Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم پچیس کروڑ عوام شاہ سے لے کر فقیر تک ملکی حالات کو لے کر پریشان رہتے ہیں اور اپنے اوپر آنے والے زوال کی وجوہات کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہ زوال مختلف شکلوں میں آتا ہے ۔کبھی معاشی زوال، کبھی معاشرتی زوال ، کبھی اخلاقی زوال، کبھی سیاسی زوال، حیرت ہے آخر ہم سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے کہ ہم پر ہی زوال آتاہے۔ منبر و محراب سے دعائوں کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں پھر بھی زوال۔ تلاش کرنے پر ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے من حیث القوم خدا اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی حد تو کراس نہیں کر لی؟ ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ کیا واقعی ہم خدا پاک کے بنائے قانون پر عمل کررہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہر کسی زوال کے ہم مستحق ہیں۔

    یاد رکھیئے! سرزمین پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اللہ ہی اس کا حاکم حقیقی ہے۔ کمال ہے اس زمین پر بسنے والے چند جاگیرداروں ، وڈیروں، صنعتکاروں، دولتمندوں نے خدا کی مخلوق کی زندگیوں کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اقتدار اور اختیارات کی دوڑ میں اللہ تعالیٰ کے بنائے قانون کو پس پشت ڈال کر اپنی موت سے بے خبر انسانوں نے خدا کی زمین پر اپنے مرضی کے قانون نافذ کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ حد کراس کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس وقت ہمارا داخلی بحران، قومی معاملات ذاتیات اور خاندانوں پر مبنی سیاستدانوں نے پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات، اختیارات اور اقتدار کی جنگ شروع کر دی ہے۔

    حیرت ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صوبائی سطح پر حکومتیں بنانے کا مینڈیٹ عوام نے دے دیا ہے حکومتیں بنائیں مخلوق خدا اور خدا کی ملکیت زمین کی خدمت کریں عوام کو درپیش مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کریں عوام نے تو الیکشن میں سب کو برابر پیار دیا اب کس سچے پیار کی کی تلاش میں ہیں؟

  • انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ سیاسی جماعتوں اورمذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں جن کو پی ٹی آئی کی حمایت تھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی ہے، نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنتے دکھائی دے رہے ہیں یا نہیں جبکہ تادم تحریر بلاول بھٹو بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے لئے دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ آصف علی زرداری آزاد امیدواروں سے رابطے کرر ہے ہیں تاہم نوازشریف نے پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لئے سب کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے آزاد امیدواروں کو بھی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری صرف میری اور اسحاق ڈار کی نہیں سب پر ذمہ داری ہے۔

    امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات کا وقت قریب ہے امریکی عوام بے چین ہے اور وقت کا انتظار کر رہے ہیں بائیڈن کا دور مہنگائی اور جنگوں کا غلبہ رہا۔ بائیڈن اور ٹرمپ ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں امریکہ اور امریکی عوام کے مفادات کے لئے دونوں میں کون فیورٹ ہے اس کا پوری دنیا کو انتظار ہے تاہم امریکی عوام کا اور صدارتی امیدواروں کا انحصار گیتوں پر نہیں منشور پر ہے ملک کی تمام جماعتوں نے منشور دیا مگر کیا کہنے پاکستان قوم کے منشور پڑھنے کے بجائے انتخابی گیتوں پر انحصار کیا کس جماعت کا گیت اور فنکار اچھا ہے تاہم ہماری انتخابی مہم کا دار و مدار منشور نہیں گیتوں پر رہا ہے۔ جو قوم کئی سالوں سے بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ سے ذہنی و مالی اذیت کا شکار ہے وہ الیکشن میں اگر منشور کے بجائے گیتوں پر انحصار کرے گی تو پھر ایسی قوم کا خدا ہی حافظ ہے ۔

  • انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عین الیکشن کے وقت الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کا اٹھنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شفاف الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پریزائیڈنگ آفیسرز سے حلف اٹھانے کے بعد الیکشن کے عمل کا آغاز ایک احسن اقدام ہے۔ ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے مگر ملک کی ترقی آسان نہیں ہے۔ جب تک ملکی وسائل، تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی ترقی ممکن نہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے اس وقت ملک کی بظاہر تین بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علمائے پاکستان، تمام جماعتوں کے حامی اپنے قائدین کو معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آخری امید سے مرادمعیشت کو مستحکم کرنے والا قائد، پاک فوج اور جملہ اداروں کا کردار ملکی سلامتی ملکی بقا پر مرکوز ہے جس کا بھرپور عملی مظاہرہ ایران سے ہونے والی دراندازی پر منہ توڑ جواب دے کر کیا گیا۔ آٹھ فروری کے بعد منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو ملکی معیشت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے عوام مہنگائی ، نوجوان بیروزگاری اور دیگر معاشرتی مسائل میں مبتلا ہیں ان کو مسائل سے نکالنے کی ذمہ داری نئی حکومت پر ہوگی۔ آیئے نئے وزیراعظم عہد کریں، ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کا عہد کریں۔

  • سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قصہ مختصر ،8 فروری کو الیکشن کے بعد ہمیں وہ صدر اور وزیراعظم ملے گا جس کے ہم مستحق ہیں،بلاشبہ لفظ جمہوریت ایک عمدہ لفظ ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں سیاسی قائدین نے اس لفظ جمہوریت کو بے کار بنا دیا ہے امریکہ میں صدارتی امیدوار ٹرمپ اور بائیڈن ایک دوسرے کو بوڑھا قرار دے رہے ہیں اب ان دونوں میں نوجوان کون ہے اس کا فیصلہ امریکی عوام کریں گے،تاہم ہمارے ملک میں آئین، جمہوریت، قانون کو ہمارے سیاستدانوں نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جیسے پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں عوام سے ایک مذاق کیا تھا آج پھر الیکشن کا اور ووٹ لینے کا وقت قریب ہے پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چل کر عوام کو گھر دینے کا وعدہ کر رہی ہے عوام سن رہے ہیں کوئی پیپلزپارٹی سے سوال کرے وہ کون سے وسائل ہیں جو بروئے کار لاکر ان سہولیات سے عوام کو فیض یاب کریں گے، تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ مگر کیسے؟

    ہماری سیاست میں جھوٹ، افواہ سازی ایک فیکٹری کی حیثیت رکھتی ہے،مہنگائی، بیروزگاری کے عذاب میں مبتلا عوام کو جھوٹے وعدوں پر اپنا گرویدہ بنا کر انہیں خط غربت سے نیچے گرانا سیاست نہیں انتقام ہے،سیاستدانوں کی اکثریت نے اور کچھ موقع پرستوں نے پاک افواج کو اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جسے کسی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،یہ کہاں کی عقلمندی ہے کون سی سیاست ہے ملکی دفاع پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جائے کیا کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت گواراکی کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقاءحاصل ہے اداروں کو بدنام کرنا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،ان اداروں کی ایک اہمیت ہے 8 فروری کوعوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت غور کریں کس سیاسی جماعت نے کیا وعدے کئے اور کتنے وعدوں پر عمل کیا؟ اور آج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں، پارلیمنٹ ہائوس میں جانے والے راستوں پر کس سیاسی جماعت کو اکثریت سے کامیاب کرنا ہے۔

  • کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں پاک فوج کی کاوشیں اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ پولیس کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں تین دن رہنے کے بعد پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ۔ آئی جی پنجاب کی محکمانہ فلاح و بہبود سمیت لاہور کو جرائم پیشہ افراد سے محفوظ بنانے کی کاوش پر آئی جی پنجاب کی اور ان کی ٹیم کے کرداروں کو بالخصوص ڈی آئی جی احسن یونس جو سیف سٹی کے انچارج ہیں، لاہور کو محفوظ بنانے میں ان کے کردار کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کے جاری منصوبوں جو عوامی فلاح کے ہیں امید ہے الیکشن کے بعد کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت جاری رکھے گی۔ سیف سٹی کا دائرہ کار پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں بڑھایا جا رہا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔ پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات قابل محنتی افسران تعینات ہیں لیکن کچھ افسران ایسے بھی تعینات ہیں جو نگران وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کے لئے سوالیہ نشان ہیں.

    راولپنڈی میں تعینات سی پی او کی محنت ،تگ و دو کی وجہ سے اغواء برتاوان گاڑیوں کی چوریوں میں کمی واقع ہوئی لیکن کچھ ڈی ایس پی اور ایس پی کے عہدوں پر تعینات ایسے افسران ہیں جو اعلیٰ پولیس افسران کے لئے بدنامی کا باعث ہیں سیاستدانوں کے اثاثوں کی تحقیقات تو ہوتی ہیں اگر پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات پولیس افسران کے اثاثوں کی تحقیقات ہوں تو عوام کو معلوم ہوگا کہ ان کے بھرتی کے وقت کیا اثاثے تھے آج بڑے بڑے فارم ہائوسز کے مالک کیسے بن گئے۔ لینڈ مافیاز، ڈرگز مافیا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والے افراد سے یارانے، بڑے بڑے جوئے کے اڈے چلانے والوں سے ماہانہ بھتہ، ڈی جی نیب کو سیاستدانوں کے علاوہ ان افسران کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دینا ہوگی۔

    بلاشبہ آنے والی حکومت اگر ایمانداری سے ملک چلانا چاہتی ہے تو اسے وطن عزیز اور عام آدمی کو ان مافیاز سے محفوظ بنانا ہوگا۔ ملکی وسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ حسد اور لالچ سے پاک سول بیورو کریسی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کرنا ہوگا سچ پوچھئے تو پاکستان بطور ریاست کرپٹ ترین سیاستدانوں، کرپٹ ترین پولیس افسران سول انتظامیہ، قصیدے لکھنے ، بولنے والے دانشوروں سے تنگ آچکی یہ خدا کی زمین پر اور پاکستان پر بوجھ ہیں ان کو اتار پھینکیں۔

  • مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان کی 25 کروڑ عوام کو ایران سے یہ توقع نہیں تھی جو ایران نے کیا ۔ ایک طرف بھارت دوسری طرف احسان فراموش افغانستان، مسلح چھیڑ چھاڑ اس ماحول میں اب پاکستان کو بطور اسلامی ایٹمی پاور ریاست دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا ،پاک فوج کا اس موقع پر کردار قابل تحسین ہے ۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔مسنگ پرسن کو لے کر جو واویلا کیا جا رہا تھا اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر الزامات لگائے جا رہے تھے وہ بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ افسوس یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو ناحق تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی سرزمین کے دشمنوں کو موقع فراہم کررہے ہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اب مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

    اب اس جنگی ماحول میں انتخابات کیسے ہوں گے یہ ایک سوال ہے ،فوج پرائمری سکولوں میں انتخابات کی ڈیوٹی دے یا سرحدوں کی حفاظت کرے ۔ ؟ سیاسی جماعتوں کے قائدین آہستہ آہستہ انتخابی ماحول بنا رہے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے جلسوں کا آغاز خود کردیا ہے مسلم لیگی رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی پرویز رشید نے بتایا کہ مزید جلسوں میں میاں نواز شریف خود شرکت کریں گے جبکہ بلاول بھٹو ، امیر جماعت اسلامی اور دیگر بھی جلسے کر رہے ہیں۔ تاہم یہ خبر نگران حکومت میں ملی ہے کہ آئی ایم ایف نے 70 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو دی ہے جبکہ یو اے ای نے قرض رول اوور کردیا ۔ اس وقت مہنگائی کو لے کر عام آدمی کی حالت قابل رحم ہے ۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں نے عام آدمی کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے ۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔یہ عام آدمی وہ ہیں جو ملک کے حالات سے باخبر ہیں اور وطن عزیز کے ساتھ مخلص بھی ہیں اس وقت بُر ے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ملک میں عد ل و انصاف قائم ہونا چاہیئے ۔ انصاف کا حصول ہر شہری کو بلا تفریق ہونا چاہیئے ۔

    ملکی سیاست میں دو سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں ایک جماعت نواز شریف کو لاڈلہ قرار دے رہی ہے یعنی عمران خان اور اُن کی جماعت ۔ کیا عمران نے جنرل مشرف( مرحوم) سے 70 سیٹیں نہیں مانگی تھی؟ کیا عمران خان کو جنرل ضیاء الحق نے بیٹا نہیں کہا تھا؟ کیا لاڈلہ بننے کی کوشش نہیں کی ؟ ۔ آپ کے 2018 ء میں ملاح کون تھے؟ جس کشتی میں سوار ہو کر وزارت عظمیٰ تک پہنچے ۔ اُس کشتی کے ملاح کون تھے ؟ بلاشبہ پی ٹی آئی مقبول جماعت اس پورے ملک میں مگر دوسروں پر الزام تراشی درست نہیں ، نواز شریف کو جواب میں بقول شاعر جواب دینا چاہیئے
    سورج کو لگے دھبہ قدرت کے کرشمے ہیں
    بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

  • بھارتی وزیر خارجہ کے ایران دورے کے موقع پر ایران کا پاکستان پر حملہ،مقاصد کیا

    بھارتی وزیر خارجہ کے ایران دورے کے موقع پر ایران کا پاکستان پر حملہ،مقاصد کیا

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ایران نے عین اس وقت تین اسلامی ممالک کے شہروں کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا بہانہ بنا کر حملہ کیا جب بھارتی وزیر خارجہ ایران کے دورے پر تھے۔ کیا ایران آیت اللہ خامنئی (مرحوم) کی پالیسی پر گامزن ہے یا بھارت کی خارجہ پالیسی پر؟ آیت اللہ خامنہ عالم اسلام کو ایک جگہ اکٹھا دیکھنا چاہتے تھے اسلامی ممالک کے شہروں پر حملہ ان کی پالیسی ہو ہی نہیں سکتی ،

    ایک طرف غزہ لہولہان ہے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں دوسری طرف ایران کی طرف سے پاکستان جو ایران کا ہمسایہ ملک بھی ہے اور اسلامی ریاست بھی بلوچستان پر راکٹ کے حملے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا صفایا کر دیا ہے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن میں پاک فوج اور جملہ اداروں اور عوام نے جو قربانیاں دیں ایک عالم گواہ ہے آج بھی کبھی افغانستان کے ذریعے دہشت گردوں کو بھارت پاکستان میں داخل کر رہا ہے پاکستان ایک پرامن ملک ہے خطے میں امن چاہتا ہے پاکستان ایران سمیت افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک سے دوستی اور امن چاہتا ہے۔

    وزارت خارجہ نے اس واقعہ پر ایران سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا تاہم ایران کو بھی اپنی اس پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ تاکہ آئندہ کے لئے کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو جس سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے نائن الیون کے بعد بڑی قربانیوں کے بعد ملک میں امن بحال ہوا۔ دہشت گردوں نے پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا۔ جانی اور مالی نقصان کی دنیا گواہ ہے۔

  • پاکستان کونازک موڑ پر پہنچانے والے کون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کونازک موڑ پر پہنچانے والے کون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    اہل سیاست اہل دانشور، یو ٹیوبر ، وی لاگر ، عام آدمی کو جو پہلے ہی ان گنت مسائل میں مبتلا ہے بتا رہے ہیں پاکستان نازک موڑ سے گذررہا ہے تاہم یہ نہیں بتا رہے کہ پاکستان کو نازک موڑ پر پہنچانے والے کون ہیں ؟ مظلوم اور معصوم عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے اپنے فالورز بڑھانے کے لئے ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے سے گریز کرنا ہو گا۔ امریکہ ایک بڑا مضبوط جمہوری ملک ہے وہاں پر بھی ایک چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے۔ اسی طرح چائینہ سمیت مختلف ممالک میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام موجود ہیں ۔ مصر میں جمہوریت آئی مگر صدر مرسی نے اختیارات کو اپنے گردجمع کرنا شروع کردیا پھر مصر میں مارشل لاء لگا اور مصر دوبارہ صدر حسنی مبارک کے زمانے کی طرف لوٹ گیا ۔ ترکی میں طویل مارشل لا گزرے پھر جمہوریت آئی۔ آج طیب اردوان کی شکل میں صدارتی نظام متعارف کرا دیا گیا ۔

    پاکستان کے آئین نے جمہوری حکومت اور ملک کے تمام اداروں کی حدیں مقرر کردی ہیں اگر آئین پرعمل کیا جائے تو پاکستان اور عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں صدقے دل سے وطن عزیز اور عوام کو مسائل سے نکالنے کے لئے اپنے منشور پر جو الیکشن میں دیا جائے اُس پر عمل کریں۔ ملک میں سیاسی رونقیں لگی ہیں۔ لاہور، کراچی اور ملک کے دیگر بڑے بڑے شہروں میں رونقیں یخ بستہ سردی کے موسم میں عوام کو گرمایا جا رہا ہے کہیں بلاول بھٹو ، کہیں جماعت اسلامی کے امیر ووٹروں کو گرما رہے ہیں۔ کہیں مریم نواز شریف اپنے مخصوص انداز میں ایک ماہر وکیل کی طرح عوامی عدالت میں ملک میں جمہوریت اور معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کررہی ہیں۔

    ایک بار پھر پنجاب کا شہر اوکاڑہ نواز شریف وزیراعظم کے نعروں سے گونج اٹھا۔ مریم نواز (ن) لیگ کا مقدمہ لڑنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ (ن) لیگ اور نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لڑتی رہی ہیں۔ کراچی اور دیگر شہروں میں سیاسی قائدین کے سیاسی ڈیروں پر رونق لگی لاہور میں کسی زمانے میں بابائے سیاست نواب زادہ نصر اللہ مرحوم کے سیاسی ڈیرے آباد تھے آج کل لاہور میں نواز شریف لوٹ آئے ان کا سیاسی ڈیرہ مقبول ترین ہے اس طرح سیاست کا مرکز لاہور ہے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ نواز شریف حالات پر نظرکس طرح رکھتے ہیں؟ موجودہ حالات کو وہ کس طرح اپنے حق میں ڈھالتے ہیں ۔اندھیرے مین ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے میں کس طرح کامیاب ہوں گے۔

  • تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سالوں پہلے ہر ضلع میں ایک ڈی آئی جی ،ایک ایس ایس پی ،ایک ایس پی ہیڈ کوارٹرز ہوا کرتے تھے آبادی کم تھی جرائم کم ہوا کرتے تھے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر ضلع میں پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ ہو گیا جرائم بڑھ گئے ۔ منشیات فروش ،جگہ جگہ جوئے کے اڈے ،لینڈ مافیا کی اکثریت اپنے آپ کو مخیر حضرات کہلوانے لگی ۔ منشیات فروش اور جوئے کے اڈوں کی پشت پناہی نام نہاد سیاسی اور بعض پولیس کے افسران کرنے لگے ۔ افغان جہاد کے بدلے پاکستان میں کلاشنکوف بڑے بڑے شہروں میں پھیلائی گئی ہیروئن کا زہر نوجوانوں میں پھیلنے لگا۔دیکھتے ہی د یکھتے کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ مخیر حضرات ، سیاسی رہنمائوں ، دولت مندوں اور دیگر افراد نے اپنے ساتھ بڑی گاڑیاں اور مسلح افراد رکھنا شروع کردئیے ۔ شادی ،جنازوں میں اپنے ساتھ مسلح کلاشنکوف رکھنا ایک کلچر کا روپ اختیار کرگیا ۔حکومتوں کی لاپرواہی اور مہنگائی بے روزگاری نے چوریوں اور ڈکیتیوں میں اضافہ کردیا ۔ پولیس افسران سفارش پر تعینات ہونے لگے ۔ عام آدمی کی شنوائی نہ سرکار میں رہی اور نہ ہی دربار میں رہی ۔

    راولپنڈی سمیت پنجاب میں ایسے ایسے افسران گزرے جنہوں نے عام آدمی کی فریاد سننے کے لئے اپنے دفاتر کھلے رکھے ۔ ایسے بھی گزرے جنہوں نے عام آدمی سے ملنا گوارہ نہیں کیا ۔راولپنڈی میں رائو محمد اقبال ریٹائر ڈی آئی جی ۔ ناصر خان درانی (مرحوم) فخر سلطان راجہ موجودہ ایڈیشنل آئی جی کے پی کے ۔ احسن یونس موجودہ انچارج سیف سٹی پنجاب پولیس لاہور۔ اسرار عباسی موجودہ ڈی آئی جی ایف آئی اے ۔ جو راولپنڈی میں عام آدمی کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں تھے ۔۔ اسی طرح بہت سے دوسرے افسران ایسے ایسے راولپنڈی میں تعینات رہے جو عام آدمی کی فریاد خود سنتے تھے ۔اسی طرح پنجاب میں ایسے ایسے آئی جی تعینات رہے جنہوں نے پولیس ملازمین کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کیا .

    آج موجودہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس شہداء ، غازی اور نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کردیا۔ تھانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آراستہ کیا ۔ آئی جی پنجاب نے ملاقات میں بتایا تھا کہ آج جو کچھ پنجاب پولیس شہداء ، غازیوں ،نچلے درجے کے ملازمین کے جو کچھ کر رہا ہوں اس کے لئے میری ٹیم کا کردار تو ہے ہی لیکن سب سے بڑا کردار احسن یونس ہیں ۔ راولپنڈی میں تعینات موجودہ سی پی او اور آر پی او کو آئی جی پنجاب نے نئے تھانے جدید آلات ، جدید ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے۔ عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھیں ۔ سالوں سے تعینات ایسے پولیس افسران جو بار بار راولپنڈی میں ہی سفارشی تعینات ہونے میں اپنی بقا سمجھتے ہیں اُن پر نظر رکھیں ۔ اہل اقتدار سفارشی تعیناتی سے باز رہیں ۔ پولیس افسران سیاسی آقائوں کی خدمت داری حکم بجا آوری میں ہمہ تن مصروف نہ رہیں ۔ عام آدمی کا سٹیٹ پر اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کریں۔ راولپنڈی حساس ترین شہر ہے یہاں ہمارے قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں ۔ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی فریضہ ادا کریں ۔ جہاں عوام الناس کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے وہاں پر جرائم سے پاک معاشرہ قائم رہتا ہے۔

  • آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آیئے آپ کا انتظار تھا۔ 8 فروری بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور عوام کے پاس سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار دوبارہ ووٹ لینے کی غرض سے حاضر ہوں گے۔ کون کرے گا وزیراعظم ہائوس پر قبضہ، کون سی سیاسی جماعت عام آدمی کے مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی؟ یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی ۔ موجودہ 8 فروری کے الیکشن صرف الیکشن نہیں ہیں ملکی اور قوم کے لاتعداد مسائل کے ساتھ جمہوری نظام کی بقا کے ساتھ ساتھ عالمی معاملات میں ملکی قیادت کا بھی معاملہ ہے کون کرے گا قیادت؟ یہ فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔ ملکی معیشت کا جو حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ملک کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کس سیاسی جماعت پر بھروسہ کیا جائے جو مسائل میں ڈوبی ریاست کو اندھیروں میں ڈوبی عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں 8 فروری کا انتظار کر رہی ہیں اور عوام بھی۔ امید ہے عوام لینڈ مافیا، کرپٹ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے والے تکبر اور غرور کی حدوں کو کراس کرنے والوں، سیاسی جماعتوں کے فنانسروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ قومی قیادت کس کے سپرد کرنی ہے ایسی قیادت کا فیصلہ نہ کرنا جو دیوان خانوں تک محدود ہو یا اقتدار کی چوکھٹ پر بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹے اور عوام اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں۔ قیادت کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہوا کرتی ہے اعلیٰ قیادت کا انتخاب ہی تبدیلی لاسکتا ہے باقی سب فریب ہے۔