوں کا قصور یہ ہے کہ فلسطین میں پیدا ہوئے ہیں؟ تم سب اہل کتاب ہو یہ ساری کائنات اور یہ سارے گورکھ دھندے اور نظام ارض و سما کسی دیوانے، (نعوذ باللہ) کا کھیل بھی نہیں ہے اور نہ کسی جادو گر کی ساحری کا امتیاز، بلکہ یہ مالک ارض و سما کے حکم کا ایک ادنیٰ سا نمونہ اور شاہکار ہے ۔ادھر کن کہا اور ادھر ہو گیا۔ اس کی طاقت آج بھی وہی ہے اس کا دائرہ اختیار بھی لامحدود ہے اور اس کے سامنے ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹے سے چھوٹی چیز بھی اسی طرح اس کے حکم کی محتاج ہے جس طرح روز آفرینش کو تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے معاملات جدا جدا ہیں کبھی کوئی عروج پر ہے اور کبھی کوئی۔ دنیا بھر کے وہ حکمران جو ضمیر فروش ہیں،

    فطرت الٰہی کے سرکشو، دولت کے پجاریو تمہیں نوشتہ دیوار نظر نہیں آتا۔ تم سے پہلوں کا کیا حشر ہوا؟ ذرا ڈھونڈو کہاں ہیں وہ سارے۔ اس عالم فانی سے ایک دن کوچ کرنا ہے خدا کی زمین پر قتل و غارت اور فساد پھیلا کر تم کس منہ سے روز محشر میں خدا کا سامنا کرو گے۔ ملکی اہل سیاست سے، سیاستدانوں کے طاقتور حلقوں سے، یہ پاکستان کی زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، دھرنوں، غل غپاڑے، دھینگا مشتی، سوشل میڈیا پر خیال پروروں کے ذریعے وطن عزیز کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے وطن عزیز کی اپنے گھر کی طرح حفاظت کی جائے۔ غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے۔ دنیا کے حالات دیکھ کر ہوش کیا جائے۔

  • نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے امیدیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے امیدیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)مریم نواز نے بطور نامزد وزیراعلیٰ پنجاب پارلیمانی پارٹی سے خطاب میں اپنی حکومت کی ترجیحات مقرر کر کے صوبے کے عوام بالخصوص غریب اور مڈل کلاس طبقوں میں امید کی کرن پیدا کردی ہے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر ، امن و امان اور دیگر سہولیات کو ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور قصبہ، گائوں کی سطح تک پہنچانے کا عزم اور عوام کی مایوسیوں کو دور کرنے اور حکومت پر اعتماد کی بحالی انتہائی ضروری ہیں، کسی بھی حکومت کی پہلی ترجیح امن و امان ہوتی ہے اس سلسلے میں سیف سٹی لاہور کی طرز کا نظام پنجاب کے بڑے شہروں تک بڑھایا جائے، پنجاب میں پولیس افسران کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کی خود نگرانی کریں ،صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کریں، آئی جی پنجاب کو تبدیل کرنے اور چیف سیکرٹری پنجاب کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کو فری ہینڈ دیں تاکہ یہ افسران اپنی مرضی سے صوبے میں تعیناتیاں کریں،

    گزشتہ چند سالوں میں نگران حکومت کو چھوڑ کر پنجاب حکومتوں کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو بھاری رشوت کے عوض من پسند اضلاع میں سی پی او، ڈی پی او، ڈی سی، اے سی، اور تحصیلدار حتی کہ پٹواریوں کی تقرریوں کی روش کی تقلید ہر محکمے میں معمول بنی رہی،ناقابل یقین حد تک سرکاری عمارات اور دیگر پروجیکٹس کی تعمیر و تکمیل اخراجات کے بلند تخمینوں اور کمیشن کٹوتیوں کا جو رواج محکمہ تعمیرات اور بلدیات میں ڈالا گیا اس سے بیورو کریسی اور ٹھیکیدار کروڑ پتی سے ارب پتی بن گئے اورعوام کے خون پسینے سے کشید کردہ ٹیکسوں کا بے دریغ ضیاع دیکھنے میں آیا .

    مریم اپنے قائد نوازشریف کے نقش قدم اور رہنمائی پر چلتے ہوئے بلاشبہ صوبہ پنجاب کی حکومتی مشینری کو نہ صرف لگام ڈالیں گی بلکہ کرپشن اور سفارش کا قلع قمع اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے شفاف نظام کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی ،ضرورت اس امر کی ہے کہ رائٹ مین فار رائٹ جاب کا فارمولا اپنایا جائے ،کھڈے لائن لگائے گئے سول انتظامیہ، اعلیٰ پولیس افسران کی جانچ پڑتال کے بعد فیلڈ پوسٹنگ دی جائے ،نامزد وزیراعلیٰ کے پی کی طرح پولیس افسران کو دھمکیاں نہ لگائی جائیں، تمام محکموں کو وقت کی پابندی یعنی صبح سے بارہ تک عوام کی شنوائی اور مسائل کا حل ہوتا نظر آئے، ملاوٹ کے بے خوف و خطر اور من مانے نرخوں کا کنٹرول مدنظر ہونا چاہیے تاکہ پنجاب میں نوجوان خواتین اورنوجوانوں کو حقیقی تبدیلی نظر آئے،جس طرح نوازشریف نے اپنی وزارت اعلیٰ میں پنجاب کو تبدیل کیا ترقیاتی کاموں کے حوالے سے، ماحولیاتی آلودگی، زراعت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، صوبے کےعوام کو انتہائی اعلیٰ کارکردگی کی حامل ٹیم کے ذریعے کرپشن، کمیشن، لینڈ مافیا سے پاک نظام کو عمل میں لانا ہوگا، امید ہے نامز وزیر اعلی پنجاب مسلم لیگ ن اور نوازشریف کی طرف سے سونپی جانے والی بھاری ذمہ داری کو سرانجام دینے میں دن رات کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گی۔

  • انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ کہانی آج کی نہیں کئی سال پہلے کی ہے انتخابات میں دھاندلی قوم کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے، سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر مشاہد حسین نے بھی اس کا اظہار کیا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب سیاسی قائدین ہی دے سکتے ہیں،اقتدار اور اختیارات کے سوداگر اس میں خود ملوث ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے 2018ء اور اب 2024ء میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کیا اور کے پی کے انتخابات کا بھی ذکر کیونکہ ایک جماعت پی ٹی آئی دھاندلی زدہ انتخابات تو قرار دیتی ہے مگر کے پی کے انتخابات کو شفاف قرار دیتی ہے، تاہم خدا نہ کرے قوم انتشار کی سیاست کے راستوں پر چل کر ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جائے جو پہلے ہی معیشت اور دیگر معاشرتی مسائل کی وجہ سے گرداب میں ہے،تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی جس میں چین بھی شامل ہے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسلامی جمہوریہ میں عدم استحکام نہیں دیکھنا چاہتے،اب چونکہ مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں جاری انتشار کو روکنے کے لئے اپوزیشن سے انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک اور عوام کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں کیوںکہ سیاست میں تشدد ہٹلر کا مذہب تھا، ہٹلر اور ہلاکو خان کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اسلامی راستوں کا انتخاب کیا جائے،

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف ایک زیرک سیاستدان ہیں جو کچھ مسلم لیگ ن کے ساتھ بطور جماعت کیا گیا وہ ایک الگ ہی داستان ہے لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سیاست میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے نوازشریف نام کے بھی شریف ہیں اور ایک شریف انسان بھی ہیں،نوازشریف نے موجودہ وقت میں جب ملک و قوم معیشت کی وجہ سے انتہائی نازک اور تکلیف دہ حالات سے گزر رہے ہیں ملک میں جاری نفرت کی فضا کو کم کرنے کے لئے جو کردار ایک بار پھر ادا کیا اور برداشت کیا وہ قابل تحسین ہے تاہم ملکی سیاست میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے تاج و تخت کے حصول کی خاطر بادشاہ اپنے باپ بیٹوں اور بھائیوں تک کا خیال نہیں کرتے، مریم نوازشریف چونکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے جا رہی ہیں ،انہیں پنجاب میں گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا،خوشامدی ٹولے سے بچنا ہوگا قوموں کو مایوس کرنے والے کو تاریخ کے صفحات جگہ نہیں دیتے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر عام آدمی کے لئے ترقی کا سفر شروع کریں۔

  • لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    فوج اور عدلیہ دنیا میں کسی بھی ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا ہر معاملہ کو لے کر بے دریغ استعمال ریاست کو کمزر کرنے کے مترادف ہے ۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ، جلسے ، جلوسوں میں موضوع بحث بنا کر عالمی دنیاکو ہم اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی چنگاریاں چاروں طرف پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ اصل میں جو اس وقت ملک میں کہرام مچا ہے اس کہرام کی وجہ سیاسی جماعتیں ہیں سیاسی جماعتوں میں یزیدی اور حسینی ٹولے موجود ہیں۔ اقتدار اور اختیارات نے انہیں نیم پاگل بنا دیا ہے۔ایک دوسرے کو زچ کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

    یاد رکھیے عالمی سطح پر سیاسی منظر نامے بدل رہے ہیں جمہوریت کا پنپ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے سیاسی لیڈر شپ کو اُس کی مقبولیت سے محروم کرنے کا نقصان ملک و قوم کا ہوتا ہے نہ ملک ترقی کرتا ہے او رنہ عوام کے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔ نہ جمہوریت مستحکم ہوتی ہے جن سیاسی لیڈروں کی اپنی ہی جماعتوں میں یزیدی ٹولے موجود ہیں اور اپنے قائدین کے مخبر ہوں وہ قائدین اپنی مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت میں مخبروں کی لائن لگی ہے۔
    بقول شاعر نہ لو انتقام میرے ساتھ ساتھ چل کے۔
    ہماری سیاست اور جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ ایسے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جاتا ہے جن کو پاکستان او رعوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ صرف دھواں دھار تقریر کرنے سے سیاستدان نہیں کہلایا جا سکتا ۔ ایسے لوگ مخبر او ر خوشامدی کہلو اسکتے ہیں،سیاستدان نہیں۔

  • سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ملک میں ایک مخلوط حکومت کے لئے سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں تاہم مخلوط حکومت کو ایک بھرپور مزاحمت کرنے والی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، پیپلز پارٹی آدھا تیتر آدھا بٹیر والی سیاست کررہی ہے،وفاقی کابینہ میں تادم تحریر شمولیت سے انکاری ہے، آئینی عہدے لینے کا اعلان کرچکی ہے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف کو ووٹ بھی دینے کا اعلان کرچکی ہے،مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون ہیں جو وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد ہوئی ہیں بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے پنجاب میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں،

    پنجاب کی اکثریت کا روزانہ سول انتظامیہ اور پولیس سے واسطہ پڑتا ہے اگر صوبے میں میرا ڈی پی او میرا سی پی او میرا ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر کے روایتی تبادلے کروانے والے ایم پی اے اور ایم این اے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان کی سفارشات پر عمل کریں گی تو پھر پنجاب میں گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہوگا جبکہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت بھی نہیں ہوگی، صوبے کے دو افسران چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق پنجاب بھر میں تعیناتیاں کریں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی مقررہ کردہ ٹیم کو ہر ماہ گڈ گورننس کی رپورٹ دیں،یکے بعد دیگرے پنجاب میں حکومتوں کی ناکامی انہی سفارشی ایم پی اے اور ایم این اے کی بدولت ہوئی، لاکھوں کا نذرانہ دے کر اپنی من پسند کی جگہ تبادلہ کروا کر مسلم لیگ ن اور وزیراعلیٰ کی گڈ گورننس کے لئے ایک سوالیہ نشان ہوں گے، نامزد وزیر اعلی کو صوبے کی سول انتظامیہ اور پولیس افسران کو عوام کی خدمت اور ہر خواص و عام کے لئے دروازے کھلے رکھنے اور فرائض کی کما حقہ ادائیگی کاپابند بنانا ہوگا، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں اگر صوبے کے افسران دن گیارہ بجے دفتر پہنچیں گے تو پنجاب میں گڈ گورننس کیسے قائم ہوگی۔