Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت،مریم کا کردار،تجزیہ :شہزاد قریشی

    2024ء کی آمد آمد ہے الیکشن کمیشن نے قومی انتخابات کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ نوازشریف نے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ لندن سے واپسی پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اس بات کی گواہی ہے کہ نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دیہی علاقوں میں عوام کی اکثریت کان لیگ میں شامل ہونا نوازشریف کی ووٹروں پر مسلسل گرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گرفت کا سہرا ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنے والد کی سیاست اور مقبولیت کو کم نہیں ہونے دیا پابندیوں کے باوجود وہ اپنے والد کا مقدمہ گلی کوچوں بازاروں میں پہنچاتی رہی۔

    بلاشبہ نواز شریف کے دور حکومتوں میں پاکستان نے حقیقی ترقی کی تھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بڑے بڑے میگا پراجیکٹ موٹرویز، ایرپورٹ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوطی میں بھی نوازشریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ملک کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

    بلاشبہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا دبائو رہتا ہے اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ملکی سلامتی کے ذمہ دار پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو لے کر چاک و چوبند ہیں۔ چین اور امریکہ کے اپنے اپنے مفادات ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے ذمہ داران ریاست کے بھی اس ملک کی سلامتی اور بقا کے مفادات ہیں اس سلسلے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کی قربانیوں کو فراموش میں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پاک فوج ملک کو 1971ء کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کی علیحدگی ہوئی۔ افسوس صد افسوس ملک میں رہنے والے بعض دانشور، سیاسی تجزیہ نگار، سوشل میڈیا پر عمران خان کی محبت میں ملکی سلامتی اور بقا کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان مقبول سیاسی لیڈر ہیں مگر وہ ہوش نہیں جوش سے کام لینے والے لیڈر ہیں۔ سیاست میں بردباری اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • افواہوں  کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    افواہوں کے موسم میں اچھی خبر،پاکستان کو ملا اعزاز،تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو عدت ، طلاق، کون بنے گا وزیراعظم ؟ افواہوں اور ا نتشار زدہ سیاسی ماحول میں قوم کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن جو یورپین یونین کے اہم ترین ملک ہالینڈ کے شہر دی ھیگ میں ہوا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ سی ایس پی کی چیئر کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ 193 ممبران پر مشتمل کانفرنس نے ایک سال کے لئے پاکستان کو منتخب کیا ہے۔ ایشیائی گروپ نے ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سلجوق منتصر تارڑ کو نامزد کیا وہ پاکستان کی طرف سے ایک سال کے لیے اس بین الاقوامی تنظیم کے چیئرمین ہوں گے۔

    8 فروری 2024 کا انتظار کریں عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت میں قبول اور منظورکیا جاتا ہے ۔ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات میں میں کامیابی حاصل کریں گے اور ایک مخلوط حکومت بنائیں گے جس کے وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے جبکہ(ن) لیگ کا دعویٰ ہے ہماری حکومت ہوگی نواز شریف وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں اصل مقابلہ (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا نظر آرہا ہے ۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں عوام مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبہ سندھ اور کراچی کے شہری علاقوں میں کامیابی حاصل کریں گے اور (ن) لیگ سمیت صوبہ سندھ میں حکومت بنائیں گے۔ میرے خیال میں کراچی کے شہری حلقوں میں جماعت اسلامی کا غلبہ ہے اس لئے جماعت اسلامی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی نہیں جماعت اسلامی ایک حقیقت ہے افسانہ نہیں۔ تاہم تمام سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ درست یہ سب عوامی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ عوام پر فرض ہے کہ وہ پاکستان کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ تاہم(ن) لیگ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے ،غربت کے خاتمے کے لئے بے روزگاری کے خاتمے ، اپنے ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دینے کے لئے منشور کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ تاہم فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ آئندہ وزیراعظم کون ہوگا کیونکہ ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعت وزیراعظم کی حقدار ہوگی 2024 میں نئے نویلے وزیراعظم کون ہوں گے آنے والے نئے وزیراعظم کیا ان ناگفتہ بہ حالت میں کیا کچھ کر پائیں گے انتظار کیجئے ۔

  • آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کا گندہ کھیل اور سیاست کی عدت سے طلاق تک پہنچ.تجزیہ،شہزاد قریشی

    ملکی سیاست میں افواہ سازی معمول بن چکی، آڈیو ‘ ویڈیو کے گندے کھیل سے شروع ہونے والی سیا ست اب عدت اور طلاق تک پہنچ چکی ہے، جس غلیظ سیاست کا آغاز پی ٹی آئی نے کیا تھا آج وہ خود اس کے گلے پڑی ہے، گزرے زمانے میں سیاستدان قوم کی رہنمائی کرتے تھے، آج معاشرے میں وہ گند پھیلایا جا رہا ہے جس کی اجازت اسلام دیتا ہے نہ اخلاقی روایات .

    سیاستدان ‘ وی لاگر‘یوٹیوبر‘ نام نہاد دانشور ذرا سوچیں ہم قوم کے مستقبل نوجوان بچوں اور بچیوں کے ذہنوں میں کیا بھر رہے ہیں،ہوس اقتدار اوراختیارات نے سیا ستدانوں کو ملکی وقار‘ عزت نوجوان نسل کے مستقبل کو پس پشت ڈال دیا ہے ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو قومی ،عوامی اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا، آج کے خزاں رسیدہ اور پرفتن دور میں ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہے، بد اخلاقی معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے، معاشرے کے ناسوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ،ہمارا معاشرہ جھوٹ‘ حق تلفی‘ الزم تراشی بے شرمی و بے حیائی‘ فریب دھوکے بازی‘ ذخیرہ اندوزی‘ ملاوٹ‘ سود جیسی برائیوں سے بھرا پڑا ہے، علمائے کرام‘ مذہبی جماعتوں کا بھی معاشرے کو سدھارنے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا، معاشرہ اخلاقی‘ معاشی اور سیاسی اعتبار سے گراوٹ کا شکار ہے جو لوگ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں ، ان میں بھی اخلاق اور تربیت کے آثارنہیں پائے جاتے، اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لئے جائیں اور معاشرے کو سدھارنے میں ہرکوئی کردار ادا کرے،

    ہمارا معاشرہ اخلاقی اقدار سے مزین معاشرہ بن سکتا ہے،خبروں کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کا شیڈول آرہا ہے ووٹر نوٹ کے بغیر ووٹ استعمال کرے،جملہ بازوں‘ آزمائے ہوئے لوگوں کو بار بار مت آزمائیں، کسی کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت خراب اور بر باد مت کیجیے اچھے معاشرے کی تشکیل کے لئے ووٹ بہترین طاقت ہے،اچھے شہری بن کر شان سے و قار سے رہنا سیکھیے، ملک اور بچوں کا مستقبل سامنے رکھے کہ ووٹ دیں۔

  • جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے  پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کی تاریخ کیا لکھی جائے گی ؟ ملک مقروض،عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم،مہنگائی ، بے روزگاری عروج پرہے اور یہ ایک دسرے کو غدار ،سیکورٹی رسک ، انڈیا کا یار، یہودی ایجنٹ ، امریکی ایجنٹ گردانتے ہیں اور اب بات لاڈلا تک پہنچ چکی ہے،یاد رکھیے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی لاڈلا نہیں،اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی یہ سرزمین اور عوام ہیں اسی سرزمین کی سلامتی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ قربانیاں دیتی ہے،موجودہ دور میں قومی سلامتی کی تعریف وسیع ہو گئی ہے اور معیشت اس کا ایک بڑا حصہ ہے،فوج کا ساتھ ہر طبقہ فکر کے لوگ دیتے ہیں،تب ہی فوج کا جذبہ جوان رہتا ہے اور وہ کامیاب ہوتی ہے، فوجی کے جذبات دل و دماغ میں پرورش پاتے ہیں اور جنگ کے موقع پر وہا ں کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

