Baaghi TV

Tag: صحت

  • توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ توانا بچے ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں کیونکہ وطن عزیزکے معاشی ترقی اور استحکام کے لئے صحت مند نوجوان نسل موثر کردار ادا کر سکتی ہے لہذا شیرخوار بچوں کو پیدائشی طور پر مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور طبی پیچیدگیوں کی روک تھام کے لئے اُن کی مکمل سکریننگ ضروری ہے تاکہ قبل از وقت موروثی اور وائرل انفیکشن کا علم اور اُن کا موثر علاج بھی یقینی بنایا جا سکے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے لاہور جنرل ہسپتال میں زچہ بچہ کی سکریننگ کی افادیت بارے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امریکی ماہر متعدی امراض پروفیسر مبین راٹھور نے خصوصی شرکت کی اور شرکاء کو نومولود بچوں میں وائرس” "Congenital Cytomegalovirusکی تشخیص، جدید طریقہ علاج اور دیگرتکنیکی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ سیمینار میں پروفیسر محمد اشرف سلطان، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر محمد فہیم افضل، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر آفتاب انور،ڈاکٹر نادیہ ارشد، ڈاکٹر سونیہ ایوب سمیت صوبائی دار الحکومت کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کے امراض نسواں و بچگان کے ڈاکٹرز کی کثیرتعداد شریک ہوئی۔

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسرالفرید ظفر نے یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہر متعدی امراض پروفیسر ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کی لاہور جنرل ہسپتال آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقامی ڈاکٹرز اپنی صلاحیتوں اور پیشہ وارانہ سکلز کے حوالے سے پوری طرح مہارت کے حامل ہیں تاہم جدید ترقی یافتہ ممالک کے شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین کو سیکھنے کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ سمندر پار بسنے والے ڈاکٹر ز اپنے ہم وطن معالجین کو اپنے شانہ بشانہ چلانے کے لئے اُن کی گاہے بگاہے پاکستان آ کر تربیت اور نالج اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں جس سے جدید میڈیکل ورلڈ میں ہونے والی ترقی اور نئی ایجادات سے مقامی ڈاکٹر زکو آگاہی حاصل ہوتی ہے جو بالآخر مریضوں کے علاج معالجے کومزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارا مشترکہ ہدف بھی” پیشنٹ کئیر” ہے جس سے ماہرین کا باہمی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیئے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ زچگی کے بعد ماں بچے کا مکمل چیک اپ /سکریننگ انہیں مختلف قسم کے امراض کی پیچیدگیوں و تشخیص پر بر وقت علاج کی اہمیت کا حامل ہے اوراس ضمن میں گائناکالوجسٹ اور پیڈریاٹک ڈاکٹرز کو عوام میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ سیمینار کے اختتام پر پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے مہمان خصوصی امریکی ماہر متعدی امراض ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کو اعزازی شیلڈ پیش کی اور اُن کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ٭٭٭٭

  • آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں میں پائے جانے والے خصوصی اجزا کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے فرنٹیئرز ان فارماکولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق پولینڈ اور برطانیہ کے ماہرین نے مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا، جن سے یہ دریافت ہوا کہ آلو اور ٹماٹر سمیت مختلف سبزیوں اور پودوں میں پائے جانے والے گلائیکول کلوئیڈز اجزا کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گلائیکول کلوئیڈز دراصل نائٹروجن اورمختلف کیمیکلزکا ایک گروہ ہےجو کہ سبزیوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں میں پائے جاتے ہیں گلائیکول کلوئیڈز عام طور پر پانچ مختلف کیمیکل کا گروپ ہوتا ہے،جن میں سولانائن، چاکونین، سولاسونین، سولا مارگین اور ٹماٹین شامل ہیں یہ اجزا عام طور پر ٹماٹر، آلو، بینگن اور کالی مرچوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم یہ اجزا مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں میں بھی ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ان ہی اجزا کا کینسر کے علاج اور مرض پر اثر دیکھنے کے لیے تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ اجزا موذی مرض کے علاج کے دوران فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گلائیکول کلوئیڈز پر مبنی پانچوں اجزا کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے دوران فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ اجزا صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتے ہیں، تاہم یہ صحت مند سیلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ کیمو تھراپی کے دوران دوا کینسر کے سیلز سمیت صحت مند سیلز کو بھی نشانہ بناتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کمزور پڑ جاتا ہے۔

