Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    اب عدلیہ نشانہ کیوں؟ تجزیہ. شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست ہی نہیں جمہوریت، سیاستدان، عوام اور ملکی ادارے ایک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اگر کہلانے کا دعویدار ہے تو پھر دیکھنا ہوگا عدلیہ کا اسلام میں کیا مقام اور مرتبہ ہے اسلام کا بنیادی درس ہی برابری کا ہے اور اس سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ جن کی ہم امت ہیں کا آخری خطبہ ہم سب کے لئے کافی ہے۔ ہماری پارلیمنٹ جمہوری جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے خدا نہ کرے اس پر دوبارہ کوئی آنچ آئے۔ تاریخ گواہ ہے ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے حق حکمرانی سے محروم ہو گئے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں آزاد عدلیہ ، بدقسمتی سے وطن عزیز میں کوئی ایسا دور حکومت نہیں جس میں حکمران آزاد عدلیہ کے نعرے تو بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذاتی مفادات گروہی جنگ میں خود میں پڑنے والی ضرب کو روکنے کے لئے عدلیہ کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ طاقت کے کھیل میں ملکی وقار اور عزت کو سب سے مل کر دائو پر لگا دیا ہے۔

    آج ایک طرف عدل و انصاف اور دوسری طرف من مانیوں کا راج ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستانی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی پر تنقید نہیں کر سکتا اگر وہ تنقید کرے تو قابل مواخذہ ہے اورعدلیہ کی تضحیک پر پارلیمانی رکنیت بھی معطل ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں نے فوجی آمروں کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دی اور بحال بھی ہوئے۔ یقیناً نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ہے۔ سب کو مل کر ملک کے مستقبل اور اس بے بس عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاستدان کب سدھریں گے غلطی پر غلطی کرتے چلے آرہے ہیں عوام کی اکثریت ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور غیر جمہوری حرکات آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ وطن عزیز ایک انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آیا اور اس انقلاب کا جو مقصد تھا اس کا نفاذ تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی

    اداروں کو بقا ،شخصیات کو فنا حاصل،تجزیہ، شہزاد قریشی
    نجی ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا پر عدلیہ ، پاک فوج کے سابق جرنیلوں اور موجودہ جرنیلوں کے بارے میں جو زہر اگلا جا رہا ہے اسے کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملکی بقا ،ملکی وقار اور ان اداروں کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم سمیت پی ٹی آئی ملکی سلامتی کے پیش نظر ہوش کے ناخن لے، دنیا کے کسی بھی ملک میں فوج اور اعلیٰ عدلیہ بڑے اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ سلیکٹڈ کے الزام سے لے کر امپورٹڈ کے الزام تک کا ملبہ ان نام نہاد سیاستدانوں نے اپنے اداروں پر ڈالا۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے ججوں کو عالمی دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے۔ خدا نہ کرے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے خلاف ایک بھیانک سازش ہو رہی ہے اور اس سازش کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عوام اور اداروں کا ٹکرائو اداروں کو متنازعہ بنائو اور وطن عزیز کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ زندہ تو رہیں مگر بھارت سمیت دیگر پاکستان مخالف قوتوں کو آنکھیں نہ دکھا سکیں۔

    یہ ملک نہ تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی جاگیر ہے اور نہ پی ٹی آئی سمیت دیگر اپوزیشن کا ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے یہ چند خاندانوں، چند لینڈ مافیا، چند شوگر مافیا ، چند آٹا ملز مالکان کا نہیں۔ کسی زمانے میں قوم بڑی منظم ہوا کرتی تھی آج اس قوم کو غیر منظم کرنے کا کردار کس نے کیا؟ ملک کے تازہ ترین حالات کا عوام جائزہ لے اپنے مسائل کا اور ملکی معیشت کا جائزہ لے اور پھر عوام اپنے ان نام نہاد رہبروں کا جائزہ لے ۔سب اس وقت مشکوک نظر آتے ہیں ملکی دانشور قومی فریضہ ادا کریں قوم کے بنیادی مسائل اور اس ملک کے وقار اور عزت میں اضافے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ناقابل برداشت مہنگائی، دہشت ناک بدامنی، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت سے ڈریں جب عوام انہیں اپنا رہبر ماننے سے ہی انکار کر دیں گے ایک بے ہنگم شور اور ہنگامہ ملک بھر میں برپا ہے کیا ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوری مزاج سیاستدانوں کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ جن کی قومی ادارے عزت کرتے تھے اور وہ ان اداروں کی بقا کی جنگ لڑتے تھے۔ یاد رکھئے اداروں کو بقا حاصل ہے اور شخصیات کو فنا حاصل ہے۔

  • وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ان دنوں قومی سیاست کے میدان میں ہنگامہ آرائی ، افراتفری اور تشدد پسندی کا رجحان مشاہدہ کیا جا رہا ہے اس کا ایک نہایت قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ایک اہم ریاستی ادارے یعنی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان خونریز تصادم شروع ہو گیا ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز عمران خان کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ واقع زمان پارک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں پنجاب و اسلام آباد پولیس اور مذکورہ کارکنوں کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کے حوالہ سے مذکورہ علاقہ کو میدان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کو قومی میڈیا میں تو ایک الگ انداز میں پیش اور نشر کیا گیا لیکن غیر ملکی میڈیا نے اس ضمن میں اس بات کو اہمیت اور فوقیت دی کہ حکومت کے اقدامات جمہوری روایت اور مزاج کے برعکس ہیں۔

    ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنی اقتصادی اور معاشی حیثیت کو مستحکم بلکہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کی مالیاتی اعانت کی اشد ضرورت ہے ، امن و امان کی صورت حال کا تیزی کے ساتھ ابتراوربے قابو ہونا کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد کی پولیس اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر جو کارروائی کی، وہ نہایت افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ دراصل مذکورہ غیرملکی میڈیا وطن عزیز کی سیاسی حرکیات اورریاستی اقدامات کو اپنے احوال اور معیارات کے مطابق دیکھتا ہے اور ایسے میں اس کی مایوسی نہایت درست محسوس ہوتی ہے۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مغربی میڈیا سے مغربی پالیسی سازادارے اورشخصیات کسی حد تک ضرور متاثر ہوتے ہیں چنانچہ وطن عزیز کے دلخراش واقعات اس تناظر میں بھی نہایت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت کا اہم ترین تقاضا اب یہی ہے کہ سیاست دان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ اگر مستقبل کی سیاست کو جمہوریت کے اندازاوررنگ میں محفوظ کرنا ہے تو اس کے لیے باہمی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ایک عامی بھی اس بات کا اقرار اور احساس کرتا ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ داخلی سیاسی حالات اور امن و امان کا ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کے سلسلہ کا انحصار ہے۔ خود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اس بات کا دو ٹوک الفاظ میں اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کو اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران جس سوال اور استفسار کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا تعلق داخلی حالات سے ہے۔ یہ بات بھی نہایت فکر انگیز اور قابل توجہ ہے کہ اب اصل معاملہ جماعتی اور سیاسی امور کا نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی امور کا ہے ۔

  • توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    توشہ خانہ کے حمام میں سب ننگے ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    افسوس صد افسوس وطن عزیز کے وقار کے قدر دان دوست ممالک نے کیا خوب خوب تحفے ہمارے غریب و عجیب حکمرانوں کے ہاتھوں بھیجے تھے۔ جن کو ہمارے ہی وطن ہماری عوام نے مسند اقتدار کی زینت بنایا تھا تاکہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کریں گے لیکن توشہ خانہ کو جس بے دردی سے ہمارے نام نہاد رہبروں اوررہنمائوں نے لوٹا عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اپنی جائیدادوں ، میلوں رقبوں کی وسعتوں پر نازاں امراء اتنے ہوس پرست اور بھوکے پن کے پیکر تھے کہ کروڑوں کا مال ہزاروں میں ہضم کرتے رہے اور لوٹ لوٹ کراپنے آپ کو عوام کو آئندہ ا لیکشن پر بے وقوف بناتے رہے ۔ اب وقت آچکا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور مقتدر حلقے ایک ایسا کمیشن قائم کریں جو روز اول سے توشہ خانہ سے حاصل کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور اُن سے تمام تحفوں کی موجودہ قیمت وصول کی جائے اور 2 سے ضرب د ے کر تمام رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور ایسا قانون بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی مفاد ،قومی املاک اور قوم کے اعتماد سے کھیلنے کی جسارت نہ ہو سکے ۔

