Baaghi TV

Tag: صحت

  • اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن ماہرین نے مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ادویات کا استعمال ترک نہ کریں۔

    باغی ٹی وی : تقریباً ایک چوتھائی ملین برطانویوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فالو کیا گیا اور دوائیوں اور دل کی بیماری پر لوگوں کے درمیان ایک ربط پایا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ SSRIs (سلیکٹیو سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹرز) کے نام سے جانے والے عام اینٹی ڈپریسنٹس پر لوگوں کے لیے سِٹیلوپریم، سرٹرالائن، فلوشیٹائن اور پیروکسیٹائن ان لوگوں کے مقابلے میں دل کی بیماری کا خطرہ 34 فیصد زیادہ تھا جو گولیاں نہیں کھاتے تھے۔

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے محققین نے 10 سالوں تک انسداد ڈپریشن کی ادویات کھانے اور قلبی امرض میں اضافے، امراضِ قلب سے اموات اور کسی بھی سبب سے قبل از وقت موت کے درمیان تعلق پایا ہے۔

    ماہرین نے تحقیق میں 12 انسداد ڈپریشن ادویات کا مطالعہ کیا۔ان ادویات میں سلیکٹیِو سیروٹونِن ری اپٹیک اِنہیبیٹرز (SSRIs) سِٹیلوپریم، سرٹرالائن، فلوشیٹائن اور پیروکسیٹائن شامل تھیں ان ادویات میں عام طور پر(تقریباً 80 فی صد) لکھی جانے والی دوا SSRIs تھی۔انسداد ڈپریشن ادویات کھانے والے افراد کا 10 سال تک معائنہ کیا گیا۔

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    نتائج میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو SSRIs کھاتے تھے ان کے قلبی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 34 فی صد اضافہ ہوا، امراضِ قلب سے موت واقع ہونے کے امکانات دُگنے ہوئےاور کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت واقع ہونے کے امکانات 73 فی صد تک بڑھ گئے تھے۔

    دیگر انسداد ڈپریسنٹ ادویات جیسے میرٹازاپائن، وینلا فیکسین، ڈولوکسیٹائن اور ٹرازوڈون کے استعمال سے تمام خطرات تقریباً دُگنے ہوگئے تھے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ قلبی مسائل کے خطرات میں اضافے کا سبب خود ڈپریشن نہیں ہے۔ دیگر ماہرین نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو تحقیق کے نتائج سے فکر مند ہوتے ہوئے دوا کااستعمال نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

    تاہم، برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے جمع کردہ اعداد و شمار میں یہ بھی پایا گیا کہ اینٹی ڈپریسنٹس ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بالترتیب 32 فیصد اور 23 فیصد تک کم کرتے ہیں۔

    برٹش جرنل آف سائیکیاٹری اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 2 لاکھ 20 ہزار 121 افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔ 40 سے 69 برس کے درمیان لوگوں کا ڈیٹا یو کے بائیو بینک سے لیا گیا تھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    مطالعہ کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر نریندر بنسل نے کہا کہ لوگوں کو اپنی دوائیں اچانک لینا بند نہیں کرنی چاہیے اور کسی بھی پریشانی کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ان کے اینٹی ڈپریسنٹس کے طویل مدتی استعمال کے بارے میں کوئی تشویش ہے، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دوائی لینا بند کرنے سے پہلے اپنے جی پی سے بات کریں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وہ انہیں اچانک لینا بند نہ کریں-

    "اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا ہم نے جو نتائج دیکھے ہیں وہ حقیقی طور پر منشیات کی وجہ سے ہیں، اور اگر ایسا ہے تو ایسا کیوں ہو سکتا ہے۔

    "دریں اثنا، طبی ماہرین کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ طویل مدتی میں اینٹی ڈپریسنٹس تجویز کرنا نقصان سے خالی نہیں ہو سکتا۔

    آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

  • انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انار ایک سپرفوڈ ہے جوکئی بیماریوں سے بچاتا ہے ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق انار کھانا نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔

    اس خوش ذائقہ جنتی پھل کے استعمال سے آپ کئی ایسے فوائد حاصل کرسکتے ہیں جن کو مصنوعی طریقے سے حاصل کرنے کے لیے آپ کو کئی کڑوی اور مہنگی دواؤں کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    کم حراروں (کیلوریز) مگر وٹامن سی، وٹامن بی فائیو، پوٹاشیم اور فائبر سے بھرپور اس پھل کے سفید چھلکے اور پتلی باہری جلد بھی کھائی جاسکتی ہے بلکہ وہ پھل کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ اس پھل میں اینٹی آکسیڈنٹس اور جراثیم کش خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