    اس بات پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے کہ مذکورہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) اجزا کو کس طرح استعمال کرنے سے کینسر کے علاج فائدہ ہو سکتا ہے تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) براہ راست کینسر کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سموگ سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بالخصوص حاملہ خواتین اور ان کے بطن میں پرورش پانے والا بچہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث آکسیجن کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے، لہذا ایسی خواتین خصوصی احتیاط برتیں تاکہ ماں اور بچہ کی صحت محفوظ رہ سکے۔ سربراہ جنرل ہسپتال نے سموگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ شہری، بچے اور بیمار افراد بھی ماحولیاتی آلودگی کا آسان ہدف ہیں جبکہ فضائی آلودگی حاملہ خواتین اوربچے کی صحت کو متاثر کرنے کے علاوہ نشوونما میں خلل ڈال سکتی ہے۔حاملہ خواتین جو آلودہ علاقوں میں رہتی ہیں ان کے ابتدائی یا قبل از وقت لیبر کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے۔سموگ سے قبل از وقت لیبر اور دیگر مسائل جیسے کہ پیدائش کے وقت کم وزن، بچے کے پھیپھڑوں کا متاثر ہونا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے قوت مدافعت انتہائی کم ہو جاتی ہے۔اگر حاملہ خواتین دمہ کے مرض میں مبتلا ہوں تو پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ سموگ کی آلودگی بچوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور ان کے بڑے ہونے پر ان کی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جس میں ہائی بلڈ پریشر، دمہ، دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں اور سانس کے مرض میں مبتلا مریض سموگ سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں جس سے پھیپھڑوں کے نقصان کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ سموگ کی علامات میں گھرگھراہٹ، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری، موٹاپا اور الرجی جیسے کھانسی،سینے، آنکھوں، گلے اور ناک میں جلن شامل ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا شہری سموگ کے اوقات میں ورزش کرنے سے گریز کریں اور COPDمیں مبتلا افراد ہر وقت اپنا انہیلر ساتھ رکھیں، سموگ سے بچاؤ کے لیے ماحول دوست صارف مصنوعات استعمال کریں اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور ہجوم میں جاتے وقت فیس ماسک کا استعمال لازمی کریں تاکہ آلودگی سے محفوظ رہ سکیں۔

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام، یواین ڈی پی، یواین ایڈز اور یونیسف کے مشترکہ تعاون سے ایچ آئی وی /ایڈز سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ متوازن زندگی اور احتیاطی تدابیر کے اصولوں کو اپنا کر ہی ایڈز سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

    ایڈز سے نفرت، مریض سے نفرت نہیں بلکہ ان سے بہترین برتاؤ عالمی دن کے موقع پر ہمارا پیغام ہے۔ڈاکٹر اختر ملک آج مقامی ہوٹل میں ایڈز پر منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار میں ایڈیشنل سیکریٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا، ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل، ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹر شاہد مگسی سمیت پروگرام ڈائرکٹرز شریک ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، یو این ایڈز اور یو این ڈی پی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ایچ آئی وی/ایڈز پر کام کرنے والی فلاح تنظیموں، خواجہ سرا تنظیموں اور کمیونٹی تنظیموں سے پانچ سو زائد لوگوں نے بھر پور شرکت کی۔سیمینار میں بیماری کے بارے میں غلط تصورات کے موضوع پر خصوصی سٹیج ڈرامہ کا انعقاد کیا گیا۔