    بیورو کریسی سمیت تمام اُن لوگوں کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس لوٹ مار میں حصہ لیا ۔ دوسری طرف سیاستدان مل کر سیاست ،جمہوریت ، آئین اور قانون کی جو قبر کھود رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں دفن ہونے کی انتہا کردی ہے۔ جمہوریت کی وہ کشتی جس پر سب سفر کررہے ہیںیہ اُسی کشتی میں سوراخ بھی کر رہے ہیں۔ توشہ خانہ کو چوری کا مال سمجھ کر بے دردی سے لوٹ مار کرنے والے کسی طور پرمعافی کے حقدار نہیں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے آج اگر غریب پر زندگی حرام ہو رہی ہے مہنگائی کا جن سرکاری پالیسی کی بوتل سے باہر نکلا ہوا ہے اور لوگ اپنے بچے تک فروخت کرنے اور خود کشی پر مائل اور قائل ہو چکے ہیں تو اس کا سبب یہی شخصیات ہیں جن کو سادہ لوح اورمحب وطن عوام نے نجا ت دہندہ سمجھ کر ان کو اپنی نمائندگی کا حق عطا کیا۔ توشہ خانہ کی جاری کردہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ توشہ خانہ کے حمام میں یہ سب ننگے ہیں۔ ثابت ہو چکا یہ شخصیات ذہنی اوراخلاقی سطح پر کس قدر مفلس، کنگال اور لالچی ہیں۔ ان سے بہتر وہ مزدور ، محنت کش اور غریب شخص ہے جو دیانتداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرکے گھر چلاتا ہے۔

  • لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    لاہورمیں ’’سیاسی قیامت صغریٰ‘‘تجزیہ : شہزاد قریشی

    گذشتہ سے پیوستہ روز لاہور کے زمان پارک میں پاکستان تحریک انصاف اور پولیس کے درمیان جو ہنگامہ آرائی مشاہدہ کی گئی اس کے دوران ایک کارکن جاں بحق ہوا، متعدد گرفتار کیے گئے، خواتین پر بھی واٹر اور لاٹھی چارج کیا گیا، عام شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور سب سے اہم بات یہ کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے شروع کی گئی اس کی انتخابی مہم کے سامنے دفعہ 144کے نفاذ کی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کی طرف سے تو اس قابل افسوس صورت حال کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہی عائد کی جا رہی ہے لیکن حقائق اس کی تائید سے قاصر ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ پولیس ذرائع کے مطابق ’’ہلاک ہونے والا شخص ایک پرائیویٹ گاڑی میں ہسپتال لایا گیا تھا‘‘۔ حکومت نے یہ حیرت انگیز دلیل بھی پیش کی ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین مذکورہ ریلی میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہر نہ نکلے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے شاید اسی تناظر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اداروں کی رپورٹ کے بعد لاہور میں دفعہ 144نافذ کی گئی، عمران خان قانون سے بھاگ رہے ہیں اور اب ان کو گرفتار کر کے لانا پڑے گا۔ ایک عامی بھی ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ لاہور میں ہونے والی مذکورہ ہنگامہ آرائی اس لحاظ سے تو کوئی نیا واقعہ نہیں کہ ماضی میں ایسے بے شمار واقعات رونما ہو چکے البتہ اس حوالہ سے یہ واقعہ بلاشبہ فکر انگیز ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیے جانے کے بعد کسی پارٹی کی انتخابی ریلی اور مہم پر ایسی یلغار نہایت افسوسناک بلکہ شرمناک ہے۔

    ادھر ایسے ہی حالات کا سامنا مختلف شہروں(لاہور، حیدر آباد، سکھر، گھوٹکی، ملتان اور مظفر گڑھ وغیرہ )میں ان خواتین کو بھی رہا جنہوں نے عالمی یوم خواتین کے سلسلہ میں ریلی اور جلوس کا اہتمام کیا تھا۔ اس نشاندہی کی چنداں ضرورت نہیں کہ پولیس کی ایسی کارروائی سے مہذب دنیا میں وطن عزیز کا وقار اور شناخت مجروح ہوئی۔ اس روز یوں محسوس ہوا جیسے لاہور میں ’’سیاسی قیامت صغریٰ ‘‘ برپا ہو گئی ہے، خیال ہے کہ ماضی کی کسی کہانی اور داستان کو سننے اور سنانے سے گریز کرتے ہوئے درپیش حالات اور احوال کی اصلاح کی طرف توجہ دی جانی چاہیے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے جس میں سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا ۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک سرزمین کو پولیس سٹیٹ نہ بنایا جائے اور یہ بات ہمہ وقت ذہن نشین رکھی جائے کہ قوانین عوام کے لیے ہوتے ہیں، عوام قوانین کے لیے نہیں ہوتے۔

  • بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی سیاست اورپاکستان کے حالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    روس اور یوکرائن جنگ کے بعد عالمی دنیا کے حالات بہت بدل چکے ہیں بہت سے برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو لگتا ہے کہ خطرہ ان کی دہلیز پر ہے بہت سے ممالک اس عالمی بحران کو حل کرنے کے لئے بیتاب ہیں لیکن ہاتھ جلائے بغیر وہ ضامن بننے میں ہچکچاتے ہیں کوئی بھی امریکہ اور روس دشمن کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم روس یوکرائن جنگ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کی امریکہ نیوکلیئر معاہدے میں شراکت داری معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ نیٹو ممالک روس یوکرین تنازعہ کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ چین نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش نہ کرے بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ روس اسی طرح پھر بکھر جائے گا جس طرح سوویت یونین کو افغانستان میں پھنسا کر اس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا تھا اور وہ بالاخر روس بن گیا تھا۔ تاہم عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اس جنگ کے اثرات نے برطانیہ مغربی ممالک اور عالمی دنیا کی معیشت پر اثرات ڈالے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مہنگائی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر معاشی انحطاط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس جنگ کے اثرات عرب ممالک سے لے کر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی پڑے ہیں۔

    پاکستان اس وقت عالم اسلام کا واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان بین الاقوامی حالات کا بغور جائزہ لے کر سیاست کرنا ہوگی ملکی وقار ، ملکی سلامتی کے پیش نظر ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے عالمی سیاسی کھلاڑیوں کا مقابلہ کر سکیں، عراق، شام، سوڈان، یمن، لبنان اور افغانستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں، کسی بھی عالمی سازش کا حصہ بننے سے ہمیں دور رہنا ہوگا ہمیں پہلے اپنے ملک کی سلامتی اپنے ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر سیاست کرنا ہوگی، ہماری معیشت اس وقت کمزور ہے ملک کی سیاسی جماعتوں کو انتقامی سیاست فوری بند کر کے مذاکرات کرنا ہونگے یہ وقت ملک میں افراتفری، جلائو گھیراؤ اور سیاسی عدم استحکام کا نہیں ہے ملکی فیصلہ ساز اداروں کو حکمرانوں سمیت اپوزیشن کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت مذاکرات ہی واحد راستہ ہے،

  • ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ :  شہزاد قریشی

    ریاستی اداروں پر یلغارکیوں؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    اس امر کی نشاندہی بلاشبہ قابل فخر ہے کہ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر اگرچہ جمہوریت ابھی کسی نومولود بچے کی طرح رینگ رہی ہے لیکن یہ کسی غیر منتخب حکومت اور خاص طور پر مارشل لاء انتظامیہ سے بہرحال بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ صورت حال بھی توجہ طلب ہے کہ جملہ ریاستی ادارے یعنی انتظامیہ المعروف بیورو کریسی، مقننہ اور عدلیہ کی کارکردگی پر عوام کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ مذکورہ ریاستی اداروں میں اگر میڈیا کو بھی شامل کیا جائے تو یہ صورت حال مزید گھمبیر محسوس ہوتی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر ریاستی اداروں پر تنقید کا معیار اور جواز اس قدر بوسیدہ اور کم درجہ ہے کہ دور اندیش حلقوں میں اس بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے پر جو تنقید کرتے ہیں وہ تنقید کم اور تضحیک زیادہ ہوتی ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ سیاسی قیادت اس حوالہ سے اپنے کارکنوں کی ذہنی، فکری اور نظریاتی تربیت کا فرض ادا کرے لیکن مشاہدہ یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ سیاسی قیادت خود بھی مذکورہ روش پر ہی گامزن ہے۔ کسی بھی دن کا اخبار ملاحظہ اور مطالعہ کیا جائے یا کسی بھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو چند منٹ میں ہی یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہو گی کہ سیاسی کارکردگی دراصل سیاسی شعبدہ بازی اور بازی گری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ معلوم نہیں نام نہاد ناقدین کس طرح یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وہ کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر اور اپنی شرائط پر عدلیہ سے انصاف کے حصول کا مطالبہ اور تقاضا کریں۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ کسی انتخاب میں نتائج کی تہہ میں دفن کوئی سیاسی جماعت اپنی مد مقابل اس سیاسی جماعت کے احتساب کا مطالبہ کرے جس پر عوام نے اپنے اعتماد اور یقین کا برملا اظہار کیا ہے۔

    ایسے میں یہ مشاہدہ بھی عام ہے کہ انتظامیہ عرف بیورو کریسی کے ساتھ کسی تنازعہ اور محاذ آرائی کی صورت میں اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک اختیار کیا جاتا ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ایسے واقعات بھی اب راز نہیں رہے کہ ہماری آزادی، خود مختاری اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی مسلح افواج کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی گئی۔ یہ مذموم روش سوشل میڈیا پر نمایاں دیکھی گئی۔ ارباب فکر و دانش اور خاص طور پر سیاسی اکابرین کا یہ خیال نہایت درست اور بروقت ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے اور ان اداروں کو بھی پسندیدہ اور با اثر شخصیات کے اثر و رسوخ سے بے نیاز ہو کر محض خوف خدا کے تحت اپنے سرکاری فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔ یہی وہ وقت ہے جس کے لیے فیض احمد فیض نے یہ دعا کی تھی کہ ’’میرے وطن ، تیرے دامان تار تار کی خیر ‘‘۔

  • عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ :   شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    عوام کے منتخب وزرائے اعظم کا مقتل ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    حالیہ دنوں میں قومی سیاسی حلقوں میں جہاں انتخابات، مہنگائی اور سرکاری کفایت شعاری کے حوالہ سے بحث مباحثہ جاری ہے وہاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سلامتی اور حفاظت کے حوالہ سے بھی اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ اس عنوان سے تجزیئے اور تبصرہ کی نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عمران خان کی زندگی کو درپیش خطرات اور خدشات کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز اسلام آباد میں سابق وزیر قانون اور اب پی ٹی آئی کے صف اول کے رہنما بابراعوان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو سنائپر یا خود کش حملے میں نشانہ بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ابھی لانگ مارچ شروع نہیں ہوا تھا کہ ہمیں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع ملی تھی ۔ حتیٰ کہ عمران خان نے خود بھی 2 مرتبہ یہ بات دہرائی۔ بابر اعوان نے مزید کہا کہ میں نے ماضی قریب میں میڈیا کے روبرو یہ انکشاف کیا تھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوگا جس پر بعض لوگوں نے میرا تمسخر اڑایا اور میرے اس بیان کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ میں اب دوبارہ قوم کو اس خطرہ سے آگاہ کر رہا ہوں کہ عمران خان کو سیکیورٹی کے حوالے سے تنہا کیا جارہاہے اورعمران خان کو اسلام آباد کچہری بلا کر بم سے اْڑانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے چنانچہ ہمیں یہ تحریرفراہم کی جائے کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا۔ ادھر ایک ٹویٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چوہدری اور سینئر رہنما افتخار درانی نے بھی اپنے اپنے ٹوئٹ میں بیان کیا ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سامنے آ چکی ہے لہذا ان کی سیکورٹی کو جامع بنایا جائے۔ اسلام آباد کچہری میں عمران خان پر سنائپر یا خود کش حملہ کروانے کی سازش ہے ، اعلیٰ عدلیہ فوری نوٹس لے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان پر یکے بعد دیگرے اور بلاجواز مقدمات اس لئے بنائے جا رہے ہیں تا کہ ان پر ایک اور قاتلانہ حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے جن خدشات اور خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کیا بھی نہیں جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ عوام کو خوب یاد ہے کہ وطن عزیز کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں (جو اب ان کے نام سے منسوب ، لیاقت باغ ہے) 16اکتوبر 1951ء کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا جب انہوں نے ایک جلسہ عام میں اپنے خطاب کا آغاز ہی کیا تھا۔ اسی طرح وطن عزیز کے پہلے منتخب وزیراعظم اور قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ مقبول سیاستدان، ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی میں ہی سنٹرل ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی ذہین و فطین صاحبزادی اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اب سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھیوں کی طرف سے ان کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے تو اس پر عوام کی طرف سے تشویش پر مبنی ردعمل ایک قدرتی بات ہے۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب 3 نومبر 2022ء کو وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بعد خود عمران خان نے کئی مرتبہ یہ بیان دیا کہ ان کو منظر عام سے ہٹانے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان پر ہونے والے حملے کی فوری اور شفاف تفتیش کرائی جاتی لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ تفتیش کا یہ مرحلہ ابھی تک طے نہیں ہوا اور ایسے میں گرفتار شدہ ملزم کے خلاف ہنوز کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ سیاسی حریف اس واقعہ پر ایسی تبصرہ آرائی کرتے ہیں جس کو نرم سے نرم الفاظ میں شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر سیاسی مخالفین کے بارے میں انتقامی جذبہ اور سلوک کا یہی عالم رہا تو اس کا نتیجہ کس صورت میں سامنے آئے گا کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ ایوان اقتدار میں کسی کا قیام بھی مستقل نہیں ہوتا ۔ دربار سے بازار تک اور بازار سے دربار تک کا سفر ہر کسی کا مقدر بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ حقیقت بھی فراموش نہ کی جائے کہ اگر وطن عزیز اپنے وزرائے اعظم کا اسی طرح مقتل بنتا رہا تو اس سے مہذب اور عالمی برادری میں ہماری شناخت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

  • معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ  شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ شہزاد قریشی

    معاملہ فہمی سے کام لیا جائے ،تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کے سیاسی میدان میں آج کل جو سرگرمیاں مشاہدہ کی جا رہی ہیں، ان کو بجا طور پر دھینگا مشتی اور ہاتھا پائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ سلسلہ اب عدالتوں کے ماحول کو بھی مکدر کر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ، عمران خان کی اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس میں آمد کے موقع پر جو ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی وہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف جو اقدامات کیے ان کو اگر ’’انتقامی روئیے ‘‘ سے منسوب نہ بھی کیا جائے تو وہ عملی طور پر اسی زمرے میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی وسوسے اور خدشات کو جنم دیتی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ ، رانا ثناء اللہ خان نے عمران خان کی جوڈیشل کونسل میں آمد کے موقع پر اور اسی حوالہ سے یہ بیان دیا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کریں۔ ایک عامی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی اور انتقام کا درجہ کیوں دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ نام نہاد دانشور اور انگریزی سیاسی اصطلاحات زدہ طبقہ ملکی امور کے سلسلہ میں ’’چائے کی پیالی میں طوفان ‘‘ اٹھانے پر ہی اکتفا کرتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں محب وطن عوام کی ایک بڑی تعداد ان احوال کے حوالہ سے فکر مند ہے ۔
    دریں اثناء عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں عندیہ دیا ہے کہ ہم مسلط ٹولہ کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے یعنی وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ الیکشن کے لیے ان کی تیاری مکمل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے ساہیوال میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ کارکن، الیکشن کی تیاری کریں۔ ایسے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ردعمل سے بھی یہ تاثر نمایاں ہوتا ہے کہ عدالتی کارروائی سے قطع نظر، الیکشن کا انعقاد ہی سیاسی پیش رفت کا بنیادی اور کلیدی نکتہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کو کسی طور بھی سیاسی صورت حال سے الگ اور دور تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے لیے یہ بات بجا طورپر تشویش کا باعث ہے کہ سیاسی قیادت خوش فہمی اور غلط فہمی کے معاملہ میں خود کفیل ہے اور اس کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، جرائم میں اضافہ اور آئی ایم ایف کے احکامات کے نتیجہ میں ٹیکسوں کی بھرمار کا شکار عوام ان (سیاست دانوں) سے اب بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ قومی امور اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم سیاسی سطح پر خوش فہمی اور غلط فہمی کی بجائے معاملہ فہمی سے کام لیا جائے۔