    غذائیت کی بین الاقوامی ماہرکہتی ہیں کہ فلے وینوئڈز، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگرغذائی اجزا سے بھرپور انار آپ کے جسم کو اندرونی طور پر ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔

    وٹامن اے ، سی اور دیگر قیمتی اینٹی آکسیڈنٹس کی وجہ سے انار دل و دماغ کا بھی دست ہےماہرین نے کہا ہے کہ اس کا رس پینے سےبہتر ہے کہ چبا کر کھایا جائے تاکہ فائبر اور دیگر اجزا بھی آپ کے جسم میں پہنچ سکیں۔

    انار کے دانوں کی سفید سے سرخ ہوتی رنگت اس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار بتاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ان بہترین اجزا سے لبالب بھرا ہوتا ہے بعض اناروں میں سبزچائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو ایل ڈی ایل یا مضر کولیسٹرول کم کرتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    پولی فینول عمررسیدگی کو خلوی سطح تک روکتے ہیں اور خون کی روانی کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس میں فائبر، فولیٹ، پوٹاشیئم اور وٹامن کے بھی خوب پایا جاتا ہے۔یہ دل کی رگوں میں مضر چکنائی جمع ہونے سے قبل ہی انہیں روکتا ہے۔ اس کے علاوہ رگوں کی بندش اور توند کو بھی کم کرتا ہے۔

    پھر 2017 میں آٹھ ایسی تحقیقات سامنے آئیں جن میں کہا گیا تھا کہ انار کا رس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ انسولین کی صورتحال بھی بہتر کرتا ہے۔ کئی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے ذیابیطس کے مریضوں کو اس سے بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس میں اندرونی سوزش(انفلیمیشن) کم کرنے والے اہم اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔

    انار کے بیج کے حیران کن فوائد

    انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے دورانِ حمل انار کا باقاعدگی سے استعمال انیمیا اور اکڑن سے محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انار میں سبز چائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں۔ اگر اس کے استعمال کو معمول بنا لیا جائے، تو یہ چھاتی، بڑی آنت، اور مثانے کے کینسر سے بھی مدافعت فراہم کرتا ہے۔ اس کے چھلکے میں الیجک ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جلد کے کینسر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے انار زیادہ کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی جبکہ ہاضمہ بھی صحت مند ہوتا ہے اور قبض کا خطرہ کم کوتا ہے۔ اس میں فیٹ نہیں ہوتا لہذا جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین غذا بھی تصور کیا جاتا ہے۔

    اگر آپ روزانہ آٹھ اونس انار کا جوس پیئں، تو آپ کی جلد دانوں سے پاک، جوان، اور چمکدار نظر آئے گی انار میں موجود فیٹی ایسڈ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے جس کی وجہ سے بال گرنے کی شکایت کم ہوجاتی ہے۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

  • پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔

    بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ

    "صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔

    وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر عبدالواحد بلوچ نے کہاھےکہ لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ھےاس سلسلے میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف دلجمی اور احسن طریقے سے اپنا فرض منصبی انجام دیں تاکہ لوگوں کو فوری اور بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن ان خیالات کا اظہار انہوں مختلف مراکز صحت کے دورہ کے دوران ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نرسز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ھے.

    ضلعی افسر صحت نے جن مراکز کا دورہ کیا ان میں بنیادی مراکز صحت شادوبند ، سی ڈی شمبے اسماعیل ، بی ایچ یو گھٹی ڈور اور آر ایچ سی سر بندن شامل ہیں دورہ کے دوران انہوں نے مراکز صحت کے اسٹاف کی حاضریاں چیک کرنے کے ساتھ ساتھ اور دوسرے شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اس کے علاؤہ ای پی سینٹر کے شعبے کو چیک کیا انہوں نے محدود اسٹاف کے ساتھ ان سینٹروں کی کارکردگی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا مراکز صحت کو مذید بہتر کیا جائےساتھ میں اسٹاف کو بھی تنبیہ کیا کہ وہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو بہتر سے بہتر صحت کی سہولیات فراہم کریں اور ای پی آئی انچارج کو ہدایت کی کہ اپنی آؤٹ ریچ سیشن کو اور بہتر طریقے سے موثر بنائیں تاکہ ڈسٹرکٹ کے اندر کوئی بھی بچہ بغیر ویکسینیشن کے نہ رہے جو کہ بچوں میں سب سے بہتر اور موثر طریقے سے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ ہے .

    ضلعی افسر صحت نے سینٹروں میں نیوٹریشن پروگرام کی ریکارڈ کو چیک کیا اور اس سلسلے میں ایک بریفنگ میں بھی شرکت کی اور تاکید کی کہ اپنے اپنے کیچمنٹ ایریا پاپولیشن میں کمزور اور خوراک میں کمی کے شکار ہونے والے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ڈھونڈیں اور ان کو UNICEF کی طرف سے دیئے گئے مفت اور صحت مند خوراک کو انہی کمزور بچوں تک پہنچائیں۔ اس انہوں نےکہا کہ ہیسپتال بیلانگ، اسٹاف کوارٹرز اور اسٹاف کی کمی کا ایک جامع رپورٹ بنا کر سیکٹری ہیلتھ کو ارسال کیا گیا ہے اور ساتھ میں مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ کے اندر خالی پوسٹوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے تاکہ ہیلتھ سینٹرز کو اسٹاف کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے جو اس وقت بہت بڑا مسلہ ہے اور خاص طور پر آر ایچ سی سر بندن جہاں اس وقت کوئی ڈاکٹر پوسٹ نہیں ہے اور آر ایچ سی کو اسٹاف کی بھی کمی کا سامنا ہے ۔

    سر بندن دورے کے دوران انہوں نے ملیریا اسپرے کی دوائیاں سر بندن کے کونسلر کے حوالے کیے اور ہر طرح کی تعاون کی یقین دہائی کرائی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے اندر غیر استعمال جمع شدہ پانی کا جائزہ لیا تاکہ ان جگہوں میں جلد سے ملیریا اور ڈینگی مچھر کی افزائش کو کنٹرول کرنے کے لیے larvaeciding کی جائے ۔

  • ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    قومی ادارہ برائے صحت (این ایچ آئی ) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور کیسز یومیہ 400 سے تجاوز کرگئے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران کوروناکے13 ہزار644 ٹیسٹ کیےگئے جس میں سے 435 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور شرح 3.19 فیصد رہی جب کہ اس دوران کورونا سے ایک ہلاکت بھی سامنے آئی۔


    قومی ادارہ برائے صحت کےمطابق کورونا میں مبتلا 87 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل نے ملازمین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں خوشبری سنائی کہ: ملازمین کی سول سرونٹس برقرار رکھنے کے لیے پمز کے 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کروانے کیلئے ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
    ان خیالات کا اظہار وزیر صحت نے پمز ملازمین کے احتجاج میں جاکر کیا جس پر ملازمین نے دس روز سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے اس عمل کو سراہا۔
    واضح رہے کہ: پمز ملازمین نے متنازع قانون ایم ٹی آئی کیخلاف دس روز سے احتجاج کررہے تھے۔ تاہم اب وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اوپی ڈیز کی سروسز بحال کردی ہیں۔

    پمز کے ایک ملازم وسیم ارشاد کے مطابق: وزیر صحت عبدالقادر پٹیل پمز ہسپتال میں تشریف لائے اور ایم ٹی آئی جیسے کالے قانون کا خاتمہ کر نے کی یقین دہانی کرائی ۔
    انہوں نے مزید کہا: وزیر صحت نے کہا بہت جلد ترمیمی بل سینٹ سے منظور کروا کر پمز کے 2018 والے وفاقی سٹیٹس کو بحال کیا جاے گا لہذا نکی اس یقین دہانی پر احتجاج پیر تک موخر کرنے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • وزارت صحت کے منصوبوں کے لئے 12650.997 ملین روپے کے فنڈز

    وزارت صحت کے منصوبوں کے لئے 12650.997 ملین روپے کے فنڈز

    مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت وزارت صحت کے لئے33جاری اور 9 نئے منصوبوں اور سکیموں کے لئے مجموعی طور پر 12650.997 ملین روپے مختص کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

