Baaghi TV

Tag: صحت

  • خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    کسی بھی صحت مند معاشرے کی تشکیل اور توانا نسل کے لئے ضروری ہے کہ اُس سوسائٹی میں خواتین تندرست اور مکمل صحت مندہوں، بد قسمتی سے پاکستان میں لاکھوں خواتین خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی باعث اُن کی ساری عمر بیماری سے لڑتے گزر جاتی ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے کی پسماندہ روائیت یہ ہے کہ خاندان نورینہ اولاد کو بیٹیوں پر فوقیت دیتے ہیں اور لڑکیوں کو نظر انداز کر کے محض بیٹوں کو اچھی خوراک،لباس،غذااور اعلیٰ تعلیم کا حقدار سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے صنف نازک کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور اُن کی صحت نظر انداز ہوجاتی ہے جس سے بہتر خاندان کی تشکیل نہیں ہو پاتی جبکہ دین اسلام میں مرد و خواتین انسانی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔

    ان خیالات کااظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں "خواتین کے حقوق اور معاشرے کی ذمہ داریاں "کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسرزہرہ خانم، پروفیسر نازلی حمید، ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر شبنم طارق، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مسز میمونہ ستار نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیاجہاں خواتین ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے گردوپیش کی سوچ کو بدلنے کے لئے آگاہی مہم اور عملی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ معاشرے میں خواتین کو اُن کا جائز مقام حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور بچوں کی تربیت میں ماں ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہے،اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو اُن کے حقوق دلوانا ہوں گے تاکہ وہ خاندان میں برابر کا فرد بن کر اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ادارے میں ڈے کئیر سینٹرز کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور بریسٹ فیڈنگ کے لئے کاؤنٹر بنائے جائیں گے تاکہ یہاں کام کرنے والی خواتین کو عملی سہولتیں حاصل ہو سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کا سب سے بڑاعلمبردار دین اسلام ہے جس نے زندہ دفن ہونے والی بچیوں کو ماں بہن اور بیٹی کا معزز ترین رتبہ دیا اور ماؤں کے قدموں تلے جنت رکھی۔انہوں نے کہا کہ قبل از اسلام خواتین کو جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن پیغمبر اسلام نے اپنی تعلیمات کے لئے خواتین کو عروج ثریا تک پہنچا دیا،اب یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو اُن کے حقوق جو انہیں خالق حقیقی نے عطا کیے ہیں واپس دلوائیں اور اُن کا تحفظ یقینی بنائیں جس میں سر فہرست عزت نفس کی بحالی اور صحت کی سہولیات تک خواتین کی رسائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر الفرید ظفرنے کہا کہ بد قسمتی سے موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے اور معاشرے میں خواتین کو صحت کی مکمل سہولیات تک رسائی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں خواتین محض حمل اور زچگی کے دوران اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھتی ہیں اور ان بدقسمت خواتین کی بڑی تعداد کا تعلق ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پروفیسرالفرید ظفر نے کہا کہ خواتین کی دوران حمل دیکھ بھال اور صحت پر زیادہ توجہ دی جائے بالخصوص رورل علاقوں میں بسنے والی خواتین کو علاج معالجہ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے آگاہی مہم وقت کا تقاضا ہے تاکہ دوران زچگی ماں اور بچے کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • بصارت متاثر کرنے والی بیماریوں پر قابو پانا ضروری ہے،پروفیسر الفرید ظفر

    بصارت متاثر کرنے والی بیماریوں پر قابو پانا ضروری ہے،پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انکھوں کی صحت اور بیماریوں کے علاج میں غفلت کسی بڑے حادثے سے دوچار کرنے کا سبب بننے کے علاوہ بالخصوص کالا موتیا ہمیشہ کیلئے انسان کو بینائی سے محروم کر سکتا ہے لہذا آنکھو ں کی کسی بھی تکلیف کی صورت میں اسے نظر انداز کرنے کی بجائے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ علاج ہو اور مریض بینائی سے محروم ہو کر معاشرے اور خاندان کیلئے بوجھ نہ بنے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام گلوکوما آگاہی واک کے شرکاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد معین، پروفیسر حسین احمد خاقان، پروفیسر طیبہ گل ملک، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر فاطمہ، ڈاکٹر عدیل رندھاوا، کنیز فاطمہ، زہرہ امبرین، مصباح طارق سمیت دیگر ڈاکٹر،نرسز پیرا میڈیکس شریک تھے۔

