Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سرگودھا میں ایک غریب گھریلو ملازمہ بچی کو معاشرے کے پڑھے لکھے اور عوام کو انصاف فراہم کرنے والوں نے جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا اس پر لکھیں توکیا لکھیں؟ انسان تو انسان چرند و پرند بھی شرمندہ ہیں۔ کیا لکھا جائے اور کتنا لکھا جائے۔ دست قلم لرز رہا ہے۔ عقل و دماغ مائوف، ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔ بھلا ہو پولیس کا،جنہوں نے تشدد کرنے والی ایک سول جج کی بیگم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پنجاب پولیس میں ڈی پی او سرگودھا جیسے ایماندار فرض شناس آفیسر موجود ہیں بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا جنہوں نے اس محکمہ میں مداخلت اتنی کی کہ یہ اپنی آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے مقدمے سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس میں قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنے والے افسران موجود ہیں۔

    عرب نیوزمیں ڈاکٹر علی عواد اسیری جو پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف ایک مشکل لیکن نتیجہ خیز مدت کے اختتام کے قریب ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات جس میں اہم پالیسی فیصلے کئے گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں جی سی سی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما سمجھتے ہیں کہ سرمایہ کاری بحران سے دوچار معیشت کو جی سی سی پائیدار ترقی کی جانب مستحکم راستے پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر علی عواد اسیری لکھتے ہیں شہبازشریف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا مالیاتی ڈیفالٹ کے دہانے پر موجود ملک کو وراثت میں ملا تاہم پاکستان اتنا مستحکم ہے کہ نگران سیٹ اپ کی طرف آسانی سے منتقل ہو سکے۔ نومبر میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کے عہدے پر تقرری کے بعد سے سیاسی انتشار کم ہو گیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کا ایک نیا معاہدہ جون میں اختتام پذیر ہوا۔ چائنا پاکستان کو ریڈور بحال ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات دوبارہ پٹڑی پر آگئے۔ سب سے بڑی قابل ذکر بات سول ملٹری تعاون نے جی سی سی اقتصادی میدان میں توسیع کی ہے جس سے سرکردہ معیشتوں کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کر کے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں شہبازشریف نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اچھا کام کیا ہے امید ہے مستقبل کی سیاسی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھے گی خاص طور پر ترقی پذیر جی سی سی شراکت داری کے حوالے سے، قارئین ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کے بیورو کریٹ سول انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔

  • روشن پاکستان  گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    روشن پاکستان گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    گرین پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے زرعی انقلاب کی بات کی ہے بلاشبہ اس وقت ملک کو ترقی کی طرف اگر لے کر جانا ہے تو زرعی انقلاب لانا ہوگا۔ اگر صدق دل سے حکومت اور بیورو کریسی سمیت انتظامیہ ، بورڈ آف ریونیو ،زراعت پر توجہ دے تو آنے والے سالوں میں پاکستان نہ صرف ترقی کر سکتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض نہیں رہے گا۔ ایسے ایجنڈے سر فہرست رکھ کر ایک روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ گرین پاکستان پر عمل کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔ گرین انیشیٹوجسے سعودی عرب نے 2021 ء میں شروع کیا تھا سعودی حکام پر خطے کے لئے دو رس اقتصادی مواقع پیدا کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ میں اثر کو بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ گرین انیشیٹو پر اگر عمل کیا جائے تو پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی ممالک بھی مدد کریں گے۔ سبز معیشت میں چین کی منصوبی بندی سرمایہ کاری حیران کن ہے جسے یورپی یونین تسلیم کرتی ہے ۔

    خلیجی ممالک ۔ چین ، یورپی ممالک میںک و ئی لینڈ مافیا نہیں راولپنڈی سمیت پنجاب گوجرانوالہ ، شیخوپورہ ، لاہور اور اسی طرح دیگر شہروں میں ہائوسنگ سوسائٹی والوں نے زرعی زمینوں اورسرکاری زمینوں پر محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرکے پاکستان کے حسن کو تباہ کردیا ہے ۔ پٹواریوں ، تحصیلداروں گرداروں اور ضلعی اور تحصیل کی انتظامیہ کی ملی بھگت نے پاکستان کو بطور ریاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق صرف گوجر خان میں 384 کنال سرکاری رقبہ ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے جس میں جنگلات بھی شامل ہیں۔ آرڈی اے راولپنڈی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری زمینوں جس کی مالیت کروڑوں ہی وہ ان ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے اور اکثریت غیر قانونی بھی ہیں۔ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کا خواب روشن پاکستان گرین پاکستان پورا ہو سکتا ہے اگر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ان قبضہ مافیا جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ،زرعی زمینوں اور جنگلات کو برباد کیا ۔ اس کا آغاز راولپنڈی ڈویژن سے لے کر پنجاب ، کے پی کے اور صوبہ سندھ تک بڑھایا جائے ۔ اربوں کی سرکاری زرعی زمینوں کو واگزار کرایا جائے ۔ روشن پاکستان اور گرین پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ مافیا ہے۔ قبضہ مافیا ملک میں ایک طاقت بن چکا ہے ۔ جس کے قبضے میں ملک کے کئی بااثر لوگ ہیں جو اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ا ن کے کاموں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اربوں مالیت کی اراضی جس میں زرعی زمین سمیت محکمہ جنگلات کی زمینیں ہیں قبضہ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ا ن قبضہ مافیا ا ور ملک کے بااثر افراد نے ملک اور ریاست کے سسٹم کو یرغمال بنارکھا ہے۔

  • گولڈ میڈل جیتنے والے شہزاد قریشی کی وطن واپسی

    گولڈ میڈل جیتنے والے شہزاد قریشی کی وطن واپسی

    ساؤتھ ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شب میں گولڈ میڈل جیتنے والے شہزاد قریشی کی وطن واپسی پر قومی چیمپئن کا پرتباک استقبال کیا گیا۔ ساؤتھ ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شب میں گولڈ میڈل جیتنے والے شہزاد قریشی وطن آ گئے، کراچی ائیرپورٹ پر فیملی، دوستوں اور باڈی بلڈرز کمیونٹی نے پھولوں کے ہار پہناکر استقبال کیا۔پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے سیکرٹری سہیل انور بھی شہزاد قریشی کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ پہنچے ہیں۔

  • سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔

    پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔

    ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔

  • ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کے عزائم، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    ترکی کے انتخابات کو بین الاقوامی میڈیا نے بہت زیادہ کوریج دی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردگان سلطنت عثمانیہ کی شان کو زندہ رکھنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کا میاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ ملکی وطن عزیز کے سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے کیا عزائم ہیں۔ اس کا اندازہ 9 مئی اور اسکے بعد سپریم کورٹ کے باہر ڈنڈا بردار فورس جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں نے کی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے کیا عزائم ہیں۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی سلطنت سمجھ لیا ہے اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے کسی بھی وقت اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے ہر حد کراس کر سکتے ہیں۔ بوقت ضرورت آئین کو پامال کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاست کا بازار گرم ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے اندازوں کے ذریعے کہانیاں مل رہی ہیں قوم بھی مصروف ہے سیاستدان بھی مصروف ہیں کاروبار مفلوج ہے۔ عمران خان نے اپنا سیاسی نقصان بہت کیا ہے سیاسی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔

    آنے والا وقت کس سیاستدان کا ہوگا یہ بھی کہنا قبل از وقت ہے پلوں کے نیچے سے نہیں اوپر سے بھی پانی بہہ رہا ہے بلکہ سیلاب بہہ رہا ہے۔ وطن کی افواج اور اسکے نہایت ہی بلند ہمت سابقہ اور موجودہ جرنیلوں نے ملک کو نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا اس کی مثال عالمی دنیا دے رہی ہے ضرب عضب اور رد الفساد کی مثالیں قوم اور بالخصوص نوجوان طبقہ کے کے علم میں ہیں اس کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا جا رہا ہے۔ سیاستدان اپنی جماعتوں میں موجود ایسی لابیوں کو باہر نکال پھینکیں جو ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں سیاسی جماعتوں کی صفوں میں ایسی لابیاں موجود ہیں یہ ملک دشمن قوتیں ہیں جو سیاسی جماعتوں کی صفوں میں رہ کر ہماری قومی سلامتی پر وار کرتی ہیں۔ قوم اور بالخصوص نوجوان طبقے کو اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ ملک کی عزت وقار اور سلامتی کے لئے اپنے قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

  • خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے لازوال اوربے مثال قربانیوں بے نظیر جرات ا ور استقلال سے دنیا کی سپُر پاورز کی افواج کو حیران کردیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے عسکری تاریخ میں قابل تقلید باب رقم کردئیے وطن عزیز قائم ودائم ہے بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ تاہم بھارت سمیت کچھ طاقتیں وطن عزیز میں اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو معاشی طورپر کمزورکرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اپنے سیاسی مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان ان سیاسی جماعتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں اپنے آنے والے کل پر توجہ دیں

    وطن عزیز کے بہتر مستبل کے لئے تعلیم پر توجہ دیں ان جماعتوں کی اکثریت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے انہیں آئین اور قانون کی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں یہ عمر کے آخری حصے میں اپنے بچوں کے بہتر سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ پی ڈی ایم رہے نہ رہے پی ٹی آئی رہے یا نہ رہے وطن عزیز قائم ہے اور قائم رہے گا۔ امریکہ اور چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ روس کے اپنے مفادات ہین ۔ سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک کے اپنے مفادات ہیں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی چین خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین کا اثرورسوخ اس خطے میں ہو۔ چین نے کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں جانے سے انکارکردیا ۔ یہ ا س خطے میں سیاسی تبدیلی ہے جو اس خطے میں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کا ثالثی کردا ر ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ ،روس اور یو کرائن کی جنگ کو ختم کرانے کی چین کی کوشش یہ سب تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں

    ذمہ داران ریاست کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز کے اور24 کروڑ عوام کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ملکی سیاسی جماعتیں جو کھیل کھیلنے میں لگی ہیں اس کھیل میں 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان نہیں ہیں ان کے اپنے اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں،ان سیاسی جماعتوں کی خاطر ملک میں جلاؤ گھیرائو اور ہنگاموں سے دور رہیں

  • سیاسی عدم استحکام  کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سیاسی عدم استحکام معاشی بدحالی انتظامی ،اداروں کے درمیان اور اداروں کے اندر کشمکش حکومتوں کے چل چلاؤ کی بے یقینی جیسے ان گنت مسائل کے گرداب میں عام آدمی کے متعلقہ معاملات دب کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر محب وطن غمزہ اور اشکبار ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد 24 کروڑ عوام کو بلاشبہ عمران خان اس وقت عوام میں مقبول ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کریں ان میں وہ سیاسی تجربہ نہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف میں ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نواز شریف کو ڈان اور سیلسین مافیا قرار دیا گیا کیا یہ کسی قوم یا ملک کی بدنصیبی نہیں کہ قوم کے لیڈروں کو غدار، ور اب موجودہ سرکار دہشت گرد قرار دے رہی ہے ؟ اس سے بڑا اس قوم کے ساتھ ظلم کیا ہو گا؟ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں آج بھی اگر وہ پاکستان موجود ہوتے توسیاسی انتسار کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ملک وقوم کے لیے وہ عمران کو بھی گلے لگاتے اور اس کی مثال موجود ہے ، نواز شریف کو الیکشن مہم کے دوران خبرملی کہ عمران خان لاہور میں جلسہ گاہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تو نواز شریف نے اپنا جلسہ لیاقت باغ ملتوی کیا اور شہباز شریف اور پرویز رشید کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھیجا جبکہ اسلام آباد بنی گالہ بھی چل کر گئے۔ اُس کے بدلے عمران خان کی جماعت نے نواز شریف کو بین الاقوامی چور اورڈاکو کے الفاظ سے یاد کیا۔ آج سیاسی لیڈر شپ نہ ہونے کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہے ہیں ۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے سیاسی معاملات کو سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کو آئین اور قانونی بردباری سے حل کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے مذاکرات کیے جائیں۔ اس ملک و قوم کی خاطر ضد ،انا ،ہٹ دھرمی میں نہ مانوں کا خاتمہ کیا جائے سیاستدان مل کر جمہوریت اور ملک کی بقا اور سلامتی ،عوام کی خاطر جو اس وقت بند گلی میں کھڑی ہے مذاکرات کریں۔

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔

  • مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    مذمتیں جاری، مگر ظلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کیا۔ عالمی دنیا اور مسلمان ممالک نے حسب معمول صدیوں سے مذمت کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ۔حیرت ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت صدیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالم اسلام مذمت کرتا چلا آرہا ہے۔ مگر ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی سالوں سے فلسطینی شہریوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جو اسرائیلی فوجی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے ان مظاہروں کا مقصد قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی نتین یاہو کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی عوام انصاف کے اصول کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ہزاروں اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دنوں شہبازحکومت بھی عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن شہباز حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی اصلاحات کر رہے ہیں نتین یاہو اور پاکستان کی موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہئے جو قومیں اپنے ممالک میں حقیقی جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا دنیا میں اسرائیل کا اس وقت تک خیر مقدم نہیں کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنائے گا جب تک اسرائیل غیر یہودیوں کے لئے بھی وہ معیار مقرر نہیں کرے گا جو یہودیوں کے لئے مقرر ہے۔

    پاکستان میں بلاشبہ ماضی میں آمریت کو تحفظ دیا گیا مگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سابق صدر (مرحوم) پرویز مشرف کو تحفظ دینے کا انکار کردیا پھر ججز کے ساتھ جو کچھ ہوا عالمی دنیا گواہ ہے ججز کے حق وکلا شہریوں اور سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں جس کی قیادت سیاسی جماعتوں نے کی تھی آج نوبت یہاں پہنچ چکی ہے کہ ایک مخلوط حکومت عدالتی احکامات ماننے سے انکاری ہے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں پر تنقید سے شروع ہونے والا سلسلہ عدالتوں تک جا پہنچا جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،

  • بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول نے ثابت کر دیا وہ "زرداری” ہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو یعنی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے نے کسی ایمرجنسی اور مارشل لاء کا ذکر کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلاول زرداری ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مطابق وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزارت عظمی کے اُمیدواروں کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ دنیا جمہوریت کی ہے، دنیا نے اپنے معاملات حل کرنے کے سویلین حکومتیں بنا رکھی ہیں۔ا ن ممالک میں مارشل لاء کا کوئی تصور نہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے باشندے سے سوال کریں مارشل لاء حکومت کیا ہوتی ہے تووہ آپ کا منہ دیکھتا ہے ان کے نزدیک مارشل لاء نام کی کوئی حکومت نہیں ہوتی لیکن بدقسمتی سے ہماری آج کی سیاسی جماعتوں میں ایسے کھوٹے سکے موجود ہیں جو مارشل لاء کی پیدوار بھی ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں انہی لوگوں کا قبضہ بھی ہے ان کو خوشامدی بھی کہا جاتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے انہوں نے ملک معاملات سیاستدانوں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ تاہم سیاستدانوں نے اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیا ہے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔

    بھٹو کا نام آج بھی اگر زندہ ہے تو اس کی ایک وجہ بھٹو بے سہارا اور پسے ہوئے عوام کا نام لیتا تھا عوام کو سیاسی شعور دیا تاہم بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کی پیپلزپارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ آج جس طرح حیر ت انگیز طورپر عوام کی اکثریت بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ وہ عوام ، قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت اور آئین کی بات کررہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا دیکھ لیں یا ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران کا طوطی بولتا ہے ۔ عمران خان کی عملی سیاست اس کو بین الاقوامی سیاستدان بنا گئی بلاشبہ وزارت عظمی کے دوران ان کی کارکردگی قابل ستائش نہیں تھی تاہم عمران خان کو سیاستدان بنانے میں پی ڈی ایم کی سیاست کا بھی اہم کردار ہے ۔ شاید عمران خان کی مقبولیت کو دیکھ کر بلاول بھٹو نے ایمرجسنی اورکسی مارشل لاء کا ذکر کیا ہے تاہم ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت پی ڈی ایم اورعمران کا مقابلہ ایک طرف ریاستی طاقت اور دوسری طرف سیاسی مقابلہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طر ف سٹریٹ پاور اور دوسری طرف سٹیٹ پاور کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ تاہم سب نے ملک کر اپنی نالائقی ثابت کر دی ہے پاک فوج اورعدلیہ دونوں اداروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حالانکہ یہ سیاسی معاملات تھے اس کے لئے پارلیمنٹ اور سینٹ موجود تھی۔