ساؤتھ ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شب میں گولڈ میڈل جیتنے والے شہزاد قریشی کی وطن واپسی پر قومی چیمپئن کا پرتباک استقبال کیا گیا۔ ساؤتھ ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شب میں گولڈ میڈل جیتنے والے شہزاد قریشی وطن آ گئے، کراچی ائیرپورٹ پر فیملی، دوستوں اور باڈی بلڈرز کمیونٹی نے پھولوں کے ہار پہناکر استقبال کیا۔پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے سیکرٹری سہیل انور بھی شہزاد قریشی کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ پہنچے ہیں۔
Tag: شہزاد قریشی
-

سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی
سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔
پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔
ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔ -

ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی
تجزیہ:شہزاد قریشی
ترکی کے انتخابات کو بین الاقوامی میڈیا نے بہت زیادہ کوریج دی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردگان سلطنت عثمانیہ کی شان کو زندہ رکھنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کا میاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ ملکی وطن عزیز کے سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے کیا عزائم ہیں۔ اس کا اندازہ 9 مئی اور اسکے بعد سپریم کورٹ کے باہر ڈنڈا بردار فورس جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں نے کی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے کیا عزائم ہیں۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی سلطنت سمجھ لیا ہے اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے کسی بھی وقت اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے ہر حد کراس کر سکتے ہیں۔ بوقت ضرورت آئین کو پامال کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاست کا بازار گرم ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے اندازوں کے ذریعے کہانیاں مل رہی ہیں قوم بھی مصروف ہے سیاستدان بھی مصروف ہیں کاروبار مفلوج ہے۔ عمران خان نے اپنا سیاسی نقصان بہت کیا ہے سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔آنے والا وقت کس سیاستدان کا ہوگا یہ بھی کہنا قبل از وقت ہے پلوں کے نیچے سے نہیں اوپر سے بھی پانی بہہ رہا ہے بلکہ سیلاب بہہ رہا ہے۔ وطن کی افواج اور اسکے نہایت ہی بلند ہمت سابقہ اور موجودہ جرنیلوں نے ملک کو نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا اس کی مثال عالمی دنیا دے رہی ہے ضرب عضب اور رد الفساد کی مثالیں قوم اور بالخصوص نوجوان طبقہ کے کے علم میں ہیں اس کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا جا رہا ہے۔ سیاستدان اپنی جماعتوں میں موجود ایسی لابیوں کو باہر نکال پھینکیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں سیاسی جماعتوں کی صفوں میں ایسی لابیاں موجود ہیں یہ ملک دشمن قوتیں ہیں جو سیاسی جماعتوں کی صفوں میں رہ کر ہماری قومی سلامتی پر وار کرتی ہیں۔ قوم اور بالخصوص نوجوان طبقے کو اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ ملک کی عزت وقار اور سلامتی کے لئے اپنے قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
-

خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی
بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے لازوال اوربے مثال قربانیوں بے نظیر جرات ا ور استقلال سے دنیا کی سپُر پاورز کی افواج کو حیران کردیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے عسکری تاریخ میں قابل تقلید باب رقم کردئیے وطن عزیز قائم ودائم ہے بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ تاہم بھارت سمیت کچھ طاقتیں وطن عزیز میں اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو معاشی طورپر کمزورکرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اپنے سیاسی مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان ان سیاسی جماعتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں اپنے آنے والے کل پر توجہ دیں
وطن عزیز کے بہتر مستبل کے لئے تعلیم پر توجہ دیں ان جماعتوں کی اکثریت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے انہیں آئین اور قانون کی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں یہ عمر کے آخری حصے میں اپنے بچوں کے بہتر سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ پی ڈی ایم رہے نہ رہے پی ٹی آئی رہے یا نہ رہے وطن عزیز قائم ہے اور قائم رہے گا۔ امریکہ اور چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ روس کے اپنے مفادات ہین ۔ سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک کے اپنے مفادات ہیں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی چین خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین کا اثرورسوخ اس خطے میں ہو۔ چین نے کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں جانے سے انکارکردیا ۔ یہ ا س خطے میں سیاسی تبدیلی ہے جو اس خطے میں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کا ثالثی کردا ر ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ ،روس اور یو کرائن کی جنگ کو ختم کرانے کی چین کی کوشش یہ سب تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں
ذمہ داران ریاست کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز کے اور24 کروڑ عوام کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ملکی سیاسی جماعتیں جو کھیل کھیلنے میں لگی ہیں اس کھیل میں 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان نہیں ہیں ان کے اپنے اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں،ان سیاسی جماعتوں کی خاطر ملک میں جلاؤ گھیرائو اور ہنگاموں سے دور رہیں
-

سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی
ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سیاسی عدم استحکام معاشی بدحالی انتظامی ،اداروں کے درمیان اور اداروں کے اندر کشمکش حکومتوں کے چل چلاؤ کی بے یقینی جیسے ان گنت مسائل کے گرداب میں عام آدمی کے متعلقہ معاملات دب کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر محب وطن غمزہ اور اشکبار ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد 24 کروڑ عوام کو بلاشبہ عمران خان اس وقت عوام میں مقبول ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کریں ان میں وہ سیاسی تجربہ نہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف میں ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نواز شریف کو ڈان اور سیلسین مافیا قرار دیا گیا کیا یہ کسی قوم یا ملک کی بدنصیبی نہیں کہ قوم کے لیڈروں کو غدار، ور اب موجودہ سرکار دہشت گرد قرار دے رہی ہے ؟ اس سے بڑا اس قوم کے ساتھ ظلم کیا ہو گا؟ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں آج بھی اگر وہ پاکستان موجود ہوتے توسیاسی انتسار کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ملک وقوم کے لیے وہ عمران کو بھی گلے لگاتے اور اس کی مثال موجود ہے ، نواز شریف کو الیکشن مہم کے دوران خبرملی کہ عمران خان لاہور میں جلسہ گاہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تو نواز شریف نے اپنا جلسہ لیاقت باغ ملتوی کیا اور شہباز شریف اور پرویز رشید کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھیجا جبکہ اسلام آباد بنی گالہ بھی چل کر گئے۔ اُس کے بدلے عمران خان کی جماعت نے نواز شریف کو بین الاقوامی چور اورڈاکو کے الفاظ سے یاد کیا۔ آج سیاسی لیڈر شپ نہ ہونے کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہے ہیں ۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے سیاسی معاملات کو سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کو آئین اور قانونی بردباری سے حل کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے مذاکرات کیے جائیں۔ اس ملک و قوم کی خاطر ضد ،انا ،ہٹ دھرمی میں نہ مانوں کا خاتمہ کیا جائے سیاستدان مل کر جمہوریت اور ملک کی بقا اور سلامتی ،عوام کی خاطر جو اس وقت بند گلی میں کھڑی ہے مذاکرات کریں۔
-

وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی
قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔
اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔
اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔
-

مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی
اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔
پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،
-

بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی
بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔
بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔
-

اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی
پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔
آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔
-

ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی
جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-
اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔
یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔
