Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • نواز شریف  کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کا مسلم لیگ (ن) کی مسند صدارت پر دوبارہ بیٹھنا پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت اشارہ ہے ،میاں نواز شریف کے جدید پاکستان کے وژن کے ادنیٰ سے ثبوت لاہور شہر میں اورنج ٹرین‘ میٹرو بس راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹر وبس، پاکستان بھر میں موٹر ویز کا جال بچھانے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب کی تعبیر کی طرف سی پیک اور گوادر سی پورٹ جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جبکہ راولپنڈی کو رنگ روڈ کے منصوبے کی منظوری اور اب اس پراجیکٹ پر عملی اقدامات ایسے منصوبے ہیں جن سے عوام کی زندگی میں سہولیات اور آسانیاں اور ترقی یافتہ انقلاب آتا ہے۔

    آج لاہور کی عوام شدید گرمی کے ایام میں ٹریفک جام کی اذیتوں سے آزاد ہو کر یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اورنج ٹرین اور میٹرو بسوں کی سہولتوں سے فائدہ مند ہورہی ہیں اور خصوصاً خواتین کو اور طالبات کو لوکل ٹرانسپورٹ میں خوار ہونے سے نجات مل چکی ہے جو کہ میاں نواز شریف کی عوام دوست پالیسیوں کے عملی ثبوت ہیں۔

    ادھر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عوامی گورنروں کی تقرریوں کے لئے سردار سلیم حیدر اور فیصل کریم کنڈی کی منظوری دے کر پارٹی کارکنوں کے دل جیت لئے ہیں جس سے جمہوری سیاست میں گراس روٹ سطح پر ورکروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ورکروں اور پسے ہوئے طبقے کو آگے لانا ہوگا کیونکہ گزشتہ ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی پر خاندان پرور سیاسی مداریوں کے قبضے نے بینظیر بھٹو اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے کو پامال کئے رکھا جس سے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا پہنچا۔ امید کی جاتی ہے کہ چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ابن الوقت ٹولے کی حوصلہ شکنی کرکے پنجاب بھر میں ورکروں کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں گے۔

    میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے حقیقت پسندانہ اقدامات سے وطن عزیز میں سیاسی اور جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا اور سیاسی طاقتوں کو پرورش کی فضا ملے گی اور عوام کو سیاسی قیادت کے ثمرات ملیں گے۔

    qureshi

  • سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات  کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کو کون سمجھائے اُن کو بین الاقوامی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے جن راستوں کا انہوں نے انتخاب کیا یا کروایا جا رہاہے اور پھر اُن کی جماعت، کیا سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو جیل سے رہائی دلوا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، جیل سے رہائی پانے کا واحد راستہ قانونی ہے۔ رہا سوال ملک کی سیاسی تاریخ تو اُن کو بھٹو خاندان کی تاریخ اور بھٹو پر کیا گزری ان کی اپنی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ بڑے بڑے سیاسی قد آور سیاسی شخصیات نے بھٹو کا ساتھ چھوڑد یا تھا۔ نیلسن منڈیالا تقریبا 27 سال پابند سلاسل رہے جب وہ رہا ہوئے تو انہوں نے پُر تشدد تحریک خیر آباد کہہ کر مذاکرات کار استہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کا خواب لئے ا س جہاں سے چل بسے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں مفاد پرست ٹولہ ہوتا ہے یہ وہ ٹولہ ہوتا ہے جو اپنے ہی جماعت کے قائدین کا مخبربھی ہوتا ہے ہو سکتاہے کہ پی ٹی آئی میں بعض مفاد پرست اور مخبروں کا ٹولہ موجود ہو اگر یقین نہیں تو میاں محمد نواز شریف اس کی زندہ مثال ہیں۔

    بلاشبہ عمران خان ملک کے ہیرو قرار پائے، کرکٹ کا ورلڈکپ سب پاکستانیوں کو یاد ہے تاہم یہ بھی پاکستانیوں کو یاد ہے کہ آپ وزارت عظمٰی تک کیسے پہنچے، وہ ملاح بھی سب کو یاد نہیں جو آپ کی کشتی کے ملاح تھے۔ نیلسن منڈیلا جب کیپ ٹائون میں وکٹر ورسٹر جیل سے رہا ہو کر باہر نکلے تو ایک بڑے جلسے سے عاجزی سے خطاب کیا انہوں نے ایک پُرتشدد تحریک کو ختم کیا اور نئی زندگی کا آغاز کیا۔

    اہل موبائل اور سوشل میڈیا کے دیوانوں نے ملکی سلامتی کو پس پست ڈال دیا ہے، اصل الفاظ کی چاشنی گم ہو چکی ہے کوئی مر رہا ہے تو ویڈیو ۔کوئی مار رہا ہے تو ویڈیو ۔ کیا کھایا کیا پہنا کہاں گھومیں۔ کس سے ملے ۔ ہر لمحہ سیلفی کی فکر میں، پھر کتنے لائق کتنے کمنٹس کتنے شیئر ، ایک محتاط انداز ے کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 93 بلین سلفیاں لی جاتی ہیں۔ اب تو بھارت کی بھی سوشل میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے ۔اب تو مرنے والوں کے ساتھ سیلفی ،جنازوں کی سیلفی ،بیماریوں کی سیلفی ،کسی کو خوراک دیتے وقت سیلفی ، زکوة دیتے وقت سیلفی ، ملکی سیاسی جماعتوں اور ان کے ہمنوائوں کو سیلفی سیاست سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے ملکی ترقی اورخوشحالی کے سفر میں شامل ہو کر ضرور سیلفی بنائیں تاکہ دنیا اور قوم آپ پر فخرکریں۔

  • معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بقول شاعر:
    ریت پر تھک کے گرا ہوںتوہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئے وزیر خزانہ کے لئے یہ شعر ہے لیکن کیا کہا جائے ڈاکٹر کو چھوڑ کر نرس سے آپریشن کروایا جائے گاتو مریض صحت یاب نہیں ہوگا۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے تجربہ کار اسحاق ڈار کو چھوڑ کر ،ایک بینکر کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ معیشت کو مستحکم کریںگے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ایک 25 کروڑ عوام کا ملک ہے ،یہ کوئی میونسپل کمیٹی نہیں۔

    اسرائیل اور ایران کو لے کر دنیا میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چین اور تائیوان ، روس ، امریکہ کے بعد مڈل ایسٹ والے ممالک بلاک بنانا چاہتے ہیں بلاشبہ پاکستان اس وقت مڈل ایسٹ اور امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اس پورے خطے میں مگر قرض کا بوجھ اتنا ہے کہ ایک بینکر کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کو معیشت مستحکم کرنے کے لئے سرمایہ کاروں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اپنے وسائل پر توجہ د ینے کی ضرورت ہے ۔ آخر میں ہم کب تک فقیروں کی طرح مانگ کر شہنشائیوں کی طرح اُڑاتے رہیں گے۔ معیشت کی مکمل بہتری کے لئے لازمی اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔ رہا سوال فلسطین ،اسرائیل جنگ اور اب ایران اسرائیل بڑھتے ہوئے جنگی ماحول اورکشمیر ،جو عالمی ادارے بنا ئے گئے تھے۔ اُن کا کردار نہ ہونے کے برار ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر ،انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اقوا م متحدہ کا نسل کشی کنونشن اور جنیوا کنونشن جنگ ان کے لکھے جانے کی ان دستاویزات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن نے روانڈا میں نسل کشی کو نہیں روکا ۔ جنیوا کنونشن ویت نامیوں کو امریکی جنگی قیدیوں کو اذیت د ینے سے نہیں روکا۔ روس ا ور یو کرائن کی جنگ کو نہیں روکا۔ جن ممالک نے ان دستاویزات پر دستخط کئے انہوں نے خود پاسداری نہیں کی۔ ان عالمی اداروںں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے آج کے دور میں اسرائیل ،فلسطین ، کشمیر، مسلمانوں کا خون سڑکوں پر بہہ رہاہے تمام اسلامی ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ تاہم پاکستان کو اپنی سرحدوں پرمزیداورشہر میں سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔

  • محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس معاشرے کا ایک بنیادی جزو ہے یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی نشانی بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ پولیس نے پاک فوج کے ساتھ مل کر اس ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردارا دا کیا ،ان گنت قربانیاں بھی دیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکا ۔ کیا وجہ ہے کہ ہم آج کے جدید دور میں پولیس اصلاحات پر وہ کچھ نہیں کر سکے جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ملکی تاریخ گواہ ہے۔ نواب آف کالا باغ کے دور سے پولیس میں سیاسی مداخلت کا آغاز ہوا اوریہ مداخلت بڑھتی گئی، سیاستدانوں نے پولیس کے نظام کو اپنے اقتدار کے کھیل کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ جبکہ بہت سے پولیس افسران اور اُن کے ماتحت افسران نے اس سیاسی مداخلت سے فائدہ اٹھایا اچھی جگہ تبادلے کے لئے حکمرانوں کی اور مقامی سیاستدانوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر اپنے ہی محکمے کو برباد کرنے میں بھی کردارادا کیا۔ سیاسی حکومتوں اور فوجی حکمرانی کے دور میں بھی اس محکمے کو استعمال کیا ۔

    پولیس کے افسران کو زیادہ سے زیادہ دولتمند بننے کے نشے نے اس قدر مدہوش کیا کہ وہ ملک میں لینڈ مافیا ،ڈرگز مافیا ، قبضے گروپوں کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن گئے جبکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ جرائم میں اضافہ ہوتا گیا اور پولیس افسران اور اُن کے ماتحت غفلت اور لاپرواہی کی حدوں کو کراس کر گئے۔ جرائم کو کٹرول کرنے اور تجربہ کار پولیس افسران کو کھڈے لائن جبکہ سیاسی غلامی برداشت کرنے والے اور ناتجربے کار افسران کو فیلڈ میں لگا دیا گیاجس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔

    حیرانگی کی حد تک آج پنجاب کے بہت سے افسران اپنی من پسند تعیناتی کے پیچھے پاک فوج کے اعلیٰ افسران کا نام لے کر اس ادارے جو سرحدوں کا محافظ ادارہ ہے ملکی سلامتی کے ادارے کو بدنام کررہے ہیں۔جسے کسی بھی زوائیے سے درست قرار نہیں د یا جا سکتا ۔ یہ پولیس افسران عوام کو گمراہ کررہے ہیں ذمہ داران ریاست کو پنجاب کے ان پولیس افسران سے باز پرس کرنا ہوگی جو اس عظیم ادارے کو بدنام کررہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب جو ایک بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں انہیں پولیس نظام میں تبدیلی لانی ہوگی آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دے کر سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہوگا جب آئی جی پنجاب اپنی مرضی سے صوبے میں پولیس افسران تعینات کریں گے تو پھر حکومت اور عوام کو جوابدہ بھی ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کو سیاسی مصلحتوں سے باہرنکل کر بڑا فیصلہ کرنا ہوگا اگر ایسانہیں تو پھر سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

  • مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    راکٹوں اور ڈورنز کی رات، امریکہ نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ غزہ میں نیتن یاہو کے طرز عمل پر تنقید کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دیگا یا جو بھی اسرائیل کی سلامتی کو نشانہ بنائے گا اسکے ساتھ نرمی برتی جائے گی ،امریکہ واحد طاقت نہیں تھی جس نے ایرانی راکٹوں اور ڈورنز کو گرایا اس میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل تھے، راکٹوں اور ڈورنز کی رات نے ایک پیغام بھی دیا جس نے ایران کی فوجی ٹیکنالوجی پر مغربی اور اسرائیل کی تکنیکی برتری کو واضح کیا ، سیاسی اورسفارتی سطح پر ظاہر کیا کہ اسرائیل کو ان چیلنجز کے ساتھ مضبوط مغربی تحفظ حاصل ہے جو اُسے نشانہ بنا سکتے ہیں، بلاشبہ امریکہ نے ایرانی حملے کے تناظر میں نتین یاہو کی حمایت کی لیکن اس نے فوری طور پر یہ واضع کیا کہ وہ اسرائیلی ردعمل کی حمایت نہیں کرتا اور اگر ایسا ہوا تو وہ اس میں حصہ نہیں لے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نتین یاہو امریکی مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایرانی حملے کا جواب نہیں دیں گے؟ تاہم ایران نے اسرائیل اور دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر براہ راست حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،

    مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹوں اور ڈورنز کی رات اسرائیل کو ایک بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں راکٹوں اور ڈرونز کی رات کے بعد بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں، امریکہ اور مغربی ممالک کو اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو حل کرنا چاہیے،صدیوں سے جاری اس مسئلے کا واحد حل امریکہ کے پاس ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی امریکہ کے پاس ہے وہ ان مسائل کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے ، فلسطین اورکشمیر میں خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں بے گناہ انسانوں سے قبرستان بھرچکے ہیں،تنازعات کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا جائے۔

  • عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلا شبہ عمران خان ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ اور عوام میں مقبول ہیں لیکن کیا ان کے دور حکومت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں؟ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے ایسے فیصلے کروائے گئے یا انہوں نے خود کئے جس کا خمیازہ آج پاکستان بطور ریاست بھگت رہی ہے،نائن 11 کے بعد جو کچھ پاکستان میں ہوا ایک عالم گواہ ہے پھر نواز شریف کا دور حکومت آیا ، پاک فوج اور جملہ اداروں نے ضرب عضب کےنام سے آپریشن کا آغاز کیا ،ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوا اس آپریشن میں پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں نے حصہ لیا،کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، پاکستان کو قیمتی جانوں کے ساتھ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،پھر عمران خان کا دور حکومت وجود میں آیا تو انہوں نے اسی ٹی ٹی پی سے معاہدہ کیا اور ان کو پاکستان واپس آنے کی دعوت دی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ عمران خان کی بہت ہی بڑی غلطی تھی اس ایک غلطی کی سزا آج پاکستان اور قوم بھگت رہی ہے، ٹی ٹی پی نے دوبارہ حملے شروع کردیئے فوج اور پولیس نہ جانے کتنے ہی جوان آج تک شہید ہورہے ہیں، بالآخر فوج نے تنگ آکر افغانستان نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا تھا،

    سمجھ سے بالاتر ہے ایک اسلام کی دعویدار حکومت اپنے ملک میں دہشت گردوں کو پناہ کیوں دے رہی ہے اور ایک ہمسایہ اسلامی ملک میں مسلمانوں کو ہی شہید کیوں کروارہی ہے، یہ افغانستان حکومت سے ایک سوال ہے ، آخر دہشت گردوں کو افغانستان ہی کیوں پناہ دیتا ہے؟ اس وقت پاکستان کی مضبوط معیشت سب سے اہم ضرورت ہے فوج اور دیگر اداروں میں جذبہ ایمانی موجود ہے شہادت کی آرزو بھی ہے فوج وہ کامیاب ہوتی ہے جسے اس کے عوام اور سیاستدانوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے، ہمارے حالات یہ ہیں عوام تو ہر حال میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ہمارے کم عقل سیاستدان اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، آج کل سوتنوں کی طرح تو طعنے دیئے جارہے ہیں، پاک فوج کےنیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں، نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے یاد رکھیے فوج اور جملہ ادارے سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں جبکہ شہروں میں پولیس ڈاکوئوں‘ اجرتی قاتلوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے پر مامور ہے جمہوریت کے علمبردار جمہوری تقاضے پورے کریں۔

  • پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنے کے لئے عسکری قیادت برسرپیکار ہے سیاسی جماعتوں کو مخالفت برائے مخالفت سے بالاتر ہو کر انتہائی بردباری ،سیاسی تدبر کا مظاہرہ اورجمہوریت کے شجر کو مضبوط کرنا چاہیے،سب کوملکی ترقی میں اپناکردارا دا کرنا ہوگا،بلاشبہ سوشل میڈیا کا دور ہے ،میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کے لئے ملک و ملت کے مفادات کو دائو پر لگانے سے گریز کرنا ہوگا،بھارت پاکستان میں خونی کارروائیوں میں ملوث ہے ، بھارت خطے میں درندوں کی پشت پناہی کرنے والا ملک ہے ،عالمی برادری کو بھارت کے مکروہ کردار پر نظر رکھنا ہوگی، عالمی سازشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور معاشی صورت حال کے پیش نظر ارض وطن تقاصا کرتا ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے کے گریبان تار تار کرنے کا نہیں ہے

    بہت ہو چکا ملکی تمام ادارے آئین کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملکی استحکام اور بہتر معاشی نظام کے لئے عملی کاوشیں بروئے کار لائیں،پاک فوج اور جملہ ادارے ارض وطن کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملک وقوم کا نگہبان ہے اتنی تضحیک تودشمن بھی نہیں کرتے جتنی آج کل ملک میں ہو رہی ہے، کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی سازش ہمارے اداروں کے خلاف نہ صرف سازش کررہی ہے بلکہ ہمارے اداروں میں ٹکرائو کی بھی کوشش کررہی ہے۔ یاد رکھیے ہمارا دشمن بھارت ہی نہیں بہت سے عالمی سیاسی کھلاڑی بھی ہیں سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں یہ ہماری سیاست ہے یا ناکامی، ہم ایک مضبوط ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کی صف میں کھڑے ہیں، ہماری قومی پالیسیاں کیا ہیں، قومی استحکام کی پالیسیاں کیا ہیں، ہمارا دشمن بیدار اور چالاک ہے ہمارے سیاسی رہنمائوں کوکچھ تو ہوش کرنی چاہیے، ملک وقوم کی خاطر معیشت مستحکم کریں اپنا اپنا کردار اداکریں ملکی وسائل اور زراعت پر خصوصی پر توجہ د یں ،مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔

  • جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کی تمام جماعتیں جمہوریت کی خود قاتل ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ بھٹو کا قتل جمہوریت کا قتل تھا ،محترمہ بے نظیر بھٹو کا راولپنڈی میں قتل جمہوریت کا قتل تھا۔ نواز شریف کو تین بار وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی قاتل ہی ہیں ۔ آئین کی خود قاتل ہیں۔ ملک کا ہر نظام تباہی کے دہانے پر اگر آج نظر آرہا ہے تو اسکے ذمہ دار خود سیاستدان ہی ہیں۔ آج جس جماعت کو آئین قانون پارلیمنٹ کی آزادی نظر آرہی ہے۔ نظام میں خرابیاں نظر آرہی ہیں اسی جماعت نے آئین قانون جمہوریت کے خلاف سازش کی اور ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا سبب بنی ( نواز شریف کی حکومت) اگر بھٹو عدالتی قتل تھا تو نواز شریف کی حکومت کو بھی عدالتی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک میں جمہور کے قاتل سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں،

    خدا کی پناہ 75 سال کا عرصہ گزر گیا کروڑوں عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ، بنیادی تعلیم ، طبی سہولتوں سے محروم،نوجوان بے روزگار ،معیشت ،زراعت ،ملکی وسائل پر توجہ نہیں ۔ میرٹ کی دھجیاں ، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے عوام محروم اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت اور آئین کے علمبرداروں سے سوال ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے جو عوام آپ کو ووٹ دے کر اقتدار فراہم کرتی ہے اس عوام کے لئے بھی آئین میں لکھا ہے کیا اٰن شقوں پر عمل کیا جا تاہے ۔ عوام کو فوری اور سستاانصاف فراہم کرنے کی صدائیں بلند ہوتیں ہیں کیا ایسا ممکن ہوا ؟ جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جو اعلٰی اخلاقی اورجمہوری قدروں کی حامل ہو ۔ وہ حکومت سب کی ہو اور سب کے لئے ہو ،سب کے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے۔

    بدقسمتی سے آج بھی ہم نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا ۔ اعلی پولیس افسران سینئر ترین جنہیں فیلڈ میں ہونا چاہیے وہ دفاتروں میں بیٹھے ہیں۔ سول بیورو کریسی سے لے کر سول انتظامیہ میں بھی میرٹ کو دفن کرد یا گیا ہے ۔ پنجاب ، وفاق ،سندھ ، کے پی کے میں میرٹ دفن کردیا گیا۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن اور جونیئر کو آگے کیاجا رہا ہے ۔ جب تک رائٹ میں فار رائٹ جاب پر عمل نہیں ہوگا ۔ ترقی نہیں ہوگی۔ وفاقی وزراء کے قلمدان بھی کچھ اس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔

  • قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    صاحبان اختیارات ،ذمہ داران ریاست ،اعلٰی عہدوں پر فائز بیورو کریٹ ،بیورو کریسی کے افسران ، سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز ، یہ ارض وطن کی زمین کی ملکیت خدا پاک کی ہے اس میں بسنے والے یعنی رعایا ،بچاری ،مظلوم بے بس ، لاچار ، غریب ،کسمپرسی ،بھوک ، بیمار ی اور دیگر بنیادی مسائل میں مبتلا ہے۔ صاحبان اختیارات سے التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ ارض وطن پانی کی شدید کمی والے ممالک میں دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ ملک میں قحط اورخشک سالی کی دستک کی آواز بلند ہو رہی ہے اس آواز پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اگر اس پر توجہ نہ د ی تو پاکستان پانی کی مکمل قلت والے ممالک میں شامل ہو جائے گا بہت سی وجوہات ہیں جو پانی کی کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی سرفہرست ہے فیکٹریوں اور کارخانوں کا ناقص زیر زمین پانی کو بے حد گندا کررہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے دنیا سے بہت پیچھے ہے ۔ یہ ا یک سنگین مسئلہ ہے ملک کے سیاستدان اس سنگین مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر اس سر زمین کی زندگی بچانے کے لئے آنے والی نسلوں کے لئے سر جوڑ کر فیصلہ کریں

    یہ مسئلہ خدا پاک کی ملکیت سرزمین کا ہے ۔ اس میں بسنے والے دانشوروں کو خوراک کی کمی ، قلت اور قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھائی دیتے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ زراعت کے لئے بھی پانی درکار ہے ۔زرعی شعور رکھنے والے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پانی کولے کر یہ صورت حال کس قدر تشویش ناک ہے۔ معیشت کومستحکم کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارو کو قسط دینے کے لئے ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے اُدھار لیا جائے گا؟ کس ملک سے پانی مانگا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی اس ریاست کے سنگین مسائل پر بھی توجہ دیں۔

  • کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پی ڈی ایم ٹو،پی ٹی آئی سے سوال ہے کہ عوام کی اقتصادی حالت کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے،بالخصوص نئے وزیر خزانہ سے سوال ہے کہ آپ کو عام آدمی جس کرب میں مبتلا ہے اس کا احساس ہے ،عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی پالیسی موجود ہے؟ عام آدمی کے بنیادی مسائل میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے، مرکز میں پی ڈی ایم ٹو، سندھ میں پی پی، پنجاب میں ن لیگ ،کے پی کے میں پی ٹی آئی، ان سب کے پاس اگر عام آدمی کے لئے کوئی پالیسی نہیں تو پھر یہ ملک میں الیکشن کا ڈرامہ کس لئے رچایا گیا؟ اس کا مقصد کیا تھا؟

    ملک و قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،ایک طرف دہشت گرد دوبارہ ارض وطن میں سر اٹھا رہے ہیں، عین اسی وقت اعلیٰ عدلیہ کے چھ ججوں پر مشتمل ایک لیٹر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر نظر آیا ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا، آیئے مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے، کہاں غلطیاں ہیں،کون سی کل انفرادی اور اجتماعی ٹیڑھی ہے اور ایسا کونسا گناہ ہے کہ سختیاں، پریشانیاں، امتحان ، آزمائش ختم ہونے کو نہیں آتیں، ایک سانحہ کا گرد و غبار نہیں جھڑتا کہ دوسرا جنم لے لیتا ہے، گویا ایک تسلسل ہے جو پے در پے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے، ارض وطن کے لئے ملک کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں عسکری قیادت، بیورو کریٹ، بیورو کریسی، پولیس کے اعلیٰ افسران، ملک کی مقتدر ایجنسیاں منبر و محراب سب اکٹھے ہوں سرجوڑ کر صلاح مشورے سے جامع حکمت عملی تیار کریں ، قوم کابھی فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کرے.

    یاد رکھیے دہشت گردی کو لے کر ارض وطن حالت جنگ میں ہے ،حالت جنگ میں کمانڈروں کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں کی جاتی ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہیں ، فوج ہو یا پولیس یا دیگر ادارے، پنجاب پولیس کے آئی جی کا کل کے واقعہ پر اپنی فورس کو الرٹ رہنے کا پیغام ہر قسم کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کی تجدید ہے، بلاشبہ ان حالات میں پنجاب حکومت بھی اپنی سکیورٹی اداروں کی پشت پر ہے، ملکی حالات کے پیش نظر بین الاقوامی سیاسی کھلاڑیوں کی تبدیل ہوتی پالیسی کو مدنظررکھتے ہوئے ہمارے پالیسی سازوں دفاعی اور خارجہ پالیسی سازوں کو سرجوڑ کر غور کرنا چاہیے کہیں ہم غلط سمت تو نہیں چل رہے؟