    مقررین نے کہا کہ بچّوں میں نظر کی کم زوری کی شرح بڑھ رہی ہے،کیوں کہ اکثر والدین دو، پانچ چھے سال کی عُمر کے بچّوں کے ہاتھوں میں موبائل فونز تھما دیتے ہیں۔ ایسے بچّوں میں عینک لگنے کے پندرہ فی صد امکانات بڑھ جاتے ہیں۔نامناسب طرزِ زندگی کے باعث بچّوں اور بڑوں کی کثیر تعداد امراضِ چشم کا شکار ہورہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے انگریزی میں ایک معقولہ بھی متعارف کروایا ہے کہ ”Make the Kids play keep the glasses” awayیعنی بچوں کو کھیلنے کودنے دیں اور عینک سے بچائیں۔ پروفیسر محمد معین اور پروفیسر حسین احمد خاقان نے کہا کہ پاکستان میں 18لاکھ افراد کالا موتیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔یہ مرض عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہو سکتا ہے عمومی طور پر موروثی کالے موتیے کے اثرات پیدا ئش کے ساتھ ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں سوموار تا ہفتہ آنکھوں کا طبی معائنہ اور آپریشن کی سہولت میسر ہے اور کالا موتیا کی بر وقت تشخیص و علاج کے لئے جدید طبی آلات بھی موجود ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ دنیا کی خوبصورتی کے مشاہدے اور زندگی کے حقیقی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لئے آنکھوں کی بینائی کا ہونا نا گزیر امر ہے ان کی قدر کا اندازہ صرف انہی لوگوں سے لگایا جا سکتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اللہ کی اس عظیم نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کالا موتیا کی بر وقت تشخیص اور علاج کے لئے عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بڑی عمر کے افراد اپنا طرز زندگی تبدیل کریں،روزمرہ ورزش اور واک کو اپنا معمول بنائیں، شوگر و بلڈ پریشر سے بچنے کے ساتھ کمپیوٹر کے استعمال سے بھی احتیاطی تدابیر کو لازمی اختیار کریں۔ علاوہ ازیں بچوں کے موبائل کے غیر ضروری استعمال کو روکا جائے جو کم سنی میں ہی موٹے شیشے کی عینکیں لگانے کا باعث بن رہے ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ فضائی آلودگی، سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیاں بھی آنکھوں کی صحت کو متاثر کررہی ہیں لہذا متلعہ محکموں کو بھی صحت عامہ کی بہتری کے لئے اس مسئیلے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دھواں سے شہرویں کی آنکھیں متاثر نہ ہوں۔ شرکاء نے کالا موتیا کے بچاؤ کے سلوگن بھی اٹھا رکھے تھے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • سفید کوٹ پہننا زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم:پروفیسر الفرید ظفر

    سفید کوٹ پہننا زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم:پروفیسر الفرید ظفر

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال سے منسلک امیر الدین میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی نئی کلاسز کے سٹوڈنٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو سفید کوٹ زیب تن کر رہے ہیں وہ محض ر سمی کاروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور کٹھن سفر کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ انسانیت، قربانی، جرات اور احساس ذمہ داری کا سفر ہے کیونکہ سفید کوٹ پہننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے وقف کرنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ انہوں نے طلبا سے کہا کہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم مکمل کرنے پر مرکوز کریں اور مریضوں کو حقیقی معنوں میں اہمیت دیں اوراپنی توانائیاں میڈیکل کی تعلیم اور تحقیق میں اس مقصد کے ساتھ صرف کریں کہ دکھی انسانیت کی مدد کی جاسکے۔اس موقع پر سینئر پروفیسر صاحبان، طلبہ و طالبات اور اُن کے والدین بھی موجود تھے۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اقبال کے شاہینوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور آپ خوش قسمت ہیں جنہیں طب کا شعبہ جوائن کرنے کا موقع ملاہے کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان دکھی انسانیت کی خدمت کی تڑپ لے کر ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے کوشش کر تے ہیں مگر انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دیار غیر میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور آپ کو بھی ان کے نقش قد م پر چلتے ہوئے طبی دنیا میں اپنا اور امیر الدین میڈیکل کالج کا نام روشن کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ طلبا کو جدید ریسرچ کیلئے تمام مواقع فراہم کئے جائینگے جس سے وہ مستقبل میں بہتر انداز میں دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں گے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ استقبالیہ تقریب میڈیکل طلبہ کے سفر کے آغاز کی علامت ہے اور اس نوبل پیشے میں شامل ہونے کی ذمہ داری اور استحقاق کا احساس پیدا کرتی ہے،پیشہ ورانہ مہارت، نگہداشت اور اعتماد کی بھی علامت ہے جو انہیں مریضوں سے حاصل کرنا ضروری ہے۔

    اس موقع پر سینئر پروفیسرصاحبان نے ایم بی بی ایس کے نئے سیشن کے طلبا کو تلقین کی کہ وہ مستقبل کے قابل با اخلاق صحت کے پیشہ ور افراد کے طور پر ابھرنے کے لئے اپنی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر توجہ دیں جبکہ مطالعہ میں وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے کالج اور ہاسٹل کے قواعد و ضوابط سے بھی طلبا کو آگاہ کیا گیا کیونکہ کالج میں حاضری اور بے قاعدگی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے طلبا کے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مزید دلچسپی لیں اور اساتذہ سے رابطے میں رہیں۔ تقریب کے اختتام پرپرنسپل نے تمام نئے آنے والوں سے اعلی اخلاقی معیار کی تعمیل کرنے کا حلف بھی لیاجبکہ میڈیکل سٹوڈنٹس نے بھی اپنے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ امیر الدین میڈیکل کالج جیسے شاندار ادارے کی نیک نامی کا باعث بنیں گے اور انشاء اللہ ملک و قوم کی خدمت کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

  • برازیل میں 6 سینٹی میٹر طویل دُم والی پچی کی پیدائش

    برازیل میں 6 سینٹی میٹر طویل دُم والی پچی کی پیدائش

    برازیل میں 6 سینٹی میٹر طویل دُم والی پچی کی پیدائش ہوئی، یہ واقعہ لگ بھگ تین برس قبل پیش آیا۔

    باغی ٹی وی: جرنل آف پیڈیاٹرک سرجری کیس رپورٹس نے سرجری سے پہلے اور بعد کی ناقابل یقین تصاویر شائع کی ہیں ان تصاویر میں لڑکی کو زندگی بدلنے والے آپریشن کے 3 سال بعد دکھایا گیا ہےدم جلد سے ڈھکی ہوئی تھی اور پیٹھ سے باہر نکلی ہوئی تھی سرجن اس دُم کو جسم سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    سرجنوں کی رپورٹس میں اس لڑکی کی شناخت نہیں بتائی گئی اس لڑکی کی پیدائش سپائنا بیفیڈا کےساتھ ہوئی تھی، یہ ریڑھ کی ہڈی میں ایک نادر پیدائشی نقص ہے جو رحم میں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی میں خلا پیدا ہوجاتا ہے۔

    یہ حالت نیورل ٹیوب کی خرابی کی ایک قسم ہے ترقی پذیر جنین میں ایک ایسا ڈھانچہ ہوتا ہے جو بالآخر بچے کے دماغ، ریڑھ کی ہڈی کے اطرف ٹشو کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    ساؤ پالو کے گرینڈاک چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ دم ’’لمبوسکرال‘‘ علاقے سے پھیلتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو شرونی سے جوڑتا ہے۔ ٹیم نے اس اضافی ٹشو کو "جھوٹی انسانی دم” کے طور پر بھی تشخیص کیا۔

