Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ پوری دنیا کا ووٹر انتخابات کا منتظر ہے جبکہ پوری دنیا کی معیشت پر گزشتہ سال جو اثرات پڑے ہیں ایک کرونا دوسرا روس ہیو کرائن جنگ جبکہ تیسرا اسرائیل غزہ جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ دنیا کا ووٹرز منتظر ہے کہ شاید موجودہ سال کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سیاستدان معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دنیا بھر کا ووٹر مہنگائی کی زد میں ہے ۔ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا انتخاب امریکہ کا ہوگا 81 سالہ بائیڈن دوبارہ صدارتی انتخابات کا امیدوار ہے جبکہ روس صدر پوتن بھی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں پوتن مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ ، میکسیکو ، انڈونیشیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس طرح 2024 کو انتخابات کا سال قرار دیا جا سکتا ہے اور سیاست کے ساتھ معیشت مستحکم کرنے کا سال بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے موجودہ انتخابات نہ صرف سیاست بلکہ بین الاقوامی تعلقات عالمی اقتصادی اور مالیاتی منظر نامے کو بھی تبدیل کریں گے۔

    پاکستان کی وزارت عظمی حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں شامل ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتیں بھی اس دوڑ میں شامل تو ہیں مگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام جو مہنگائی اور دیگر مسائل میں مبتلا ہیں کس جماعت کو اکثریت میں کامیاب کریں گے۔آصف علی زرداری سیاسی شطرنج کھیلنے کے لئے تو ماہر ہیں مگر پنجاب میں شاید وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ پنجاب میں اب (ن) لیگ ہی نہیں پی ٹی آئی کا ووٹر بھی موجود ہے ۔ بظاہر کوئی بھی سیاسی جماعت ملک بھرمیں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔ مذہبی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔

    تادم تحریر ملک مالیاتی بحران کا شکار ہے دوسرے کئی مسائل کے گرداب میں پھنسا ہے۔کیا بلاول بھٹو یا نواز شریف ان مشکل ترین حالات جن میں پاکستان او رعوام پھنسے ہیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ مسلم لیگ(ن) کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کے انتخابات جیتنے اور وزیراعظم بننے کے امکانات قوی ہیں۔ کیا نواز شریف اندھیروں میں ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی جانب لے جانے میں ایک بار پھر کامیاب ہو جائیں گے اگر ایسا ہے توپھر ویلکم ٹو نواز شریف2024

  • انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    الیکشن 8 فروری کو ہی ہونگے ۔ الیکشن نہ ہونے کی افو اہیں ،سیاسی جماعتیں اور وہ سیاستدان کرر ہے ہیں جو اس کارکردگی سے مایوس ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کے بعد ملک کی موجودہ شکل صورت تبدیل ہوگی ؟کیا معیشت مستحکم ہوگی ؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ کیا زراعت پربھرپور توجہ د ی جائے گی؟ کیا ملکی وسائل پر توجہ دی جائے گی ؟

    عوام کو بڑی اٰمیدیں ہیں کہ موجودہ الیکشن صحیح معنوں میں اس ملک اور عوام کو درپیش مسائل سے نجات دیگا۔ کیا بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے گی ’ تاہم وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔جن میں کہا جا رہا تھا کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔مسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی، سمیت مذہبی جماعتوں نے الیکشن مہم کا آغاز بھی کردیا ہے بلکہ زوروشور سے جاری ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے ٹاسک دے دیا ہے ۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد عام آدمی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے منصوبے پر غورو فکر کیا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے بھی اپنا منشور جاری کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی میدان میں ہے ۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنا اپنا منشور مل کر عوام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    آج کے دور میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نظریاتی سیاست کا جنازہ کب کا اُٹھ چکا ہے ۔ اس کا ادراک سیاسی جماعتوں اور عوام کی اکثریت کو بھی ہے ۔ اس وقت عوام کی اکثریت کی نگاہیں اپنے بنیادی مسائل اور8 فروری کے انتخابات پر ہیں ۔ گزشتہ کئی سالوں سے عوام کا سیاست کی سموگ سے دم گھٹ رہا تھا اب انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی سے پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہر گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سموگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لاہور سمیت زہر آلود اشیاء جلانے والی فیکٹریوں کے مالکان ، عالمی مرتبت ،عزت دار ، پرہیز گار اور مخیر حضرات کو اپنی تجوریوں کی تو فکر ہے مگر مخلوق خدا کس کرب میں مبتلا ہے ۔ اس کی فکر نہیں۔ مضر صحت اشیاء کی فروخت ، جعلی ادویات ،جعلی مشرویات ،جعلی دودھ ، یہ وہ کاروبار ہیں جو مخیر حضرات کے حصے میں ہیں جنہیں انسانی جانوں کی پروا نہیں عوام آلودگی اور سموگ کو اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے اپنے اندر سمونے پر مجبور ہیں۔زہریلے دھوئیں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑکوں پر ٹریفک کے اعلیٰ حکام کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاست اور صحافت کے موضوعات عوام نہیں سیاسی لڑائیاں ہیں۔

  • فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    فوج اور عدلیہ ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں۔ پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا ،ٹاک شوز ،سیاسی پریس کانفرنسوں، سیاسی جلسے جلوسوں، میں ان دو اہم ریاستی اداروں کو موضوع بحث بنا لیا گیا ہے۔ ملکی سلامتی و بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان دو اداروں کو ہر معاملے میں گھسیٹنا کیا سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن چکا ہے؟ یہ عمل ملک و قوم کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے ملک کی جمہوریت ایک لاغر کا درجہ رکھتی ہے سیاستدان بھی جسمانی ، دماغی اور دیگر معاملات میں لاغر ہی ہو چکے ہیں۔ کوئی ہوشمند اپنے ان دو ادارں پر اس طرح کھلے عام تنقید نہیں کرتا۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر موضوع بحث بنا کر ہم دنیا کو اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہےہیں۔ اپنی ریٹنگ کے چکر میں سنسنی پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔

    یاد رکھئے اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا ہے۔ اقتدار، اختیارات، پروٹوکول، ہوس زر نے کیا ہمارا ذہنی توازن اس قدر کر دیا ہے کہ ہم ایسی چنگاریاں پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ جو شعلے بھڑکا رہے ہیں وہ پورے نظام کو راکھ دیں گے۔ پاکستان کی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے پاک فوج اور جملہ ادارے اس ملک کی سلامتی و بقا کی خاطر سرحدوں کی حفاظت پر مامور بھی ہیں اور اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی جو سر اٹھا رہی ہے اس سازش کو بھی بے نقاب کرنے کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا بھی کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ایسے دانشوروں پر جو ہماری سیدھی سادہ عوام کو بنگلہ دیش کیوں علیحدہ ہوا کی مثالیں دے کر ڈرا رہے ہیں۔ بھارت بلوچستان میں اور بلوچستان کے ذریعے دہشت گردی کا ذمہ دار ہے جس کی مثال کلبھوشن ہے افسوس، اقتدار، حوس زر، اختیارات ، لالچ کی ایک اندھی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر کوئی دوسرے کو روند کر زچ کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے بلاوجہ ایک کہرام مچا ہے ایک ایسا کہرام جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔

  • پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ملک کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز پرامید ہیں کہ ان کی جماعتوں کے قائد وزیراعظم بنیں گے۔ انتخابات سے قبل بے لگام قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو صرف وزیراعظم نہیں بلکہ ایسا وزیراعظم اور اس کے ساتھ ایسی ٹیم چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کی نمائندگی کر سکے۔ جو ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر سکے بالخصوص ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر سکے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تادم تحریر بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف سے کیسے نجات دلائے گی۔

    پاکستان بطور ریاست اور عوام معیشت کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے اندھا دھند بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہت ہو چکا ماضی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں پانچویں جماعت سے ہی طلبا کو کمپیوٹر پر تعلیم دی جائے بچوں کو اسلام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے زراعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ ملکی وسائل پر صدق دل سے توجہ دی جائے۔ حدیث نبوی ؐ ہے لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ہم من حیث القوم اپنے لوگوں کے ساتھ دو نمبری کرتے ہیں دنیا کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ انسانوں کی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ، خوراک میں ملاوٹ، جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، ملک کے مستقبل بچوں کو جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ، غیب کا علم صرف خدا پاک کو ہے ہمارے معاشرے میں غیب کا علم گلی محلوں اور گلیوں میں بتانے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سامری جادوگر کا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے ہمارے ہاں کئی سامری جادوگر پائے جاتے ہیں۔ جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا میں رہ کر اگر ترقی کرنی ہے تو یہ فطرت کا قانون ہے کوئی بھی فرد، قوم یا ملک جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا جن کو ہم صبح و شام گالیاں اور بددعائیں دیتے ہیں انہوں نے رب زدنی علما پر عمل کر کے ہمیں موبائل فون، کمپیوٹر، کیمرا، ایٹمی ہتھیار، ادویات، گوگل، فیس بک اور نہ جانے کیا کیا دیا ۔ سوچئے ہم نے رب زدنی علما پر عمل کیا؟ تعلیمی نظام میں انقلاب لانے کے لئے ماہرین تعلیم کو سیکرٹری اور وزیرتعلیم لگانا ہوگا محکمہ صحت کو جدید اور عوام کے درد شناس بنانے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل ماہرین صحت کو وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی ذمہ داریاں دینا ہوں گی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ اقوام کی روش پر چلنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی ہی کے ماہرین پر محکمانہ قیادت قائم کرنا ہوگی ورنہ ہم ترقی کے سفر میں پے در پے پستی کا شکار ہوتے رہیں گے۔

  • ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    2024 انتخابات کا سال ہے۔ انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین کی شدید دھند اور شدیدسردی میں گرجدار آوازیں سنائی دیر ہی ہیں۔ ا پنے ووٹروں کو شدید سردی کے موسم میں گرمارہی ہیں۔ عوام کے مقدرمیں سردیوں میں گیس نایاب ہے ۔ اس لئے اپنی آوازوں سے ان کو گرما رہے ہیں۔ گونگی اور بہری عوام ان سے سوال کرنے سے قاصر ہے کہ سردی میں گیس اور گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے اور اس کا ذمہ دارن کون ہے ؟ملکی سیاسی جماعتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔ نئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ہمنوا اقتدار ، اختیارات کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے گدی نشین اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے لئے اپنے مریدوں کو ووٹ دینے کی تاکید رہے ہیں۔ ان گدی نشین افراد کو کون سمجھائے کے ان کے آباو اجداد نے خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی تبلیغ کی تھی نہ کے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ چل کر سیاسی تبلیغ ،

    آج ان گدی نشینوں کے سامنے ملاوٹ شدہ خوراک ۔ ملاوٹ شدہ ادویات جس کے بارے میں آپﷺ کا فرمان ہے جوملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں کاش یہ موجودہ گدی نشین اس ایک حدیث مبارکہ پر عمل کرواتے ۔

    بلاول بھٹو پیپلزپارٹی میں نئی رو ح پھونکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف زیرک مدبر اور سیاسی دائو پیچ کے ماہرسیاستدان ہیں۔پی ٹی آئی کے قائد اس وقت جیل میں ہیں وہ کب تک جیل میں رہیں گے یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں ۔ پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیں ۔ عوام کو محض الزام تراشیوں کی سیاست اور نرگسی جھانسوں سے تسلی دینے کی بجائے حقیقی تعمیراتی سیاست کریں ۔ ملک بنیادی طورپر ایک مقروض ملک ہے اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے ایسی پالیسیاں بنائیں ملک معاشی مستحکم ہو۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا ہر دور میں رویا گیا ۔ اب ترقی کی جانب بلوچستان گامزن ہے غور طلب بات ہے کہ اس ترقی کو روکنے والے کونسے عناصر ہیں؟ چین اکنامک کو ریڈور کے راستے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے یہ بلوچی بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا۔ شرپسند عناصر سے ڈرانے کی فرصت نہیں کچھ شرپسند بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ہوس زر اور ہو س اقتدار کے سرکش گھوڑے پر سواروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

  • آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت چین، عرب ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں ۔پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو حمایت اس وقت حاصل نہیں ہے ۔بالخصوص لاڈلے کا الزام لگانے والوں کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو بھی نہ ہی امریکہ اور نہ ہی کسی دوسری عالمی طاقت کی حمایت ہے اس کو سیاسی پروپیگنڈہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ عوام کے لئے عرض ہے کہ دنیا میں اس وقت جنگی بادل چھائے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ اسرائیل اور حماس کی جنگ غزہ جل رہا ہے۔ روس اور یوکرائن جنگ کے اثرات یورپی معیشت پر پڑے ہیں۔ امریکہ اس وقت خود کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے۔

    چین کا بڑھتا اثر و رسوخ روس کے صدر کا عرب ممالک کا دورہ اور دیگر عالمی سیاسی اتار چڑھاؤ۔ اس جنگی ماحول میں عالمی دنیا کی توجہ معیشت پر ہے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پاک فوج ملکی سلامتی کے ساتھ معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ ملک کی دو طاقتور شخصیات چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورہ امریکہ انتہائی اہم قرار دیا جاسکتاہے، مسئلہ کشمیر اور غزہ جنگ پر بات چیت سمیت معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے لئے دونوں شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس سے قبل خلیجی ممالک نے بھی آرمی چیف کی اکنامک ڈپلومیسی کی وجہ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کا یقین دلایا۔

    امریکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور پھر آئی ایم ایف سے کاروباری تعلقات میں پاکستان کو امریکہ کے تعاون کی ضرورت بھی رہتی ہے تاہم آرمی چیف کی ان کوششوں سے پاکستان معاشی گرداب سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان سے تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی ہے سچ تو یہ ہے اس وقت پاکستان کی عزت پاک فوج نے ہی بچا کر رکھی ہے عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کرنے میں پاک فوج کا کردار صاف نظر آتا ہے سیاسی جماعتوں کے کردار صبح شام ایک دوسرے کو غدار، افواہ سازی ، اقتدار اختیارات کے کھیل نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا ہے۔ جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔
    shehad qureshi

  • راجہ مہتاب خان کے گھر پولیس گردی قابل مذمت،شہزاد قریشی کا کاروائی کا مطالبہ

    راجہ مہتاب خان کے گھر پولیس گردی قابل مذمت،شہزاد قریشی کا کاروائی کا مطالبہ

    اسلام آباد،روزنامہ اوصاف،باغی ٹی وی کے تجزیہ نگار شہزاد قریشی نے اوصاف گروپ کے چیئرمین راجہ مہتاب خان اور سی ای او اے بی این نیوز اور گروپ ایڈیٹر اوصاف محسن بلال خان کے گھرپولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ راجہ مہتاب خان نے اوصاف یا اے بی این نیوز میں کوئی بھی خبر یا ٹکر ایسانہیں چلایا جس سے خدا نخواستہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ آئے ،راجہ مہتاب خان ایک محب وطن صحافی ہیں،جنہوں نے ملکی سلامتی کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے اپنے اخبار اور چینل پر اسلامی اقدار،ملک کی نظریاتی سرحدوں اور وقار کو ملحوظ خاطر رکھاہے،اس طرح کی پولیس گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا،وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ،آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر اورچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فوری طور پر نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے احکامات دیں

    واضح رہے کہ اوصاف براڈ کاسٹنگ نیوز نیٹ ورک کے چئیرمین راجہ مہتاب خان کے گھر اسلام آباد پولیس نے مبینہ طور پر دھاوا بولا،گارڈ کو مارا گھر کے دروازے توڑے گئے ،مسلح پولیس اہلکار رہائشگاہ میں گھومنے کے بعد نکل گئے، پولیس اہلکاروں نے چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کیا ہے،پولیس وردی میں ملبوس 18 سے زائد اہلکاروں نے 20 دسمبر کی شب دھاوا بولا، گارڈ پر تشدد بھی کیا گیا،

  • انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابی دنگل،نظریاتی کارکنان کے حق پر ڈاکے کیوں؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    الیکشن سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم سیاسی نام نہاد رہنماؤں جو ہر ضلع اور ڈویژن کی سطح پر پائے جاتے ہیں اپنی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو گمراہ کر کے اپنی دولت میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں اور اپنی قیادت کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم میں سودے بازی میں ملوث ہوتے ہیں یہ وہ نام نہاد رہنما ہیں جو حقیقی اور مخلص کارکنان اور نظریاتی شخصیات کے حقوق پر ڈاکے کے مترادف ہے یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ارتقائی پرورش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع اور ڈویژن میں جاری یہ روش مسلم لیگ (ن) کے کئی نام نہاد رہنما اس میں ملوث ہیں۔ میاں محمد نوازشریف جلاوطنی کی ایک طویل رات گزارنے کے بعد ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کی آمد پر مسلم لیگ (ن) کو مکمل بیداری کے ساتھ ایسے نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرنا ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں وفادار، اچھی شہرت، رکھنے والی شخصیات کو الیکشن ٹکٹ دینے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کو یہ پرکھ کرنی ہوگی کہ کون لوگ لینڈ مافیا، کرپٹ پولیس افسران اور جرائم پیشہ حلقوں کے ہم نوالہ رہے ہیں اور کون اپنی جان کی بازی لگا کر پارٹی قیادت کے ساتھ مشکل کھڑے رہے پارٹی قیادت کو دیکھنا ہوگا اپنے نیچے امیدواروں کو اس گارنٹی پر ٹکٹ دلوانے پر کوشاں ہیں کہ ان کے الیکشن کے اخراجات بھی ان کے مرہون منت امیدواران برداشت کریں گے ان لٹیروں کی تلاش اور کرپٹ سہاروں کے بل بوتے پر انتخابی دنگل میں اترنے والے پہلوان حقیقی مخلص کارکنوں کو دوسرے پارٹی عہدیداروں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ کئی رہنمائوں نے جیلیں کاٹی مقدمات کا سامنا کیا لیکن ان سزائوں اور مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کو یہ جانچنا ہوگا کون اپنے کردہ جرائم کی وجہ سے جیلوں میں گیا اور کون ناکردہ گناہوں کی سزا محض میاں نوازشریف اور پارٹی قیادت سے وفاداری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی سفر حیات کے نشیب و فراز سے میاں محمد نوازشریف، مریم نواز اور دیگر پارٹی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے۔ شباب کی چوکھٹ پر قیام پذیر افراد کو کیا معلوم جو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں وہ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • افواہوں  کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افواہوں کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو عدت ، طلاق، کون بنے گا وزیراعظم ؟ افواہوں اور ا نتشار زدہ سیاسی ماحول میں قوم کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن جو یورپین یونین کے اہم ترین ملک ہالینڈ کے شہر دی ھیگ میں ہوا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ سی ایس پی کی چیئر کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ 193 ممبران پر مشتمل کانفرنس نے ایک سال کے لئے پاکستان کو منتخب کیا ہے۔ ایشیائی گروپ نے ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سلجوق منتصر تارڑ کو نامزد کیا وہ پاکستان کی طرف سے ایک سال کے لیے اس بین الاقوامی تنظیم کے چیئرمین ہوں گے۔

    8 فروری 2024 کا انتظار کریں عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت میں قبول اور منظورکیا جاتا ہے ۔ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات میں میں کامیابی حاصل کریں گے اور ایک مخلوط حکومت بنائیں گے جس کے وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے جبکہ(ن) لیگ کا دعویٰ ہے ہماری حکومت ہوگی نواز شریف وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں اصل مقابلہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا نظر آرہا ہے ۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ سندھ اور کراچی کے شہری علاقوں میں کامیابی حاصل کریں گے اور (ن) لیگ سمیت صوبہ سندھ میں حکومت بنائیں گے۔ میرے خیال میں کراچی کے شہری حلقوں میں جماعت اسلامی کا غلبہ ہے اس لئے جماعت اسلامی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی نہیں جماعت اسلامی ایک حقیقت ہے افسانہ نہیں۔ تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ درست یہ سب عوامی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ عوام پر فرض ہے کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ تاہم(ن) لیگ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے ،غربت کے خاتمے کے لئے بے روزگاری کے خاتمے ، اپنے ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دینے کے لئے منشور کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کون ہوگا کیونکہ ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعت وزیراعظم کی حقدار ہوگی 2024 میں نئے نویلے وزیراعظم کون ہوں گے آنے والے نئے وزیراعظم کیا ان ناگفتہ بہ حالت میں کیا کچھ کر پائیں گے انتظار کیجئے ۔