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی رازداری کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہیاور مخصوص گروہوں جن میں سرنج سے نشہ کرنے والے افراد زیادہ اس مرض کا شکار ہیں ان میں زیادہ ایڈز پھیلنے کی شرح زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مرض غیر ٹیسٹ شدہ خون کے انتقال اور سرنج کے غیر محتاط استعمال سے پھیل سکتا ہے اور یہ مرض غیر محتاط جنسی تعلق اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا کہ ساتھ کھانا کھانے اور ہاتھ ملانے سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب میں مفت تشخیص، علاج اور مشاورت کی سہولت تمام اضلاع میں موجود ہے۔ ٹرک، بس ڈرائیور اور جیل کے قیدیوں کی مفت ایچ آئی وی سکریننگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں اب تک 23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ کی گئی ہے اور پروگرام کے آغاز سے آج تک مجموعی طور پر 37 ہزار افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تصدیق ہوئی۔اس وقت صوبہ بھر میں سترہ ہزار سے زائد لوگوں کو تشخیص، علاج، مشاورت اور ادویات کی سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کی جارہی ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام صوبہ بھر میں 45 مراکز پر ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کررہا ہے اور ایڈوانس بائیو سیفٹی لیول-3 لیبارٹری کے ذریعے ایچ آئی وی مریضوں کو مفت پی سی آر اور CD4 ٹیسٹ کی سہولیات میسر ہیں۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایڈز سے بچاؤ اور آگہی میں یواین ایڈز، یونیسف کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ان کے تعاون پر ان کے مشکور ہیں۔ حکومت، میڈیا اور شہری تنظیمیں اس مرض کی آگہی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ایڈز کا مریض مخصوص ادویات کے استعمال سے معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا نے کہا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر تعلیمی اداروں میں آگہی کی بھرپور مہم چلا رہا ہے

  • سی او پی ڈی نظام تنفس کی بیماری،سالانہ 30 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں

    سی او پی ڈی نظام تنفس کی بیماری،سالانہ 30 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں

    سگریٹ نوشی کے عادی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے والی خطرناک بیماری کے خطرات سے آگاہ نہیں
    سگریٹ پینے والا ایک شخص اپنے ادر گرد موجود 10لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے:پرنسپل پی جی ایم آئی
    سانس کی نالی کی سوزش، ورم، پھیپھڑوں کی خرابی، سانس لینے میں دشواری و انفیکشن اور توانائی کی کمی علامات میں شامل

    شہری پبلک مقامات، کارخانوں میں فیس ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں: سربراہ جنرل ہسپتال

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کرانک ابسٹریکٹیو پلما نری ڈیزیز (سی او پی ڈی) نظام تنفس کی بیماری ہے جس میں سانس کی نالی کی سوزش، ورم، پھیپھڑوں کی خرابی، سانس لینے میں دشواری و انفیکشن اور توانائی کی کمی شامل ہے جبکہ سگریٹ نوشی کے عادی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے والی اس خطرناک بیماری کے خطرات سے آگاہ نہیں ہیں لہذاسگریٹ نوشی کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ضروری ہے کیونکہ سگریٹ پینے والا ایک شخص اپنے ادر گرد موجود 10لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے اور مذکورہ بیماری کے باعث ہر سال دنیا بھر میں 30لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ پلمو نالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی واک کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایچ او ڈی پلمونالوجی ڈاکٹر جاوید مگسی، ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر خالد بن اسلم نے اس مرض سے بچاؤکے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اس مرض کے پھیلاؤ کی وجہ ماحولیاتی و فضائی آلودگی ہے جو فیکٹریوں، کارخانوں، ٹریفک کے دھویں،سگریٹ نوشی اور فیکٹری کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات کے ذرات مزدوروں کے نظام تنفس کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کی روک تھام کیلئے سرکاری اداروں کے علاوہ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہونگی جس سے بیماری کی وجوہات کو روکا جا سکے۔ سی او پی ڈی سے متاثرہ شخص امراض قلب، پھیپھڑوں کے کینسر اور دمہ جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے لہذا اس بیماری کے خاتمے پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی کے حوالہ سے آگاہی ،پوسٹر مقابلہ،نتائج کا اعلان

    مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت اجلاس میں سگریٹ مینوفیکچررز کی مشکلات پر غور

    پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کی صنعتی ترقی، بغیر منصوبہ بندی کی بستیوں کا قیام، آبادی میں اضافہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کا رش اور متعلقہ محکموں کی جانب سے ان گاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے مناسب مانیٹرینگ نہ ہونے سے شہر کی سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیاں نظر آتی ہیں جو عوام کی صحت کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہیں۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ اس مرض کے متعلق شہریوں میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ پبلک مقامات، کارخانوں میں فیس ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ فضائی آلودگی، دھویں اور فیکٹریوں کے اندر کا ماحول لوگوں کی صحت کے لئے خطرات کا باعث نہ بنے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ حفاظت خود اختیاری کے تحت شہریوں کو اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی کا لازمی جز وبنا لینا چاہئے۔ واک کے اختتام پر شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر مبنی پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس موجود تھے۔

  • حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا  دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    محققین نے نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ حاملہ خواتین کو ایمرجنسی سرجری کے لیے اینیستھیزیا کے دیئے جانے کا بچے کی نشو نما کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی: بیلجیئم کی یونیورسٹی ہاسپٹل لووین میں اینیستھیزیولوجی کے سربراہ اور تحقیق کے مصنف اسٹیفن ریکس اور ان کے ساتھی کے مطابق تحقیق کے نتائج سے یہ تجویز نہیں بدلے گی کہ حمل کے دوران صرف ضروری آپریشن ہی کیے جانے چاہیئں۔ تحقیق کے نتائج ان خواتین کو یقین دہانی کرائیں گے جن کو دورانِ حمل سرجری کی ضرورت ہوگی۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    اگرچہ حمل کے دوران عام طور پر سرجری اور اینستھیزیا سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن 1فیصد تک حاملہ خواتین کو غیر متوقع صحت کی ہنگامی صورتحال، جیسے اپینڈیسائٹس کے لیے اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    جریدے اینستھیزیا میں 25 اکتوبر کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں 2 سے 18 سال کی عمر کے 500 سے زیادہ بچے شامل تھےمطالعہ کے لیے، محققین نے ان بچوں کی اعصابی نشو نما کا موازنہ جن کی پیدائش سےقبل ان کی ماؤں کو کسی طبی ایمرجنسی کی وجہ سے اینیستھیزیا دیا گیا تھا، ان بچوں سے کیا گیا جن کی ماؤں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    محققین نے نفسیاتی تشخیص کے ساتھ رویوں کے قابو کرنے، نفسیاتی سماجی مسائل اور سیکھنے کے مسائل کا جائزہ لیا۔

    محققین کو بچوں کے دو گروہوں کے درمیان اعداد و شمار کے لحاظ سے کوئی اہم فرق نہیں ملا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اینیستھیزیا کے اثرات بالکل اسی نوعیت کے تھے جو دیگر عوامل جیسے کہ والدین کی تعلیم اور بچے کی پیدائش کے وقت والدہ کی عمر کے اثرات کے تھے۔

    مطالعہ کے مصنفین نے ایک جرنل نیوز ریلیز میں کہا کہ ہنگامی سرجری کے دوران اینستھیزیا کی نمائش طبی لحاظ سے معنی خیز خرابیوں سے وابستہ نہیں تھی ماؤں نے جدید دوائیوں اور تکنیکوں کے ساتھ اینستھیزیا کروایا تھا، جس کی وجہ سے یہ نتائج آج متعلقہ ہیں۔

    جانوروں کے مطالعے کے ماضی کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ حمل کے دوران جنرل اینستھیزیا جنین کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور سیکھنے اور یادداشت کو کمزور کر سکتا ہے۔

    یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 2016 میں ایک انتباہ شائع کیا تھا کہ حمل کے تیسرے سہ ماہی کے دوران جنرل اینستھیزیا کا بار بار یا طویل استعمال جنین میں نشوونما کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔

    سرجری میں تاخیر بعض اوقات آپشن نہیں ہوتی۔ اپینڈیسائٹس کی صورت میں، مثال کے طور پر، علاج میں تاخیر ماں کے لیے اسقاط حمل یا سیپسس کا باعث بن سکتی ہے-

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

  • خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز مریضوں میں 2 ماہ 488 افراد کا اضافہ ہوا،اگست 2022 میں تعداد 5ہزار 202 تھی، ستمبر میٰں 5ہزار 690 ہوگئی، دو ماہ میں مزید 4ہزار 4 مرد اور 1301 خواتین موذی مرض میں مبتلا ہوئی ہیں، پشاور کے 50 خؤاجہ سراوں میں ایڈز وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 207 بچوں،128 بچیوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں، پشاور میں3593،کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں 1270مریض زیرعلاج ہیں بٹ خیلہ میں 251 مریضوں کا علاج جاری ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے کے 6 ہسپتالوں میں ایڈز علاج سنٹر قائم کئے گئے ہیں،مریضوں کو مفت ادویات ٹیسٹوں کی سہولت دی جارہی ہے،

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    دوسری جانب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اورعلاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں

  • بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    آنکھیں اللہ کی عظیم نعمت، بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    عالمی یوم بصارت کی مناسبت سے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام آنکھوں کے تحفظ،بیماریوں اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لئے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں علاج کروانے والے بچوں اور ان کے والدین نے بھی شرکت کی اور نونہالوں میں گفٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی قیادت میں ہونے والی اس واک میں پروفیسر محمد معین، پروفیسر آغا شبیر علی، پرفیسر ڈاکٹر محمد شاہد، ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر ثنا ء جہانگیر، ڈاکٹر آمنہ راجپوت کے علاوہ ڈاکٹرز،نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف اور مریضوں کے علاوہ شہریوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے عالمی یوم بصارت کی تھیم "Love Your Eyes” کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے واک کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی وہ گراں قدر نعمت ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ آنکھوں کی بنائی کے بغیر دنیا اندھیری ہے، بینائی سے محروم شخص دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے جسے قدم قدم پر معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی قدر اوران کی صحت کی حفاظت کریں تاکہ ایک فعال اور متحرک فرد کے طور پر سوسائٹی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد معین کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آنکھ کے پردہ کی بیماری Retinopathy of Prematurity کا بہت کامیابی سیمفت علاج کیا جا رہا ہے۔ اس بیماری میں 9ماہ سے پہلے یا بہت کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں کے پردہ کی بیماری اور نابینا پن کے امکانات ہونے ہیں۔ جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم میں ایسے بہت سے بچوں کی کامیاب سرجری اور علاج کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے بچوں کا علاج ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔جنہیں مسلسل چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن خوشی کی بات ہے کہ ایل جی ایچ کے ڈاکٹرز محنت اور پیشہ وارانہ لگن کی بدولت ایسے بچوں کا علاج کامیابی سے ہو رہا ہے۔

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    لڑکی سے تعلقات کا شبہہ،نوجوان پر بہیمانہ تشدد ،ڈرل مشین سے جسم میں سوراخ بھی کر دیئے

    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں آنکھوں جیسی قیمتی اور انمول شے کو بری طرح سے نظر انداز کیا جاتا ہے اورہم ان آنکھوں کو دھول مٹی و گرد سے لے کر شیمپو میں استعمال ہونے والے کیمیکلز تک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بینائی کے تحفظ کے لئے اُن تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے جو اس ضمن میں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل سائنس ثابت کر چکی ہے کہ بلند فشار خون اور ذیابیطس جیسی بیماریاں کسی بھی شخص کی بینائی کو بلا واسطہ طور پر متاثر کرتی ہیں،ہمیں اپنی غذا میں اعتدال کے علاوہ آنکھوں کے سالانہ معائنے اور کسی بھی قسم کی پیچیدگی کی شکل میں فوری علاج کا راستہ اختیارکرنا ہوگا۔ اسی طرح سفید یا کالا موتیا یا بینائی کو متاثر کرنے والی کسی بھی اور بیماری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کا بے جا استعمال آنکھوں کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں بالخصوص بچوں میں پایا جانے والا رحجان انتہائی خطرناک ہے لہذا ہمیں اس گیجٹس کا کم سے کم استعمال یقینی بنانا ہوگا۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے اس واک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ بعض بچوں میں پیدائشی بھینگا پن بھی آنکھوں سے متعلق اہم مسئلہ ہے لیکن یہ امر خوش آئند ہے کہ جدید سائنسی تحقیق سے آنکھوں کے پردے اور کمزور بینائی کا بہتر علاج سامنے آ چکا ہے اور پاکستان میں امراض چشم کے شعبوں میں بہتر تکنیکی سہولیات موجود ہیں لہذا شہریوں کو کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر آنکھوں سے متعلق فوری طور پر معالجین سے رجوع کرنا چاہیے اور بینائی کے کم ہونے اور آنکھوں سے متعلق اپنے مسائل کو ہر صورت میں سنجیدہ لینا چاہیے۔

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    اس موقع پر ڈاکٹر لبنیٰ صدیق نے اس آگاہی واک کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ ہر سال اس طرح کی سرگرمیاں منعقد کر کے عام آدمی کو آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے واک کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق مریضوں کو لاہور جنرل ہسپتال میں زیادہ بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کی سربراہی میں ہم اس ہسپتال کی طرح شعبہ امراض چشم کو بھی سٹیٹ آف دی آرٹ بنانے کا سفر جاری رکھیں گے۔اس موقع پر صحت یاب ہونے والے بچوں کے والدین نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور معالجین کو جھولیاں اٹھا کر دعائیں دیں

  • علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر

    علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر

    علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر
    ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے کہا ہے کہ نجی و سرکاری ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے وضع کردہ منیمم سروس ڈلیوری سٹینڈرڈز پر عمل کرائے بغیر مریضوں کا علاج اور ان کی شفا ء یابی مشکل کام ہے۔ علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہارآئی پی ایچ میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے تعاون سے ایم ایس ڈی ایس بارے نجی و سرکاری ہسپتالوں کے ہیلتھ پروفیشنلز، ہیلتھ مینجرز کیلئے تربیتی کورس کے دوسرے بیج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پی ایچ سی کے ڈائریکٹر کلینکل گورننس ڈاکٹر مشتاق احمد سلہریا، افسران اور انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ایک ماہ کے سرٹیفکیٹس ٹریننگ کورس میں نجی و سرکاری ہسپتالوں کے 19ہیلتھ مینجرز اور ہیلتھ پروفیشنلز شرکت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا مزید کہنا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ صبح کی ہیلتھ فیسیلٹیز کو سکلڈاور ٹرینڈ افرادی قوت مہیا کرنے کیلئے پی ایچ سی کے منیمم سروس ڈلیوری بارے ٹریننگ پروگرام میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر کلینکل گورننس پی ایچ سی ڈاکٹر مشتاق سلہریا کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن تمام ہسپتالوں، لیبارٹریز اور ہر قسم کے کلینکس میں ایم ایس ڈی ایس پر عملدرامد یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کے موثر سسٹم پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں صحت کی معیاری سہولیات کے ساتھ صاف ستھرا ماحول، ہسپتال ویسٹ کی صحیح طریقے پر تلفی اور انفیکشن فری آپریشن تھیٹرز اور وارڈز کیلئے طے شدہ معیارات پر عملدرامد کرانا نا گزیر ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے تعاون سے پنجاب ہیلتھ کیئر کمشین صوبہ بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں، لیبارٹریز کے معالجین اور انتظامی ڈاکٹرز کی معلومات اور آگاہی کیلئے تربیتی پروگرام جاری رکھے گا تاکہ صوبہ میں پبلک ہیلتھ بارے عوامی شعور میں اضافہ ہو اور ہسپتالوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے

  • جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اور اہم اقدام، "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول” کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں انفیکشن کی روک تھام، عام لوگوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے بارے آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں با ضابطہ طور پر ” انفیکشن پریونشن اینڈ کنڑول "کے نام سے آن لائن ایپ اور ویب سائٹ کا اجراء کر د یا گیا ہے جس میں ہاتھ دھونے سے لے کر آپریشن تھیٹر تک سٹرلائزیشن کے بارے میں اردو اور انگریزی میں تمام ضروری معلومات اپ لوڈ کی گئیں ہیں تاکہ شہری گھر بیٹھے اس ایپ سے استفادہ کر سکیں۔اس حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب میں عالمی ادارہ صحت جنیوا کے سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر نظام دمانی،پروفیسر ارشد تقی، پروفیسر فیصل سلطان اور سی ای او ہیلتھ کئیر کمیشن ڈاکٹر ثاقب عزیز نے خصوصی شرکت کی۔ پروفیسر جودت سلیم اور ڈاکٹر آمنہ آصف نے ایپ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس ایپ سے میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد اور عوام انفیکشن کے بارے اہم معلومات، روک تھام اور بچاؤ کے حوالے سے گائیڈ لائن حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ انفیکشن سے پاک ماحول ہسپتالوں کے بنیادی ایس او پیز کا حصہ ہے تاکہ ہسپتال آنے والے مریض جلد صحت یاب ہو کر ڈسچار ج ہو سکیں اور کوئی نئی بیماری اپنے ساتھ نہ لے کر جائیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوامی سطح پر صحت عامہ کو مضبوط بنانے کیلئے پہلے ہی ایسے اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہمیں بھی جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑی تعداد اور بیڈز ایکوپنسی ریٹ کنٹرول کرنے کی غرض سے یہ امر اور زیادہ ضروری ہے کہ وہاں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا جائے اور اس سے ہیلتھ انڈیکیٹرز کوبھی مزید بہتر بنایا جائے جس کے لئے مذکورہ ایپ انتہائی مدد گار ثابت ہوگی۔ اس موقع پر لاہور کے مختلف میڈیکل کالجز کے پرنسپلز ، پروفیسرز،طب سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر عبدزالعزیز و دیگر بھی موجود تھے۔ مقررین نے کہا کہ ویب سائٹ لانچ کرنے کا مقصد انفیکشن کنٹرول اور اس سے بچاؤ کیلئے ہیلتھ پروفیشن کے ساتھ شہریوں کو اُن کی دہلیز پر ضروری معلومات و احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ڈور سٹیپ پر ہی جس وقت چاہیں اس سے با آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز،وارڈز،لانڈریز، بیڈ شیٹ،طبی آلات کو انفیکشن سے پاک رکھنا ہسپتال کے بنیادی ایس و پیز کا حصہ ہے جس کا ہمیں ہر حال میں خیال رکھنا ہوگا۔پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ گھریلو سطح پر بھی صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے اور انفیکشن کی روک تھام کے لئے صابن سے ہاتھ دھونے کا طریقہ اور دیگر معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے تاکہ انفرادی سطح پر بھی لو گ اپنی صحت کا تحفظ کر سکیں اور ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آئے۔

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    ویڈیو:ڈاکوؤں سے مقابلہ کے دوران شہید کانسٹیبل کی نماز جنازہ ادا

    ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ نے مذکورہ ایپ کا اجراء کر کے عوامی سطح پر شعور و آگاہی پھیلانے کا اپنا فرض پورا کیا ہے اب یہ معالجین اور عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایل جی ایچ کی انتظامیہ اور طبی ماہرین کی جانب سے شروع کی گئی آن لائن ایپ "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول(IPAC) "سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر احمد نعیم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتال آمدو رفت کے دوران سگریٹ نوشی سے اجتناب اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کیا کریں،مریض سے مصافحہ کرتے وقت ہاتھ دھونا نہ بھولیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنا لیں تو کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پرنسپل نے تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو شیلڈز پیش کیں اور ان کا شکریہ ادا کیا۔