    پی ایس ڈی پی کے اعداو شمار کے مطابق جاری منصبوں کے لئے مجموعی طور پر 10501.622 ملین روپے مختص کئے گئے ، جبکہ نئے منصوبوں کے لئے 2149.375 ملین روپے مختص کئے گئے۔جاری منصوبوں گلگت بلتستان کے کاندانی منصوبہ بندی و بنیادی صحت کے منصوبہ کے لئے 49 ملین روپے ،نرم ہسپتال اسلام آباد میں نئی مشینری اور آلات کی خریداری کے لئے 396.993 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    جاری منصوبوں میں وزیراعظم صحت سہولت پروگرام کا نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام فیز ٹو کا منصوبہ شامل ہے جس کے لئے جاری منصوبوں میں سب سے زیادہ رقم 2100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح متعدی امراض کی نگرانی اور تیاری کے نظام کے لئے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    راولپنڈی میں 200 بیڈ پر مشتمل گائنی کے پیچیدہ امراض کے علاج کے مرکز کی تعمیر کے لئے 800 ملین روپے مختص کئے گئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں ایمر جنسی اور شعبہ حادثات کے 200 بستروں پر مشتمل عمارت کی تعمیر کے لئے بھی 900 ملین روپے رکھے گئے ہیں ،اس طرح اسلام آباد میں 4 بنیادی صحت کے مراکز کی تعمیر کے لئے 162.992 ملین روپے ،جناح ہسپتال اسلام آباد ( فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز ٹو جی الیون تھری اسلام آباد کی فیزبلٹی کے لیے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے۔

    بری امام کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کی تعمیر کے لئے 168 ملین روپے، زچہ بچہ سینٹر گھوڑا شاہان ہمک کی تعمیر کے لئے 182.868 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ متعدی امراض کے تدارک کے نظام کو مستحکم بنانے کے لئے 169.599 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان آف پاپولیشن کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    مجموعی طور پر نئی سکیموں کے لئے 2149.375 روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی سکیموں میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کیلئے 250 ملین، کامن مینجمنٹ یونٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے 500 ملین روپے مختص کئے گئے تاکہ ٹی بی، ایڈز اور ملیریا جیسی بیماریوں پر کنٹرول کیا جا سکے

  • افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    تربوز ایسا پھل ہے جو درجہ حرارت بڑھنے پر جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اسے دیکھنا ہی ذہن کو تروتازہ کردیتا ہے جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تربوز میں موجود اجزا جیسے لائیکوپین، پوٹاشیم اور فائبر سمیت دیگر مختلف فائدے پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

    گرمیوں کے موسم میں روزے کی وجہ سے انسانی جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے، تاہم تربوز کو افطاری کا حصہ بنانے سے نہ صرف اپنے جسم میں پانی کی مقدار کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ کئی طرح کے فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    پانی کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث تربوز ہیٹ اسٹروک سے بچاتا ہے، یہ ان چند پھلوں میں سے ایک ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے جبکہ گرمی سے جلن کے احساس پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے تربوز وٹامن بی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں توانائی کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں مگر توانائی زیادہ، جو دن بھر جسمانی طور پر متحرک رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

    تربوز میں موجود پوٹاشیم دن بھر کی مصروفیات کے باوجود تھکاوٹ کے احساس کو دور رکھتا ہے علاوہ ازیں پوٹاشیم جسم میں کیلشیئم کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کہ مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری جز ہے۔

    تربوز میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین جسم کو نزلہ زکام اور فلو سے لڑنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں میں دمہ کی علامات کو بھی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

    تربوز میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اس کے علاوہ تربوز میں موجود فائبر بھی ہاضمے کی کارکردگی بڑھاتا ہے جبکہ قبض کی روک تھام کرتا ہےتربوز پیشاب کی روانی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے مگر گردوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی طرح یہ پھل جگر کے افعال جیسے امونیا کے اخراج میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس میں خرابی کی صورت میں اضافی سیال مواد بڑھتا ہے اور گردوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔

    تربوز میں موجود لائیکو پین خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے جبکہ یہ ہڈیوں کی صحت کو بھی بہتر بنا ہے تربوز کا زیادہ استعمال خون کی شریانوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے کیونکہ اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کی سطح معمول پر آتی ہے-

    تربوز میں مختلف اجزاءجیسے فلیونوئڈز، کیروٹین اور دیگر شامل ہوتے ہیں، کیروٹین جسم میں ورم کی سطح میں کمی لانے اور مضر صحت اجزاءسے نجات میں مدد دیتا ہے۔ اس میں شامل tripterpenoid بھی ورم کش ہوتا ہے اور ایسے انزائمے روکتا ہے جو کہ جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر ین کا کہنا ہے کہ رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نےحال ہی میں کراچی میں آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 کے دوسرے روز سائنٹیفک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے کیس کم ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے-

    دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرز کی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چکھنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔

    گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بلال جمیل کا کہنا تھا کہ گردوں کی بیماری کا شکار ایسے مریض جنہیں دل کی بیماری بھی لاحق ہو، انہیں روزے رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن صرف گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر مسرت ریاض کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق ایسی حاملہ خواتین جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں اپنی صحت یا اپنے ہونے والے بچے کو کسی طرح کا ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن چونکہ اکثر حاملہ خواتین روزہ رکھنے پر اصرار کرتی ہیں، اس لیے انہیں اپنی گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جو کہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے-

    ہر نمازکے بعد اللہ تعالیٰ کے 3 ناموں کا ورد، داغ دھبے اور دانے ہمیشہ کے لئے ختم

    دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھو کر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا تاہم مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں-

    فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسےمریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

  • دہی خواتین  کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    غذائی ماہرین کے مطابق دہی وٹامن سے بھر پور غذا ہے، دہی میں صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں، طبی لحاظ سے بھی دہی نا صرف خاصا مفید اثرات کا حامل ہے بلکہ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اس کا ایک کپ روزانہ کھانے سے جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 5، آیوڈین اور زنک کی کمی دور ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق دہی کے استعمال سے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ پائی جانے والی بیماری ’اوسٹیو پروسس‘ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے اور طویل عمری میں گھٹنوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دہی کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیلشیم جسم میں موجود چربی کو پگھلاتا اور وزن کو بڑھنے سے روکتا ہے دہی میں چکنائی اور کیلوریز انتہائی کم مقدار میں پائی جاتی ہیں، ایک کپ دہی میں صرف 120 کیلوریز ہوتی ہیں-

    دہی میں دیگر ضروری غذائی اجزاء جیسے کہ پروٹین بھی پایا جاتا ہے جسے انسانی پٹھوں کی نشونما کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے۔دہی کے 100 گرام مقدار میں ہزاروں گُڈ بیکٹیریاز کے ساتھ 59 کیلوریز، 0.4 فیصد گرام فیٹ، 5 ملی گرام کولیسٹرول، 36 ملی گرام سو ڈیم ، 141 ملی گرام پوٹاشیم ، 3.2 گرام شوگر، 11 فیصد کیلشیم ، 13 فیصد کوبالمین، 5 فیصد وٹامن بی 6 او 2 فیصد میگنیشیم پایا جاتا ہے، اسلئے غذائیت سے بھرپور دہی خواتین خصوصاً حاملہ خواتین کے لیے بے حد مفید قرار دیا جاتا ہے ۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    ماہرین کے مطابق دہی میں شامل کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور خصوصاً خواتین کو اِن ہی دو وٹامن اور منرل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کا روز مرہ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ ہڈیوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

    دہی میں موجود خصوصی اینٹی آکسائیڈز جلد کو بہتر نشوونما فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ جلد میں موجود ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ کرتے ہیں دہی میں موجود قدرتی صحت بخش اجزاء کی خصوصات جلد کو صحت مند اور بالوں کو مضبوطی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس میں بڑی مقدار میں (لیکٹک ایسڈ) کی خوبی موجود ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کی نگہداشت وحفاظت کے لیے بہت کارآمد ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دہی میں حیرت انگیزطورپر فری ریڈیکلز کوکنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاؤ کی خصوصیات بھی رکھتا ہے جو جلد پر باریک لکیروں اور جھریوں کو نمودار ہونے سے روکتا ہے دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ قبل ازوقت جلد کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

    جلد کو جھریوں سے دور، جوان، چمکدار کرنے کے لیے ایک چمچہ زیتون کا تیل اور تین چمچے دہی کو مکس کرکے 30منٹ تک چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں اس فیس پیک کو ہفتے میں تین بار ضرور استعمال کرنے سے جلد ملائم، نکھری نکھری تروتازہ ہو جائے گی۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین