Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام سے سال 2013 کا منظر یاد آگیا جب وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر تھی اور بجلی کی عدم دستیابی سے ملک میں اندھیروں کا راج تھا اسی دوران میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اعلان کیا کہ دہشت گردی اور بجلی کے بدترین بحران کا خاتمہ ان کا ٹاپ ایجنڈا ہو گا، اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلے اے پی سی کال کی جس میں عمران خان سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی قیادت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی .اس حوالے سے جب سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی پر نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا اورضرب عضب کا آغاز ہوا ،

    قارئین، پاک فوج اور جملہ اداروں نے لاتعداد قربانیاں دے کر امن بحال کیا نوازشریف کی سیاسی اور معاشی بصیرت کے بل بوتے پر ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ، سینیٹر اسحاق ڈار جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے انکی کمال حکمت عملی اور دن رات محنت سے ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوگیا سی پیک سے قوم میں اُمید کی کرن جاگی ، آج پھر ملک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے ،عزم استحکام وطن عزیز سے دہشت گردی کے اُبھرتے ہوئے منحوس سائے ، معاشی بدحالی ، توانائی کا بحران اور دیگر مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب ملک میں امن ہو گا، وطن عزیز کے ان کھیلانوں میں امن کی ہریالی اُگانے کا بیڑا ایک بار پھر ضرب عضب کی طرح پاک فوج اور جملہ اداروں نے اٹھایا ہے تو اس میں بحث او ر دھوراں دھار تقریریں کیسی ؟ کیا پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کے پروموٹرز اور سپورٹرز بیٹھے ہیں؟ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے افواج پاکستان ، پولیس اور عوام نے لازوال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس پر ایک عالم گواہ ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ملک وقوم کی بقاء کے لئے آپریشن عزم استحکام کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا، ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملک وقوم کے اولین مفاد میں ہے آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟

  • معیشت  کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد ( رپورٹ،شہزاد قریشی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کےہنڈرڈ انڈیکس کا 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنا ملکی تاریخ میں معیشت کی بحالی کی جانب مضبوط حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے اور دیوالیہ دیوالیہ کی رٹ لگا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ، ادھر گرڈ سٹیشنوں کا گھیرائو کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے وہ ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں سرانجام دے رہے بلکہ عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلاشبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی جارحانہ بلندی نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان کی درست سمت سفر کی عکاس ہے،

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وفاق کی اکائیوں یعنی صوبائی حکومتوں اور ریاستی و حکومتی اداروں کو یک جان ہو کر پورے اخلاص کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے روڈ میپ کی منزل کی جانب سفر جاری رکھ کر وطن عزیز کو مضبوط سے مضبوط بنانے کا عزم کرنا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے وژن کو اگر ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا بلکہ جی 20 کی صف میں کھڑا ہوتا، اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر میاں محمد نواز شریف کے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک معاشی طور مستحکم ہو اور عوام کو مہنگائی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات مل سکے

  • نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    میاں نواز شریف کا سینٹ میں پارلیمانی پارٹی کے ممبران سے خطاب، پاکستان کے عوام کے لئے امید کی کرن اور سیاسی اکابرین کے لئے مشعل راہ ہے،میاں نواز شریف کے قول و فعل اور ان کے سیاسی افکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی مایوس ہوئے نہ پاکستان کی ترقی کا مشن ترک کیا اور نہ ہی عوام کی خدمت کی ترجیحات بدلیں میاں نواز شریف نے غل غپاڑے اور شور شرابے کی نام نہاد سیاست کا راستہ کبھی نہ اپنایا. انہوں نے اپنے اقتدار کھو جانے پر کبھی پاکستان کے مفادات کے خلاف نہ تو لب کشائی کی اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کو دعوت دی جبکہ یہاں تو ایک حادثاتی سیاستدان یہاں تک کہہ گزرے کہ اگر انہیں اقتدار سے ہٹانا تھا تو بہتر تھا بم پھینک دیتے،

    میاں محمد نواز شریف پاکستان کی ترقی، استحکام اور معاشی آزادی کی جنگ کے مجاہد ہیں اور یہ جہاد انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی صورت میں آئندہ نسلوں کے لئے وقف کردیا ہے، نواز شریف کی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کو یہ تنبیہ کرنا کہ مہنگائی کے طوفان سے عوام کو ہر صورت بچایا جائے پاکستان کے عوام کےلئے دل موہ لینے والے تاثرات ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب مسلم لیگ ن کے ہاتھوں ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    nawaz

  • مریم نواز کی قیادت میں  پنجاب میں عملی مثبت تبدیلی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں عملی مثبت تبدیلی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیف سٹی پنجاب کے زیر اہتمام ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام اور دستک ایپ کے ذریعے اس حد تک خواتین کی فوری رسائی بلا شبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے جدید پنجاب وژن کی عکاسی ہے اور اس میں آئی جی پنجاب اور سیف سٹی پنجاب کے ڈی آئی جی احسن یونس کی پروفیشنل صلاحیتوں کا شاہکار ہے،خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی ، جبر ، دھمکی کی اطلاع فوری طور پر ریکارڈ کروا سکتی ہیں، اپنی نوعیت کے پہلے ورچوئل پولیس اسٹیشن برائے خواتین میں خواتین کی کال ریسو کرنے پر خواتین آپریٹرزہی تعنیات کی گئی ہیں اور خواتین کالرز کی کالز پر فوری پولیس کارروائی اور ریسکیو آپریشن عمل میں لایا جائے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے جہاں صحت، تعلیم ، مواصلات ، صاف پانی کی فراہمی ،سستی روٹی، سستی اشیائےخوردنی کی فراہمی اور صوبے بھر میں جرائم کی بیخ کنی کے لئے انتظامیہ کو متحرک کیا ہے ،وہاں خواتین کو فوری پولیس امداد کی فراہمی کی جانب عملی قدم اٹھایا ہے،جس کی مثال یقینا جرمنی، فرانس ،برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تو دی جا سکتی ہے لیکن یہاں پہلے اس کا تصور بھی نہ تھا،

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں ایک عملی مثبت تبدیلی ہونے جا رہی ہے جو صوبے کے وسائل عوام کی حقیقی بہتری اور ترقی پر خرچ کر کے حاصل ہو گی ،گزشتہ دور میں بلا شبہ تبدیلی کا نعرہ لگایا گیا مگر حقیقی تبدیلی کے نام پر لوٹ کھسوٹ پنجاب میں میرا ڈی سی ، تمہارا ایس ایچ اوکی روش اپنا کر پنجاب کو پیچھے دھکیل دیا گیا، اب نواز شریف اور مریم نواز کی مخلصانہ قیادت کے ثمرات عوام کو ملنا شروع ہو ئے ہیں ، اس ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان اور ڈی آئی جی احسن یونس جنہوں نے سیف سٹی انچارج کا عہدہ سنبھالنے سےقبل راولپنڈی میں بطور سی پی او پولیس لائن سے پولیس اسٹیشن تک ہر پولیس اہلکار کو ایک نیا جذبہ دیا اور پولیس ورکنگ کو ایک جدت بخشی ، یقینا وہ اس کار خیر میں جو انہوں نے اپنا ایک کردار ادا کیا اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب بھر کے ممبران اسمبلی وزیر اعلیٰ پنجاب کی عوام دوستی کی مہم میں اپنا کردار ادا کریں ، لینڈ مافیا کی پشت پناہی ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی سے دور رہیں۔

  • 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ: شہزاد قریشی) پاکستان میں نہ تو 71ء جیسے حالات ہیں اور نہ ہی 24کروڑ عوام کا ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہی نہیں بلکہ اسے جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیاء اور اسلامی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے۔ دیوالیہ ہونے کی رٹ ناکام ہوگئی اور اب 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ملکی معیشت اور سٹاک ایکسچینج کے عشاریئے اور مہنگائی میں کمی جیسے اشارے بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت عوام کی بہتری اور پاکستان کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

    آئے روز سڑکوں پر ادھم مچانے میڈیا پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کی بجائے قومی اسمبلی اور سینٹ میں سنجیدہ بحث اور تجاویز کے ذریعے قومی سیاسی پارٹیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کی لیڈر شپ کو مہنگائی غربت اور سماجی ناانصافیوں میں پسے ہوئے عوام اور قومی اداروں کی مضبوطی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے اور وطن عزیز کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربانی دینے کی مثال قائم کرنا ہوگی کیونکہ اگر پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے اور اقتدار اور حزب اختلاف کے استحقاق ہیں اسی لئے سب سے پہلے استحقاق پاکستان اور استحقاق عوام کو ترجیح دیں ورنہ تاریخ کسی بھی غدار کو معاف نہیں کرے گی۔

  • نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی قوتوں اور عوام کو ریاستی اداروں پر تنقید پر اکسانے والے پاکستان سے مخلص نہیں ۔ریاستی و قومی ادارے ہی وطن عزیز کی بقا اور استحکام کے ضامن ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔ وطن عزیز کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے کہنہ مشق سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو کہ میاں نوازشریف کی صورت میں ہی موجود ہے۔ تمام تر سپر پاور کے دبائو کو نظرانداز کر کے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کوناقابل تسخیر بنانا اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا، وطن عزیز میں موٹرویز کا جال بچھا کر معیشت کے پہیے کو نئی رفتار بخشی۔ نوجوانوں کے لئے آسان قرضے، پیلی ٹیکسی کی آسان قسطوں پر فراہمی کے ذریعے بیروزگاری پر قابو پانے جیسے اقدامات کے بعد میاں نوازشریف نے تکمیل پاکستان کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو دور کیا ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں صنعتکار پاکستان سے اپنی ملوں کو اٹھا کر دوسرے ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے تھے اور مختصر عرصے میں چائنا سے معاہدے کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا۔

    میاں نوازشریف کی انتھک کوششوں کا سلسلہ جاری رہا اور سی پیک کے منصوبے اور گوادر سی پورٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان کو بیرونی قرضوں سے نجات اور ایشین ٹائیگر بنانے جیسے اقدامات کے تمام حلقے معترف ہیں۔ اگر اس وقت دھرنا سیاست کے ذریعے چینی صدر کے دورے کو منسوخ نہ کرایا جاتا تو آج پاکستان کا معاشی منظر نامہ مختلف ہوتا۔ اگر سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جاتے تو آج پاکستان معاشی طور پر خودکفیل بن چکا ہوتا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو اعلیٰ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر کے میاں نوازشریف کی غیر متزلزل قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کے ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم کرنا چاہئے۔

  • خبرغم،باغی ٹی وی کےکالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی وفات پا گئیں

    خبرغم،باغی ٹی وی کےکالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی وفات پا گئیں

    روزنامہ اوصاف اور باغی ٹی وی کے کالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی وفا ت پا گئی ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون

    باغی ٹی وی کے مستقل کالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی ،انکے بڑے بھائی ذاکر قریشی کی اہلیہ وفات پا گئی ہیں،مرحومہ کیپٹن ریٹائرڈ ثریا کی وفات امریکہ میں ہوئی ہے، شہزاد قریشی کی بھابھی کی وفات پر سی ای و باغی ٹی وی،معروف اینکر پرسن مبشر لقمان و باغی ٹی وی کی ٹیم نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، دعا ہے رب تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، آمین

    باغی ٹی وی کےکالم نگار شہزاد قریشی کی بھابھی سپردخاک،سیاسی و سماجی شخصیات کی تعزیت
    باغی ٹی وی اور روزنامہ اوصاف کے تجزیہ کار شہزاد قریشی کی بھابھی اور ذاکر قریشی کی اہلیہ کیپٹن ریٹائرڈ ثریا مختصر علالت کے باعث وفات پا گئی تھیں جن کی امریکہ میں نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کر دی گئی ہے،دریں اثناء ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار،وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی پرویز رشید،روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر اور اے بی این نیوز کے چیئرمین راجہ مہتاب خان،سینیٹر عرفان صدیقی،ممبر قومی اسمبلی قمرالاسلام ،مسلم لیگ ن یو کے صدر زبیر گل ،سینیٹر ناصر بٹ،ممبر صوبائی اسمبلی راجہ شوکت عزیز بھٹی،لند ن اور ہالینڈ میں موجود پاکستانی سفراء ،آزاد کشمیر و پنجاب کے اعلیٰ پولیس افسران،سول بیورو کریٹس ،ممبر راولپنڈی کینٹ بورڈ ملک عثمان،صحافیوں ،سیاسی سماجی شخصیات کی کثیر تعداد نے شہزاد قریشی سے انکی بھابھی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ،مختلف شخصیات نے ٹیلی فون کال پر اور گھر آکر شہزاد قریشی سے تعزیت کی ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطافرمائے،آمین

  • عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے محکمہ تعمیرات اور بلدیات کو گلیات اور سڑکوں کی تعمیر سے قبل ویسٹ مینجمنٹ اور سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی ضروری مرمت کے احکامات اور کوالٹی کنٹرول کی ترجیحات کو مدنظر رکھنے جیسے اقدامات قومی سرمائے کے درست استعمال کی جانب قابل تحسین قدم ہے جس سے عوامی فنڈز کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار میں گلیات اور سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوتے ہی دوسرے ہفتے میں واٹر سپلائی یا ٹیلی فون یا گیس والے بنی بنائی گلی سڑک کو اکھاڑ کر چلے جاتے تھے جس سے گلی نالی کی پے درپے تعمیر پر ترقیاتی گرانٹوں کا زیاں اور ٹھیکیدار کلچر کا فروغ دیکھنے میں آیا اور سیاسی اثر و رسوخ حتیٰ کہ بلدیات کے ملازمین نے ہی اپنے رشتے داروں کو ٹھیکیدار رجسٹر کراکے اپنے خاندانوں کی چاندیاں کیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیات اور تعمیرات کے محکموں کے پلاننگ شعبوں اور مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندے کسی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل نیچے موجود ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی مرمت و تبدیلی کیلئے کلیئر کریں اور ٹھیکیدار کی مانیٹرنگ پر مقامی نمائندوں کو فوکل پرسن اور اہلیان علاقہ و محلہ کے ایماندار افراد کی کمیٹی کو کوالٹی کنٹرول میں شامل کیا جائے جو کہ کنکریٹ کے میٹریل کی کوالٹی اور کام مکمل ہونے کے بعد اس کی آبیاری کو بھی ٹھیکیدار سے یقینی بنائے. آئے روز گلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور اہلیان محلہ کی جانب سے خود ہی نالی یا گیس کنکشن کی کھدائی کے ذریعے یا جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنانے کی بلا روک ٹوک روش کو بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس اپنی کاروائی میں شامل رکھے بلدیاتی افسران اور محکمہ تعمیرات کے افسران جن میں ایس ڈی او‘ ایکس ای این‘ سب انجینئر‘ بلدیہ کے سی او اور کلرک صاحبان جس دیدہ دلیری کے ساتھ 10فیصد کمیشن کی رواجی کمائی کے عادی ہوچکے ہیں اس کے بغیر وہ ٹھیکیدار کا چیک سائن نہیں خرتے اس کرپشن کا قلع قمع بھی ہونا چاہئے تاکہ عوام کا فنڈ مکمل طور پر عوام پر ہی خرچ ہو نہ کہ افسر شاہی کے نذر نذرانوں کی نذر ہو۔

  • دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تازہ ترین خبر کے مطابق دوبئی لیک سامنے آئی ہے۔ چلئے کوئی کمیٹیاں بنا دیں۔آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا۔ دوبارہ پھر کسی نواز شریف جیسے فرد واحد کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے اور باقی کے افراد کو چھوڑ دیا جائے۔ نواز شریف کو پانامہ نہیں بچوں سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم دوبئی لیک سے ثابت ہو چکا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے تمام راستے صاف ہیں بلکہ موٹر وے کی صاف راستے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں، ہمارے بیوروکریٹس ، دیگر اعلیٰ افسران ، سیاستدان ، اشرافیہ ، لوٹ مار، منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کے ننگے ناچ میں مشغول ہے۔ بدقسمت ملک میں بسنے والے کروڑوں عوام کس کرب میں مبتلا ہیں اس سے ان کو کوئی سرورکار نہیں۔ بے حسی، بے پناہ مہنگائی ،بے قابو غربت ، غیر معمولی حدوں کو چھونے لگی ہے۔

    حکومت میں ہوتے ہوئے حزب اختلاف کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اصلیت ہے مگر اس میں جوش کا پتہ نہیں،ہیرو ہیں جن کے کارنامے نہیں۔ تاریخ ہے جس میں واقعے نہیں۔ تبدیلی کی رفتار ہے جیسے اگر کوئی طاقت حرکت میں رکھنے والی ہے تو محض کیلنڈر ۔ محلاتی سازشوں اور درباری تماشوں میں محو ہیں۔ ہر بار معیشت کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سیاست نظر آتی نہیں رہی مفاد ذاتی سیاست کا دورہے ۔ ایمان۔ ضمیر۔ وفا جیسی چیزیں سیاستدانوں کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج کا سیاستدان کل کا جس پارٹی کو گالیاں دیتا ہے پھر دوسری پارٹی بدل کر گالی د ینے والی پارٹی کے لئے تالیاں بجاتا ہے۔ سیاستدان کی وفاداری تبدیل ،ضمیر تبدیل ، معیار تبدیل، خیال تبدیل ،ان حالات میں منی لانڈرنگ ، کالا دھن سفید نہ ہو تو کیا ہو۔ جن کی اپنی کوئی منزل نہ ہو۔ وہ پاکستان اور عوام کے رہبر کیسے کہلوا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے یہ خطہ ہی نہیں ہے یہ ساری دنیا خدا پاک کی ملکیت ہے ۔ قرآن پاک کا مطالعہ کریں ،سرکش انسانوں کی داستانیں بھری پڑی ہیں اور عبرت حاصل کرتے وقت توبہ کریں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے میرٹ پر اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کی تقرریاں کرکے سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ریاستی مشینری کو عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈویژنل کمشنر ایسے عہدے ہیں جن کا سیاست سے پاک ہونا بہت ضروری ہے اسی طرح پولیس کے محکمہ میں تھانہ سے لے کر آئی جی کے آفس تک کے افسران کو بھی اپنی پیشہ وارانہ آزادی سے کام کرنا چاہئے اور ان افسران کو سیاسی مداخلت سے بے نیاز ہو کر کام کرنا چاہئے جبکہ مقامی منتخب نمائندوں مثلاً ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو بھی بے جا مداخلت سے اجتناب برتنا چاہئے البتہ علاقے کی عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے منصوبوں کی نشاندہی اور ان انتظامی افسران کی راہنمائی کے لئے مشاورت کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی عوام کی بہتری اور ترقی کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور ان کی کاوشوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا سفارش تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حضرات مہنگائی کے کنٹرول‘ تجاوزات کے خاتمے‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں بین الاضلع اور مقامی روٹوں پر ٹرانسپورٹروں کی کرایوں میں اضافے سے لوٹ مار‘ جعلی ادویات اور اشیاء خوردنی میں ملاوٹ پیٹرول پمپوں میں ڈیزل پٹرول میں ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی اور خصوصاً پٹواری مافیا کے قلع قمع کرنے میں کوشاں نظر آنا چاہئے اور غفلت لاپرواہی اور کرپشن میں ملوث پائے جانے والے افسران کے خلاف وزیراعلیٰ صاحبہ کو بھی عوامی شکایات پر نوٹس لینے اور تادیبی کارروائی کرنے کا ایک موثر نظام بھی فعال کرنا ہوگا تاکہ کرپشن فری انتظامی مشینری عوام کی خدمت میں مصرف عمل موجود ہے۔