    واضح رہے اب تک اس رجحان کے 200 سے کم کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، یہ حمل کے دوران ایک غیر معمولی حالت ہے۔

    انٹرنیٹ کے بارے ایلون مسک کی ماضی میں کی گئی پیشگوئی درست ثابت

  • ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    بوسٹن: بوسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی، خون میں گلوکوز پر قابو پانے میں کچھ مدد ملتی ہے جس سے لامحالہ دل کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

    غذائی ماہرین نے مزید تحقیق اور طویل اثرات کے مطالعے پر زور دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ انڈوں کو نہ ہی مضر، نہ ہی مفید قرار دے رہے ہیں ان کا اثر یہ ہے کہ اس سے انڈے کھانے کی شرح کم رکھی جائے تو ہی بہتر ہوگا۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    انڈوں میں پروٹین ہوتا ہے، وٹامن ڈی جیسے فوائد ہوتے ہیں اور کولائن بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن انڈے خون کی رگوں میں تنگی پیدا کرسکتے ہیں اب انڈے کےجو فوائد سامنےآئے ہیں وہ براہِ راست کی بجائے بالراست ہیں عین یہی مؤقف محتاط ماہرین کا بھی ہےیعنی ایک انڈہ روزانہ اور وہ بھی زردی کے بغیر۔

    اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 1971 کے ایک سروے کو دیکھا ہے جس میں 5000 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کا فالواپ ہرچار سال بعد کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جن افراد نے ہفتے میں پانچ یا اس سے زائد انڈے کھائے ان کا بلڈ پریشر قدرے معمول پر رہا اور فاسٹنگ بلڈ شوگر بھی اوسط سے کم تھی۔ اس طرح زیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور بلڈ پریشر جیسی خاموش قابل بیماری بھی دور رہتی ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    اس تحقیق میں 30 سے 64 سال کے افراد شامل تھے جنہوں نے بعد میں 1983 سے 1995 تک ہر تین دن بعد اپنے کھانے پینے کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ ان میں سے طویل عرصے تک جن افراد نے زیادہ انڈے کھائے ان میں بلڈ پریشر کی کیفیت نہ تھی اور نہ ہی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں انڈے کھانے سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کو بھی شامل کرنا تھا جو دل کے امراض کی ایک اہم علامت بھی ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

  • ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    تقریباً فرد کو ہی ہاتھوں یا پیروں کے سن ہونے، سنسناہٹ یا سوئیاں چبھنے جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے،اس کیفیت میں ہاتھوں اور پیروں میں تکلیف یا کمزوری بھی محسوس ہوسکتی ہے ماہرین کے مطابق اگر اکثر ہاتھ اور پیر سن ہوجاتے ہیں، سوئیاں چبھنے یا سنسناہٹ کا احساس ہوتا ہے، تو ایسا کسی بیماری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

    ماہرین صحت کے مطابق جسم میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جانے سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے یا سوئیاں چبھنے کا اکثر سامنا ہوتا ہے،اگر ایسا ہوتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ پیشاب آنے یا ہر وقت پیاس لگنے جیسی علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرانا چاہیے،تھائی رائیڈ کے امراض کا علاج نہ کرایا جائے تو ہاتھوں اور پیروں میں جلن، سنسناہٹ اور سن ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں-

    اگر آپ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند لے کر اٹھتے ہیں اور آپ کے ہاتھ یا پیر سن یا بے حس ہورہے ہو تو آسانی سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ اعصاب دب جانے کا نتیجہ ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ہاتھ اچانک بے حس یا کمزور ہوجائے تو یہ کیفیت چند منٹوں میں دور نہ ہو تو فوری طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جانا چاہئے۔شریانوں میں ریڑھ کی ہڈی سے دماغ تک خون کی روانی میں کمی کے نتیجے میں جسم کا ایک حس سن یا کمزور ہو جاتا ہے، اگر اس کے ساتھ بولنے میں مشکل ہو، ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آئیں، سوچنا مشکل ہو اور آدھے سر کا درد وغیرہ بھی ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    علاوہ ازیں جسم میں اعصاب کے قریب رسولی بننے سے ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے ایسا کینسر یا عام رسولی سے بھی ہو سکتا ہے مخصوص ادویات سے بھی اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے ہاتھ اور پیر سن ہو جاتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے،عموماً کینسر کے علاج کے لیے کھائی جانے والی ادویات سے ایسا ہوتا ہے مگر امراض قلب یا ہائی بلڈ پریشر کی ادویات سے بھی ہوسکتا ہے۔