    فوج کے نیچے سے تو سیاستدان زمین کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں،سیاستدان چاہتے ہیں ، فوج آئین اور قانون کے تحت ان کی تابع رہے،یہ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی تو اپنا قبلہ درست رکھیں،فوج کو اپنا ہی سمجھیں اس کی وجہ سے ملک قائم ہے اوریہ فوج ہی ملکی سلامتی کی ذمہ دار ہے، جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ خدارا اپنی فوج سے غیریت مت برتیے، سیاستدانوں کو لاڈلاکی سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا،نواز شریف اگر لاڈلے ہوتے تو تین بار وزارت عظمٰی سے کیوں نکالے جاتے ؟نواز شریف کے خلاف کرپشن کی داستانیں آج طوطا میںا کہانیاں ثابت ہورہی ہیں، ان کے ا دوار میں کئی میگا پراجیکٹس آج قومی اثاثے ثابت ہو رہے ہیں، جن میں موٹر ویز سرفہرست ہیں، ایٹمی طاقت کا اظہارقومی دفاع کی علامت بن چکا ہے،

    سیاستدانوں کے لئے بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ، نواز شریف کی اقتدار میں انٹری اور ایگزٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں اور مقتدر حلقوں میں نوازشریف کی حب الوطنی اور عالمی تناظر میں اہمیت روز روشن کی طرح واضع ہو چکی ہے ،تمام سیاسی قوتوں کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کودیکھنا ہو گا، ورنہ ذر ا سوچئے اگر جمہوریت کی پری نے مکھڑا پھیر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ نواز شریف کیسا لاڈلا ہے 2002 ، 2008 اور 2018 کا الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، 2013 عدالتی حکم پر الیکشن لڑا،اب فیصلہ عوام کریں لاڈلاکون ہے ؟

  • بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا نواز شریف پر اظہار اعتماد،تجزیہ:شہزاد قریشی

    صوبہ بلوچستان میں سیاسی اکابرین کا میاں محمد نواز شریف پر اظہار اعتماد اور مسلم لیگ (ن) میں شمولیت دراصل نواز شریف کی بطور وزیراعظم ان کا وشوں کا اعتراف ہے جو کہ نواز شریف نے بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے بلوچی بھائیوں کے زخم پر مرہم رکھنے اور صوبہ کو گوادر سی پورٹ اور مواصلاتی و ترقیاتی منصوبوں سے لیس کرنے کے اقدامات تھے ۔ نواز شریف نے گذشتہ ادوار میں بطور وزیراعظم جہاں پاکستان بھر میں میگا پراجیکٹس کی بھرمار کردی تھی وہاں بلوچستان منصوبہ کو بھی سی پیک و گوادر پورٹ کے منصوبوں سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے تاریخی اقدامات کیے تھے۔ اس ترقی کا عمل وہیں کا وہیں روک دیا گیا جس کا خمیازہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا۔ آج بلوچستان میں نواز شریف کی جو عزت افزائی ہوئی اور قومی سطح کے اعتماد بھائی چارے کی فضا کو جو فروغ ملا اس پر چند سیاسی طالع آزما ئوں کو اور کچھ دانشوروں تجزیہ کاروں کو تاریخ کے صفحات پلٹ کر ایک نظر ان حقائق پر بھی ڈالنی چاہیئے ۔

    جب قومی و جمہوری و مفاہمتی سیاست کے د عویدار جناب آصف علی زرداری نے اپنے خفیہ موکلوں کے بل بوتے پر مسلم لیگ (ن) کی ہی حکومت کو رخصت کیا تھا اور سینٹ میں مسلم لیگ(ن) کی عددی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کروا کر ( ایک زرداری سب پر بھاری ) کے خوشامدانہ نعر ے اور نعروں سے اپنے دامن پرجمہوریت کے قتل کے داغ سجا لئے تھے۔ آج لیول پلنگ فیلڈ کے نام پر اپنے ماضی کے گناہوں سے چشم پوشی کرنے والوں کو وہ وقت بھی یاد رکھنا ہوگا۔ قوم نے نواز شریف کی وزارت عظمٰی سے معزولی کی بھاری قیمت جو ادا کی تھی وہ ترقیاتی عمل سے تنزلی کا سفر ، سی پیک رول بیک ، جی ڈی پی میں کمی ، صحت و تعلیم کے شعبوں میں سہولیات کے فقدان کی صورت میں بھگتا ہے ۔ملکی سیکورٹی اور فوجی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ قومی مفاد سے آشنا ، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو چاہیئے کہ عوام کو باور کرائیں کہ دھرنا دھندوں عقل کے اندھوں سیاسی نعروں سے نکل کر صوبوں میں برابر ترقی کے خواب کو عملی جامعہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کریں .دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اورہم ذرا سوچئے؟

  • دنیا اقتدار  اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں ،مگر کون سمجھائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ۔ ماموزئے تنگ ہر چینی ، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہر پاکستانی۔ اس کے علاوہ ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں ز ندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے۔ ان کے ہمسفر نہ کوئی گوگی ،نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے، آج کی سیاسی جماعتوں میں یہ سب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ اس طرح کے سیاستدانوں جن کے ہمراہ اس قسم کی مخلوق ہوتو اپنے ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پھینک دیتا ہے ۔ سیاستدان اخلاقیات سے عاری اور منافقت کے چلتے پھرتے نمونے بن چکے ہیں۔ حیرت ہے یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا حاصل ہے اور یہ ادارے ملکی بقا اور قومی سلامتی کی علامت ہوتے ہیں ان اداروں کو نہ صرف بدنام کیا جا رہا ہے بلکہ گھٹیا اور غلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اس جرم میں ملکی سیاسی جماعتیں ملوث ہیں ۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر خود کو معصوم قرار دیتے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ان قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔امریکہ سے لے کر مغربی ممالک اور مڈل ایسٹ میں ان قومی سلامتی کے اداروں کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ ان اداروں کو بدنام یا کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    مسجد اقصٰی کا مستقبل نہ امریکہ نہ ہی اسرائیل اور نہ ہی عالمی دنیا کے کسی مسلم ممالک کے ہاتھ میں ہے مسجد اقصٰی کا مستقبل وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے ۔ اس کی وہی حفاظت کرے گا جس پر وردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا۔ آج کے عالمی حکمرانوں سمیت مسلمان حکمرانوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں اور اپنے اپنے مفادات ،آج کی دنیا میں قیامت کا سماں برپا ہے ۔ نفانفسی کا عالم ہے ۔ دنیا اقتدار اختیارات کی دوڑ میں لگی ۔مگر ان انسانوں کو کون سمجھائے دولت اور حکمرانی خدا پاک کی طرف سے عطا کردہ آزمائشی تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا دنیا پر ایک بطور امتحان ہے تاہم یاد رکھیئے نشیب وفراز کی کنجی صرف خدا پاک کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں فرعون کے نقش قدم پر چلے توکیا کہا جا سکتا ہے۔؟

  • پارٹی منشور میں مشکلات اور انکے حل کا فارمولا پیش کیا جائیگا،عرفان صدیقی

    پارٹی منشور میں مشکلات اور انکے حل کا فارمولا پیش کیا جائیگا،عرفان صدیقی

    اسلام آباد،مسلم لیگ ن کے رہنماء سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے حکم پر پارٹی منشور کی تیاری شروع کردی ہے،گزشتہ روز باغی ٹی وی کے تجزیہ کار شہزاد قریشی سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف قوم کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک واپس آئے ہیں انہوں نے پارٹی منشور میں تمام پہلوئوں کومد نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا منشور صرف منشور نہیں ہوگا بلکہ اس پر ان شاءاللہ حکومت میں آنے کے بعد من وعن عمل بھی کیا جائے گا،منشور میں عام پاکستانی کی مشکلات اور ان کے حل کا فارمولا پیش کیا جائیگا،

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ کہ میاں نواز شریف اپنی قوم کیلئے آسانیاں پید اکرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں،ان شاءاللہ اس قوم نے جس طرح میاں محمد نواز شریف کا استقبال کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہی واحد لیڈرہیں جن کے پاس قوم اور ملکی مسائل کا حل موجود ہے ،سینیٹر عرفان صدیقی کا مزید کہناتھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے سدباب کیلئے منشور میں فارمولا پیش کیا جائیگا ،ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب ملک ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا،اور یہ صرف اور صرف میاں نواز شریف کی قیادت میں ہی ممکن ہے

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ ،او آئی سی ، عرب لیگ دوسرے بین الاقوامی ادارے ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدارو ،سعودی عرب، قطر ، ایران ، مصر اورترکی ، مسلمان ملکوں میں بے گناہ انسانوں کو ذبح کرنے والو۔ امت مسلمہ کا درس دینے والو۔ آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 30دن ہو گئے ۔ نسل آدم کی لاشیں گر رہی ہیں آپ کا کردار کیا ہے ؟

    جمہوریت کی دوکانیں چلانے والو، بالخصوص جنت کے دعویدارو. تمہارے سامنے غزہ لہو لہو ہے ۔ جنت کے دعویدارو کیا تم موت کو بھول بیٹھے ہو مرنے کے بعد زندہ ہونا اور خدا کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ نیتن یاہو غزہ کے ساتھ اسرائیلی قوم کا بھی قاتل ہے اسرائیلی عوام بھی سراپا احتجاج ہے ۔ عرب ریاستوں کا کردار پہاڑ پر چڑھ کر جنگ کا نظارہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے بھارت صدیوں سے بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ بھارت میں عیسائی ، مسلمان ، غیر محفوظ ۔ عالمی ادارے تادم تحریر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

    بوڑھے سیاستدان جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دیکھ لیں، اہم ریاستوں کی امریکی کمیونٹیز ، بائیڈن کی اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہو رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو آپ کو سچائی کو اپنانا ہوگا۔ موجودہ تباہی کے بعد بائیڈن کے پاس مشرقی وسطی میں امن کی بحالی کے بعد فوری طورپر مردہ حالت میں واپس لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ امریکہ اور عالمی دنیا کو فوری مداخلت کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے۔ حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے پر جنگ ہو تو بے گناہ انسانوں کا خون بہتا ہے ۔ عالمی طاقتیں تماشائی نہ بنیں اپنا کردار ادا کریں انسانیت کی خاطر۔

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے شکوہ
    وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
    اقربا میرے کریں قاتل کا دعویٰ کس پر

    قومی انتخابات کو لے کر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پیپلزپارٹی روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتی ہیں کہ الیکشن وقت پر اور آئین کے مطابق کروائے جائیں ان کے بیانات سن کر اور پڑھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے اس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے مشترکہ مفادا ت کونسل کے ذریعے مردم شماری کا شوشہ چھوڑ کر بروقت الیکشن کے انعقاد کو ٹالنے کی ایسی راہ ہموار کر دی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن ضابطہ کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پابند ہے۔

    ویسے بھی پنجاب میں نگران حکومت اور کے پی کے میں نگران حکومت آئین کی حدوں کو کراس کر چکی ہیں دونوں صوبوں میں مقررہ وقت پر الیکشن نہیں کروائے گئے اس طرح الیکشن مقررہ وقت کے بیانات پچیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس کے ذمہ دار خود سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ ملک میں پہلے ہی جمہوریت غیر مستحکم ہے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اس غیر مستحکم جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید لاغر کردیا ہے۔ قومی انتخابات جس کو جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے پی ڈی ایم نے خود اس کی روح نکال دی ہے اور دفن کر دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بیانات میں حقیقت نہیں صرف افسانے ہیں۔ افسانے افسانے ہی ہوتے ہیں حقیقت نہیں عوام کی اکثریت باشعور ہیں بے وقوف نہیں۔