    جسم میں وٹامن بی 12، وٹامن بی 6، وٹامن بی 1، وٹامن ای یا وٹامن بی 9 کی کمی ہو تو اس کے نتیجے میں بھی ہاتھ پیر اکثر سن ہونے لگتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے یہ وٹامنز اعصاب اور جسم کے دیگر حصوں کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ان کی کمی سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگر اعصاب پر اردگرد کے ٹشوز سے دباؤ بڑھ جائے جیسے چوٹ لگنے سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے ہاتھوں یا پیروں کے اعصاب میں ایسا ہونے سے وہ اکثر سن ہو جاتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے ،متعدد وائرل اور بیکٹریل انفیکشنز سے بھی اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث ہاتھ پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں یا ایسا لگتا ہے کہ کوئی ان میں سوئیاں چبھو رہا ہے۔ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت متعدد وائرسز کے شکار افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    اگر گردوں کے افعال متاثر ہو جائیں تو جسم میں سیال اور کچرا جمع ہو جاتا ہے جس سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث عموماً ٹانگیں اور پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں جبکہ سنسناہٹ کی شکایت بھی ہوتی ہے۔

    ایسے امراض جس میں ہمارا مدافعتی نظام ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہو جائے، انہیں آٹو امیون امراض کہا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے کی شکایت بڑھ جاتی ہے علاوہ ازیں کارپل ٹنل مرض کے شکار افراد کو اکثر ہاتھوں کی انگلیوں میں سنسناہٹ، سوئیاں چبھنے یا سن ہونے جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے،یہ ہاتھوں کا ایک عام مسئلہ ہے جس کے دوران ہتھیلی میں موجود اعصاب دب جاتے ہیں ، ابتدائی مرحلے میں اس عارضے کی تشخیص ہوجائے تو علاج آسان ہوتا ہے مگر تاخیر ہونے پر اکثر سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اگر آپ کو پورے جسم یمں درد کے پھیلنے اور دیر تک تھکاوٹ کا احساس ہو تو یہ ریشہ دار عضلاتی درد یا Fibromyalgia کا عارضہ ہوسکتا ہے، اس کے شکار افراد کو ہاتھوں اور بازﺅں کے سن ہونے اور ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوتا ہے، یہ ایسا مرض ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس کا کوئی مخصوص علاج بھی نہیں مگر مختلف طریقہ کار سے کافی حد تک ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    Lupus یا چیرے کی جلد کی سوزش ایک آٹو امیون مرض ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا مدافعتی نظام اعضا اور ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتا ہے، اس مرض کی علامات میں ہاتھوں کا سن ہونا بھی شامل ہے مگر اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کا کونسا حصہ اس سے متاثر ہے، اگر یہ اہم اعضا جیسے دل، گردے، پھیپھڑوں یا دماغ تک پہنچ جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

  • افغانستان کا پولیو وائرس ویرینٹ لاہورپائے جانے کا انکشاف

    افغانستان کا پولیو وائرس ویرینٹ لاہورپائے جانے کا انکشاف

    پنجاب پولیو پروگرام نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کا پولیو وائرس لاہور میں پایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب پولیو پروگرام کا کہنا ہےکہ پولیو کا افغانستان ویرینٹ لاہورکےسیوریج میں پایا گیاآؤٹ فال روڈ سے لیے گئے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، لاہور میں ماحولیاتی نمونے مثبت آنے پر دوبارہ پولیو مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    پنجاب پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی نمونے مثبت آنے پر آبادیوں کی میپنگ کا فیصلہ کیا ہے، افغان پولیو وائرس رپورٹ ہونے پر مزید تحقیقات جاری ہیں، لاہور کی 28 یوسیز میں آئندہ ماہ پولیو مہم چلائی جائے گی۔

    قبل ازیں وزارت صحت نے لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی تھی،وزارت صحت کے ترجمان اور وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئےکہا تھا کہ رواں برس لاہور کے ماحولیاتی نمونہ میں پہلا وائرس پایا گیا ہے۔

    پروٹوکول واپس:پرویزالہی، عثمان بزدارسمیت متعدد شخصیات سےاضافی سیکیورٹی واپس

    وزیر صحت عبد القادر پٹیل نے کہاتھا کہ حکومت پولیو مہم کی کامیابی کے لئے پر عزم ہے، سال کی پہلی قومی پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے، والدین کے تعاون سے مطلوبہ ہدف حاصل کر لیں گے۔

    پولیو ایک انتہائی متعدی اور وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، جو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔

    پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے حصوں کو حرکت نہیں دے سکتے ) ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔

    چونیاں :چھوٹے بھائی کوقتل کرنے والے بڑے بھائی نے بھی خود کشی کرلی

    سن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور ناجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک کرا دیے جانے کے بعد 2014 میں نائجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے۔

  • توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ توانا بچے ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں کیونکہ وطن عزیزکے معاشی ترقی اور استحکام کے لئے صحت مند نوجوان نسل موثر کردار ادا کر سکتی ہے لہذا شیرخوار بچوں کو پیدائشی طور پر مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور طبی پیچیدگیوں کی روک تھام کے لئے اُن کی مکمل سکریننگ ضروری ہے تاکہ قبل از وقت موروثی اور وائرل انفیکشن کا علم اور اُن کا موثر علاج بھی یقینی بنایا جا سکے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے لاہور جنرل ہسپتال میں زچہ بچہ کی سکریننگ کی افادیت بارے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امریکی ماہر متعدی امراض پروفیسر مبین راٹھور نے خصوصی شرکت کی اور شرکاء کو نومولود بچوں میں وائرس” "Congenital Cytomegalovirusکی تشخیص، جدید طریقہ علاج اور دیگرتکنیکی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ سیمینار میں پروفیسر محمد اشرف سلطان، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر محمد فہیم افضل، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر آفتاب انور،ڈاکٹر نادیہ ارشد، ڈاکٹر سونیہ ایوب سمیت صوبائی دار الحکومت کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کے امراض نسواں و بچگان کے ڈاکٹرز کی کثیرتعداد شریک ہوئی۔

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسرالفرید ظفر نے یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہر متعدی امراض پروفیسر ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کی لاہور جنرل ہسپتال آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقامی ڈاکٹرز اپنی صلاحیتوں اور پیشہ وارانہ سکلز کے حوالے سے پوری طرح مہارت کے حامل ہیں تاہم جدید ترقی یافتہ ممالک کے شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین کو سیکھنے کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ سمندر پار بسنے والے ڈاکٹر ز اپنے ہم وطن معالجین کو اپنے شانہ بشانہ چلانے کے لئے اُن کی گاہے بگاہے پاکستان آ کر تربیت اور نالج اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں جس سے جدید میڈیکل ورلڈ میں ہونے والی ترقی اور نئی ایجادات سے مقامی ڈاکٹر زکو آگاہی حاصل ہوتی ہے جو بالآخر مریضوں کے علاج معالجے کومزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارا مشترکہ ہدف بھی” پیشنٹ کئیر” ہے جس سے ماہرین کا باہمی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیئے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ زچگی کے بعد ماں بچے کا مکمل چیک اپ /سکریننگ انہیں مختلف قسم کے امراض کی پیچیدگیوں و تشخیص پر بر وقت علاج کی اہمیت کا حامل ہے اوراس ضمن میں گائناکالوجسٹ اور پیڈریاٹک ڈاکٹرز کو عوام میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ سیمینار کے اختتام پر پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے مہمان خصوصی امریکی ماہر متعدی امراض ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کو اعزازی شیلڈ پیش کی اور اُن کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ٭٭٭٭

  • آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں میں پائے جانے والے خصوصی اجزا کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے فرنٹیئرز ان فارماکولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق پولینڈ اور برطانیہ کے ماہرین نے مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا، جن سے یہ دریافت ہوا کہ آلو اور ٹماٹر سمیت مختلف سبزیوں اور پودوں میں پائے جانے والے گلائیکول کلوئیڈز اجزا کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گلائیکول کلوئیڈز دراصل نائٹروجن اورمختلف کیمیکلزکا ایک گروہ ہےجو کہ سبزیوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں میں پائے جاتے ہیں گلائیکول کلوئیڈز عام طور پر پانچ مختلف کیمیکل کا گروپ ہوتا ہے،جن میں سولانائن، چاکونین، سولاسونین، سولا مارگین اور ٹماٹین شامل ہیں یہ اجزا عام طور پر ٹماٹر، آلو، بینگن اور کالی مرچوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم یہ اجزا مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں میں بھی ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ان ہی اجزا کا کینسر کے علاج اور مرض پر اثر دیکھنے کے لیے تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ اجزا موذی مرض کے علاج کے دوران فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گلائیکول کلوئیڈز پر مبنی پانچوں اجزا کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے دوران فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ اجزا صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتے ہیں، تاہم یہ صحت مند سیلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ کیمو تھراپی کے دوران دوا کینسر کے سیلز سمیت صحت مند سیلز کو بھی نشانہ بناتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کمزور پڑ جاتا ہے۔

    اس بات پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے کہ مذکورہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) اجزا کو کس طرح استعمال کرنے سے کینسر کے علاج فائدہ ہو سکتا ہے تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) براہ راست کینسر کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سموگ سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بالخصوص حاملہ خواتین اور ان کے بطن میں پرورش پانے والا بچہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث آکسیجن کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے، لہذا ایسی خواتین خصوصی احتیاط برتیں تاکہ ماں اور بچہ کی صحت محفوظ رہ سکے۔ سربراہ جنرل ہسپتال نے سموگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ شہری، بچے اور بیمار افراد بھی ماحولیاتی آلودگی کا آسان ہدف ہیں جبکہ فضائی آلودگی حاملہ خواتین اوربچے کی صحت کو متاثر کرنے کے علاوہ نشوونما میں خلل ڈال سکتی ہے۔حاملہ خواتین جو آلودہ علاقوں میں رہتی ہیں ان کے ابتدائی یا قبل از وقت لیبر کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے۔سموگ سے قبل از وقت لیبر اور دیگر مسائل جیسے کہ پیدائش کے وقت کم وزن، بچے کے پھیپھڑوں کا متاثر ہونا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے قوت مدافعت انتہائی کم ہو جاتی ہے۔اگر حاملہ خواتین دمہ کے مرض میں مبتلا ہوں تو پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ سموگ کی آلودگی بچوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور ان کے بڑے ہونے پر ان کی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جس میں ہائی بلڈ پریشر، دمہ، دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں اور سانس کے مرض میں مبتلا مریض سموگ سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں جس سے پھیپھڑوں کے نقصان کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ سموگ کی علامات میں گھرگھراہٹ، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری، موٹاپا اور الرجی جیسے کھانسی،سینے، آنکھوں، گلے اور ناک میں جلن شامل ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا شہری سموگ کے اوقات میں ورزش کرنے سے گریز کریں اور COPDمیں مبتلا افراد ہر وقت اپنا انہیلر ساتھ رکھیں، سموگ سے بچاؤ کے لیے ماحول دوست صارف مصنوعات استعمال کریں اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور ہجوم میں جاتے وقت فیس ماسک کا استعمال لازمی کریں تاکہ آلودگی سے محفوظ رہ سکیں۔

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار